قتل کے اقرار کی صحت اور مقتول کے ولی کو حق قصاص اور اس سے معافی طلب کرنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَتَلَ رَجُلًا فَأَقَادَ وَلِيَّ الْمَقْتُولِ مِنْهُ فَانْطَلَقَ بِهِ وَفِي عُنُقِهِ نِسْعَةٌ يَجُرُّهَا فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ فَأَتَی رَجُلٌ الرَّجُلَ فَقَالَ لَهُ مَقَالَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَلَّی عَنْهُ قَالَ إِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِحَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ فَقَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَشْوَعَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا سَأَلَهُ أَنْ يَعْفُوَ عَنْهُ فَأَبَی
محمد بن حاتم، سعید بن سلیمان، ہشیم، اسماعیل بن سالم، حضرت علقمہ بن وائل (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے ایک آدمی کو قتل کیا تھا اور مقتول کا وارث اسے کھینچ کر اس حالت میں لے چلا کہ اس کی گردن میں تسمہ تھا جس سے اسے گھسیٹتا تھا۔ جب اس نے پیٹھ پھیری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہیں۔ پس ایک آدمی وراث مقتول کے پاس آیا اسے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد بتایا تو اس نے قاتل کو چھوڑ دیا۔ اسماعیل بن سالم نے کہا میں نے حبیب بن ثابت (رح) سے اس کا ذکر کیا تو اس نے کہا کہ مجھے ابن اشوع نے یہ حدیث بیان کی نبی کریم ﷺ نے وارث مقتول سے معاف کرنے کا کہا تھا تو اس نے انکار کردیا۔
Alaqama bin Wail reported on the authority of his father that a person was brought to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who had killed another person, and the heir of the person slain had dragged him (to the Holy Prophet) with a strap around his neck. As he turned away Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: The killer and the killed are (doomed) to fire. A person came to the other person (the heir of the deceased) and he reported to him the words of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , and so he let him off. Ismail bin Salim said: I made a mention of it to Habib bin Abu Thabit and he said: Ibn Ashwa reported to me that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had asked him to pardon him, but he refused.
حمل کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے وجوب کے بیان
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ مِنْ هُذَيْلٍ رَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَی فَطَرَحَتْ جَنِينَهَا فَقَضَی فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، ابی سلمہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ بنی ہزیل کی دو عورتوں میں سے ایک عورت نے دوسری کو پھینکا (دھکا دیا) تو اس کا بچہ ضائع ہوگیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس میں ایک غلام یا لونڈی بطور تاوان ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا۔
Abu Hurairah (RA) reported that among two women of the tribe of Hudhail one flung a stone upon the other causing an abortion to her. Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may peace he upon him) gave judgment that a male or a female slave of best quality be given as compensation.
حمل کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے وجوب کے بیان
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَضَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَنِينِ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي لَحْيَانَ سَقَطَ مَيِّتًا بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ ثُمَّ إِنَّ الْمَرْأَةَ الَّتِي قُضِيَ عَلَيْهَا بِالْغُرَّةِ تُوُفِّيَتْ فَقَضَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّ مِيرَاثَهَا لِبَنِيهَا وَزَوْجِهَا وَأَنَّ الْعَقْلَ عَلَی عَصَبَتِهَا
قتیبہ بن سعید، لیث، ابن شہاب، ابن مسیب، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی لحیان کی ایک عورت کے حمل کے بچے میں جو مردہ ضائع ہوگیا تھا رسول اللہ ﷺ نے ایک غلام یا لونڈی ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا پھر وہ عورت جس کے خلاف غلام ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا فوت ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ اس کی وراثت اس کی اولاد اور خاوند کے لئے ہوگی اور دیت اس کے خاندان پر ہوگی۔
Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) gave judgment in case of the abortion of a woman of Banu Lihyan (that the offender and near relative should give compensation in the form of) good quality of a slave or a slave-girl. And the woman about whom the judgment was given for compensation died and thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) gave judgment that her inheritance goes to her sons and her husband, and the payment of the blood-wit lies with the family of (one who struck her).
حمل کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے وجوب کے بیان
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ح و حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ اقْتَتَلَتْ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَی بِحَجَرٍ فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا فَاخْتَصَمُوا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ وَقَضَی بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَی عَاقِلَتِهَا وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ فَقَالَ حَمَلُ بْنُ النَّابِغَةِ الْهُذَلِيُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لَا شَرِبَ وَلَا أَکَلَ وَلَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِکَ يُطَلُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هَذَا مِنْ إِخْوَانِ الْکُهَّانِ مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ
ابوطاہر، ابن وہب، حرملہ ابن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابن مسیب، سلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ہذیل کی دو عورتیں لڑ پڑیں ان میں سے ایک نے دوسری کی طرف پتھر پھینکا تو وہ اور جو اس کے پیٹ میں تھا ہلاک ہوگئے انہوں (لواحقین) نے اپنا مقدمہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو رسول اللہ ﷺ نے پیٹ کے بچے کی دیت میں غلام یا لونڈی کا فیصلہ کیا اور عورت کی دیت کا فیصلہ مارنے والی عورت کے خاندان پر دینے کا کیا اور اس کے بیٹے کو اس کا وارث بنایا اور جو ان کے ساتھ ہوں۔ حمل بن نابغہ الہذلی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ﷺ میں اس کا تاوان کیسے ادا کروں ؟ جس نے نہ پیا اور نہ کھایا نہ بولا اور نہ چلایا پس اس طرح کے بچے کی دیت کو ٹالا جاتا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ اپنی قافیہ بندی والی گفتگو کی وجہ سے کاہنوں کا بھائی ہے
Abu Hurairah (RA) reported that two women of the tribe of Hudhail fought with each other and one of them flung a stone at the other, killing her and what was in her womb. The case was brought to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and he gave judgment that the diyat (indemnity) of her unborn child is a male or a female slave of the best quality, and he also decided that the diyat of the woman is to be paid by her relative on the fathers side, and he (the Holy Prophet) made her sons and those who were with them her heirs. Hamal bin al-Nabigha al-Hudhali said: Messenger of Allah, why should I pay blood-wit for one who neither drank, nor ate, nor spoke, nor made any noise; it is like a nonentity (it is, therefore, not justifiable to demand blood-wit for it). Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: He seems to be one of the brothers of soothsavers on account of the rhymed speech which he has composed.
حمل کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے وجوب کے بیان
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ اقْتَتَلَتْ امْرَأَتَانِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَلَمْ يَذْکُرْ وَوَرَّثَهَا وَلَدَهَا وَمَنْ مَعَهُمْ وَقَالَ فَقَالَ قَائِلٌ کَيْفَ نَعْقِلُ وَلَمْ يُسَمِّ حَمَلَ بْنَ مَالِکٍ
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، ابی سلمہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ دو عورتیں لڑ پڑیں۔ باقی حدیث گزر گی لیکن اس حدیث میں یہ ذکر نہیں کہ آپ ﷺ نے اس کے بیٹے اور جو ان کے ساتھ ہوں کو وارث بنایا اور کہا کہنے والے نے ہم دیت کیسے ادا کریں اور حمل بن مالک کا نام نہیں لیا۔
Abu Hurairah (RA) reported that two women fought-the rest of the hadith is the same but herein no mention has been made of: He made her son and those who were with them her heirs. Someone said: Why should we pay blood-wit? And he did not name Hamal bin Malik.
حمل کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے وجوب کے بیان
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ الْخُزَاعِيِّ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ ضَرَبَتْ امْرَأَةٌ ضَرَّتَهَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ وَهِيَ حُبْلَی فَقَتَلَتْهَا قَالَ وَإِحْدَاهُمَا لِحْيَانِيَّةٌ قَالَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْمَقْتُولَةِ عَلَی عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ وَغُرَّةً لِمَا فِي بَطْنِهَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ أَنَغْرَمُ دِيَةَ مَنْ لَا أَکَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِکَ يُطَلُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسَجْعٌ کَسَجْعِ الْأَعْرَابِ قَالَ وَجَعَلَ عَلَيْهِمْ الدِّيَةَ
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، جریر، منصور، ابراہیم، عبید بن نضیلہ خزاعی، حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمہ کی لکڑی سے مارا اس حال میں کہ وہ حاملہ تھی۔ اس نے اسے ہلاک کردیا اور ان میں سے ایک لحیانیہ تھی تو رسول اللہ ﷺ نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے وارثوں پر رکھی اور ایک غلام پیٹ کے بچے کی وجہ سے قاتلہ کے رشتہ داروں میں سے ایک آدمی نے عرض کیا کیا ہم اس کی دیت ادا کریں جس نے نہ کھایا اور نہ پیا اور نہ چیخاچلا۔ پس ایسے بچہ کی دیت نہیں دی جاتی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا یہ دیہاتیوں کی طرح مسجع (بناوٹی) گفتگو کرتا ہے اور ان پر دیت لازم کردی۔
al-Mughirah bin Shubah reported that a woman struck her co-wife with a tent-pole and she was pregnant and she killed her. One of them belonged to the tribe of Lihyan. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) made the relatives of the murderer responsible for the payment of blood-wit on her behalf, and fixed a slave or a female slave as the indemnity for what was in her womb. One of the persons amongst the relatives of the murderer said: Should we pay indemnity for one who, neither ate, nor drank, nor made any noise, who was just like a nonentity? Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) remarked: He speaks rhymed phrases like the people of the desert. He did impose indemnity upon them.
حمل کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے وجوب کے بیان
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ امْرَأَةً قَتَلَتْ ضَرَّتَهَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَأُتِيَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَی عَلَی عَاقِلَتِهَا بِالدِّيَةِ وَکَانَتْ حَامِلًا فَقَضَی فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ فَقَالَ بَعْضُ عَصَبَتِهَا أَنَدِي مَنْ لَا طَعِمَ وَلَا شَرِبَ وَلَا صَاحَ فَاسْتَهَلَّ وَمِثْلُ ذَلِکَ يُطَلُّ قَالَ فَقَالَ سَجْعٌ کَسَجْعِ الْأَعْرَابِ
محمد بن رافع، یحییٰ بن آدم، مفضل، منصور، ابراہیم، عبید ابن نضیلہ، حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمہ کی لکڑی کے ساتھ ہلاک کردیا تو اس مقدمہ میں رسول اللہ کی خدمت میں لایا گیا تو آپ ﷺ نے (قاتلہ) کے خاندان پر دیت کا فیصلہ کیا۔ وہ حاملہ تھی تو آپ ﷺ نے پیٹ کے بچے کا بدلہ ایک غلام ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعض رشتہ داروں نے کہا کیا ہم اس کی دیت ادا کریں جس نہ کھایا اور پیا اور چیخا نہ چلایا اور اس طرح کی دیت نہیں دی جاتی۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ دیہاتوں کی طرح مسجع گفتگو ہے
al-Mughirah bin Shubahh reported: A woman killed her fellow-wife with a tent-pole. Her case was brought to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , and he gave judgment that blood-wit should be paid by the relatives (of the offender) on the fathers side. And as she was pregnant, he decided regarding her unborn child that a male or a female slave of good quality be given. Some of her offenders relatives said: Should we make compensation for one who never ate, nor drank, nor made any noise, who was like a nonentity? Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: He was talking rhymed phrases like the rhymed phrases of desert Arabs.
حمل کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے وجوب کے بیان
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَی حَدِيثِ جَرِيرٍ وَمُفَضَّلٍ
محمد بن حاتم، محمد بن بشار، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، منصور، جریر، مفضل اسی حدیث کی دوسری اسند ذکر کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Mansur with the same chain of transmitters.
حمل کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے وجوب کے بیان
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مَنْصُورٍ بِإِسْنَادِهِمْ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ غَيْرَ أَنَّ فِيهِ فَأَسْقَطَتْ فَرُفِعَ ذَلِکَ إِلَی النَّبِيِّ فَقَضَی فِيهِ بِغُرَّةٍ وَجَعَلَهُ عَلَی أَوْلِيَائِ الْمَرْأَةِ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي الْحَدِيثِ دِيَةَ الْمَرْأَةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت منصور (رض) نے بھی ان اسناد سے یہ حدیث اسی طرح روایت کی ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ وہ گرائی گئی اور یہ بات نبی ﷺ تک پہنچائی تو آپ ﷺ نے اس میں ایک غلام کا فیصلہ کیا اور اسے عورت کے رشتہ داروں کے ذمہ لازم کیا اور اس حدیث میں عورت کی دیت کا ذکر نہیں۔
Mansur transmitted this hadith with a slight variation of words.
حمل کے بچے کی دیت اور قتل خطا اور شبہ عمد میں دیت کے وجوب کے بیان
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا قَالَ وَقَالَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ الْآخَرَانِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ اسْتَشَارَ النَّاسَ فِي إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَقَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَی فِيهِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ ائْتِنِي بِمَنْ يَشْهَدُ مَعَکَ قَالَ فَشَهِدَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلمَةَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، اسحاق بن ابراہیم، ابی بکر، اسحاق، وکیع، ہشام بن عروہ، حضرت مسور بن مخرمہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر خطاب (رض) نے لوگوں سے عورت کے پیٹ کے بارے میں مشورہ طلب کیا تو مخیرہ بن شعبہ نے کہا میں نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر تھا۔ آپ ﷺ نے اس میں ایک غلام یا باندی کا فیصلہ کیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا جو تیرے ساتھ اس بات کی گواہی دیتا ہے اسے میرے پاس لے آؤ۔ تو محمد بن مسلمہ (رض) نے ان کی گواہی دی۔
Miswar bin Makhrama reported that Umar bin Khattab consulted people about the diyat of abortion of an unboam child. Mughira bin Shubahh said: I bear witness to the fact that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) gave judgment about it that a good quality of slave or female slave should be given for it. Thereupon Umar said: Bring one who may bear witness to you. Then Muhammad bin Maslama bore witness to him.
چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْطَعُ السَّارِقَ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا
یحییٰ بن یحیی، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، زہری، عمرہ، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ چوتھائی دینار میں چور کا ہاتھ کاٹتے تھے یا اس سے زیادہ میں
Aisha reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) cut off the hand of a thief for a quarter of a dinar or more.
چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ کَثِيرٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِمِثْلِهِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ
اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، سلیمان بن کثیر، ابراہیم بن سعد، زہری اسی حدیث کے دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔
This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri.
چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَحَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ وَاللَّفْظُ لِلْوَلِيدِ وَحَرْمَلَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ وَعَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ إِلَّا فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا
ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ولید بن شجاع، ابن وہب، یونس، شہاب، عروہ، عمرہ، عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چور کا ہاتھ سوائے چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کے نہ کاٹا جائے
Aisha reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The hand of a thief should not be cut off but for a quarter of a dinar and upwards.
چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ وَأَحْمَدَ قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَمْرَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَمَا فَوْقَهُ
ابوطاہر، ہارون بن سعید ایلی، احمد بن عیسی، ہارون، احمد، ابن وہب، مخرمہ، سلیمان بن ابی یسار، عمرہ، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے ہاتھ نہ کاٹا جائے سوائے چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ میں۔
Aisha reported: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The hand (of a thief) should not be cut off but for a quarter of a dinar and what is above that.
چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَکَمِ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ إِلَّا فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا
بشر بن حکم عبدی، عبدالعزیز بن محمد، یزید بن عبداللہ بن ہاد، ابی بکر بن محمد، عمرہ، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے سوائے چوتھائی دینار میں یا اس سے زیادہ میں۔
Aisha reported that she heard Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The hand of the thief may not be cut off but for a quarter of a dinar and upwards.
چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْعَقَدِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ مِنْ وَلَدِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن مثنی، اسحاق بن منصور، ابی عامر عقدی، عبداللہ بن جعفر، مخرمہ، یزید ابن عبداللہ ابن ہاد اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Yazid bin Abdullah bin al-Had with the same chain of transmitters.
چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں
وحدثنا محمدبن عبدالله بن نمير حدثنا حميد بن عبدالرحمن الرواسیعن هشام بن عروة عن ابيه عن عآئشة قالت لم تقطع يدسارق فی عهد رسول الله صلی الله عليه وسلم فی اقل من ثمن المجن جحفة او ترس وکلا هما ذوثمنٍ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، حمید بن عبدالرحمن رواسی، ہشام بن عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں جحفہ یا ترس ڈھال کی قیمت سے کم میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا گیا اور یہ دونوں (ڈھالیں) قیمت والی ہیں۔
Aisha reported that during the lifetime of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) the hand of the thief was not cut off for less than the price of a shield, iron coat or armour and both of them are valuable.
چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں
وحدثنا عثمان بن ابی شيبة اخبرنا عبدة بن سليمان وحميد بن عبدالرحمان م وحدثنا ابوبکر بن ابی شيبة حدثنا عبدالرحيم ابن سليمان م وحدثنا ابوکريب حدثنا ابواسامة کلهم عن هشام بهذاالاسناد نحو حديث ابن نمير عن حميد بن عبدالرحمان الرواسی وفی حديث عبدالرحيم وابی اسامة وهو يومئذ ذوثمن
عثمان بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، حمید بن عبدالرحمن، ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالرحیم بن سلیمان، ابوکریب، ابواسامہ، ہشام اسی حدیث کی مزید اسناد ذکر کی ہیں اور اس میں ہے کہ ان دنوں یہ قیمت والی تھی۔
This hadith has been narrated on the authority of Hisham through another chain of transmitters, and in the hadith narrated by Abdul Rahim and Abu Usama (the words are): "That (the shield) was valuable those days."
چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ سَارِقًا فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ
یحییٰ بن یحیی، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چور کا ہاتھ ایک ایسی ڈھال کے بدلہ میں کاٹا جس کی قیمت تین دراہم تھے۔
Ibn Umar reported that Allahs Messenger (may peace upon him) cut off the hand of a thief (in case of the theft) of a shield the price of which was three dirhams.
چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ کُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ وَأَيُّوبَ بْنِ مُوسَی وَإِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ وَإِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ وَعُبَيْدِ اللَّهِ وَمُوسَی بْنِ عُقْبَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيِّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَمَالِکِ بْنِ أَنَسٍ وَأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ اللَّيْثِيِّ کُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَی عَنْ مَالِکٍ غَيْرَ أَنَّ بَعْضَهُمْ قَالَ قِيمَتُهُ وَبَعْضَهُمْ قَالَ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ
قتیبہ بن سعید، ابن رمح، لیث بن سعد، زہیر بن حرب، ابن مثنی، یحیی، قطان، ابن نمیر، ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، عبیداللہ، زہیر بن حرب، اسماعیل یعنی ابن علیہ، ابوربیع، ابوکامل، حماد، محمد بن رافع، عبدالرزاق، سفیان، ایوب سختیانی، ایوب بن موسی، اسماعیل بن امیہ، عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابونعیم، سفیان، ایوب، اسماعیل بن امیہ، عبیداللہ، موسیٰ بن عقبہ، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، اسماعیل بن امیہ، ابوطاہر، ابن وہب، حنظلہ بن ابی سفیان جمحی، عبداللہ بن عمر، مالک بن انس، اسامہ بن زید لیثی، نافع ابن عمر، مختلف اسناد سے حدیث زکر کی ہے کہ سارے محدثین حضرت ابن عمر (رض) سے نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث یحی عن مالک کی طرح روایت کی ہے بعض نے قیمت اور بعض نے اس کا ثمن تین دراہم ذکر کی ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Umar through some other chains of transmitters but with a slight variation of words.