Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 292 of 379

5828Sahih Muslimصحیح

سانپوں وغیرہ کو مارنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ کَلَّمَ ابْنَ عُمَرَ لِيَفْتَحَ لَهُ بَابًا فِي دَارِهِ يَسْتَقْرِبُ بِهِ إِلَی الْمَسْجِدِ فَوَجَدَ الْغِلْمَةُ جِلْدَ جَانٍّ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ الْتَمِسُوهُ فَاقْتُلُوهُ فَقَالَ أَبُو لُبَابَةَ لَا تَقْتُلُوهُ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ

محمد بن رمح، لیث، قتیبہ بن سعید، لیث، حضرت نافع (رض) سے روایت ہے کہ ابولبابہ نے حضرت ابن عمر (رض) سے ان کے گھر کا دروازہ اپنے لئے کھولنے کے بارے میں گفتگو کی تاکہ وہ مسجد سے قریب ہوجائیں تو لڑکوں کو سانپ کی کیچلی مل گئی عبداللہ (رض) نے کہا سانپ کو تلاش کرو اور اسے قتل کردو تو ابولبابہ نے کہا اسے قتل مت کرو کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ان سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے جو گھروں میں رہتے ہیں۔

Nafi reported that Abu Lubaba talked to Ibn Umar to open a door in his house which would bring them nearer to the mosque and they found a fresh slough of the snake, whereupon Abdullah said: Find it out and kill it. Abu Lubaba said: Dont kill them, for Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) forbade the killing of the snakes found in houses.

5829Sahih Muslimصحیح

سانپوں وغیرہ کو مارنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا نَافِعٌ قَالَ کَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقْتُلُ الْحَيَّاتِ کُلَّهُنَّ حَتَّی حَدَّثَنَا أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ الْبَدْرِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ قَتْلِ جِنَّانِ الْبُيُوتِ فَأَمْسَکَ

شیبان بن فروخ جریر بن حازم، حضرت نافع (رض) سے روایت ہے کہ ابن عمر (رض) تمام سانپوں کو مار دیا کرتے تھے اور ہمیں ابولبابہ بن عبدالمنذر بدری نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے گھریلوں سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے پس ابن عمر (رض) اس سے رک گئے۔

Nafi reported that Ibn Urnar used to kill all types of snakes until Abu Lubaba bin Abdul Mundhir Badri reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had forbidden the killing of the snakes of the houses, and so he abstained from it.

5830Sahih Muslimصحیح

سانپوں وغیرہ کو مارنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا لُبَابَةَ يُخْبِرُ ابْنَ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ

محمد بن مثنی، یحییٰ بن قطان عبیداللہ، حضرت نافع (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابولبابہ (رض) سے ابن عمر (رض) کو یہ خبر دیتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا۔

Nafi reported that he heard Abu Lubaba informing Ibn Umar that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had forbidden the killing of domestic snakes.

5831Sahih Muslimصحیح

سانپوں وغیرہ کو مارنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِي لُبَابَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي فِي الْبُيُوتِ

اسحاق بن موسیٰ انصاری انس بن عیاض عبیداللہ نافع ابن عمرابی لبابہ ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے کہ حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابولبابہ (رض) نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا جو گھروں میں ہوتے ہیں۔

Abdullah reported that Abu Lubaba had informed him that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had forbidden the killing of the snakes found in the house.

5832Sahih Muslimصحیح

سانپوں وغیرہ کو مارنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ الْأَنْصَارِيَّ وَکَانَ مَسْکَنُهُ بِقُبَائٍ فَانْتَقَلَ إِلَی الْمَدِينَةِ فَبَيْنَمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ جَالِسًا مَعَهُ يَفْتَحُ خَوْخَةً لَهُ إِذَا هُمْ بِحَيَّةٍ مِنْ عَوَامِرِ الْبُيُوتِ فَأَرَادُوا قَتْلَهَا فَقَالَ أَبُو لُبَابَةَ إِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْهُنَّ يُرِيدُ عَوَامِرَ الْبُيُوتِ وَأُمِرَ بِقَتْلِ الْأَبْتَرِ وَذِي الطُّفْيَتَيْنِ وَقِيلَ هُمَا اللَّذَانِ يَلْتَمِعَانِ الْبَصَرَ وَيَطْرَحَانِ أَوْلَادَ النِّسَائِ

محمد بن مثنی، عبدالوہاب ثقفی یحییٰ بن سعد حضرت نافع (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابولبابہ (رض) بن عبدالمنذر انصاری کی رہائش قبا میں تھی وہ مدینہ منورہ منتقل ہوگئے کہ ایک دن ابن عمر (رض) ان کے ساتھ بیٹھے اپنا ایک دروازہ کھول رہے تھے کہ اچانک انہوں نے گھریلو سانپوں میں سے ایک سانپ کو دیکھا اور لوگوں نے اسے مارنے کا ارادہ کیا تو حضرت ابولبابہ نے کہا انہیں مارنے سے روکا گیا ہے اور انہوں نے ان گھریلو سانپوں کا ارادہ کیا اور دم بریدہ اور دو دھاریوں والے سانپوں کو مارنے کا حکم دیا گیا اور کہا گیا ہے کہ یہی وہ دو قسم کے سانپ ہیں جو بصارت کو اچک لیتے ہیں اور عورتوں کے بچوں کو گرا دیتے ہیں۔

Nafi reported that Abu Lubaba bin Abdul Mundhir al-Ansari (first) lived in Quba. He then shifted to Madinah and as he was in the company of Abdullah bin Umar opening a window for him, he suddenly saw a snake in the house. They (the inmates of the house) attempted to kill that. Thereupon Abu Lubaba said: They had been forbidden to make an attempt to kill house snakes and they had been commanded to kill the snakes having small tails, small snakes and those having streaks over them, and it was said: Both of them affect the eyes and cause miscarriage to women.

5833Sahih Muslimصحیح

سانپوں وغیرہ کو مارنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ عِنْدَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَوْمًا عِنْدَ هَدْمٍ لَهُ فَرَأَی وَبِيصَ جَانٍّ فَقَالَ اتَّبِعُوا هَذَا الْجَانَّ فَاقْتُلُوهُ قَالَ أَبُو لُبَابَةَ الْأَنْصَارِيُّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ قَتْلِ الْجِنَّانِ الَّتِي تَکُونُ فِي الْبُيُوتِ إِلَّا الْأَبْتَرَ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ فَإِنَّهُمَا اللَّذَانِ يَخْطِفَانِ الْبَصَرَ وَيَتَتَبَّعَانِ مَا فِي بُطُونِ النِّسَائِ

اسحاق بن منصور محمد بن جہضم اسماعیل ابن جعفر عمر بن نافع، حضرت نافع (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) ایک دن اپنی گری ہوئی دیوار کے پاس تھے کہ انہوں نے اچانک سانپ کی چمک دیکھی تو کہا اس سانپ کا پیچھا کرو اور اسے قتل کردو حضرت ابولبابہ انصاری نے کہا میں نے رسول اللہ کو ان سانپوں کے قتل سے منع کرتے ہوئے سنا جو گھروں میں رہتے ہیں سوائے دم بریدہ اور دو دھاریوں والے سانپوں کے کیونکہ یہ وہ ہیں جو بصارت وبینائی کو اچک لیتے ہیں اور عورتوں کے حمل کو گرا دیتے ہیں۔

Nafi reported on the authority of his father that as Abdullah bin Umar saw one day (standing) near the ruin (of his house) the slough of a snake and said (to the people around him): Pursue this snake and kill it. Abu Lubaba Ansari said: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He forbade the killing of snakes found in the houses except the short-tailed snakes and those having streaks upon them, for both of them obliterate eyesight and affect that which is in the wombs of (pregnant) women.

5834Sahih Muslimصحیح

سانپوں وغیرہ کو مارنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ مَرَّ بِابْنِ عُمَرَ وَهُوَ عِنْدَ الْأُطُمِ الَّذِي عِنْدَ دَارِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ يَرْصُدُ حَيَّةً بِنَحْوِ حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ

ہارون بن سعید ایلی ابن وہب، اسامہ نافع حضرت نافع (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابولبابہ (رض) حضرت ابن عمر (رض) کے پاس سے گزرے اس حال میں کہ وہ حضرت عمر بن خطاب کے گھر کے پاس والے قلعہ میں سانپ کو تلاش کر رہے تھے باقی حدیث مبارکہ گزر چکی ہے۔

Nafi reported that Abu Lubaba happened to pass by Ibn Umar who lived in the fortified place near the house of Umar bin Khattab and was busy in keeping his eyes upon a snake and killing it, the rest of the hadith is the same.

5835Sahih Muslimصحیح

سانپوں وغیرہ کو مارنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ يَحْيَی وَإِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ وَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا فَنَحْنُ نَأْخُذُهَا مِنْ فِيهِ رَطْبَةً إِذْ خَرَجَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ فَقَالَ اقْتُلُوهَا فَابْتَدَرْنَاهَا لِنَقْتُلَهَا فَسَبَقَتْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَاهَا اللَّهُ شَرَّکُمْ کَمَا وَقَاکُمْ شَرَّهَا

یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب اسحاق ابن ابراہیم، ابومعاویہ اعمش، ابراہیم، اسود، حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ ہم ایک غار میں نبی ﷺ کے ساتھ تھے پھر (وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا) نازل کی گئی پس ہم آپ ﷺ کے دہن مبارک سے مزہ لے کر اس سورت کو حاصل کر رہے تھے کہ اچانک ایک سانپ نکل آیا آپ نے فرمایا اسے مار ڈالو پس میں نے اس سانپ کو مارنے میں جلدی کی لیکن وہ ہم سے نکل گیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے اسے تمہارے شر سے بچا لیا جیسا کہ اس کے شر سے تمہیں بچایا۔

Abdullah reported: We were with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in a cave when there was revealed to him (the Sura al-Mursalat, i. e. Sura lxxvii.:" By those sent forth to spread goodness") and we had just heard (it) from his lips when there appeared before us a snake. He said: Kill it. We hastened to kill it, but it slipped away from us, thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Allah saved it from your harm just as he saved you from its evil.

5836Sahih Muslimصحیح

سانپوں وغیرہ کو مارنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ

قتیبہ بن سعید، عثمان بن ابی شیبہ جریر، اعمش، اس سند سے بھی یہ اسی طرح مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of al-Amash with the same chain of transmitters.

5837Sahih Muslimصحیح

سانپوں وغیرہ کو مارنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ مُحْرِمًا بِقَتْلِ حَيَّةٍ بِمِنًی

ابوکریب حفص ابن غیاث اعمش، ابراہیم، اسود، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منیٰ میں ایک احرام باندھنے والے کو سانپ مارنے کا حکم ارشاد فرمایا۔

Abdullah reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) commanded a Muhrim (one who is in the state of pilgrimage) to kill the snake at Mina.

5838Sahih Muslimصحیح

سانپوں وغیرہ کو مارنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَارٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَأَبِي مُعَاوِيَةَ

عمر بن حفص بن غیاث اعمش، ابراہیم، اسود، حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غار میں تھے باقی حدیث اسی طرح ہے۔

Abdullah reported: While we were with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in the cave, the rest of the hadith is the same as the one narrated above.

5839Sahih Muslimصحیح

سانپوں وغیرہ کو مارنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ صَيْفِيٍّ وَهُوَ عِنْدَنَا مَوْلَی ابْنِ أَفْلَحَ أَخْبَرَنِي أَبُو السَّائِبِ مَوْلَی هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَی أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي بَيْتِهِ قَالَ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّی يَقْضِيَ صَلَاتَهُ فَسَمِعْتُ تَحْرِيکًا فِي عَرَاجِينَ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا حَيَّةٌ فَوَثَبْتُ لِأَقْتُلَهَا فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنْ اجْلِسْ فَجَلَسْتُ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَشَارَ إِلَی بَيْتٍ فِي الدَّارِ فَقَالَ أَتَرَی هَذَا الْبَيْتَ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَ کَانَ فِيهِ فَتًی مِنَّا حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ قَالَ فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْخَنْدَقِ فَکَانَ ذَلِکَ الْفَتَی يَسْتَأْذِنُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْصَافِ النَّهَارِ فَيَرْجِعُ إِلَی أَهْلِهِ فَاسْتَأْذَنَهُ يَوْمًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذْ عَلَيْکَ سِلَاحَکَ فَإِنِّي أَخْشَی عَلَيْکَ قُرَيْظَةَ فَأَخَذَ الرَّجُلُ سِلَاحَهُ ثُمَّ رَجَعَ فَإِذَا امْرَأَتُهُ بَيْنَ الْبَابَيْنِ قَائِمَةً فَأَهْوَی إِلَيْهَا الرُّمْحَ لِيَطْعُنَهَا بِهِ وَأَصَابَتْهُ غَيْرَةٌ فَقَالَتْ لَهُ اکْفُفْ عَلَيْکَ رُمْحَکَ وَادْخُلْ الْبَيْتَ حَتَّی تَنْظُرَ مَا الَّذِي أَخْرَجَنِي فَدَخَلَ فَإِذَا بِحَيَّةٍ عَظِيمَةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَی الْفِرَاشِ فَأَهْوَی إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ فَانْتَظَمَهَا بِهِ ثُمَّ خَرَجَ فَرَکَزَهُ فِي الدَّارِ فَاضْطَرَبَتْ عَلَيْهِ فَمَا يُدْرَی أَيُّهُمَا کَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الْحَيَّةُ أَمْ الْفَتَی قَالَ فَجِئْنَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرْنَا ذَلِکَ لَهُ وَقُلْنَا ادْعُ اللَّهَ يُحْيِيهِ لَنَا فَقَالَ اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِکُمْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ بِالْمَدِينَةِ جِنًّا قَدْ أَسْلَمُوا فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا فَآذِنُوهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ بَدَا لَکُمْ بَعْدَ ذَلِکَ فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ

ابوطاہر احمد بن عمرو بن سرح عبداللہ بن وہب، مالک بن انس حضرت ہشام (رض) بن زہرہ کے مولیٰ حضرت ابوسائب سے روایت ہے کہ وہ حضرت ابوسعید کے پاس ان کے گھر گئے کہتے ہیں کہ میں نے انہیں نماز پڑھتے پایا تو میں ان کے انتظار میں بیٹھ گیا یہاں تک کہ انہوں نے اپنی نماز ادا کرلی میں نے گھر کے کونے میں پڑی ہوئے لکڑی کی حرکت کی آواز سنی میں نے اس کی طرف توجہ کی تو وہاں سانپ تھا میں اس کو مارنے کے لئے جھپٹا ابوسعید (رض) نے مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا تو میں بیٹھ گیا جب وہ نماز سے فارغ ہوگئے تو گھر کے اندر ایک کوٹھڑی کی طرف اشارہ کیا اور کہا تو اس گھر کو دیکھ رہا ہے میں نے کہا جی ہاں کہا اس میں ہمارا ایک نوجوان ہے جس کی ابھی نئی شادی ہوئی تھی ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک خندق کی طرف نکلے اور وہ نوجوان عین دوپہر کے وقت رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے کر اپنے اہل و عیال کی طرف لوٹتا تھا ایک دن اس نے آپ ﷺ سے اجازت طلب کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے ہتھیار ساتھ لے لو میں بنو قریظہ کے تجھ پر حملہ کرنے کا خدشہ رکھتا ہوں اس آدمی نے اپنے ہتھیار لے لئے واپس آیا تو دیکھا کہ اس کی بیوی دونوں کو اڑوں کے درمیان کھڑی ہے اس نے غیرت کی وجہ سے اپنی بیوی کو نیزہ مارنے کا ارادہ کیا تو اس عورت نے کہا نیزہ روک اور گھر میں داخل ہو اور دیکھو مجھے کس چیز نے گھر سے نکالا ہے وہ داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک بہت بڑا سانپ بستر پر لیٹا ہوا ہے پس اس نوجوان نے سانپ کو نیزا مارنے کا ارادہ کیا اور سانپ کو نیزہ میں پرو لیا پھر باہر نکلا اور نیزہ کو احاطہ میں گاڑ دیا پس وہ سانپ نیزے پر تڑپنے لگا ( اور نوجوان بھی) لیکن یہ معلوم نہیں کہ سانپ کی موت پہلے واقع ہوئی یا جوان کی ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا۔ ہم نے عرض کیا اللہ سے دعا کریں کہ وہ اسے زندہ کر دے آپ نے فرمایا اپنے ساتھی کے لئے مغفرت طلب کرو پھر فرمایا مدینہ میں کچھ جن مسلمان ہوگئے ہیں پس اگر تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو اسے تین دن کی مہلت کا اعلان کردو اگر اس کے بعد بھی وہ سانپ ہی دکھائی دے تو اسے مار ڈالو کیونکہ وہ شیطان ہے۔

Abu as-Saib, the freed slaved of Hisham bin Zuhra, said that he visited Abu Said Khudri in his house, (and he further) said: I found him saying his prayer, so I sat down waiting for him to finish his prayer when I heard a stir in the bundles (of wood) lying in a corner of the house. I looked towards it and found a snake. I jumped up in order to kill it, but he (Abu Said Khudri) made a gesture that I should sit down. So I sat down and as he finished (the prayer) he pointed to a room in the house and said: Do you see this room? I said: Yes. He said: There was a young man amongst us who had been newly wedded. We went with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (to participate in the Battle) of Trench when a young man in the midday used to seek permission from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to return to his family. One day he sought permission from him and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) after granting him the permission said to him: Carry your weapons with you for I fear the tribe of Quraiza may harm you. The man carried the weapons and then came back and found his wife standing between the two doors. He bent towards her smitten by jealousy and made a dash towards her with a spear in order to stab her. She said: Keep your spear away and enter the house until you see that which has made me come out. He entered and found a big snake coiled on the bedding. He darted with the spear and pierced it and then went out having fixed it in the house, but the snake quivered and attacked him and no one knew which of them died first, the snake or the young man. We came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and made a mention to him and said: Supplicate to Allah that that (man) may be brought back to life. Thereupon he said: Ask forgiveness for your companion and then said: There are in Madinah jinns who have accepted Islam, so when you see any one of them, pronounce a warning to it for three days, and if they appear before you after that, then kill it for that is a devil.

5840Sahih Muslimصحیح

سانپوں وغیرہ کو مارنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ أَسْمَائَ بْنَ عُبَيْدٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ السَّائِبُ وَهُوَ عِنْدَنَا أَبُو السَّائِبِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَی أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَبَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ إِذْ سَمِعْنَا تَحْتَ سَرِيرِهِ حَرَکَةً فَنَظَرْنَا فَإِذَا حَيَّةٌ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِکٍ عَنْ صَيْفِيٍّ وَقَالَ فِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِهَذِهِ الْبُيُوتِ عَوَامِرَ فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْهَا فَحَرِّجُوا عَلَيْهَا ثَلَاثًا فَإِنْ ذَهَبَ وَإِلَّا فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّهُ کَافِرٌ وَقَالَ لَهُمْ اذْهَبُوا فَادْفِنُوا صَاحِبَکُمْ

محمد بن رافع وہب بن جریر بن حازم اسماء بن عبید حضرت ابوسائب (رض) سے روایت ہے کہ ہم حضرت ابوسعید کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ہم نے چارپائی کے نیچے حرکت کی آواز سنی جب ہم نے دیکھا تو وہ سانپ تھا باقی حدیث گزر چکی اس میں اضافہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان گھروں میں کچھ گھریلو سانپ رہتے ہیں پس اگر تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو تین دن تک اسے تنگ کرو اگر وہ چلا جائے تو ٹھیک ورنہ اسے قتل کر ڈالو کیونکہ وہ کافر ہے اور یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ اور اپنے ساتھی کو دفن کردو۔

Asma bin Ubaid reported about a person who was called as-Saib having said: We visited Abu Said Khudri. When we had been sitting (with him) we heard a stir under his bed. When we looked we found a big snake, the rest of the hadith is the same. And in this Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is reported to have said: Verily in these houses there live aged (snakes), so when you see one of them, make life hard for it for three days, and if it goes away (well and good), otherwise kill it for (in that case) it would be a nonbeliever. And he (the Holy Prophet) said (to his Companions): Go and bury your companion (who had died by the snake bite).

5841Sahih Muslimصحیح

سانپوں وغیرہ کو مارنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ حَدَّثَنِي صَيْفِيٌّ عَنْ أَبِي السَّائِبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بِالْمَدِينَةِ نَفَرًا مِنْ الْجِنِّ قَدْ أَسْلَمُوا فَمَنْ رَأَی شَيْئًا مِنْ هَذِهِ الْعَوَامِرِ فَلْيُؤْذِنْهُ ثَلَاثًا فَإِنْ بَدَا لَهُ بَعْدُ فَلْيَقْتُلْهُ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ

زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید ابن عجلان صیفی ابی سائب حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مدینہ میں جنات کا ایک گروہ مسلمان ہوچکا ہے پس جو ان گھریلوں سانپوں میں سے کسی کو دیکھے تو اسے تین دن کا اعلان کر دے پس اگر وہ اس کے بعد بھی سامنے آئے تو اسے مار ڈالے کیونکہ وہ شیطان ہے۔

Abu Said Khudri reported Allahs Messenger having said: There is a group of jinns in Madinah who accepted Islam, so he who would see anything from these occupants should warn him three times; and if he appears after that, he should kill him for he is a satan.

5842Sahih Muslimصحیح

چھپکلی کو مارنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أُمِّ شَرِيکٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا بِقَتْلِ الْأَوْزَاغِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ أَمَرَ

ابوبکر بن ابی شیبہ عمرو ناقد اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی اسحاق سفیان بن عیینہ، عبدالحمید بن جبیر بن شبیہ سعید بن مسیب، حضرت ام شریک (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے انہیں چھپکلیوں کے مارنے کا حکم دیا۔

Umm Sharik reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) commanded her to kill geckos. This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Abi Shaiba with a slight variation of wording.

5843Sahih Muslimصحیح

چھپکلی کو مارنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ أَخْبَرَهُ أَنَّ أُمَّ شَرِيکٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اسْتَأْمَرَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَتْلِ الْوِزْغَانِ فَأَمَرَ بِقَتْلِهَا وَأُمُّ شَرِيکٍ إِحْدَی نِسَائِ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ اتَّفَقَ لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي خَلَفٍ وَعَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ وَحَدِيثُ ابْنِ وَهْبٍ قَرِيبٌ مِنْهُ

ابوطاہر ابن وہب، ابن جریج، محمد بن احمد بن ابی خلف روح ابن جریج، عبد بن حمید محمد بن بکر، ابن جریج، عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ سعید بن مسیب ام شریک ان اسناد سے بھی حدیث اسی طرح مروی ہے کہ حضرت ام شریک (رض) نے نبی ﷺ سے چھپکلی کو مارنے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے انہیں مارنے کا حکم دیا اور ام شریک (رض) بنو عامر بن لوئی کی عورتوں میں ایک ہیں۔

Umm Sharik reported that she consulted Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in regard to killing of geckos, and he commanded to kill them and Umm Sharik is one of the women of Bani Amir bin Luwayy. This hadith has been reported through another chain of transmitters with the same meaning.

5844Sahih Muslimصحیح

چھپکلی کو مارنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا

اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، حضرت عامر (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا اور اس کا نام فویسق یعنی کم فاسق رکھا۔

Amir bin Sad reported on the authority of his father that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) commanded the killing of geckos, and he called them little noxious creatures.

5845Sahih Muslimصحیح

چھپکلی کو مارنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْوَزَغِ الْفُوَيْسِقُ زَادَ حَرْمَلَةُ قَالَتْ وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمَرَ بِقَتْلِهِ

ابوطاہر حرملہ ابن وہب، یونس زہری، عروہ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چھپکلی کو فویسق کہا اور حرملہ نے یہ اضافہ کیا کہ سیدہ (رض) نے کہا کہ میں نے آپ ﷺ سے اسے مارنے کا حکم نہیں سنا۔

Aisha reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said about the gecko as a noxious creature". Harmala made this addition that she said: I did not hear that he had commanded to kill them.

5846Sahih Muslimصحیح

چھپکلی کو مارنے کے استح کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ وَزَغَةً فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ فَلَهُ کَذَا وَکَذَا حَسَنَةً وَمَنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّانِيَةِ فَلَهُ کَذَا وَکَذَا حَسَنَةً لِدُونِ الْأُولَی وَإِنْ قَتَلَهَا فِي الضَّرْبَةِ الثَّالِثَةِ فَلَهُ کَذَا وَکَذَا حَسَنَةً لِدُونِ الثَّانِيَةِ

یحییٰ بن یحیی، خالف بن عبداللہ بن سہیل حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب میں مار ڈالا تو اس کے لئے اتنی اتنی نیکیاں ہیں اور جس نے اسے دوسری ضرب سے مارا اس کے لئے اتنی اتنی نیکیاں ہیں مگر پہلی دفعہ مارنے والے سے کم اور اگر اس نے تیسری ضرب سے مارا تو اس کے لئے اتنی اتنی نیکیاں ہیں لیکن دوسری ضرب سے مارنے والے سے کم۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who killed a gecko with the first stroke for him is such and such a reward, and he who killed it with a second stroke for him is such and such reward less than the first one, and he who killed it with the third stroke for him is such and such a reward less than the second one.

5847Sahih Muslimصحیح

چھپکلی کو مارنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ زَکَرِيَّائَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ کُلُّهُمْ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ خَالِدٍ عَنْ سُهَيْلٍ إِلَّا جَرِيرًا وَحْدَهُ فَإِنَّ فِي حَدِيثِهِ مَنْ قَتَلَ وَزَغًا فِي أَوَّلِ ضَرْبَةٍ کُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ وَفِي الثَّانِيَةِ دُونَ ذَلِکَ وَفِي الثَّالِثَةِ دُونَ ذَلِکَ

قتیبہ بن سعید ابوعوانہ، زہیر بن حرب، جریر، محمد بن صباح اسماعیل ابن زکریا، ابوکریب وکیع، سفیان، سہیل، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے چھپکلی کو پہلی ضرب سے مارا اس کے لئے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دوسری میں اس سے کم اور تیسری میں اس سے بھی کم۔

This hadith has been reported on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters (and the words are): - He who killed a gecko with the first stroke for him are ordained one hundred virtues, and with the second one less than that and with the third one less than that.