Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 222 of 379

4428Sahih Muslimصحیح

شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهُ مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي أَصَبْتُ فَاحِشَةً فَأَقِمْهُ عَلَيَّ فَرَدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا قَالَ ثُمَّ سَأَلَ قَوْمَهُ فَقَالُوا مَا نَعْلَمُ بِهِ بَأْسًا إِلَّا أَنَّهُ أَصَابَ شَيْئًا يَرَی أَنَّهُ لَا يُخْرِجُهُ مِنْهُ إِلَّا أَنْ يُقَامَ فِيهِ الْحَدُّ قَالَ فَرَجَعَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا أَنْ نَرْجُمَهُ قَالَ فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَی بَقِيعِ الْغَرْقَدِ قَالَ فَمَا أَوْثَقْنَاهُ وَلَا حَفَرْنَا لَهُ قَالَ فَرَمَيْنَاهُ بِالْعَظْمِ وَالْمَدَرِ وَالْخَزَفِ قَالَ فَاشْتَدَّ وَاشْتَدَدْنَا خَلْفَهُ حَتَّی أَتَی عُرْضَ الْحَرَّةِ فَانْتَصَبَ لَنَا فَرَمَيْنَاهُ بِجَلَامِيدِ الْحَرَّةِ يَعْنِي الْحِجَارَةَ حَتَّی سَکَتَ قَالَ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا مِنْ الْعَشِيِّ فَقَالَ أَوَ کُلَّمَا انْطَلَقْنَا غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَخَلَّفَ رَجُلٌ فِي عِيَالِنَا لَهُ نَبِيبٌ کَنَبِيبِ التَّيْسِ عَلَيَّ أَنْ لَا أُوتَی بِرَجُلٍ فَعَلَ ذَلِکَ إِلَّا نَکَّلْتُ بِهِ قَالَ فَمَا اسْتَغْفَرَ لَهُ وَلَا سَبَّهُ

محمد بن مثنی، عبدالاعلی، داود، ابی نضرہ، حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ بنی اسلم میں سے ایک آدمی جسے ماعز بن مالک کہا جاتا تھا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں برائی کو پہنچا ہوں (زنا کیا ہے) تو آپ ﷺ مجھ پر حد قائم کردیں تو نبی ﷺ نے اسے بار بار رد کیا۔ پھر آپ ﷺ نے ان کی قوم سے پوچھا تو انہوں نے کہا ہمیں اس میں کوئی بیماری معلوم نہیں لیکن اندازًا معلوم ہوتا ہے کہ اس سے کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہے جس کہ بارے میں اسے گمان ہے کہ سوائے حد قائم کئے کے اس سے نہ نکلے گی۔ راوی کہتا ہے کہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اسے سنگسار کردیں اسے بقیع غرقد کی طرف لے چلے نہ ہم نے اسے باندھا اور نہ اس کے لئے گڑھا کھودا۔ ہم نے اسے ہڈیوں ڈھیلوں اور ٹھکریوں سے مارا وہ بھاگا اور ہم بھی اس کے پیچھے دوڑے۔ یہاں تک کہ وہ حرہ کے عرض میں آگیا اور ہمارے لئے رکا تو ہم نے اسے میدان حرہ کے پتھروں سے مارا۔ یہاں تک کہ اس کا جسم ٹھنڈا ہوگیا۔ پھر شام کے وقت رسول اللہ ﷺ خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا ہم جب بھی اللہ کے راستہ میں جہاد کے لئے نکلتے ہیں تو کوئی آدمی ہمارے اہل میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ اس کی آواز بکرے کی آواز کی طرح ہوتی ہے مجھ پر یہ ضروری ہے کہ جو بھی آدمی جس نے ایسا عمل کیا ہو اور وہ میرے پاس لایا جائے تو میں اسے عبرتناک سزا دوں۔ راوی کہتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس کے لئے نہ مغفرت مانگی اور نہ اسے برا بھلا کہا۔

Abu Said reported that a person belonging to the clan of Aslam, who was called Maiz bin Malik, came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: I have committed immorality (adultery), so inflict punishment upon me. Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) turned him away again and again. He then asked his people (about the state of his mind). They said: We do not know of any ailment of his except that he has committed something about which he thinks that he would not be able to relieve himself of its burden but with the Hadd being imposed upon him. He (Maiz) came back to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and he commanded us to stone him. We took him to the Baqi al-Gharqad (the graveyard of Madinah). We neither tied him nor dug any ditch for him. We attacked him with bones, with clods and pebbles. He ran away and we ran after him until he came upon the stone ground (al-Harra) and stopped there and we stoned him with heavy stones of the Harra until he became motionless (he died). He (the Holy Prophet) then addressed (us) in the evening saying: Whenever we set forth on an expedition in the cause of Allah, some one of those connected with us shrieked (under the pressure of sexual lust) as the bleating of a male goat. It is essential that if a person having committed such a deed is brought to me, I should punish him. He neither begged forgiveness for him nor cursed him.

4429Sahih Muslimصحیح

شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَاهُ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْعَشِيِّ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ إِذَا غَزَوْنَا يَتَخَلَّفُ أَحَدُهُمْ عَنَّا لَهُ نَبِيبٌ کَنَبِيبِ التَّيْسِ وَلَمْ يَقُلْ فِي عِيَالِنَا

محمد بن حاتم بہز، یزید بن زریع، داؤد اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔ اس حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ شام کے وقت کھڑے ہوئے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر فرمایا اما بعد ! ان قوموں کا کیا حال ہے ؟ جب ہم لڑتے ہیں ان میں سے کوئی ایک ہم سے پیچھے رہ جاتا اس کی آواز بکرے کی آواز کی طرح ہوتی ہے اور في عيالنا نہیں فرمایا۔

Dawud narrated the hadith with the same chain of transmitters (and the words are): Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) stood up (to address the audience) in the evening and praised Allah, glorified Him and then said: What about the people, that as we set out on an expedition, one of you remained behind us and he shrieked like the bleating of a male goat? But he did not mention (these words): "People connected with us."

4430Sahih Muslimصحیح

شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّائَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کِلَاهُمَا عَنْ دَاوُدَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَی ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

سریج بن یونس، یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، معاویہ بن ہشام، سفیان اسی حدیث کی اور اسناد ذکر کی ہے۔ حضرت سفیان کی حدیث میں ہے کہ اس نے زنا کا تین مرتبہ اعتراف کیا۔

This hadith has been narrated on the authority of Dawud with the same chain of transmitters but with this variation that in the hadith narrated by Sufyan (the words are): "He made a confession of having committed adultery, thrice."

4431Sahih Muslimصحیح

شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَعْلَی وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ عَنْ غَيْلَانَ وَهُوَ ابْنُ جَامِعٍ الْمُحَارِبِيُّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَائَ مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي فَقَالَ وَيْحَکَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرْ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ قَالَ فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ جَائَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْحَکَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرْ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ قَالَ فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ جَائَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِکَ حَتَّی إِذَا کَانَتْ الرَّابِعَةُ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ فِيمَ أُطَهِّرُکَ فَقَالَ مِنْ الزِّنَی فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبِهِ جُنُونٌ فَأُخْبِرَ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَجْنُونٍ فَقَالَ أَشَرِبَ خَمْرًا فَقَامَ رَجُلٌ فَاسْتَنْکَهَهُ فَلَمْ يَجِدْ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزَنَيْتَ فَقَالَ نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ فَکَانَ النَّاسُ فِيهِ فِرْقَتَيْنِ قَائِلٌ يَقُولُ لَقَدْ هَلَکَ لَقَدْ أَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ وَقَائِلٌ يَقُولُ مَا تَوْبَةٌ أَفْضَلَ مِنْ تَوْبَةِ مَاعِزٍ أَنَّهُ جَائَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِهِ ثُمَّ قَالَ اقْتُلْنِي بِالْحِجَارَةِ قَالَ فَلَبِثُوا بِذَلِکَ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً ثُمَّ جَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ جُلُوسٌ فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ اسْتَغْفِرُوا لِمَاعِزِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ فَقَالُوا غَفَرَ اللَّهُ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهُمْ قَالَ ثُمَّ جَائَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ غَامِدٍ مِنْ الْأَزْدِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي فَقَالَ وَيْحَکِ ارْجِعِي فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ فَقَالَتْ أَرَاکَ تُرِيدُ أَنْ تُرَدِّدَنِي کَمَا رَدَّدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ وَمَا ذَاکِ قَالَتْ إِنَّهَا حُبْلَی مِنْ الزِّنَی فَقَالَ آنْتِ قَالَتْ نَعَمْ فَقَالَ لَهَا حَتَّی تَضَعِي مَا فِي بَطْنِکِ قَالَ فَکَفَلَهَا رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ حَتَّی وَضَعَتْ قَالَ فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَدْ وَضَعَتْ الْغَامِدِيَّةُ فَقَالَ إِذًا لَا نَرْجُمُهَا وَنَدَعُ وَلَدَهَا صَغِيرًا لَيْسَ لَهُ مَنْ يُرْضِعُهُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ إِلَيَّ رَضَاعُهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ فَرَجَمَهَا

محمد بن علاء ہمدانی، یحییٰ بن یعلی، ابن حارث محاربی، غیلان، ابن جامع محاربی، علقمہ بن مرثد، حضرت سلیمان بن بریدہ (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ماعز بن مالک نبی کریم ﷺ کہ پاس آئے اور عرض کی اے اللہ کے رسول ! مجھے پاک کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تیرے لئے ہلاکت ہو واپس جا، اللہ سے معافی مانگ اور اس کی طرف رجوع کر۔ تو وہ تھوڑی دور ہی جا کر لوٹ آئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! مجھے پاک کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہلاکت ہو تیرے لئے۔ لوٹ جا اللہ سے معافی مانگ اور اس کی طرف رجوع کر۔ وہ تھوڑی دور جا کر لوٹا پھر آکر عرض کی اے اللہ کے رسول ! مجھے پاک کریں تو نبی کریم ﷺ نے اسی طرح فرمایا یہاں تک کہ چوتھی دفعہ اسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تجھے کس بارے میں پاک کروں ؟ اس نے عرض کیا زنا سے تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کیا یہ دیوانہ ہے ؟ تو آپ ﷺ کو خبر دی گئی کہ وہ دیوانہ نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا اس نے شراب پی ہے ؟ تو ایک آدمی نے اٹھ کر اسے سونگھا اور اس سے شراب کی بدبو نہ پائی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے زنا کیا ؟ اس نے کہا ہاں۔ آپ ﷺ نے حکم دیا تو اسے رجم کیا گیا اور لوگ اس کے بارے میں دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یہ ہلاک ہوگیا اور اس کے گناہ نے اسے گھیر لیا اور دوسرے کہنے والے نے کہا کہ ماعز کی توبہ سے افضل کوئی توبہ نہیں۔ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا اس نے اپنا ہاتھ آپ ﷺ کے ہاتھ میں رکھ کر عرض کیا مجھے پتھروں سے قتل کردیں۔ پس صحابہ (رض) دو دن یا تین دن اسی بات پر ٹھہرے رہے یعنی اختلاف رہا۔ پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اس حال میں کہ صحابہ (رض) بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے سلام فرمایا اور بیٹھ گئے اور فرمایا ماعز بن مالک (رض) کے لئے بخشش مانگو صحابہ (رض) نے عرض کیا اللہ نے ماعز بن مالک (رض) کو معاف کردیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انہوں نے ایسی خالص توبہ کی ہے کہ اگر اس کو امت میں تقسیم کردیا جاتا تو ان سب کے لئے کافی ہوجاتی۔ پھر ایک عورت جو قبیلہ غامد سے تھی جو کہ ازد کی شاخ ہے آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوئی۔ اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! مجھے پاک کردیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تیرے لئے ہلاکت ہو واپس ہوجا اللہ سے معافی مانگ اور اس کی طرف رجوع کر اس نے عرض کیا کہ میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ مجھے واپس کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جیسا کہ آپ ﷺ نے ماعز (رض) کو واپس کیا آپ ﷺ نے فرمایا تجھے کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺ نے اس سے فرمایا وضع حمل تک جو تیرے پیٹ میں ہے ایک انصاری آدمی نے اس کی کفالت کی ذمہ داری لی یہاں تک کہ وضع حمل ہوگیا وہ نبی کریم ﷺ نے کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ غامدیہ نے وضع حمل کردیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہم اس وقت اسے رجم نہیں کریں گے کیونکہ ہم اس کے بچے کو چھوٹا چھوڑیں گے تو اسے دودھ کون پلائے گا ؟ انصار میں سے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ اس کی رضاعت میرے ذمہ ہے پھر اسے رجم کردیا گیا۔

Sulaiman bin Buraida reported on the authority of his father that Maiz bin Malik came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said to him: Messenger of Allah, purify me, whereupon he said: Woe be upon you, go back, ask forgiveness of Allah and turn to Him in repentance. He (the narrator) said that he went back not far, then came and said: Allahs Messenger, purify me. whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Woe be upon you, go back and ask forgiveness of Allah and turn to Him in repentance. He (the narrator) said that he went back not far, when he came and said: Allahs Messenger, purify me. Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said as he had said before. When it was the fourth time, Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: From what am I to purify you? He said: From adultery, Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) asked if he had been mad. He was informed that he was not mad. He said: Has he drunk wine? A person stood up and smelt his breath but noticed no smell of wine. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Have you committed adultery? He said: Yes. He made pronouncement about him and he was stoned to death. The people had been (divided) into two groups about him (Maiz). One of them said: He has been undone for his sins had encompassed him, whereas another said: There is no repentance more excellent than the repentance of Maiz, for he came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and placing his hand in his (in the Holy Prophets) hand said: Kill me with stones. (This controversy about Maiz) remained for two or three days. Then came Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to them (his Companions) as they were sitting. He greeted them with salutation and then sat down and said: Ask forgiveness for Maiz bin Malik. They said: May Allah forgive Maiz bin Malik. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: He (Maiz) has made such a repentance that if that were to be divided among a people, it would have been enough for all of them. He (the narrator) said: Then a woman of Ghamid, a branch of Azd, came to him and said: Messenger of of Allah, purify me, whereupon he said: Woe be upon you; go back and beg forgiveness from Allah and turn to Him in repentance. She said: I find that you intend to send me back as you sent back Maiz. bin Malik. He (the Holy, Prophet) said: What has happened to you? She said that she had become pregnant as a result of fornication. He (the Holy Prophet) said: Is it you (who has done that)? She said: Yes. He (the Holy Prophet) said to her: (You will not be punished) until you deliver what is there in your womb. One of the Ansar became responsible for her until she was delivered (of the child). He (that Ansari) came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said the woman of Ghamid has given birth to a child. He (the Holy Prophet) said: In that case we shall not stone her and so leave her infant with none to suckle him. One of the Ansar got up and said: Allahs Apostle, let the responsibility of his suckling be upon me. She was then stoned to death.

4432Sahih Muslimصحیح

شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَتَقَارَبَا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ الْأَسْلَمِيَّ أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَزَنَيْتُ وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي فَرَدَّهُ فَلَمَّا کَانَ مِنْ الْغَدِ أَتَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ فَرَدَّهُ الثَّانِيَةَ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی قَوْمِهِ فَقَالَ أَتَعْلَمُونَ بِعَقْلِهِ بَأْسًا تُنْکِرُونَ مِنْهُ شَيْئًا فَقَالُوا مَا نَعْلَمُهُ إِلَّا وَفِيَّ الْعَقْلِ مِنْ صَالِحِينَا فِيمَا نُرَی فَأَتَاهُ الثَّالِثَةَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ أَيْضًا فَسَأَلَ عَنْهُ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ وَلَا بِعَقْلِهِ فَلَمَّا کَانَ الرَّابِعَةَ حَفَرَ لَهُ حُفْرَةً ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ قَالَ فَجَائَتْ الْغَامِدِيَّةُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ فَطَهِّرْنِي وَإِنَّهُ رَدَّهَا فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ تَرُدُّنِي لَعَلَّکَ أَنْ تَرُدَّنِي کَمَا رَدَدْتَ مَاعِزًا فَوَاللَّهِ إِنِّي لَحُبْلَی قَالَ إِمَّا لَا فَاذْهَبِي حَتَّی تَلِدِي فَلَمَّا وَلَدَتْ أَتَتْهُ بِالصَّبِيِّ فِي خِرْقَةٍ قَالَتْ هَذَا قَدْ وَلَدْتُهُ قَالَ اذْهَبِي فَأَرْضِعِيهِ حَتَّی تَفْطِمِيهِ فَلَمَّا فَطَمَتْهُ أَتَتْهُ بِالصَّبِيِّ فِي يَدِهِ کِسْرَةُ خُبْزٍ فَقَالَتْ هَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ فَطَمْتُهُ وَقَدْ أَکَلَ الطَّعَامَ فَدَفَعَ الصَّبِيَّ إِلَی رَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَحُفِرَ لَهَا إِلَی صَدْرِهَا وَأَمَرَ النَّاسَ فَرَجَمُوهَا فَيُقْبِلُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بِحَجَرٍ فَرَمَی رَأْسَهَا فَتَنَضَّحَ الدَّمُ عَلَی وَجْهِ خَالِدٍ فَسَبَّهَا فَسَمِعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّهُ إِيَّاهَا فَقَالَ مَهْلًا يَا خَالِدُ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَکْسٍ لَغُفِرَ لَهُ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَصَلَّی عَلَيْهَا وَدُفِنَتْ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، محمد بن عبداللہ بن نمیر، بشیر بن مہاجر، حضرت عبداللہ بن بریدہ (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک اسلمی (رض) رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور زنا کیا اور میں ارادہ کرتا ہوں کہ آپ ﷺ مجھے پاک کردیں آپ ﷺ نے اسے لوٹا دیا (واپس کردیا) اگلی صبح وہ پھر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ تحقیق میں نے زنا کیا آپ ﷺ نے دوسری مرتبہ بھی واپس کردیا اور رسول اللہ ﷺ نے اس کی قوم کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا کیا تم اس کی عقل میں کوئی خرابی جانتے ہو اور تم نے اس میں کوئی غیر پسندیدہ بات دیکھی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم تو اسے اپنے برگزیدہ لوگوں میں سے کامل العقل جانتے ہیں ماعز آپ ﷺ کے پاس تیسری مرتبہ آیا تو آپ ﷺ نے ان کی قوم کے پاس پیغام بھیجوایا اور اس نے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے آپ ﷺ کو خبر دی کہ اسے کوئی بیماری نہ ہے اور نہ ہی عقل میں خرابی ہے جب چوتھی بار ہوئی تو اس کے لئے گڑھا کھودا گیا پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو اسے سنگسار کردیا گیا راوی کہتے ہیں کہ پھر غامدیہ عورت آئی اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول تحقیق میں نے زنا کیا پس آپ ﷺ نے مجھے پاک کردیں آپ ﷺ نے اسے واپس کردیا جب اگلی صبح ہوئی تو اسے نے کہا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ مجھے کیوں واپس کرتے ہیں شاید کہ آپ ﷺ مجھے اسی طرح واپس کرتے ہیں جیسا کہ آپ نے ماعز کو واپس کیا اللہ کی قسم میں تو البتہ حاملہ ہوں آپ ﷺ نے فرمایا اچھا اگر تو واپس نہیں جانا چاہتی تو جا یہاں تک کہ بچہ جن لے۔ جب اس نے بچہ جن لیا تو وہ بچہ کو ایک کپڑے میں لپیٹ کرلے آئی اور عرض کیا یہ میں نے بچہ جن دیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا جا اور اسے دودھ پلا یہاں تک کہ یہ کھانے کے قابل ہوجائے یعنی دودھ چھڑا دے پس جب اس نے اس کا دودھ چھڑایا تو وہ بچہ لے کر حاضر ہوئی اس حال میں کہ بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا اور عرض کی اے اللہ کے نبی میں نے اس کو دودھ چھڑا دیا ہے اور یہ کھانا کھاتا ہے آپ ﷺ نے وہ بچہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی انصاری کے سپرد کیا پھر حکم دیا تو اس کے سینے تک گڑھا کھودا گیا اور لوگوں کو حکم دیا تو انہوں نے اسے سنگسار کردیا پس خالد بنی ولید متوجہ ہوئے اور اس کے سر پر ایک پتھر مارا تو خون کی دھار خالد (رض) کے چہرے پر آپڑی اور انہوں نے اسے برا بھلا کہا اللہ کے نبی ﷺ نے ان کی اس بری بات کو سنا تو روکتے ہوئے فرمایا اے خالد اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تحقیق اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ناجائز ٹیکس وصول کرنے والا بھی ایسی توبہ کرتا تو اسے معاف کردیا جاتا پھر آپ ﷺ نے حکم دیا اور اس کا جنازہ ادا کیا گیا اور دفن کیا گیا

Abdullah bin Buraida reported on the authority of his father that Maiz bin Malik al-Aslami came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: Allahs Messenger, I have wronged myself; I have committed adultery and I earnestly desire that you should purify me. He turned him away. On the following day, he (Maiz) again came to him and said: Allahs Messenger, I have committed adultery. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) turned him away for the second time, and sent him to his people saying: Do you know if there is anything wrong with his mind. They denied of any such thing in him and said: We do not know him but as a wise good man among us, so far as we can judge. He (Maiz) came for the third time, and he (the Holy Prophet) sent him as he had done before. He asked about him and they informed him that there was nothing wrong with him or with his mind. When it was the fourth time, a ditch was dug for him and he (the Holy Prophet) pronounced judg- ment about him and he wis stoned. He (the narrator) said: There came to him (the Holy Prophet) a woman from Ghamid and said: Allahs Messenger, I have committed adultery, so purify me. He (the Holy Prophet) turned her away. On the following day she said: Allahs Messenger, Why do you turn me away? Perhaps, you turn me away as you turned away Maiz. By Allah, I have become pregnant. He said: Well, if you insist upon it, then go away until you give birth to (the child). When she was delivered she came with the child (wrapped) in a rag and said: Here is the child whom I have given birth to. He said: Go away and suckle him until you wean him. When she had weaned him, she came to him (the Holy Prophet) with the child who was holding a piece of bread in his hand. She said: Allahs Apostle, here is he as I have weaned him and he eats food. He (the Holy Prophet) entrusted the child to one of the Muslims and then pronounced punishment. And she was put in a ditch up to her chest and he commanded people and they stoned her. Khalid b Walid came forward with a stone which he flung at her head and there spurted blood on the face of Khalid and so he abused her. Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) heard his (Khalids) curse that he had huried upon her. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Khalid, be gentle. By Him in Whose Hand is my life, she has made such a repentance that even if a wrongful tax-collector were to repent, he would have been forgiven. Then giving command regarding her, he prayed over her and she was buried.

4433Sahih Muslimصحیح

شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ مَالِکُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ أَنَّ أَبَا الْمُهَلَّبِ حَدَّثَهُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حُبْلَی مِنْ الزِّنَی فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ فَدَعَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا فَقَالَ أَحْسِنْ إِلَيْهَا فَإِذَا وَضَعَتْ فَأْتِنِي بِهَا فَفَعَلَ فَأَمَرَ بِهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشُکَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ ثُمَّ صَلَّی عَلَيْهَا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ تُصَلِّي عَلَيْهَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَقَدْ زَنَتْ فَقَالَ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ وَهَلْ وَجَدْتَ تَوْبَةً أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ تَعَالَی

ابوغسان، مالک بن عبدالواحد مسمعی، معاذ یعنی ابن ہشام، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوقلابہ، ابوالمہلب، حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت جہنیہ قبیلہ کی اللہ کے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس حال میں کہ وہ زنا سے حاملہ تھی اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! میں حد کے جرم کو پہنچی ہوں پس آپ ﷺ مجھ پر (حد) قائم کریں تو اللہ کے نبی ﷺ نے اس کے ولی کو بلایا اور فرمایا کہ اسے اچھی طرح رکھنا۔ جب حمل وضع ہوجائے تو اسے میرے پاس لے آنا۔ پس اس نے ایسا ہی کیا۔ اللہ کے نبی ﷺ نے عورت کے بارے میں حکم دیا تو اس پر اس کے کپڑے مضبو طی سے باندھ دیئے گئے پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو اسے سنگسار کردیا گیا۔ پھر آپ ﷺ نے اس کا جنازہ پڑھایا۔ تو حضرت عمر (رض) نے آپ ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! آپ ﷺ اس کا جنازہ پڑھاتے ہیں حالانکہ اس نے زنا کیا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا تحقیق ! اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر مدینہ والوں میں ستر آدمیوں کے درمیان تقیسم کی جائے تو انہیں کافی ہوجائے اور کیا تم نے اس سے افضل توبہ پائی ہے کہ اس نے اپنے آپ کو اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے پیش کردیا ہے۔

Imran bin Husain reported that a woman from Juhaina came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and she had become pregnant because of adultery. She said: Allahs Apostle, I have done something for which (prescribed punishment) must be imposed upon me, so impose that. Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) called her master and said: Treat her well, and when she delivers bring her to me. He did accordingly. Then Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) pronounced judgment about her and her clothes were tied around her and then he commanded and she was stoned to death. He then prayed over her (dead body). Umar said to him: Allahs Apostle, you offer prayer for her, whereas she had committed adultery! Thereupon he said: She has made such a repentance that if it were to be divided among seventy men of Madinah, it would be enough. Have you found any repentance better than this that she sacrficed her life for Allah, the Majestic?

4434Sahih Muslimصحیح

شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان بن مسلم، ابان عطار، یحییٰ بن ابی کثیر ان اسناد سے یہ حدیث مروی ہے

This hadith has been transmitted on the authority of Yahya bin Abu Kathir.

4435Sahih Muslimصحیح

شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُمَا قَالَا إِنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَعْرَابِ أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْشُدُکَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ لِي بِکِتَابِ اللَّهِ فَقَالَ الْخَصْمُ الْآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ نَعَمْ فَاقْضِ بَيْنَنَا بِکِتَابِ اللَّهِ وَأْذَنْ لِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ قَالَ إِنَّ ابْنِي کَانَ عَسِيفًا عَلَی هَذَا فَزَنَی بِامْرَأَتِهِ وَإِنِّي أُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَی ابْنِي الرَّجْمَ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَوَلِيدَةٍ فَسَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّمَا عَلَی ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَأَنَّ عَلَی امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَکُمَا بِکِتَابِ اللَّهِ الْوَلِيدَةُ وَالْغَنَمُ رَدٌّ وَعَلَی ابْنِکَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ إِلَی امْرَأَةِ هَذَا فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا قَالَ فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَتْ

قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود، حضرت ابوہریرہ (رض) اور حضرت زید بن خالد جہنی (رض) سے روایت ہے کہ دیہاتیوں میں سے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ ﷺ میرے لئے اللہ کی کتاب کے ساتھ فیصلہ فرمائیں۔ دوسرے فریق نے کہا اور وہ اس سے زیادہ سمجھدار تھا کہ آپ ﷺ ہمارے درمیان کتاب اللہ سے فیصلہ فرما دیں اور مجھے اجازت دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیان کرو۔ اس نے کہا میرا بیٹا اس کے ہاں ملازم تھا اور اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کیا ہے۔ تو مجھے خبر دی گئی کہ میرے بیٹے کو سنگسار کرنا لازم ہے تو میں نے اس کا بدلہ اپنے بیٹے کی طرف سے ایک سو بکریاں اور ایک باندی ادا کردی۔ پھر میں نے اہل علم سے پوچھا انہوں نے مجھے خبر دی کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے ہیں اور ایک سال کے لئے جلا وطنی اور اس کی بیوی کو سنگسار کرنا لازم ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا۔ لونڈی اور بکریاں تو واپس ہیں اور تیرے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کی جلاوطنی۔ اے انیس ! کل صبح اس عورت کی طرف جا۔ اگر وہ اعتراف کرلے تو اسے سنگسار کر دے۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس کے پاس صبح کی اس نے اعتراف کرلیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے سنگسار کردیا گیا۔

Abu Hurairah (RA) and Zaid b Khalid al-Juhani reported that one of the desert tribes came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: Messenger of Allah, I beg of you in the name of Allah that you pronounce judgment about me according to the Book of Allah. The second claimant who was wiser than him said: Well, decide amongst us according to the Book of Allah, but permit me (to say something). Thereupon Allahs Messenger (may peace be upon ham) said: Say. He said: My son was a servant in the house of this person and he committed adultery with his wife. I was informed that my son deserved stoning to death (as punishment for this offence). I gave one hundred goats and a slave girl as ransom for this. I asked the scholars (if this could serve as an expiation for this offence). They informed me that my son deserved one hundred lashes and exile for one year and this woman deserved stoning (as she was married). Thereupon Allahs Messenger (may peace he upon him) said: By Him in Whose Hand is my life, I will decide between you according to the Book of Allah. The slave-girl and the goats should be given back, and your son is to be punished with one hundred lashes and exile for one year. And, O Unais (b. Zuhaq al-Aslami), go to this woman in the morning, and if she makes a confession, then stone her. He (the narrator) said: He went to her in the morning and she made a confession. And Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) made pronouncement about her and she was stoned to death.

4436Sahih Muslimصحیح

شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

ابوطاہر، حرملہ، ابن وہب، یونس، عمرو ناقد، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، صالح، عبد بن حمید، عبدالرزاق، زہری ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters.

4437Sahih Muslimصحیح

ذمی یہودیوں کو زنا سنگسار کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَقَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِيَهُودِيٍّ وَيَهُودِيَّةٍ قَدْ زَنَيَا فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی جَائَ يَهُودَ فَقَالَ مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ عَلَی مَنْ زَنَی قَالُوا نُسَوِّدُ وُجُوهَهُمَا وَنُحَمِّلُهُمَا وَنُخَالِفُ بَيْنَ وُجُوهِهِمَا وَيُطَافُ بِهِمَا قَالَ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِينَ فَجَائُوا بِهَا فَقَرَئُوهَا حَتَّی إِذَا مَرُّوا بِآيَةِ الرَّجْمِ وَضَعَ الْفَتَی الَّذِي يَقْرَأُ يَدَهُ عَلَی آيَةِ الرَّجْمِ وَقَرَأَ مَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا وَرَائَهَا فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْهُ فَلْيَرْفَعْ يَدَهُ فَرَفَعَهَا فَإِذَا تَحْتَهَا آيَةُ الرَّجْمِ فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ کُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُمَا فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَقِيهَا مِنْ الْحِجَارَةِ بِنَفْسِهِ

حکم بن موسی، ابوصالح، شعیب بن اسحاق، عبیداللہ نافع، حضرت عبدالرحمن بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک یہودی اور یہودیہ کو لایا گیا ان دونوں نے زنا کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ یہود کے پاس تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم تورات میں کیا پاتے ہو اس کے بارے میں جس نے زنا کیا ؟ انہوں نے کہا ہم ان کے چہروں کو سیاہ کرتے ہیں اور سوار کرتے ہیں اس طرح کہ ہم ان کے چہروں کو ایک دوسرے کے مخالف کرتے ہیں اور ان کو چکر لگواتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم سچے ہو تو تورات لے آو۔ وہ اسے لے آئے اور پڑھنا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ آیت رجم تک پہنچے تو اس نوجوان نے جو پڑھ رہا تھا اپنا ہاتھ آیت پر رکھ لیا اور اس کے آگے اور پیچھے سے پڑھنا شروع کردیا تو آپ ﷺ سے حضرت عبداللہ بن سلام (رض) نے کہا جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ آپ ﷺ اسے ہاتھ اٹھانے کا حکم دیں۔ اس نے ہٹایا تو اس کے نیچے آیت رجم تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا، انہیں رجم کردیا گیا۔ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا میں بھی ان دونوں کو سنگسار کرنے والو میں سے تھا۔ تحقیق ! میں نے اس مرد کو دیکھا کہ وہ اپنے آپ پر پتھر برداشت کرکے اس عورت کو بچا رہا تھا۔

Abdullah bin Umar reported that a Jew and a Jewess were brought to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who had committed adultery. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came to the Jews and said: What do you find in Torah for one who commits adultery? They said: We darken their faces and make them ride on the donkey with their faces turned to the opposite direction (and their backs touching each other), and then they are taken round (the city). He said: Bring Torah if you are truthful. They brought it and recited it until when they came to the verse pertaining to stoning, the person who was reading placed his hand on the verse pertaining to stoning, and read (only that which was) between his hands and what was subsequent to that.Abdullah bin Salim who was at that time with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Command him (the reciter) to lift his hand. He lifted it and there was, underneath that, the verse pertaining to stoning. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) pronounced judgment about both of them and they were stoned.Abdullah bin Umar said: I was one of those who stoned them, and I saw him (the Jew) protecting her (the Jewess) with his body.

4438Sahih Muslimصحیح

ذمی یہودیوں کو زنا سنگسار کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ أَنَّ نَافِعًا أَخْبَرَهُمْ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ فِي الزِّنَی يَهُودِيَّيْنِ رَجُلًا وَامْرَأَةً زَنَيَا فَأَتَتْ الْيَهُودُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمَا وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ

زہیر بن حرب، اسماعیل یعنی ابن علیہ، ایوب، ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، مالک بن انس، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو یہودیوں ایک مرد اور ایک عورت کو زنا میں رجم کیا جنہوں نے زنا کیا تھا اور یہود انہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لائے۔ باقی حدیث مبارکہ گزر چکی ہے۔

Ibn Umar (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) stoned to death the Jews, both male and female, who had committed adultery. The Jews brought them to Allahs Messenger (may peace he upon him). The rest of the hadith is the same.

4439Sahih Muslimصحیح

ذمی یہودیوں کو زنا سنگسار کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ الْيَهُودَ جَائُوا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ مِنْهُمْ وَامْرَأَةٍ قَدْ زَنَيَا وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ

احمد بن یونس زہیر، موسیٰ بن عقبہ، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ یہود اپنے میں سے ایک آدمی اور عورت کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لائے جنہوں نے زنا کیا تھا۔ باقی حدیث گزر چکی۔

Ibn Umar reported that the Jews brought to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) a man and a woman who had committed adultery. The rest of the hadith is the same

4440Sahih Muslimصحیح

ذمی یہودیوں کو زنا سنگسار کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ مُرَّ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِيٍّ مُحَمَّمًا مَجْلُودًا فَدَعَاهُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَکَذَا تَجِدُونَ حَدَّ الزَّانِي فِي کِتَابِکُمْ قَالُوا نَعَمْ فَدَعَا رَجُلًا مِنْ عُلَمَائِهِمْ فَقَالَ أَنْشُدُکَ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَی مُوسَی أَهَکَذَا تَجِدُونَ حَدَّ الزَّانِي فِي کِتَابِکُمْ قَالَ لَا وَلَوْلَا أَنَّکَ نَشَدْتَنِي بِهَذَا لَمْ أُخْبِرْکَ نَجِدُهُ الرَّجْمَ وَلَکِنَّهُ کَثُرَ فِي أَشْرَافِنَا فَکُنَّا إِذَا أَخَذْنَا الشَّرِيفَ تَرَکْنَاهُ وَإِذَا أَخَذْنَا الضَّعِيفَ أَقَمْنَا عَلَيْهِ الْحَدَّ قُلْنَا تَعَالَوْا فَلْنَجْتَمِعْ عَلَی شَيْئٍ نُقِيمُهُ عَلَی الشَّرِيفِ وَالْوَضِيعِ فَجَعَلْنَا التَّحْمِيمَ وَالْجَلْدَ مَکَانَ الرَّجْمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَوَّلُ مَنْ أَحْيَا أَمْرَکَ إِذْ أَمَاتُوهُ فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنْکَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْکُفْرِ إِلَی قَوْلِهِ إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ يَقُولُ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ أَمَرَکُمْ بِالتَّحْمِيمِ وَالْجَلْدِ فَخُذُوهُ وَإِنْ أَفْتَاکُمْ بِالرَّجْمِ فَاحْذَرُوا فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی وَمَنْ لَمْ يَحْکُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِکَ هُمْ الْکَافِرُونَ وَمَنْ لَمْ يَحْکُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِکَ هُمْ الظَّالِمُونَ وَمَنْ لَمْ يَحْکُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِکَ هُمْ الْفَاسِقُونَ فِي الْکُفَّارِ کُلُّهَا

یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابی معاویہ، اعمش، عبداللہ بن مرہ، حضرت براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے سے ایک یہودی سیاہ کیا ہوا کوڑے کھائے ہوئے گزرا تو آپ ﷺ نے یہودیوں کو بلوا کر فرمایا کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی سزا اسی طرح پا تے ہو ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! تو آپ ﷺ نے ان کے علماء میں سے ایک آدمی کو بلا کر فرمایا میں تجھے اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل کی کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی سزا اسی طرح پاتے ہو۔ اس نے کہا نہیں ! اور اگر آپ ﷺ مجھے یہ قسم نہ دیتے تو کبھی آپ ﷺ کو خبر نہ دیتا۔ ہم سنگسار کرنا ہی پاتے ہیں لیکن ہمارے معزز لوگوں میں زنا کی کثرت ہوگئی۔ پس جب ہم کسی معزز کو پکڑتے تو اسے چھوڑ دیتے اور جب ہم کسی کمزور و ضعیف آدمی کو پکڑتے تو اس پر حد قائم کردیتے۔ ہم نے کہا آؤ ! ہم ایسی سزا پر جمع ہوجائیں جسے ہم معزز و غیرمعزز پر قائم کریں گے۔ تو ہم نے کوئلے سے منہ کالا کرنے اور کوڑے مارنے کو رجم کی جگہ مقرر کردیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! میں وہ پہلا ہوں جس نے تیرے حکم کو زندہ کیا جبکہ وہ اسے ختم کرچکے تھے۔ چناچہ آپ ﷺ نے حکم دیا تو اسے سنگسار کیا گیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی " اے رسول آپ ﷺ کو وہ لوگ غمگین نہ کریں جو کفر میں بڑھنے والے ہیں جنہوں نے اپنے منہ سے تو کہا کہ ہم ایمان لائے ہیں لیکن ان کے دل ایمان نہ لائے اور جو یہودیوں سے جھوٹ بولنے کے لئے جاسوسی کرتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کے لئے جاسوسی کرتے ہیں جو ابھی تک آپ ﷺ کے پاس نہیں آئے اور وہ اللہ کے کلام کو اپنی جگہ سے تبدیل کردیتے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہے اگر تم کو یہ حکم (ہمارا بتایا ہوا) دیا جائے تو اسے لے لو۔ اگر تم کو یہ (حکم) نہ دیا جائے تو بچو۔ خلاصہ یہ کہ یہود کہتے ہیں کہ چلو محمد ﷺ کے پاس اگر وہ تمہیں منہ کالا کرنے اور کوڑے مارنے کا حکم دیں تو قبول کرلو اور اگر وہ تمہیں رجم کا فتوی دیں تو اسے چھوڑ دو ۔ تو اللہ نے یہ آیات نازل کیں جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں۔ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہ فاسق ہیں۔ یہ آیات کفار کے بارے میں نازل ہوئیں۔

Al-Bara bin Azib (RA) reported: There happened to pass by Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) a Jew blackened and lashed. Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) called them (the Jews) and said: Is this the punishment that you find in your Book (Torah) as a prescribed punishment for adultery? They said: Yes. He (the Holy Prophet) called one of the scholars amongst them and said: I ask you in the name of Allah Who sent down the Torah on Moses (علیہ السلام) if that is the prescribed punishment for adultery that you find in your Book. He said: No. Had you not asked me in the name of Allah, I would not have given you this information. We find stoning to death (as punishment prescribed in the Torah). But this (crime) became quite common amongst our aristocratic class. So when we caught hold of any rich person (indulging in this offence) we spared him, but when we caught hold of a helpless person we imposed the prescribed punishment upon him. We then said: Let us agree (on a punishment) which we can inflict both upon the rich and the poor. So We decided to blacken the face with coal and flog as a substitute punishment for stoning. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: O Allah, I am the first to revive Thy command when they had made it dead. He then commanded and he (the offender) was stoned to death. Allah, the Majestic and Glorious, sent down (this verse): "O Messenger, (the behaviour of) those who vie with one another in denying the truth should not grieve you..." up to "is vouchsafed unto you, accept it" (v. 41) 2176 It was said (by the Jews): Go to Muhammad; it he commands you to blacken the face and award flogging (as punishment for adultery), then accept it, but it he gives verdict for stoning, then avoid it. It was (then) that Allah, the Majestic and Great, sent down (these verses): "And they who do not judge in accordance with what Allah has revealed are, indeed, deniers of the truth" (v. 44); "And they who do not judge in accordance with what Allah has revealed-they indeed are the wrongdoers" (v. 45);" And they who do not judge in accordance with what God has revealed-they are the iniquitous (v. 47). (All these verses) were revealed in connection with the non-believers.

4441Sahih Muslimصحیح

ذمی یہودیوں کو زنا سنگسار کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ إِلَی قَوْلِهِ فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ وَلَمْ يَذْکُرْ مَا بَعْدَهُ مِنْ نُزُولِ الْآيَةِ

ابن نمیر، ابوسعید اشج، وکیع، اعمش دوسری سند مذکور ہے لیکن اس میں یہاں تک ہی ہے کہ نبی ﷺ نے رجم کا حکم دیا۔ اسے رجم کیا گیا۔ اس کے بعد مذکور نہیں۔

This hadith has been narrated on the authority of Amash up to the words: "Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) pronounced judgment and he was stoned (to death)" And he mentioned nothing subsequent to that pertaining to the revelation of verses.

4442Sahih Muslimصحیح

ذمی یہودیوں کو زنا سنگسار کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا رَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ وَرَجُلًا مِنْ الْيَهُودِ وَامْرَأَتَهُ

ہارون بن عبداللہ، حجاج بن محمد، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے بنی اسلم کے ایک آدمی اور یہود کے ایک آدمی اور ایک عورت کو رجم کیا۔

Jabir bin Abdullah reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) stoned (to death) a person from Banu Aslam, and a Jew and his wife.

4443Sahih Muslimصحیح

ذمی یہودیوں کو زنا سنگسار کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَامْرَأَةً

اسحاق بن ابراہیم، روح بن عبادہ، ابن جریج اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔

This hadith has been transmitted on the authority of Juraij with a slight variation of words.

4444Sahih Muslimصحیح

ذمی یہودیوں کو زنا سنگسار کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَی ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ الشَّيْبَانِيِّ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَی هَلْ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْتُ بَعْدَ مَا أُنْزِلَتْ سُورَةُ النُّورِ أَمْ قَبْلَهَا قَالَ لَا أَدْرِي

ابوکامل جحدری، عبدالواحد، سلیمان شیبانی، عبداللہ بن ابی اوفی، ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، حضرت ابواسحاق شیبانی (رح) سے روایت ہے کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ (رض) سے پوچھا کیا رسول اللہ ﷺ نے رجم کیا ؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ میں نے کہا سورت النور کے نازل کئے جانے سے پہلے یا بعد میں ؟ انہوں نے کہا میں نہیں جانتا۔

Abu Ishaq Shaibani said: I asked Abdullah bin Abu Aufi if Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) awarded (the punishment) of stoning (to death). He said: Yes. I said: After Sura al-Nur was revealed or before that? He said: I do not know.

4445Sahih Muslimصحیح

ذمی یہودیوں کو زنا سنگسار کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي عِيسَی بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِکُمْ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَلْيَجْلِدْهَا الْحَدَّ وَلَا يُثَرِّبْ عَلَيْهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ الثَّالِثَةَ فَتَبَيَّنَ زِنَاهَا فَلْيَبِعْهَا وَلَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعَرٍ

عیسیٰ بن حماد مصری، لیث، سعید بن ابی سعید، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے اور اس کا زنا ظاہر ہوجائے تو اسے حد کے طور پر کوڑے مارے جائیں اور اس کا زنا ظاہر ہوجائے تو چاہیے کہ اسے فروخت کر دے اگرچہ بال کی ایک رسی ہی کے بدلہ میں ہو۔

Abu Hurairah (RA) reported that he heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: When the slave-woman of any of you commits adultery and this (offence of hers) becomes clear, she should be flogged (as the presribed) punishment, but hurl no reproach at her. If she commits adultery again, she should (again be punished) by flogging, but hurl no reproach upon her. If she commits fornication for the third time and it becomes clear, then he should sell her, even if only for a rope of hair.

4446Sahih Muslimصحیح

ذمی یہودیوں کو زنا سنگسار کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ الْبُرْسَانِيُّ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ کِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ح و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَقَ قَالَ فِي حَدِيثِهِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَلْدِ الْأَمَةِ إِذَا زَنَتْ ثَلَاثًا ثُمَّ لِيَبِعْهَا فِي الرَّابِعَةِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، ابن عیینہ، عبد بن حمید، محمد بن بکر برسانی، ہشام بن حسان، ایوب ابن موسی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، ابن نمیر، عبیداللہ بن عمر، ہارون ابن سعید ایلی، ابن وہب، اسامہ بن زید، ہناد بن سری، ابوکریب، اسحاق بن ابراہیم، عبدہ بن سلیمان، محمد بن اسحاق، سعید مقبری، ابوہریرہ مختلف اسناد سے یہ حدیث حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے باندی کو کوڑے مارنے کے بارے میں فرمایا جب وہ تین مرتبہ زنا کرچکے پھر چوتھی بار چاہیے کہ اسے فروخت کر دے۔

This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) and Zaid bin Khalid al-Juhani, but in this no mention is made of the words of Ibn Shihab that dafir means rope.

4447Sahih Muslimصحیح

ذمی یہودیوں کو زنا سنگسار کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا مَالِکٌ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْأَمَةِ إِذَا زَنَتْ وَلَمْ تُحْصِنْ قَالَ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ بِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ لَا أَدْرِي أَبَعْدَ الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ وَقَالَ الْقَعْنَبِيُّ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَالضَّفِيرُ الْحَبْلُ

عبداللہ بن مسلمہ قعنبی، مالک، یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اس باندی کے بارے میں سوال کیا گیا جو غیر شادی شدہ ہو اور زنا کرے آپ ﷺ نے فرمایا اگر وہ زنا کرے تو اسے کوڑے مارو۔ اگر پھر زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ اگر پھر بھی زنا کرے تو اسے کوڑے مارو پھر اسے فروخت کردو اگرچہ رسی ہی کے بدلہ میں۔ ابن شہاب نے کہا میں نہیں جانتا تیسری مرتبہ کے بعد یا چوتھی مرتبہ کے بعد اور رسی کو ضفیر کہتے ہیں

This hadith has been transmitted on the authority of Abu Hurairah (RA) and Zaid bin Khalid al-Juhani in the same way as transmitted by Malik with this (difference) tnat there is a doubt whether her sale (that of the slave-girl committing adultery) was mentioned after the third or the fourth time.