تین طلاق سے مطلقہ عورت طلاق دینے والے کے لئے حلال نہیں الا وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرے وہ اس سے وطی کرے پھر جدائی ہو اور اسکی عدت پوری ہوجائے۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا وَقَالَ حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَبَتَّ طَلَاقَهَا فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ فَجَائَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا کَانَتْ تَحْتَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ فَتَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ الْهُدْبَةِ وَأَخَذَتْ بِهُدْبَةٍ مِنْ جِلْبَابِهَا قَالَ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِکًا فَقَالَ لَعَلَّکِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَی رِفَاعَةَ لَا حَتَّی يَذُوقَ عُسَيْلَتَکِ وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَأَبُو بَکْرٍ الصِّدِّيقُ جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ بِبَابِ الْحُجْرَةِ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ قَالَ فَطَفِقَ خَالِدٌ يُنَادِي أَبَا بَکْرٍ أَلَا تَزْجُرُ هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس ابن شہاب، عروہ بن زبیر، ام المومنین سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رفاعہ قرظی ؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور تین طلاقیں دیں اس عورت نے اس کے بعد عبدالرحمن بن زبیر ؓ سے شادی کرلی پھر اس نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں رفاعہ کے نکاح میں تھی اس نے مجھے آخری طلاق (تین طلاقیں) دے دیں تو میں نے اس کے بعد عبدالرحمن بن زبیر ؓ سے نکاح کرلیا اللہ کی قسم اس کے پاس کچھ نہیں سوائے کپڑے کے کنارے کے (نامرد ہے) اور اس نے اپنی چادر کا کنارہ پکڑ کر بتایا تو رسول اللہ ﷺ کھلکھلا کر مسکرائے پھر فرمایا شاید تو ارادہ رکھتی ہے کہ تو رفاعہ ؓ کے پاس لوٹ جائے۔ نہیں یہاں تک کہ وہ تیرا مزہ چکھ لے اور تو اس کا مزہ چکھ لے اور ابوبکر صدیق ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور خالد بن سعید بن عاص ؓ حجرہ کے دروازہ پر بیٹھے ہوئے تھے کیونکہ انہیں اجازت نہیں دی گئی تھی خالد نے ابوبکر ؓ کو پکارنا شروع کردیا اے ابوبکر تم اس عورت کو ڈانٹ کیوں نہیں دیتے کہ یہ عورت رسول اللہ ﷺ کے سامنے کیا گفتگو کر رہی ہے۔
Aisha (Allah be pleased with her), the wife of Allahs Apostle ﷺ , reported that Rifaa al-Quraid (RA) divorced his wife, making her divorce irrevocable. Afterwards she married Abdul Rahman bin al-Zubair (RA) . She came to Allahs Apostle ﷺ and said to Allahs messenger ﷺ that she had been the wife of Rifaa (RA) and he had divorced her by three pronouncements and afterwards she married Abdul Rahman bin al-Zubair. By Allah, all he possesses is like the fringe of a garment, and she took hold of the fringe of her garment. Thereupon Allahs Messenger ﷺ laughed and said: Perhaps you wish to return to Rifaa, (but you) cannot (do it) until he has tasted your sweetness and you have tasted his sweetness. Abu Bakr al-Siddiq (RA) was sitting at that time with Allahs Messenger ﷺ and Khalid bin Said bin al-As (RA) was sitting at the door of his apartment and he was not permitted to (enter the room), and Khalid called loudly saying: Abu Bakr, why dont you scold her for what she is saying loudly in the presence of Allahs Messenger ﷺ ?
تین طلاق سے مطلقہ عورت طلاق دینے والے کے لئے حلال نہیں الا وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرے وہ اس سے وطی کرے پھر جدائی ہو اور اسکی عدت پوری ہوجائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَتَزَوَّجَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِيرِ فَجَائَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، عروہ، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رفاعہ قرظی ؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اس عورت سے عبدالرحمن بن زبیر نے شادی کرلی وہ نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئی عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! رفاعہ نے اسے آخری طلاق دے دی (تین طلاقیں) باقی یونس کی حدیث کی طرح ہے۔
Aisha (Allah bjpleased with her) reported that Rifaa al Qurazi divorced his wife and afterwards Abdul Rahman bin al-Zubair married her. She came to Allahs Apostle ﷺ (may peace he upon him) and said: Messenger of Allah, Rifaa has divorced me by three pronouncements. (The rest of the hadith is the same.)
تین طلاق سے مطلقہ عورت طلاق دینے والے کے لئے حلال نہیں الا وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرے وہ اس سے وطی کرے پھر جدائی ہو اور اسکی عدت پوری ہوجائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْمَرْأَةِ يَتَزَوَّجُهَا الرَّجُلُ فَيُطَلِّقُهَا فَتَتَزَوَّجُ رَجُلًا فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَتَحِلُّ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ قَالَ لَا حَتَّی يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا
محمد بن علاء، ابواسامہ، ہشام، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اس عورت کے بارے میں پوچھا گیا جس سے ایک آدمی نے شادی کی پھر اسے طلاق دے دی تو اس سے ایک دوسرے آدمی نے شادی کرلی اور اس نے اسے دخول سے قبل ہی طلاق دے دی کیا یہ عورت پہلے خاوند کے لئے حلال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں یہاں تک کہ دوسرا مرد اس سے جماع کی لذت چکھ لے۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported that Allahs Messenger ﷺ was asked about a woman whom a man married and then divorced her, and then she married (another) person, and she was divorced before sexual intercourse with her, whether it was lawful for her first husband (to marry her in this state). He (the Holy Prophet) said: No, until he has tasted her sweetness.
تین طلاق سے مطلقہ عورت طلاق دینے والے کے لئے حلال نہیں الا وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرے وہ اس سے وطی کرے پھر جدائی ہو اور اسکی عدت پوری ہوجائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ جَمِيعًا عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن فضیل، ابوکریب، ابومعاویہ، ہشام، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters.
تین طلاق سے مطلقہ عورت طلاق دینے والے کے لئے حلال نہیں الا وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرے وہ اس سے وطی کرے پھر جدائی ہو اور اسکی عدت پوری ہوجائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَأَرَادَ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ لَا حَتَّی يَذُوقَ الْآخِرُ مِنْ عُسَيْلَتِهَا مَا ذَاقَ الْأَوَّلُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، عبیداللہ بن عمر، قاسم بن محمد، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو اس سے ایک دوسرے آدمی نے شادی کرلی پھر اس نے صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دی اب اس کے پہلے خاوند نے اس سے شادی کا ارادہ کیا رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا نہیں یہاں تک کہ دوسرا مرد اسی طرح جماع کی لذت چکھ لے جس طرح پہلے نے چکھی۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: A person divorced his wife by three pronouncements; then another person married her and he also divorced her without having sexual intercourse with her. Then the first husband of her intended to remarry her. It was about such a case that Allahs Messenger ﷺ was asked, whereupon he said: No, until the second one has tasted her sweetness as the first one had tasted.
تین طلاق سے مطلقہ عورت طلاق دینے والے کے لئے حلال نہیں الا وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کرے وہ اس سے وطی کرے پھر جدائی ہو اور اسکی عدت پوری ہوجائے۔
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَفِي حَدِيثِ يَحْيَی عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ عَنْ عَائِشَةَ
محمد بن عبداللہ، ابن نمیر، محمد بن مثنی، یحیی، ابن سعید، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the same chain of transmitters by Aisha (Allah be pleased with her).
جماع کے وقت کیا دعا پڑھنا مستحب ہے ؟
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ قَالَ بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا فَإِنَّهُ إِنْ يُقَدَّرْ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِکَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا
یحییٰ بن یحیی، اسحاق بن ابراہیم، یحیی، جریر، منصور، سالم، کریب، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی ایک جب اپنی بیوی سے جماع کا ارادہ کرے تو " بِاسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا " اللہ کے نام سے اے اللہ ہمیں شیطان سے بچا اور تو جو ہمیں عطا کرے اسے بھی شیطان سے بچا پڑھ لے اگر میاں بیوی کے لئے اس جماع میں بچہ مقدر ہے تو اسے شیطان کبھی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔
Ibn Abbas (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: If anyone amongst you intends to go to his wife he should say: "In the name of Allah, O Allah protect us against Satan and keep away the Satan from the one that you have bestowed upon us," and if He has ordained a male child for them, Satan will never be able to do any harm to him.
جماع کے وقت کیا دعا پڑھنا مستحب ہے ؟
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا عَنْ الثَّوْرِيِّ کِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ بِمَعْنَی حَدِيثِ جَرِيرٍ غَيْرَ أَنَّ شُعْبَةَ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِکْرُ بِاسْمِ اللَّهِ وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ الثَّوْرِيِّ بِاسْمِ اللَّهِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ قَالَ مَنْصُورٌ أُرَاهُ قَالَ بِاسْمِ اللَّهِ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابن نمیر، عبد بن حمید، عبدالرزاق، ثوری، منصور، جریر شعبہ اس حدیث کی مختلف اسناد ذکر کی ہیں فرق صرف یہ ہے کہ بعض میں بِسْمِ اللَّهِ کا ذکر ہے اور بعض میں نہیں۔
This hadith is narrated through another chain of transmitters and there is no mention of (the words) "Bismillah" (In the name of Allah) in it.
اپنی بیوی سے قبل میں خواہ آگے سے یا پیچھے سے جماع کرے لیکن دبر میں نہ کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُا کَانَتْ الْيَهُودُ تَقُولُ إِذَا أَتَی الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ مِنْ دُبُرِهَا فِي قُبُلِهَا کَانَ الْوَلَدُ أَحْوَلَ فَنَزَلَتْ نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ
قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، ابوبکر، سفیان ابن منکدر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ یہود نے کہا جب آدمی اپنی عورت کے پیچھے سے اس کے اگلے مقام میں وطی کرے تو بچہ بھینگا پیدا ہوگا تو آیت مبارکہ (نِسَا ؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ ) 2۔ البقرۃ: 223) تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں پس تم اپنی کھیتی کو جیسے چاہو آؤ۔
Jabir (RA) declared that the Jews used to say: When a man has intercourse with his wife through the vagina but being on her back. the child will have squint, so the verse came down: "Your wives are your tilth; go then unto your tilth as you may desire" (ii. 223)
اپنی بیوی سے قبل میں خواہ آگے سے یا پیچھے سے جماع کرے لیکن دبر میں نہ کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ يَهُودَ کَانَتْ تَقُولُ إِذَا أُتِيَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ دُبُرِهَا فِي قُبُلِهَا ثُمَّ حَمَلَتْ کَانَ وَلَدُهَا أَحْوَلَ قَالَ فَأُنْزِلَتْ نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ
محمد بن رمح، لیث، ابن ہاد، ابن حازم، محمد بن منکدر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ یہود نے کہا جب عورت سے اس کے پیچھے کی جانب سے اس کے اگلے حصہ میں وطی کی جائے تو اس کا بچہ بھینگا پیدا ہوگا تو آیت (نِسَا ؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ ) 2۔ البقرۃ: 223) نازل کی گئی۔
Jabir (b.Abdullah) (RA) reported that the Jews used to say that when one comes to ones wife through the vagina, but being on her back, and she becomes pregnant, the child has a squint. So the verse came down: "Your wives are your tilth; go then unto your tilth, as you may desire."
اپنی بیوی سے قبل میں خواہ آگے سے یا پیچھے سے جماع کرے لیکن دبر میں نہ کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ رَاشِدٍ يُحَدِّثُ عَنْ الزُّهْرِيِّ ح و حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ الْمُخْتَارِ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَزَادَ فِي حَدِيثِ النُّعْمَانِ عَنْ الزُّهْرِيِّ إِنْ شَائَ مُجَبِّيَةً وَإِنْ شَائَ غَيْرَ مُجَبِّيَةٍ غَيْرَ أَنَّ ذَلِکَ فِي صِمَامٍ وَاحِدٍ
قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، عبدالوارث بن عبدالصمد، ایوب، محمد بن مثنی، وہب بن جریر، شعبہ، محمد بن مثنی، عبدالرحمن، سفیان، عبیداللہ بن سعید، ہارون بن عبداللہ ابومعن، وہب ابن جریر، نعمان بن راشد، سلیمان بن معبد، معلی بن اسد، عبدالعزیز، ابن مختار، سہیل بن ابی صالح مختلف اسناد سے وہی حدیث مروی ہے زہری کی حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ شوہر اگر چاہے تو اپنی بیوی کو اوندھا لٹا کر جماع کرے اور اگر چاہے تو سیدھا لٹا کر صحبت کرے مگر جماع ایک سوارخ میں کرے یعنی آگے والے حصہ میں
This hadith has been reported on the authority of Jabir through another chain of transmitters, but in the hadith transmitted on the authority of Zuhri there is an addition (of these words): "If he likes he may (have intercourse) being on the back or in front of her, but it should be through one opening (vagina)."
عورت کا اپنے خاوند کے بستر سے اپنے آپ کو روکنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا بَاتَتْ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا لَعَنَتْهَا الْمَلَائِکَةُ حَتَّی تُصْبِحَ
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب عورت اپنے خاوند کے بستر سے جدا ہو کر باوجود بلانے کے رات گزارے تو صبح تک فرشتے اس خاتون پر لعنت کرتے ہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Apostle ﷺ said: When a woman spends the night away from the bed of her husband, the angels curse her until morning.
عورت کا اپنے خاوند کے بستر سے اپنے آپ کو روکنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ حَتَّی تَرْجِعَ
یحییٰ بن حبیب، خالد، ابن حارث، شعبہ نیاسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے اس میں یہ اضافہ ہے یہاں تک کہ لوٹ آئے۔
This hadith has been narrated through the same chain of transmitters (with a slight variation): "He said: Until she comes back."
عورت کا اپنے خاوند کے بستر سے اپنے آپ کو روکنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ رَجُلٍ يَدْعُو امْرَأَتَهُ إِلَی فِرَاشِهَا فَتَأْبَی عَلَيْهِ إِلَّا کَانَ الَّذِي فِي السَّمَائِ سَاخِطًا عَلَيْهَا حَتَّی يَرْضَی عَنْهَا
ابن ابی عمر، مروان، یزید، ابن کیسان، ابی حازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کوئی آدمی جب اپنی بیوی کو اپنے بستر کی طرف بلائے اور وہ اس کے بلانے پر انکار کر دے تو آسمان والا یعنی اللہ اس عورت پر ناراض رہتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: By Him in Whose Hand is my life, when a man calls his wife to his bed, and she does not respond, the One Who is in the heaven is displeased with her until he (her husband) is pleased with her.
عورت کا اپنے خاوند کے بستر سے اپنے آپ کو روکنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَی فِرَاشِهِ فَلَمْ تَأْتِهِ فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَيْهَا لَعَنَتْهَا الْمَلَائِکَةُ حَتَّی تُصْبِحَ
ابوبکر بن ابی شبیہ، ابوکریب، ابومعاویہ، ابوسعید، وکیع، زہیر بن حرب، جریر، اعمش، ابی حازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب آدمی نے اپنی بیوی کو اپنے بستر کی طرف بلایا اور وہ نہ آئی اس نے اس پر ناراضگی کی حالت میں رات گزاری تو اس عورت پر فرشتے لعنت کرتے رہتے ہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When a man invites his wife to his bed and she does not come, and he (the husband) spends the night being angry with her, the angels curse her until morning.
عورت کا اپنے خاوند کے بستر سے اپنے آپ کو روکنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ الْعُمَرِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَشَرِّ النَّاسِ عِنْدَ اللَّهِ مَنْزِلَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفْضِي إِلَی امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، مردان بن معاویہ، عمر بن حمزہ، عبدالرحمن بن سعد، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں میں سب سے برا اللہ کے نزدیک مرتبہ کے اعتبار سے قیامت کے دن وہ آدمی ہوگا جو اپنی عورت کے پاس جائے اور اس سے جماع کرے پھر اس عورت کے راز کو پھیلاتا ہے۔
Abu Said al-Khudri (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said: The most wicked among the people in the eye of Allah on the Day of Judgment is the man who goes to his wife and she comes to him, and then he divulges her secret.
عورت کا اپنے خاوند کے بستر سے اپنے آپ کو روکنے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْأَمَانَةِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفْضِي إِلَی امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ إِنَّ أَعْظَمَ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوکریب، ابواسامہ، عمر بن حمزہ، عبدالرحمن بن سعد، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے بڑی امانت جو ہوگی وہ یہ ہے کہ مرد اپنی عورت کے پاس جائے اور اس سے جماع کرے اور پھر اس کے راز کو ظاہر کر دے ابن نمیر نے "إِنَّ أَعْظَمَ " کہا ہے۔
Abu Said al-Khudri (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The most important of the trusts in the sight of Allah on the Day of Judgment is that a man goes to his wife and she goes to him (and the breach of this trust is) that he should divulge her secret. Ibn Numair narrates this hadith with a slight change of wording.
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو صِرْمَةَ عَلَی أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَسَأَلَهُ أَبُو صِرْمَةَ فَقَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْکُرُ الْعَزْلَ فَقَالَ نَعَمْ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ بَلْمُصْطَلِقِ فَسَبَيْنَا کَرَائِمَ الْعَرَبِ فَطَالَتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَرَغِبْنَا فِي الْفِدَائِ فَأَرَدْنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ وَنَعْزِلَ فَقُلْنَا نَفْعَلُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا لَا نَسْأَلُهُ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا عَلَيْکُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا مَا کَتَبَ اللَّهُ خَلْقَ نَسَمَةٍ هِيَ کَائِنَةٌ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا سَتَکُونُ
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، اسماعیل بن جعفر، ربیعہ، محمد بن یحییٰ بن حبان، حضرت ابن محیریز ؓ سے روایت ہے کہ میں اور ابوصرمہ حضرت ابوسعید خدری ؓ کے پاس حاضر ہوئے تو ابوصرمہ نے ان سے پوچھا اے ابوسعید! کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو عزل کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ بنی مصطلق میں شرکت کی پس ہم نے عرب کی معزز عورتوں کو قیدی بنایا اور ہم پر عورتوں سے علیحدہ رہنے کی مدت لمبی ہوگئی تھی اور ہم نے اس میں رغبت کی کہ فدیہ حاصل کریں عورتوں کے بدلے کفار سے اور یہ بھی ہم نے ارادہ کیا کہ ہم ان سے نفع حاصل کریں اور عزل کرلیں ہم نے کہا ہم رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں آپ ﷺ سے پوچھے بغیر ایسا کریں گے؟ تو ہم نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا نہیں تم پر لازم ہے کہ تم ایسا نہ کرو عزل نہ کرو کیونکہ جس روح کے پیدا ہونے کا اللہ نے قیامت کے دن تک لکھ دیا وہ پیدا ہو کر رہے گی۔
Abu Sirma said to Abu Said al Khadri (RA) : O Abu Said, did you hear Allahs Messenger ﷺ mentioning al-azl? He said: Yes, and added: We went out with Allahs Messenger ﷺ on the expedition to the Bil-Mustaliq and took captive some excellent Arab women; and we desired them, for we were suffering from the absence of our wives, (but at the same time) we also desired ransom for them. So we decided to have sexual intercourse with them but by observing azl (Withdrawing the male sexual organ before emission of semen to avoid-conception). But we said: We are doing an act whereas Allahs Messenger is amongst us; why not ask him? So we asked Allahs Messenger ﷺ , and he said: It does not matter if you do not do it, for every soul that is to be born up to the Day of Resurrection will be born.
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ مَوْلَی بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي مَعْنَی حَدِيثِ رَبِيعَةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ کَتَبَ مَنْ هُوَ خَالِقٌ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ
محمد بن فرج، محمد بن زبیر، موسیٰ بن عقبہ، محمد بن یحییٰ بن حبان اسناد سے بھی یہی حدیث مروی ہے اس میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ نے لکھ دیا ہے قیامت کے دن تک پیدا کرنے والا کون ہے؟
A hadith like this has been narrated on the authority of Habban with the same chain of transmitters (but with this alteration) that he said: "Allah has ordained whom he has to create until the Day of Judgment."
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ مَالِکٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ قَالَ أَصَبْنَا سَبَايَا فَکُنَّا نَعْزِلُ ثُمَّ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ لَنَا وَإِنَّکُمْ لَتَفْعَلُونَ وَإِنَّکُمْ لَتَفْعَلُونَ وَإِنَّکُمْ لَتَفْعَلُونَ مَا مِنْ نَسَمَةٍ کَائِنَةٍ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا هِيَ کَائِنَةٌ
عبداللہ بن محمد بن اسماء، جویریہ، مالک، ابن محیریز، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ہمیں قیدی عورتیں ملیں اور ہم عزل کرتے تھے پھر ہم نے آپ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا تم ضرور ایسا کرتے ہو تم ضرور ایسا کرتے ہو تم ضرور ایسا کرتے ہو تاکیداً دہرایا مگر کوئی بھی ذی روح جس کو قیامت تک پیدا ہونا ہے وہ پیدا ہو کر رہے گی۔
Abu Said al-Khudri (RA) reported: We took women captives, and we wanted to do azl with them. We then asked Allahs Messenger ﷺ about it, and he said to us: Verily you do it, verily you do it, verily you do it, but the soul which has to be born until the Day of Judgment must be born.