شعر پڑھنے بیان کرنے اور اس کی مذمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ جَمِيعًا عَنْ شَرِيکٍ قَالَ ابْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا شَرِيکٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَشْعَرُ کَلِمَةٍ تَکَلَّمَتْ بِهَا الْعَرَبُ کَلِمَةُ لَبِيدٍ أَلَا کُلُّ شَيْئٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ
ابوجعفر محمد بن صباح علی بن حجر سعدی شریک ابن حجر شریک عبدالملک بن عمیر ابوسلمہ ابوہریرہ (رض) نبی ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ عرب کے کلمات شعر میں سب سے عمدہ لبید کا یہ شعر ہے (أَلَا کُلُّ شَيْئٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ، ) آگاہ رہو ! اللہ عزوجل کے سوا سب چیزیں باطل ہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The truest word spoken by an Arab (pre-Islamic) in poetry is this verse of Labid: "Behold! apart from Allah everything is vain."
شعر پڑھنے بیان کرنے اور اس کی مذمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْدَقُ کَلِمَةٍ قَالَهَا شَاعِرٌ کَلِمَةُ لَبِيدٍ أَلَا کُلُّ شَيْئٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ وَکَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ
محمد بن حاتم، ابن میمون ابن مہدی سفیان، عبدالملک بن عمیر ابوسلمہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ سب سے سچا کلمہ جسے شاعر کہتا ہے وہ لبید کا یہ قول ہے آگاہ رہو اللہ کے سوا سب چیزیں باطل ہیں اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہوجاتا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The truest word uttered by a poet is this verse of Labid: "Behold! apart from Allah everything is vain," and Umayya bin Abu Salt was almost a Muslim.
شعر پڑھنے بیان کرنے اور اس کی مذمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَهُ الشَّاعِرُ أَلَا کُلُّ شَيْئٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ وَکَادَ ابْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ
ابن ابی عمر سفیان، زائدہ عبدالملک بن عمیر ابوسلمہ عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شاعر کے اقوال میں سب سے سچا قول آگاہ رہو اللہ کے سوا سب چیزیں باطل ہیں اور قریب تھا کہ ابن ابی صلت مسلمان ہوجاتا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The truest verse recited by a poet is: "Behold! apart from Allah everything is vain," and Ibn Abu Salt was almost a Muslim.
شعر پڑھنے بیان کرنے اور اس کی مذمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَصْدَقُ بَيْتٍ قَالَتْهُ الشُّعَرَائُ أَلَا کُلُّ شَيْئٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، عبدالملک بن عمیر ابوسلمہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے نبی ﷺ سے روایت نقل کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا شعرا کے اشعار میں سب سے سچا شعر آگاہ رہو اللہ کے سوا سب چیزیں باطل ہیں، ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The truest couplet recited by a poet is: "Behold! apart from Allah everything is vain," and he made no addition to it.
شعر پڑھنے بیان کرنے اور اس کی مذمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّائَ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَصْدَقَ کَلِمَةٍ قَالَهَا شَاعِرٌ کَلِمَةُ لَبِيدٍ أَلَا کُلُّ شَيْئٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ مَا زَادَ عَلَی ذَلِکَ
یحییٰ بن یحیی، زکریا، اسرائیل عبدالملک بن عمیر ابوسلمہ بن عبدالرحمن ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے تھے سب سے سچا کلمہ جسے شاعر کہتا ہے وہ لبید کا یہ کلمہ ہے آگاہ رہو اللہ کے سوا سب چیزیں فانی ہیں اور آپ ﷺ نے اس پر اضافہ نہیں فرمایا۔
Abu Hurairah (RA) reported: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The truest word which the poet stated is the word of Labid: " Behold! apart from Allah everything is vain."
شعر پڑھنے بیان کرنے اور اس کی مذمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ الرَّجُلِ قَيْحًا يَرِيهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا قَالَ أَبُو بَکْرٍ إِلَّا أَنَّ حَفْصًا لَمْ يَقُلْ يَرِيهِ
ابوبکر بن ابی شبیہ حفص ابومعاویہ ابوکریب ابوسعید اشج وکیع، اعمش، ابوصالح حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدمی کے پیٹ کا پیپ سے بھر جانا شعر کے ساتھ بھر جانے سے بہتر ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (may peace be opon him) as saying: It is better for a mans belly to be stuffed with pus which corrodes it than to stuff ones mind with frivolous poetry. Abu Bakr (RA) has reported it with a slight variation Of wording.
شعر پڑھنے بیان کرنے اور اس کی مذمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ سَعْدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِکُمْ قَيْحًا يَرِيهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، یونس بن جبیر محمد بن سعد حضرت سعد (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں کسی کے پیٹ کا پیپ سے بھر جانا شعر کے ساتھ بھر جانے سے بہتر ہے۔
Sad reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: It is better for the belly of any one of you to be stuffed with pus rather than to stuff (ones mind) with poetry.
شعر پڑھنے بیان کرنے اور اس کی مذمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ يُحَنِّسَ مَوْلَی مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَرْجِ إِذْ عَرَضَ شَاعِرٌ يُنْشِدُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذُوا الشَّيْطَانَ أَوْ أَمْسِکُوا الشَّيْطَانَ لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا
قتیبہ بن سعید ثقفی لیث، ابن ہاد مصعب بن زبیر حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ مقام عرج کی طرف جا رہے تھے کہ ایک شاعر سے شعر پڑھتے ہوئے سامنا ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا شیطان کو پکڑ یا شیطان کو روکو آدمی کے پیٹ کا پیپ سے بھر جانا شعر کے ساتھ بھر جانے سے بہتر ہے۔
Abu Sa`id Khudri reported: We were going with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . As we reached the place (known as) Arj there met (us) a poet who had been reciting poetry. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Catch the satan or detain the satan, for filling the belly of a man with pus is better than stuffing his brain with poetry.
نرد شیر چوسر کھیلنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدَشِيرِ فَکَأَنَّمَا صَبَغَ يَدَهُ فِي لَحْمِ خِنْزِيرٍ وَدَمِهِ
زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، علقمہ بن مرثد سلیمان بن بریدہ حضرت بریدہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس نے نرد شیر (چوسر) کھیلا اس نے اپنے ہاتھ کو گویا خنزیر کے گوشت اور خون سے رنگ لیا۔
Book 028, Number 5612:
Buraida reported on the authority of his father that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: He who played chess is like one who dyed his hand with the flesh and blood of swine.
خوابوں کے اللہ کی طرف سے اور نبوت کا جزء ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ کُنْتُ أَرَی الرُّؤْيَا أُعْرَی مِنْهَا غَيْرَ أَنِّي لَا أُزَمَّلُ حَتَّی لَقِيتُ أَبَا قَتَادَةَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الرُّؤْيَا مِنْ اللَّهِ وَالْحُلْمُ مِنْ الشَّيْطَانِ فَإِذَا حَلَمَ أَحَدُکُمْ حُلْمًا يَکْرَهُهُ فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ
عمرو ناقد اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر ابن عیینہ ابن ابی عمر سفیان، زہری، حضرت ابوسلمہ (رض) سے روایت ہے کہ میں خواب دیکھتا جس سے میری کیفیت بخار کی سی ہوجاتی لیکن میں کمبل نہ اوڑھتا تھا یہاں تک کہ میں ابوقتادہ (رض) سے ملا اور ان سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے (اچھا) خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے ہوتا ہے جب تم میں سے کوئی ایسا ناگوار خواب دیکھے جو کہ اسے برا معلوم ہو تو چاہئے کہ اپنی بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دے اور شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے کیونکہ ایسا کرنے سے وہ خواب اسے کوئی نقصان نہ پہنچائے گا۔
Abu Salama reported: I used to see dreams (and was so much perturbed) that I began to quiver and have temperature, but did not cover myself with a mantle. I met Abu Qatadah (RA) and made a mention of that to him. He said: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: A good vision comes from Allah and a (bad) dream (hulm) from devil. So when one of you sees a bad dream (hulm) which he does not like, he should spit on his left side thrice and seek refuge with Allah from its evil; then it will not harm him.
خوابوں کے اللہ کی طرف سے اور نبوت کا جزء ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَی آلِ طَلْحَةَ وَعَبْدِ رَبِّهِ وَيَحْيَی ابْنَيْ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي حَدِيثِهِمْ قَوْلَ أَبِي سَلَمَةَ کُنْتُ أَرَی الرُّؤْيَا أُعْرَی مِنْهَا غَيْرَ أَنِّي لَا أُزَمَّلُ
ابن ابی عمر سفیان، محمد بن عبدالرحمن مولیٰ آل طلحہ عبدربہ یحییٰ سعید محمد بن عمرو بن علقمہ ابوسلمہ ابوقتادہ، حضرت ابوقتادہ (رض) نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں ابوسلمہ کا قول میں خواب دیکھتا جس سے میری کیفیت بخار کی سی ہوجاتی تھی لیکن میں چادر نہ اوڑھتا تھا مذکور نہیں ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Qatadah (RA), but there is no mention of the words of Abu Salama (RA) : "I saw dreams (which perturbed me) but I did not cover myself with a mantle."
خوابوں کے اللہ کی طرف سے اور نبوت کا جزء ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا أُعْرَی مِنْهَا وَزَادَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ فَلْيَبْصُقْ عَلَی يَسَارِهِ حِينَ يَهُبُّ مِنْ نَوْمِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے ان میں بھی حضرت ابوسلمہ کا قول مذکور نہیں اور حضرت یونس کی حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ جب وہ نیند سے بیدار ہو تو تین بار اپنی بائیں جانب تھوکے۔
This hadith has been reported on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters, but it does not contain the words: "I felt disturbed because of that," and there is an addition of these words in the hadith transmitted on the authority of Yunus: "Then spit thrice on the left side when you get up from sleep."
خوابوں کے اللہ کی طرف سے اور نبوت کا جزء ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الرُّؤْيَا مِنْ اللَّهِ وَالْحُلْمُ مِنْ الشَّيْطَانِ فَإِذَا رَأَی أَحَدُکُمْ شَيْئًا يَکْرَهُهُ فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ فَقَالَ إِنْ کُنْتُ لَأَرَی الرُّؤْيَا أَثْقَلَ عَلَيَّ مِنْ جَبَلٍ فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ فَمَا أُبَالِيهَا
عبداللہ بن مسلمہ ابن قعنب سلیمان ابن بلال یحییٰ بن سعید ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوقتادہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں جب تم میں سے کوئی ناپسند چیز کو دیکھے تو اپنی بائیں جانب تین مرتبہ تھوک دے اور اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے کیونکہ (ایسا کرنے سے) وہ خواب اسے کوئی نقصان نہ پہنچائے گا۔ حضرت ابوسلمہ نے کہا جب سے میں نے یہ حدیث سنی ہے میں ایسے خواب بھی دیکھتا جو مجھ پر پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہوتے لیکن میں ان کی پرواہ نہ کرتا تھا۔
Abu Qatadah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: A good vision is from Allah and a bad dream (hulm) is from the satan; so if one of you sees anything (in a dream which he dislikes, he should spit on his left side thrice and seek refuge with Allah from its evil, and then it will never harm him. Abu Salama said: I used to see dreams weighing more heavily upon me than a mountain; but since I heard this hadith I dont care for it (its burden).
خوابوں کے اللہ کی طرف سے اور نبوت کا جزء ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ کُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ الثَّقَفِيِّ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ فَإِنْ کُنْتُ لَأَرَی الرُّؤْيَا وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ وَابْنِ نُمَيْرٍ قَوْلُ أَبِي سَلَمَةَ إِلَی آخِرِ الْحَدِيثِ وَزَادَ ابْنُ رُمْحٍ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ وَلْيَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي کَانَ عَلَيْهِ
قتیبہ محمد بن رمح، لیث بن سعد محمد بن مثنی، عبدالوہاب ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر یحییٰ بن سعید ابوسلمہ ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے ثقفی کی حدیث میں ہے ابوسلمہ نے کہا میں ایسے خواب دیکھتا تھا باقی روایات میں ابوسلمہ کا یہ قول مذکور نہیں اور ابن رمح کی حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ اور چاہئے کہ اپنا پہلو تبدیل کرلے جس پر سویا ہوا تھا۔
Abu Salama reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: I used to see dreams, but the hadith transmitted on the authority of Laith bin Numan, the words of Abu Salama at the concluding part of the hadith are not mentioned. Ibn Rumh has reported in the hadith: "He (one who sleeps) should change the side on which he had been lying before."
خوابوں کے اللہ کی طرف سے اور نبوت کا جزء ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنْ اللَّهِ وَالرُّؤْيَا السَّوْئُ مِنْ الشَّيْطَانِ فَمَنْ رَأَی رُؤْيَا فَکَرِهَ مِنْهَا شَيْئًا فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ لَا تَضُرُّهُ وَلَا يُخْبِرْ بِهَا أَحَدًا فَإِنْ رَأَی رُؤْيَا حَسَنَةً فَلْيُبْشِرْ وَلَا يُخْبِرْ إِلَّا مَنْ يُحِبُّ
ابوطاہر عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، عبدربہ بن سعید ابوسلمہ ابن عبدالرحمن حضرت ابوقتادہ (رض) رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا نیک خواب اللہ کی طرف سے اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں پس جو ایسا خواب دیکھے جس میں کوئی ناگوار چیز ہو تو اپنی بائیں طرف تھوک دے اور شیطان سے اللہ کی پناہ مانگے ایسا کرنے سے وہ خواب کوئی نقصان نہ پہنچائے گا اور نہ کسی کو یہ خواب بتائے اور اگر اچھا خواب دیکھے تو خوش ہوجائے اور دوستوں کے علاوہ کسی کو نہ بتائے۔
Abu Qatadah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The good vision are from Allah and the evil dreams are from the satan. If one sees a dream which one does not like, one should spit on ones left side and seek the refuge of Allah from the satan; it will not do one any harm, and one should not disclose it to anyone and if one sees a good vision one should feel pleased but should not disclose it to anyone but whom one loves.
خوابوں کے اللہ کی طرف سے اور نبوت کا جزء ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَکَمِ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ إِنْ کُنْتُ لَأَرَی الرُّؤْيَا تُمْرِضُنِي قَالَ فَلَقِيتُ أَبَا قَتَادَةَ فَقَالَ وَأَنَا کُنْتُ لَأَرَی الرُّؤْيَا فَتُمْرِضُنِي حَتَّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنْ اللَّهِ فَإِذَا رَأَی أَحَدُکُمْ مَا يُحِبُّ فَلَا يُحَدِّثْ بِهَا إِلَّا مَنْ يُحِبُّ وَإِنْ رَأَی مَا يَکْرَهُ فَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشَرِّهَا وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا أَحَدًا فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ
ابوبکر بن خلاد باہلی احمد بن عبداللہ بن حکم محمد بن جعفر، شعبہ، عبدربہ ابن سعید حضرت ابوسلمہ (رض) سے روایت ہے کہ میں ایسے خواب دیکھتا جو مجھے بیمار کردیتے تھے میں ابوقتادہ (رض) سے ملا تو انہوں نے کہا (بھی) میں ایسے خواب دیکھتا تھا جو مجھے بیمار کردیتے تھے یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا نیک خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں پس اگر تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ پسند کرتا ہو تو سوائے اپنے دوست کے کسی کو بیان نہ کرے اور اگر ایساخواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو اپنی بائیں جانب تین بار تھوک دے اور اللہ سے شیطان کی اور خواب کے شر سے پناہ مانگے اور کسی کو بھی یہ خواب بیان نہ کرے اور اس خواب سے اس کو نقصان نہ پہنچے گا۔
Abu Salama replied: I used to see (such horrible dreams) that I fell ill. I saw Abu Qatadah (RA) who also said: I used to see dreams which made me sick until I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Good dreams are from Allah, so if any one of you sees which he likes he should not disclose it to one but who he loves, but if he sees something which he does not like he should spit on his left side thrice and seek refuge with Allah from the mischief of the satan and its mischief (i. e. of the dream), and he should not relate it to anyone, then it would not harm him.
خوابوں کے اللہ کی طرف سے اور نبوت کا جزء ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا رَأَی أَحَدُکُمْ الرُّؤْيَا يَکْرَهُهَا فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ ثَلَاثًا وَلْيَتَحَوَّلْ عَنْ جَنْبِهِ الَّذِي کَانَ عَلَيْهِ
قتیبہ بن سعید، لیث، ابن رمح ابوزبیر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو اپنی بائیں جانب تین بار تھوک دے اور شیطان سے تین بار اللہ کی پناہ مانگے اور چاہئے کہ اپنے اس پہلو کو تبدیل کرلے جس پر پہلے تھا۔
Jabir reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: If anyone sees a dream which he does not like, lie should spit on his left side.
خوابوں کے اللہ کی طرف سے اور نبوت کا جزء ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ لَمْ تَکَدْ رُؤْيَا الْمُسْلِمِ تَکْذِبُ وَأَصْدَقُکُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُکُمْ حَدِيثًا وَرُؤْيَا الْمُسْلِمِ جُزْئٌ مِنْ خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْئًا مِنْ النُّبُوَّةِ وَالرُّؤْيَا ثَلَاثَةٌ فَرُؤْيَا الصَّالِحَةِ بُشْرَی مِنْ اللَّهِ وَرُؤْيَا تَحْزِينٌ مِنْ الشَّيْطَانِ وَرُؤْيَا مِمَّا يُحَدِّثُ الْمَرْئُ نَفْسَهُ فَإِنْ رَأَی أَحَدُکُمْ مَا يَکْرَهُ فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا النَّاسَ قَالَ وَأُحِبُّ الْقَيْدَ وَأَکْرَهُ الْغُلَّ وَالْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ فَلَا أَدْرِي هُوَ فِي الْحَدِيثِ أَمْ قَالَهُ ابْنُ سِيرِينَ
محمد بن ابی عمر مکی، عبدالوہاب ثقفی ایوب سختیانی محمد بن سیرین حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب زمانہ (قیامت) قریب آجائے گا تو قریب قریب مسلمان کا خواب جھوٹا نہ ہوگا اور تم میں سے جو بات میں سچا ہوگا اس کا خواب بھی سچا ہوگا اور مسلمان کا خواب نبوت کے اجزاء میں سے پنتالیسواں حصہ ہے اور خواب کی تین اقسام ہیں نیک خواب اللہ کی طرف سے بشارت ہیں اور غمگین کرنے والے خواب شیطان کی طرف سے ہیں اور تیسری قسم کے خواب انسان کے اپنے دل کے خیالات ہوتے ہیں پس اگر تم میں سے کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے ناگوار ہو تو چاہئے کہ کھڑا ہوجائے اور نماز پڑھے اور ایسا خواب لوگوں کو بیان نہ کرے راوی نے کہا میں بیڑیاں خواب میں پسند کرتا ہوں اور طوق دیکھنے کو ناگوار سمجھتا ہوں اور بیڑیاں دین میں ثابت قدمی ہے اور میں نہیں جانتا کہ یہ (تاویل خواب) حدیث ہے یا ابن سیرین (رح) کا اپنا قول۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: When the time draws near (when the Resurrection is near) a believers dream can hardly be false. And the truest vision will be of one who is himself the most truthful in speech, for the vision of a Muslim is the forty-fifth part of Prophecy, and dreams are of three types: one good dream which is a sort of good tidings from Allah; the evil dream which causes pain is from the satan; and the third one is a suggestion of ones own mind; so if any one of you sees a dream which he does not like he should stand tip and offer prayer and he should not relate it to people, and he said: I would love to see fetters (in the dream), but I dislike wearing of necklace, for the fetters is (an indication of) ones steadfastness in religion. The narrator said: I do not know whether this is a part of the hadith or the words of Ibn Sirin.
خوابوں کے اللہ کی طرف سے اور نبوت کا جزء ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَيُعْجِبُنِي الْقَيْدُ وَأَکْرَهُ الْغُلَّ وَالْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْئٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْئًا مِنْ النُّبُوَّةِ
محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ایوب اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ مجھے بیڑیاں پسند اور طوق ناپسند ہیں اور بیڑیاں دین میں ثابت قدمی ہے اور نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا مومن کے خواب اجزاء نبوت میں سے چھیالیسواں حصہ ہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported: I love to see fetters but I hate necklace (in a dream), for fetters signifies ones steadfastness in religion, and he also reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The vision of a believer is forty-sixth part of Prophecy.
خوابوں کے اللہ کی طرف سے اور نبوت کا جزء ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ وَهِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ إِذَا اقْتَرَبَ الزَّمَانُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَذْکُرْ فِيهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوربیع حماد ابن زید ایوب ہشام محمد حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ قیامت کے قریب، باقی حدیث مبارکہ گزر چکی اور اس سند میں نبی ﷺ کا ذکر نہیں ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Abu Hurairah (RA) and the words are: "When the time draws near," the rest of the hadith is the same.