بد شگونی نیک فال اور جن چیزوں میں نحوست ہے ان کے بیان میں
و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَقُلْ حَقٌّ
ہارون بن عبداللہ بن روح بن عبادہ، شعبہ، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں حق کا لفظ مروی نہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters but there is no mention of the word "Haqq" (fact).
بد شگونی نیک فال اور جن چیزوں میں نحوست ہے ان کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ کَانَ الشُّؤْمُ فِي شَيْئٍ فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَسْکَنِ وَالْمَرْأَةِ
ابوبکر بن اسحاق ابن ابی مریم سلیمان بن بلال عتبہ بن مسلم حمزہ بن ابن عمر حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی تو وہ گھوڑے، مکان اور عورت میں ہوتی۔
Abdullah bin Umar reported on the authority of his father that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: If there is bad luck in anything, it is the horse, the abode and the woman.
بد شگونی نیک فال اور جن چیزوں میں نحوست ہے ان کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ کَانَ فَفِي الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالْمَسْکَنِ يَعْنِي الشُّؤْمَ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب مالک ابی حازم سہل بن سعد حضرت سہل بن سعد (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر نحوست ہوتی تو وہ عورت، گھوڑے اور مکان میں ہوتی۔
Sahl bin Sad reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: If bad luck were to be in anything, it is found in the woman, the horse and the abode.
بد شگونی نیک فال اور جن چیزوں میں نحوست ہے ان کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، فضل بن دکین ہشام بن سعد ابی حازم سہل بن سعد اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Sahl bin Sad with a difterent chain of transmitters.
بد شگونی نیک فال اور جن چیزوں میں نحوست ہے ان کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يُخْبِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ کَانَ فِي شَيْئٍ فَفِي الرَّبْعِ وَالْخَادِمِ وَالْفَرَسِ
اسحاق بن ابراہیم، عبداللہ بن حارث ابن جریج، ابوزبیر، جابر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی تو وہ مکان، خادم اور گھوڑے میں ہوتی۔
Jabir reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: If bad luck were to be in anything, it is found in the land, in the servant and in the horse.
کہانت اور کاہنوں کے پاس جانے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَکَمِ السُّلَمِيِّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُمُورًا کُنَّا نَصْنَعُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ کُنَّا نَأْتِي الْکُهَّانَ قَالَ فَلَا تَأْتُوا الْکُهَّانَ قَالَ قُلْتُ کُنَّا نَتَطَيَّرُ قَالَ ذَاکَ شَيْئٌ يَجِدُهُ أَحَدُکُمْ فِي نَفْسِهِ فَلَا يَصُدَّنَّکُمْ
ابوطاہر حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب ابوسلمہ ابن عبدالرحمن بن عوف حضرت معاویہ (رض) بن حکم سلمی سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ایسی بہت ساری باتیں ہیں جنہیں ہم زمانہ جاہلیت میں سر انجام دیتے تھے ہم کاہنوں کے پاس جاتے تھے آپ ﷺ نے فرمایا تم کاہنوں کے پاس مت جاؤ میں نے عرض کیا ہم بدفالی لیا کرتے تھے آپ ﷺ نے فرمایا یہ وہ چیز ہے جسے تم میں سے کوئی اپنے دل میں محسوس کرتا ہے یہ خیال آنا تمہیں کسی کام سے نہ روکے۔
Muawiyah bin al-Hakam as-Sulami reported: I said: Messenger of Allah, there were things we used to do in the pre-Islamic days. We used to visit Kahins, whereupon he said: Dont visit Kahins. I said: We used to take omens. He said: That is a sort of personal whim of yours, so let it not prevent you (from doing a thing).
کہانت اور کاہنوں کے پاس جانے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنِي حُجَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ عِيسَی أَخْبَرَنَا مَالِکٌ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَی حَدِيثِ يُونُسَ غَيْرَ أَنَّ مَالِکًا فِي حَدِيثِهِ ذَکَرَ الطِّيَرَةَ وَلَيْسَ فِيهِ ذِکْرُ الْکُهَّانِ
محمد بن رافع حجین ابن مثنی لیث، عقیل اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید عبد الرزاق معمر، ابوبکر بن ابی شیبہ، شبابہ بن سوار ابن ابی ذئب محمد بن رافع اسحاق بن عیسیٰ مالک زہری، ان چار اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔ لیکن امام مالک (رح) نے اپنی روایت میں بدفالی کا ذکر کیا ہے اور کاہنوں کا ذکر نہیں کیا۔
This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri with a slight variation of wording.
کہانت اور کاہنوں کے پاس جانے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَکَمِ السُّلَمِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ مُعَاوِيَةَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ قَالَ قُلْتُ وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ قَالَ کَانَ نَبِيٌّ مِنْ الْأَنْبِيَائِ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاکَ
محمد بن صباح ابوبکر بن ابی شیبہ، اسماعیل ابن علیہ، حجاج صواف اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اوزاعی یحییٰ بن ابی کثیر، ہلال بن ابی میمونہ عطاء بن یسار ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے اور اضافہ یہ ہے کہ حضرت معاویہ بن حکم سلمی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہم میں سے بعض آدمی علم جفر کے خطوط کھینچا کرتے تھے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا انبیاء (علیہم السلام) میں سے ایک نبی خطوط کھینچا کرتے تھے جو ان کے طریقہ کے مطابق خط کھینچے وہ حق ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Muawiyah bin Hakam as-Sulami through another chain of transmitters. The hadith transmitted on the authority of Yahya bin Abu Kathir (there is an addition of these words): I said: Among us there are men who draw lines and thus make divination. What about this? Thereupon he (the Holy Prophet) said: There was a Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who drew lines, so whose lines agree with his line for him it is allowable.
کہانت اور کاہنوں کے پاس جانے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ يَحْيَی بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْکُهَّانَ کَانُوا يُحَدِّثُونَنَا بِالشَّيْئِ فَنَجِدُهُ حَقًّا قَالَ تِلْکَ الْکَلِمَةُ الْحَقُّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ فَيَقْذِفُهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ وَيَزِيدُ فِيهَا مِائَةَ کَذْبَةٍ
عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، یحییٰ بن عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! کاہن ہمیں بعض چیزیں بیان کرتے تھے جنہیں ہم ویسا ہی پاتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ ایک سچی بات ہوتی ہے جس کو کوئی جن اچک لیتا ہے پھر اسے اپنے ولی کے کان میں ڈال دیتا ہے اور وہ کاہن اس میں سو جھوٹ کی زیادتی کردیتا ہے۔
Aisha reported: I said: Allahs Messenger, the kahins used to tell us about things (unseen) and we found them to be true. Thereupon he said: That is a word pertaining to truth which a jinn snatches and throws into the ear of his friend, and makes an addition of one hundred lies to it.
کہانت اور کاہنوں کے پاس جانے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي يَحْيَی بْنُ عُرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ يَقُولُ قَالَتْ عَائِشَةُ سَأَلَ أُنَاسٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْکُهَّانِ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسُوا بِشَيْئٍ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ أَحْيَانًا الشَّيْئَ يَکُونُ حَقًّا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْکَ الْکَلِمَةُ مِنْ الْجِنِّ يَخْطَفُهَا الْجِنِّيُّ فَيَقُرُّهَا فِي أُذُنِ وَلِيِّهِ قَرَّ الدَّجَاجَةِ فَيَخْلِطُونَ فِيهَا أَکْثَرَ مِنْ مِائَةِ کَذْبَةٍ
سلمہ بن شبیب حسن بن اعین معقل ابن عبیداللہ زہری، یحییٰ ابن عروہ عروہ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ صحابہ کرام (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے کاہنوں کے بارے میں پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا وہ کچھ نہیں ہیں انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول بعض اوقات وہ کوئی ایسی بات بیان کرتے ہیں جو سچی ہوجاتی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ سچی بات وہ ہوتی ہے جو جن (فرشتوں سے سن کر) بھاگ جاتا ہے اور اپنے ولی یعنی کاہن کے کان میں مرغ کی آواز کی طرح لے جا کر ڈال دیتا ہے پھر وہ کاہن اس سچی بات میں سو سے زیادہ جھوٹ ملا دیتے ہیں۔
Urwa reported from Aisha that she said that people asked Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) about the kahins. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to them: It is nothing (i. e. it is a mere superstition). They said: Allahs Messenger, they at times narrate to us things which we find true. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: That is a word pertaining to truth which a jinn snatches away and then cackles into the ear of his friend as the hen does. And then they mix in it more than one hundred lies.
کہانت اور کاہنوں کے پاس جانے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ رِوَايَةِ مَعْقِلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ
ابوطاہر عبداللہ بن وہب، محمد بن عمرو ابن جریج، ابن شہاب معقل زہری، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters.
کہانت اور کاہنوں کے پاس جانے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ حَسَنٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَقَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْأَنْصَارِ أَنَّهُمْ بَيْنَمَا هُمْ جُلُوسٌ لَيْلَةً مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُمِيَ بِنَجْمٍ فَاسْتَنَارَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاذَا کُنْتُمْ تَقُولُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا رُمِيَ بِمِثْلِ هَذَا قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ کُنَّا نَقُولُ وُلِدَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ عَظِيمٌ وَمَاتَ رَجُلٌ عَظِيمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّهَا لَا يُرْمَی بِهَا لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَکِنْ رَبُّنَا تَبَارَکَ وَتَعَالَی اسْمُهُ إِذَا قَضَی أَمْرًا سَبَّحَ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ثُمَّ سَبَّحَ أَهْلُ السَّمَائِ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ حَتَّی يَبْلُغَ التَّسْبِيحُ أَهْلَ هَذِهِ السَّمَائِ الدُّنْيَا ثُمَّ قَالَ الَّذِينَ يَلُونَ حَمَلَةَ الْعَرْشِ لِحَمَلَةِ الْعَرْشِ مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ فَيُخْبِرُونَهُمْ مَاذَا قَالَ قَالَ فَيَسْتَخْبِرُ بَعْضُ أَهْلِ السَّمَاوَاتِ بَعْضًا حَتَّی يَبْلُغَ الْخَبَرُ هَذِهِ السَّمَائَ الدُّنْيَا فَتَخْطَفُ الْجِنُّ السَّمْعَ فَيَقْذِفُونَ إِلَی أَوْلِيَائِهِمْ وَيُرْمَوْنَ بِهِ فَمَا جَائُوا بِهِ عَلَی وَجْهِهِ فَهُوَ حَقٌّ وَلَکِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ
حسن بن علی حلوانی، عبد بن حمید، حسن، یعقوب، عبد بن حمید، یعقوب بن ابراہیم سعد، ابوصالح، ابن شہاب، علی بن حسین، حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ مجھے اصحاب نبی ﷺ سے ایک انصاری نے خبر دی کہ وہ ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک ستارہ پھینکا گیا اور روشنی پھیل گئی تو صحابہ (رض) سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم جاہلیت میں کیا کہا کرتے تھے جب کوئی ستارہ اس طرح پھینکا جاتا تھا ؟ انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں ہم کہا کرتے تھے کہ اس رات کوئی بڑا آدمی پیدا کیا گیا ہے اور کوئی بڑا آدمی مرگیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان ستاروں کو کسی کی موت یا حیات کی وجہ سے نہیں پھینکا جاتا بلکہ ہمارا پروردگار جب کسی امر کا فیصلہ کرتا ہے تو حاملین عرش فرشتے اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں پھر جو ان کے قریب آسمان والوں میں سے ہیں وہ اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں یہاں تک کہ یہ تسبیح آسمانِ دنیا والوں تک پہنچتی ہے پھر حاملین عرش سے قریب والے حاملین عرش سے کہتے ہیں تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے ؟ پس وہ انہیں اللہ کے حکم کی خبر دیتے ہیں پھر آسمانوں کے دوسرے فرشتے بھی ایک دوسرے کو اس کی خبر دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ خبر آسمان دنیا تک پہنچتی ہے پھر جن اس سنی ہوئی بات کو اچک لیتے ہیں اور اسے اپنے دوستوں یعنی کاہنوں کے کانوں میں ڈال دتیے ہیں اور ان کو اس کی اطلاع دیتے ہیں اب جو خبر کماحقہ لاتے ہیں وہ سچی ہوتی ہے مگر یہ اسے خلط ملط کردیتے ہیں اور اس میں اپنی مرضی سے کچھ اضافہ کردیتے ہیں۔
Abdullah. Ibn Abbas reported: A person from the Ansar who was amongst the Companions of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) reported to me: As we were sitting during the night with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , a meteor shot gave a dazzling light. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: What did you say in the pre-Islamic days when there was such a shot (of meteor)? They said: Allah and His Messenger know best (the actual position), but we, however, used to say that that very night a great man had been born and a great man had died, whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: (These meteors) are shot neither at the death of anyone nor on the birth of anyone. Allah, the Exalted and Glorious, issues Command when He decides to do a thing. Then (the Angels) supporting the Throne sing His glory, then sing the dwellers of heaven who are near to them until this glory of God reaches them who are in the heaven of this world. Then those who are near the supporters of the Throne ask these supporters of the Throne: What has your Lord said? And they accordingly inform them what He says. Then the dwellers of heaven seek information from them until this information reaches the heaven of the world. In this process of transmission (the jinn snatches) what he manages to overhear and he carries it to his friends. And when the Angels see the jinn they attack them with meteors. If they narrate only which they manage to snatch that is correct but they alloy it with lies and make additions to it.
کہانت اور کاہنوں کے پاس جانے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ ح و حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ يُونُسَ قَالَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْأَنْصَارِ وَفِي حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ وَلَکِنْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ وَلَکِنَّهُمْ يَرْقَوْنَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ يُونُسَ وَقَالَ اللَّهُ حَتَّی إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ قَالُوا الْحَقَّ وَفِي حَدِيثِ مَعْقِلٍ کَمَا قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ وَلَکِنَّهُمْ يَقْرِفُونَ فِيهِ وَيَزِيدُونَ
زہیر بن حرب، ولید بن مسلم، ابوعمرو اوزاعی ابوطاہر حرملہ ابن وہب، یونس سلمہ بن شبیب حسن بن اعین معقل ابن عبیداللہ زہری، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے بعض انصار نے اسی طرح خبر دی اضافہ یہ ہے کہ یہاں تک کہ جب فرشتوں کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے تو وہ کہتے ہیں تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا وہ کہتے ہیں اس نے سچ فرمایا ہے اور کہا کہ وہ کاہن اس میں رد و بدل اور زیادتی کردیتے ہیں باقی حدیث اسی طرح ہے۔
The hadith has been narrated on the authority of Zuhri through the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
کہانت اور کاہنوں کے پاس جانے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ صَفِيَّةَ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَتَی عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْئٍ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً
محمد بن مثنی عنزی یحییٰ بن سعید عبیداللہ نافع صفیہ بعض ازواج مطہرات سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس نے کسی عراف کے پاس جا کر اس سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا تو اس کی چالیس رات (یعنی دنوں) کی نمازیں قبول نہیں ہوتی۔
Safiyya reported from some of the wives of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) having said: He who visits a diviner (Arraf) and asks him about anything, his prayers extending to forty nights will not be accepted.
جذامی سے پرہیز کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَرِيکُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ عَنْ يَعْلَی بْنِ عَطَائٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا قَدْ بَايَعْنَاکَ فَارْجِعْ
یحییٰ بن یحیی، ہشیم ابوبکر بن ابی شیبہ، شریک بن عبداللہ ہشیم بن بشیر یعلی بن عطاء، حضرت عمرو بن شرید (رح) اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ثقیف کے وفد میں ایک جذامی آدمی تھا تو نبی ﷺ نے اس کی طرف پیغام بھیجا کہ ہم نے تیری بیعت کرلی ہے تم واپس لوٹ جاؤ۔
Amr bin Sharid reported on the authority of his father that there was in the delegation of Thaqif a leper. Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sent a message to him: We have accepted your allegiance, so you may go.
سانپوں وغیرہ کو مارنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ فَإِنَّهُ يَلْتَمِسُ الْبَصَرَ وَيُصِيبُ الْحَبَلَ
سیدہ ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان ابن نمیر، ہشام ابوکریب عبدہ ہشام سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سانپ کو مارنے کا حکم دیا تھا جو دو دھاریوں والا ہو کیونکہ یہ سانپ بصارت کو غائب کردیتا اور حمل گرا دیتا ہے۔
Aisha reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) commanded the killing of a snake having stripes over it, for it affects eyesight and miscarries pregnancy.
سانپوں وغیرہ کو مارنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ الْأَبْتَرُ وَذُو الطُّفْيَتَيْنِ
اسحاق بن ابراہیم، ابومعاویہ ہشام اس سند سے بھی یہ حدیث منقول ہے لیکن اس دم میں دو دھاریوں والے دو قسم کے سانپوں کا ذکر ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Hisham. He said: The short-tailed snake and the snake having stripes over it should be killed.
سانپوں وغیرہ کو مارنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ وَيَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ قَالَ فَکَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقْتُلُ کُلَّ حَيَّةٍ وَجَدَهَا فَأَبْصَرَهُ أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يُطَارِدُ حَيَّةً فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ نُهِيَ عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ
عمرو بن محمد ناقد سفیان بن عیینہ، زہری، سالم حضرت ابن عمر (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا سانپوں کو مار ڈالو خصوصا دو دھاریوں والے اور دم کٹے ہوئے کیونکہ یہ دونوں حمل کو ضائع کردیتے ہیں اور آنکھ کی بینائی کو زائل کردیتے ہیں اور ابن عمر (رض) جس سانپ کو بھی پاتے مار ڈالتے تھے ایک مرتبہ انہیں ابولبابہ بن عبدالمنذر یا زید بن خطاب نے دیکھا کہ وہ سانپ کا پیچھا کر رہے ہیں تو کہا گھریلو سانپ کو مارنے سے منع کیا گیا ہے۔
Salim, on the authority of his father. reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Kill the snakes having stripes over them and short-tailed snakes, for these two types cause miscarriage (of a pregnant woman) and they affect the eyesight adversely. So Ibn Umar used to kill every snake that he found. Abu Lubaba bin Abdul Mundhir and Zaid bin Khattab saw him pursuing a snake, whereupon he said: They were forbidden (to kill) those snakes who live in houses.
سانپوں وغیرہ کو مارنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ الزُّبَيْدِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْکِلَابِ يَقُولُ اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَالْکِلَابَ وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَالَی قَالَ الزُّهْرِيُّ وَنُرَی ذَلِکَ مِنْ سُمَّيْهِمَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ قَالَ سَالِمٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَلَبِثْتُ لَا أَتْرُکُ حَيَّةً أَرَاهَا إِلَّا قَتَلْتُهَا فَبَيْنَا أَنَا أُطَارِدُ حَيَّةً يَوْمًا مِنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ مَرَّ بِي زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ أَوْ أَبُو لُبَابَةَ وَأَنَا أُطَارِدُهَا فَقَالَ مَهْلًا يَا عَبْدَ اللَّهِ فَقُلْتُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِنَّ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَی عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ
حاجب بن ولید محمد بن حرب زبیدی زہری، سالم بن عبداللہ، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کو کتوں کے مارنے کا حکم دیتے ہوئے سنا آپ ﷺ نے فرمایا سانپوں اور کتوں کو مار ڈالو بالخصوص دو دھاریوں والے اور دم بریدہ کو مارو کیونکہ وہ دونوں بصارت زائل کردیتے ہیں اور حاملہ عورت کے حمل گرا دیتے ہیں۔ زہری (رح) نے کہا ہمارے خیال میں یہ ان کے زہر کے اثر کی وجہ سے ہے اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے سالم نے کہا ابن عمر (رض) نے کہا ایک عرصہ تک میں جو بھی سانپ دیکھتا تو اسے مارے بغیر نہ چھوڑتا تھا ایک مرتبہ میں ایک دن گھریلو سانپ کے پیچھے دوڑ رہا تھا کہ میرے پاس سے زید بن خطاب یا لبابہ گزرے تو انہوں نے کہا ٹھہر جاؤ اے عبداللہ میں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا ہے انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے گھریلو سانپوں کو مارنے سے منع بھی فرمایا ہے۔
Ibn Umar reported: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) commanding the killing of dogs and the killing of the striped and the short-tailed snakes, for both of them affect the eyesight adversely and cause miscarriage. Zuhri said: We thought of their poison (the pernicious effects of these two). Allah, however, knows best. Abdullah bin Umar said: I did not spare any snake. I rather killed everyone that I saw. One day as I was pursuing a snake from amongst the snakes of the house, Zaid bin Khattab or Abu Lubaba happened to pass by me and found me pursuing it. He said: Abdullah, wait. I said: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) commanded (us) to kill them, whereupon he said that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) forbade the killing of the snakes of the houses.
سانپوں وغیرہ کو مارنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ صَالِحًا قَالَ حَتَّی رَآنِي أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ وَزَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَا إِنَّهُ قَدْ نَهَی عَنْ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ وَفِي حَدِيثِ يُونُسَ اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَلَمْ يَقُلْ ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ
حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس عبدل بن حمید عبدالرزاق، معمر، حسن حلوانی یعقوب ابوصالح زہری، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے کہ اس میں یہ ہے کہ ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ مجھے ابولبابہ بن عبدالمنذر اور زید بن خطاب نے دیکھا تو دونوں نے کہا آپ ﷺ نے گھریلوں سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے اور یونس کی حدیث میں ہے کہ سانپوں کو قتل کرو اور انہوں نے دو دھاریوں والے اور دم بریدہ کا ذکر نہیں کیا
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.