انسان کی جان یا اس کا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو جب وہ حملہ کرے اور اس کو دفع کرتے ہوئے حملہ آور کی جان یا اسکا کوئی عضو ضائع ہوجائے اور اس پر کوئی تاوان نہ ہونے کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَجُلًا عَضَّ ذِرَاعَ رَجُلٍ فَجَذَبَهُ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ فَرُفِعَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْطَلَهُ وَقَالَ أَرَدْتَ أَنْ تَأْکُلَ لَحْمَهُ
ابوغسان مسمعی، معاذ یعنی ابن ہشام، ابی قتادہ، زرارہ بن اوفی، حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کی کلائی پر کاٹا۔ اس نے اپنے ہاتھ کو کھینچا تو کاٹنے والے کے سامنے کے دو دانت گرگئے۔ اس نے اسے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ ﷺ نے (اس کے دعوی کو) باطل کردیا اور فرمایا کیا تو نے اس کا گوشت کھانے کا ارادہ کیا تھا۔
Imran bin Husain reported that a person bit the arm of another person; he pulled it out and his foretooth fell down. This matter was taken to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , and he turned it down saying: Did you want to eat his flesh?
انسان کی جان یا اس کا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو جب وہ حملہ کرے اور اس کو دفع کرتے ہوئے حملہ آور کی جان یا اسکا کوئی عضو ضائع ہوجائے اور اس پر کوئی تاوان نہ ہونے کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ بُدَيْلٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی أَنَّ أَجِيرًا لِيَعْلَی بْنِ مُنْيَةَ عَضَّ رَجُلٌ ذِرَاعَهُ فَجَذَبَهَا فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ فَرُفِعَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْطَلَهَا وَقَالَ أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَهَا کَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ
ابوغسان مسمعی، معاذ بن ہشام، قتادہ، بدیل، عطاء بن ابی رباح، حضرت صفوان بن یعلی (رض) سے روایت ہے کہ یعلی بن مینہ کے مزدور کی کلائی کو ایک آدمی نے کاٹا۔ اس نے کلائی کو کھینچا تو اس کے سامنے والے دو دانت گرگئے۔ اس نے یہ معاملہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو آپ ﷺ نے اسے باطل کردیا اور فرمایا کیا تو نے اس کے ہاتھ کو اونٹ کی طرح کاٹنے کا ارادہ کیا۔
Safwan bin Yala reported that a person bit the arm of the servant of Yala bin Munya. He pulled it and his foretooth fell. The matter was referred to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and he turned it down and said: Did you intend to bite his hand, as the camel bites?
انسان کی جان یا اس کا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو جب وہ حملہ کرے اور اس کو دفع کرتے ہوئے حملہ آور کی جان یا اسکا کوئی عضو ضائع ہوجائے اور اس پر کوئی تاوان نہ ہونے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ فَانْتَزَعَ يَدَهُ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ أَوْ ثَنَايَاهُ فَاسْتَعْدَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَأْمُرُنِي تَأْمُرُنِي أَنْ آمُرَهُ أَنْ يَدَعَ يَدَهُ فِي فِيکَ تَقْضَمُهَا کَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ ادْفَعْ يَدَکَ حَتَّی يَعَضَّهَا ثُمَّ انْتَزِعْهَا
احمد بن عثمان نوفلی، قریش بن انس، ابن عون، محمد بن سیرین، حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کا ہاتھ کاٹ دیا۔ اس نے اپنے ہاتھ کو کھینچا تو اس (دوسرے) کے سامنے کے دو دانت گرگئے۔ (جس کے دانت گرگئے تھے) اس نے رسول اللہ ﷺ سے فریاد کی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو چاہتا ہے کہ میں اسے حکم دوں کہ وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں رکھے اور تو اسے اونٹ کے کاٹنے کی طرح کاٹے اچھا تم اپنا ہاتھ (اس کے منہ میں) رکھو یہاں تک کہ وہ اسے کاٹے پھر تو اسے کھینچ۔
Imran bin Husain reported that a person bit the hand of a person. He withdrew his hand and his foretooth or foreteeth fell down. He (the man who lost his teeth) referred the matter to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and he said, What do you want me to do? Do you ask me that I should order him to put his hand in your mouth, and you should bite it as the camel bites? If you want retaliation, then the only way out is that you put your hand in his mouth (allow him) to bite that and then draw it away.
انسان کی جان یا اس کا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو جب وہ حملہ کرے اور اس کو دفع کرتے ہوئے حملہ آور کی جان یا اسکا کوئی عضو ضائع ہوجائے اور اس پر کوئی تاوان نہ ہونے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا عَطَائٌ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی بْنِ مُنْيَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَقَدْ عَضَّ يَدَ رَجُلٍ فَانْتَزَعَ يَدَهُ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتَاهُ يَعْنِي الَّذِي عَضَّهُ قَالَ فَأَبْطَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَرَدْتَ أَنْ تَقْضَمَهُ کَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ
شیبان بن فروخ، ہمام، عطاء، صفوان بن یعلی بن منیہ، حضرت یعلی بن منیہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک آدمی حاضر ہوا جس نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹا تھا۔ اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کے سامنے والے دو دانت گرگئے یعنی جس نے کاٹا۔ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اسے باطل قرار دیا اور فرمایا کیا تم اسے اونٹ کی طرح کاٹنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
Safwan bin Yala bin Munya reported on the authority of his father that there came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) a person who had bitten the hand of another person and who had withdrawn his hand (and as a result thereof) his foreteeth had fallen (those which had bitten). The Apostle of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) turned down his (claim), and said: Do you wish to bite as the camel bites?
انسان کی جان یا اس کا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو جب وہ حملہ کرے اور اس کو دفع کرتے ہوئے حملہ آور کی جان یا اسکا کوئی عضو ضائع ہوجائے اور اس پر کوئی تاوان نہ ہونے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَی بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوکَ قَالَ وَکَانَ يَعْلَی يَقُولُ تِلْکَ الْغَزْوَةُ أَوْثَقُ عَمَلِي عِنْدِي فَقَالَ عَطَائٌ قَالَ صَفْوَانُ قَالَ يَعْلَی کَانَ لِي أَجِيرٌ فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا يَدَ الْآخَرِ قَالَ لَقَدْ أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ أَيُّهُمَا عَضَّ الْآخَرَ فَانْتَزَعَ الْمَعْضُوضُ يَدَهُ مِنْ فِي الْعَاضِّ فَانْتَزَعَ إِحْدَی ثَنِيَّتَيْهِ فَأَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، ابن جریج، عطاء، حضرت صفوان بن یعلی بن امیہ کی اپنے باپ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں لڑائی کی اور یعلی کہتے تھے کہ یہی غزوہ ہے کہا کہ صفوان نے کہا یعلی کہتے تھے کہ میرا ایک مزدور تھا وہ کسی آدمی سے لڑ پڑا ان میں سے ایک نے دوسرے کے ہاتھ کو کاٹا تو کاٹنے والے کا ایک دانت سامنے والے دو دانتوں میں سے گرگیا وہ دونوں نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے اس کے دانت کو بیکار کردیا۔ (یعنی دیت نہیں دلائی)
Safwan bin Yala bin Umayya thus reported from his father: I participated in the expedition to Tabuk with Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . And Yala used to say: That was the most weighty of my deeds, in my opinion. Safwan said that Yala had stated: I had a servant; he quarrelled with another person, and the one bit the hand of the other. (Ata said that Safwan had told him which one had bitten the hand of the other.) So he whose hand was bitten drew it from (the mouth) of the one who had bitten it and (in this scuffle) one of his foreteeth was also drawn out. They both came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and he declared his (claim for the compensation of) tooth as invalid.
انسان کی جان یا اس کا کسی عضو پر حملہ کرنے والے کو جب وہ حملہ کرے اور اس کو دفع کرتے ہوئے حملہ آور کی جان یا اسکا کوئی عضو ضائع ہوجائے اور اس پر کوئی تاوان نہ ہونے کے بیان میں۔
و حَدَّثَنَاه عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
عمر بن زرارہ، اسماعیل بن ابراہیم، حضرت ابن جریج (رح) سے بھی ان اسناد کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Juraij with the same chain of transmitters.
دانتوں یا اس کے برابر میں قصاص کے اثبات کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُخْتَ الرُّبَيِّعِ أُمَّ حَارِثَةَ جَرَحَتْ إِنْسَانًا فَاخْتَصَمُوا إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِصَاصَ الْقِصَاصَ فَقَالَتْ أُمُّ الرَّبِيعِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُقْتَصُّ مِنْ فُلَانَةَ وَاللَّهِ لَا يُقْتَصُّ مِنْهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَانَ اللَّهِ يَا أُمَّ الرَّبِيعِ الْقِصَاصُ کِتَابُ اللَّهِ قَالَتْ لَا وَاللَّهِ لَا يُقْتَصُّ مِنْهَا أَبَدًا قَالَ فَمَا زَالَتْ حَتَّی قَبِلُوا الدِّيَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللَّهِ لَأَبَرَّهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان بن مسلم، حماد، ثابت، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ ربیع کی بہن ام حارثہ نے کسی انسان کو زخمی کردیا۔ انہوں نے اس کا مقدمہ نبی کریم ﷺ کے پاس پیش کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قصاص یعنی بدلہ لیا جائے گا ام ربیع نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا فلاں سے بدلہ لیا جائے گا ؟ اللہ کی قسم ! اس سے بدلہ نہیں لیا جائے گا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ پاک ہے۔ اے ام ربیع بدلہ لینا اللہ کی کتاب (کا حکم) ہے۔ اس نے کہا اللہ کی قسم اس سے کبھی بدلہ نہ لیا جائے گا۔ راوی کہتے ہیں وہ مسلسل اسی طرح کہتی رہی۔ یہاں تک کہ ورثاء نے دیت قبول کرلی۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ کے بندوں میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں کہ اگر وہ اللہ پر قسم اٹھالیں تو اللہ ان کی قسم کو پورا فرما دیتا ہے۔
Anas reported that Umm Haritha, the sister of Rubayyi (she was the fathers sister of Hadrat Anas) injured a person (she broke his teeth). The dispute was referred to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Retribution, retribution. Umm Rubayyi said: Messenger of Allah, will retribution be taken from so and so? By Allah, it shall not be taken from her (i. e. from Umm Haritha). Thereupon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Hallowed be Allah. O Umm Rubayyi, Qisas (retribution is a command, prescribed) in the Book of Allah. She said: No, by Allah, Qisas will never be taken from her; and she went on saying this until they (the relatives of the one who had been injured) accepted the blood-wit. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Verily there are amongst the servants of Allah (such pious persons) who, if they take oath of Allah, He honours it.
کس وجہ سے مسلمان کا خون جائز ہوجاتا ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا بِإِحْدَی ثَلَاثٍ الثَّيِّبُ الزَّانِي وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ وَالتَّارِکُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، ابومعاویہ، وکیع، اعمش، عبداللہ بن مرہ، مسروق، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین کے علاوہ کسی ایسے مسلمان مرد کا خون بہانا جائز نہیں جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ ایک شادی شدہ زانی، دوسرا جان کے بدلے جان اور دین کو چھوڑنے والا اور جماعت میں تفریق ڈالنے والا۔
Abdullah (b. Masud) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: It is not permissible to take the life of a Muslim who bears testimony (to the fact that there is no god but Allah, and I am the Messenger of Allah, but in one of the three cases: the married adulterer, a life for life, and the deserter of his Din (Islam), abandoning the community.
کس وجہ سے مسلمان کا خون جائز ہوجاتا ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابن نمیر، ابن ابی عمر، سفیان، اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، اعمش اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Amash.
کس وجہ سے مسلمان کا خون جائز ہوجاتا ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ التَّارِکُ الْإِسْلَامَ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ أَوْ الْجَمَاعَةَ شَکَّ فِيهِ أَحْمَدُ وَالثَّيِّبُ الزَّانِي وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ قَالَ الْأَعْمَشُ فَحَدَّثْتُ بِهِ إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِي عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ
احمد بن حنبل، محمد بن مثنی، عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، اعمش، عبداللہ بن مرہ، مسروق، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو مسلمان مرد گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں تو اس کا خون حلال نہیں سوائے تین آدمیوں کے ایک اسلام کو چھوڑنے والا جماعت میں تفریق ڈالنے والا دوسرا شادی شدہ زنا کرنے والا اور تیسرا جان کے بدلے جان حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے بھی اسی طرح یہ حدیث مروی ہے۔
Abdullah (b. Masud) reported: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) stood up and said: By Him besides Whom there is no god but He, the blood of a Muslim who bears the testimony that there is no god but Allah, and I am His Messenger, may be lawfully shed only in case of three persons: the one who abandons Islam, and deserts the community [Ahmad, one of the narrators, is doubtful whether the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used the word lil-jamaah or al-jamaah), and the married adulterer, and life for life.
کس وجہ سے مسلمان کا خون جائز ہوجاتا ہے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَالْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ شَيْبَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ وَلَمْ يَذْکُرَا فِي الْحَدِيثِ قَوْلَهُ وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرَهُ
حجاج بن شاعر، قاسم بن زکریا، عبیداللہ بن موسی، شیبان، اعمش اسی حدیث کی اور سند ذکر کی ہے لیکن اس میں نبی کریم ﷺ کا قول اس کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں مذکور نہیں ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Amash with the same chain of narrators but with a slight variation of words, i. e. he did not say: By Him besides Whom there is no god.
قتل کی ابتداء کرنے والے کے گناہ کے بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا کَانَ عَلَی ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ کِفْلٌ مِنْ دَمِهَا لِأَنَّهُ کَانَ أَوَّلَ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابومعاویہ، اعمش، عبداللہ بن مرہ، مسروق، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کوئی نفس ظلما قتل کیا جاتا ہے تو اس کے گناہ کا ایک حصہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بیٹے پر بھی ڈالا جاتا ہے کیونکہ وہ پہلا ہے جس نے قتل کی ابتداء کی۔
Abdullah (b. Masud) reported: Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) having said: No person who is killed unjustly, but the share of (this offence of his also) falls upon the first son of Adam, for he was the first to introduce killing.
قتل کی ابتداء کرنے والے کے گناہ کے بیان
و حَدَّثَنَاه عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ وَعِيسَی بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ وَعِيسَی بْنِ يُونُسَ لِأَنَّهُ سَنَّ الْقَتْلَ لَمْ يَذْکُرَا أَوَّلَ
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اسحاق بن ابراہیم، جریر، عیسیٰ بن یونس، ابن ابی عمر، سفیان، اعمش اسی حدیث کی اور اسناد ذکر کی ہیں لیکن ان میں قتل کی ابتداء کا ذکر ہے پہلے ہونے کو نہیں بیان کیا گیا۔
This hadith has been narrated on the authority of Jarir and Isa bin Yunus with a slight variation of words.
آخرت میں قتل کی سزا اور قیامت کے دن اس کا فیصلہ لوگوں کے درمیان سب سے پہلے کیے جانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَوَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَا يُقْضَی بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَائِ
عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، محمد بن عبداللہ بن نمیر، وکیع، اعمش، ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، وکیع، اعمش، ابی وائل، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔
Abdullah bin (Masud) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The first (thing) that will be decided among people on the Day of Judgment will pertain to bloodshed.
آخرت میں قتل کی سزا اور قیامت کے دن اس کا فیصلہ لوگوں کے درمیان سب سے پہلے کیے جانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ح و حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ بَعْضَهُمْ قَالَ عَنْ شُعْبَةَ يُقْضَی وَبَعْضُهُمْ قَالَ يُحْکَمُ بَيْنَ النَّاسِ
عبیداللہ بن معاذ، یحییٰ بن حبیب، خالد ابن حارث، بشربن خالد، محمد بن ابی عدی، شعبہ، اعمش، ابی وائل، عبداللہ اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں معنی و مفہوم وہی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Abdullah through another chain of transmitters with a slight variation of words.
خون مال اور عزت کی شدت بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَيَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ ابْنِ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ الزَّمَانَ قَدْ اسْتَدَارَ کَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ثَلَاثَةٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبٌ شَهْرُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَی وَشَعْبَانَ ثُمَّ قَالَ أَيُّ شَهْرٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ قُلْنَا بَلَی قَالَ فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ قُلْنَا بَلَی قَالَ فَأَيُّ يَوْمٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَسَکَتَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ قُلْنَا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَأَعْرَاضَکُمْ حَرَامٌ عَلَيْکُمْ کَحُرْمَةِ يَوْمِکُمْ هَذَا فِي بَلَدِکُمْ هَذَا فِي شَهْرِکُمْ هَذَا وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ فَيَسْأَلُکُمْ عَنْ أَعْمَالِکُمْ فَلَا تَرْجِعُنَّ بَعْدِي کُفَّارًا أَوْ ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ أَلَا لِيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يُبَلِّغُهُ يَکُونُ أَوْعَی لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ ثُمَّ قَالَ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ قَالَ ابْنُ حَبِيبٍ فِي رِوَايَتِهِ وَرَجَبُ مُضَرَ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ فَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي
ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن حبیب حارثی، عبدالوہاب ثقفی، ایوب، ابن سیرین، ابن ابی بکرہ، حضرت ابوبکرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا زمانہ گھوم کر اپنی اسی حالت و صورت پر آگیا جیسا کہ اس دن تھا جس دن اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا تھا سال میں بارہ ماہ ہیں جن میں چار ماہ محترم و معزز ہیں تین متواتر اور ملے ہوئے ہیں ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور مضر کا مہینہ رجب جو جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان ہے پھر فرمایا یہ کونسا مہینہ ہے ؟ ہم نے عرض کی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ خاموش ہوگئے۔ یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا آپ ﷺ اس کے نام کے علاوہ نام رکھنے والے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کونسا شہر ہے ؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ راوی کہتے ہے کہ آپ ﷺ خاموش ہوگئے۔ یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ ﷺ اس کے نام کے علاوہ نام رکھیں گے۔ پھر فرمایا کیا یہ بلدہ (مکہ) نہیں ہے ہم نے کہا کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کونسا دن ہے ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ خاموش ہوگئے یہاں تک کہ ہم نے خیال آپ ﷺ اس کے علاوہ نام رکھیں گے۔ پھر فرمایا کیا یہ قربانی کا دن نہیں ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول۔ فرمایا بیشک تمہارے خون اور مال راوی محمد کہتے ہیں میرا گمان ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسا کہ اس دن کی حرمت اس تمہارے شہر میں اس مہینے میں ہے اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے تو تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا۔ میرے بعد تم کافر یا گمراہ نہ ہوجانا کہ تم ایک دوسرے کی گردن مارنے لگ جاؤ۔ آ گاہ رہو چاہیے کہ موجود غائب تک پہنچا دے۔ ہوسکتا ہے جس کو یہ بات پہنچائی جائے وہ زیادہ حفاظت و یاد کرنے والا ہو جس سے اس نے سنا پھر فرمایا سنو کیا میں نے (پیغام حق) پہنچا دیا ؟ آ گے روایت کے الفاظ کا اختلاف ذکر کیا ہے کہ ابن حبیب نے کہا اور ابوبکر کی روایت میں (فَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي) کے الفاظ ہیں۔
Abu Bakra (RA) reported that (in the Farewell Address) Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Time has completed a cycle and come to the state of the day when Allah created the heavens and the earth. The year is constituted of twelve months, of which four are sacred; three of them consecutive, viz. Dhul-Qada, Dhul- Hijja and Muharram, and also Rajab the month of Mudar which comes between Jumada and Shaban. He (the Holy Prophet) then said: which month is this? We said Allah and His Messenger know best. He (the narrator) said: He (the Holy Prophet) remained silent for some time until we thought that he would give it a name other than that (by which it was known). He said: Is it not Dhal-Hijja? We said: Yes. He (the Holy Prophet) said: Which city is this? We said: Allah and His Messenger know best. He (the Holy Prophety remained silent until we thought that he would give it another name. He (the Holy Prophet) said: Is it not the Balda (the city of Makkah)? We said: Yes. He said: What day is this? We said: Allah and His Messenger know best. He (the Holy Prophet) remained silent until we thought that he would give it another name. He said: Is it not the Day of Sacrifice? We said: Allahs Messenger. yes. Thereupon he said: Your blood, your property (Muhammad, one of the narrators, said: I think, he also said this) and your honour are sacred to you like the sacredness of this day of yours, in this city of yours, and in this month of yours. You will soon meet your Lord and He will ask you about your deeds. So do not turn after me unbelievers (or misguided), some of you striking the necks of the others. Behold I let him who is present convey to him who is absent, for many a one whom a message is conveyed has a more retentive memory than one who hears. He again said: Behold! have I not delivered (the message) to you? This hadith has been narrated through another chain of transmitters, but with a slight variation of words.
خون مال اور عزت کی شدت بیان میں۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا کَانَ ذَلِکَ الْيَوْمُ قَعَدَ عَلَی بَعِيرِهِ وَأَخَذَ إِنْسَانٌ بِخِطَامِهِ فَقَالَ أَتَدْرُونَ أَيَّ يَوْمٍ هَذَا قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَی اسْمِهِ فَقَالَ أَلَيْسَ بِيَوْمِ النَّحْرِ قُلْنَا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأَيُّ شَهْرٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَلَيْسَ بِذِي الْحِجَّةِ قُلْنَا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأَيُّ بَلَدٍ هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ سِوَی اسْمِهِ قَالَ أَلَيْسَ بِالْبَلْدَةِ قُلْنَا بَلَی يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ وَأَعْرَاضَکُمْ عَلَيْکُمْ حَرَامٌ کَحُرْمَةِ يَوْمِکُمْ هَذَا فِي شَهْرِکُمْ هَذَا فِي بَلَدِکُمْ هَذَا فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ قَالَ ثُمَّ انْکَفَأَ إِلَی کَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا وَإِلَی جُزَيْعَةٍ مِنْ الْغَنَمِ فَقَسَمَهَا بَيْنَنَا
نصر بن علی جہضمی، یزید بن زریع، عبداللہ بن عون، محمد بن سیرین، حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب (حجۃ الوداع) کا دن تھا تو آپ ﷺ اپنے اونٹ پر بیٹھے اور ایک آدمی نے اس کی لگام پکڑ لی اور آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ آج کونسا دن ہے ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ ﷺ اس کے نام کے علاوہ نام رکھیں گے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہ نحر کا دن نہیں ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کونسا مہینہ ہے ؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہ ذوالحجہ نہیں۔ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کون سا شہر ہے ؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر ہی جانتے ہیں راوی کہتے ہیں یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ اس کے نام کے علاوہ کوئی اور نام رکھیں گے آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہ شہر (مکہ) نہیں ہے ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول۔ آپ ﷺ نے فرمایا بیشک تمہارے خون اور تمہارے امول اور تمہاری عزتیں تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارا یہ دن اس مہینے اور اس شہر میں حرام ہے پس موجود لوگ غائب کو (یہ بات) پہنچا دیں۔ پھر آپ دو سرمئی مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ذبح کیا اور پھر آپ ﷺ بکریوں کے ایک ریوڑ کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ہمارے درمیان تقسیم کردیا۔
Abu Bakra (RA) reported that when it was that day (the 10th of Dhul-Hijja) he mounted his camel and a person caught its nosestring, whereupon he said: Do you know which day is this? They said: Allah and His Messenger know best. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) [may peace be upon him] kept silent until we thought that he would give that another name. He said: Is it not the day of Nahr (Sacrifice) (10th of Dhul- Hijja)? We said: Allahs Messenger, yes. He (again) said: Which month is it? We said: Allah and His Messenger knows best. He said: Is it not Dhul-Hijja? We said: Allahs Messenger, yes. He said: Which city is this? We said: Allah and His Messenger know best. He (the narrator) said (that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) kept silent until we thought that he would give it another name besides its (original) name. He said: Is it not Balda (the city of Makkah)? We said: Yes, Allahs Messenger. He (then) said: Verily your blood (lives) and your property and your honour are as sacred unto you as sacred is this day of yours, in this month of yours, in this city of yours. Let him who is present convey it to one who is absent. He then turned his attention towards two multicoloured (black and white) rams and slaughtered them, and two goats, and distributed them amongst us.
خون مال اور عزت کی شدت بیان میں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ قَالَ مُحَمَّدٌ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا کَانَ ذَلِکَ الْيَوْمُ جَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی بَعِيرٍ قَالَ وَرَجُلٌ آخِذٌ بِزِمَامِهِ أَوْ قَالَ بِخِطَامِهِ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ
محمد بن مثنی، حماد بن مسعدہ، ابن عون، محمد، حضرت عبدالرحمن بن ابوبکرہ (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ اس دن (حجۃ الوداع) جب نبی کریم ﷺ اونٹ پر بیٹھے اور ایک آدمی آپ ﷺ کے اونٹ کی لگام پکٹرنے والا تھا۔ باقی حدیث یزید بن زریع کی طرح روایت کی۔
Abu Bakra (RA) reported that when it was the day of (Dhul-Hijja) Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) mounted the camel and addressed and a person had been holding its nosestring. The rest of the hadith is the same.
خون مال اور عزت کی شدت بیان میں۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ وَعَنْ رَجُلٍ آخَرَ هُوَ فِي نَفْسِي أَفْضَلُ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا قُرَّةُ بِإِسْنَادِ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ وَسَمَّی الرَّجُلَ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي بَکْرَةَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ أَيُّ يَوْمٍ هَذَا وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ غَيْرَ أَنَّهُ لَا يَذْکُرُ وَأَعْرَاضَکُمْ وَلَا يَذْکُرُ ثُمَّ انْکَفَأَ إِلَی کَبْشَيْنِ وَمَا بَعْدَهُ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ کَحُرْمَةِ يَوْمِکُمْ هَذَا فِي شَهْرِکُمْ هَذَا فِي بَلَدِکُمْ هَذَا إِلَی يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّکُمْ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ
محمد بن حاتم بن میمون، یحییٰ بن سعید، قرہ بن خالد، محمد بن سیرین، عبدالرحمن بن ابی بکرہ اسی حدیث کی اور اسناد ذکر کی ہیں۔ حضرت ابوبکرہ (رض) سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے نحر کے دن ارشاد فرمایا تو فرمایا یہ دن کون سا ہے ؟ باقی حدیث گزر چکی لیکن اس حدیث میں تمہاری عزت کا لفظ ذکر نہیں کیا اور نہ یہ ذکر کیا کہ پھر آپ ﷺ مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور جو اس کے بعد ہے اور اس حدیث میں یہ ہے کہ (تمہارا خون وغیرہ) اس دن کی حرمت کی طرح ہے۔ اس مہینے میں اور اس شہر میں تمہارے اپنے رب سے ملاقات کے دن تک۔ آگاہ رہو کیا میں نے پہنچا دیا ؟ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے اللہ گواہ رہ۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Bakra (RA) through another chain of transmitters (and the words are): "Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) addressed us on the day of Nahr (Sacrifice) and said: What day is this? And the rest of the hadith is the same except that he did not make mention of" your honour," and also did not make mention of this: He then turned his attention towards two rams and what follows, and in a hadith (the words pertaining to sacred- ness are recorded in this way):" Like the sacredness of this day of yours, in this month of yours, in this city of yours to the day when you will meet your Lord. Behold, have I not conveyed (the Message of God)? They said: Yes. He said: O Allah, bear witness."
قتل کے اقرار کی صحت اور مقتول کے ولی کو حق قصاص اور اس سے معافی طلب کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ أَنَّ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ قَالَ إِنِّي لَقَاعِدٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يَقُودُ آخَرَ بِنِسْعَةٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا قَتَلَ أَخِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَتَلْتَهُ فَقَالَ إِنَّهُ لَوْ لَمْ يَعْتَرِفْ أَقَمْتُ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ قَالَ نَعَمْ قَتَلْتَهُ قَالَ كَيْفَ قَتَلْتَهُ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَهُوَ نَخْتَبِطُ مِنْ شَجَرَةٍ فَسَبَّنِي فَأَغْضَبَنِي فَضَرَبْتُهُ بِالْفَأْسِ عَلَى قَرْنِهِ فَقَتَلْتُهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ لَكَ مِنْ شَيْءٍ تُؤَدِّيهِ عَنْ نَفْسِكَ قَالَ مَا لِي مَالٌ إِلَّا كِسَائِي وَفَأْسِي قَالَ فَتَرَى قَوْمَكَ يَشْتَرُونَكَ قَالَ أَنَا أَهْوَنُ عَلَى قَوْمِي مِنْ ذَاكَ فَرَمَى إِلَيْهِ بِنِسْعَتِهِ وَقَالَ دُونَكَ صَاحِبَكَ فَانْطَلَقَ بِهِ الرَّجُلُ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ فَرَجَعَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ قُلْتَ إِنْ قَتَلَهُ فَهُوَ مِثْلُهُ وَأَخَذْتُهُ بِأَمْرِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا تُرِيدُ أَنْ يَبُوءَ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَعَلَّهُ قَالَ بَلَى قَالَ فَإِنَّ ذَاكَ كَذَاكَ قَالَ فَرَمَى بِنِسْعَتِهِ وَخَلَّى سَبِيلَهُ
عبیداللہ بن معاذ عنبری، ابویونس، سماک بن حرب، علقمہ ابن وائل، حضرت وائل (رض) سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ بیٹھنے والا تھا آدمی آیا جو دوسرے آدمی کو تسمہ سے کھینچتا تھا اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! ﷺ اس نے میرے بھائی کو قتل کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے اسے قتل کیا ؟ مدعی نے کہا اگر اس نے اعتراف نہ کیا تو میں گواہی پیش کروں گا اس نے کہا جی ہاں میں نے اسے قتل کیا ہے آپ ﷺ نے کہا تو نے اسے کس وجہ سے قتل کیا ؟ اس نے کہا میں اور وہ دونوں درخت سے پتے جھاڑ رہے تھے کہ اس نے مجھے گالی دے کر غصہ دلایا میں نے کلہاڑی سے اس کے سر میں ضرب مار کر اسے قتل کردیا تو اسے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے جو تو اسے اپنی جان کے بدلہ میں ادا کرسکے ؟ اس نے عرض کیا کہ میرے پاس میری چادر اور کلہاڑی کے سوا کوئی چیز نہیں ہے آپ ﷺ نے فرمایا تیری قوم کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے کہ وہ تجھے چھڑا لے گی اس نے عرض کیا میں اپنی قوم پر اس سے بھی زیادہ آسان ہوں یعنی میری کوئی وقعت نہیں آپ ﷺ نے وہ تسمہ اس یعنی وارث مقتول کی طرف پھینک دیا اور فرمایا کہ اپنے ساتھی کو لے جا وہ آدمی اسے لے کر چلا جب اس نے پیٹھ پھیری تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر اس نے اسے قتل کردیا تو یہ بھی اسی کی طرح ہوجائے گا وہ آدمی لوٹ آیا اور عرض کی اے اللہ کے رسول مجھے یہ بات پہنچی ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر وہ اسے قتل کرے گا تو اسی کی طرح ہوجائے گا حالانکہ میں نے اسے آپ ﷺ کے ہی حکم سے پکڑا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو نہیں چاہتا کہ وہ تیرا اور تیرے ساتھی کا گناہ سمیٹ لے ؟ اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ ایسا ہوگا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں اس نے کہا اگر ایسا ہی ہے تو بہت اچھا یہ اسی طرح ہے راوی کہتے ہیں کہ اس نے اس کا تسمہ پھینک دیا اور اس کے راستہ کو کھول دیا یعنی آزاد کردیا۔
Alqama bin Wail reported on the authority of his-father: While I was sitting in the company of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , a person came there dragging another one with the help of a strap and said: Allahs Messenger, this man has killed my brother. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to him: Did you kill him? And the other man said: (In case he did not make a confession of this, I shall bring a witness against him). He (the murderer) said: Yes, I have killed him. He (the Holy Prophet) said: Why did you kill him? He said: I and he were striking down the leaves of a tree and he abused me and enraged me, and to I struck his head with an axe and killed him, whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Have you anything with you to pay blood-wit on your behalf? He said: I do not possess any property but this robe of mine and this axe of mine. He (the Holy, Prophet) said: Do you think your people will pay ransom for you? He said: I am more insignificant among my people than this (that I would not be able to get this benefit from my tribe). He (the Holy Prophet) threw the strap towards him (the claimant of the blood-wit) saying: Take away your man. The man took him away, and as he returned, Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: If he kills him, he will be like him. He returned and said: Allahs Messenger, it has reached me that you have said that "If he killed him, he would be like him." I caught hold of him according to your command, whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Dont you like that he should take upon him (the burden) of your sin and the sin of your companion (your brother)? He said: Allahs Apostle, why not? The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: If it is so, then let it be. He threw away the strap (around the offender) and set him free.