انگور کو کرم کہنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُولُوا کَرْمٌ فَإِنَّ الْکَرْمَ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ
عمرو ناقد ابن ابی عمر سفیان، زہری، سعید ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کرم نہ کہو کیونکہ کرم تو مومن کا دل ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Do not use the word karm (for wine) for worthy of respect is the heart of a believer.
انگور کو کرم کہنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُسَمُّوا الْعِنَبَ الْکَرْمَ فَإِنَّ الْکَرْمَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ
زہیر بن حرب، جریر، ہشام ابن سیرین ابوہریرہ (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا انگور کا نام کرم نہ رکھو کیونکہ کرم درحقیقت مسلمان آدمی ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Do not name grape as karm, for worthy of respect is a Muslim.
انگور کو کرم کہنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُکُمْ الْکَرْمُ فَإِنَّمَا الْکَرْمُ قَلْبُ الْمُؤْمِنِ
زہیر بن حرب، علی بن حفص ابوزناد، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں کوئی کرم نہ کہے کرم تو صرف مومن کا دل ہی ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: None of you should use the word al-Karm (for grape) for the heart of a believer is karm (worthy of respect).
انگور کو کرم کہنے کی کراہت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُکُمْ لِلْعِنَبِ الْکَرْمَ إِنَّمَا الْکَرْمُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ
ابن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ (رض) کی رسول اللہ ﷺ سے مروی روایات میں سے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی انگور کو کرم نہ کہے کرم تو صرف مسلمان آدمی ہی ہے
Abu Hurairah (RA) reported from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) various ahadith, one of which is this that he said: None of you should use the word al-karm for Inab, for karm (worthy of respect) is a Muslim person.
انگور کو کرم کہنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُولُوا الْکَرْمُ وَلَکِنْ قُولُوا الْحَبْلَةُ يَعْنِي الْعِنَبَ
علی بن خشرم عیسیٰ بن یونس، شعبہ، سماک بن حرب، علقمہ بن وائل، حضرت وائل بن حجر (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کرم نہ کہو بلکہ حبلہ یعنی عنب اور حبلہ کہو۔
Alqama bin Wail reported, from his father, Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) having said: Do not say al-karm (for the word vine) but say al-habala (that is grape).
انگور کو کرم کہنے کی کراہت کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاکٍ قَالَ سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُولُوا الْکَرْمُ وَلَکِنْ قُولُوا الْعِنَبُ وَالْحَبْلَةُ
زہیر بن حرب، عثمان بن عمر شعبہ، سماک علقمہ بن وائل، حضرت وائل بن حجر (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کرم نہ کہو بلکہ حبلہ یعنی عنب اور حبلہ کہو۔
This hadith has been reported by Alqama bin Wail on the authority of his father with a different chain of transmitters and with a slight variation of wording.
لفظ عبد امة مولی اور سید کا اطلاق کرنے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُکُمْ عَبْدِي وَأَمَتِي کُلُّکُمْ عَبِيدُ اللَّهِ وَکُلُّ نِسَائِکُمْ إِمَائُ اللَّهِ وَلَکِنْ لِيَقُلْ غُلَامِي وَجَارِيَتِي وَفَتَايَ وَفَتَاتِي
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ ابن حجر اسماعیل ابن جعفر علا حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی میرا بندہ میری باندی نہ کہے تم سب اللہ تعالیٰ کے بندے ہو اور تمہاری سب عورتیں اللہ کی باندیاں ہیں لیکن چاہیے کہ وہ کہے میرا غلام میری لونڈی میرا جوان اور میری جوان۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: None of you should say: My bondman and my slave-girl, for all of you are the bondmen of Allah, and all your women are the slave-girls of Allah; but say: My servant, my girl, and my young man and my young girl.
لفظ عبد امة مولی اور سید کا اطلاق کرنے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُکُمْ عَبْدِي فَکُلُّکُمْ عَبِيدُ اللَّهِ وَلَکِنْ لِيَقُلْ فَتَايَ وَلَا يَقُلْ الْعَبْدُ رَبِّي وَلَکِنْ لِيَقُلْ سَيِّدِي
زہیر بن حرب، جریر، اعمش، ابوصالح حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی میرا بندہ نہ کہے پس تم اللہ کے بندے ہو اور بلکہ چاہئے کہ میرا نوجوان کہے اور نہ کوئی غلام میرا رب کہے بلکہ چاہئے کہ میرا سردار کہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: None of you should say: My bondman, for all of you are the bondmen of Allah, but say: My young man, and the servant should not say: My Lord, but should say: My chief.
لفظ عبد امة مولی اور سید کا اطلاق کرنے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا وَلَا يَقُلْ الْعَبْدُ لِسَيِّدِهِ مَوْلَايَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ فَإِنَّ مَوْلَاکُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابومعاویہ ابوسعید اشج وکیع، اعمش، ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے ان کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ غلام اپنے سردار کو میرا مولیٰ نہ کہے اور ابومعاویہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ تمہارا سب کا مولیٰ اللہ عزوجل ہے۔
This hadith has been reported on the authority of al-Amash with the same chain of transmitters, and the words are that the servant should not say to his chief: My Lord, and Abu Muawiyahh (RA) made an addition: "For it is Allah, the Exalted and Glorious, Who is your Lord."
لفظ عبد امة مولی اور سید کا اطلاق کرنے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُلْ أَحَدُکُمْ اسْقِ رَبَّکَ أَطْعِمْ رَبَّکَ وَضِّئْ رَبَّکَ وَلَا يَقُلْ أَحَدُکُمْ رَبِّي وَلْيَقُلْ سَيِّدِي مَوْلَايَ وَلَا يَقُلْ أَحَدُکُمْ عَبْدِي أَمَتِي وَلْيَقُلْ فَتَايَ فَتَاتِي غُلَامِي
محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی روایات میں سے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی کسی کو یہ نہ کہے کہ اپنے رب کو پلا اپنے رب کو کھلا اور اپنے رب کو وضو کرا دے اور نہ تم میں سے کوئی میرا رب کہے بلکہ چاہئے کہ میرا سردار اور میرا مولیٰ کہے اور نہ تم میں کوئی میرا بندہ اور میری بندی کہے بلکہ چاہئے کہ وہ میرا جوان اور میری جوان اور میرا غلام کے الفاظ استعمال کرے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) so many ahadith and one of them is this that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: None of you should say: Supply drink to your lord, feed your lord, hell) your lord in performing ablution, and none of you should say: My Lord. He should say: My chief, my patron; and none of you should say: My bondman, my slave-girl, but simply say: My boy, my girl, my servant.
کسی انسان کے لئے میرا نفس خبیث ہوگیا کہنے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ کِلَاهُمَا عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُکُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي وَلَکِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي هَذَا حَدِيثُ أَبِي کُرَيْبٍ و قَالَ أَبُو بَکْرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْکُرْ لَکِنْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، ابوکریب محمد بن علاء، ابواسامہ ہشام حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں کوئی یہ نہ کہے کہ میرا نفس خبیث ہوگیا ہے بلکہ چاہئے کہ وہ کہے میرا نفس سست ہوگیا ہے دوسری سند میں لَکِنْ کا لفظ مذکور نہیں۔
Aisha reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) having said: None of you should say: "My soul has become evil," but he should say: "My soul has become remorseless." This hadith has been transmitted on the authority of Abu Bakr (RA) with a slight variation of wording.
کسی انسان کے لئے میرا نفس خبیث ہوگیا کہنے کی کراہت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
ابوکریب ابومعاویہ اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Muawiya with the same chain of transmitters.
کسی انسان کے لئے میرا نفس خبیث ہوگیا کہنے کی کراہت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقُلْ أَحَدُکُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي وَلْيَقُلْ لَقِسَتْ نَفْسِي
ابوطاہر حرملہ ابن وہب، یونس ابن شہاب ابی امامہ بن حضرت سہل بن حنیف (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں کوئی یہ نہ کہے کہ میرا نفس خبیث ہوگیا ہے بلکہ چاہئے کہ وہ کہے میرا نفس کاہل ہوگیا ہے۔
Abu Umama bin Sahl bin Hunaif, on the authority of his father, reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: None of you should say: "My soul has become evil," but he should say: "My soul has become remorseless."
مشک کو استعمال کرنے اور پھول اور خوشبو کو واپس کردینے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي خُلَيْدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کَانَتْ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَصِيرَةٌ تَمْشِي مَعَ امْرَأَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ فَاتَّخَذَتْ رِجْلَيْنِ مِنْ خَشَبٍ وَخَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ مُغْلَقٌ مُطْبَقٌ ثُمَّ حَشَتْهُ مِسْکًا وَهُوَ أَطْيَبُ الطِّيبِ فَمَرَّتْ بَيْنَ الْمَرْأَتَيْنِ فَلَمْ يَعْرِفُوهَا فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَکَذَا وَنَفَضَ شُعْبَةُ يَدَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ شعبہ، خلید بن جعفر ابی نضرہ ابوسعید خدری (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک عورت چھوٹے قد والی تھی وہ دو لمبے قدوالی عورتوں کے ساتھ چلی تھی اس نے اپنے دونوں پاؤں لکڑی کے بنوائے ہوئے تھے اور ایک انگوٹھی سونے کی بنوائی جو بند ہوتی تھی پھر اس میں مشک کی خوشبو بھری ہوئی تھی اور سب سے عمدہ خوشبو ہے وہ ایک روز ان دونوں عورتوں کے درمیان سے ہو کر گزری تو لوگ اسے پہچان نہ سکے اس نے اپنے ہاتھ کے اشارہ سے بتایا اور شعبہ نے اپنے ہاتھ کے ساتھ اشارہ کرکے بتایا۔
Abu Said Khudri reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There was a woman from Bani Israil who was short-statured and she walked in the company of two tall women with wooden sandals in her feet and a ring of gold made of plates with musk filled in them and then looked up, and musk is the best of scents; then she walked between two women and they (the people) did not recognise her, and she made a gesture with her hand like this, and Shubah shook his hand in order to give an indication how she shook her hand.
مشک کو استعمال کرنے اور پھول اور خوشبو کو واپس کردینے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ خُلَيْدِ بْنِ جَعْفَرٍ وَالْمُسْتَمِرِّ قَالَا سَمِعْنَا أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَکَرَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَشَتْ خَاتَمَهَا مِسْکًا وَالْمِسْکُ أَطْيَبُ الطِّيبِ
عمرو نا قد یزید بن ہارون، شعبہ، خلید بن جعفر مسمر ابونضرہ ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی اسرائیل کی ایک عورت کا تذکرہ فرمایا جس نے اپنی انگوٹھی کو مشک سے بھرا ہوا تھا اور مشک سب سے عمدہ خوشبو ہے۔
Abu Said Khudri reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) made a mention of a woman of Bana Israil who had filled her ring with musk and musk is the most fragrant of the scents.
مشک کو استعمال کرنے اور پھول اور خوشبو کو واپس کردینے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ کِلَاهُمَا عَنْ الْمُقْرِئِ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ رَيْحَانٌ فَلَا يَرُدُّهُ فَإِنَّهُ خَفِيفُ الْمَحْمِلِ طَيِّبُ الرِّيحِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، مقری ابوبکر عبدالرحمن مقری سعید بن ابی ایوب عبیداللہ بن ابی جعفر عبدالرحمن اعرج حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کو پھول پیش کیا گیا تو وہ واپس نہ کرے کیونکہ وہ کم وزن اور عمدہ خوشبو کا حامل ہوتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who is presented with a flower should not reject it, for it is light to carry and pleasant in odour.
مشک کو استعمال کرنے اور پھول اور خوشبو کو واپس کردینے کی کراہت کے بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَأَبُو طَاهِرٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ نَافِعٍ قَالَ کَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا اسْتَجْمَرَ اسْتَجْمَرَ بِالْأَلُوَّةِ غَيْرَ مُطَرَّاةٍ وَبِکَافُورٍ يَطْرَحُهُ مَعَ الْأَلُوَّةِ ثُمَّ قَالَ هَکَذَا کَانَ يَسْتَجْمِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ہارون بن سعید ایلی ابوطاہر احمد بن عیسیٰ احمد ابن وہب، حضرت نافع (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) جب دھونی لیتے تو عود کی دھونی لیتے جس میں اور کسی چیز کو نہ ملاتے اور کبھی عود میں کافور ملا لیتے تھے پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ بھی اسی طرح دھونی لیتے تھے۔
Nafi reported that when Ibn Umar (RA) wanted fumigation he got it from aloeswood without mixing anything with it, or he put camphor along with aloeswood and then said: This is how Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) fumigated.
شعر پڑھنے بیان کرنے اور اس کی مذمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَدِفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ هَلْ مَعَکَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ شَيْئٌ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ هِيهْ فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا فَقَالَ هِيهْ ثُمَّ أَنْشَدْتُهُ بَيْتًا فَقَالَ هِيهْ حَتَّی أَنْشَدْتُهُ مِائَةَ بَيْتٍ
عمرو ناقد ابن ابی عمر ابن عیینہ سفیان بن عیینہ، ابراہیم بن میسرہ عمرو بن شرید حضرت عمرو بن شرید (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سوار ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا تجھے امیہ بن ابی صلت کے اشعار میں سے کچھ آتے ہیں میں نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا سناؤ میں نے ایک شعر سنایا آپ ﷺ نے فرمایا اور سناؤ پھر میں نے ایک اور شعر سنایا آپ ﷺ نے فرمایا مزید سناؤ یہاں تک کہ میں نے سو شعر سنائے۔
Amr bin Sharid reported his father as saying: One day when I rode behind Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , he said (to me): Do you remember any Poetry of Umayya bin Abu Salt. I said: Yes. He said: Then go on. I recited a couplet, and he said: Go on. Then I again recited a couplet and he said: Go on. I recited one hundred couplets (of his poetry).
شعر پڑھنے بیان کرنے اور اس کی مذمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ أَوْ يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ الشَّرِيدِ قَالَ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ فَذَکَرَ بِمِثْلِهِ
زہیر بن حرب، احمد بن عبدہ ابن عیینہ ابراہیم بن میسرہ عمرو بن شرید یعقوب بن عاصم، شرید حضرت شرید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے سوار کیا باقی حدیث اسی طرح ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Sharid through another chain of transmitters but with a slight variation of wording.
شعر پڑھنے بیان کرنے اور اس کی مذمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ اسْتَنْشَدَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ وَزَادَ قَالَ إِنْ کَادَ لِيُسْلِمُ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مَهْدِيٍّ قَالَ فَلَقَدْ کَادَ يُسْلِمُ فِي شِعْرِهِ
یحییٰ بن یحیی، معتمر بن سلیمان زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، عبداللہ بن عبدالرحمن عمرو بن شرید ابراہیم بن میسرہ حضرت عمرو بن شرید (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے شعر پڑھنے کا مطالبہ فرمایا باقی حدیث اسی طرح ہے اس میں مزید اضافہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ مسلمان ہونے کے قریب تھا اور ابن مہدی کی روایت میں ہے کہ وہ اپنے اشعار میں مسلمان ہونے کے قریب ہے۔
Amr bin Sharid reported on the authority of his father that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) asked him to recite poetrv, the rest of the hadith is the same, out with this addition: "He (that is Umayya bin Abu Sharid was about to become a muslim" and in the hadith transmitted on the authority, of Ibn Mahdi (the words are) "He was almost a Muslim in his poetry."