Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 188 of 379

3748Sahih Muslimصحیح

لعان کا بیان

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ حِسَابُکُمَا عَلَی اللَّهِ أَحَدُکُمَا کَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَکَ عَلَيْهَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي قَالَ لَا مَالَ لَکَ إِنْ کُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا وَإِنْ کُنْتَ کَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَاکَ أَبْعَدُ لَکَ مِنْهَا قَالَ زُهَيْرٌ فِي رِوَايَتِهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، عمر، سعید بن جبیر، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لعان کرنے والوں کے لئے فرمایا تمہارا حساب اللہ پر ہے تم دونوں میں سے کوئی ایک جھوٹا ہے تیرے لئے اس عورت پر کوئی راستہ نہیں ہے اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میرا مال آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تیرے لئے مال بھی نہیں مال پر کوئی حق نہیں اگر تو سچا ہے تو وہ مال اس کی فرج کے بدلہ میں ہے اور اگر تو جھوٹا ہے تو یہ تیرے لئے اس عورت سے زیادہ بعید ہے کہ تو مال کا مطالبہ کرے۔

Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saying to the invokers of curse: Your account is with Allah. One of you must be a liar. You have now no right over this woman. He said: Messenger of Allah, what about my wealth (dower that I paid her at the time of marriage)? He said: You have no claim to wealth. If you tell the truth, it (dower) is the recompense for your having had the right to intercourse with her, and if you tell a lie against her, it is still more remote from you than she is. Zuhair said in his narration: Sufyan reported to us on the authority of Amr that he had heard Said b Jubair saying: I heard Ibn Umar (RA) saying that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had said it.

3749Sahih Muslimصحیح

لعان کا بیان

و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ وَقَالَ اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَکُمَا کَاذِبٌ فَهَلْ مِنْکُمَا تَائِبٌ

ابوربیع زہرانی، حماد، ایوب، سعید بن جبیر، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو عجلان کے میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈال دی اور فرمایا اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک جھوٹا ہے تو کیا تم دونوں میں سے کوئی توبہ کرنے والا ہے ؟

Ibn Umar (RA) said that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) effected separation between the two members of Banu al-Ajlan, and said: Allah knows that one of you is a liar. Is there one to repent among you?

3750Sahih Muslimصحیح

لعان کا بیان

و حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ اللِّعَانِ فَذَکَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

ابن ابی عمر، سفیان، حضرت ایوب (رض) سے روایت ہے انہوں نے سعید بن جبیر (رض) سے سنا فرمایا کہ میں نے ابن عمر (رض) سے لعان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے نبی ﷺ سے اسی طرح ذکر فرمایا۔

Said bin Jubair reported: I asked Ibn Umar (RA) about invoking curse (lian), and he narrated Similarly from Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .

3751Sahih Muslimصحیح

لعان کا بیان

و حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِلْمِسْمَعِيِّ وَابْنِ الْمُثَنَّی قَالُوا حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ لَمْ يُفَرِّقْ الْمُصْعَبُ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ قَالَ سَعِيدٌ فَذُکِرَ ذَلِکَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ فَرَّقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي الْعَجْلَانِ

ابوغسان مسمعی، محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، معاذ بن ہشام، قتادہ، عزرہ، حضرت سعید بن جبیر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت مصعب (رض) نے لعان کرنے والوں کے درمیان جدائی نہیں ڈالی حضرت سعید (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے بنو عجلان کے دو میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈالی تھی۔

Said bin Jubair reported that Musab bin Zubair did not effect separation between the Mutalainain (invokers of curses). Said said: It was mentioned to Abdullah bin Umar (RA) and he said: Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) effected separation between the two members of Banu al-Ajlan.

3752Sahih Muslimصحیح

لعان کا بیان

و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا مَالِکٌ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ قُلْتُ لِمَالِکٍ حَدَّثَکَ نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِأُمِّهِ قَالَ نَعَمْ

سعید بن منصور، قتیبہ بن سعید، مالک، یحییٰ بن یحیی، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ کے زمانہ مبارک میں لعان کیا چناچہ رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈلوا دی اور لڑکے کو اس کی ماں کے ساتھ ملا دیا (منسوب کیا) ۔

Nafi reported on the authority of Ibn Umar (RA) that a person invoked curse on the wife during the lifetime of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , so he effected separation between them and traced the lineage of the son to his mother.

3753Sahih Muslimصحیح

لعان کا بیان

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَاعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَامْرَأَتِهِ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، ابن نمیر، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کے ایک آدمی اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کرایا اور ان دونوں کے درمیان جدائی ڈال دی۔

Ibn Umar (RA) reported: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) asked a person from the Ansar and his wife to invoke curse (upon one another in order to testify to their truthfulness), and then effected separation between them.

3754Sahih Muslimصحیح

لعان کا بیان

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

محمد بن مثنی، عبیداللہ بن سعید، حضرت عبیداللہ سے اس سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی گئی ہے۔

A hadith like this has been narrated on the authority of Ubaidulah with the same chain of transmitters.

3755Sahih Muslimصحیح

لعان کا بیان

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ إِنَّا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ جَائَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَتَکَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ أَوْ قَتَلَ قَتَلْتُمُوهُ وَإِنْ سَکَتَ سَکَتَ عَلَی غَيْظٍ وَاللَّهِ لَأَسْأَلَنَّ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا کَانَ مِنْ الْغَدِ أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَتَکَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ أَوْ قَتَلَ قَتَلْتُمُوهُ أَوْ سَکَتَ سَکَتَ عَلَی غَيْظٍ فَقَالَ اللَّهُمَّ افْتَحْ وَجَعَلَ يَدْعُو فَنَزَلَتْ آيَةُ اللِّعَانِ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَکُنْ لَهُمْ شُهَدَائُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ هَذِهِ الْآيَاتُ فَابْتُلِيَ بِهِ ذَلِکَ الرَّجُلُ مِنْ بَيْنِ النَّاسِ فَجَائَ هُوَ وَامْرَأَتُهُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَاعَنَا فَشَهِدَ الرَّجُلُ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنْ الصَّادِقِينَ ثُمَّ لَعَنَ الْخَامِسَةَ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ کَانَ مِنْ الْکَاذِبِينَ فَذَهَبَتْ لِتَلْعَنَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْ فَأَبَتْ فَلَعَنَتْ فَلَمَّا أَدْبَرَا قَالَ لَعَلَّهَا أَنْ تَجِيئَ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا فَجَائَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا

زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، زہیر، جریر، اعمش، ابراہیم، علقمہ، حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ میں جمعہ کی رات مسجد میں تھا کہ انصار کا ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر آدمی کو پائے تو وہ کیا کرے اگر تو وہ یہ بات کرے تو تم اسے کوڑے لگاؤ گے یا اگر اس نے قتل کردیا تو تم اسے (قصاصا) قتل کرو گے اور اگر وہ خاموش رہا تو سخت غصہ میں خاموش رہے گا۔ اللہ کی قسم میں اس مسئلہ کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے آپ ﷺ سے پوچھا اور کہا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر آدمی کو پائے اگر وہ یہ بات کرے تو آپ ﷺ اسے کوڑے لگائیں گے یا وہ قتل کر دے تو آپ ﷺ اسے (قصاصا) قتل کریں گے اور اگر وہ خاموش رہے تو سخت غصہ کی حالت میں خاموش رہے گا آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ اس مسئلہ کو کھول دے اور آپ ﷺ دعا فرماتے رہے پھر لعان کی یہ آیت نازل ہوئی اور جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس کوئی گواہ نہیں سوائے ان کی اپنی ذات کے۔ وہ آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنی بیوی کو لایا اور ان دونوں نے لعان کیا مرد نے اللہ کو گواہ بنا کر چار مرتبہ گواہی دی کہ وہ سچوں میں سے ہے پھر پانچویں مرتبہ میں لعان کیا کہ اگر وہ جھوٹوں میں سے ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو اور اسی طرح عورت نے بھی لعان کیا تو نبی (رض) نے اس سے فرمایا ٹھہر جا اس عورت نے انکار کیا اور لعان کیا تو جب وہ دونوں چلے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا شاید کہ اس عورت کے ہاں سیاہ گھنگریالے بالوں والا لڑکا پیدا ہو تو اس عورت کے ہاں سیاہ گھنگریالے بالوں والا لڑکا ہی پیدا ہوا یعنی جس شخص سے زنا کیا تھا اس کی مشابہت تھی۔

Abdullah reported: We were on the night of Friday staying in the mosque when a person from the Ansar came there and said: If a person finds his woman along with a man, and he speaks about it, you would lash him, and if he kills, you will kill him, and if he keeps quiet he shall have to consume anger. By Allah, I will definitely ask about him from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . On the following day he came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and asked him thus: If a man were to find with his wife a man and if he were to talk about it, you would lash him; and if he killed, you would kill him, and if he were to keep quiet, he would consume anger, whereupon he (the Holy Prophet) said: Allah, solve (this problem), and he began to supplicate (before Him), and then the verses pertaining to lian were revealed: "Those who accuse their wives and have no witnesses except themselves" (xxiv. 6). The person was then put to test according to these verses in the presence of the people. There came he and his wife in the presence of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , and they invoked curses (in order to testify their claim). The man swore four times in the name of Allah that he was one of the truthful and then invoked curse for the fifth time saying: Let there be curse of Allah upon him if he were among the liars. Then she began to invoke curse. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to her: just wait (and curse after considering over it), but she refused and invoked curse and when she turned away, he (Allahs Apostle) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: It seems that this woman shall give birth to a curly-haired black child, and so she did gave birth to a curly-haired black child.

3756Sahih Muslimصحیح

لعان کا بیان

و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ جَمِيعًا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، حضرت اعمش سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

A hadith like this is narrated on the authority of Amash.

3757Sahih Muslimصحیح

لعان کا بیان

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ وَأَنَا أُرَی أَنَّ عِنْدَهُ مِنْهُ عِلْمًا فَقَالَ إِنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ بِشَرِيکِ ابْنِ سَحْمَائَ وَکَانَ أَخَا الْبَرَائِ بْنِ مَالِکٍ لِأُمِّهِ وَکَانَ أَوَّلَ رَجُلٍ لَاعَنَ فِي الْإِسْلَامِ قَالَ فَلَاعَنَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصِرُوهَا فَإِنْ جَائَتْ بِهِ أَبْيَضَ سَبِطًا قَضِيئَ الْعَيْنَيْنِ فَهُوَ لِهِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ وَإِنْ جَائَتْ بِهِ أَکْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيکِ ابْنِ سَحْمَائَ قَالَ فَأُنْبِئْتُ أَنَّهَا جَائَتْ بِهِ أَکْحَلَ جَعْدًا حَمْشَ السَّاقَيْنِ

محمد بن مثنی، عبدالاعلی، ہشام، حضرت محمد (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک (رض) سے پوچھا اور میرا یہ خیال تھا کہ ان کو زیادہ علم ہوگا میں نے یہ پوچھا کہ حضرت بلال بن امیہ (رض) نے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ تہمت لگائی اور وہ حضرت برا بن مالک کے اخیافی بھائی تھے اور یہ پہلا آدمی تھا جس نے اسلام میں لعان کیا اور اس عورت سے لعان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اس عورت کو دیکھتے رہو اگر تو سفید رنگ سیدھے بال اور سرخ آنکھوں والا بچہ اس کے ہاں پیدا ہوا تو وہ حضرت بلال بن امیہ کا ہوگا اور اگر سرمگیں آنکھوں والا گھنگریالے بالوں والا اور باریک پنڈلیوں والا بچہ پیدا ہوا تو وہ شریک بن سحماء کا ہوگا راوی کہتے ہیں کہ اس عورت کے ہاں سرمگیں آنکھوں والا گھنگریالے بالوں والا اور باریک پنڈلیوں والا بچہ پیدا ہوا

Muhammad (one of the narrators) reported: I asked Anas bin Malik (RA) knowing that he had a knowledge of (the case of lian). He said: Hilal bin Umayya (RA) accused his wife with the charge of fornication with Sharik bin Sahma, the brother of al-Barab Malik from the side of his mother. And he was the first person who invoked curse (lian) in Islam. He in fact invoked curse upon her. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: See to her if she gives birth to a white-complexioned child having dark hair and bright eyes; he must be the son of Hilal bin Umayya; and if she gives birth to a child with dark eyelids, curly hair and lean shanks, he must be the offspring of Sharik bin Sahma. He said: I was informed that she gave birth to a child having dark eyelids, curly hair and lean shanks.

3758Sahih Muslimصحیح

لعان کا بیان

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ وَعِيسَی بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيَّانِ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رُمْحٍ قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ ذُکِرَ التَّلَاعُنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَدِيٍّ فِي ذَلِکَ قَوْلًا ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ يَشْکُو إِلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ أَهْلِهِ رَجُلًا فَقَالَ عَاصِمٌ مَا ابْتُلِيتُ بِهَذَا إِلَّا لِقَوْلِي فَذَهَبَ بِهِ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي وَجَدَ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ وَکَانَ ذَلِکَ الرَّجُلُ مُصْفَرًّا قَلِيلَ اللَّحْمِ سَبِطَ الشَّعَرِ وَکَانَ الَّذِي ادَّعَی عَلَيْهِ أَنَّهُ وَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ خَدْلًا آدَمَ کَثِيرَ اللَّحْمِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ بَيِّنْ فَوَضَعَتْ شَبِيهًا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَکَرَ زَوْجُهَا أَنَّهُ وَجَدَهُ عِنْدَهَا فَلَاعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا فَقَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ فِي الْمَجْلِسِ أَهِيَ الَّتِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ رَجَمْتُ أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ رَجَمْتُ هَذِهِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا تِلْکَ امْرَأَةٌ کَانَتْ تُظْهِرُ فِي الْإِسْلَامِ السُّوئَ

محمد بن رمح ابن مہاجر، عیسیٰ بن حماد، لیث، یحییٰ بن سعید، عبدالرحمن بن قاسم، قاسم بن محمد، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لعان کا ذکر کیا گیا حضرت عا صم بن عدی (رض) نے اس بارے میں کچھ کہا اور پھر وہ چلے گئے تو ان کی قوم کا ایک آدمی آیا اور ان سے شکایت کرنے لگا کہ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک آدمی کو پایا ہے تو حضرت عاصم (رض) فرمانے لگے کہ میں اپنے قول کی وجہ سے اس میں مبتلا ہوگیا ہوں۔ پھر حضرت عا صم (رض) اس آدمی کو لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں چلے گئے اور آپ کو اس آدمی نے اس کی خبر دی اس نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک آدمی کو پایا ہے اور وہ ذرا پتلا دبلا اور سیدھے بالوں والے تھا اور جس آدمی پر دعویٰ کیا کہ وہ اس کی بیوی کے پاس تھا وہ آدمی موٹی پنڈلیوں والا گندمی رنگ والا اور بہت موٹے جسم والا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ (اس مسئلہ کو) واضح فرما۔ پھر اس عورت نے ایک بچے کو جنا جو کہ اس آدمی کے مشابہ تھا کہ جس کے بارے میں اس عورت کے خاوند نے ذکر کیا کہ اس نے اپنی بیوی کے پاس ایک آدمی کو پایا ہے۔ پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے آپس میں لعان کیا مجلس میں موجود لوگوں میں سے ایک آدمی نے حضرت ابن عباس (رض) سے کہا کیا یہ وہی عورت ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں کسی عورت کو بغیر گواہوں کے رجم کرتا تو میں اس عورت کو رجم کرتا ؟ تو حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا نہیں بلکہ یہ وہ عورت تھی جو اسلام لانے کے بعد بھی برسر عام بدکاری کرتی تھی۔

Ibn Abbas (RA) reported: Mention was made of lian in the presence of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . And Asim bin Adi passed a remark about it and then turned away, and a man of his tribe came to him complaining that he had found a man with his wife, whereupon Asim said: I have been taken by my words. He took him to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and told him about the man whom he had found with his wife and this man was a lean, yellow-coloured man with lank hair, and the person who was accused of committing adultery with her (his wife) had fleshy shanks, with wheat complexion and heavy bulk. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: O Allah, make (this case) manifest. And as she gave birth to a child, whose face resembled that person about whom her husband had made mention that he had found her with, and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had asked them to invoke curses. A person said to Ibn Abbas (RA) : Is she (that woman) about whom Allahs Messenger (may peace be upen him) (said): "If I were to stone anybody without evidence, I would have stoned her"? Ibn Abbas (RA) said: No, it is not she. That woman was one who openly spread evil in society. This hadith has been narrated on the authority of Ibn Abbas (RA) through another chain of transmitters with the addition of these words: With flesh, and curly tangled hair."

3759Sahih Muslimصحیح

لعان کا بیان

و حَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ ذُکِرَ الْمُتَلَاعِنَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَزَادَ فِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ کَثِيرَ اللَّحْمِ قَالَ جَعْدًا قَطَطًا

احمد بن یوسف، اسماعیل بن ابی اویس، سلیمان یعنی ابن بلال، یحیی، عبدالرحمن بن قاسم، قاسم بن محمد، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دو لعان کرنے والوں کا ذکر کیا گیا باقی حدیث اسی طرح ہے صرف اتنا زائد ہے کہ وہ غیر آدمی بہت گوشت والا یعنی موٹا اور سخت گھنگریالے بالوں والا تھا۔

Abdullah b Shaddad reported that mention was made about the invokers of curses before Ibn Abbas (RA) . Ibn Shaddad said: Are these the two about whom Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said. "If I were to stone one without evidence, I would have definitely stoned her"? Ibn Abbas (RA) said: She is not this woman; but she is the one who (committed adultery) openly.

3760Sahih Muslimصحیح

لعان کا بیان

و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ وَذُکِرَ الْمُتَلَاعِنَانِ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ ابْنُ شَدَّادٍ أَهُمَا اللَّذَانِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ کُنْتُ رَاجِمًا أَحَدًا بِغَيْرِ بَيِّنَةٍ لَرَجَمْتُهَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا تِلْکَ امْرَأَةٌ أَعْلَنَتْ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ

عمروناقد، ابن ابی عمر، سفیان ابن عیینہ، ابی الزناد، قاسم بن محمد، حضرت عبداللہ بن شداد سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) کے پاس دو لعان کرنے والوں کا ذکر کیا گیا تو ابن شداد نے عرض کیا کیا یہ وہی دونوں ہیں کہ جن کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر میں بغیر کسی گواہ کے کسی کو رجم کرتا تو اس عورت کو رجم کرتا حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا نہیں وہ عورت برسر عام بدکاری کرتی تھی۔

Abu Hurairah (RA) reported that Sad bin Ubadah al-Ansari said: Messenger of Allah, tell me if a man finds his wife with another person, should he kill him? Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: No. Sad said: Why not? I swear by Him Who has honoured you with Truth. There upon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Listen to what your chief says.

3761Sahih Muslimصحیح

لعان کا بیان

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الرَّجُلَ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا قَالَ سَعْدٌ بَلَی وَالَّذِي أَکْرَمَکَ بِالْحَقِّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَعُوا إِلَی مَا يَقُولُ سَيِّدُکُمْ

قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز در اور دی، سہیل، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ انصاری (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ کا کیا خیال ہے کہ ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ ایک آدمی کو پاتا ہے کیا وہ اسے قتل کر دے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں حضرت سعد نے عرض کیا کیوں نہیں یعنی میں تو قتل کر کے رہوں گا اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سنو تمہارا سردار کیا کہہ رہا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported that Sad bin Ubadah al-Ansari said: Messenger of Allah, tell me if a man finds his wife with another person, should he kill him? Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: No. Sad said: Why not? I swear by Him Who has honoured you with Truth. There upon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Listen to what your chief says.

3762Sahih Muslimصحیح

لعان کا بیان

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلًا أَؤُمْهِلُهُ حَتَّی آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَائَ قَالَ نَعَمْ

زہیر بن حرب، اسحاق بن عیسی، مالک، سہیل، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر آدمی کو پاؤں تو کیا میں اسے اتنی مہلت دوں کہ میں چار گواہ لے آؤں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہاں۔

Abu Hurairah (RA) reported that Sad bin Ubadah (RA) said: Messenger of Allah, if I were to find with my wife a man, should I wait until I bring four witnesses? He said: Yes.

3763Sahih Muslimصحیح

لعان کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ وَجَدْتُ مَعَ أَهْلِي رَجُلًا لَمْ أَمَسَّهُ حَتَّی آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَائَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ قَالَ کَلَّا وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ إِنْ کُنْتُ لَأُعَاجِلُهُ بِالسَّيْفِ قَبْلَ ذَلِکَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَعُوا إِلَی مَا يَقُولُ سَيِّدُکُمْ إِنَّهُ لَغَيُورٌ وَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي

ابوبکر بن ابی شیبہ، خالد بن مخلد، سلیمان بن بلال، سہیل، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر آدمی کو پاؤں تو کیا میں اسے اس وقت ہاتھ نہ لگاؤں جب تک کہ میں چار گواہ نہ لے آؤں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں انہوں نے عرض کیا ہرگز نہیں قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں جلدی میں اس سے پہلے ہی اسے قتل کر دوں گا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اپنے سردار کی طرف دھیان کرو کہ وہ کیا فرما رہے ہیں کیونکہ وہ غیرت مند ہے اور میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرت مند ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported that Sad bin Ubadah (RA) said: Messenger of Allah, if I were to find with my wife a man, should I not touch him before bringing four witnesses? Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Yes. He said: By no means. By Him Who has sent you with the Truth, I would hasten with my sword to him before that. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Listen to what your chief says. He is jealous of his honour, I am more jealous than he (is) and God is more jealous than I.

3764Sahih Muslimصحیح

لعان کا بیان

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ وَأَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ وَرَّادٍ کَاتِبِ الْمُغِيرَةِ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ لَوْ رَأَيْتُ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِي لَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ غَيْرُ مُصْفِحٍ عَنْهُ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي مِنْ أَجْلِ غَيْرَةِ اللَّهِ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلَا شَخْصَ أَغْيَرُ مِنْ اللَّهِ وَلَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنْ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ بَعَثَ اللَّهُ الْمُرْسَلِينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ وَلَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمِدْحَةُ مِنْ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ وَعَدَ اللَّهُ الْجَنَّةَ

عبیداللہ بن عمر قواریری، ابوکامل، ابوعوانہ، عبدالملک بن عمیر، حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ (رض) نے عرض کیا کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر آدمی کو دیکھوں تو میں بغیر کسی پوچھ گچھ کے تلوار کے ساتھ اسے مار دوں گا یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تم سعد کی غیرت سے تعجب کرتے ہو اللہ کی قسم میں سعد سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی غیرت کی وجہ سے فحش کے تمام ظاہری اور باطنی کاموں کو حرام قرار دیا ہے اور کوئی نہیں کہ جو اللہ سے زیادہ کسی کے عذر کو پسند کرے اسی وجہ سے اللہ نے اپنے رسولوں کو بھیجا ہے جو خوشخبری سنانے والے ہیں اور ڈرانے والے ہیں اور کوئی آدمی نہیں جسے اللہ تعالیٰ سے زیادہ مدح وثناء پسند ہو اسی وجہ سے اللہ نے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔

AI-Mughira bin Shubah (RA) reported that Sad bin Ubadah (RA) said: If I were to see a man with my wife, I would have struck him with the sword, and not with the flat part (side) of it. When Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) heard of that, he said: Are you surprised at Sads jealousy of his honour? By Allah, I am more jealous of my honour than he, and Allah is more jealous than I. Because of His jealousy Allah has prohibited abomination, both open and secret and no person is more jealous of his honour than Allah, and no persons, is more fond of accepting an excuse than Allah, on account of which He has sent messengers, announcers of glad tidings and warners; and no one is more fond of praise than Allah on account of which Allah has promised Paradise.

3765Sahih Muslimصحیح

لعان کا بیان

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ غَيْرَ مُصْفِحٍ وَلَمْ يَقُلْ عَنْهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، حسین بن علی، زائدہ، حضرت عبدالملک بن عمیر (رض) سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت ہے اور روایت میں غَيْرَ مُصْفِحٍ کہا اور عَنْهُ نہیں کہا۔

A hadith like this has been transmitted on the authority, of Abdul Malik bin Umair with the same chain of narrators but with a slight change of words.

3766Sahih Muslimصحیح

لعان کا بیان

و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَائَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ لَکَ مِنْ إِبِلٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَمَا أَلْوَانُهَا قَالَ حُمْرٌ قَالَ هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ قَالَ إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا قَالَ فَأَنَّی أَتَاهَا ذَلِکَ قَالَ عَسَی أَنْ يَکُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ قَالَ وَهَذَا عَسَی أَنْ يَکُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ

قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ بنی فزارہ کا ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کرنے لگا کہ میری بیوی نے ایک سیاہ رنگ کا بچہ جنا ہے نبی ﷺ نے فرمایا تیرے پاس اونٹ ہیں اس نے عرض کیا جی ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا ان کے رنگ کیا ہیں اس نے عرض کیا کہ سرخ رنگ کے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا ان اونٹوں میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے اس نے عرض کیا کہ ہاں ان میں خاکی رنگ کا بھی اونٹ ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہ ان میں کیسے آگیا اس نے عرض کیا کہ شاید کہ اس اونٹ کے بڑے آباؤ اجداد کی کسی رگ نے وہ رنگ کھینچ لیا ہو آپ ﷺ نے فرمایا یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ تیرے لڑکے میں بھی کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو۔

Abu Hurairah (RA) reported: There came a person to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may peace he upon him) from Banu Fazara and said: My wife has given birth to a child who is black, whereupon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Have you any camels? He said: Yes. He again said: What is this colour? He said: They are red. He said: Is there a dusky one among them? He said: Yes, there are dusky ones among them. He said: How has it come about? He said: It is perhaps the strain to which it has reverted, whereupon he (the Holy Prophet) said: It is perhaps the strain to which he (the child) has reverted.

3767Sahih Muslimصحیح

لعان کا بیان

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنِي ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ جَمِيعًا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَدَتْ امْرَأَتِي غُلَامًا أَسْوَدَ وَهُوَ حِينَئِذٍ يُعَرِّضُ بِأَنْ يَنْفِيَهُ وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الِانْتِفَائِ مِنْهُ

اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع، عبد بن حمید، ابن رافع، عبدالرزاق، معمر، ابن رافع، ابن ابی فدیک، ابن ابی ذئب، حضرت زہری (رض) سے اس سند کے ساتھ معمر کی حدیث کی طرح روایت کیا ہے اس میں ہے کہ اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میری بیوی نے ایک سیاہ رنگ کا لڑکا جنا ہے وہ آدمی اس وقت اپنے نسب کی نفی کر رہا تھا اس حدیث کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے نسب کی نفی کرنے کی اجازت نہیں دی۔

This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters. In the hadith transmitted on the authority of Mamar, the (words are): "Messengser of Allah, my wife has given birth to a dark-complexioned boy, and he at that time was intending to disown him." And this addition has been made at the end of the hadith: "He (the Holy Prophet) did not permit him to disown him."