سیدہ زینب بنت حجش (رض) سے شادی اور آیات پردہ کے نز ول اور ولیمہ کے اثبات کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بِأَهْلِهِ قَالَ فَصَنَعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا فَجَعَلَتْهُ فِي تَوْرٍ فَقَالَتْ يَا أَنَسُ اذْهَبْ بِهَذَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْ بَعَثَتْ بِهَذَا إِلَيْکَ أُمِّي وَهِيَ تُقْرِئُکَ السَّلَامَ وَتَقُولُ إِنَّ هَذَا لَکَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَذَهَبْتُ بِهَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ أُمِّي تُقْرِئُکَ السَّلَامَ وَتَقُولُ إِنَّ هَذَا لَکَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ضَعْهُ ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ فَادْعُ لِي فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا وَمَنْ لَقِيتَ وَسَمَّی رِجَالًا قَالَ فَدَعَوْتُ مَنْ سَمَّی وَمَنْ لَقِيتُ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ عَدَدَ کَمْ کَانُوا قَالَ زُهَائَ ثَلَاثِ مِائَةٍ وَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَنَسُ هَاتِ التَّوْرَ قَالَ فَدَخَلُوا حَتَّی امْتَلَأَتْ الصُّفَّةُ وَالْحُجْرَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَتَحَلَّقْ عَشَرَةٌ عَشَرَةٌ وَلْيَأْکُلْ کُلُّ إِنْسَانٍ مِمَّا يَلِيهِ قَالَ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا قَالَ فَخَرَجَتْ طَائِفَةٌ وَدَخَلَتْ طَائِفَةٌ حَتَّی أَکَلُوا کُلُّهُمْ فَقَالَ لِي يَا أَنَسُ ارْفَعْ قَالَ فَرَفَعْتُ فَمَا أَدْرِي حِينَ وَضَعْتُ کَانَ أَکْثَرَ أَمْ حِينَ رَفَعْتُ قَالَ وَجَلَسَ طَوَائِفُ مِنْهُمْ يَتَحَدَّثُونَ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَزَوْجَتُهُ مُوَلِّيَةٌ وَجْهَهَا إِلَی الْحَائِطِ فَثَقُلُوا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَی نِسَائِهِ ثُمَّ رَجَعَ فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَعَ ظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ ثَقُلُوا عَلَيْهِ قَالَ فَابْتَدَرُوا الْبَابَ فَخَرَجُوا کُلُّهُمْ وَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی أَرْخَی السِّتْرَ وَدَخَلَ وَأَنَا جَالِسٌ فِي الْحُجْرَةِ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّی خَرَجَ عَلَيَّ وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَرَأَهُنَّ عَلَی النَّاسِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَکُمْ إِلَی طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَکِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِکُمْ کَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ إِلَی آخِرِ الْآيَةِ قَالَ الْجَعْدُ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَا أَحْدَثُ النَّاسِ عَهْدًا بِهَذِهِ الْآيَاتِ وَحُجِبْنَ نِسَائُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
قتیبہ بن سعید، جعفر، ابن سلیمان، ابی عثمان، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شادی کی اور اپنے اہل کے پاس تشریف لے گئے اور میری والدہ ام سلیم نے مالیدہ بنایا اور اسے ایک تھالی میں رکھا پھر کہا اے انس! یہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لے جا اور کہہ یہ میری والدہ نے آپ ﷺ کی طرف بھیجا ہے اور وہ آپ ﷺ کو سلام کہہ رہی تھیں اور کہہ رہی ہیں کہ یہ قلیل ہدیہ ہے ہماری طرف سے آپ ﷺ کے لئے اے اللہ کے رسول کہتے ہیں میں اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے گیا اور میں نے عرض کیا میری والدہ آپ ﷺ کو سلام عرض کرتی ہیں اور کہتی ہیں یہ حقیر سا ہدیہ آپ ﷺ کے لئے ہماری طرف سے ہے آپ ﷺ نے فرمایا اسے رکھ دو پھر فرمایا جاؤ اور فلاں فلاں اور جو تجھے ملے اور بعض آدمیوں کے نام لئے بلا لاؤ کہتے ہیں میں نے بلایا جو مجھے ملا اور جس کا نام لیا تھا راوی کہتا ہے میں نے انس ؓ سے کہا تقریبا کتنی تعداد تھی؟ انہوں نے کہا تقریبا تین سو اور رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا اے انس! وہ طباق لے آؤ پس صحابہ ؓ آئے یہاں تک کہ صفہ اور حجرہ مبارک بھر گئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چاہئے کہ دس دس کا حلقہ بنا لو اور چاہئے کہ وہ آدمی اپنے سامنے سے کھائے انہوں نے سیر ہو کر کھایا ایک گروہ وہ نکلا تو دوسرا گروہ داخل ہوا یہاں تک کہ سب نے کھالیا تو آپ ﷺ نے مجھے فرمایا اے انس کھانا اٹھا لے میں نے اٹھا لیا تو میں نہ جان سکا کہ جب میں نے رکھا تھا اس وقت کھانا زیادہ تھا یا جب میں نے اٹھایا اور ان میں سے کچھ جماعتیں رسول اللہ ﷺ کے گھر میں باتیں کرنے بیٹھ گئیں اور رسول اللہ ﷺ بھی تشریف فرما تھے اور آپ ﷺ کی زوجہ مطہرہ اپنا منہ پھیرے بیٹھی تھیں اور ان کا چہرہ دیوار کی طرف تھا وہ رسول اللہ ﷺ پر بوجھ بن گئے رسول اللہ ﷺ اپنی ازواج ؓ کی طرف تشریف لے گئے اور انہیں سلام کیا پھر واپس آئے جب صحابہ نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ لوٹ آئے ہیں تو انہوں نے گمان کیا کہ وہ آپ ﷺ پر بوجھ ہیں اور دروزاے کی طرف جلدی کی اور سب کے سب چلے گئے اور رسول اللہ ﷺ تشریف لائے پردہ ہٹایا اور داخل ہوگئے اور میں حجرہ میں بیٹھا ہوا تھا آپ ﷺ تھوڑی دیر ہی ٹھہرے یہاں تک کہ میرے پاس تشریف لائے اور یہ آیت نازل کی گئی رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اور ان آیات کو لوگوں کے سامنے تلاوت کیا ( لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتَ النَّبِيِّ اِلَّا اَنْ يُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَيْرَ نٰظِرِيْنَ اِنٰىهُ وَلٰكِنْ اِذَا دُعِيْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَلَا مُسْ تَاْنِسِيْنَ لِحَدِيْثٍ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْي مِنْكُمْ وَاللّٰهُ لَا يَسْتَحْي مِنَ الْحَقِّ ) 33۔ الأحزاب: 53) آخر آیت تک جعد نے کہا انس ؓ نے کہا کہ لوگوں میں سب سے پہلے یہ آیات میں نے سنیں اور ازواج النبی ﷺ پردہ میں رہنے لگیں۔
Anas bin Malik (RA) reported: Allahs Messenger ﷺ contracted marriage and he went to his wife. My mother Umm Sulaim prepared hais and placed it in an earthen vessel and said: Anas, take it to Allahs Messenger ﷺ and say: My mother has sent that to you and she offers greetings to you, and says that it is a humble gift for you on our behalf, Messenger of Allah. So I went along with it to Allahs Messenger ﷺ and said: My mother offers you salutations, and says that it is a humble gift for you on our behalf. He said: Place it here, and then said: Go and invite on my behalf so and so and anyone whom you meet, and he even named some persons. He (Anas) said: I invited whom he had named and whom I met. I (one of the narrators) said: I said to Anas (RA) : How many (persons) were there? He (Anas) said: They were about three hundred persons. Then Allahs Messenger ﷺ (said to me): Anas, bring that earthen vessel. They (the guests) then began to enter until the courtyard and the apartment were fully packed. Allahs Messenger ﷺ said: Make a circle of ten (guests), and every person should eat from that nearest to him. They began to eat, until they ate to their fill. A group went out (after eating the food), and another group came in until all of them had eaten. He (the Holy Prophet) said to me: Anas, lift it (the earthen vessel), so I lifted it, but I could not assess whether it had more (food) when I placed it (before Allahs Messenger) or when I lifted it (after the people had been served out of it). A group among them (the guests) began to talk in the house of Allahs Messenger ﷺ and the Messenger of Allah ﷺ was sitting and his wife had been sitting with her face turned towards the wall. It was troublesome for Allahs Messenger ﷺ , so Allahs Messenger ﷺ went out and greeted his wives. He then returned. When they (the guests) saw that Allahs Messenger ﷺ had returned they thought that it (their overstay) was something troublesome for him. He (the narrator) said: They hastened towards the door and all of them went out. And there came Allahs Messenger ﷺ and he hung a curtain and went in, and I was sitting in his apartment and he did not stay but for a short while. He then came to me and these verses were revealed. Allahs Messenger ﷺ came out and recited them to the people: "O you who believe, enter not the houses of the Prophet ﷺ unless permission is given to you for a meal, not waiting for its cooking being finished-but when you are invited, enter, and when you have taken food, disperse not seeking to listen to talk. Surely this gives the Prophet ﷺ trouble", to the end of verse (xxxiii. 53). (Al-Jad said that Anas [b. Malik] stated: I am the first amongst the people to hear these verses), and henceforth the wives of the Apostle ﷺ began to observe seclusion (al-hijab).
سیدہ زینب بنت حجش (رض) سے شادی اور آیات پردہ کے نز ول اور ولیمہ کے اثبات کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ أَهْدَتْ لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ فَقَالَ أَنَسٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَادْعُ لِي مَنْ لَقِيتَ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَدَعَوْتُ لَهُ مَنْ لَقِيتُ فَجَعَلُوا يَدْخُلُونَ عَلَيْهِ فَيَأْکُلُونَ وَيَخْرُجُونَ وَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَی الطَّعَامِ فَدَعَا فِيهِ وَقَالَ فِيهِ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَلَمْ أَدَعْ أَحَدًا لَقِيتُهُ إِلَّا دَعَوْتُهُ فَأَکَلُوا حَتَّی شَبِعُوا وَخَرَجُوا وَبَقِيَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ فَأَطَالُوا عَلَيْهِ الْحَدِيثَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحْيِي مِنْهُمْ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ شَيْئًا فَخَرَجَ وَتَرَکَهُمْ فِي الْبَيْتِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَکُمْ إِلَی طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ قَالَ قَتَادَةُ غَيْرَ مُتَحَيِّنِينَ طَعَامًا وَلَکِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا حَتَّی بَلَغَ ذَلِکُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِکُمْ وَقُلُوبِهِنَّ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ابی عثمان، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے زینب ؓ سے شادی کی ام سلیم نے آپ ﷺ کے لئے مالیدہ کا ہدیہ ایک پتھر کی تھالی میں بھیجا انس کہتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا جاؤ اور مسلمانوں میں سے جو بھی تجھے ملے اسے میری طرف سے دعوت دو پس میں نے ہر اس کو دعوت دی جو مجھے ملا پس صحابہ ؓ آپ ﷺ کے پاس آنا شروع ہوگئے وہ کھاتے جاتے اور نکلتے جاتے تھے اور نبی کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک اس کھانے میں رکھا اور برکت کی دعا کی اور جو اللہ کو منظور تھا پڑھا اور میں نے کسی کو بھی نہ چھوڑا جو مجھے ملا مگر اسے آپ ﷺ کی دعوت دی پس صحابہ نے کھایا اور سیر ہوگئے اور چلے گئے اور ان میں سے ایک جماعت باقی رہ گئی اور انہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ گفتگو کو لمبا کردیا نبی کریم ﷺ ان سے حیاء کرتے تھے کہ انہیں کچھ کہیں آپ ﷺ تشریف لے گئے اور انہیں گھر میں چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتَ النَّبِيِّ اِلَّا اَنْ يُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَيْرَ نٰظِرِيْنَ اِنٰىهُ وَلٰكِنْ اِذَا دُعِيْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَلَا مُسْ تَاْنِسِيْنَ لِحَدِيْثٍ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْي مِنْكُمْ وَاللّٰهُ لَا يَسْتَحْي مِنَ الْحَقِّ ) 33۔ الأحزاب: 53) قتادہ نے کہا کھانے کا انتظار نہ کرنے والے ہوں جب تمہیں بلایا جائے تب آؤ۔
Anas (RA) reported: When Allahs Apostle ﷺ contracted marriage with Zainab (Allah be pleased with her), Umm Sulaim sent him hais in a vessel of stone as a gift. Anas stated that Allahs Messenger ﷺ said to him: Go and invite on my behalf all the Muslims whom you meet. So I invited on his behalf everyone whom I met. They entered (his house) and they ate and went out. And Allahs Messenger ﷺ had kept his hand on the food, and he invoked blessing on that, and said whatever Allah wished him to say, and none whom I met was left uninvited. They ate to their fill and went out, but a group among them remained there and was engaged in lengthy discussion. Allahs Apostle ﷺ felt shy of saying anything to them. So he went out and left them in his house and Allah the Great and Majestic revealed this verse: "O you who believe, enter not the houses of the Prophet ﷺ unless permission is given to you for a meal, not waiting for its cooking being finished." Qatada (instead of using the word Ghaira Nazirina) used the word Ghaira Mutahayyinina (i. e. not waiting for the time of the food). But when you are invited, enter..." up to this verse "This is purer for your hearts and their hearts."
دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُکُمْ إِلَی الْوَلِيمَةِ فَلْيَأْتِهَا
یحییٰ بن یحیی، مالک نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جس کسی کو ولیمہ کے لئے بلایا جائے تو اسے اس کے لئے آنا چاہئے۔
Ibn Umar (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: When any one of you is invited to a feast, he should attend it.
دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُکُمْ إِلَی الْوَلِيمَةِ فَلْيُجِبْ قَالَ خَالِدٌ فَإِذَا عُبَيْدُ اللَّهِ يُنَزِّلُهُ عَلَی الْعُرْسِ
محمد بن مثنی، خالد بن حار ث، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو ولیمہ کی دعوت دی جائے تو چاہئے کہ قبول کرلے خالد نے کہا عبیداللہ اس سے شادی کی دعوت مراد لیتے ہیں۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: When any one of you is invited to a feast, he should accept. Ubaidallah took this feast to be a wedding feast.
دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُکُمْ إِلَی وَلِيمَةِ عُرْسٍ فَلْيُجِبْ
ابن نمیر، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو شادی کے ولیمہ کی دعوت دی جائے تو چاہئے کہ قبول کرے۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Apostle ﷺ having said this: When any one of you is invited to a wedding feast, he should accept that.
دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْتُوا الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ
ابوربیع، ابوکامل، حماد، ایوب، قتیبہ، حماد، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم کو دعوت کے لئے بلایا جائے تو دعوت کے لئے آؤ۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger (may be upon him) having said this: Accept the feast, when you are invited.
دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ يَقُولُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَعَا أَحَدُکُمْ أَخَاهُ فَلْيُجِبْ عُرْسًا کَانَ أَوْ نَحْوَهُ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو اس کا بھائی شادی ولیمے کی دعوت دے تو چاہئے کہ قبول کرلے۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: When any one of you invites his brother, he (the latter) should accept his wedding feast, or any other like it.
دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنِي عِيسَی بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ دُعِيَ إِلَی عُرْسٍ أَوْ نَحْوِهِ فَلْيُجِبْ
اسحاق بن منصور، عیسیٰ بن منذر، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کو شادی یا اسی طرح کی کسی دعوت کے لئے بلایا جائے تو چاہئے کہ قبول کرے۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ having said: He who is invited to a wedding feast or like it, he should accept it.
دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْتُوا الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ
حمید، بن مسعد، بشر بن فضل، اسماعیل بن امیہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تمہیں دعوت کے لئے بلایا جائے تو دعوت کے لئے آؤ۔
"Abdullah bin Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Come to the feast, when you are invited.
دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجِيبُوا هَذِهِ الدَّعْوَةَ إِذَا دُعِيتُمْ لَهَا قَالَ وَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَأْتِي الدَّعْوَةَ فِي الْعُرْسِ وَغَيْرِ الْعُرْسِ وَيَأْتِيهَا وَهُوَ صَائِمٌ
ہارون بن عبداللہ، حجاج بن محمد، ابن جریج، موسیٰ بن عقبہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس دعوت کو قبول کرو جس کی تمہیں دعوت دی جائے راوی کہتا ہے کہ حضرت عبداللہ شادی اور غیر شادی کی دعوت میں تشریف لاتے تھے اور روزہ کی حالت میں بھی تشریف لاتے۔
Nafi reported: I heardAbdullah bin Umar (RA) narrating that Allahs Messenger ﷺ said: Accept the feast when you are invited to it. AndAbdullah (b. Umar) used to come to the feast, whether it was a wedding feast or other than that, and he would come there even in the state of fasting.
دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دُعِيتُمْ إِلَی کُرَاعٍ فَأَجِيبُوا
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، عمر بن محمد، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر تمہیں بکری کے کھر کی دعوت کے لئے بھی بلایا جائے تو قبول کرو۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Apostle ﷺ having said: When you are invited to a feast (even though it is) the leg of the sheep, you should accept it.
دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُکُمْ إِلَی طَعَامٍ فَلْيُجِبْ فَإِنْ شَائَ طَعِمَ وَإِنْ شَائَ تَرَکَ وَلَمْ يَذْکُرْ ابْنُ الْمُثَنَّی إِلَی طَعَامٍ
محمد بن مثنی، عبدالرحمن بن مہدی، محمد بن عبداللہ بن نمیر، سفیان، ابوزبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت دی جائے تو قبول کرلے پس اگر چاہے تو کھالے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے لیکن ابن مثنی نے إِلَی طَعَامٍ کا ذکر نہیں کیا۔
Jabir (RA) reported that Allahs Messenger (may peace he upon him) said: When any one of you is invited to a feast, he should accept it. He may eat if he likes, or he may abandon (eating) if he likes. Ibn Mathanna did not make mention of the word "feast".
دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ
ابن نمیر، ابوعاصم، ابن جریج، ابوزبیر ان اسناد سے بھی حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Abu Zubair with the same chain of transmitters.
دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُکُمْ فَلْيُجِبْ فَإِنْ کَانَ صَائِمًا فَلْيُصَلِّ وَإِنْ کَانَ مُفْطِرًا فَلْيَطْعَمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، ہشام، ابن سیرین، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو چاہئے کہ قبول کرلے پس اگر روزہ دار ہو تو دعا کرے اور اگر افطار کرنے والا ہو تو کھالے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: If any one of you is invited, he should accept (the invitation). In case he is fasting, he should pray (in order to bless the inmates of the house), and if he is not fasting he should eat.
دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ بِئْسَ الطَّعَامُ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَی إِلَيْهِ الْأَغْنِيَائُ وَيُتْرَکُ الْمَسَاکِينُ فَمَنْ لَمْ يَأْتِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَی اللَّهَ وَرَسُولَهُ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے تھے برا کھانا اس ولیمے کا کھانا ہے جس میں امیروں کو بلایا جائے اور مساکین کو چھوڑ دیا جائے اور جو دعوت کو نہ آیا تو تحقیق اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی۔
Abu Hurairah (RA) used to say: The worst kind of food is the wedding feast to which the rich are invited and the poor are ignored. He who does not come to the feast, he in fact disobeys Allah and His Messenger ﷺ .
دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ يَا أَبَا بَکْرٍ کَيْفَ هَذَا الْحَدِيثُ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْأَغْنِيَائِ فَضَحِکَ فَقَالَ لَيْسَ هُوَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْأَغْنِيَائِ قَالَ سُفْيَانُ وَکَانَ أَبِي غَنِيًّا فَأَفْزَعَنِي هَذَا الْحَدِيثُ حِينَ سَمِعْتُ بِهِ فَسَأَلْتُ عَنْهُ الزُّهْرِيَّ فَقَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِکٍ
ابن ابی عمر سفیان، ابوبکر، حضرت سفیان ؓ سے روایت ہے کہ میں نے زہری سے کہا اے ابوبکر یہ حدیث کیسے ہے کہ کھانوں میں سے برا کھانا امیروں کا ہے؟ تو وہ ہنس پڑے اور کہا کہ امیروں کا کھانا برا نہیں ہے سفیان نے کہا کہ میرے والد امیر تھے اور مجھے اس حدیث نے گھبراہٹ میں ڈال دیا جب سے میں نے اسے سنا میں نے زہری سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا مجھے عبدالرحمن الاعرج نے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے سنا وہ فرماتے تھے کھانوں میں سے برا کھانا ولیمہ کا کھانا ہے پھر مالک کی حدیث کی طرح ذکر کیا۔
Sufyan reported: I said to Zuhri: Abu Bakr, what does this hadith mean: "The worst kind of food is at a wedding feast of the rich"? He laughed and said: The food served in the feast given by the rich is not worst (in itself). Sufyan said: My father was rich, so I felt disturbed when I heard this hadith, so I asked Zuhri who said: I heard from Abdul Rahman al-Alraj that he heard Abu Hurairah (RA) say: The worst kind of food is that served at the wedding feast. The rest of the hadith is the same.
دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ح وَعَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِکٍ
محمد بن رافع، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، سعید بن مسیب، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ برا کھانا ولیمہ کا کھانا ہے باقی مالک کی حدیث کی طرح بیان کیا۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters.
دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ نَحْوَ ذَلِکَ
ابن ابی عمر، سفیان، ابوزناد، اعرج، ابوہریرہ اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ روایت کی گئی ہے۔
A hadith like this has been narrated by Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters.
دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنے کے حکم کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ ثَابِتًا الْأَعْرَجَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُمْنَعُهَا مَنْ يَأْتِيهَا وَيُدْعَی إِلَيْهَا مَنْ يَأْبَاهَا وَمَنْ لَمْ يُجِبْ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَی اللَّهَ وَرَسُولَهُ
ابن ابی عمر، سفیان، زیاد بن سعد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا برا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے جس میں آنے والے کو روکا جائے اور انکار کرنے والے کو بلایا جائے اور جو دعوت قبول نہ کرے اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying. The worst kind of food is at the wedding feast from which one who comes is turned away, and he who refuses it is invited, and he who did not accept the invitation disobeyed Allah and His Messenger ﷺ .
تین طلاق سے مطلقہ عورت طلاق دینے والے کے لئے حلال نہیں الا وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرے وہ اس سے وطی کرے پھر جدائی ہو اور اسکی عدت پوری ہوجائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ جَائَتْ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ کُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَإِنَّ مَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَی رِفَاعَةَ لَا حَتَّی تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَکِ قَالَتْ وَأَبُو بَکْرٍ عِنْدَهُ وَخَالِدٌ بِالْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ فَنَادَی يَا أَبَا بَکْرٍ أَلَا تَسْمَعُ هَذِهِ مَا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو سفیان، عروہ، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رفاعہ ؓ کی بیوی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا میں رفاعہ کے پاس تھی تو اس نے مجھے طلاق دے دی ہے اور تین طلاقیں اور میں نے عبدالرحمن بن زبیر سے شادی کرلی اور اس کے ساتھ کپڑے کے کنارے کی طرح ہے (نامرد ہے) رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا کیا تیرا ارادہ ہے کہ تو رفاعہ کے پاس واپس لوٹ جائے۔ نہیں! یہاں تک کہ تو اس (عبدالرحمن بن زبیر) کا مزہ چکھے اور وہ تیرا مزا چکھے۔ فرماتی ہیں کہ ابوبکر ؓ آپ کے پاس موجود تھے اور خالد بن سعید ؓ دروازہ پر تھے اس انتظار میں کہ اسے بھی اجازت دی جائے تو خالد نے دروازہ پر سے پکار کر کہا اے ابوبکر کیا تم نہیں سن رہے کہ یہ عورت رسول اللہ ﷺ کے سامنے کیا آواز بلند کر رہی ہے۔
Aisha (Allah he pleased with her) reported: There came the wife of Rifaa to Allahs Apostle ﷺ and said: I was married to Rifaa but he divorced me, making may divorce irrevocable. Afterwards I married Abdul Rahman bin al-Zubair, but all he possesses is like the fringe of a garment (i. e. he is sexually weak). Thereupon Allahs Messenger ﷺ smiled, and said: Do you wish to return to Rifaa. (You) cannot (do it) until you have tasted his sweetness and he (Abdul Rahman) has tasted your sweetness. Abu Bakr (RA) was at that time near him (the Holy Prophet) and Khalid (b. Said) was at the door waiting for the permission to be granted to him to enter). He (Khalid) said; Abu Bakr, do you hear what she is saying loudly in the presence of Allahs Messenger ﷺ ?