Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 221 of 379

4408Sahih Muslimصحیح

چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ وَيَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابی صالح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انڈا چوری کرنے والے چور پر اللہ لعنت کرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور جو رسی چوری کرتا ہے اس کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Let there be the curse of Allah upon the thief who steals an egg and his hand is cut off, and steals a rope and his hand is cut off.

4409Sahih Muslimصحیح

چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ کُلُّهُمْ عَنْ عِيسَی بْنِ يُونُسَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ يَقُولُ إِنْ سَرَقَ حَبْلًا وَإِنْ سَرَقَ بَيْضَةً

عمرو ناقد، اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، حضرت اعمش (رض) سے بھی یہ حدیث ان اسناد سے روایت کی گئی ہے۔ اس میں وہ فرماتے ہیں کہ اگرچہ وہ رسی چوری کرے اور اگرچہ وہ انڈا ہی چوری کرے۔

This hadith is narrated on the authority of Amash with the same chain of transmitters with a slight variation of words.

4410Sahih Muslimصحیح

چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقَالُوا مَنْ يُکَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَلَّمَهُ أُسَامَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ ثُمَّ قَامَ فَاخْتَطَبَ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَهْلَکَ الَّذِينَ قَبْلَکُمْ أَنَّهُمْ کَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الشَّرِيفُ تَرَکُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا وَفِي حَدِيثِ ابْنِ رُمْحٍ إِنَّمَا هَلَکَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِکُمْ

قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، ابن شہاب، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ قریش نے ایک مخزوی عورت کے بارے میں مشورہ کیا جس نے چوری کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کون گفتگو کرے گا ؟ تو انہوں نے کہا جو اس بات پر جرات کرسکتا ہے وہ رسول اللہ ﷺ کے پیارے اسامہ (رض) کے سوا کوئی نہیں ہوسکتا۔ آپ ﷺ سے اسامہ نے گزارش کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کرتا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا تو فرمایا اے لوگو ؟ تم میں سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا اس میں سے جب کو کوئی معزز چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے اور ان میں سے کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد جاری کردیتے اور اللہ کی قسم ! اگر فاطمہ (رض) بنت محمد ﷺ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا اور ابن رمح کی حدیث میں ہے تم سے پہلے لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

Aisha reported that the Quraish had been anxious about the Makhzumi woman who had committed theft, and said: Who will speak to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) about her? They said: Who dare it, but Usama, the loved one of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ? So Usama spoke to him. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Do you intercede regarding one of the punishments prescribed by Allah? He then stood up and addressed (people) saying: O people, those who have gone before you were destroyed, because if any one of high rank committed theft amongst them, they spared him; and it anyone of low rank committed theft, they inflicted the prescribed punishment upon him. By Allah, if Fatima, daughter of Muhammad, were to steal, I would have her hand cut off. In the hadith transmitted on the authority of Ibn Rumh (the words are): "Verily those before you perished."

4411Sahih Muslimصحیح

چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الَّتِي سَرَقَتْ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ الْفَتْحِ فَقَالُوا مَنْ يُکَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَلَّمَهُ فِيهَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ أُسَامَةُ اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمَّا کَانَ الْعَشِيُّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَطَبَ فَأَثْنَی عَلَی اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّمَا أَهْلَکَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِکُمْ أَنَّهُمْ کَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الشَّرِيفُ تَرَکُوهُ وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمْ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ وَإِنِّي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا ثُمَّ أَمَرَ بِتِلْکَ الْمَرْأَةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقُطِعَتْ يَدُهَا قَالَ يُونُسُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَحَسُنَتْ تَوْبَتُهَا بَعْدُ وَتَزَوَّجَتْ وَکَانَتْ تَأتِينِي بَعْدَ ذَلِکَ فَأَرْفَعُ حَاجَتَهَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، زوجہ نبی سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ قریش نے اس عورت کے بارے میں مشو رہ کیا جس نے غزوہ فتح مکہ میں نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں چوری کی تھی۔ انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں کون گفتگو کرے گا ؟ انہوں نے کہا محبوب رسول اللہ ﷺ حضرت اسامہ بن زید (رض) کے علاوہ اس بات پر کوئی جرات نہ کرے گا۔ تو انہیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا گیا۔ تو اس عورت کے معاملہ میں آپ ﷺ سے اسامہ بن زید (رض) نے گفتگو کی تو رسول اللہ ﷺ کے چہرہ اقدس کا رنگ تبدیل ہوگیا اور فرمایا کیا تو اللہ کی حدود میں سے ایک حد میں سفارش کرتا ہے ؟ تو اسامہ نے آپ ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول ؟ ﷺ میرے لئے مغفرت طلب کریں۔ جب شام ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا اور اللہ کی تعریف بیان کی جس کا وہ اہل ہے۔ پھر فرمایا اما بعد ؟ تم سے پہلے لوگوں کو اس بات نے ہلاک کیا کہ ان میں سے جب کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دتیے اور جب ان میں سے ضعیف چوری کرتا تو اس پر حد کرتے اور قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر فاطمہ بنت محمد ﷺ بھی چوری کرتی تو اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔ پھر آپ ﷺ نے حکم دیا اس عورت کے بارے میں جس نے چوری کی تھی تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ اس کی توبہ بہت عمدہ تھی اور اس کے بعد اس کی شادی ہوئی اور وہ اس کے بعد میرے پاس تھی اور میں اس کی ضرورت رسول اللہ ﷺ تک پہنچاتی تھی۔

Aisha, the wife of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , reported that the Quraish were concerned about the woman who had committed theft during the lifetime of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , in the expedition of Victory (of Makkah). They said: Who would speak to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) about her? They (again) said: Who can dare do this but Usama b Zaid, the loved one of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ? She was brought to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and Usama bin Zaid spoke about her to him (interceded on her behalf). The colour of the face of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) changed, and he said: Do you intercede in one of the prescribed punishments of Allah? He (Usama) said: Messenger of Allah, seek forgiveness for me. When it was dusk. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) stood up and gave an address. He (first) glorified Allah as He deserves, and then said: Now to our topic. This (injustice) destroyed those before you that when any one of (high) rank committed theft among them, they spared him, and when any weak one among them committed theft, they inflicted the prescribed punishment upon him. By Him in Whose Hand is my life, even if Fatima daughter of Muhammad were to commit theft, I would have cut off her hand. He (the Holy Prophet) then commanded about that woman who had committed theft, and her hand was cut off. Aisha (further) said: Hers was a good repentance, and she later on married and used to come to me after that, and I conveyed her needs (and problems) to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .

4412Sahih Muslimصحیح

چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَتْ امْرَأَةٌ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُقْطَعَ يَدُهَا فَأَتَی أَهْلُهَا أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ فَکَلَّمُوهُ فَکَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَيُونُسَ

عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ مخزومی عورت مال ومتاع ادھار لے کر منکر ہوجاتی تھی۔ نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ اس کا اہل و عیال حضرت اسامہ بن زید (رض) کے پاس ان سے گفتگو کرنے کے لئے آئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں بات کی۔ باقی حدیث اسی طرح ہے۔

Aisha reported that a woman from the tribe of Makhzum used to borrow things (from people) and then denied (having taken them). Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) commanded her hand to be cut off. Her relatives came to Usama bin Zaid and spoke to him (requesting him to intercede on her behalf). He spoke to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) about her. The rest of the hadith is the same.

4413Sahih Muslimصحیح

چوری کی حد اور اس کے نصاب کے بیان میں

و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ سَرَقَتْ فَأُتِيَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَاذَتْ بِأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَوْ کَانَتْ فَاطِمَةُ لَقَطَعْتُ يَدَهَا فَقُطِعَتْ

سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل، ابی زبیر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ بنی مخزوم میں سے ایک عورت نے چوری کی اسے نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا۔ تو اس نے ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کے ذریعہ پناہ مانگی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم اگر فاطمہ بھی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔

Jaibir reported that a woman from the tribe of Makhzum committed theft. She was brought to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and she sought refuge (intercession) from Umm Salamah, the wife of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Thereupon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: By Allah, even if she were Fatima, I would have her hand cut off. And thus her hand was cut off.

4414Sahih Muslimصحیح

زنا کی حد کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذُوا عَنِّي خُذُوا عَنِّي قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا الْبِکْرُ بِالْبِکْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ

یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ہشیم، منصور، حسن، حطان بن عبداللہ، رقاشی، حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے روایت ہے کہ اللہ نے فرمایا مجھ سے حاصل کرلو مجھ سے حاصل کرلو۔ تحقیق اللہ نے عورتوں کے لئے راستہ بنایا ہے کنوارا مرد کنواری عورت سے جو زنا کرنے والا ہو تو ان کو سو کوڑے مارو اور ایک سال کے لئے ملک بدر کرو (مصلحت کے تحت) اور شادی شدہ عورت سے زنا کرے تو سو کوڑے مارو اور رجم یعنی سنگسار کرو۔

Ubadah bin as-Samit reported: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Receive (teaching) from me, receive (teaching) from me. Allah has ordained a way for those (women). When an unmarried male commits adultery with an unmarried female (they should receive) one hundred lashes and banishment for one year. And in case of married male committing adultery with a married female, they shall receive one hundred lashes and be stoned to death.

4415Sahih Muslimصحیح

زنا کی حد کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

عمرو ناقد، ہشیم، منصور ان اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے

The above hadith is likewise narrated through another chain of transmitters.

4416Sahih Muslimصحیح

زنا کی حد کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ کَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ کُرِبَ لِذَلِکَ وَتَرَبَّدَ لَهُ وَجْهُهُ قَالَ فَأُنْزِلَ عَلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ فَلُقِيَ کَذَلِکَ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ خُذُوا عَنِّي فَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ وَالْبِکْرُ بِالْبِکْرِ الثَّيِّبُ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ رَجْمٌ بِالْحِجَارَةِ وَالْبِکْرُ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ نَفْيُ سَنَةٍ

محمد بن مثنی، ابن بشار، عبدالاعلی، سعید، قتادہ، حسن، حطان بن عبداللہ رقاشی، حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ پر جب وحی نازل کی جاتی تو آپ ﷺ اس وجہ سے مشکل محسوس کرتے اور آپ ﷺ کا چہرہ اقدس متغیر ہوجاتا راوی کہتے ہیں کہ ایک دن آپ ﷺ پر وحی نازل کی گئی تو اسی طرح کی کیفیت ہوگئی۔ پس جب آپ ﷺ سے وہ کیفیت ختم ہوگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا مجھ سے حاصل تحقیق عورتوں کے لئے اللہ نے راستہ نکالا ہے۔ شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت سے زنا کرے یا کنوارا مرد کنواری عورت سے زنا کرے تو (اس کی حد) سو کوڑے ہیں اور پتھروں کے ساتھ سنگسار کرنا بھی اور کنوارے مرد کو سو کوڑے مارے جائیں پھر ایک سال کے لئے ملک بدر کردیا جائے۔

Ubadah bin as-Samit reported that whenever Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) received revelation, he felt its rigour and the complexion of his face changed. One day revelation descended upon him, he felt the same rigour. When it was over and he felt relief, he said: Take from me. Verily Allah has ordained a way for them (the women who commit fornication): (When) a married man (commits adultery) with a married woman, and an unmarried male with an unmarried woman, then in case of married (persons) there is (a punishment) of one hundred lashes and then stoning (to death). And in case of unmarried persons, (the punishment) is one hundred lashes and exile for one year.

4417Sahih Muslimصحیح

زنا کی حد کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي کِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمَا الْبِکْرُ يُجْلَدُ وَيُنْفَی وَالثَّيِّبُ يُجْلَدُ وَيُرْجَمُ لَا يَذْکُرَانِ سَنَةً وَلَا مِائَةً

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، محمد بشار، معاذ بن ہشام، حضرت قتادہ (رض) سے بھی ان اسناد سے یہ حدیث مروی ہے۔ ان کی حدیث میں ہے کہ غیر شادی شدہ زانی کو کوڑے مارے جائیں گے اور سنگسار کیا جائے گا اور ان دونوں نے سال اور سو (کوڑوں) کا ذکر نہیں کیا۔

This hadith has been reported on the authority of Qatada with the same chain of transmitters except with this variation that the unmarried is to be lashed and exiled, and the married one is to be lashed and stoned. There is neither any mention of one year nor that of one hundred.

4418Sahih Muslimصحیح

شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ جَالِسٌ عَلَی مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْکِتَابَ فَکَانَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَةُ الرَّجْمِ قَرَأْنَاهَا وَوَعَيْنَاهَا وَعَقَلْنَاهَا فَرَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ فَأَخْشَی إِنْ طَالَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ مَا نَجِدُ الرَّجْمَ فِي کِتَابِ اللَّهِ فَيَضِلُّوا بِتَرْکِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ وَإِنَّ الرَّجْمَ فِي کِتَابِ اللَّهِ حَقٌّ عَلَی مَنْ زَنَی إِذَا أَحْصَنَ مِنْ الرِّجَالِ وَالنِّسَائِ إِذَا قَامَتْ الْبَيِّنَةُ أَوْ کَانَ الْحَبَلُ أَوْ الِاعْتِرَافُ

ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) رسول اللہ ﷺ کے منبر پر بیٹھے ہوئے فرما رہے تھے۔ بیشک اللہ نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور آپ ﷺ پر کتاب نازل فرمائی اور جو آپ ﷺ پر نازل کیا گیا اس میں آیت رجم بھی ہے۔ ہم نے اسے پڑھا، یاد رکھا اور اسے سمجھا۔ رسول اللہ ﷺ نے (زانی کو) سنگسار کیا اور آپ ﷺ کے بعد ہم نے بھی سنگسار کیا۔ پس میں ڈرتا ہوں کہ لوگوں پر زمانہ دراز گزرے گا کہ کہنے والا کہے گا کہ ہم اللہ کی کتاب میں سنگسار کا حکم نہیں پاتے تو وہ ایک فریضہ کو چھوڑنے پر گمراہ ہوں گے جسے اللہ نے نازل کیا ہے حالانکہ جب شادی شدہ مرد، عورت زنا کریں جب ان پر گواہی قائم ہوجائے یا اعتراف کرلیں تو اللہ کی کتاب میں اسے سنگسار کرنا ثابت ہے۔

Abdullah bin Abbas reported that Umar bin Khattab sat on the pulpit of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: Verily Allah sent Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) with truth and He sent down the Book upon him, and the verse of stoning was included in what was sent down to him. We recited it, retained it in our memory and understood it. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) awarded the punishment of stoning to death (to the married adulterer and adulteress) and, after him, we also awarded the punishment of stoning, I am afraid that with the lapse of time, the people (may forget it) and may say: We do not find the punishment of stoning in the Book of Allah, and thus go astray by abandoning this duty prescribed by Allah. Stoning is a duty laid down in Allahs Book for married men and women who commit adultery when proof is established, or if there is pregnancy, or a confession.

4419Sahih Muslimصحیح

شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن ابی عمر، سفیان، زہری ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters.

4420Sahih Muslimصحیح

شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ أَتَی رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَنَادَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَتَنَحَّی تِلْقَائَ وَجْهِهِ فَقَالَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ حَتَّی ثَنَی ذَلِکَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا شَهِدَ عَلَی نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ دَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبِکَ جُنُونٌ قَالَ لَا قَالَ فَهَلْ أَحْصَنْتَ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا فَکُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ فَرَجَمْنَاهُ بِالْمُصَلَّی فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ هَرَبَ فَأَدْرَکْنَاهُ بِالْحَرَّةِ فَرَجَمْنَاهُ

عبدالملک بن شعیب بن لیث ابن سعد، عقیل، ابن شہاب، ابی سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ مسجد میں تھے اور اس نے آپ ﷺ کو پکار کر کہا اے اللہ کے رسول ﷺ ؟ میں زنا کر بیٹھا ہوں۔ آپ ﷺ نے اس سے رو گردانی کی اور اس کی طرف سے چہرہ اقدس پھیرلیا۔ اس نے پھر آپ ﷺ سے کہا اے اللہ کے رسول ؟ میں زنا کر بیٹھا ہوں۔ آپ ﷺ نے اس سے اعراض کیا۔ یہاں تک کہ اس نے اپنی بات کو چار مرتبہ دھرایا۔ جب اس نے اپنے آپ پر چار گواہیاں دے دیں تو رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا کیا تجھے جنون ہوگیا ہے ؟ اس نے عرض کیا نہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو شادی شدہ ہے اس نے عرض کیا جی ہاں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے لے جاؤ اور سنگسار کردو۔ ابن شہاب نے کہا مجھے اس نے خبر دی جس نے جابر بن عبداللہ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں ان میں سے تھا جنہوں نے اسے رجم کیا۔ ہم نے اسے عیدگاہ میں سنگسار کیا۔ پس جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگا تو ہم نے اسے میدان مرہ میں پایا اور اسے سنگسار کردیا۔

Abu Hurairah (RA) reported that a person from amongst the Muslims came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) while he was in the mosque. He called him saying: Allahs Messenger. I have committed adultery. He (the Holy Prophet) turned away from him, He (again) came round facing him and said to him: Allahs Messenger, I have committed adultery. He (the Holy Prophet) turned away until he did that four times, and as he testified four times against his own self, Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) called him and said: Are you mad? He said: No. He (again) said: Are you married? He said: Yes. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Take him and stone him. Ibn Shihab (one of the narrators) said: One who had heard Jabir bin Abdullah saying this informed me thus: I was one of those who stoned him. We stoned him at the place of prayer (either that of Id or a funeral). When the stones hurt him, he ran away. We caught him in the Harra and stoned him (to death). This hadith has been narrated through another chain of transmitters.

4421Sahih Muslimصحیح

شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں

قَالَ مسلم وَرَوَاهُ اللَّيْثُ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

مسلم، لیث، عبدالرحمن بن خالد بن مسافر، ابن شہاب آگے دوسری سند ذکر کی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through other chains of transmitters.

4422Sahih Muslimصحیح

شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَيْضًا وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ کَمَا ذَکَرَ عُقَيْلٌ

عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابوالیمان، شعیب، زہری، ابن شہاب، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے بھی عقیل کی طرح یہ حدیث مذکور ہے۔

This hadith has been narrated through another chain of transmitters.

4423Sahih Muslimصحیح

شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَابْنُ جُرَيْجٍ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ رِوَايَةِ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ

ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، اسحاق بن ابراہیم، عبدالرزاق، معمر، ابن جریج، زہری، ابی سلمہ، جابر بن عبداللہ، عقیل، زہری، سعید، ابی سلمہ، ابوہریرہ اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔

This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira through other chains of transmitters.

4424Sahih Muslimصحیح

شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ رَأَيْتُ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ حِينَ جِيئَ بِهِ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ قَصِيرٌ أَعْضَلُ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَائٌ فَشَهِدَ عَلَی نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ أَنَّهُ زَنَی فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَعَلَّکَ قَالَ لَا وَاللَّهِ إِنَّهُ قَدْ زَنَی الْأَخِرُ قَالَ فَرَجَمَهُ ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ أَلَا کُلَّمَا نَفَرْنَا غَازِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَلَفَ أَحَدُهُمْ لَهُ نَبِيبٌ کَنَبِيبِ التَّيْسِ يَمْنَحُ أَحَدُهُمْ الْکُثْبَةَ أَمَا وَاللَّهِ إِنْ يُمْکِنِّي مِنْ أَحَدِهِمْ لَأُنَکِّلَنَّهُ عَنْهُ

ابوکامل، فضیل بن حسین حجدری، ابوعوانہ سماک بن حرب، حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے ماعز بن مالک (رض) کو دیکھا جب اسے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو چھوٹے قد والا اور طاقتور تھا۔ اس پر چادر نہ تھی۔ اس نے اپنے اوپر چار مرتبہ اس بات کی گواہی دی کہ اس نے زنا کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شاید تجھے شک ہو اس نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم اس خطاکار نے زنا کیا ہے۔ تو اسے سنگسار کردیا گیا۔ پھر آپ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا گیا جب ہماری جماعت اللہ کے راستہ میں جہاد کے لئے جاتی ہے ان میں سے کوئی پیچھے رہ جاتا ہے۔ اس کی آواز بکرے کی آواز کی طرح ہوتی ہے۔ وہ کسی کو تھوڑا سا دودھ دیتا ہے۔ سنو ! اللہ کی قسم اگر مجھے ان میں سے کسی پر قدرت دی میں اسے ضرور سزا دوں گا۔

Jabir bin ahadeeth reported: As he was being brought to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) I saw Maiz bin Malik-a short-statured person with strong sinews, having no cloak around him. He bore witness against his own self four times that he had committed adultery, whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Perhaps (you kissed her or embraced her). He said: No. by God, one deviating (from the path of virtue) has committed adultery. He then got him stoned (to death), and then delivered the address: Behold, as we set out for Jihad in the cause of Allah, one of you lagged behind and shrieked like the bleating of a male goat, and gave a small quantity of milk. By Allah, in case I get hold of him, I shall certainly punish him.

4425Sahih Muslimصحیح

شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُا أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَصِيرٍ أَشْعَثَ ذِي عَضَلَاتٍ عَلَيْهِ إِزَارٌ وَقَدْ زَنَی فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلَّمَا نَفَرْنَا غَازِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَخَلَّفَ أَحَدُکُمْ يَنِبُّ نَبِيبَ التَّيْسِ يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْکُثْبَةَ إِنَّ اللَّهَ لَا يُمْکِنِّي مِنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ إِلَّا جَعَلْتُهُ نَکَالًا أَوْ نَکَّلْتُهُ قَالَ فَحَدَّثْتُهُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ فَقَالَ إِنَّهُ رَدَّهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ

محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، سماک بن حرب، حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چھوٹے قد والا آدمی لایا گیا۔ اس پر ایک چادر تھی اس حال میں اس نے زنا کیا تھا۔ آپ ﷺ نے اسے دو مرتبہ رد فرمایا۔ پھر حکم دیا تو اسے رجم کردیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب ہماری جماعت اللہ کے راستہ میں جہاد کرتی ہے تم میں سے کوئی پیچھے رہ جاتا ہے بکرے کی آواز کی طرح آواز نکالتا ہے اور کسی عورت کو تھوڑا سا دودھ دیتا ہے بیشک اللہ مجھے ان میں سے کسی پر جب قوت و قبضہ دے گا تو میں اسے عبرت بنا دوں گا یا ایسی سزا دوں گا جو دوسروں کے لئے عبرت ہوگی راوی کہتے ہیں کہ یہ حدیث میں نے سعید بن جبیر سے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے اسے چار مرتبہ واپس کیا تھا۔

Jabir bin ahadeeth reported that there was brought to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) a short-statured person with thick uncombed hair, muscular body, having a mantle around him and he had committed adultery. He turned him away twice and then made pronouncement about him and he was stoned. Then Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: We set out for Jihad in the cause of Allah and one of you lagged behind and shrieked like the bleating of a male goat and one of then (goats gave a small quantity of milk. In case Allah gives me power over one of them, I will punish him (in such a way that it may have a deterrent effect upon others). In another narration transmitted on the authority of Said b Jubair (the words are), that He (the Holy Prophet) turned him away four times."

4426Sahih Muslimصحیح

شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ وَوَافَقَهُ شَبَابَةُ عَلَی قَوْلِهِ فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَامِرٍ فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، شبابہ، اسحاق بن ابراہیم، ابوعامر عقدی، شعبہ، سماک، جابر بن سمرہ اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔ ابن جعفر کی شبابہ نے دو مرتبہ کے لوٹانے میں موافقت کی ہے اور ابوعامر کی حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے اسے دو یا تین مرتبہ واپس کیا۔

This hadith has been narrated on the authority of Jabir bin ahadeeth through another chain of transmitters with the difference that along with the mentioning (of the fact) that he (the Holy Prophet) turned him away twice, or thrice.

4427Sahih Muslimصحیح

شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِکٍ أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْکَ قَالَ وَمَا بَلَغَکَ عَنِّي قَالَ بَلَغَنِي أَنَّکَ وَقَعْتَ بِجَارِيَةِ آلِ فُلَانٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ

قتیبہ بن سعید، ابوکامل جحدری، ابوعوانہ سماک سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ماعز بن مالک سے فرمایا کیا تیری جو بات مجھے پہنچی ہے وہ سچ ہے۔ تو انہوں نے عرض کی آپ ﷺ کو میرے بارے میں کیا بات پہنچی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تو نے آل فلاں کی لڑکی سے زنا کیا ہے۔ انہوں نے عرض کیا ہاں۔ پھر چار گواہیاں دیں پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو اسے رجم کیا گیا۔

Ibn Abbas (RA) reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to Maiz bin Malik: Is it true what has reached me about you? He said: What has reached you about me? He said: It has reached me that you have committed (adultery) with the slave-girl of so and so? He said: Yes. He (the narrator) said: He testified four times. He (the Holy Prophet) then made pronouncement about him and he was stoned (to death).