بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
قَالَ حُمَيْدٌ قُلْتُ لِزَيْنَبَ وَمَا تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عَلَی رَأْسِ الْحَوْلِ فَقَالَتْ زَيْنَبُ کَانَتْ الْمَرْأَةُ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا دَخَلَتْ حِفْشًا وَلَبِسَتْ شَرَّ ثِيَابِهَا وَلَمْ تَمَسَّ طِيبًا وَلَا شَيْئًا حَتَّی تَمُرَّ بِهَا سَنَةٌ ثُمَّ تُؤْتَی بِدَابَّةٍ حِمَارٍ أَوْ شَاةٍ أَوْ طَيْرٍ فَتَفْتَضُّ بِهِ فَقَلَّمَا تَفْتَضُّ بِشَيْئٍ إِلَّا مَاتَ ثُمَّ تَخْرُجُ فَتُعْطَی بَعْرَةً فَتَرْمِي بِهَا ثُمَّ تُرَاجِعُ بَعْدُ مَا شَائَتْ مِنْ طِيبٍ أَوْ غَيْرِهِ
راوی حمید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زینب (رض) سے پوچھا سال گزرنے کے بعد مینگنی کے پھینکنے کا کیا مطلب ہے تو حضرت زینب (رض) نے فرمایا جب کسی عورت کا خاوند وفات پا جاتا تو وہ ایک تنگ مکان میں چلی جاتی تھی اور خراب کپڑے پہنتی تھی اور خوشبو نہیں لگاتی تھی اور نہ ہی کوئی اور چیز، یہاں تک کہ جب اس طرح ایک سال گزر جاتا تو پھر ایک جانور گدھا یا بکری یا کوئی اور پرندہ وغیرہ اس کے پاس لایا جاتا تو وہ اس پر ہاتھ پھیرتی بسا اوقات ایسا ہوجاتا تھا کہ جس پر وہ ہاتھ پھیرتی وہ مرجاتا پھر وہ اس مکان سے باہر نکلتی اس کو مینگنی دی جاتی جسے وہ پھینک دیتی پھر اس کے بعد خوشبو وغیرہ یا جو چاہتی استعمال کرتی۔
Humaid said: I said to Zainab: What is this throwing of dung until a year is passed? Zainab said: When the husband of a woman died, she went into a hut and put on her worst clothes, and did not apply perfume or something like it until a year was over. Then an animal like a donkey, or a goat, or a bird was brought to her and she rubbed her hand over it, and it so happened that one on which she rubbed her hand died. She then came out of her house and she was given dung and she threw it and then she made use of anything like perfume or something else as she liked.
بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ حَمِيمٌ لِأُمِّ حَبِيبَةَ فَدَعَتْ بِصُفْرَةٍ فَمَسَحَتْهُ بِذِرَاعَيْهَا وَقَالَتْ إِنَّمَا أَصْنَعُ هَذَا لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت حمید بن نافع (رض) سے روایت ہے میں نے حضرت زینب (رض) بنت ام سلمہ (رض) سے سنا وہ فرماتی ہیں کہ حضرت ام حبیبہ (رض) کا کوئی رشتہ دار فوت ہوگیا تو انہوں نے زرد رنگ کی خوشبو منگوا کر اپنی کلائیوں پر لگائی اور کہنے لگیں کہ میں یہ اس وجہ سے کر رہی ہوں کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے تھے کہ کسی عورت کے لئے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے خاوند کے کہ اس پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے۔
Zainab bint Umm Salamah (Allah be pleased with her) reported that a relative of Umm Habiba (Allah be pleased with her) died. She sent for a yellow (perfume) and applied that to her forearm and said: I am doing it, for I have heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saying: It is not permissible for a woman believing in Allah and the Hereafter to mourn beyond three days except the husband (for whom she can mourn) for four months and ten days.
بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
وَحَدَّثَتْهُ زَيْنَبُ عَنْ أُمِّهَا وَعَنْ زَيْنَبَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت زینب (رض) نے اس حدیث کو اپنی والدہ سے روایت کر کے بیان کیا یا حضرت زینب (رض) نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ نے یا نبی ﷺ کی ازواج مطہرات (رض) میں سے کسی عورت سے روایت کیا۔
This hadith was narrated by Zainab from her mother and from Zainab, the wife of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , or from some other lady from among the wives of the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .
بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّهَا أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا فَخَافُوا عَلَی عَيْنِهَا فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنُوهُ فِي الْکُحْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ کَانَتْ إِحْدَاکُنَّ تَکُونُ فِي شَرِّ بَيْتِهَا فِي أَحْلَاسِهَا أَوْ فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا فِي بَيْتِهَا حَوْلًا فَإِذَا مَرَّ کَلْبٌ رَمَتْ بِبَعْرَةٍ فَخَرَجَتْ أَفَلَا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت حمید بن نافع (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے حضرت زینب بنت ام سلمہ (رض) سے سنا وہ اپنی والدہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت کا خاوند وفات پا گیا لوگوں کو اس کی آنکھوں کی تکلیف کا خوف ہوا تو وہ نبی ﷺ کی خدمت میں آئے اور آنکھوں میں سرمہ ڈالنے کی اجازت طلب کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم عورتوں میں سے پہلے جس کسی کا خاوند فوت ہوجاتا تھا تو وہ اپنے گھر کے برے حصہ میں چادر پہنے چلی جاتی تھی یا وہ بری چادر پہنے ایک سال تک اس گھر میں رہتی تھی اور جب ایک سال بعد کوئی کتا گزرتا تو اس پر مینگنی پھینک کر باہر نکلتی تھی تو اب تم کیا چار مہینے دس دن تک بھی نہیں ٹھہر سکتی ؟
Zainab bint Umm Salamah (Allah be pleased with her) reported on the authority of her mother that a woman lost her husband. As her eyes were ailing, they (her kith and kin) entertained fear about her eyes, so they came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and sought permission for the use of collyrium, whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: One among you used to spend one year in a dungeon dressed in worst clothes. And at the end of this period she threw dung at the dog which happened to pass that way and then she came out (of her Idda). Cant she (wait) even for four months and ten days?
بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ بِالْحَدِيثَيْنِ جَمِيعًا حَدِيثِ أُمِّ سَلَمَةَ فِي الْکُحْلِ وَحَدِيثِ أُمِّ سَلَمَةَ وَأُخْرَی مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ تُسَمِّهَا زَيْنَبَ نَحْوَ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، حضرت حمید بن نافع (رض) اکٹھی دو حدیثوں کے ساتھ روایت کرتے ہیں حضرت ام سلمہ (رض) یا نبی کریم ﷺ کی کسی دوسری زوجہ مطہرہ سے گزری ہوئی حدیث کی طرح بیان کرتے ہیں۔
Humaid bin Nafi narrated two traditions from Umm Salamah dealing with collyrium and the other hadith from the wives of Allahs Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) except with this that no mention was made of Zainab.
بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَأُمِّ حَبِيبَةَ تَذْکُرَانِ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَتْ لَهُ أَنَّ بِنْتًا لَهَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَاشْتَکَتْ عَيْنُهَا فَهِيَ تُرِيدُ أَنْ تَکْحُلَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ کَانَتْ إِحْدَاکُنَّ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، یزید بن ہارون، یحییٰ بن سعید، حضرت حمید بن نافع (رض) سے روایت ہے انہوں نے حضرت زینب (رض) بنت ابی سلمہ (رض) سے سنا وہ حضرت ام سلمہ اور حضرت ام حبیبہ (رض) سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی اور اس نے عرض کیا کہ اس کی ایک بیٹی ہے جس کا خاوند فوت ہوگیا ہے اور اس کی آنکھوں میں تکلیف ہوگئی ہے وہ اپنی آنکھوں میں سرمہ ڈالنا چاہتی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں تو تم عورتوں میں سے کوئی سال کے بعد مینگنی پھینکا کرتی تھیں اور یہ تو صرف چار ماہ اور دس دن ہیں۔
Zainab bint Abu Salama reported: Umm Salamah and Umm Habiba (RA) were talking with each other (and saying) that a woman came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and mentioned to him that her daughter had lost her husband, and her eyes were sore and she wanted to use collyrium, whereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: One among you used to throw dung at the end of a year, and now (this abstinence from adornment) is only for four months and ten days.
بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ قَالَتْ لَمَّا أَتَی أُمَّ حَبِيبَةَ نَعِيُّ أَبِي سُفْيَانَ دَعَتْ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ بِصُفْرَةٍ فَمَسَحَتْ بِهِ ذِرَاعَيْهَا وَعَارِضَيْهَا وَقَالَتْ کُنْتُ عَنْ هَذَا غَنِيَّةً سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا
عمرو ناقد، ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، ابوب بن موسی، حمیدابن نافع، حضرت زینب بنت ابی سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ فرماتی ہیں کہ جب ام حبیبہ (رض) کو حضرت ابوسفیان کی وفات کی خبر آئی تو حضرت ام حبیبہ (رض) نے تیسرے دن زرد رنگ کی خوشبو منگوا کر اپنی کلائیوں اور اپنے رخساروں پر لگائی اور فرماتی ہیں کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں تھی میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ کسی عورت کے لئے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں کہ وہ اپنی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے اپنے خاوند پر کہ اس پر چار ماہ اور دس دن تک سوگ کرسکتی ہے۔
Zainab bint Abu Salama reported that when the news of the death of Abu Safyan came to Umm Habiba she sent for yellow (perfume) on the third day and rubbed it on her forearms and on her cheeks and said: I had in fact no need of it, but I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: It is not permissible for the women believing in Allah and the Hereafter to abstain from adornment beyond three days except (at the death of) husband (in which case she must abstain from adornment) for four months and ten days.
بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ حَدَّثَتْهُ عَنْ حَفْصَةَ أَوْ عَنْ عَائِشَةَ أَوْ عَنْ کِلْتَيْهِمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَوْ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْ تُحِدَّ عَلَی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا عَلَی زَوْجِهَا
یحییٰ بن یحیی، قتیبہ، ابن رمح، لیث بن سعید، حضرت نافع (رض) سے روایت ہے کہ حضرت صفیہ بنت ابی عبید (رض) حضرت حفصہ یا حضرت عائشہ صدیقہ (رض) یا دونوں سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کسی عورت کے لئے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یا اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں کہ وہ میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے اس کے کہ وہ اپنے خاوند پر تین دن سے زیادہ یعنی چار ماہ دس دن سوگ کرسکتی ہے۔
Safiyya bint Abu Ubaid reported on the authority of Hafsa or Aisha (Allah be pleased with thein) or from both of them that Allahs Messenger (may peace he upon him) said: It is not permissible for a woman believing in Allah and the Hereafter (or believing in Allah and His Messenger) that she should observe mourning for the dead beyond three days except in case of her husband.
بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ نَافِعٍ بِإِسْنَادِ حَدِيثِ اللَّيْثِ مِثْلَ رِوَايَتِهِ
شیبان بن فروخ، عبدالعزیز ابن مسلم، عبداللہ بن دینار، حضرت نافع (رض) سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
A hadith like this is transmitted on the authority of Nafi.
بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ سَمِعْتُ نَافِعًا يُحَدِّثُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا سَمِعَتْ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَابْنِ دِينَارٍ وَزَادَ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا
ابوغسان مسمعی، محمد بن مثنی، عبدالوہاب، یحییٰ بن سعید، نافع، حضرت صفیہ (رض) بنت ابی عبید (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت صفیہ (رض) بنت عمر (رض) سے سنا وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا آگے حدیث اسی طرح سے ہے۔
Safiyya bint Abu Ubaid reported that she heard Hafsa daughter of Umar (RA) , (and) wife of Allahs Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , narrating a hadith like this from Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , and she made this addition: "She should abstain from adorning herself (in case of the death of her husband) for four months and ten days."
بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ جَمِيعًا عَنْ نَافِعٍ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِهِمْ
ابوربیع، حماد، ایوب، ابن نمیر، عبیداللہ، نافع، حضرت صفیہ (رض) بنت ابی عبید (رض) نے بنی کریم ﷺ کی بعض ازواج مطہرات سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی حدیث اسی طرح نقل کی۔
Safiyya bint Abu Ubaid narrated this tradition of Allahs Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) on the authority of some wives of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَی زَوْجِهَا
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، زہری، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) نبی کریم ﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی عورت کے لئے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو حلال نہیں کہ وہ میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے سوائے اپنے خاوند کے۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: It is not permissible for a woman believing in Allah and the Hereafter to observe mourning on the dead for more than three (days), except in case of her husband.
بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُحِدُّ امْرَأَةٌ عَلَی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا ثَوْبَ عَصْبٍ وَلَا تَکْتَحِلُ وَلَا تَمَسُّ طِيبًا إِلَّا إِذَا طَهُرَتْ نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ أَوْ أَظْفَارٍ
حسن بن ربیع، ابن ادریس، ہشام، حفصہ، حضرت ام عطیہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی عورت میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ کرے سوائے خاوند کے کہ اس پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے اور وہ عورت رنگ دار کپڑے نہیں پہن سکتی سوائے رنگ دار بنے ہوئے کپڑوں کے اور سرمہ نہیں لگا سکتی اور نہ ہی خوشبو لگا سکتی ہے سوائے اس کے کہ حیض سے طہارت حاصل کرتے وقت لگا سکتی ہے۔
Umm Atiyya (Allah be pleased with her) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had said: A woman must not observe mourning for one who had died for more than three (days) except for four months and ten days in the case of her husband. and she must not wear a dyed garment except one of the types made of dyed yarn, or apply collyrium, or touch perfume except a little perfume or incense, when she has been purified after her courses.
بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ کِلَاهُمَا عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَا عِنْدَ أَدْنَی طُهْرِهَا نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، عمرو ناقد، یزید بن ہارون، ہشام اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of narrators but with a slight variation of words.
بیوہ عورت کے لئے تین دن سے زیادہ سوگ کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ کُنَّا نُنْهَی أَنْ نُحِدَّ عَلَی مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَی زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا وَلَا نَکْتَحِلُ وَلَا نَتَطَيَّبُ وَلَا نَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا وَقَدْ رُخِّصَ لِلْمَرْأَةِ فِي طُهْرِهَا إِذَا اغْتَسَلَتْ إِحْدَانَا مِنْ مَحِيضِهَا فِي نُبْذَةٍ مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ
ابوربیع زہرانی، حماد، ایوب، حفصہ، حضرت ام عطیہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ہمیں منع کردیا گیا ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ کریں سوائے خاوند کے اس پر چار ماہ اور دس دن سوگ کریں ہم نہ سرمہ لگائیں اور نہ ہی خوشبو لگائیں اور نہ ہی رنگا ہوا کپڑا پہنیں اور عورت کے لئے اس کی پاکی میں رخصت دی گئی ہے کہ جب ہم سے کوئی حیض سے فارغ ہو کر غسل کرے تو وہ خوشبودار چیز سے غسل کرسکتی ہے۔
Umm Atiyya (Allah be pleased with her) said: We were forbidden to observe mourning for the dead beyond three days except in the case of husband (where it is permissible) for four months and ten days, and (that during this period) we should neither use collyrium nor touch perfume, nor wear dyed clothes, but concession was given to a woman when one of us was purified of our courses to make use of a little incense or scent.
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ جَائَ إِلَی عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ فَقَالَ لَهُ أَرَأَيْتَ يَا عَاصِمُ لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ کَيْفَ يَفْعَلُ فَسَلْ لِي عَنْ ذَلِکَ يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَکَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّی کَبُرَ عَلَی عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَی أَهْلِهِ جَائَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ يَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ لَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ قَدْ کَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا قَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّی أَسْأَلَهُ عَنْهَا فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّی أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ النَّاسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ کَيْفَ يَفْعَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَزَلَ فِيکَ وَفِي صَاحِبَتِکَ فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا قَالَ سَهْلٌ فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ عُوَيْمِرٌ کَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَکْتُهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَکَانَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ
یحییٰ بن یحیی، مالک، حضرت ابن شہاب (رض) سے روایت ہے کہ حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) نے انہیں خبر دی ہے کہ حضرت عویمر عجلانی (رض) حضرت عاصم بن عدی انصاری (رض) کی طرف آئے اور ان سے کہا اے عاصم تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو پائے تو کیا وہ اسے قتل کر دے اگر وہ اسی طرح کرے تو کیا تم اسے قتل کر دوگے ؟ اے عاصم ! اس بارے میں تم میرے لئے رسول اللہ ﷺ سے پوچھو حضرت عاصم نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس طرح کے مسائل کے بارے میں پوچھنے کو ناپسند فرمایا اور اس کی مذمت فرمائی حضرت عاصم پر رسول اللہ ﷺ کی یہ بات سن کر گراں گزرا جب حضرت عاصم اپنے گھر والوں کی طرف آئے تو حضرت عویمر ان کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ تجھے رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا ہے عاصم (رض) عویمر (رض) سے کہنے لگے کہ میں کوئی بھلائی کی خبر نہیں لایا رسول اللہ ﷺ نے اس مسئلہ کو جو میں نے آپ ﷺ سے پوچھا تھا اسے ناپسند فرمایا عویمر (رض) کہنے لگے اللہ کی قسم میں نہیں رکوں گا مگر یہاں تک کہ میں آپ ﷺ سے اس بارے میں پوچھ لوں عویمر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے تو اور لوگ بھی وہاں موجود تھے عویمر نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ کا کیا خیال ہے کہ ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو پائے تو کیا وہ اسے قتل کر دے اگر وہ ایسا کرے تو کیا آپ ﷺ اسے قتل کردیں گے یا وہ کیا کرے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں آیت نازل ہوئی ہے جاؤ اور اپنی بیوی کو لے کر آؤ حضرت سہل کہتے ہیں کہ ان دونوں نے لعان کیا اور میں بھی لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا تو جب وہ دونوں لعان سے فارغ ہوئے تو عویمر نے کہا اے اللہ کے رسول اگر میں اسے اپنے ساتھ رکھوں تو میں جھوٹا ہوں گا اور اس نے رسول اللہ ﷺ کے حکم فرمانے سے پہلے ہی اپنی اس عورت کو تین طلاقیں دے دیں ابن شہاب کہتے ہیں کہ پھر لعان کرنے والوں کے بارے میں یہی طریقہ جاری ہوگیا۔
Sahl bin Sad al-Saidi reported thatUwaimir al-Ajlani came to Asim bin Adi al-Ansari and said to him. Tell me about a person who finds a man with his wife; should he kill him, and be killed in retaliation; or how should he act? Asim, ask for me (religious verdict about it) from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . So Asim asked Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and he did not like this question and he disapproved of it so much thatAsim felt aggrieved at what he had heard from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . When Asim came back to his family, Uwaimir came to him and said: Asim, what did Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say to you? Asim said to Uwaimir: You did not bring something good. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) did not like this religious verdict that I sought from him. Uwaimir said: By Allah, I will not rest until I have asked him about it. Uwaimir proceeded until he came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as he was sitting amidst people, and said: Messenger of Allah, tell me about a person who found a man with his wife. Should he kill him, and then you would kill him, or how should he act? Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: (Verses) have been revealed concerning you and your wife; so go and bring her. Sahl said that they both invoked curses (and further said): I was along with people in the company of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . And when they had finished, Uwaimir said: Allahs Messenger, I shall have told a lie against her if I keep her (now). So he divorced her with three pronouncements before Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had commanded him. Ibn Shihab said: Subsequently that was the practice of invokers of curses (al Mutalainain)
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ عُوَيْمِرًا الْأَنْصَارِيَّ مِنْ بَنِي الْعَجْلَانِ أَتَی عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِکٍ وَأَدْرَجَ فِي الْحَدِيثِ قَوْلَهُ وَکَانَ فِرَاقُهُ إِيَّاهَا بَعْدُ سُنَّةً فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ وَزَادَ فِيهِ قَالَ سَهْلٌ فَکَانَتْ حَامِلًا فَکَانَ ابْنُهَا يُدْعَی إِلَی أُمِّهِ ثُمَّ جَرَتْ السُّنَّةُ أَنَّهُ يَرِثُهَا وَتَرِثُ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهَا
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت سہل بن سعد (رض) خبر دیتے ہیں کہ حضرت عویمر انصاری (رض) جو کہ قبیلہ عجلان سے تھے وہ حضرت عاصم بن عدی (رض) کے پاس آئے آگے حدیث میں یہ بھی زائد ہے کہ حضرت عویمر انصاری کا اپنی بیوی سے علیحدہ ہونا بعد میں لعان کرنے والوں کا معمول بن گیا اور اس حدیث میں یہ بھی زائد ہے کہ حضرت سہل فرماتے ہیں ان کی بیوی حاملہ تھی اور اس کے پیٹ کو اس کی ماں کی طرف منسوب کیا گیا پھر یہ طریقہ بھی جاری ہوگیا کہ ایسا بچہ اپنی ماں کا وارث ہوتا تھا اور ماں اس کی وارث ہوتی تھی جو اللہ نے ان کے لئے مقرر فرمایا۔
Sahl bin Sad reported.. Uwaimir al-Ansari (RA) from Banul-Ajlan came to Asim bin Adi (RA) the remaining part of the hadith is the same and it was also reecorded in it: "And subsequebtly the separation became the practice of al-Mutalainain." And this addition was also made: "She was pregnant and her son was ascribed to her, and it became customary that such (a son) would inherit her and she would inherit him in the share prescribed by Allah for her.
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ الْمُتَلَاعِنَيْنِ وَعَنْ السُّنَّةِ فِيهِمَا عَنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ جَائَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا وَذَکَرَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَزَادَ فِيهِ فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاکُمْ التَّفْرِيقُ بَيْنَ کُلِّ مُتَلَاعِنَيْنِ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ابن شہاب، حضرت سہل بن سعد (رض) سے روایت ہے کہ انصار کا ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ کا کیا خیال ہے کہ ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو پاتا ہے پھر اس سے آگے وہی قصہ روایت کیا گیا ہے اور اس روایت میں یہ زائد ہے کہ دونوں میاں بیوی نے مسجد میں لعان کیا اور میں بھی وہاں موجود تھا اور اس حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس سے پہلے کہ رسول اللہ ﷺ ان کو حکم فرماتے اس آدمی نے اپنی اس عورت کو تین طلاقیں دے دیں اور نبی ﷺ کی موجودگی ہی میں اس سے جدا ہوگیا تو نبی ﷺ نے فرمایا ہر لعان کرنے والوں کے درمیان اسی طرح جدائی ہوگی۔
Ibn Shihab narrated about the invokers of curses and the practice of (lian) based on the authority of Sahl bin Sad, of the tribe of Saida. that a person from the Ansar came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: Allahs Messenger, tell me about the person who found a man with his wife. The remaining part of the hadith is the same (but) with this addition: They invoked curses in the mosque and I was present there. And he narrated in the hadith: He divorced her with three pronouncements before Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) commanded him (to get separation). He separated from her in the presence of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , whereupon he said: There is a separation between the invokers of curses.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ سُئِلْتُ عَنْ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فِي إِمْرَةِ مُصْعَبٍ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا قَالَ فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ فَمَضَيْتُ إِلَی مَنْزِلِ ابْنِ عُمَرَ بِمَکَّةَ فَقُلْتُ لِلْغُلَامِ اسْتَأْذِنْ لِي قَالَ إِنَّهُ قَائِلٌ فَسَمِعَ صَوْتِي قَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ادْخُلْ فَوَاللَّهِ مَا جَائَ بِکَ هَذِهِ السَّاعَةَ إِلَّا حَاجَةٌ فَدَخَلْتُ فَإِذَا هُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْذَعَةً مُتَوَسِّدٌ وِسَادَةً حَشْوُهَا لِيفٌ قُلْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُتَلَاعِنَانِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ نَعَمْ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِکَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ أَنْ لَوْ وَجَدَ أَحَدُنَا امْرَأَتَهُ عَلَی فَاحِشَةٍ کَيْفَ يَصْنَعُ إِنْ تَکَلَّمَ تَکَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ وَإِنْ سَکَتَ سَکَتَ عَلَی مِثْلِ ذَلِکَ قَالَ فَسَکَتَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذَلِکَ أَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ الَّذِي سَأَلْتُکَ عَنْهُ قَدْ ابْتُلِيتُ بِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلَائِ الْآيَاتِ فِي سُورَةِ النُّورِ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ فَتَلَاهُنَّ عَلَيْهِ وَوَعَظَهُ وَذَکَّرَهُ وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ قَالَ لَا وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا کَذَبْتُ عَلَيْهَا ثُمَّ دَعَاهَا فَوَعَظَهَا وَذَکَّرَهَا وَأَخْبَرَهَا أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ قَالَتْ لَا وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَکَاذِبٌ فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنْ الصَّادِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ کَانَ مِنْ الْکَاذِبِينَ ثُمَّ ثَنَّی بِالْمَرْأَةِ فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنْ الْکَاذِبِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ کَانَ مِنْ الصَّادِقِينَ ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوبکر بن ابی شیبہ، حضرت سعید بن جبیر (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ حضرت مصعب (رض) کے زمانہ میں مجھ سے لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا ان دونوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی حضرت سعید (رض) فرماتے ہیں میں نہیں جانتا تھا کہ میں کیا کہوں چناچہ میں حضرت ابن عمر (رض) کے گھر مکہ گیا میں نے غلام سے کہا میرے لئے اجازت لو حضرت سعید فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) نے میرے کہنے کی آواز سن لی اور فرمانے لگے کہ ابن جبیر ہو میں نے کہا جی ہاں فرمانے لگے اندر آجاؤ اللہ کی قسم تم بغیر کسی ضروری کام کے اس وقت نہیں آئے ہو گے حضرت سعید کہتے ہیں کہ میں اندر داخل ہوا تو انہوں نے ایک کمبل بچھایا ہوا تھا اور تکیہ سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے وہ تکیہ کہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی میں نے عرض کیا اے ابوعبدالرحمن کیا لعان کرنے والے دونوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا سُبْحَانَ اللَّهِ ! ہاں کیونکہ سب سے پہلے جس نے اس بارے میں پوچھا وہ فلاں بن فلاں تھا اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ کی کیا رائے ہے کہ اگر ہم میں سے کوئی اپنی بیوی کو فحش کام زنا کرتا ہوا پائے تو وہ کیا کرے اگر وہ کسی سے بات کرے تو یہ بہت بڑی بات کہے گا اور اگر خاموش رہے تو اس جیسی بات پر کیسے خاموش رہا جاسکتا ہے راوی کہتے ہیں کہ نبی ﷺ خاموش رہے اور اسے کوئی جواب نہیں دیا اس کے بعد وہ آدمی پھر آیا اور اس نے عرض کیا کہ جس مسئلہ کے بارے میں میں نے آپ ﷺ سے پوچھا تھا اب میں خود مبتلا ہوگیا ہوں پھر اللہ تعالیٰ نے سورت النور میں (وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ ) آیات نازل فرمائیں آپ ﷺ نے ان آیات کو اس پر تلاوت فرمایا اور اسے نصیحت فرمائی اور اسے سمجھایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے اس آدمی نے کہا نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں نے اس عورت پر جھوٹ نہیں بولا، پھر آپ ﷺ نے اس عورت کو بلایا اور وعظ و نصیحت فرمائی اور اسے خبر دی کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے۔ اس عورت نے کہا نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے یہ آدمی جھوٹا ہے پھر آپ ﷺ نے اس آدمی سے آغاز فرمایا اور اس نے چار مرتبہ گواہی دی اور کہا اللہ کی قسم میں سچا ہوں اور پانچویں مرتبہ اس نے کہا کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو پھر آپ ﷺ اس عورت کی طرف متوجہ ہوئے تو اس عورت نے چار مرتبہ گواہی دی کہ یہ آدمی جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ اس عورت نے کہا کہ اس عورت پر اللہ کا غضب نازل ہو اگر یہ آدمی سچا ہو پھر آپ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان مستقل جدائی ڈال دی۔
Said b Jubair reported: I was asked about the invokers of curses during the reign of Musab bin Zubair whether they could separate (themselves by this process). He said: I did not understand what to say. So I went to the house of Ibn Umar (RA) in Makkah. I said to his servant: Seek permission for me. He said that he (Ibn Umar) had been taking rest. He (Ibn Umar) heard my voice. and said: Are you Ibn Jubair? I said: Yes. He said: Come in. By Allah, it must be some great need which has brought you here at this hour. So I got in and found him lying on a blanket reclining against a pillow stuffed with fibres of date-palm. I said: O AbuAbdul Rahman, should there be separation between the invokers of curses? He said: Hallowed be Allah, yes. The first one who asked about it was so and so. he said: Messenger of Allah, tell me if one of us finds his wife committing adultery: what should he do? If he talks, that is something great, and if he keeps quiet that is also (something great) (which he cannot afford to do). Allahs Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) kept quiet for some time. After some time he (that very person) came to him (Allahs Messenger) and said: I have been involved in that very cage about which I had asked you. Allah the Exalted and Majestic then revealed (these) verses of Surah Nur: "Those who accuse their wives" (verse 6), and he (the Holy Prophet) recited them to him and admonished him, and exhorted him and informed him that the torment of the world is less painful than the torment of the Hereafter. He said: No, by Him Who sent you with Truth, I did not tell a lie against her. He (the Holy Prophet) then called her (the wife of that person who had accused her) and admonished her, and exhorted her, and informed her that the torment of this world is less painful than the torment of the Hereafter. She said: No, by Him Who sent thee with Truth, he is a liar. (It was) the man who started the swearing of oath and he swore in the name of Allah four times that he was among the truthful, and at the fifth turn he said: Let there be curse of Allah upon him if he were among the liars. Then the woman was called and she swore four times in the name of Allah that he (her husband) was among the liars, and at the fifth time (she said): Let there be curse upon her if he were among the truthful. He (the Holy Prophet) then effected separation between the two. A hadith like this is narrated by Ibn Numair with a slight variation of words.
و حَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ قَالَ سُئِلْتُ عَنْ الْمُتَلَاعِنَيْنِ زَمَنَ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ فَلَمْ أَدْرِ مَا أَقُولُ فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَقُلْتُ أَرَأَيْتَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ
علی بن حجر سعدی، عیسیٰ بن یونس، عبدالملک بن ابی سلیمان، حضرت سعید بن جبیر (رضی اللہ عنہم) فرماتے ہیں کہ حضرت مصعب بن زبیر (رض) کے زمانہ (خلافت) میں مجھ سے لعان کرنے والوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ میں حضرت ابن عمر (رض) کے پاس آیا اور میں نے ان سے کہا کہ لعان کرنے والوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ کیا ان دونوں کے درمیان جدائی ڈال دی جائے گی ؟ پھر ابن نمیر (رضی اللہ عنہ) کی حدیث کی طرح ذکر فرمایا۔
Said b Jubair reported: I was asked about the invokers of curses during the reign of Musab bin Zubair whether they could separate (themselves by this process). He said: I did not understand what to say. So I went to the house of Ibn Umar (RA) in Makkah. I said to his servant: Seek permission for me. He said that he (Ibn Umar) had been taking rest. He (Ibn Umar) heard my voice. and said: Are you Ibn Jubair? I said: Yes. He said: Come in. By Allah, it must be some great need which has brought you here at this hour. So I got in and found him lying on a blanket reclining against a pillow stuffed with fibres of date-palm. I said: O AbuAbdul Rahman, should there be separation between the invokers of curses? He said: Hallowed be Allah, yes. The first one who asked about it was so and so. he said: Messenger of Allah, tell me if one of us finds his wife committing adultery: what should he do? If he talks, that is something great, and if he keeps quiet that is also (something great) (which he cannot afford to do). Allahs Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) kept quiet for some time. After some time he (that very person) came to him (Allahs Messenger) and said: I have been involved in that very cage about which I had asked you. Allah the Exalted and Majestic then revealed (these) verses of Surah Nur: "Those who accuse their wives" (verse 6), and he (the Holy Prophet) recited them to him and admonished him, and exhorted him and informed him that the torment of the world is less painful than the torment of the Hereafter. He said: No, by Him Who sent you with Truth, I did not tell a lie against her. He (the Holy Prophet) then called her (the wife of that person who had accused her) and admonished her, and exhorted her, and informed her that the torment of this world is less painful than the torment of the Hereafter. She said: No, by Him Who sent thee with Truth, he is a liar. (It was) the man who started the swearing of oath and he swore in the name of Allah four times that he was among the truthful, and at the fifth turn he said: Let there be curse of Allah upon him if he were among the liars. Then the woman was called and she swore four times in the name of Allah that he (her husband) was among the liars, and at the fifth time (she said): Let there be curse upon her if he were among the truthful. He (the Holy Prophet) then effected separation between the two. A hadith like this is narrated by Ibn Numair with a slight variation of words.