چھپکلی کو مارنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ زَکَرِيَّائَ عَنْ سُهَيْلٍ حَدَّثَتْنِي أُخْتِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ سَبْعِينَ حَسَنَةً
محمد بن صباح اسماعیل ابن زکریا، سہیل حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا پہلی ضرب سے مارنے میں ستر نیکیاں ہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying (that he who kills a gecko) with the first stroke there are seventy rewards for him.
چیونٹیوں کو مارنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ نَمْلَةً قَرَصَتْ نَبِيًّا مِنْ الْأَنْبِيَائِ فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ فَأَوْحَی اللَّهُ إِلَيْهِ أَفِي أَنْ قَرَصَتْکَ نَمْلَةٌ أَهْلَکْتَ أُمَّةً مِنْ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ
ابوطاہر حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب سعید بن مسیب ابوسلمہ بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چیونٹی نے انبیاء سابقین میں سے کسی نبی کو کاٹ لیا انہوں نے چیونٹیوں کے بل کے بارے میں حکم دیا تو اسے جلا دیا گیا پس اللہ عز وجل نے ان کی طرف وحی کی کہ تجھے ایک چیونٹی نے کاٹا تھا اور تم نے گروہوں میں سے ایک ایسے گروہ کو ہلاک کروایا جو اللہ کی تسبیح کرتا تھا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: An ant had bitten a Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (one amongst the earlier Prophets) and he ordered that the colony of the ants should be burnt. And Allah revealed to him: "Because of an ants bite you have burnt a community from amongst the communities which sings My glory."
چیونٹیوں کو مارنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَزَلَ نَبِيٌّ مِنْ الْأَنْبِيَائِ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ فَأَمَرَ بِجِهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ فَأَوْحَی اللَّهُ إِلَيْهِ فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً
قتیبہ بن سعید، مغیرہ ابن عبدالرحمن حزامی ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا انبیاء میں سے ایک نبی ایک درخت کے نیچے ٹھہرے ایک چیونٹی نے انہیں کاٹ لیا تو انہوں نے ان کا چھتہ نکالنے کا حکم دیا اسے درخت کے نیچے سے نکالا پھر انہیں جلا دینے کا حکم دیا اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی کی کہ تم نے ایک چیونٹی کو ہی کیوں نہ کیا یعنی سب کو کیوں جلوا دیا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: An Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) from amongst the Apostles of Allah encamped under a tree, and an ant bit him, and he commanded his belongings to be removed from underneath the tree. He then commanded and it was burnt, and Allah revealed to him: "Why was one ant (which had bitten you) not killed?"
چیونٹیوں کو مارنے کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ نَبِيٌّ مِنْ الْأَنْبِيَائِ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ فَأَمَرَ بِجِهَازِهِ فَأُخْرِجَ مِنْ تَحْتِهَا وَأَمَرَ بِهَا فَأُحْرِقَتْ فِي النَّارِ قَالَ فَأَوْحَی اللَّهُ إِلَيْهِ فَهَلَّا نَمْلَةً وَاحِدَةً
محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ (رض) کی رسول اللہ ﷺ سے مروی روایات میں سے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نبیوں میں اسے ایک نبی ایک درخت کے نیچے ٹھہرے تو انہیں چیونٹی نے کاٹ لیا تو انہوں نے اس کے چھتہ کا حکم دیا جسے درخت کے نیچے سے نکالا گیا انہوں نے اسے جلا دینے کا حکم دیا تو اسے آگ میں جلا دیا گیا پس اللہ نے ان کی طرف وحی کی کہ تم نے ایک ہی چیونٹی کو کیوں نہ جلا یا۔
Abu Hurairah (RA) reported so many ahadith and one of them was this that Allah Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: When an Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) from amongst the Apostles of Allah came to sit under a tree an ant bit him. He commanded his luggage to be removed from under the tree and he commanded it to be burnt in the fire and Allah revealed to him: "Why was one ant (which had bitten you) not killed (and why did you burn the others)?
بلی کو مارنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَائَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُذِّبَتْ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتَّی مَاتَتْ فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَسَقَتْهَا إِذْ حَبَسَتْهَا وَلَا هِيَ تَرَکَتْهَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ
عبداللہ بن محمد بن اسماء جویریہ بن اسماء نافع حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا جسے اس نے باندھ رکھا تھا یہاں تک کہ وہ بلی مرگئی اور وہ عورت اسی وجہ سے جہنم میں داخل ہوگئی اور یہ نہ اسے کھلاتی تھی نہ پلاتی تھی اسے باندھے رکھا اور اسے نہ چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے ہی کھالیتی۔
Nafi reported from Abdullah that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: A woman was punished because she had kept a cat tied until it died, and (as a punishment of this offence) she was thrown into the Hell. She had not provided it with food, or drink, and had not freed her so that she could eat the insects of the earth.
بلی کو مارنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَعَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ
نصر بن علی عبدالاعلی عبیداللہ بن عمر نافع ابن عمرو سعید مقبری نافع ابن عمر و سعید مقبری نافع ابن عمرو سعید مقبری حضرت ابوہریرہ (رض) نے بھی نبی ﷺ سے یہی حدیث روایت کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters.
بلی کو مارنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مَعْنِ بْنِ عِيسَی عَنْ مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِکَ
ہارون بن عبداللہ، عبداللہ بن جعفر، معن بن عیسیٰ ، مالک، نافع، اس سند سے بھی حضرت ابن عمر (رض) کی نبی ﷺ سے یہی حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Umar also.
بلی کو مارنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُذِّبَتْ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ لَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا وَلَمْ تَتْرُکْهَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ
ابوکریب عبدہ ہشام حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا اس نے اس کو نہ کھلایا اور نہ پلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے ہی کھا لیتی۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: A woman was punished because of a cat. She had neither provided her with food nor drink, nor set her free so that she might eat the insects of the earth.
بلی کو مارنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا رَبَطَتْهَا وَفِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ حَشَرَاتِ الْأَرْضِ
ابوکریب ابومعاویہ، محمد بن مثنی، خالد بن حارث، ہشام ان دونوں اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters, but with a slight variation of wording.
بلی کو مارنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ
محمد بن رافع عبد بن حمید ابن رافع عبدالرزاق، معمر، زہری، حمید بن عبدالرحمن ابوہریرہ، حضرت ابوہریرہ (رض) نے نبی ﷺ سے اسی معنی کی حدیث روایت کی ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported this hadith through another chain of transmitters.
بلی کو مارنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، ابوہریرہ، اس سند سے بھی حضرت ابوہریرہ (رض) کی نبی ﷺ سے روایت منقول ہے۔
Hammam bin Manabbih reported this hadith on the authority of Abu Hurairah (RA) .
جانورون کو کھلانے اور پلانے والے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَی أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي بِطَرِيقٍ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا کَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْکُلُ الثَّرَی مِنْ الْعَطَشِ فَقَالَ الرَّجُلُ لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْکَلْبَ مِنْ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي کَانَ بَلَغَ مِنِّي فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ مَائً ثُمَّ أَمْسَکَهُ بِفِيهِ حَتَّی رَقِيَ فَسَقَی الْکَلْبَ فَشَکَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّ لَنَا فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا فَقَالَ فِي کُلِّ کَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، ابی بکر ابوصالح سمان، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک آدمی ایک راستہ میں چل رہا تھا اسے سخت پیاس لگی اس نے ایک کنواں پایا اس میں اتر کر پانی پیا پھر باہر نکل آیا اس نے ایک کتے کو ہانپتے ہوئے دیکھا جو پیاس کی وجہ سے کیچڑ کھا رہا تھا اس آدمی نے سوچا اس کتے کو بھی پیاس کی اتنی ہی شدت ہے جتنی مجھے پہنچی تھی وہ کنوئیں میں اترا اور اپنا موزہ پانی سے بھر کر اپنے منہ سے پکڑ کر باہر نکل آیا اور اس کتے کو پلایا اللہ نے اس کی یہ نیکی قبول کی اور اسے معاف کردیا صحابہ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا ان جانوروں میں بھی ہمارے لئے اجر وثواب ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہر تر جگر والے جانور میں ثواب ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as sayings: A person suffered from intense thirst while on a journey, when he found a well. He climbed down into it and drank (water) and then came out and saw a dog lolling its tongue on account of thirst and eating the moistened earth. The person said: This dog has suffered from thirst as I had suffered from it. He climbed down into the well, filled his shoe with water, then caught it in his mouth until he climbed up and made the dog drink it. So Allah appreciated this act of his and pardoned him. Then (the Companions around him) said: Allahs Messenger, is there for us a reward even for (serving) such animals? He said: Yes, there is a reward for service to every living animal.
جانورون کو کھلانے اور پلانے والے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَةً بَغِيًّا رَأَتْ کَلْبًا فِي يَوْمٍ حَارٍّ يُطِيفُ بِبِئْرٍ قَدْ أَدْلَعَ لِسَانَهُ مِنْ الْعَطَشِ فَنَزَعَتْ لَهُ بِمُوقِهَا فَغُفِرَ لَهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد احمر ہشام محمد ابوہریرہ (رض) سے نبی ﷺ سے روایت ہے کہ ایک فاحشہ عورت نے گرمی کے دن میں ایک کتے کو کنوئیں کے ارد گرد پیاس کی وجہ سے اپنی زبان نکالے چکر لگاتے دیکھا تو اس نے اپنے موزے میں اس کتے کے لئے پانی کھینچا پس اس عورت کی مغفرت کردی گئی۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (may pace be upon him) as saying: A prostitute saw a dog moving around a well on a hot day and hanging out its tongue because of thirst. She drew water for it in her shoe and she was pardoned (for this act of hers).
جانورون کو کھلانے اور پلانے والے کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا کَلْبٌ يُطِيفُ بِرَکِيَّةٍ قَدْ کَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ إِذْ رَأَتْهُ بَغِيٌّ مِنْ بَغَايَا بَنِي إِسْرَائِيلَ فَنَزَعَتْ مُوقَهَا فَاسْتَقَتْ لَهُ بِهِ فَسَقَتْهُ إِيَّاهُ فَغُفِرَ لَهَا بِهِ
ابوطاہر عبداللہ بن وہب، جریر بن حازم ایوب سختیانی محمد بن سیرین حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک کتا کنوئیں کے گرد چکر لگا رہا تھا اور قریب تھا کہ پیاس اسے ہلاک کر دے اچانک بنی اسرائیل کی فاحشہ عورتوں میں سے ایک فاحشہ نے دیکھا تو اس نے اپنے موزے میں پانی کھینچا اسے پلانے کے لئے اور اسے پلایا تو اس کی اسی وجہ سے مغفرت کردی گئی
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There was a dog moving around a well whom thirst would have killed. Suddenly a prostitute from the prostitutes of Bani Israil happened to see it and she drew water in her shoe and made it drink, and she was pardoned because of this.
زمانے کو گالی دینے کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَسُبُّ ابْنُ آدَمَ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِيَ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ
ابوطاہر احمد بن عمرو بن سرح حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب ابوسلمہ بن عبدالرحمن ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا اللہ عز وجل فرماتے ہیں ابن آدم زمانے کو گالی دیتا ہے حالانکہ میں زمانہ ہوں دن اور رات میرے قبضہ میں ہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Allah, the Exalted and Glorious, said: The son of Adam علیہ السلامعلیہ السلامabuses Dahr (the time), whereas I am Dahr since in My hand are the day and the night.
زمانے کو گالی دینے کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ
اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر اسحاق سفیان، زہری، ابن مسیب ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہ ابن آدم زمانے کو گالی دے کر مجھے ایذاء دیتا ہے حالانکہ میں زمانہ ہوں میں دن رات کو گردش دیتا ہوں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Allah, the Exalted and Glorious, said: The son of Adam علیہ السلامعلیہ السلامdispleases Me by abusing Dahr (time), whereas I am Dahr--I alternate the night and the day.
زمانے کو گالی دینے کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَقُولُ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ فَلَا يَقُولَنَّ أَحَدُکُمْ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ فَإِنِّي أَنَا الدَّهْرُ أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَنَهَارَهُ فَإِذَا شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا
عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، ابن مسیب حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہ ابن آدم مجھے تکلیف دیتا ہے وہ کہتا ہے ہائے زمانے کی ناکامی پس تم میں سے کوئی یہ نہ کہے ہائے زمانے کی ناکامی کیونکہ میں ہی زمانہ ہوں میں اس رات اور دن کو بدلتا ہوں اور جب میں چاہوں گا ان دونوں کو بند کر دوں گا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Allah, the Exalted and Glorious, said: The son of Adam علیہ السلامعلیہ السلامcauses Me pain as he says: Woe be upon the Time. None of you should say this: Woe be upon the Time, as I am the Time (because) I alternate the day and the night, and when I wish I can finish them up.
زمانے کو گالی دینے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُکُمْ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ
قتیبہ بن سعید، مغیرہ بن عبدالرحمن ابی زناد اعرج ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی ہائے زمانے کی خرابی نہ کہے کیونکہ اللہ ہی زمانہ ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: None of you should say: Woe be upon the Time, for verily Allah is the Time.
زمانے کو گالی دینے کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ
زہیر بن حرب، جریر، ہشام ابن سیرین حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا زمانہ کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ اللہ ہی زمانہ ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Do not abuse Time, for it is Allah Who is the Time.
انگور کو کرم کہنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسُبُّ أَحَدُکُمْ الدَّهْرَ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ وَلَا يَقُولَنَّ أَحَدُکُمْ لِلْعِنَبِ الْکَرْمَ فَإِنَّ الْکَرْمَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ
حجاج بن شاعر، عبدالرزاق، معمر، ایوب ابن سیرین ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی زمانہ کو گالی نہ دے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی زمانہ ہے اور نہ تم میں سے کوئی انگور کو کرم کہے کیونکہ کرم تو مسلمان آدمی ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: None of you should abuse Time for it is Allah Who is the Time, and none of you should call Inab (grape) as al-karm, for karm is a Muslim person.