Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 223 of 379

4448Sahih Muslimصحیح

ذمی یہودیوں کو زنا سنگسار کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ سَمِعْتُ مَالِکًا يَقُولُ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْأَمَةِ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا وَلَمْ يَذْکُرْ قَوْلَ ابْنِ شِهَابٍ وَالضَّفِيرُ الْحَبْلُ

ابوطاہر، ابن وہب، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، حضرت ابوہریرہ (رض) اور حضرت زید بن خالد الجہنی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے باندی کے بارے میں پوچھا گیا۔ باقی حدیث اسی طرح ہے لیکن اس میں ابن شہاب کا قول ضفیر رسی کو کہتے ہیں مذکور نہیں۔

This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira and Zaid b. Khalid al-Jubani, but in this no merition is made of the words of Ibn Shihab that dafir means rope.

4449Sahih Muslimصحیح

ذمی یہودیوں کو زنا سنگسار کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِکٍ وَالشَّکُّ فِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا فِي بَيْعِهَا فِي الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ

عمرو ناقد، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، صالح، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، عبیداللہ، حضرت ابوہریرہ اور حضرت زید خالد الجہنی (رض) نے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے لیکن ان کی حدیث میں تیسری یا چوتھی مرتبہ بیچنے میں شک ہے۔

This hadith has been transmitted on the authority of Abu Huraira and Zaid b. Khalid al-Juhani in the same way as transmitted by Malik with this (difference) tnat there is a doubt whether her sale (that of the slave-girl committing adultery) was mentioned after the third or the fourth time.

4450Sahih Muslimصحیح

نفاس والی عورتوں سے حد متاخر کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ السُّدِّيِّ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ خَطَبَ عَلِيٌّ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَقِيمُوا عَلَی أَرِقَّائِکُمْ الْحَدَّ مَنْ أَحْصَنَ مِنْهُمْ وَمَنْ لَمْ يُحْصِنْ فَإِنَّ أَمَةً لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَنَتْ فَأَمَرَنِي أَنْ أَجْلِدَهَا فَإِذَا هِيَ حَدِيثُ عَهْدٍ بِنِفَاسٍ فَخَشِيتُ إِنْ أَنَا جَلَدْتُهَا أَنْ أَقْتُلَهَا فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحْسَنْتَ

محمد بن ابی بکر مقدمی، سلیمان، ابوداؤد، زائدہ، سدی، سعد بن عبیدہ، حضرت ابوعبدالرحمن (رض) سے روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے خطبہ دیا تو فرمایا اے لوگو اپنے غلاموں پر حد قائم کرو خواہ وہ ان میں سے شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی ایک باندی نے زنا کیا آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے کوڑے لگاؤں لیکن اس نے ابھی قریب ہی زمانہ میں بچہ جنا تھا۔ مجھے ڈر ہوا کہ اگر میں نے اسے کوڑے مارے تو میں اسے مار دوں گا۔ لہذا میں نے یہ بات نبی کریم ﷺ سے ذکر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا تو نے اچھا کیا۔

Abdul Rahman reported that Ali, while delivering the address said: O people, impose the prescribed punishment upon your slaves, those who are married and those not married, for a slave-woman belonging to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had committed adultery, and he committed me to flog her. But she had recently given birth to a child and I was afraid that if I flogged her I might kill her. So I mentioned that to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and he said: You have done well.

4451Sahih Muslimصحیح

نفاس والی عورتوں سے حد متاخر کرنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ السُّدِّيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ مَنْ أَحْصَنَ مِنْهُمْ وَمَنْ لَمْ يُحْصِنْ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ اتْرُکْهَا حَتَّی تَمَاثَلَ

اسحاق بن ابراہیم، یحییٰ بن آدم، اسرائیل، سدی، ان اسناد سے بھی یہ حدیث منقول ہے لیکن اس میں جو ان میں پاک دامن ہو اور جو پاک دامن نہ ہو مذکور نہیں اور یہ اضافہ ہے کہ اس کو چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ تندرست ہوجائے۔

This hadith has been narrated on the authority of as-Suddi with the same chain of transmitters, but he did not mention: "Those who are married and those who are not married." There is also an addition in it: "I spare her until she is all right."

4452Sahih Muslimصحیح

شراب کی حد کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَجَلَدَهُ بِجَرِيدَتَيْنِ نَحْوَ أَرْبَعِينَ قَالَ وَفَعَلَهُ أَبُو بَکْرٍ فَلَمَّا کَانَ عُمَرُ اسْتَشَارَ النَّاسَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَخَفَّ الْحُدُودِ ثَمَانِينَ فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ

محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے نبی کریم ﷺ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے انگور کی شراب پی تھی۔ آپ ﷺ نے اسے دو چھڑیوں سے چالیس بار مارا۔ فرماتے ہیں حضرت ابوبکر (رض) نے اسی طرح کیا۔ جب حضرت عمر (رض) کا زمانہ آیا انہوں نے لوگوں سے مشورہ طلب کیا تو عبدالرحمن (رض) نے کہا کم از کم حد اسی کوڑے ہیں۔ تو حضرت عمر (رض) نے اسی کا حکم دیا۔

Anas bin Malik (RA) reported that a person who had drunk wine was brought to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He gave him forty stripes with two lashes. Abu Bakr (RA) also did that, but when Umar (assumed the responsibilities) of the Caliphate, he consulted people and Abdul Rahman said: The mildest punishment (for drinking) is eighty (stripes) and Umar therefore prescribed this punishment.

4453Sahih Muslimصحیح

شراب کی حد کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُا أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ فَذَکَرَ نَحْوَهُ

یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد یعنی ابن حارث، شعبہ، قتادہ، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک آدمی کو پیش کیا گیا۔ پھر اسی طرح حدیث ذکر کی۔

This hadith has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters.

4454Sahih Muslimصحیح

شراب کی حد کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَدَ فِي الْخَمْرِ بِالْجَرِيدِ وَالنِّعَالِ ثُمَّ جَلَدَ أَبُو بَکْرٍ أَرْبَعِينَ فَلَمَّا کَانَ عُمَرُ وَدَنَا النَّاسُ مِنْ الرِّيفِ وَالْقُرَی قَالَ مَا تَرَوْنَ فِي جَلْدِ الْخَمْرِ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَرَی أَنْ تَجْعَلَهَا کَأَخَفِّ الْحُدُودِ قَالَ فَجَلَدَ عُمَرُ ثَمَانِينَ

محمد بن مثنی، معاذ بن ہشام، قتادہ، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی کریم ﷺ نے شراب (کی حد) میں درخت کی ٹہنی اور جوتوں سے مارا پھر حضرت ابوبکر (رض) نے چالیس کوڑے لگائے۔ جب حضرت عمر (خلیفہ) ہوئے اور لوگ سبزہ زاروں اور دیہاتوں کے قریب رہنے لگے تو آپ نے کہا تم شراب کی سزا میں کیا خیال کرتے ہو ؟ عبدالرحمن بن عوف نے کہا میرا خیال ہے کہ آپ اس کی کم از کم حد مقرر فرما دیں۔ راوی کہتے ہے تو حضرت عمر (رض) نے اسی 80 کوڑے لگائے۔

Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) gave a beating with palm branches and shoes, and that Abu Bakr (RA) gave forty lashes. When Umar (became the Commander of the Faithful) and the people went near to pastures and towns, he said (to the Companions of the Holy Prophet). What is your opinion about lashing for drinking? Thereupon Abdul Rahman bin Auf said: My opinion is that you fix it as the mildest punishment. Then Umar inflicted eighty stripes.

4455Sahih Muslimصحیح

شراب کی حد کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

محمد بن مثنی، یحییٰ بن سعید، ہشام اس سند سے بھی یہ اسی طرح مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters.

4456Sahih Muslimصحیح

شراب کی حد کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَضْرِبُ فِي الْخَمْرِ بِالنِّعَالِ وَالْجَرِيدِ أَرْبَعِينَ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمَا وَلَمْ يَذْکُرْ الرِّيفَ وَالْقُرَی

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ہشام، قتادہ، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ (حد) شراب میں جوتوں اور چھڑیوں کے ساتھ چالیس ضربیں لگائیں تھیں۔ پھر اسی طرح حدیث ذکر کی لیکن سبزہ زاروں اور دیہاتوں کا ذکر نہیں کیا۔

Anas reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used to strike forty times with shoes and palm branches (in case of drinking of) wine. The rest of the hadith is the same and there is no mention of pastures and towns.

4457Sahih Muslimصحیح

شراب کی حد کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَيْرُوزَ مَوْلَی ابْنِ عَامِرٍ الدَّانَاجِ حَدَّثَنَا حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ أَبُو سَاسَانَ قَالَ شَهِدْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَأُتِيَ بِالْوَلِيدِ قَدْ صَلَّی الصُّبْحَ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ أَزِيدُکُمْ فَشَهِدَ عَلَيْهِ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا حُمْرَانُ أَنَّهُ شَرِبَ الْخَمْرَ وَشَهِدَ آخَرُ أَنَّهُ رَآهُ يَتَقَيَّأُ فَقَالَ عُثْمَانُ إِنَّهُ لَمْ يَتَقَيَّأْ حَتَّی شَرِبَهَا فَقَالَ يَا عَلِيُّ قُمْ فَاجْلِدْهُ فَقَالَ عَلِيٌّ قُمْ يَا حَسَنُ فَاجْلِدْهُ فَقَالَ الْحَسَنُ وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّی قَارَّهَا فَکَأَنَّهُ وَجَدَ عَلَيْهِ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ قُمْ فَاجْلِدْهُ فَجَلَدَهُ وَعَلِيٌّ يَعُدُّ حَتَّی بَلَغَ أَرْبَعِينَ فَقَالَ أَمْسِکْ ثُمَّ قَالَ جَلَدَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ وَجَلَدَ أَبُو بَکْرٍ أَرْبَعِينَ وَعُمَرُ ثَمَانِينَ وَکُلٌّ سُنَّةٌ وَهَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ زَادَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ إِسْمَعِيلُ وَقَدْ سَمِعْتُ حَدِيثَ الدَّانَاجِ مِنْهُ فَلَمْ أَحْفَظْهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، علی حجر، اسماعیل ابن علیہ، عروبہ، عبداللہ داناج، اسحاق بن ابراہیم، حنظلی، یحییٰ بن حماد، عبدالعزیز بن مختار، عبداللہ بن فیروز مولیٰ ابن عامر داناج، حضرت حصین بن منذر ابوساسان سے روایت ہے کہ میں حضرت عثمان بن عفان (رض) کے پاس حاضر ہوا۔ ان کے پاس ولید بن عقبہ کو لایا گیا کہ انہوں نے صبح کی نماز دو رکعتیں پڑھائیں پھر کہا میں تمہارے لئے زیادہ کرتا ہوں اور اس کے خلاف دو آدمیوں نے گواہی دی۔ ان میں سے ایک حمران نے گواہی دی کہ اس (ولید) نے شراب پی ہے۔ دوسرے نے گواہی دی کہ اس نے اسے قے کرتے دیکھا ہے تو حضرت عثمان نے کہا کہ اس نے شراب پیئے بغیر قے نہیں کی۔ اے علی ! اٹھو اور اسے کوڑے لگاؤ۔ حضرت علی (رض) نے حسن (رض) سے کہا اٹھو اور کوڑے مارو۔ حضرت حسن نے کہا خلافت کی گرمی بھی اسی کے سپرد کریں جو اس کی ٹھنڈک کا والی ہے۔ علی (رض) نے اس بات کی وجہ سے حسن (رض) سے ناراضگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا اے عبداللہ بن جعفر اٹھو اور اسے کوڑے مارو۔ پس انہوں نے اسے کوڑے مارے اور حضرت علی (رض) شمار کرنے لگے۔ یہاں تک کہ چالیس تک پہنچے تو فرمایا ٹھہر جاؤ۔ پھر فرمایا نبی کریم ﷺ نے چالیس اور حضرت ابوبکر (رض) نے بھی چالیس اور حضرت عمر (رض) نے اسی کوڑے لگوائے اور سب سنت ہیں اور مجھے یہ (چالیس کوڑے) زیادہ پسندیدہ ہیں۔ علی بن حجر نے اپنی روایت میں زیادتی کی ہے۔ اسماعیل نے کہا کہ میں نے اس سے داناج کی حدیث سنی تھی لیکن میں یاد نہیں رکھ سکا۔

Husain bin al-Mundhir Abu Sasan reported: I saw that Walid was brought to Uthmin bin Affan as he had prayed two rakahs of the dawn prayer, and then he said: I make an increase for you. And two men bore witness against him. One of them was Humran who said that he had drunk wine. The second one gave witness that he had seen him vomiting. Uthman said: He would not have vomited (wine) unless he had drunk it. He said: Ali, stand up and lash him. Ali said: Hasan, stand up and lash him. Thereupon Hasan said: Let him suffer the heat (of Caliphate) who has enjoyed its coolness. (Ali felt annoyed at this remark) and he said: Abdullah bin Jafar, stand up and flog him, and he began to flog him and Ali counted the stripes until these were forty. He (Hadrat Ali) said: Stop now, and then said: Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) gave forty stripes, and Abu Bakr (RA) also gave forty stripes, and Umar gave eighty stripes, and all these fall under the category of the Sunnah, but this one (forty stripes) is dearer to me.

4458Sahih Muslimصحیح

شراب کی حد کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ مَا کُنْتُ أُقِيمُ عَلَی أَحَدٍ حَدًّا فَيَمُوتَ فِيهِ فَأَجِدَ مِنْهُ فِي نَفْسِي إِلَّا صَاحِبَ الْخَمْرِ لِأَنَّهُ إِنْ مَاتَ وَدَيْتُهُ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسُنَّهُ

محمد بن منہال ضریر، یزید بن زریع، سفیان ثوری، ابی حصین، عمیر ابن سعید، حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ میں کسی پر حد قائم نہیں کرتا تھا کہ وہ اس میں مرجائے کیونکہ میں اپنے دل میں اس کے بارے میں ملال محسوس کرتا تھا۔ سوائے شرابی کے کیونکہ اگر شرابی حد قائم کرنے کے دوران مرگیا تو میں اس کی دیت دلاؤں گا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی حد متعین نہیں فرمائی۔

Ali reported: If I impose Hadd on anyone, and he (in course of punishment) dies, I would not mind except in case of a drunkard. If he dies, I would pay indemnity for him because the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has laid down no rule for it.

4459Sahih Muslimصحیح

شراب کی حد کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

محمد بن مثنی، عبدالرحمن، سفیان اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے

This hadith is narrated on the authority of Sufyan.

4460Sahih Muslimصحیح

تعزیر کے کوڑوں کی مقدار کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ بُکَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ إِذْ جَائَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ فَحَدَّثَهُ فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا سُلَيْمَانُ فَقَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُجْلَدُ أَحَدٌ فَوْقَ عَشَرَةِ أَسْوَاطٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ

احمد بن عیسی، ابن وہب، عمرو بکیر بن اشج، عبدالرحمن بن جابر، سلیمان، حضرت ابوبردہ انصاری (رض) سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کوئی شخص اللہ کی حدود میں کسی حد کے علاوہ دس کوڑوں سے زیادہ نہ لگائے۔

Abu Burda Ansari reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: None should be given more than ten lashes, but in case of any Hadd out of the Hudud of Allah.

4461Sahih Muslimصحیح

حدود کا گنہگاروں کے لئے کفارہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ نُمَيْرٍ کُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ فَقَالَ تُبَايِعُونِي عَلَی أَنْ لَا تُشْرِکُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا تَزْنُوا وَلَا تَسْرِقُوا وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ فَمَنْ وَفَی مِنْکُمْ فَأَجْرُهُ عَلَی اللَّهِ وَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا مِنْ ذَلِکَ فَعُوقِبَ بِهِ فَهُوَ کَفَّارَةٌ لَهُ وَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا مِنْ ذَلِکَ فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ فَأَمْرُهُ إِلَی اللَّهِ إِنْ شَائَ عَفَا عَنْهُ وَإِنْ شَائَ عَذَّبَهُ

یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، اسحاق بن ابراہیم، ابن نمیر، سفیان بن عیینہ، زہری، ادریس خولانی، حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے روایت ہے کہ ہم ایک مجلس میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرو گے اور نہ زنا کرو گے اور نہ چوری کرو گے اور نہ کسی نفس کو بےگناہ قتل کرو گے جس کو اللہ نے قتل کرنا حرام کیا ہے۔ پس تم میں سے جو وعدہ وفا کرے گا تو اس کا ثواب اللہ پر ہے اور جس نے ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا اور اسے سزا دی جائے تو وہ اس کیلئے کفارہ ہوگی اور جس نے ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا اور اس نے اسے پردہ میں رکھا تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ چاہے تو اسے معاف کر دے اور اگر چاہے تو اسے عذاب دے۔

Ubida bin as-Samit reported: While we were in the company of Allahs Messenger (may peace be upoi him) he said: Swear allegiance to me that you will not associate anything with Allah, that you will not commit adultery, that you will not steal, that you will not take any life which it is forbidden by Allah to take but with (legal) justification; and whoever among you fulfils it, his reward is with Allah and he who commits any such thing and is punished for it, that will be all atonement for it. And if anyone commits anything and Allah conceals (his faults), his matter rests with Allah. He may forgive if He likes, and He may punish him if He likes.

4462Sahih Muslimصحیح

حدود کا گنہگاروں کے لئے کفارہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ فَتَلَا عَلَيْنَا آيَةَ النِّسَائِ أَنْ لَا يُشْرِکْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا الْآيَةَ

عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔ اس میں یہ اضافہ ہے کہ آپ ﷺ نے ہمارے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی جس میں عورتوں کی بیعت کا ذکر ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کریں گی۔

This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters with this addition: "He recited to us the verse pertaining to women, viz, that they will not associate anything with Allah."

4463Sahih Muslimصحیح

حدود کا گنہگاروں کے لئے کفارہ ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ أَخَذَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَا أَخَذَ عَلَی النِّسَائِ أَنْ لَا نُشْرِکَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا نَسْرِقَ وَلَا نَزْنِيَ وَلَا نَقْتُلَ أَوْلَادَنَا وَلَا يَعْضَهَ بَعْضُنَا بَعْضًا فَمَنْ وَفَی مِنْکُمْ فَأَجْرُهُ عَلَی اللَّهِ وَمَنْ أَتَی مِنْکُمْ حَدًّا فَأُقِيمَ عَلَيْهِ فَهُوَ کَفَّارَتُهُ وَمَنْ سَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ فَأَمْرُهُ إِلَی اللَّهِ إِنْ شَائَ عَذَّبَهُ وَإِنْ شَائَ غَفَرَ لَهُ

اسماعیل بن سالم، ہشیم، خالد، ابی قلابہ، اشعث صنعانی، حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سے اسی طرح بیعت لی جس طرح آپ ﷺ نے عورتوں سے بیعت لی کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے اور نہ ہم چوری کریں گے اور نہ زنا کریں گے اور نہ ہم اپنی اولادوں کو قتل کریں گے اور نہ ایک دوسرے پر الزام تراشی کریں گے۔ پس تم میں سے جس نے وعدہ وفا کیا تو اس کا اجر اللہ پر ہے اور جو تم میں سے کسی حد تک پہنچا وہ اس پر قائم کی گئی تو وہ اس کا کفارہ ہوگی اور جس پر اللہ نے پردہ رکھا تو اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ اگر چاہے اسے عذاب دے اگر چاہے اسے معاف کر دے۔

Ubadah bin as-Samit reported: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) took (a pledge) from us as he took from the women that we will not associate anything with Allah and we will not steal, and we will not commit adultery, and we will not kill our children, and we will not bring calumny upon one another. And he who amongst you fulfils (this pledge), his reward rests with Allah, and he upon whom amongst you is imposed the prescribed punishment and that is carried out, that is his expiation (for that sin), and he whose (sins) were covered by Allah, his matter rests with Allah. He may punish him if He likes or may forgive him if He so likes.

4464Sahih Muslimصحیح

حدود کا گنہگاروں کے لئے کفارہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ الصُّنَابِحِيِّ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ قَالَ إِنِّي لَمِنْ النُّقَبَائِ الَّذِينَ بَايَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ بَايَعْنَاهُ عَلَی أَنْ لَا نُشْرِکَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا نَزْنِيَ وَلَا نَسْرِقَ وَلَا نَقْتُلَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا نَنْتَهِبَ وَلَا نَعْصِيَ فَالْجَنَّةُ إِنْ فَعَلْنَا ذَلِکَ فَإِنْ غَشِينَا مِنْ ذَلِکَ شَيْئًا کَانَ قَضَائُ ذَلِکَ إِلَی اللَّهِ وَقَالَ ابْنُ رُمْحٍ کَانَ قَضَاؤُهُ إِلَی اللَّهِ

قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، یزید بن ابی حبیب، ابی خیر، صنابحی، حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے روایت ہے کہ میں ان نقیاء میں سے ہوں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی اور کہا ہم نے آپ ﷺ سے اس بات پر بیعت کی کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کریں گے اور نہ زنا کریں گے اور نہ چوری کریں گے اور نہ اس جان کا ناحق قتل کریں گے جسے اللہ نے حرام کیا ہے اور نہ ہم لوٹ مار کریں گے اور نہ ہم نافرمانی کریں گے تو جنت (کا فیصلہ ہوگا) ۔ اگر ہم نے ان ممنوعہ اعمال میں سے کسی عمل کو کیا پس اگر ہمیں کسی چیز کے ذریعہ ڈھانپ دیا گیا اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہوگا ابن رمح نے کہا اس کا فیصلہ اللہ کی طرف ہے۔

Ubida bin as-Samit repnrted: I was one of those headmen who swore allegiance to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that we will not associate anything with Allah, and will not commit adultery, and will not steal, and will not kill any soul which Allah has forbidden, but with justice nor plunder, nor disobey (Allah and His Apostle) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , then Paradise (will be the reward) in case we do these (acts) ; and if we commit any outrage (and that goes unpunished in the world), it is Allah Who would decide about it. Ibn Rumh said: Its judgment lies with Allah.

4465Sahih Muslimصحیح

جانور اور کان اور کنوئیں کی وجہ سے زخمی ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْعَجْمَائُ جَرْحُهَا جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِي الرِّکَازِ الْخُمْسُ

یحییٰ بن یحیی، محمد بن رمح، لیث، قتیبہ بن سعید، لیث، ابن شہاب، سعید بن مسیب، ابی سلمہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جانور کے زخمی کرنے کا معاوضہ نہیں اور کنوئیں میں گرنے کا معاوضہ نہیں اور نہ ہی کان میں گر کر زخمی ہونے کا معاوضہ ہے اور کان اور خزینہ میں خمس (بیت المال کا) ہوگا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: No requital is payable for a wound caused by an animal, for (falling into) a well and a mine, and one-fifth (is the share of the government) in the buried treasure (treasure-trove).

4466Sahih Muslimصحیح

جانور اور کان اور کنوئیں کی وجہ سے زخمی ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ حَمَّادٍ کُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ يَعْنِي ابْنَ عِيسَی حَدَّثَنَا مَالِکٌ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ اللَّيْثِ مِثْلَ حَدِيثِهِ

یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، عبدالاعلی، ابن حماد، ابن عیینہ، محمد بن رافع، اسحاق یعنی ابن عیسی، مالک، زہری اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں

A hadith like this has been transmitted on the authority of Zuhri.

4467Sahih Muslimصحیح

جانور اور کان اور کنوئیں کی وجہ سے زخمی ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

ابوطاہر، حرملہ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابن مسیب، عبیداللہ بن عبداللہ، حضرت ابوہریرہ (رض) کے واسطہ سے نبی کریم ﷺ سے یہ حدیث ان اسناد سے بھی مروی ہے

A hadith like this has been transmitted on the authority of Abu Hurairah (RA) .