کتوں کے مار ڈالنے کے حکم اور اس کے منسوخ ہونے کے بیان میں شکار کھیتی یا جانوروں کی حفاظت وغیرہ کے علاوہ کتے پالنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا أَهْلِ دَارٍ اتَّخَذُوا کَلْبًا إِلَّا کَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ کَلْبَ صَائِدٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِمْ کُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ
داود بن رشید، مروان بن معاویہ، عمر بن حمزہ بن عبداللہ بن عمر، سالم بن عبداللہ، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس گھر والوں نے حفاظتی یا شکاری کتے کے علاوہ کتا رکھا تو ان کے عمل سے ہر دن دو قیراط کم ہوتا ہے۔
Salim binAbdullah reported on the authority of his father that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Whosover amongst the owners of the house keeps a dog other than one meant for watching the herd or for hunting loses two qirat of his deeds every day.
کتوں کے مار ڈالنے کے حکم اور اس کے منسوخ ہونے کے بیان میں شکار کھیتی یا جانوروں کی حفاظت وغیرہ کے علاوہ کتے پالنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْحَکَمِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اتَّخَذَ کَلْبًا إِلَّا کَلْبَ زَرْعٍ أَوْ غَنَمٍ أَوْ صَيْدٍ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ کُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، ابی الحکم، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے کھیتی یا بکریوں کی حفاظت یا شکاری کتے کے علاوہ کتے کو رکھا تو اس کے ثواب سے ہر روز ایک قیراط کم ہوتا رہتا ہے۔
Ibn Umar (RA) narrated Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who kept a dog ther than one meant for watching the fields or herds or hunting would lose one qirat every day out of his reward (with God).
کتوں کے مار ڈالنے کے حکم اور اس کے منسوخ ہونے کے بیان میں شکار کھیتی یا جانوروں کی حفاظت وغیرہ کے علاوہ کتے پالنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اقْتَنَی کَلْبًا لَيْسَ بِکَلْبِ صَيْدٍ وَلَا مَاشِيَةٍ وَلَا أَرْضٍ فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ قِيرَاطَانِ کُلَّ يَوْمٍ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي الطَّاهِرِ وَلَا أَرْضٍ
ابوطاہر، حرملہ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے کتا پالا جو شکار، حفاطت، کھیتی یا جانوروں کے لئے نہ ہو تو اس کے ثواب میں سے ہر دن دو قیراط کم ہوتے رہتے ہیں اور ابوطاہر کی حدیث میں کھیتی کا ذکر نہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who kept a dog which is neither meant for hunting nor for watching the anitmals nor for watching the fields would lose two qirat every day out of his reward; and there is no mention of the fields in the hadith transmitted by Abu Tahir.
کتوں کے مار ڈالنے کے حکم اور اس کے منسوخ ہونے کے بیان میں شکار کھیتی یا جانوروں کی حفاظت وغیرہ کے علاوہ کتے پالنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اتَّخَذَ کَلْبًا إِلَّا کَلْبَ مَاشِيَةٍ أَوْ صَيْدٍ أَوْ زَرْعٍ انْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ کُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَذُکِرَ لِابْنِ عُمَرَ قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا هُرَيْرَةَ کَانَ صَاحِبَ زَرْعٍ
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، ابی سلمہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے حفاظتی شکاری یا کھیتی کے کتے کے علاوہ کتا رکھا تو اس کے ثواب سے ہر دن ایک قیراط کم ہوتا رہتا ہے زہری نے کہا کہ ابن عمر (رض) کو ابوہریرہ (رض) کا قول ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا اللہ ابوہریرہ (رض) پر رحم کرے وہ کھیتی والے تھے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who kept a dog except one meant for watching the herd, or for hunting or for watching the fields. he lost two qirat of reward every day. Zuhri said: The words of Abu Hurairah (RA) were conveyed to Ibn Umar (RA) who said: May Allah have mercy upon Abu Hurairah (RA) ; he owned a field.
کتوں کے مار ڈالنے کے حکم اور اس کے منسوخ ہونے کے بیان میں شکار کھیتی یا جانوروں کی حفاظت وغیرہ کے علاوہ کتے پالنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَمْسَکَ کَلْبًا فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ عَمَلِهِ کُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ إِلَّا کَلْبَ حَرْثٍ أَوْ مَاشِيَةٍ
زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، ہشام دستوائی، یحییٰ بن ابی کثیر، ابی سلمہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے کوئی کتا رکھا تو اس کے عمل سے ہر روز ایک قیراط کم ہوتا رہے گا۔ سوائے کھیتی یا مویشی کے کتے کے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who kept a dog would lose out of his deeds equal to one qirat every day. except (one kept) for watching the field or herd.
کتوں کے مار ڈالنے کے حکم اور اس کے منسوخ ہونے کے بیان میں شکار کھیتی یا جانوروں کی حفاظت وغیرہ کے علاوہ کتے پالنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
اسحاق بن ابراہیم، شعیب بن اسحاق، اوزاعی، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ (رض) کی رسول اللہ ﷺ سے اس سند کے ساتھ بھی حدیث مروی ہے۔
A hadith like this has been transmitted on the authority of Abu Hurairah (RA) .
کتوں کے مار ڈالنے کے حکم اور اس کے منسوخ ہونے کے بیان میں شکار کھیتی یا جانوروں کی حفاظت وغیرہ کے علاوہ کتے پالنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَرْبٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
احمد بن منذر، عبدالصمد، حرب، یحییٰ بن ابی کثیر ان اسناد کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Yahya bin Abu Kathir with the same chain of transmitters.
کتوں کے مار ڈالنے کے حکم اور اس کے منسوخ ہونے کے بیان میں شکار کھیتی یا جانوروں کی حفاظت وغیرہ کے علاوہ کتے پالنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ حَدَّثَنَا أَبُو رَزِينٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اتَّخَذَ کَلْبًا لَيْسَ بِکَلْبِ صَيْدٍ وَلَا غَنَمٍ نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ کُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ
قتیبہ بن سعید، عبدالواحد، ابن زیاد، اسماعیل بن سمیع، ابورزین، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے کتا رکھا جو شکاری یا بکریوں کی حفاظت کے لئے نہیں ہے تو اس کے عمل سے ہر دن ایک قیراط کم کیا جاتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who kept a dog, but not meant for hunting or watching the herd, would lose one qirat of reward every day.
کتوں کے مار ڈالنے کے حکم اور اس کے منسوخ ہونے کے بیان میں شکار کھیتی یا جانوروں کی حفاظت وغیرہ کے علاوہ کتے پالنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ سُفْيَانَ بْنَ أَبِي زُهَيْرٍ وَهُوَ رَجُلٌ مِنْ شَنُوئَةَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ اقْتَنَی کَلْبًا لَا يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا وَلَا ضَرْعًا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ کُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ قَالَ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِي وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ
یحییٰ بن یحیی، مالک، یزید بن خصیفہ، سائب بن یزید، سفیان بن ابی زہیر صحابی رسول ﷺ ، حضرت سفیان بن ابی زبیر (رض) سے روایت ہے جو شنوئۃ میں سے ہیں کہ جس نے کتا پالا جس سے اس کو نہ کھیتی کا فائدہ ہے اور نہ حفاظت کا تو اس کے عمل سے ہر دن ایک قیراط کم ہوتا ہے۔ راوی کہتے ہیں میں نے حضرت سفیان سے پوچھا کیا آپ ﷺ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ؟ تو فرمایا ہاں، اس مسجد کے رب کی قسم !۔
Sufyan bin Abu Zuhair (he was a person belonging to the tribe of Shanua and was amongst the Conpanions of Allahs Messenger [may peace be upon him) said: I heard Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who kept a dog (other than that) which is indispensable for watching the field or the animals would lose one qirat out of his deeds every day. As-Saib b Yazid (one of the narrators) said: Did you hear it from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ? He said: Yes. by the Lord of this mosque.
کتوں کے مار ڈالنے کے حکم اور اس کے منسوخ ہونے کے بیان میں شکار کھیتی یا جانوروں کی حفاظت وغیرہ کے علاوہ کتے پالنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ أَنَّهُ وَفَدَ عَلَيْهِمْ سُفْيَانُ بْنُ أَبِي زُهَيْرٍ الشَّنَئِيُّ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، اسماعیل، یزید بن خصیفہ، حضرت سائب بن یزید (رض) سے روایت ہے کہ ان کے پاس سفیان بن ابی زہیر شنائی نے آکر کہا تو رسول اللہ ﷺ نے اس جیسی حدیث بیان فرمائی۔
This hadith has been narrated on the authority of Sufyan bin Abu Zuhair al-Shanai.
پچھنے لگانے کی اجرت کے حلال ہونے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ عَنْ کَسْبِ الْحَجَّامِ فَقَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَکَلَّمَ أَهْلَهُ فَوَضَعُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ وَقَالَ إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ أَوْ هُوَ مِنْ أَمْثَلِ دَوَائِکُمْ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، علی بن حجر، اسماعیل، ابن جعفر، حضرت حمید سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک (رض) سے پچھنے لگانے والے کی کمائی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگوائے۔ ابوطیبہ نے آپ ﷺ کو پچھنے لگائے تو آپ نے اسے دو صاع غلہ دینے کا حکم دیا اور اس کے مالکوں سے اس کا خراج کم کرنے کے لئے سفارش کی اور فرمایا تمہاری دواؤں میں سے بہترین دواء پچھنے لگوانا ہے جن سے تم دوا کرتے یا یہ تمہاری بہترین دواؤں جیسا ہے۔
It is narrated on the authority of Humaid that Anas bin Malik (RA) was asked about the earnings of the cupper. He said: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) got himself cupped. His cupper was Abu Taiba and he (the Holy Prophet) commanded to give him two sas of corn. He (the Holy Prophet) talked with the members of his family and they lightened the burden of Kharaj (tax) from him (i. e. they made remis- sion in the charges of their own accord). He (Allahs Apostle) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: The best (treat- ment) which you take is cupping, or it is the best of your treatments.
پچھنے لگانے کی اجرت کے حلال ہونے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ کَسْبِ الْحَجَّامِ فَذَکَرَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ أَفْضَلَ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ وَلَا تُعَذِّبُوا صِبْيَانَکُمْ بِالْغَمْزِ
ابن ابی عمر، مروان فزاری، حضرت حمید سے روایت ہے کہ انس (رض) سے پچھنے لگانے والے کی کمائی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اسی طرح بیان کیا اس کے علاوہ یہ بھی فرمایا کہ تمہاری بہترین دواؤں میں سے بہترین دواء پچھنے لگوانا ہے اور عود ہندی ہے اور آپ نے بچوں کو حلق دبا کر تکلیف نہ دو ۔
Rumaid reported that Anas bin Malik (RA) has asked about the earnings of a cupper. Then (the above-mentioned hadith was reported but with this addition) that he said: The best treatment which you get is cupping or aloeswood and do not torture your children by pressing their uvula.
پچھنے لگانے کی اجرت کے حلال ہونے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُا دَعَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا لَنَا حَجَّامًا فَحَجَمَهُ فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ أَوْ مُدٍّ أَوْ مُدَّيْنِ وَکَلَّمَ فِيهِ فَخُفِّفَ عَنْ ضَرِيبَتِهِ
احمد بن حسن بن خراش، شبابہ، شعبہ، حمید، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے پچھنے والے ہمارے ایک غلام کو بلوایا اس نے آپ ﷺ کو پچھنے لگائے تو آپ ﷺ نے اس کے لئے ایک صاع یا ایک مد یا دو مد دینے کا حکم دیا اور اس نے خراج کی کمی کی سفارش کی تو اس کے خراج میں کمی کردی گئی۔
Humaid reported Anas (RA) having said this: Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) called for young cupper belonging to us. He cupped him and he (the Holy Prophet) commanded that he should be paid one sa or one mudd or two mudds (of wheat). It was said (that charges were high) and a reduction was made in the charges.
پچھنے لگانے کی اجرت کے حلال ہونے کے بیان میں۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ وُهَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَأَعْطَی الْحَجَّامَ أَجْرَهُ وَاسْتَعَطَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان بن مسلم، اسحاق بن ابراہیم، وہیب، طاؤس، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگوائے اور پچھنے لگانے والے کو اس کی مزدوری دی اور ناک مبارک میں دوا ڈالی۔
Ibn Abbas (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) got himself cupped and he paid the clipper his charges and he put medicine in his nostrils.
پچھنے لگانے کی اجرت کے حلال ہونے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لِعَبْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ حَجَمَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ لِبَنِي بَيَاضَةَ فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْرَهُ وَکَلَّمَ سَيِّدَهُ فَخَفَّفَ عَنْهُ مِنْ ضَرِيبَتِهِ وَلَوْ کَانَ سُحْتًا لَمْ يُعْطِهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، عاصم، شعبی، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ بنی بیاضہ کے ایک غلام نے نبی کریم ﷺ کو پچھنے لگائے نبی کریم ﷺ نے اسے اس کی مزدوری دی اور اس کے مالک سے سفارش کی تو اس نے اس کا خراج کم کردیا اگر پچھنے لگانے کی کمائی حرام ہوتی تو اسے نبی کریم ﷺ اجرت نہ دیتے۔
Ibn Abbas (RA) reported: The slave of Banu Bayada cupped Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and he gave him his wages, and talked to his master and he reduced the charges, and if this earning was unlawful Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) would not have given it.
شراب کی بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی أَبُو هَمَّامٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِالْمَدِينَةِ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَی يُعَرِّضُ بِالْخَمْرِ وَلَعَلَّ اللَّهَ سَيُنْزِلُ فِيهَا أَمْرًا فَمَنْ کَانَ عِنْدَهُ مِنْهَا شَيْئٌ فَلْيَبِعْهُ وَلْيَنْتَفِعْ بِهِ قَالَ فَمَا لَبِثْنَا إِلَّا يَسِيرًا حَتَّی قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَی حَرَّمَ الْخَمْرَ فَمَنْ أَدْرَکَتْهُ هَذِهِ الْآيَةُ وَعِنْدَهُ مِنْهَا شَيْئٌ فَلَا يَشْرَبْ وَلَا يَبِعْ قَالَ فَاسْتَقْبَلَ النَّاسُ بِمَا کَانَ عِنْدَهُ مِنْهَا فِي طَرِيقِ الْمَدِينَةِ فَسَفَکُوهَا
عبیداللہ بن عمر قواریری، عبدالاعلی بن عبدالاعلی، ابوہمام، سعید جریری، ابی نضرہ، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے مدینہ میں ایک خطبہ میں سنا آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگو اللہ تعالیٰ شراب کی حرمت کا اشارہ کرتا ہے شاید اس بارے میں عنقریب کوئی حکم نازل کریں گے جس کے پاس اس میں سے کچھ ہو تو چاہیے کہ وہ اسے بیچ لے اور اس سے نفع اٹھا لے ہم چند دن ٹھہرے تھے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے شراب کو حرام کردیا ہے تو جس شخص کو یہ آیات پہنچ جائے اور اس کے پاس شراب میں سے کچھ موجود ہو تو نہ پیے اور نہ فروخت کرے۔ ابوسعید (رض) نے کہا تب جن لوگوں کے پاس شراب میں سے جو بھی موجود تھا انہوں نے اسے مدینہ کے راستہ (نالیوں) میں بہا دیا۔
Abu Said al-Khudri (RA) reported: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) addressing in Madinah. He said: O people, Allah is giving an indication (of the prohibition) of wine. and He is probably soon going to give an order about it. So he who has anything of it with him should sell that, and derive benefit out of it. He (the narrator) said: We waited for some time that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Verily Allah, the Exalted, has forbidden wine. So who hears this verse and he has anything of it with him, he should neither drink it nor sell it. He (the narrator) said: The people then brought whatever they had of it with them on the streets of Madinah and spilt that.
شراب کی بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ أَنَّهُ جَائَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ وَغَيْرُهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ السَّبَإِيِّ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَمَّا يُعْصَرُ مِنْ الْعِنَبِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّ رَجُلًا أَهْدَی لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَهَا قَالَ لَا فَسَارَّ إِنْسَانًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَ سَارَرْتَهُ فَقَالَ أَمَرْتُهُ بِبَيْعِهَا فَقَالَ إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا قَالَ فَفَتَحَ الْمَزَادَةَ حَتَّی ذَهَبَ مَا فِيهَا
سوید بن سعید، حفص بن میسرہ، زید بن اسلم، حضرت عبدالرحمن بن وعلہ سبائی مصری سے روایت ہے کہ اس نے حضرت ابن عباس (رض) سے انگور کے شیرے کے بارے میں سوال کیا تو ابن عباس نے فرمایا ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کو شراب کی ایک مشک ہدیہ کی تو اسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ اللہ نے اسے حرام کردیا ہے ؟ تو اس نے کہا نہیں اور اس نے کسی دوسرے آدمی سے سرگوشی کی رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا تو نے کس بارے میں سرگوشی کی تو اس نے کہا کہ میں نے اس سے شراب کے فروخت کرنے کے لئے کہا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا جس ذات نے اس کا پینا حرام کیا اس نے اس کی بیع کو بھی حرام کیا ہے تو اس نے مشک کا منہ کھول دیا یہاں تک کہ جو کچھ اس میں تھا سارا بہہ گیا۔
Abdul Rahman bin Waala as-Sabai (who was an Egyptian) asked Abdullah bin Abbas (RA) ; (RA) about that which is extracted from the grapes, whereupon he said: A person presented to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) a small water-skin of wine. Allabs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to him: Do you know that Allah has forbidden it? He said: No. He then whisper- ed to another man. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) asked him what he had whispered. He said: I advised him to sell that, whereupon he (the Holy Prophet) said: Verily He Who has forbidden its drinking has forbidden its sale also. He (the narrator) said: He opened the waterskin until what was contained in it was spilt.
شراب کی بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ابوطاہر، ابن وہب، سلیمان بن بلال، یحییٰ بن سعید، عبدالرحمن بن وعلہ، عبداللہ عباس (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے۔
Abdul Rahman bin Waala narrated this on the authority of Abdullah bin Abbas (RA) .
شراب کی بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ الْآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاقْتَرَأَهُنَّ عَلَی النَّاسِ ثُمَّ نَهَی عَنْ التِّجَارَةِ فِي الْخَمْرِ
زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، زہیر، اسحاق، جریر، منصور، ابی ضحیٰ ، مسروق، حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ جب سورت بقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لے گئے اور یہ آیات لوگوں کے سامنے تلاوت کیں پھر شراب کی تجارت سے منع فرمایا۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: When the concluding verses of Sura Baqarah were revealed, Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) went out and read them out to the people and then forbade them to trade in wine.
شراب کی بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا أُنْزِلَتْ الْآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْمَسْجِدِ فَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، اسحاق بن ابراہیم، ابومعاویہ، اعمش، مسلم، مسروق، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ جب سود کے بارے میں سورت بقرہ کی آخری آیات نازل کی گئیں تو رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف لے گئے اور شراب کی تجارت کو حرام کیا۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: When the concluding verses of Sura Baqarah pertaining to Riba were revealed, Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) went out to the mosque and he forbade the trade in wine.