مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الدَّرَاوَرْدِيِّ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ کُلُّهُمْ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَی بَعْضٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ زَائِدَةَ قَالَ انْطَلِقْ فَقَدْ زَوَّجْتُکَهَا فَعَلِّمْهَا مِنْ الْقُرْآنِ
خلف بن ہشام، حماد بن زید، زہیر بن حرب سفیان، بن عیینہ اسحاق بن ابراہیم، ابوبکر بن ابی شیبہ، حسین بن علی ابی حازم، حضرت سہل بن سعد ؓ کی حدیث مذکور کی مزید اسناد ذکر کی ہیں زائدہ کی حدیث میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ میں نے تیرا نکاح اس سے کردیا تو اسے قرآن سکھا دے۔
This hadith has been narrated on the authority of Sahl bin Sad with a minor alteration of words, but the hadith transmitted through Zaidah (the words are that the Holy Prophet) said: Go, I have married her to you, and you teach her something of the Quran.
مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ يَزِيدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمْ کَانَ صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ کَانَ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا قَالَتْ أَتَدْرِي مَا النَّشُّ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَتْ نِصْفُ أُوقِيَّةٍ فَتِلْکَ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَزْوَاجِهِ
اسحاق بن ابراہیم، عبدالعزیز بن محمد، یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد، محمد بن ابی عمر مکی، عبدالعزیز، یزید، محمد بن ابراہیم، حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے سوال کیا کہ رسول اللہ ﷺ کا مہر کتنا تھا؟ تو انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ کا اپنی ازواج کے لئے مہر بارہ اوقیہ اور نش تھا سیدہ ؓ نے عرض کیا کیا تو جانتا ہے کہ نش کیا ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں فرمایا نصف اوقیہ اور یہ پانچ سو درہم تھے پس رسول اللہ ﷺ کا اپنی ازواج کے لئے یہ مہر ہوتا تھا۔
Abu Salama bin Abdul Rahman reported: I asked Aisha, the wife of Allahs Messenger ﷺ : What is the amount of dower of Allahs Messenger ﷺ ? She said: It was twelve uqiyas and one nash. She said: Do you know what is al-nash? I said: No. She said: It is half of uqiya, and it amounts to five hundred dirhams, and that was the dower given by Allahs Messenger ﷺ to his wives.
مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَأَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَکِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی عَلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ فَقَالَ مَا هَذَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَی وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ فَبَارَکَ اللَّهُ لَکَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ
یحییٰ بن یحیی، ابوربیع، سلیمان بن داؤد، قتبیہ بن سعید، یحیی، حماد بن زید، ثابت، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عبدالرحمن بن عوف پر زردی کے نشان دیکھے تو فرمایا یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ میں نے ایک عورت سے گٹھلی کھجور کے ہم وزن سونے پر شادی کی ہے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تیرے لئے مبارک کرے، ولیمہ کر چاہے ایک بکری سے ہی ہو۔
Anas bin Malik (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ saw the trace of yellowness on Abdul Rahman bin Auf and said: What is this? Thereupon he said: Allahs Messenger, I have married a woman for a date-stones weight of gold. He said: God bless you! Hold a wedding feast, even if only with a sheep.
مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ
محمد بن عبید، ابوعوانہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ عبدالرحمن بن عوف نے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں کھجور کی گٹھلی کے ہم وزن سونے پر شادی کی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا ولیمہ کر، چاہے بکری ہی سے ہو۔
Anas bin Malik (RA) reported that Abdul Rahman bin Auf (RA) married during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ for a nawat weight of gold and the Messenger of Allah ﷺ said to him: Give a feast even with a sheep.
مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ وَحُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَی وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ
اسحاق بن ابراہیم، وکیع، شعبہ، قتادہ، حمید، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ عبدالرحمن بن عوف ؓ نے ایک عورت سے کھجور کی گٹھلی کے ہم وزن سونے کے مہر پر شادی کی اور نبی کریم ﷺ نے انہیں فرمایا کہ ولیمہ کر چاہے ایک بکری ہی سے ہو۔
Anas bin Malik (RA) reported that Abdul Rahman bin Auf (RA) married a woman for a date-stones weight of gold and Allahs Apostle ﷺ said to him: Hold a wedding feast, even if only with a sheep.
مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ح و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ حُمَيْدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ وَهْبٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً
محمد بن مثنی، ابوداؤد، محمد بن رافع، ہارون بن عبداللہ، وہب بن جریر، احمد بن خراش، شبابہ، حمیداسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Humaid with the same chain of transmitters except (with this minor alteration of words) that Abdul Rahman said: "I married a woman."
مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ قَالَا أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ بَشَاشَةُ الْعُرْسِ فَقُلْتُ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ کَمْ أَصْدَقْتَهَا فَقُلْتُ نَوَاةً وَفِي حَدِيثِ إِسْحَقَ مِنْ ذَهَبٍ
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن قدامہ، نضر بن شمیل، شعبہ، عبدالعزیز بن صہیب، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ عبدالرحمن بن عوف ؓ نے کہا مجھے رسول اللہ ﷺ نے دیکھا اور مجھ پر شادی کی خوشی کے آثار تھے تو میں نے عرض کیا میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا تو نے اس کا مہر کتنا ادا کیا؟ میں نے عرض کیا ایک گٹھلی کے برابر اور اسحاق کی حدیث میں ہے سونے سے۔
Abdul Rahman bin Auf (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ saw the signs of the happiness of wedding in me, and I said: I have married a woman of the Ansar. He said: How much Mahr have you paid? I said: For a date-stone weight of gold. And in the hadith transmitted by Ishaq (it is): (nawat weight) of gold.
مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ شُعْبَةُ وَاسْمُهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَی وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ
ابن مثنی، ابوداؤد، شعبہ، ابی حمزہ، شعبہ، عبدالرحمن، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ عبدالرحمن بن عوف ؓ نے ایک عورت سے کھجور کی گٹھلی کے ہم وزن سونے پر نکاح کیا۔
Anas bin Malik (RA) reported that Abdul Rahman married a woman for a datestone weight of gold.
مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَهْبٌ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ وَلَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ مِنْ ذَهَبٍ
محمد بن رافع، وہب، شعبہ ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے سوائے اس کے کہ عبدالرحمن بن عوف کے بیٹوں میں سے ایک آدمی نے ( مِنْ ذَهَبٍ ) کے الفاظ کہے ہیں۔
Shubah has narrated this hadith with the same chain of transmitters except for (this alteration) that he said that a person from among the sons of Abd al Rahman said: "from gold".
مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا خَيْبَرَ قَالَ فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ فَرَکِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَکِبَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ فَأَجْرَی نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زُقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُکْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْحَسَرَ الْإِزَارُ عَنْ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي لَأَرَی بَيَاضَ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ قَالَ اللَّهُ أَکْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَائَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ وَقَدْ خَرَجَ الْقَوْمُ إِلَی أَعْمَالِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ قَالَ وَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً وَجُمِعَ السَّبْيُ فَجَائَهُ دِحْيَةُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِنِي جَارِيَةً مِنْ السَّبْيِ فَقَالَ اذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةً فَأَخَذَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ فَجَائَ رَجُلٌ إِلَی نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَعْطَيْتَ دِحْيَةَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ سَيِّدِ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ مَا تَصْلُحُ إِلَّا لَکَ قَالَ ادْعُوهُ بِهَا قَالَ فَجَائَ بِهَا فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خُذْ جَارِيَةً مِنْ السَّبْيِ غَيْرَهَا قَالَ وَأَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا فَقَالَ لَهُ ثَابِتٌ يَا أَبَا حَمْزَةَ مَا أَصْدَقَهَا قَالَ نَفْسَهَا أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا حَتَّی إِذَا کَانَ بِالطَّرِيقِ جَهَّزَتْهَا لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَأَهْدَتْهَا لَهُ مِنْ اللَّيْلِ فَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا فَقَالَ مَنْ کَانَ عِنْدَهُ شَيْئٌ فَلْيَجِئْ بِهِ قَالَ وَبَسَطَ نِطَعًا قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيئُ بِالْأَقِطِ وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيئُ بِالتَّمْرِ وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيئُ بِالسَّمْنِ فَحَاسُوا حَيْسًا فَکَانَتْ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
زہیر بن حرب، اسماعیل، ابن علیہ، عبدالعزیز، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کا غزوہ لڑا ہم نے اس خبیر کے پاس ہی صبح کی نماز اندھیرے میں ادا کی تو اللہ کے نبی ﷺ سوار ہوئے اور ابوطلحہ بھی سوار ہوئے اور میں ابوطلحہ کے پیچھے بیٹھا نبی کریم ﷺ نے خیبر کے کوچوں میں دوڑ لگانا شروع کی اور میرا گھٹنا اللہ کے نبی ﷺ کی ران سے لگ جاتا تھا اور نبی کریم ﷺ کا ازار بھی آپ ﷺ کی ران سے کھسک گیا تھا اور میں اللہ کے نبی ﷺ کی ران کی سفیدی دیکھتا تھا جب آپ ﷺ بستی میں پہنچے تو فرمایا اَللَّهُ أَکْبَرُ خیبر ویران ہوگیا بیشک ہم جب کسی میدان میں اترتے ہیں تو اس قوم کی صبح بری ہوجاتی ہے جن کو ڈرایا جاتا ہے ان الفاظ کو آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا اور لوگ اپنے اپنے کاموں کی طرف نکل چکے تھے انہوں نے کہا محمد ﷺ آچکے ہیں عبدالعزیز نے کہا کہ ہمارے بعض ساتھیوں نے یہ بھی کہا کہ لشکر بھی آچکا راوی کہتے ہیں ہم نے خیبر کو جبراً فتح کرلیا اور قیدی جمع کئے گئے اور آپ ﷺ کے پاس دحیہ حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے نبی مجھے قیدیوں میں سے باندی عطا کردیں آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ اور ایک باندی لے لو انہوں نے صفیہ ؓ بنت حیی کو لے لیا تو اللہ کے نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی نے آکر کہا اے اللہ کے نبی آپ ﷺ نے دحیہ کو صفیہ بن حیی بنوقریظہ و بنونضیر کی سردار عطا کردی وہ آپ کے علاوہ کسی کے شایان شان نہیں آپ ﷺ نے فرمایا دحیہ کو باندی کے ہمراہ بلاؤ چناچہ وہ اسے لے کر حاضر ہوئے جب نبی کریم ﷺ نے اسے دیکھا فرمایا کہ تو اس کے علاوہ قیدیوں میں سے کوئی باندی لے لے اور آپ ﷺ نے انہیں آزاد کیا اور ان سے شادی کی ثابت راوی نے کہا اے ابوحمزہ اس کا مہر کیا تھا؟ فرمایا ان کو آزاد کرنا اور شادی کرنا ہی مہر تھا جب آپ ﷺ راستہ میں پہنچے تو اسے ام سلیم نے تیار کر کے رات کے وقت آپ ﷺ کی خدمت میں بھیج دیا اور نبی کریم ﷺ نے بحالت عروسی صبح کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا جس کے پاس جو کچھ ہو وہ لے آئے اور ایک چمڑے کا دستر خوان بچھوا دیا چناچہ بعض آدمی پنیر اور بعض کھجوریں اور بعض گھی لے کر حاضر ہوئے پھر انہوں نے اس سب کو ملا کر مالیدہ حلوا تیار کرلیا اور یہی رسول اللہ ﷺ کا ولیمہ تھا۔
Anas (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ set out on an expedition to Khaibar and we observed our morning prayer in early hours of the dawn. The Apostle of Allah ﷺ then mounted and so did Abu Talha ride, and I was seating myself behind Abu Talha. Allahs Apostle ﷺ moved in the narrow street of Khaibar (and we rode so close to each other in the street) that my knee touched the leg of Allahs Apostle ﷺ . (A part of the) lower garment of Allahs Apostle ﷺ slipped from his leg and I could see the whiteness of the leg of Allahs Apostle ﷺ . As he entered the habitation he called: Allah-o-Akbar (Allah is the Greatest). Khaibar is ruined. And when we get down in the valley of a people, evil is the morning of the warned ones. He repeated it thrice. In the meanwhile the people went out for their work, and said: By Allah, Muhammad has come. Abdul Aziz or some of our companions said: Muhammad and the army (have come). He said: We took it (the territory of Khaibar) by force, and there were gathered the prisoners of war. There came Dihya and he said: Messenger of Allah, bestow upon me a girl, one of the prisoners. He said: Go and get any girl. He made a choice for Safiyya daughter of Huyayy (b. Akhtab). There came a person to Allahs Apostle ﷺ and said: Apostle of Allah ﷺ , you have bestowed Safiyya bint Huyayy, the chief of Quraiza and al-Nadir, upon Dihya and she is worthy of you only. He said: Call him along with her. So he came along with her. When Allahs Apostle ﷺ saw her he said: Take any other woman from among the prisoners. He (the narrator) said: He (the Holy Prophet) then granted her emancipation and married her. Thabit said to him: Abu Hamza, how much dower did he (the Holy Prophet) give to her? He said: He granted her freedom and then married her. On the way Umm Sulaim embellished her and then sent her to him (the Holy Prophet) at night. Allahs Apostle ﷺ appeared as a bridegroom in the morning. He (the Holy Prophet) said: He who has anything (to eat) should bring that. Then the cloth was spread. A person came with cheese, another came with dates, and still another came with refined butter, and they prepared hais and that was the wedding feast of Allahs Messenger ﷺ
مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ وَشُعَيْبِ بْنِ حَبْحَابٍ عَنْ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ عَنْ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ وَعُمَرُ بْنُ سَعْدٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ عَنْ أَنَسٍ کُلُّهُمْ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا وَفِي حَدِيثِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ تَزَوَّجَ صَفِيَّةَ وَأَصْدَقَهَا عِتْقَهَا
ابوربیع، حماد ابن زید، ثابت عبدالعزیز، صہیب انس قتبہ بن سعید، حامد ثابت، شعی بن حبحاب، ابوعوانہ، محمد بن عبید ابوعثمان انس زہیر بن حرب معاذ بن ہشام، محمد بن رافع، عمر بن سعد، عبدالرزاق، سفیان یونس بن عبید، شعیب مختلف اسناد سے روایت ذکر کی ہے کہ حضرت انس نبی ﷺ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے صفیہ کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر مقرر کیا اور معاذ نے اپنے باپ سے حدیث روایت کی ہے کہ آپ ﷺ نے صفیہ سے شادی کی اور ان کا مہر ان کی آزادی کو مقرر کیا۔
This hadith has been narrated through another chain of transmitters on the authority of Anas that Allahs Apostle ﷺ emancipated Safiyya, and her emancipation was treated as her wedding gift, and in the hadith transmitted by Muadh on the authority of his father (the words are): "He (the Holy Prophet) married Safiyya and bestowed her emancipation as her wedding gift."
مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي يُعْتِقُ جَارِيَتَهُ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا لَهُ أَجْرَانِ
یحییٰ بن یحییٰ خالد بن عبداللہ، مطرف، عامر، ابی بردہ، حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کے بارے میں جو اپنی لونڈی کو آزاد کرے پھر اس سے شادی کرے فرمایا اس کے لئے دوہرا اجر ہے۔
Abu Musa reported that Allahs Messenger ﷺ said about one who emancipated a slave woman, and then married her, that for him there are two rewards.
مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کُنْتُ رِدْفَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ وَقَدَمِي تَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُمْ حِينَ بَزَغَتْ الشَّمْسُ وَقَدْ أَخْرَجُوا مَوَاشِيَهُمْ وَخَرَجُوا بِفُؤُوسِهِمْ وَمَکَاتِلِهِمْ وَمُرُورِهِمْ فَقَالُوا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَائَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ قَالَ وَهَزَمَهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَوَقَعَتْ فِي سَهْمِ دِحْيَةَ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَی أُمِّ سُلَيْمٍ تُصَنِّعُهَا لَهُ وَتُهَيِّئُهَا قَالَ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَتَعْتَدُّ فِي بَيْتِهَا وَهِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ قَالَ وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَتَهَا التَّمْرَ وَالْأَقِطَ وَالسَّمْنَ فُحِصَتْ الْأَرْضُ أَفَاحِيصَ وَجِيئَ بِالْأَنْطَاعِ فَوُضِعَتْ فِيهَا وَجِيئَ بِالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ فَشَبِعَ النَّاسُ قَالَ وَقَالَ النَّاسُ لَا نَدْرِي أَتَزَوَّجَهَا أَمْ اتَّخَذَهَا أُمَّ وَلَدٍ قَالُوا إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ امْرَأَتُهُ وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ أُمُّ وَلَدٍ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْکَبَ حَجَبَهَا فَقَعَدَتْ عَلَی عَجُزِ الْبَعِيرِ فَعَرَفُوا أَنَّهُ قَدْ تَزَوَّجَهَا فَلَمَّا دَنَوْا مِنْ الْمَدِينَةِ دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَفَعْنَا قَالَ فَعَثَرَتْ النَّاقَةُ الْعَضْبَائُ وَنَدَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَدَرَتْ فَقَامَ فَسَتَرَهَا وَقَدْ أَشْرَفَتْ النِّسَائُ فَقُلْنَ أَبْعَدَ اللَّهُ الْيَهُودِيَّةَ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَوَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِي وَاللَّهِ لَقَدْ وَقَعَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ میں خیبر کے دن ابوطلحہ کے پیچھے سوار تھا اور میرا قدم رسول اللہ ﷺ کے قدم مبارک کو چھو جاتا تھا سورج کے طلوع ہوتے ہی ہم خیبر جا پہنچے اور لوگوں نے اپنے جانوروں کو باہر نکال لیا تھا اور وہ اپنے کدال اور پھاوڑے اور ٹوکریاں لے کر نکلے انہوں نے کہا محمد ﷺ بھی ہیں اور لشکر بھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خبیر برباد ہوگیا جب ہم کسی قوم کے میدان میں اتر تے ہیں تو ان کی صبح بری ہوجاتی ہے جن کو ڈرایا جاتا ہے بالآخر اللہ نے انہیں شکست دی اور حضرت دحیہ کے حصہ میں ایک خوبصورت باندی آئی پھر رسول اللہ ﷺ نے ان سے اس کو سات باندیوں کے بدلے میں خرید لیا پھر اسے ام سلیم کی طرف بھیجا کہ وہ اسے بنا سنوار کر تیار کردیں اور راوی کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے آپ ﷺ نے یہ اس لئے فرمایا تاکہ انہی کے گھر میں وہ اپنی عدت پوری کرلیں اور یہ باندی صفیہ بنت حیی ؓ تھیں اور رسول اللہ ﷺ نے ان کے ولیمہ میں کھجور، پنیر اور مکھن کا کھانا تیار کروایا زمین کو کھودا گیا گڑھوں میں چمڑے کے دستر خوان لا کر رکھے گئے اور پنیر اور مکھن لایا گیا اور لوگوں نے خوب سیر (پیٹ بھر کر) ہو کر کھایا اور لوگوں نے کہا ہم نہیں جانتے کہ آپ ﷺ نے ان سے شادی کی یا ام ولد بنایا ہے؟ صحابہ ؓ نے کہا اگر آپ ﷺ انہیں پردہ کروائیں تو آپ ﷺ کی بیوی ہوں گی اور اگر انہیں پردہ نہ کروایا تو ام ولد ہوگی پس جب آپ ﷺ نے سوار ہونے کا ارادہ کیا تو انہیں پردہ کروایا اور وہ اونٹ کے پچھلے حصہ پر بیٹھ گئیں تو صحابہ کو معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے ان سے شادی کی ہے۔ جب مدینہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی اونٹنی کو دوڑانا شروع کیا تو ہم نے بھی اپنی سواریاں تیز کردیں آپ ﷺ کی عصباء اونٹنی نے ٹھوکر کھائی اور رسول اللہ ﷺ اور صفیہ ؓ گرپڑے آپ ﷺ اٹھے اور ان پر پردہ کیا اور معزز عورتوں نے کہنا شروع کردیا اللہ اس یہودیہ کو دور کرے، راوی کہتے ہیں میں نے کہا: اے ابوحمزہ کیا رسول اللہ ﷺ گرپڑے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں اللہ کی قسم! آپ گرپڑے تھے۔
Anas (RA) reported: I was sitting behind Abu Talha on the Day of Khaibar and my feet touched the foot of Allahs Messenger ﷺ , and we came (to the people of Khaibar) when the sun had risen and they had driven out their cattle, and had themselves come out with their axes, large baskets and hatchets, and they said: (Here come) Muhammad and the army. Allahs Messenger ﷺ said: Khaibar is ruined. Verily when we get down in the valley of a people, evil is the morning of the warned ones (al-Quran, xxxvii. 177). Allah, the Majestic and the Glorious, defeated them (the inhabitants of Khaibar), and there fell to the lot of Dihya a beautiful girl, and Allahs Messenger ﷺ got her in exchange of seven heads, and then entrusted her to Umm Sulaim so that she might embellish her and prepare her (for marriage) with him. He (the narrator) said: He had been under the impression that he had said that so that she might spend her period of Iddah in her (Umm Sulaims) house. (The woman) was Safiyya daughter of Huyayy. Allahs Messenger ﷺ arranged the wedding feast consisting of dates, cheese, and refined butter, and pits were dug and tiers were set in them dining cloths, and there was brought cheese and refined butter, and these were placed there. And the people ate to their fill, and they said: We do not know whether he (the Holy Prophet) had married her (as a free woman), or as a slave woman. They said: If he (the Holy Prophet) would make her wear the veil, then she would be a (free married) woman, and if he would not make her wear the veil, then she should be a slave woman. When he intended to ride, he made her wear the veil and she sat on the hind part of the camel; so they came to know that he had married her. As they approached Madinah, Allahs Messenger ﷺ drove (his ride) quickly and so we did. Adba (the name of Allahs Apostles camel) stumbled and Allahs Messenger ﷺ fell down and she (Hadrat Safiyya) also fell down. He (the Holy Prophet) stood up and covered her. woman looked towards her and said: May Allah keep away the Jewess! He (the narrator) said: I said: Aba Hamza, did Allahs Messenger ﷺ really fall down? He said: Yes, by Allah, he in fact fell down. Anas said: I also saw the wedding feast of Zainab, and he (the Holy Prophet) served bread and meat to the people, and made them eat to their hearts content, and he (the Holy Prophet) sent me to call people, and as he was free (from the ceremony) he stood up and I followed him. Two persons were left and they were busy in talking and did not get out (of the apartment). He (the Holy Prophet) then proceeded towards (the apartments of) his wives. He greeted with as-Salamu alaikum to every one of them and said: Members of the household, how are you? They said: Messenger of Allah, we are in good state How do you find your family? He would say: In good state. When he was free from (this work of exchanging greetings) he came back, and I also came back along with him. And as he reached the door, (he found) that the two men were still busy in talking. And when they saw him having returned, they stood up and went out; and by Allah! I do not know whether I had informed him, or there was a revelation to him (to the affect) that they had gone. He (the Holy Prophet) then came back and I also returned along with him, and as he put his step on the threshold of his door he hung a curtain between me and him, and (it was on this occasion) that Allah revealed this verse: ("O you who believe), do not enter the houses of the Prophet ﷺ unless permission is given to you" (xxxiii. 53).
مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں
قَالَ أَنَسٌ وَشَهِدْتُ وَلِيمَةَ زَيْنَبَ فَأَشْبَعَ النَّاسَ خُبْزًا وَلَحْمًا وَکَانَ يَبْعَثُنِي فَأَدْعُو النَّاسَ فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ وَتَبِعْتُهُ فَتَخَلَّفَ رَجُلَانِ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ لَمْ يَخْرُجَا فَجَعَلَ يَمُرُّ عَلَی نِسَائِهِ فَيُسَلِّمُ عَلَی کُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ سَلَامٌ عَلَيْکُمْ کَيْفَ أَنْتُمْ يَا أَهْلَ الْبَيْتِ فَيَقُولُونَ بِخَيْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَکَ فَيَقُولُ بِخَيْرٍ فَلَمَّا فَرَغَ رَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ إِذَا هُوَ بِالرَّجُلَيْنِ قَدْ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثُ فَلَمَّا رَأَيَاهُ قَدْ رَجَعَ قَامَا فَخَرَجَا فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَمْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ بِأَنَّهُمَا قَدْ خَرَجَا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي أُسْکُفَّةِ الْبَابِ أَرْخَی الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی هَذِهِ الْآيَةَ لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَکُمْ الْآيَةَ
انس کہتے ہیں کہ میں زینب کے ولیمہ میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے صحابہ ؓ کو روٹی اور گوشت سے پیٹ بھر کر کھلایا اور لوگوں کو بلانے کے لئے آپ ﷺ نے مجھے بھیجا تھا جب آپ ﷺ فارغ ہو کر اٹھے تو میں آپ ﷺ کے پیچھے چلا اور دو آدمیوں نے کھانے کے بعد بیٹھ کر گفتگو شروع کردی وہ نہ نکلے آپ ﷺ اپنی ازواج کے پاس تشریف لے گئے ان میں سے ایک کو سلام کیا اور فرماتے سَلَامٌ عَلَيْکُمْ اے گھر والو تم کیسے ہو؟ انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ خیریت کے ساتھ آپ ﷺ نے اپنی بیوی کو کیسا پایا؟ آپ ﷺ فرماتے بہت بہتر ہے جب واپس دروازہ پر پہنچے تو وہ دونوں آدمی محو گفتگو تھے آپ ﷺ انہیں دیکھ کر لوٹ آئے وہ کھڑے ہوئے اور چلے گئے اللہ کی قسم! مجھے یاد نہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو خبر دی یا آپ ﷺ پر وحی نازل کی گئی کہ وہ جا چکے ہیں تو آپ ﷺ لوٹے اور میں واپس آیا جب آپ ﷺ نے اپنا پاؤں دروازہ کی چوکھٹ پر رکھا تو میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور اللہ عز وجل نے یہ آیت نازل کی (لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتَ النَّبِيِّ اِلَّا اَنْ يُّؤْذَنَ لَكُمْ ) 33۔ الاحزاب: 53) نبی ﷺ کے گھروں میں مت داخل ہو سوائے اس کے کہ تمہیں اجازت دی جائے۔
Anas said:
I also saw the wedding feast of Zainab, and he (the Holy Prophet) served bread and meat to the people, and made them eat to their hearts content, and he (the Holy Prophet) sent me to call people, and as he was free (from the ceremony) he stood up and I followed him. Two persons were left and they were busy in talking and did not get out (of the apartment). He (the Holy Prophet) then proceeded towards (the apartments of) his wives. He greeted with as-Salamu alaikum to every one of them and said: Members of the household, how are you? They said: Messenger of Allah, we are in good state How do you find your family? He would say: In good state. When he was free from (this work of exchanging greetings) he came back, and I also came back along with him. And as he reached the door, (he found) that the two men were still busy in talking. And when they saw him having returned, they stood up and went out; and by Allah! I do not know whether I had informed him, or there was a revelation to him (to the affect) that they had gone. He (the Holy Prophet) then came back and I also returned along with him, and as he put his step on the threshold of his door he hung a curtain between me and him, and (it was on this occasion) that Allah revealed this verse: (" O you who believe), do not enter the houses of the Prophet unless permission is given to you" (xxxiii. 53).
مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنِي بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ حَدَّثَنَا أَنَسٌ قَالَ صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ فِي مَقْسَمِهِ وَجَعَلُوا يَمْدَحُونَهَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَيَقُولُونَ مَا رَأَيْنَا فِي السَّبْيِ مِثْلَهَا قَالَ فَبَعَثَ إِلَی دِحْيَةَ فَأَعْطَاهُ بِهَا مَا أَرَادَ ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَی أُمِّي فَقَالَ أَصْلِحِيهَا قَالَ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ حَتَّی إِذَا جَعَلَهَا فِي ظَهْرِهِ نَزَلَ ثُمَّ ضَرَبَ عَلَيْهَا الْقُبَّةَ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ کَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَأْتِنَا بِهِ قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيئُ بِفَضْلِ التَّمْرِ وَفَضْلِ السَّوِيقِ حَتَّی جَعَلُوا مِنْ ذَلِکَ سَوَادًا حَيْسًا فَجَعَلُوا يَأْکُلُونَ مِنْ ذَلِکَ الْحَيْسِ وَيَشْرَبُونَ مِنْ حِيَاضٍ إِلَی جَنْبِهِمْ مِنْ مَائِ السَّمَائِ قَالَ فَقَالَ أَنَسٌ فَکَانَتْ تِلْکَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا قَالَ فَانْطَلَقْنَا حَتَّی إِذَا رَأَيْنَا جُدُرَ الْمَدِينَةِ هَشِشْنَا إِلَيْهَا فَرَفَعْنَا مَطِيَّنَا وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطِيَّتَهُ قَالَ وَصَفِيَّةُ خَلْفَهُ قَدْ أَرْدَفَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَعَثَرَتْ مَطِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصُرِعَ وَصُرِعَتْ قَالَ فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَلَا إِلَيْهَا حَتَّی قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَتَرَهَا قَالَ فَأَتَيْنَاهُ فَقَالَ لَمْ نُضَرَّ قَالَ فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ فَخَرَجَ جَوَارِي نِسَائِهِ يَتَرَائَيْنَهَا وَيَشْمَتْنَ بِصَرْعَتِهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، شبابہ، سلیمان، ثابت انس، عبداللہ بن ہاشم، بن حیان، بہز، سلیمان بن مغیرہ، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ تقسیم میں صفیہ ؓ دحیہ کے حصہ میں آئیں اور صحابہ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس ان کی تعریف کرنا شروع کردی اور انہوں نے کہا کہ قیدیوں میں ایسی عورت ہم نے نہیں دیکھی آپ ﷺ نے دحیہ کی طرف پیغام بھیجا تو اس نے آپ ﷺ کے ارادہ کے مطابق اسے آپ ﷺ کو عطا کردیا پھر اسے میری والدہ کی طرف بھیجا اور کہا کہ اس کی اصلاح کردو نہلا دھلا دو پھر رسول اللہ ﷺ خیبر سے نکلے یہاں تک کہ اسے اپنے پیچھے بٹھائے ہوئے اترے پھر ان کے لئے ایک قبہ بنایا گیا پس جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کے پاس زاد راہ زائد ہو وہ ہمارے پاس لے آئے کہتے ہیں کہ آدمیوں نے زائد کھجوریں اور ستو لانا شروع کردیا یہاں تک کہ انہوں نے اس سے مالیدہ بنایا اور ڈھیر لگ گیا اور اس مالیدہ سے کھانا شروع کیا اور اپنے پہلو کی جانب آسمانی پانی کے حوض سے پانی پیتے تھے انس نے کہا صفیہ سے نکاح پر رسول اللہ ﷺ کا یہ ولیمہ تھا پس ہم چلے یہاں تک کہ جب ہم نے مدینہ کی دیواریں دیکھیں اور ہم مدینہ کے مشتاق ہوئے تو ہم نے اپنی سواریاں دوڑائیں اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی سواری کو دوڑایا اور حضرت صفیہ ؓ آپ ﷺ کے پیچھے ردیف تھیں پس رسول اللہ ﷺ کی سواری نے ٹھوکر کھائی آپ ﷺ اور سیدہ صفیہ ؓ گرپڑے اور کوئی بھی صحابی آپ ﷺ کی طرف یا سیدہ صفیہ کی طرف نہ دیکھتا تھا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ نے سیدہ صفیہ پر پردہ کیا پھر ہم آپ ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا کہتے ہیں کہ ہم مدینہ میں داخل ہوئے اور ازواج ؓ میں سے جو کم سن تھیں وہ سیدہ صفیہ کو دیکھنے کے لئے نکلیں اور گرنے پر انہیں ملامت کرنے لگیں۔
Anas, (RA) reported: Safiyya (Allah be pleased with her) fell to the lot of Dihya in the spoils of war, and they praised her in the presence of Allahs Messenger ﷺ and said: We have not seen the like of her among the captives of war. He sent (a messenger) to Dihya and he gave him whatever he demanded. He then sent her to my mother and asked her to embellish her. Allahs Messenger ﷺ then got out of Khaibar until when he was on the other side of it, he halted, and a tent was pitched for him. When it was morning Allahs Messenger ﷺ said: He who has surplus of provision with him should bring that to us. Some persons would bring the surplus of dates, and the other surplus of mush of barley until there became a heap of bals. They began to eat the hais and began to drink out of the pond which had the water of rainfall in it and which was situated by their side. Anas said that that constituted the wedding feast of Allahs Messenger ﷺ . He (further) said: We proceeded until we saw the walls of Madinah, and we were delighted. We made our mounts run quickly and Allahs Messenger ﷺ also made his mount run quickly. And Safiyya (Allah be pleased with her) was at his back, and Allahs Messenger ﷺ had seated her behind him. The camel of Allahs Messenger ﷺ stumbled and he (the Holy Prophet) fell down and she also fell down. And none among the people was seeing him and her, until Allahs Messenger ﷺ stood up and he covered her, and we came to him and he said: We have received no injury. We entered Madinah and there came out the young ladies of the household. They saw her (hadrat Safiyya) and blamed her for falling down.
سیدہ زینب بنت حجش (رض) سے شادی اور آیات پردہ کے نز ول اور ولیمہ کے اثبات کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ وَهَذَا حَدِيثُ بَهْزٍ قَالَ لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّةُ زَيْنَبَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْدٍ فَاذْکُرْهَا عَلَيَّ قَالَ فَانْطَلَقَ زَيْدٌ حَتَّی أَتَاهَا وَهِيَ تُخَمِّرُ عَجِينَهَا قَالَ فَلَمَّا رَأَيْتُهَا عَظُمَتْ فِي صَدْرِي حَتَّی مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَنْظُرَ إِلَيْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَکَرَهَا فَوَلَّيْتُهَا ظَهْرِي وَنَکَصْتُ عَلَی عَقِبِي فَقُلْتُ يَا زَيْنَبُ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْکُرُکِ قَالَتْ مَا أَنَا بِصَانِعَةٍ شَيْئًا حَتَّی أُوَامِرَ رَبِّي فَقَامَتْ إِلَی مَسْجِدِهَا وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا بِغَيْرِ إِذْنٍ قَالَ فَقَالَ وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْعَمَنَا الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ حِينَ امْتَدَّ النَّهَارُ فَخَرَجَ النَّاسُ وَبَقِيَ رِجَالٌ يَتَحَدَّثُونَ فِي الْبَيْتِ بَعْدَ الطَّعَامِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعْتُهُ فَجَعَلَ يَتَتَبَّعُ حُجَرَ نِسَائِهِ يُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ وَيَقُلْنَ يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَکَ قَالَ فَمَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَنَّ الْقَوْمَ قَدْ خَرَجُوا أَوْ أَخْبَرَنِي قَالَ فَانْطَلَقَ حَتَّی دَخَلَ الْبَيْتَ فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ مَعَهُ فَأَلْقَی السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَنَزَلَ الْحِجَابُ قَالَ وَوُعِظَ الْقَوْمُ بِمَا وُعِظُوا بِهِ زَادَ ابْنُ رَافِعٍ فِي حَدِيثِهِ لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَکُمْ إِلَی طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ إِلَی قَوْلِهِ وَاللَّهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنْ الْحَقِّ
محمد بن حاتم بن میمون و بہز و محمد بن رافع و ابونضر و ہاشم بن قاسم، سلیمان بن مغیرہ، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ جب حضرت زینب ؓ کی عدت پوری ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے زید سے فرمایا کہ زینب ؓ سے میرا ذکر کرو زید ؓ گئے یہاں تک کہ ان کے پاس پہنچے اور وہ آٹے کا خمیر کر رہی تھیں زید کہتے ہیں جب میں نے انہیں دیکھا تو میرے دل میں ان کی عظمت آئی یہاں تک کہ مجھ میں ان کی طرف دیکھنے کی طاقت نہ تھی کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ان کا ذکر کیا تھا چناچہ میں نے ان سے پیٹھ پھیری اور اپنی ایڑیوں پر لوٹا پھر میں نے کہا اے زینب! رسول اللہ ﷺ نے آپ کی طرف پیغام بھیجا ہے اور آپ ﷺ تجھے یاد کرتے ہیں اس نے کہا میں کچھ بھی نہیں کرسکتی اس وقت تک جب تک کہ میرے رب کا حکم نہ آئے استخارہ کرلوں اور وہ اپنی نماز کی جگہ کھڑی ہوگئی اور قرآن نازل ہوا اور رسول اللہ ﷺ ان کے پاس بغیر اجازت آئے پھر آپ ﷺ نے کہا جو کہا اور ہم نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں روٹی اور گوشت کھلایا اور جب دن چڑھ گیا تو لوگ کھا کر چلے گئے اور باقی لوگوں نے گھر میں ہی کھانے کے بعد گفتگو کرنا شروع کردی پس رسول اللہ ﷺ تشریف لے چلے اور میں آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے چلا پس آپ ﷺ اپنی ازواج کے حجرات کی طرف گئے انہیں سلام کیا اور انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ نے اپنے گھر والوں کو کیسا پایا راوی کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں میں نے آپ ﷺ کو خبر دی کہ لوگ جا چکے ہیں یا آپ ﷺ نے مجھے خبر دی آپ ﷺ چلے یہاں تک کہ گھر میں داخل ہوئے اور میں نے آپ ﷺ کے ساتھ داخل ہونا چاہا تو آپ ﷺ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور آیت حجاب نازل ہوئی کہتے ہیں قوم کو نصیحت کی گئی جو کرنا تھی اس آیت کے ذریعے۔ ابن رافع نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے (لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتَ النَّبِيِّ اِلَّا اَنْ يُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَيْرَ نٰظِرِيْنَ اِنٰىهُ وَلٰكِنْ اِذَا دُعِيْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَلَا مُسْ تَاْنِسِيْنَ لِحَدِيْثٍ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْي مِنْكُمْ وَاللّٰهُ لَا يَسْتَحْي مِنَ الْحَقِّ ) 33۔ الأحزاب: 53) آیت نازل ہوئی یعنی نبی ﷺ کے گھروں میں مت داخل ہو سوائے اس کے کہ تمہیں کھانے کے لئے بلایا جائے برتنوں کو دیکھنے والے نہ ہو۔ اللہ حق بات کہنے سے حیاء نہیں فرماتا۔
Anas (RA) reported: When the Iddah of Zainab was over, Allahs Messenger ﷺ said to Zaid to make a mention to her about him. Zaid went on until he came to her and she was fermenting her flour. He (Zaid) said: As I saw her I felt in my heart an idea of her greatness so much so that I could not see towards her (simply for the fact) that Allahs Messenger ﷺ had made a mention of her. So I turned my back towards her, and I turned upon my heels, and said: Zainab, Allahs Messenger ﷺ has sent (me) with a message to you. She said: I do not do anything until I solicit the will of my Lord. So she stood at her place of worship and the (verse of) the Quran (pertaining to her marriage) were revealed, and Allahs Messenger ﷺ came to her without permission. He (the narrator) said: I saw that Allahs Messenger ﷺ served us bread and meat until it was broad daylight and the people went away, but some persons who were busy in conversation stayed on in the house after the meal. Allahs Messenger ﷺ also went out and I also followed him, and he began to visit the apartments of his wives greeting them (with the words): As-Salamu alaikum, and they would say: Allahs Messenger, how did you find your family (hadrat Zainab)? He (the narrator) stated: I do not know whether I had informed him that the people had gone out or he (the Holy Prophet) informed me (about that). He moved on until he entered the apartment, and I also went and wanted to enter (the apartment) along with him, but he threw a curtain between me and him, as (the verses pertaining to seclusion) had been revealed, and people were instructed in what they had been instructed. Ibn Rafii had made this addition in his narration: "O you who believe, enter not the houses of the Prophet ﷺ unless permission is given to you for a meal, not waiting for its cooking being finished..." to the words"... Allah forbears not from the truth."
سیدہ زینب بنت حجش (رض) سے شادی اور آیات پردہ کے نز ول اور ولیمہ کے اثبات کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَأَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي کَامِلٍ سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَی امْرَأَةٍ وَقَالَ أَبُو کَامِلٍ عَلَی شَيْئٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَی زَيْنَبَ فَإِنَّهُ ذَبَحَ شَاةً
ابوربیع، ابوکامل، فضیل بن حسین، قتیبہ بن سعید، حماد ابن زید، ثابت، حضرت انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ نے جیسا حضرت زینب ؓ کے نکاح پر ولیمہ کیا کسی دوسری زوجہ کے نکاح پر کیا ہو۔ حضور ﷺ نے ایک بکری ذبح کی تھی۔
Anas (RA) reported: I did not see Allahs Messenger ﷺ giving a wedding feast (on the marriage) of any one (of his wives) as he did in the case of (his marriage with) Zainab, for then he sacrificed a goat (on this occasion).
سیدہ زینب بنت حجش (رض) سے شادی اور آیات پردہ کے نز ول اور ولیمہ کے اثبات کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا مَا أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ أَکْثَرَ أَوْ أَفْضَلَ مِمَّا أَوْلَمَ عَلَی زَيْنَبَ فَقَالَ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ بِمَا أَوْلَمَ قَالَ أَطْعَمَهُمْ خُبْزًا وَلَحْمًا حَتَّی تَرَکُوهُ
محمد بن عمرو بن عباد، جبلہ بن ابی رواد محمد بن بشار، ابن جعفر، شعبہ، عبدالعزیز بن صہیب، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات سے نکاح پر زینب ؓ کے نکاح سے زیادہ اور افضل ولیمہ نہیں کیا ثابت البنانی نے کہا آپ ﷺ نے کس چیز کے ساتھ ولیمہ کیا؟ کہا آپ ﷺ نے انہیں گوشت اور روٹی کھلائی یہاں تک کہ انہوں نے چھوڑ دیا (سیر ہو کر کھایا)۔
Anas bin Malik (RA) reported: Allahs Messenger ﷺ gave no better wedding feast than the one he did (on the occasion of his marriage with) Zainab. Thabit al-Bunani (one of the narrators) said: What did he serve in the wedding feast? He (Anas) said: He fed them bread and meat (so lavishly) that they (the guests) abandoned it (of their own accord after having taken them to their hearts content).
سیدہ زینب بنت حجش (رض) سے شادی اور آیات پردہ کے نز ول اور ولیمہ کے اثبات کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ وَعَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی کُلُّهُمْ عَنْ مُعْتَمِرٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ دَعَا الْقَوْمَ فَطَعِمُوا ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ قَالَ فَأَخَذَ کَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ فَلَمْ يَقُومُوا فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ قَامَ فَلَمَّا قَامَ قَامَ مَنْ قَامَ مِنْ الْقَوْمِ زَادَ عَاصِمٌ وَابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی فِي حَدِيثِهِمَا قَالَ فَقَعَدَ ثَلَاثَةٌ وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَائَ لِيَدْخُلَ فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا فَانْطَلَقُوا قَالَ فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدْ انْطَلَقُوا قَالَ فَجَائَ حَتَّی دَخَلَ فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ فَأَلْقَی الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ قَالَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَکُمْ إِلَی طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ إِلَی قَوْلِهِ إِنَّ ذَلِکُمْ کَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا
یحییٰ بن حبیب، عاصم بن نضر، محمد بن عبدالاعلی، معتمر، ابن حبیب، معتمر بن سلیمان، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے زینب بنت جحش ؓ سے شادی کی تو صحابہ کو بلایا انہوں نے کھایا پھر باتیں کرنے بیٹھ گئے آپ ﷺ اٹھنے کے لئے تیار ہوئے گویا کہ آپ ﷺ انہیں اٹھنے کا اشارہ فرما رہے تھے لیکن وہ نہ اٹھے جب آپ ﷺ نے یہ دیکھا تو آپ ﷺ کھڑے ہوگئے جب آپ ﷺ اٹھے جو قوم میں سے اٹھے جو اٹھے۔ عاصم اور ابن عبدالاعلی نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے تین آدمی بیٹھے رہے نبی کریم ﷺ تشریف لائے تاکہ داخل ہوں دیکھا تو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں پھر وہ کھڑے ہوئے اور چلے گئے میں حاضر ہوا اور نبی کریم ﷺ کو خبر دی کہ وہ جا چکے ہیں آپ ﷺ تشریف لائے اور حجرہ میں داخل ہوئے میں نے بھی داخل ہونا چاہا تو آپ ﷺ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور اللہ نے آیت حجاب نازل کی (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَکُمْ إِلَی طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ إِلَی قَوْلِهِ إِنَّ ذَلِکُمْ کَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا) تک یعنی اے ایمان والو نبی کے گھروں میں داخل نہ ہو سوائے اس کے کہ تم کو اجازت دی جائے کھانے کی طرف برتن کی طرف دیکھے بغیر۔
Anas bin Malik (RA) reported: When Allahs Apostle ﷺ married Zainab bint jahsh, he invited people (to the wedding feast) and they ate food. They then sat there and entered into conversation. He (the Holy Prophet) made a stir as if he was preparing to stand up, but (the persons busy in talking) did not stand up. When he (the Holy Prophet) saw it, he stood up and when he did so, some other persons stood up. Asim and Abdul Ala in their narrations made this addition: Three (persons) sat there, and Allahs Apostle ﷺ came there to enter (the apartment) but he found the people sitting there. Then they stood up and went away. He said: Then I came and informed Allahs Apostle ﷺ that they had gone away. He (the Holy Prophet) then came there until he entered (the apartment). I also went and was about to enter, when he hung a curtain between me and him (and it was on this occasion that) Allah, the Exalted and Majestic, revealed this verse: "O you who believe, enter not the houses of the Prophet ﷺ unless permission is given to you for a meal, not waiting for its cooking being finished" to the (words) "Surely this is serious in the sight of Allah" (xxxiii. 53).
سیدہ زینب بنت حجش (رض) سے شادی اور آیات پردہ کے نز ول اور ولیمہ کے اثبات کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ إِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِالْحِجَابِ لَقَدْ کَانَ أُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ قَالَ أَنَسٌ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَ وَکَانَ تَزَوَّجَهَا بِالْمَدِينَةِ فَدَعَا النَّاسَ لِلطَّعَامِ بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ وَجَلَسَ مَعَهُ رِجَالٌ بَعْدَ مَا قَامَ الْقَوْمُ حَتَّی قَامَ رَسُولُ اللَّهِ فَمَشَی فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّی بَلَغَ بَابَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ مَکَانَهُمْ فَرَجَعَ فَرَجَعْتُ الثَّانِيَةَ حَتَّی بَلَغَ حُجْرَةَ عَائِشَةَ فَرَجَعَ فَرَجَعَتْ فَإِذَا هُمْ قَدْ قَامُوا فَضَرَبَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ بِالسِّتْرِ وَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ
عمرو ناقد، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، صالح، ابن شہاب، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ حجاب کے بارے میں میں لوگوں سے زیادہ علم رکھتا ہوں اور ابی بن کعب ؓ مجھ سے پردے کے بارے میں پوچھتے تھے انس ؓ نے کہا رسول اللہ ﷺ نے زینب بنت جحش ؓ سے شادی کئے ہوئے صبح کی اور کہا کہ آپ ﷺ نے ان سے شادی مدینہ میں کی آپ ﷺ نے لوگوں کو دن کے بلند ہونے کے بعد کھانے کے لئے بلایا پس رسول اللہ ﷺ تشریف فرما ہوئے اور صحابہ ؓ بھی آپ ﷺ کے پاس بیٹھ گئے لوگوں کے کھڑے ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ اٹھے پس آپ ﷺ چلے اور میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ چلا یہاں تک کہ آپ ﷺ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کے حجرہ کے دروازے پر پہنچے پھر گمان کیا کہ صحابہ جا چکے ہیں آپ ﷺ لوٹ آئے اور میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ واپس آگیا پس لوگ اپنی جگہوں پر ہی بیٹھے ہوئے تھے پس آپ ﷺ لوٹے اور میں بھی دوسری بار آپ ﷺ کے ساتھ واپس آیا یہاں کہ آپ ﷺ عائشہ ؓ کے حجرہ کے پاس پہنچے پھر آپ ﷺ لوٹے اور میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ واپس آگیا تو صحابہ جا چکے تھے تو آپ ﷺ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال دیا اور پردہ کی آیت نازل کی گئی۔
Anas bin Malik (RA) reported: I was the best informed among the people pertaining to Hijab (veil and seclusion). Ubayy bin Kab used to ask me about it. Anas (RA) thus narrated: The Messenger of Allah ﷺ got up in the morning as a bridegroom of Zainab bint jahsh (Allah be pleased witt her) as he had married her at Madinah. He invited people to the wedding feast after the day had well risen. There sat Allahs Messenger ﷺ and there kept sitting along with him some persons after the people had stood up (for departure); then Allahs Messenger ﷺ stood up and walked on and I also walked along with him until he reached the door of the apartment of Aisha (Allah be pleased with her). He then thought that they (those who had been sitting there after meal) had gone away. So he returned and I also returned with him, but they were still sitting at their places. So he returned for the second time and I also returned until he reached the apartment of Aisha. He again returned and I also returned and they had (by that time) stood up, and he hung a curtain between me and him (at the door of the apartment of Hadrat Zainab, where he had to stay), and Allah revealed the verse pertaining to veil.