نکاح شغار وٹہ سٹہ کی حرمت اور اس کے باطل ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسلام میں نکاح شغار نہیں ہے (بغیر مہر مقرر کے وٹہ سٹہ کرنا)
Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as having said: There is no Shighar in islam.
نکاح شغار وٹہ سٹہ کی حرمت اور اس کے باطل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشِّغَارِ زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ وَالشِّغَارُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ زَوِّجْنِي ابْنَتَکَ وَأُزَوِّجُکَ ابْنَتِي أَوْ زَوِّجْنِي أُخْتَکَ وَأُزَوِّجُکَ أُخْتِي
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابواسامہ، عبیداللہ ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نکاح شغار سے منع فرمایا اور ابن نمیر نے یہ اضافہ بیان کیا ہے شغار یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے سے کہے تو اپنی بیٹی کا نکاح مجھے دے میں تجھے اپنی بیٹی کا نکاح دوں گا یا تو اپنی بہن کا نکاح مجھے کر دے میں اپنی بہن کا نکاح تجھے کر دوں گا۔
Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ prohibited Shighar. Ibn Numair added: Shighar means that a person should say to the other person: Give me the hand of your daughter in marriage and I will (in return) marry my daughter to you; or marry me your sister, and I will marry my sister to you.
نکاح شغار وٹہ سٹہ کی حرمت اور اس کے باطل ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ عُمَرَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ زِيَادَةَ ابْنِ نُمَيْرٍ
ابوکریب، عبدہ، عبیداللہ اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے لیکن ابن نمیر کا اضافہ ذکر نہیں کیا۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Umar (RA) with the same chain of transmitters, but there is no mention of Ibn Numair.
نکاح شغار وٹہ سٹہ کی حرمت اور اس کے باطل ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشِّغَارِ
ہارون بن عبداللہ، حجاج بن محمد، ابن جریج، اسحاق بن ابراہیم، ابن جریج، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نکاح شغار سے منع فرمایا ہے۔
Jabir binAbdullah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ prohibited Shighar.
شرائط نکاح کا پورا کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَقَّ الشَّرْطِ أَنْ يُوفَی بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي بَکْرٍ وَابْنِ الْمُثَنَّی غَيْرَ أَنَّ ابْنَ الْمُثَنَّی قَالَ الشُّرُوطِ
یحییٰ بن ایوب، ہشیم، ابن نمیر، وکیع، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد، احمر، محمد بن مثنی، یحییٰ بن قطان، عبدالحمید، بن جعفر، یزید بن ابی حبیب، مرثد، عبداللہ، حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پورا کرنے کے اعتبار سے سب سے حقدار وہ شرط ہے جس کے ذریعے تم نے عورتوں کی شرمگاہوں کو اپنے لئے حلال کیا ہے اور ابن مثنی کی روایت میں شروط کا لفظ ہے۔
Uqba bin Amir (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The most worthy condition which must be fulfilled is that which makes sexual intercourse lawful. In the narration transmitted by Ibn Muthanna (instead of the word "condition") it is "conditions".
بیوہ کا نکاح میں زبان سے اجازت دینے اور غیر شادی شدہ کی اجازت خاموشی کے ساتھ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُنْکَحُ الْأَيِّمُ حَتَّی تُسْتَأْمَرَ وَلَا تُنْکَحُ الْبِکْرُ حَتَّی تُسْتَأْذَنَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَکَيْفَ إِذْنُهَا قَالَ أَنْ تَسْکُتَ
عبیداللہ بن عمر، میسرہ، خالد بن حارث، ہشام، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بےنکاحی عورت کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے اور نہ باکرہ کا نکاح کیا جائے یہاں تک کہ اس سے اجازت لے لی جائے صحابہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اس کی اجازت کیسے ہوگی؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ خاموش ہوجائے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as having said: A woman without a husband (or divorced or a widow) must not be married until she is consulted, and a virgin must not be married until her permission is sought. They asked the Prophet ﷺ of Allah ﷺ : How her (virgins) consent can be solicited? He (the Holy Prophet) said: That she keeps silence.
بیوہ کا نکاح میں زبان سے اجازت دینے اور غیر شادی شدہ کی اجازت خاموشی کے ساتھ ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ح و حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا عِيسَی يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ح و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ کُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ بِمِثْلِ مَعْنَی حَدِيثِ هِشَامٍ وَإِسْنَادِهِ وَاتَّفَقَ لَفْظُ حَدِيثِ هِشَامٍ وَشَيْبَانَ وَمُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَّامٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، حجاج، بن ابی عثمان، ابراہیم بن موسی، عیسیٰ، یونس، حسین بن محمد شیبان، رافع، عبدالرزاق، معمر، عبداللہ بن عبدالرحمن، یحییٰ، معاویہ، ان اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ روایت کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated through another chain of transmitters.
بیوہ کا نکاح میں زبان سے اجازت دینے اور غیر شادی شدہ کی اجازت خاموشی کے ساتھ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مُلَيْکَةَ يَقُولُ قَالَ ذَکْوَانُ مَوْلَی عَائِشَةَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَارِيَةِ يُنْکِحُهَا أَهْلُهَا أَتُسْتَأْمَرُ أَمْ لَا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ تُسْتَأْمَرُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لَهُ فَإِنَّهَا تَسْتَحْيِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَلِکَ إِذْنُهَا إِذَا هِيَ سَکَتَتْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس، ابن جریج، اسحاق بن ابرہیم، محمد بن رافع عبدالرزاق، ابن رافع، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس لڑکی کے بارے میں سوال کیا جس کے گھر والے اس کا نکاح کرتے ہیں کیا اس سے اجازت لی جائے گی یا نہیں تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لی جائے گی عائشہ ؓ نے کہا میں نے عرض کیا وہ حیاء کرے گی تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب وہ خاموش رہے ایسے موقع پر تو یہی اس کی اجازت ہے۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: I asked Allahs Messenger ﷺ about a virgin whose marriage is solemnised by her guardian, whether it was necessary or not to consult her. Allahs Messenger ﷺ said: Yes, she must be consulted. Aisha reported: I told him that she feels shy, whereupon Allahs Messenger ﷺ said: Her silence implies her consent.
بیوہ کا نکاح میں زبان سے اجازت دینے اور غیر شادی شدہ کی اجازت خاموشی کے ساتھ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا مَالِکٌ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ قُلْتُ لِمَالِکٍ حَدَّثَکَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِکْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا قَالَ نَعَمْ
سعید بن منصور، قتیبہ بن سعید، مالک، یحییٰ بن یحیی، عبداللہ بن فضل، نافع بطن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا بیوہ عورت اپنے ولی سے زیادہ نفس کی حقدار ہے اور نوجوان کنواری سے اس کے نفس کے بارے میں اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے۔
Ibn Abbas (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: A woman without a husband has more right to her person than her guardian, and a virgins consent must be asked from her, and her silence implies her consent.
بیوہ کا نکاح میں زبان سے اجازت دینے اور غیر شادی شدہ کی اجازت خاموشی کے ساتھ ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ سَمِعَ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ يُخْبِرُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِکْرُ تُسْتَأْمَرُ وَإِذْنُهَا سُکُوتُهَا
قتیبہ بن سعید، سفیان، زیاد بن سعد، عبداللہ بن فضل، نافع بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا شادی شدہ عورت اپنے آپ کی اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے اور باکرہ عورت سے اجازت لی جائے گی اور اس کا سکوت اس کی اجازت ہے۔
Ibn Abbas (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: A woman who has been previously married (Thayyib) has more right to her person than her guardian. And a virgin should also be consulted, and her silence implies her consent.
بیوہ کا نکاح میں زبان سے اجازت دینے اور غیر شادی شدہ کی اجازت خاموشی کے ساتھ ہونے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا وَالْبِکْرُ يَسْتَأْذِنُهَا أَبُوهَا فِي نَفْسِهَا وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا وَرُبَّمَا قَالَ وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا
ابن ابی عمر، سفیان ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے اور کہا شادی شدہ عورت اپنے نفس کی اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے اور باکرہ نوجوان عورت سے اس کے نفس کے بارے میں اس کا باپ اجازت طلب کرے گا اور اس کا خاموش رہنا اس کی طرف سے اجازت ہے اور کبھی فرمایا اس کی خاموشی اس کا اقرار ہے۔
Sufyan reported on the basis of the same chain of transmitters (and the words are): A woman who has been previously married (Thayyib) has more right to her person than her guardian; and a virgins father must ask her consent from her, her consent being her silence, At times he said: Her silence is her affirmation.
چھوٹی کنواری لڑکی کے باپ کو اس کا نکاح کرنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ وَجَدْتُ فِي کِتَابِي عَنْ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسِتِّ سِنِينَ وَبَنَی بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ قَالَتْ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَوُعِکْتُ شَهْرًا فَوَفَی شَعْرِي جُمَيْمَةً فَأَتَتْنِي أُمُّ رُومَانَ وَأَنَا عَلَی أُرْجُوحَةٍ وَمَعِي صَوَاحِبِي فَصَرَخَتْ بِي فَأَتَيْتُهَا وَمَا أَدْرِي مَا تُرِيدُ بِي فَأَخَذَتْ بِيَدِي فَأَوْقَفَتْنِي عَلَی الْبَابِ فَقُلْتُ هَهْ هَهْ حَتَّی ذَهَبَ نَفَسِي فَأَدْخَلَتْنِي بَيْتًا فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقُلْنَ عَلَی الْخَيْرِ وَالْبَرَکَةِ وَعَلَی خَيْرِ طَائِرٍ فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ فَغَسَلْنَ رَأْسِي وَأَصْلَحْنَنِي فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًی فَأَسْلَمْنَنِي إِلَيْهِ
ابوکریب، محمد بن علاء، ابواسامہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، ہشام، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے نکاح کیا تو میری عمر چھ سال تھی اور مجھ سے زفاف کیا تو میں نو سال کی تھی فرماتی ہیں کہ ہم مدینہ آئے تو مجھے ایک ماہ تک بخار رہا اور میرے بال کانوں تک ہوگئے (جھڑگئے) پس میرے پاس ام رومان آئیں تو میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ جھولے پر تھی انہوں نے مجھے پکارا میں ان کے پاس آئی اس حال میں کہ میں اس کا اپنے بارے میں ارادہ نہیں جانتی تھی انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے دروازہ پر لا کھڑا کیا اور میں سانس پھولنے کی وجہ سے ہاہ ہاہ کر رہی تھی یہاں تاکہ کہ میرا سانس پھولنا بند ہوگیا تو مجھے گھر میں داخل کیا وہاں چند انصاری عورتیں موجود تھیں تو انہوں نے کہا اللہ خیر و برکت عطا کرے اور خیر و بھلائی سے حصہ عطا ہو غرض میری والدہ نے مجھے ان کے سپرد کردیا انہوں نے میرا سر دھویا اور میرا سنگھار کیا اور مجھے کوئی خوف نہیں پہنچا کہ چاشت کے وقت رسول اللہ ﷺ آئے اور مجھے آپ ﷺ کے سپرد کردیا۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: Allahs Messenger ﷺ married me when I was six years old, and I was admitted to his house at the age of nine. She further said: We went to Madinah and I had an attack of fever for a month, and my hair had come down to the earlobes. Umm Ruman (my mother) came to me and I was at that time on a swing along with my playmates. She called me loudly and I went to her and I did not know what she had wanted of me. She took hold of my hand and took me to the door, and I was saying: Ha, ha (as if I was gasping), until the agitation of my heart was over. She took me to a house, where had gathered the women of the Ansar. They all blessed me and wished me good luck and said: May you have share in good. She (my mother) entrusted me to them. They washed my head and embellished me and nothing frightened me. Allahs Messenger ( may peace be upon him) came there in the morning, and I was entrusted to him.
چھوٹی کنواری لڑکی کے باپ کو اس کا نکاح کرنے کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ وَبَنَی بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ
یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ، ہشام بن عروہ، ابن نمیر، عبدہ، ہشام، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ مجھ سے نبی کریم ﷺ نے نکاح کیا تو میں چھ سال کی لڑکی تھی اور آپ ﷺ مجھ سے ہم بستر ہوئے تو میں نو سال کی تھی۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: Allahs Apostle ﷺ married me when I was six years old, and I was admitted to his house when I was nine years old.
چھوٹی کنواری لڑکی کے باپ کو اس کا نکاح کرنے کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِنْتُ سَبْعِ سِنِينَ وَزُفَّتْ إِلَيْهِ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ وَلُعَبُهَا مَعَهَا وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانَ عَشْرَةَ
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر عروہ، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے نکاح کیا تو وہ سات سال کی لڑکی تھیں اور ان سے زفاف کیا گیا تو وہ نو سال کی لڑکی تھیں اور ان کے کھلونے ان کے ساتھ تھے اور جب آپ ﷺ کا انتقال ہوا تو ان کی عمر اٹھارہ سال تھی۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported that Allahs Apostle ﷺ married her when she was seven years old, and she was taken to his house as a bride when she was nine, and her dolls were with her; and when she (the Holy Prophet) died she was eighteen years old.
چھوٹی کنواری لڑکی کے باپ کو اس کا نکاح کرنے کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَی وَإِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ بِنْتُ سِتٍّ وَبَنَی بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانَ عَشْرَةَ
یحییٰ بن یحیی، اسحاق بن ابراہیم، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، یحیی، اسحاق، ابومعاویہ، اعمش، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ ان سے رسول اللہ ﷺ نے نکاح کیا تو ان کی عمر چھ سال تھی اور ان سے صحبت کی تو ان کی عمر نو سال تھی اور جب آپ ﷺ نے انتقال کیا تو ان ( عائشہ صدیقہ ؓ کی عمر اٹھارہ سال تھی۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported that Allahs Apostle ﷺ married her when she was six years old, and she was taken to his house as a bride when she was nine, and when he (the Holy Prophet) died she was eighteen years old
ماہ شوال میں نکاھ اور صحبت کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ وَبَنَی بِي فِي شَوَّالٍ فَأَيُّ نِسَائِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ أَحْظَی عِنْدَهُ مِنِّي قَالَ وَکَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَائَهَا فِي شَوَّالٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، وکیع، سفیان بن اسماعیل بن امیہ، عبداللہ بن عروہ، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے شوال میں نکاح فرمایا اور مجھ سے صحبت بھی شوال میں کی پس کونسی رسول اللہ ﷺ کی بیوی ہے جو آپ ﷺ کے نزدیک مجھ سے زیادہ آپ ﷺ کو پیاری تھی اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ مستحب تصور کرتی تھیں اس بات کو کہ شوال میں عورتوں سے صحبت کی جائے۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: Allahs Messenger ﷺ contracted marriage with me in Shawwal and took me to his house as a bride during Shawwal. And who among the wives of Allahs Messenger ﷺ was dearer to him than I, and Aisha liked that the women (of her family) should enter the houses as brides during the month of Shawwal.
ماہ شوال میں نکاھ اور صحبت کرنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ فِعْلَ عَائِشَةَ
ابن نمیر، سفیان اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے لیکن اس میں حضرت عائشہ ؓ کا فعل مذکور نہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Sufyan with the same chain of transmitters, but he made no mention of the act of Aisha (being admitted as a wife in the house of the Holy Prophet).
جو آدمی کسی عورت سے نکاح کا ارادہ کرے تو اس کے لئے اس عورت کے چہرے اور ہتھیلیوں کو ایک نظر پیغام نکاح سے پہلے دیکھنے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَظَرْتَ إِلَيْهَا قَالَ لَا قَالَ فَاذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا
ابن ابی عمر، سفیان، یزید بن کیسان، ابی حازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نبی ﷺ کے پاس حاضر تھا آپ ﷺ کے پاس ایک آدمی نے آکر آپ ﷺ کو خبر دی کہ اس نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کیا تو نے اسے دیکھا ہے؟ اس نے کہا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا جا اور اسے دیکھ کیونکہ انصاری عورتوں کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported: I was in the company of Allahs Messenger ﷺ when there came a man and informed him that he had contracted to marry a woman of the Ansar. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Did you cast a glance at her? He said: No. He said: Go and cast a glance at her, for there is something in the eyes of the Ansar.
جو آدمی کسی عورت سے نکاح کا ارادہ کرے تو اس کے لئے اس عورت کے چہرے اور ہتھیلیوں کو ایک نظر پیغام نکاح سے پہلے دیکھنے کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ مَعِينٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي عُيُونِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا قَالَ قَدْ نَظَرْتُ إِلَيْهَا قَالَ عَلَی کَمْ تَزَوَّجْتَهَا قَالَ عَلَی أَرْبَعِ أَوَاقٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی أَرْبَعِ أَوَاقٍ کَأَنَّمَا تَنْحِتُونَ الْفِضَّةَ مِنْ عُرْضِ هَذَا الْجَبَلِ مَا عِنْدَنَا مَا نُعْطِيکَ وَلَکِنْ عَسَی أَنْ نَبْعَثَکَ فِي بَعْثٍ تُصِيبُ مِنْهُ قَالَ فَبَعَثَ بَعْثًا إِلَی بَنِي عَبْسٍ بَعَثَ ذَلِکَ الرَّجُلَ فِيهِمْ
یحییٰ بن معین، مروان بن معاویہ، یزید بن کیسان، ابی حازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کیا کہ میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کی ہے تو نبی کریم ﷺ نے اسے فرمایا کیا تو نے اسے دیکھا ہے کیونکہ انصاری عورتوں کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے اس نے کہا میں نے اسے دیکھا ہے آپ ﷺ نے فرمایا تو نے اس سے کتنے مہر پر شادی کی؟ اس نے کہا چار اوقیہ پر تو اسے نبی کریم ﷺ نے فرمایا چار اوقیہ پر گویا کہ تم اس پہاڑ سے چاندی کھود لاتے ہو جو ہمارے پاس نہیں ہے البتہ عنقریب ہم تمہیں ایک قافلہ میں بھیجیں گے تاکہ تجھے اس سے کچھ مل جائے چناچہ آپ ﷺ نے قبیلہ بنی عبس کی طرف ایک لشکر بھیجا اور اس آدمی کو بھی اس لشکر میں روانہ کیا۔
Abu Hurairah (RA) reported: A man came to Allahs Messenger ﷺ and said: I have contracted marriage with a woman of the Ansar, whereupon Allahs Apostle ﷺ said: Did you cast a glance at her, for there is something in the eyes of the Ansar? He said: I did cast a glance at her, whereupon he said: For what (dower) did you marry her? He said: For four uqiyas. Thereupon Allahs Apostle ﷺ said: For four uqiyas; it seems as if you dig out silver from the side of this mountain (and that is why you are prepared to pay such a large amount of dower). We have nothing which we should give you. There is a possibility that we may send you to an (expedition) where you may get (booty). So he sent that man (in the expedition) which was despatched to Banu Abs.
مہر کے بیان میں اور تعلیم قرآن اور لوہے وغیرہ کی انگوٹھی کا مہر ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ جَائَتْ امْرَأَةٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ أَهَبُ لَکَ نَفْسِي فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَعَّدَ النَّظَرَ فِيهَا وَصَوَّبَهُ ثُمَّ طَأْطَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فَلَمَّا رَأَتْ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ يَکُنْ لَکَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا فَقَالَ فَهَلْ عِنْدَکَ مِنْ شَيْئٍ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ اذْهَبْ إِلَی أَهْلِکَ فَانْظُرْ هَلْ تَجِدُ شَيْئًا فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْظُرْ وَلَوْ خَاتِمًا مِنْ حَدِيدٍ فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا خَاتِمًا مِنْ حَدِيدٍ وَلَکِنْ هَذَا إِزَارِي قَالَ سَهْلٌ مَا لَهُ رِدَائٌ فَلَهَا نِصْفُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِکَ إِنْ لَبِسْتَهُ لَمْ يَکُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْئٌ وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَکُنْ عَلَيْکَ مِنْهُ شَيْئٌ فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّی إِذَا طَالَ مَجْلِسُهُ قَامَ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَلِّيًا فَأَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ فَلَمَّا جَائَ قَالَ مَاذَا مَعَکَ مِنْ الْقُرْآنِ قَالَ مَعِي سُورَةُ کَذَا وَسُورَةُ کَذَا عَدَّدَهَا فَقَالَ تَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِکَ قَالَ نَعَمْ قَالَ اذْهَبْ فَقَدْ مُلِّکْتَهَا بِمَا مَعَکَ مِنْ الْقُرْآنِ هَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ وَحَدِيثُ يَعْقُوبَ يُقَارِبُهُ فِي اللَّفْظِ
قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن، ابی حازم، سہل بن سعد، قتبہ، عبدالعزیز بن ابی حازم، حضرت سہل بن سعد الساعدی ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور عرض کی اے اللہ کے رسول میں آپ ﷺ کے پاس اپنے نفس کو آپ ﷺ کے لئے ہبہ کرنے آئی ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف اوپر سے نیچے تک دیکھا پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنا سر مبارک جھکا لیا جب اس عورت نے خیال کیا کہ آپ ﷺ نے اس کے بارے میں کچھ فیصلہ نہیں کیا تو وہ بیٹھ گئی اور آپ ﷺ کے صحابہ ؓ میں سے ایک آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول اگر آپ ﷺ کو اس کی حاجت نہیں ہے تو اس کا نکاح مجھ سے کردیں آپ ﷺ نے فرمایا کیا تیرے پاس کوئی چیز موجود ہے؟ اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ﷺ نے فرمایا اپنے اہل کے پاس جاؤ اور دیکھو کیا تم کوئی چیز پاتے ہو؟ وہ گیا واپس آیا تو عرض کیا اللہ کی قسم نہیں میں نے کوئی چیز نہیں پائی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دیکھو اگر لوہے ہی کی کوئی انگوٹھی ہو وہ گیا پھر واپس آیا تو عرض کی نہیں اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول ﷺ لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ہے صرف یہی میری تہبند ہے سہل نے کہا اس کے پاس چادر بھی نہ تھی اور کہا میں اسے آدھا چادر سے دے سکتا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ تیرے ازار کا کیا کرے گی؟ اگر تو اسے پہن لے گا تو اس کے پاس کچھ نہ ہوگا اور اس نے اگر پہنا تو تجھ پر کچھ نہ ہوگا وہ آدمی کافی دیر تک بیٹھا رہا پھر جب کھڑا ہوا اور رسول اللہ ﷺ نے اسے واپس جاتے ہوئے دیکھا تو حکم دیا اور اسے بلایا گیا جب وہ آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا تجھے قرآن کریم آتا ہے؟ اس نے کہا مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں اور کئی سورتوں کو شمار کیا آپ ﷺ نے فرمایا تو انہیں زبانی پڑھ سکتا ہے؟ اس نے کہا جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا جا میں نے اس عورت کو اس قرآن کی تعلیم کے عوض جو تجھے یاد ہے تیری ملکیت میں دے دیا یہ حدیث ابن ابی حازم کی ہے اور یعقوب کی حدیث الفاظ میں اس کے قریب قریب ہے۔
Sahl bin Sad al-Saidi (RA) reported: A woman came to Allahs Messenger ﷺ and said: Messenger of Allah, I have come to you to entrust myself to you (you may contract my marriage with anyone at your discretion). Allahs Messenger ﷺ saw her and cast a glance at her from head to foot. Allahs Messenger ﷺ then lowered his head. When the woman saw that he had made no decision in regard to her, she sat down. There stood up a person from amongst his companions and said: Messenger of Allah, marry her to me if you have no need of her. He (the Holy Prophet) said: is there anything with you (which you can give as a dower)? He said: No, Messenger of Allah, by Allah I have nothing. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Go to your people (family) and see if you can find something. He returned and said: I have found nothing. The Apostle of Allah ﷺ said: See even if it is an Iron ring. He went and returned and said: No, by God, not even an iron ring, but only this lower garment of mine (Sahl said that he had no upper garment), half of which (I am prepared to part with) for her. Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: How can your lower garment serve your purpose, for if you wear it, she would not be able to make any use of it and if she wears it there would not be anything on you? The man sat down and as the sitting prolonged he stood up (in disappointment) and as he was going back Allahs Messenger ﷺ commanded (him) to be called back, and as he came, he said to him: Do you know any part of the Quran? He said: I know such and such surahs (and he counted them), whereupon he said: Can you recite them from heart (from your memory)? He said: Yes, whereupon he (Allahs Messenger) said: Go, I have given her to you in marriage for the part of the Quran which you know.