طاعون بدفالی اور کہانت وغیرہ کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لِأَبِي الطَّاهِرِ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ حِينَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا عَدْوَی وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَکُونُ فِي الرَّمْلِ کَأَنَّهَا الظِّبَائُ فَيَجِيئُ الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيَدْخُلُ فِيهَا فَيُجْرِبُهَا کُلَّهَا قَالَ فَمَنْ أَعْدَی الْأَوَّلَ
ابوطاہر، حرملہ، ابوطاہر، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابوسلمہ، عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مرض کے متعدی ہونے اور صفر کی نحوست اور ہامہ کی کوئی حقیقت نہیں تو ایک دیہاتی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا وجہ ہے کہ اونٹ ریت میں ہر نوں کی طرح صاف ہوتے ہیں پھر ان میں کوئی خارش زدہ اونٹ آتا ہے جو ان اونٹوں کو بھی خارش زدہ کردیتا ہے آپ ﷺ نے فرمایا پہلے اونٹ کو بیماری لگانے والا کون ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There is no infection, no safar, no hama. A desert Arab said: Allahs Messenger, how is it that when the camel is in the sand it is like a deer-then a camel afflicted with scab mixes with it and it is affected by sub? He (the Holy Prophet) said: Who infected the first one?
مرض کے متعدی ہونے بد شگونی ہامہ صفر ستارے اور غول وغیرہ کی کوئی حقیقت نہ ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَغَيْرُهُ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَی وَلَا طِيَرَةَ وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ
محمد بن حاتم، حسن حلوانی یعقوب ابن ابراہیم بن سعد ابوصالح ابن شہاب سلمہ بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مرض کے متعدی ہونے کی کوئی اصل نہیں اور نہ بدشگونی صفر اور الو کی نحوست کی کوئی اصل ہے ایک اعرابی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول۔ باقی حدیث گزر چکی ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There is no transitive disease, no evil omen, no safar, no hama. A desert Arab said: Allahs, Messenger.... The rest of the hadith is the same.
مرض کے متعدی ہونے بد شگونی ہامہ صفر ستارے اور غول وغیرہ کی کوئی حقیقت نہ ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ عَنْ شُعَيْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا عَدْوَی فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ وَصَالِحٍ وَعَنْ شُعَيْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَی وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابویمان شعیب زہری، سنان ابن ابی سنان دولی، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا مرض متعدی نہیں ہوتا ایک دیہاتی نے عرض کیا باقی حدیث گزر چکی سائب کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا مرض کے متعدی ہونے صفر اور ہامہ کی کوئی حقیقت نہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There is no transitive disease. Thereupon a desert Arab stood up. The rest of the hadith is the same and in the hadith transmitted on the authority of Zuhri the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is reported to have said: There is no transitive disease, no safar, no hama.
مرض کے متعدی ہونے بد شگونی ہامہ صفر ستارے اور غول وغیرہ کی کوئی حقیقت نہ ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَی وَيُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَی مُصِحٍّ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ کَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُهُمَا کِلْتَيْهِمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَمَتَ أَبُو هُرَيْرَةَ بَعْدَ ذَلِکَ عَنْ قَوْلِهِ لَا عَدْوَی وَأَقَامَ عَلَی أَنْ لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَی مُصِحٍّ قَالَ فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ قَدْ کُنْتُ أَسْمَعُکَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ تُحَدِّثُنَا مَعَ هَذَا الْحَدِيثِ حَدِيثًا آخَرَ قَدْ سَکَتَّ عَنْهُ کُنْتَ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا عَدْوَی فَأَبَی أَبُو هُرَيْرَةَ أَنْ يَعْرِفَ ذَلِکَ وَقَالَ لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَی مُصِحٍّ فَمَا رَآهُ الْحَارِثُ فِي ذَلِکَ حَتَّی غَضِبَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَرَطَنَ بِالْحَبَشِيَّةِ فَقَالَ لِلْحَارِثِ أَتَدْرِي مَاذَا قُلْتُ قَالَ لَا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قُلْتُ أَبَيْتُ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ وَلَعَمْرِي لَقَدْ کَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَی فَلَا أَدْرِي أَنَسِيَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَوْ نَسَخَ أَحَدُ الْقَوْلَيْنِ الْآخَرَ
ابو طاہر حرملہ ابن وہب، یونس ابن شہاب، حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مرض متعدی نہیں ہوتا اور یہ حدیث روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مریض کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے ابوسلمہ نے کہا حضرت ابوہریرہ (رض) ان دونوں حدیثوں کو رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے تھے پھر حضرت ابوہریرہ (رض) آپ ﷺ کے قول مرض متعدی نہیں ہوتا سے اس کے بعد خاموشی اختیار کرلی اور اس حدیث پر کہ مریض کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے پر قائم رہے حارث بن ابی ذہاب نے کہا اے ابوہریرہ ! میں نے آپ سے سنا کہ آپ اس حدیث کے ساتھ ایک دوسری حدیث روایت کرتے تھے آپ کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مرض متعدی نہیں ہوتا تو حضرت ابوہریرہ (رض) نے اس حدیث کے جاننے سے انکار کردیا اور کہا مریض کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے حارث اس بات پر مطمئن نہ ہوئے یہاں تک کہ حضرت ابوہریرہ (رض) ناراض ہوگئے اور حبشی زبان میں انہیں کچھ کہا پھر حارث سے کہا کیا تم جانتے ہو میں نے کیا کہا تھا انہوں نے کہا نہیں ابوہریرہ (رض) نے کہا میں نے کہا ہے کہ مجھے انکار ہے ابوسلمہ نے کہا مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے حضرت ابوہریرہ (رض) ہم سے حدیث روایت کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مرض متعدی نہیں ہوتا میں نہیں جانتا کہ حضرت ابوہریرہ (رض) بھول چکے ہیں یا ان دونوں قولوں میں سے ایک نے دوسرے کو منسوخ کردیا۔
Abu Salama bin Abdul Rahman bin Auf reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There is no transitive disease, but he is also reported to have said: A sick person should not be taken to one who is healthy. Abu Salama said that Abu Hurairah (RA) used to narrate these two (different ahadith) from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , but afterwards Abu Hurairah (RA) became silent on these words: "There is no transitive disease," but he stuck to this that the sick person should not be taken to one who is healthy. Harith bin Abu Dhubab (and he was the first cousin of Abu Hurairah (RA) ) said: Abu Hurairah (RA) , I used to hear from you that you narrated to us along with this hadith and the other one also (there is no transitive disease), but now you observe silence about it. You used to say that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: There is no transitive disease. Abu Hurairah (RA) denied having any knowledge of that, but he said that the sick camel should not be taken to the healthy one. Harith, however, did not agree with him, which irritated Abu Hurairah (RA) and he said to him some words in the Abyssinian language. He said to Harith (RA) : Do you know what I said to you? He said: No. Abu Hurairah (RA) said: I simply denied having said it. Abu Salama sad: By my life, Abu Hurairah (RA) in fact used to report Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) having said: There is no transitive disease. I do not know whether Abu Hurairah (RA) has forgotten it or he deemed it an abrogated statement in the light of the other one.
مرض کے متعدی ہونے بد شگونی ہامہ صفر ستارے اور غول وغیرہ کی کوئی حقیقت نہ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِي و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنُونَ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَی وَيُحَدِّثُ مَعَ ذَلِکَ لَا يُورِدُ الْمُمْرِضُ عَلَی الْمُصِحِّ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ
محمد بن حاتم، حسن حلوانی عبد بن حمید عبد یعقوب ابن ابراہیم، سعد ابوصالح ابن شہاب ابوسلمہ بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا اور وہ اس کے ساتھ یہ حدیث بھی روایت کرتے تھے مریض کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There is no transitive disease and he also reported along with it: The ill should not be taken to the healthy.
مرض کے متعدی ہونے بد شگونی ہامہ صفر ستارے اور غول وغیرہ کی کوئی حقیقت نہ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَاه عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابویمان شعیب زہری، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters.
مرض کے متعدی ہونے بد شگونی ہامہ صفر ستارے اور غول وغیرہ کی کوئی حقیقت نہ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَی وَلَا هَامَةَ وَلَا نَوْئَ وَلَا صَفَرَ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن حجر اسماعیل ابن جعفر علاء، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا اور نہ الو میں نحوست ہے اور نہ ستارے کی کوئی اصل ہے اور نہ صفر کی نحوست کی کوئی بنیاد ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There is no transitive disease, no huma, no star promising rain, no safar.
مرض کے متعدی ہونے بد شگونی ہامہ صفر ستارے اور غول وغیرہ کی کوئی حقیقت نہ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا عَدْوَی وَلَا طِيَرَةَ وَلَا غُولَ
احمد بن یونس زہیر ابوزبیر، جابر، یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ ابوزبیر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مرض کے متعدی ہونے ، بد شگونی اور غول کی کوئی حقیقت واصل نہیں ہے۔
Jabir reported Allals Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There is no transitive disease, no ill omen, no ghoul.
مرض کے متعدی ہونے بد شگونی ہامہ صفر ستارے اور غول وغیرہ کی کوئی حقیقت نہ ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ التُّسْتَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا عَدْوَی وَلَا غُولَ وَلَا صَفَرَ
عبداللہ بن ہاشم بن حیان بہز یزید ابوزبیر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مرض کے متعدی ہونے، غول اور صفر کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
Jabir reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There is no transitive disease, no ghoul, no safar.
مرض کے متعدی ہونے بد شگونی ہامہ صفر ستارے اور غول وغیرہ کی کوئی حقیقت نہ ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا عَدْوَی وَلَا صَفَرَ وَلَا غُولَ وَسَمِعْتُ أَبَا الزُّبَيْرِ يَذْکُرُ أَنَّ جَابِرًا فَسَّرَ لَهُمْ قَوْلَهُ وَلَا صَفَرَ فَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ الصَّفَرُ الْبَطْنُ فَقِيلَ لِجَابِرٍ کَيْفَ قَالَ کَانَ يُقَالُ دَوَابُّ الْبَطْنِ قَالَ وَلَمْ يُفَسِّرْ الْغُولَ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ هَذِهِ الْغُولُ الَّتِي تَغَوَّلُ
محمد بن حاتم، روح بن عبادہ، ابن جریج، ابوزبیر، جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے مرض کے متعدی ہونے، صفر اور غول کی کوئی حقیقت نہیں ابوزبیر کہتے ہیں کہ حضرت جابر (رض) نے انہیں صفر کی تفسیر یہ بیان کی کہ صفر سے مراد پیٹ ہے حضرت جابر (رض) سے کہا گیا پیٹ کا کیا مطلب انہوں نے کہا پیٹ کے کیڑوں کو صفر کہا جاتا تھا اور انہوں نے غول کی تفسیر نہیں بتائی ابوزبیر نے کہا غول سے مراد وہ ہے جو مسافروں کو راستہ سے بھٹکا دیتا ہے۔
Jabir bin Abdullah reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There is no transitive disease, no safar, no ghoul. He (the narrator) said: I heard Abu Zubair say: Jabir explained for them the word safar. Abu Zubair said: safar means belly. It was said to Jabir: Why is it so? He said that it was held that safar implied the worms of the belly, but he gave no explanation of ghoul. Abu Zubair said: Ghoul is that which kills the travellers.
بد شگونی نیک فال اور جن چیزوں میں نحوست ہے ان کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا طِيَرَةَ وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْفَأْلُ قَالَ الْکَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُکُمْ
عبد بن حمید عبدالرزاق، معمر، زہری، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے بد شگونی کی کوئی حقیقت نہیں اور نیک شگون فال ہے عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول ﷺ نیک شگون کیا ہے فرمایا اچھی بات جسے تم میں سے کوئی سنے۔
Abu Hurairah (RA) reported: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There is no divination but the best type is the good omen. It was said to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : What is good omen? Thereupon he said: A good word which one of you hears.
بد شگونی نیک فال اور جن چیزوں میں نحوست ہے ان کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ح و حَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَفِي حَدِيثِ عُقَيْلٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُ وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَا قَالَ مَعْمَرٌ
عبدالملک بن شعیب بن لیث، عقیل بن خالد عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابویمان شعیب زہری، ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
بد شگونی نیک فال اور جن چیزوں میں نحوست ہے ان کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَی وَلَا طِيَرَةَ وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ الْکَلِمَةُ الْحَسَنَةُ الْکَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ
ہداب بن خالد ہمام بن یحییٰ قتادہ، انس، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا اور نہ بدشگونی کی کوئی حقیقت ہے البتہ فال یعنی اچھی بات اور عمدہ گفتگو مجھے پسند ہے۔
Anas reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There is no transitive disease, no divination, but good omen pleases me, i. e. the good word or a good word.
بد شگونی نیک فال اور جن چیزوں میں نحوست ہے ان کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَی وَلَا طِيَرَةَ وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ قَالَ قِيلَ وَمَا الْفَأْلُ قَالَ الْکَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ
محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، انس بن مالک، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا اور نہ بد شگونی کی کوئی اصل ہے اور مجھے نیک شگونی پسند ہے عرض کیا گیا فال کیا ہے ارشاد فرمایا پاکیزہ اور عمدہ بات۔
Anas bin Malik (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There is no transitive disease, no divination, but good omen pleases me. It was said: What is good omen? He said: Sacred words.
بد شگونی نیک فال اور جن چیزوں میں نحوست ہے ان کے بیان میں
و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنِي مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ عَتِيقٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا عَدْوَی وَلَا طِيَرَةَ وَأُحِبُّ الْفَأْلَ الصَّالِحَ
حجاج بن شاعر، معلی بن اسد عبدالعزیز بن مختار یحییٰ بن عتیق محمد بن سیرین حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا نہ کوئی مرض متعدی ہوتا ہے نہ بد شگونی کی اصل ہے اور مجھے نیک فال پسند ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There is no transitive disease, no divination, but I like good words.
بد شگونی نیک فال اور جن چیزوں میں نحوست ہے ان کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا عَدْوَی وَلَا هَامَةَ وَلَا طِيَرَةَ وَأُحِبُّ الْفَأْلَ الصَّالِحَ
زہیر بن حرب، یزید بن ہارون، ہشام بن حسان محمد بن سیرین ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا اور نہ الو اور بد شگونی کی کوئی اصل ہے اور میں نیک فال کو پسند کرتا ہوں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There is no transitive disease, no hama, no divination, but I like good omen.
بد شگونی نیک فال اور جن چیزوں میں نحوست ہے ان کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حَمْزَةَ وَسَالِمٍ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب مالک بن انس، یحییٰ بن یحیی، مالک ابن شہاب حمزہ اور سالم عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گھر عورت اور گھوڑے میں نحوست ہے۔
Abdullah bin Umar reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: If there be bad luck, it is in the house, and the wife, and the horse.
بد شگونی نیک فال اور جن چیزوں میں نحوست ہے ان کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حَمْزَةَ وَسَالِمٍ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَی وَلَا طِيَرَةَ وَإِنَّمَا الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثَةٍ الْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ وَالدَّارِ
ابوطاہر، حرملہ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حمزہ، سالم، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا اور نہ بد شگونی کی کوئی حقیقت ہے اور نحوست تین میں ہوسکتی ہے عورت گھوڑا اور مکان۔
Abdullah bin Umar reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying. There is no transitive disease, no ill omen, and bad luck is found in the house, or wife or horse.
بد شگونی نیک فال اور جن چیزوں میں نحوست ہے ان کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ وَحَمْزَةَ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ وَحَمْزَةَ ابْنَيْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ح و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَقَ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشُّؤْمِ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِکٍ لَا يَذْکُرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ الْعَدْوَی وَالطِّيَرَةَ غَيْرُ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ
ابن ابی عمر سفیان، زہری، سالم حمزہ عبداللہ، (دوسری سند) یحییٰ بن یحیی، عمرو ناقد زہیر بن حرب، سفیان، زہری، سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں اور وہ نبی ﷺ سے (تیسری سند) یعقوب بن ابراہیم بن سعد، ابوصالح ابن شہاب سالم اور حمزہ، ابن عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عمر۔ (چوتھی سند) عبدالملک بن شعیب بن لیث بن سعد وہ روایت کرتے ہیں اپنے والد سے اور ان کے والد اپنے والد سے، عقیل بن خالد (پانچویں سند) یحییٰ بن یحیی، بشر بن مفضل عبدالرحمن بن اسحاق۔ (چھٹی سند) عبداللہ بن عبدالرحمن درامی، ابویمان، شعیب، زہری، سالم اپنے والد سے اور وہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔ (ان چھ اسناد سے بھی) (نحوست کے بارے میں مالک کی حدیث کی مثل ان میں سے کسی نے ذکر نہیں کیا) اور حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ کوئی مرض متعدی نہیں ہوتا اور بد شگونی کی کوئی حقیقت نہیں۔
This hadith has been reported on the authority of Zuhri with other chains of transmitters but with slight variations of wording.
بد شگونی نیک فال اور جن چیزوں میں نحوست ہے ان کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنْ يَکُنْ مِنْ الشُّؤْمِ شَيْئٌ حَقٌّ فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالدَّارِ
احمد بن عبداللہ بن حکم محمد بن جعفر، شعبہ، عمر بن محمد بن زید حضرت ابن عمر (رض) نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اگر نحوست کا کسی چیز میں ہونا ثابت ہوتا تو وہ گھوڑے، عورت اور مکان میں ہوتی۔
Umar bin Muhammad bin Zaid reported that he heard his father narrating from Ibn Umar that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had said. If bad luck is a fact, then it is in the horse, the woman and the house.