Sahih Muslim

All 7,570 hadiths in order · Page 16 of 379

302Sahih Muslim

خود کشی کی سخت حرمت اور اس کو دوزخ کے عذاب اور یہ کہ مسلمان کے علاوہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامِ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ الدِّمَشْقِيُّ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ أَنَّ أَبَا قِلَابَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاکِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ بَايَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينٍ بِمِلَّةٍ غَيْرِ الْإِسْلَامِ کَاذِبًا فَهُوَ کَمَا قَالَ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْئٍ عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَيْسَ عَلَی رَجُلٍ نَذْرٌ فِي شَيْئٍ لَا يَمْلِکُهُ

یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ ابن سلام، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوقلابہ، ثابت بن ضحاک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے انہوں نے غزوہ حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے بیعت کیا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی اسلام کے علاوہ دوسری ملت پر جھوٹی قسم کھائے تو وہ ویسا ہی ہوجائے اور جس نے کسی چیز سے اپنے آپ کو قتل کیا تو قیامت کے دن اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا اور اگر کسی آدمی نے غیر مملوکہ چیز کی منت مانی تو اس کا پورا کرنا ضروری نہیں ہے۔

Thabit bin Dahhak reported that he pledged allegiance to the Messenger of Allah ﷺ under the Tree, and verily the Messenger of Allah ﷺ observed: He who took an oath of a religion other than Islam, in the state of being a liar, would became so, as he professed. He who killed himself with a thing would be tormented on the Day of Resurrection with that very thing. One is not obliged to offer votive offering of a thing which is not in his possession.

303Sahih Muslim

خود کشی کی سخت حرمت اور اس کو دوزخ کے عذاب اور یہ کہ مسلمان کے علاوہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ عَلَی رَجُلٍ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِکُ وَلَعْنُ الْمُؤْمِنِ کَقَتْلِهِ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْئٍ فِي الدُّنْيَا عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ ادَّعَی دَعْوَی کَاذِبَةً لِيَتَکَثَّرَ بِهَا لَمْ يَزِدْهُ اللَّهُ إِلَّا قِلَّةً وَمَنْ حَلَفَ عَلَی يَمِينِ صَبْرٍ فَاجِرَةٍ

ابوغسان، معاذ ابن ہشام، یحییٰ ابن ابی کثیر، ابوقلابہ، ثابت بن ضحاک ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ کسی آدمی پر ایسی نذر کا پورا کرنا ضروری نہیں ہے جس کا وہ مالک نہ ہو اور مومن پر لعنت کرنا اسے قتل کرنے کی طرح ہے اور جس نے اپنے آپ کو دنیا میں کسی چیز سے قتل کر ڈالا قیامت کے دن وہ اسی سے عذاب دیا جائے گا اور جس نے اپنے مال میں زیادتی کی خاطر جھوٹا دعوی کیا تو اللہ تعالیٰ اس کا مال اور کم کر دے گا اور یہی حال اس آدمی کا ہوگا جو حاکم کے سامنے جھوٹی قسم کھائے گا۔

Thabit bin Dahhak reported that he pledged allegiance to the Messenger of Allah ﷺ under the Tree, and verily the Messenger of Allah ﷺ observed: He who took an oath of a religion other than Islam, in the state of being a liar, would became so, as he professed. He who killed himself with a thing would be tormented on the Day of Resurrection with that very thing. One is not obliged to offer votive offering of a thing which is not in his possession.

304Sahih Muslim

خود کشی کی سخت حرمت اور اس کو دوزخ کے عذاب اور یہ کہ مسلمان کے علاوہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَعَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ کُلُّهُمْ عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ الْأَنْصَارِيِّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ الثَّوْرِيِّ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاکِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَی الْإِسْلَامِ کَاذِبًا مُتَعَمِّدًا فَهْوَ کَمَا قَالَ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْئٍ عَذَّبَهُ اللَّهُ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ هَذَا حَدِيثُ سُفْيَانَ وَأَمَّا شُعْبَةُ فَحَدِيثُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَی الْإِسْلَامِ کَاذِبًا فَهْوَ کَمَا قَالَ وَمَنْ ذَبَحَ نَفْسَهُ بِشَيْئٍ ذُبِحَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ

اسحاق بن ابراہیم، اسحاق بن منصور، عبدالوارث بن عبدالصمد، عبدالصمد بن عبدالوارث، شعبہ، ایوب، ابوقلابہ، ثابت بن ضحاک انصاری، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ثوری، خالد حذاء، ابوقلابہ، ثابت بن ضحاک ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب کی جھوٹی قسم کھائی تو وہ اپنی قسم کے مطابق ہوگا اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کر ڈالا تو اللہ تعالیٰ اسے دوزخ کی آگ میں اسی چیز سے عذاب دیں گے جس چیز سے اس نے اپنے آپ کو قتل کیا سفیان کی روایت یہی ہے اور شعبہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب کی جھوٹی قسم کھائی تو وہ اپنے کہنے کے مطابق ہوگا اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے ذبح کیا تو قیامت کے دن وہ اسی چیز سے ذبح کیا جائے گا۔

It is narrated on the authority of Thabit bin al-Dahhak that the Apostle of Allah ﷺ observes: None is obliged to give votive offering (of a thing) which is not in his possession and the cursing of a believer is tantamount to killing him, and he who killed himself with a thing in this world would be tormented with that (very thing) on the Day of Resurrection, and he who made a false claim to increase (his wealth), Allah would make no addition but that of paucity, and he who perjured would earn the wrath of God

305Sahih Muslim

خود کشی کی سخت حرمت اور اس کو دوزخ کے عذاب اور یہ کہ مسلمان کے علاوہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ شَهِدْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا فَقَالَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ يُدْعَی بِالْإِسْلَامِ هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلَمَّا حَضَرْنَا الْقِتَالَ قَاتَلَ الرَّجُلُ قِتَالًا شَدِيدًا فَأَصَابَتْهُ جِرَاحَةٌ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ الَّذِي قُلْتَ لَهُ آنِفًا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَإِنَّهُ قَاتَلَ الْيَوْمَ قِتَالًا شَدِيدًا وَقَدْ مَاتَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی النَّارِ فَکَادَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَرْتَابَ فَبَيْنَمَا هُمْ عَلَی ذَلِکَ إِذْ قِيلَ إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ وَلَکِنَّ بِهِ جِرَاحًا شَدِيدًا فَلَمَّا کَانَ مِنْ اللَّيْلِ لَمْ يَصْبِرْ عَلَی الْجِرَاحِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِکَ فَقَالَ اللَّهُ أَکْبَرُ أَشْهَدُ أَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَی فِي النَّاسِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ

محمد بن رافع، عبد ابن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، ابن المسیب، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم غزؤہ حنین میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو آپ ﷺ نے ایک آدمی کے بارے میں جو اسلام کا دعوی کرتا تھا فرمایا کہ یہ دوزخ والوں میں سے ہے پھر جب جنگ شروع ہوئی تو وہ آدمی بڑی بہادری کے ساتھ لڑا اور زخمی ہوگیا آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ﷺ جس آدمی کے بارے میں فرما رہے تھے کہ یہ دوزخی ہے اس نے تو آج خوب بہادری سے لڑائی کی ہے اور مرچکا ہے نبی ﷺ نے فرمایا وہ دوزخ میں گیا بعض صحابہ ؓ آپ کے فرمان کی تہہ تک نہ پہنچ سکے اسی دوران اس کے ابھی نہ مرنے بلکہ شدید زخمی ہونے کی اطلاع ملی پھر جب رات ہوئی تو وہ زخموں کی تکلیف برداشت نہ کرسکا تو اس نے اپنے آپ کو قتل کر ڈالا آپ کو اس کی خبر دی گئی تو فرمایا اَللَّهُ أَکْبَرُ اللہ سب سے بڑا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں پھر آپ ﷺ نے حضرت بلال کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں آواز لگادیں کہ جنت میں صرف مسلمان ہی داخل ہوں گے اور اللہ تعالیٰ اس دین کی برے آدمی کے ذریعے بھی مدد کرا دیتا ہے۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) : We participated in the Battle of Hunain along with the Messenger of Allah ﷺ . He (the Holy Prophet) said about a man who claimed to be a Muslim that he was one of the denizens of the Fire (of Hell). When we were in the thick of the battle that man fought desperately and was wounded. It was said: Messenger of Allah, the person whom you at first called as the denizen of Fire fought desperately and died. Upon this the Apostle of Allah ﷺ remarked: He was doomed to the Fire (of Hell). Some men were on the verge of doubt (about his fate) when it was said that he was not dead but fatally wounded. When it was night he could not stand the (pain of his) wound and killed himself. The Apostle ﷺ was informed of that. He (the Holy Prophet) observed: Allah is Great, I bear testimony to the fact that I am the servant of Allah and His messenger. He then commanded Bilal (RA) to announce to the people that none but a Muslim would enter Paradise. Verily Allah helps this faith even by a sinful person.

306Sahih Muslim

خود کشی کی سخت حرمت اور اس کو دوزخ کے عذاب اور یہ کہ مسلمان کے علاوہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ حَيٌّ مِنْ الْعَرَبِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَقَی هُوَ وَالْمُشْرِکُونَ فَاقْتَتَلُوا فَلَمَّا مَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی عَسْکَرِهِ وَمَالَ الْآخَرُونَ إِلَی عَسْکَرِهِمْ وَفِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ لَا يَدَعُ لَهُمْ شَاذَّةً إِلَّا اتَّبَعَهَا يَضْرِبُهَا بِسَيْفِهِ فَقَالُوا مَا أَجْزَأَ مِنَّا الْيَوْمَ أَحَدٌ کَمَا أَجْزَأَ فُلَانٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَنَا صَاحِبُهُ أَبَدًا قَالَ فَخَرَجَ مَعَهُ کُلَّمَا وَقَفَ وَقَفَ مَعَهُ وَإِذَا أَسْرَعَ أَسْرَعَ مَعَهُ قَالَ فَجُرِحَ الرَّجُلُ جُرْحًا شَدِيدًا فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ فَوَضَعَ نَصْلَ سَيْفِهِ بِالْأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَی سَيْفِهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَخَرَجَ الرَّجُلُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّکَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ وَمَا ذَاکَ قَالَ الرَّجُلُ الَّذِي ذَکَرْتَ آنِفًا أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَأَعْظَمَ النَّاسُ ذَلِکَ فَقُلْتُ أَنَا لَکُمْ بِهِ فَخَرَجْتُ فِي طَلَبِهِ حَتَّی جُرِحَ جُرْحًا شَدِيدًا فَاسْتَعْجَلَ الْمَوْتَ فَوَضَعَ نَصْلَ سَيْفِهِ بِالْأَرْضِ وَذُبَابَهُ بَيْنَ ثَدْيَيْهِ ثُمَّ تَحَامَلَ عَلَيْهِ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِکَ إِنَّ الرَّجُلَ لِيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لِيَعْمَلُ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فِيمَا يَبْدُو لِلنَّاسِ وَهُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ

قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن، ابوحازم، سہل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور مشرکوں کا ایک غزوہ میں آمنا سامنا ہوا اور نوبت سخت کشت و خون تک پہنچ گئی پھر جب رسول اللہ ﷺ اپنے لشکر کی طرف تشریف لے گئے اور مشرکین اپنے لشکر کی طرف چلے گئے آپ ﷺ کے ساتھیوں میں ایک آدمی ایسا تھا کہ وہ اکا دکا کافر کو نہیں چھوڑتا تھا بلکہ اس کا پیچھا کرکے تلوار سے اسے اڑا دیتا تھا صحابہ کرام یہ کہنے لگے کہ اس آدمی کی طرح آج ہمارے کوئی کام نہ آیا رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ وہ دوزخ والوں میں سے ہے صحابہ ؓ میں سے ایک نے کہا کہ میں مستقل اس کے ساتھ رہوں گا پھر وہ صحابی اس کے ساتھ رہے جہاں ٹھہرتا اس کے ساتھ ٹھہرتے اور جب وہ تیزی کے ساتھ چلتا تو یہ بھی تیزی کے ساتھ چلتے حدیث کے راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ سخت زخمی ہوگیا اس نے زخموں کی تکلیف برداشت نہ کرتے ہوئے جلد موت کو گلے سے لگا لینا چاہا تو تلوار کا دستہ زمین پر رکھ کا اس کی نوک دونوں چھاتیوں کے درمیان رکھی پھر اس پر زور دے کر خود کو قتل کر ڈالا تب وہ صحابی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ میں اس کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کیا بات ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ نے جس کے بارے میں دوزخی ہونے کے متعلق فرمایا تھا لوگوں کو اس پر تعجب ہوا تھا اور میں نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ میں تمہاری خاطر اس کی خبر رکھوں گا پھر میں اس کی جستجو میں نکلا وہ آدمی بالآخر سخت زخمی ہوا اور مرنے کی جلدی میں اس نے اپنی تلوار کا دستہ زمین پر رکھ کو اس کی نوک اپنی دونوں چھاتیوں کے درمیان رکھ کر زور دے کر خود کو مار ڈالا یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک آدمی لوگوں کی نظر میں جنتیوں والے کام کرتا ہے حالانکہ وہ دوزخ والوں میں سے ہوتا ہے اور ایک آدمی لوگوں کی نظر میں دوزخ والے کام کرتا ہے حالانکہ وہ بالآخر جنتی ہوتا ہے۔

It is reported on the authority of Sahl bin Sad al-Saidi that there was an encounter between the Messenger of Allah ﷺ and the polytheists, and they fought (against one another). At the conclusion of the battle the Messenger of Allah ﷺ bent his steps towards his army and they (the enemies) bent their steps towards their army. And there was a person (his name was Quzman and he was one of the hypocrites) among the Companions of the Messenger of Allah ﷺ who did not spare a detached (fighter of the enemy) but pursued and killed him with the sword. They (the Companions of the Holy Prophet) said: None served us better today than this man Upon this the Messenger of Allah ﷺ remarked: Verily he is one of the denizens of Fire. One of the people (Muslims) said: I will constantly shadow him. Then this man went out along with him. He halted whenever he halted, and ran along with him whenever he ran. He (the narrator) said: The man was seriously injured. He (could not stand the pain) and hastened his own death. He placed the blade of the sword on the ground with the tip between his chest and then pressed himself against the sword and killed himself. Then the man (following him) went to the Messenger of Allah ﷺ and said: I bear testimony that verily thou art the Messenger of Allah, He (the Holy Prophet) said: What is the matter? He replied: The person about whom you just mentioned that he was one among the denizens of Fire and the people were surprised (at this) and I said to them that I would bring (the news about him) and consequently I went out in search of him till I (found him) to be very seriously injured. He hastened his death. He placed the blade of the sword upon the ground and its tip between his chest and then pressed himself against that and killed himself. Thereupon the Messenger of Allah ﷺ remarked: A person performs the deeds which to the people appear to be the deeds befitting the dweller of Paradise, but he is in fact one of the denizens of Hell. And verily a person does an act which in the eyes of public is one which is done by the denizens of Hell, but the person is one among the dwellers of Paradise.

307Sahih Muslim

خود کشی کی سخت حرمت اور اس کو دوزخ کے عذاب اور یہ کہ مسلمان کے علاوہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُا إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ کَانَ قَبْلَکُمْ خَرَجَتْ بِهِ قُرْحَةٌ فَلَمَّا آذَتْهُ انْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ کِنَانَتِهِ فَنَکَأَهَا فَلَمْ يَرْقَأْ الدَّمُ حَتَّی مَاتَ قَالَ رَبُّکُمْ قَدْ حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ ثُمَّ مَدَّ يَدَهُ إِلَی الْمَسْجِدِ فَقَالَ إِي وَاللَّهِ لَقَدْ حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ جُنْدَبٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ

محمد بن رافع، زبیر ی، محمد بن عبداللہ، ابن زبیر، شیبان کہتے ہیں میں نے حضرت حسن کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کو پھوڑا نکلا پھر جب اسے سخت تکلیف ہوئی تو اس نے ترکش سے تیر نکال کر اس سے پھوڑا چیر دیا اور خون بند نہ ہونے کہ وجہ سے وہ آدمی مرگیا تو اللہ عزوجل نے فرمایا کہ میں نے اس پر جنت حرام کردی پھر حسن ؓ نے اپنا ہاتھ مسجد کی طرف دراز کر کے فرمایا اللہ کی قسم یہ حدیث جندب بن عبداللہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے اسی مسجد میں مجھ سے بیان فرمائی۔

It is reported on the authority of Hasan: A person belonging to the people of the past suffered from a boil, when it pained him, he drew out an arrow from the quiver and pierced it. And the bleeding did not stop till he died. Your Lord said: I forbade his entrance into Paradise. Then he (Hasan) stretched his hand towards the mosque and said: By God, Jundab transmitted this hadith to me from the Messenger of Allah ﷺ in this very mosque.

308Sahih Muslim

خود کشی کی سخت حرمت اور اس کو دوزخ کے عذاب اور یہ کہ مسلمان کے علاوہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ حَدَّثَنَا جُنْدَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ فَمَا نَسِينَا وَمَا نَخْشَی أَنْ يَکُونَ جُنْدَبٌ کَذَبَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ بِرَجُلٍ فِيمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ خُرَاجٌ فَذَکَرَ نَحْوَهُ

محمد بن ابوبکر مقدمی، وہب بن جریر ؓ اپنے والد کے حوالہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہم سے حضرت جندب بن عبداللہ البجلی ؓ نے اسی مسجد میں حدیث بیان کی جسے ہم نہ بھولے اور نہ ہی ڈر ہے کہ حضرت جندب ؓ نے رسول اللہ ﷺ کی طرف اس کو غلط منسوب کیا ہو حضرت جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کے پھوڑا نکلا تھا پھر اسی حدیث کے مطابق ذکر فرمایا۔

It is reported on the authority of Hasan: Jundab bin Abdullah al-Bajali narrated this hadith in this mosque which we can neither forget and at the same time we have no apprehension that Jundab could attribute a lie to the Messenger of Allah ﷺ . He (the Holy Prophet) observed: A person belonging to the people of the past suffered from a boil, and then the rest of the hadith was narrated.

309Sahih Muslim

مال غنیمت میں خیانت کی سخت حرمت اور اس بات کے بیان میں کہ جنت میں صرف مومن داخل ہوں گے۔

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنِي سِمَاکٌ الْحَنَفِيُّ أَبُو زُمَيْلٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ أَقْبَلَ نَفَرٌ مِنْ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا فُلَانٌ شَهِيدٌ فُلَانٌ شَهِيدٌ حَتَّی مَرُّوا عَلَی رَجُلٍ فَقَالُوا فُلَانٌ شَهِيدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَلَّا إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا أَوْ عَبَائَةٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ اذْهَبْ فَنَادِ فِي النَّاسِ أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ قَالَ فَخَرَجْتُ فَنَادَيْتُ أَلَا إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ

زہیر بن حرب، ہاشم بن قاسم، عکرمہ بن عمار، سماک، ابوزمیل حنفی، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا: غزوہ خیبر میں چند صحابہ کرام ؓ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ فلاں آدمی شہید ہے یہاں تک کہ ایک آدمی پر گزر ہوا تو اس کے متعلق بھی کہنے لگے کہ فلاں شہید ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اسے چادر یا عباء کی چوری کی وجہ سے اس کو جہنم میں دیکھا ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابن خطاب جاؤ اور لوگوں میں آواز لگا دو کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے نکل کر لوگوں میں یہ آواز لگادی کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے۔

It is narrated on the authority of Umar bin Khattab that when it was the day of Khaibar a party of Companions of the Apostle ﷺ came there and said: So and so is a martyr, till they happened to pass by a man and said: So and so is a martyr. Upon this the Messenger of Allah ﷺ remarked: Nay, not so verily I have seen him in the Fire for the garment or cloak that he had stolen from the booty, Then the Messenger of Allah ﷺ said: Umar son of Khattab, go and announce to the people that none but the believers shall enter Paradise. He (Umar bin Khattab) narrated: I went out and proclaimed: Verily none but the believers would enter Paradise.

310Sahih Muslim

مال غنیمت میں خیانت کی سخت حرمت اور اس بات کے بیان میں کہ جنت میں صرف مومن داخل ہوں گے۔

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدُّؤَلِيِّ عَنْ سَالِمٍ أَبِي الْغَيْثِ مَوْلَی ابْنِ مُطِيعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَهَذَا حَدِيثُهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ ثَوْرٍ عَنْ أَبِي الْغَيْثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی خَيْبَرَ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلَمْ نَغْنَمْ ذَهَبًا وَلَا وَرِقًا غَنِمْنَا الْمَتَاعَ وَالطَّعَامَ وَالثِّيَابَ ثُمَّ انْطَلَقْنَا إِلَی الْوَادِي وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ لَهُ وَهَبَهُ لَهُ رَجُلٌ مِنْ جُذَامَ يُدْعَی رِفَاعَةَ بْنَ زَيْدٍ مِنْ بَنِي الضُّبَيْبِ فَلَمَّا نَزَلْنَا الْوَادِي قَامَ عَبْدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُلُّ رَحْلَهُ فَرُمِيَ بِسَهْمٍ فَکَانَ فِيهِ حَتْفُهُ فَقُلْنَا هَنِيئًا لَهُ الشَّهَادَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَلَّا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ الشَّمْلَةَ لَتَلْتَهِبُ عَلَيْهِ نَارًا أَخَذَهَا مِنْ الْغَنَائِمِ يَوْمَ خَيْبَرَ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ قَالَ فَفَزِعَ النَّاسُ فَجَائَ رَجُلٌ بِشِرَاکٍ أَوْ شِرَاکَيْنِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَبْتُ يَوْمَ خَيْبَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِرَاکٌ مِنْ نَارٍ أَوْ شِرَاکَانِ مِنْ نَارٍ

ابوطاہر، ابن وہب، مالک بن انس، ثور بن زید دیلی، سالم ابی غیث مولیٰ ابن مطیع، ابوہریرہ ؓ، قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز، ابن محمد، ثور، ابوغیث، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خبیر کی طرف نکلے تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطا فرمائی تو ہم نے سونا اور چاندی نہیں بلکہ اسباب اناج اور کپڑا وغیرہ مال غنیمت میں سے لیا پھر ہم وادی کی طرف چلے، اس غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غلام تھا جسے قبیلہ جذام کے بنی ضبیب کے ایک آدمی رفاعہ بن زید نے پیش کیا تھا پھر ہم وادی میں اترے تو رسول اللہ ﷺ کا غلام آپ ﷺ کا سامان کھولنے لگا اسی دوران اسے ایک تیر لگا اور اس سے وہ مرگیا، ہم نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ اس کے لئے شہادت مبارک ہو، یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے جو چادر اس کے حصہ میں نہیں تھی وہی چادر اس کے اوپر شعلہ کی صورت میں جل رہی ہے یہ سن کر سب خوف زدہ ہوگئے ایک آدمی ایک تسمہ یا دو تسمے لے کر آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول ﷺ یہ مجھے خبیر کے دن جنگ کے موقع پر ملے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ تسمے بھی آگ کے ہیں۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) : We went to Khaibar along with the Apostle ﷺ and Allah granted us victory. We plundered neither gold nor silver but laid our hands on goods, corn and clothes, and then bent our stops to a valley; along with the Messenger of Allah ﷺ there was a slave who was presented to him by one Rifaa bin Zaid of the family of Judham, a tribe of Dubayb. When we got down into the valley the slave of the Messenger of Allah ﷺ stood up and began to unpack the saddle-bag and was suddenly struck by a (stray) arrow which proved fatal. We said: There is a greeting for him, Messenger of Allah, as he is a martyr. Upon this the Messenger of Allah ﷺ remarked: Nay, not so. By Him in Whose hand is the life of Muhammad, the small garment which he stole from the booty on the day of Khaibar but which did not (legitimately) fall to his lot is burning like the Fire (of Hell) on him. The people were greatly perturbed (on hearing this). A person came there with a lace or two laces and said: Messenger of Allah, I found (them) on the day of Khaibar. He (the Holy Prophet) remarked: This is a lace of fire or two laces of fire.

311Sahih Muslim

اس بات کی دلیل کے بیان میں کہ خود کشی کرنے والا کافر نہیں ہوگا

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ الطُّفَيْلَ بْنَ عَمْرٍو الدَّوْسِيَّ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَکَ فِي حِصْنٍ حَصِينٍ وَمَنْعَةٍ قَالَ حِصْنٌ کَانَ لِدَوْسٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَبَی ذَلِکَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِي ذَخَرَ اللَّهُ لِلْأَنْصَارِ فَلَمَّا هَاجَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْمَدِينَةِ هَاجَرَ إِلَيْهِ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو وَهَاجَرَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَمَرِضَ فَجَزِعَ فَأَخَذَ مَشَاقِصَ لَهُ فَقَطَعَ بِهَا بَرَاجِمَهُ فَشَخَبَتْ يَدَاهُ حَتَّی مَاتَ فَرَآهُ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فِي مَنَامِهِ فَرَآهُ وَهَيْئَتُهُ حَسَنَةٌ وَرَآهُ مُغَطِّيًا يَدَيْهِ فَقَالَ لَهُ مَا صَنَعَ بِکَ رَبُّکَ فَقَالَ غَفَرَ لِي بِهِجْرَتِي إِلَی نَبِيِّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا لِي أَرَاکَ مُغَطِّيًا يَدَيْکَ قَالَ قِيلَ لِي لَنْ نُصْلِحَ مِنْکَ مَا أَفْسَدْتَ فَقَصَّهَا الطُّفَيْلُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ وَلِيَدَيْهِ فَاغْفِرْ

ابوبکر بن ابی شبیہ، اسحاق بن حرب، سلیمان، ابوبکر، سلیمان بن حرب، حماد بن زبیر، حجاج صواف، ابوزبیر، جابر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت طفیل بن عمرو الدوسی ؓ نبی ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا آپ ﷺ کو ایک مضبوط قلعہ اور حفاظتی مقام کی ضرورت ہے؟ حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ حضرت طفیل ؓ کے پاس زمانہ جاہلیت میں دوس کا ایک قلعہ تھا، نبی ﷺ نے اس سے انکار فرما دیا کیونکہ یہ سعادت اللہ تعالیٰ نے انصار کے لئے مقدر کردی تھی پس جب نبی ﷺ ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو حضرت طفیل ؓ بھی اپنی قوم کے ایک آدمی کے ساتھ ہجرت کرکے مدینہ منورہ آگئے تو حضرت طفیل ؓ کا ساتھی مدینہ کی آب ہوا کے موافق نہ ہونے کی وجہ سے بیمار ہوگیا جب بیماری حد سے بڑھ گئی برداشت کے قابل نہ رہی تو اس نے اپنے تیر کے پھل سے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کے جوڑ کاٹ دئے جس کی وجہ سے ہاتھوں سے خون بہنے لگا اور اس کے نتیجے میں وہ مرگیا، حضرت طفیل بن عمرو ؓ نے اسے خواب میں دیکھا تو اچھی حالت میں تھے مگر اس کے ہاتھ ڈھکے ہوئے تھے انہوں نے پوچھا کہ تمہارے رب نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا اس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے نبی ﷺ کے ساتھ ہجرت کی برکت سے معاف کردیا ہے پھر اس سے پوچھا کہ تو نے اپنے ہاتھوں کو چھپا رکھا ہے تو اس نے کہا کہ مجھ سے کہہ دیا گیا ہے کہ تو نے اس کو خود بگاڑا ہے ہم اسے درست نہیں کریں گے حضرت طفیل ؓ نے یہ خواب رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے لئے دعا فرمائی کہ اے اللہ اس کے ہاتھوں کی بھی مغفرت فرما۔

It is narrated on the authority of Jabir that Tufail son of Amr al-Dausi came to the Apostle ﷺ and said: Do you need strong, fortified protection? The tribe of Daus had a fort in the pre-Islamic days. The Apostle ﷺ declined this offer, since it (the privilege of protecting the Holy Prophet) had already been reserved for the Ansar. When the Apostle ﷺ migrated to Madinah, Tufail son of Amr also migrated to that place, and there also migrated along with him a man of his tribe. But the climate of Madinah did not suit him, and he fell sick. He felt very uneasy. So he took hold of an iron head of an arrow and cut his finger-joints. The blood streamed forth from his hands, till he died. Tufail son of Amr saw him in a dream. His state was good and he saw him with his hands wrapped. He (Tufail) said to him: What treatment did your Allah accord to you? He replied. Allah granted me pardon for my migration to the Apostle ﷺ : He (Tufail) again said: What is this that I see you wrapping up your hands? He replied: I was told (by Allah): We would not set right anything of yours which you damaged yourself. Tufail narrated this (dream) to the Messenger of Allah ﷺ . Upon this he prayed: O Allah I grant pardon even to his hands.

312Sahih Muslim

قرب قیامت کی اس ہوا کے بیان میں کہ جس کے اثر سے ہر وہ آدمی مر جائے گا جس کے دل میں تھوڑا سا ایمان بھی ہوگا۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَبُو عَلْقَمَةَ الْفَرْوِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ رِيحًا مِنْ الْيَمَنِ أَلْيَنَ مِنْ الْحَرِيرِ فَلَا تَدَعُ أَحَدًا فِي قَلْبِهِ قَالَ أَبُو عَلْقَمَةَ مِثْقَالُ حَبَّةٍ و قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ

احمد بن عبدہ ضبی، عبدالعزیز بن محمد، ابوعلقمہ، صفوان بن سلیم، عبداللہ بن سلمان، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یمن کی طرف سے ایک ایسی ہوا چلائے گا جو ریشم سے بھی زیادہ نرم ہوگی جس کے دل میں تھوڑا سا ایمان بھی ہوگا اس کو نہیں چھوڑے گی یعنی اس کی روح قبض کرلے گی، حضرت علقمہ ؓ کی روایت کے مطابق ہر وہ آدمی مرجائے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Verily Allah would make a wind to blow from the side of the Yemen more delicate than silk and would spare none but cause him to die who, in the words of Abu Alqama, has faith equal to the weight of a grain; while Abdul- Aziz (RA) said: having faith equal to the weight of a dust particle.

313Sahih Muslim

فتنوں کے ظاہر ہونے سے پہلے نیک اعمال کی طرف متوجہ ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلَائُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا کَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي کَافِرًا أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ کَافِرًا يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنْ الدُّنْيَا

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر اسماعیل بن جعفر، ابن ایوب، علاء، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ان فتنوں کے ظاہر ہونے سے پہلے جلد جلد نیک اعمال کرلو جو اندھیری رات کی طرح چھا جائیں گے صبح آدمی ایمان والا ہوگا اور شام کو کافر یا شام کو ایمان والا ہوگا اور صبح کافر اور دنیوی نفع کی خاطر اپنا دین بیچ ڈالے گا۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ observed: Be prompt in doing good deeds (before you are overtaken) by turbulence which would be like a part of the dark night. During (that stormy period) a man would be a Muslim in the morning and an unbeliever in the evening or he would be a believer in the evening and an unbeliever in the morning, and would sell his faith for worldly goods.

314Sahih Muslim

مومن کے اس خوف کے بیان میں کہ اس کے اعمال ضائع نہ ہو جائیں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ إِلَی آخِرِ الْآيَةِ جَلَسَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ فِي بَيْتِهِ وَقَالَ أَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ وَاحْتَبَسَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فَقَالَ يَا أَبَا عَمْرٍو مَا شَأْنُ ثَابِتٍ اشْتَکَی قَالَ سَعْدٌ إِنَّهُ لَجَارِي وَمَا عَلِمْتُ لَهُ بِشَکْوَی قَالَ فَأَتَاهُ سَعْدٌ فَذَکَرَ لَهُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ثَابِتٌ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي مِنْ أَرْفَعِکُمْ صَوْتًا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَذَکَرَ ذَلِکَ سَعْدٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، حسن بن موسی، حماد بن سلمہ، ثابت بنانی، انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اے ایمان والو! اپنی آواز کو نبی ﷺ کی آواز پر بلند نہ کرو کہیں تمہارے اعمال برباد ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو تو حضرت ثابت بن قیس ؓ اپنے گھر ہی میں بیٹھ گئے اور سمجھنے لگے کہ میں دوزخی ہوں اور نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر نہ ہوئے تو نبی ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ ؓ سے پوچھا اے ابوعمرو (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)! ثابت کا کیا حال ہے کیا وہ بیمار ہوگئے؟ حضرت سعد ؓ سے عرض کیا کہ وہ میرے ہمسائے ہیں اور مجھے ان کے بیمار ہونے کا علم نہیں، حضرت سعد ؓ حضرت ثابت ؓ کے پاس آئے اور رسول اللہ ﷺ کے پوچھنے کا ذکر کیا تو حضرت ثابت نے فرمایا کہ یہ آیت نازل ہوگئی اور تم جانتے ہو کہ میری آواز رسول اللہ ﷺ کے سامنے تم سب سے زیادہ بلند ہوتی ہے پس میں دوزخی ہوں حضرت سعد نے نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا وہ تو جنتی ہیں۔ (دوزخی نہیں)

It is narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) that when this verse:" O ye who believe I raise not your voices above the voice of the Prophet, nor shout loud unto him in discourse, as ye shout loud unto one another, lest your deeds should become null and void, while you perceive not" (xlix. 2-5), was revealed. Thabit bin Qais confined himself in his house and said: I am one of the denizens of Fire, and he deliberately avoided coming to the Apostle ﷺ . The Apostle ﷺ asked Sad b, Muadh about him and said, Abu Amr, how is Thabit? Has he fallen sick? Sad said: He is my neighbour, but I do not know of his illness. Sad came to him (Thabit), and conveyed to him the message of the Messenger of Allah ﷺ . Upon this Thabit said: This verse was revealed, and you are well aware of the fact that, amongst all of you, mine is the voice louder than that of the Messenger of Allah, and so I am one amongst the denizens of Fire, Sad Informed the Holy Prophet ﷺ about it. Upon this the Messenger of Allah ﷺ observed: (Nay, not so) but he (Thabit) is one of the dwellers of Paradise.

315Sahih Muslim

مومن کے اس خوف کے بیان میں کہ اس کے اعمال ضائع نہ ہو جائیں

حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ خَطِيبَ الْأَنْصَارِ فَلَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ بِنَحْوِ حَدِيثِ حَمَّادٍ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِ ذِکْرُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ

قطن بن نسیر، جعفر بن سلیمان، ثابت، انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ثابت بن قیس ؓ بن شماس انصار کے خطیب تھے پھر جب یہ آیت نازل ہوئی باقی حدیث حماد کی حدیث کی طرح ہے لیکن اس میں حضرت سعد بن معاذ کا ذکر نہیں۔

This hadith has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) by another chain of transmitters in which these words are found: Thabit bin Qais was the orator of the Ansar, when this verse was revealed: the rest of the hadith is the same with the exception that there is no mention of Sad bin Muadh in it. This hadith is also transmitted by Ahmad bin Said, Habban, Sulaiman bin Mughira on the authority of Anas who said: When the verse was revealed:" Do not raise your voice louder than the voice of the Apostle," no mention was made of Sad b, Muadh in it.

316Sahih Muslim

مومن کے اس خوف کے بیان میں کہ اس کے اعمال ضائع نہ ہو جائیں

حَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَمْ يَذْکُرْ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فِي الْحَدِيثِ

احمد بن سعید بن صخر دارمی، حبان، سلیمان بن مغیرہ، ثابت، انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اے ایمان والو اپنی آوازوں کو نبی ﷺ کی آواز پر بلند نہ کرو اور حدیث مبارکہ میں حضرت سعد بن معاذ ؓ کا ذکر نہیں۔

Untraceble…

317Sahih Muslim

مومن کے اس خوف کے بیان میں کہ اس کے اعمال ضائع نہ ہو جائیں

حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الْأَسَدِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَذْکُرُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَذْکُرْ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ وَزَادَ فَکُنَّا نَرَاهُ يَمْشِي بَيْنَ أَظْهُرِنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ

ہریم بن عبدالاعلی اسدی، معتمر بن سلیمان، انس سے روایت ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور حضرت سعد بن معاذ ؓ کا اس حدیث میں بھی ذکر نہیں صرف اتنا زائد ہے کہ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ثابت بن قیس ؓ کو اپنے درمیان پا کر یہ سمجھتے تھے کہ ہمارے درمیان ایک جنتی آدمی چل رہا ہے۔

This hadith is narrated on the authority of Anas by another chain of transmitters in which there is no mention of Sad bin Muadh, but the following words are there: We observed a man, one of the dwellers of Paradise, walking about amongst us.

318Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ کیا زمانہ جاہلیت میں کئے گئے اعمال پر مواخذہ ہوگا

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ أُنَاسٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ أَمَّا مَنْ أَحْسَنَ مِنْکُمْ فِي الْإِسْلَامِ فَلَا يُؤَاخَذُ بِهَا وَمَنْ أَسَائَ أُخِذَ بِعَمَلِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَالْإِسْلَامِ

عثمان بن ابی شیبہ، جریر، منصور، ابی وائل، عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ اللہ کے رسول ﷺ کیا ہم سے ان اعمال پر مواخذہ ہوگا جو ہم سے جاہلیت کے زمانے میں سرزد ہوئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جس نے سچے دل سے اسلام قبول کرلیا تو اس کا مواخذہ نہیں ہوگا اور جس نے سچے دل سے اسلام قبول نہ کیا بلکہ بظاہر مسلمان اور باطن میں کافر تو اس سے دور جاہلیت اور دور اسلام دونوں کے اعمال کے بارے میں مواخذہ ہوگا۔

It is narrated on the authority of Abdullah bin Masud that some people said to the Messenger of Allah ﷺ : Messenger of Allah, would we be held responsible for our deeds committed in the state of ignorance (before embracing Islam)? Upon his he (the Holy Prophet) remarked: He who amongst you performed good deeds in Islam, He would not be held responsible for them (misdeeds which he committed in ignorance) and he who committed evil (even after embracing Islam) would be held responsible or his misdeeds that he committed in the state of ignorance as well as in that of Islam.

319Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ کیا زمانہ جاہلیت میں کئے گئے اعمال پر مواخذہ ہوگا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَمَنْ أَسَائَ فِي الْإِسْلَامِ أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابی وکیع، ابوبکر بن ابی شیبہ۔ وکیع، اعمش ابو وائل، عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا ہم سے جاہلیت کے زمانہ میں کئے گئے اعمال کے بارے میں مواخذہ ہوگا آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے سچے دل سے اسلام قبول کیا اس سے جاہلیت والے اعمال کے بارے میں باز پرس نہیں ہوگی اور جس نے سچے دل سے اسلام قبول نہ کیا صرف دکھلاوے کے لئے قبول کیا اس سے زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام دونوں اعمال کے بارے میں باز پرس ہوگی۔

It is narrated on the authority of Abdullah bin Masud: We once said: Messenger of Allah, would we be held responsible for our deeds committed in the state of ignorance? He (the Holy Prophet) observed: He who did good deeds in Islam would not be held responsible for what he did in the state of ignorance, but he who committed evil (after having come within the fold of Islam) would be held responsible for his previous and later deeds.

320Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ کیا زمانہ جاہلیت میں کئے گئے اعمال پر مواخذہ ہوگا

حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

منجاب بن حارث تمیمی، علی بن مسہر، اعمش، ایک دوسری سند سے بھی اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been transmitted by Minjab bin al-Harith Tamimi with the same chain of transmitters.

321Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ اسلام اور حج اور ہجرت پہلے گناہوں کو مٹادیتے ہیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ کُلُّهُمْ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ قَالَ أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ ابْنِ شِمَاسَةَ الْمَهْرِيِّ قَالَ حَضَرْنَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَهُوَ فِي سِيَاقَةِ الْمَوْتِ فَبَکَی طَوِيلًا وَحَوَّلَ وَجْهَهُ إِلَی الْجِدَارِ فَجَعَلَ ابْنُهُ يَقُولُ يَا أَبَتَاهُ أَمَا بَشَّرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِکَذَا أَمَا بَشَّرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِکَذَا قَالَ فَأَقْبَلَ بِوَجْهِهِ فَقَالَ إِنَّ أَفْضَلَ مَا نُعِدُّ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ إِنِّي کُنْتُ عَلَی أَطْبَاقٍ ثَلَاثٍ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَمَا أَحَدٌ أَشَدَّ بُغْضًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي وَلَا أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَکُونَ قَدْ اسْتَمْکَنْتُ مِنْهُ فَقَتَلْتُهُ فَلَوْ مُتُّ عَلَی تِلْکَ الْحَالِ لَکُنْتُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلَمَّا جَعَلَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ فِي قَلْبِي أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ ابْسُطْ يَمِينَکَ فَلْأُبَايِعْکَ فَبَسَطَ يَمِينَهُ قَالَ فَقَبَضْتُ يَدِي قَالَ مَا لَکَ يَا عَمْرُو قَالَ قُلْتُ أَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِطَ قَالَ تَشْتَرِطُ بِمَاذَا قُلْتُ أَنْ يُغْفَرَ لِي قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَهُ وَأَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا کَانَ قَبْلِهَا وَأَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَهُ وَمَا کَانَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَجَلَّ فِي عَيْنِي مِنْهُ وَمَا کُنْتُ أُطِيقُ أَنْ أَمْلَأَ عَيْنَيَّ مِنْهُ إِجْلَالًا لَهُ وَلَوْ سُئِلْتُ أَنْ أَصِفَهُ مَا أَطَقْتُ لِأَنِّي لَمْ أَکُنْ أَمْلَأُ عَيْنَيَّ مِنْهُ وَلَوْ مُتُّ عَلَی تِلْکَ الْحَالِ لَرَجَوْتُ أَنْ أَکُونَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ثُمَّ وَلِينَا أَشْيَائَ مَا أَدْرِي مَا حَالِي فِيهَا فَإِذَا أَنَا مُتُّ فَلَا تَصْحَبْنِي نَائِحَةٌ وَلَا نَارٌ فَإِذَا دَفَنْتُمُونِي فَشُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ شَنًّا ثُمَّ أَقِيمُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدْرَ مَا تُنْحَرُ جَزُورٌ وَيُقْسَمُ لَحْمُهَا حَتَّی أَسْتَأْنِسَ بِکُمْ وَأَنْظُرَ مَاذَا أُرَاجِعُ بِهِ رُسُلَ رَبِّي

محمد بن مثنی عنزی، ابومعن، اسحاق بن منصور، ابوعاصم، ابن مثنی، ضحاک، ابوعاصم، حیوہ بن شریح، یزید بن ابی حبیب، ابن شماسہ کہ ہم عمرو بن العاص ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے جب وہ مرض الموت میں مبتلا تھے وہ بہت دیر تک روتے رہے اور چہرہ مبارک دیوار کی طرف پھیرلیا ان کے بیٹے ان سے کہہ رہے تھے کہ اے ابا جان کیوں رو رہے ہیں کیا اللہ کے رسول ﷺ نے آپ ﷺ کو یہ بشارت نہیں سنائی؟ حضرت عمرو بن العاص ؓ ادھر متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ ہمارے نزدیک سب سے افضل عمل اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوائے کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور مجھ پر تین دور گزرے ہیں ایک دور تو وہ ہے جو تم نے دیکھا کہ میرے نزدیک اللہ کے رسول ﷺ سے زیادہ کوئی مبغوض نہیں تھا اور مجھے یہ سب سے زیادہ پسند تھا کہ آپ ﷺ پر قابو پا کر آپ ﷺ کو قتل کر دوں اگر میری موت اس حالت میں آجاتی تو میں دوزخی ہوتا پھر جب اللہ نے میرے دل میں اسلام کی محبت ڈالی تو میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! اپنا دایاں ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کروں، آپ ﷺ نے فرمایا اے عمرو کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ایک شرط ہے آپ ﷺ نے فرمایا کیا شرط ہے؟ میں نے عرض کیا کہ یہ شرط کہ کیا میرے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اے عمرو کیا تو نہیں جانتا کہ اسلام لانے سے اس کے گزشتہ سارے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں اور ہجرت سے اس کے سارے گذشتہ اور حج کرنے سے بھی اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں؟ اور رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر مجھے کسی سے محبت نہیں تھی اور نہ ہی میری نظر میں آپ ﷺ سے زیادہ کسی کا مقام تھا اور آپ ﷺ کی عظمت کی وجہ سے مجھ میں آپ ﷺ کو بھر پور نگاہ سے دیکھنے کی سکت نہ تھی اور اگر کوئی مجھ سے آپ ﷺ کی صورت مبارک کے متعلق پوچھتے تو میں بیان نہیں کرسکتا کیونکہ میں آپ ﷺ کو بوجہ عظمت و جلال دیکھ نہ سکا، اگر اس حال میں میری موت آجاتی تو مجھے جنتی ہونے کی امید تھی پھر اس کے بعد ہمیں کچھ ذمہ داریاں دی گئیں اب مجھے پتہ نہیں کہ میرا کیا حال ہوگا پس جب میرا انتقال ہوجائے تو میرے جنازے کے ساتھ نہ کوئی رونے والی ہو اور نہ آگ ہو جب تم مجھے دفن کردو تو مجھ پر مٹی ڈال دینا اس کے بعد میری قبر کے اردگرد اتنی دیر ٹھہر نا جتنی دیر میں اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ تمہارے قرب سے مجھے انس حاصل ہو اور میں دیکھ لوں کہ میں اپنے رب کے فرشتوں کو کیا جواب دیتا ہوں۔

It is narrated on the authority of Ibn Shamasa Mahri that he said: We went to Amr bin al-As and he was about to die. He wept for a long time and turned his face towards the wall. His son said: Did the Messenger of Allah ﷺ (may peace be upon him not give you tidings of this? Did the Messenger of Allah ﷺ not give you tidings of this? He (the narrator) said: He turned his face (towards the audience) and said: The best thing which we can count upon is the testimony that there is no god but Allah and that Muhammad is the Apostle of Allah ﷺ . Verily I have passed through three phases. (The first one) in which I found myself averse to none else more than I was averse to the Messenger of Allah ﷺ and there was no other desire stronger in me than the one that I should overpower him and kill him. Had I died in this state, I would have been definitely one of the denizens of Fire. When Allah instilled the love of Islam in my heart, I came to the Apostle ﷺ and said: Stretch out your right hand so that may pledge my allegiance to you. He stretched out his right hand, I withdrew my hand, He (the Holy Prophet) said: What has happened to you, O Amr? replied: I intend to lay down some condition. He asked: What condition do you intend to put forward? I said: should be granted pardon. He (the Holy Prophet) observed: Are you not aware of the fact that Islam wipes out all the previous (misdeeds)? Verily migration wipes out all the previous (misdeeds), and verily the pilgrimage wipes out all the (previous) misdeeds. And then no one as or dear to me than the Messenger of Allah ﷺ and none was more sublime in my eyes than he, Never could I, pluck courage to catch a full glimpse of his face due to its splendour. So if I am asked to describe his features, I cannot do that for I have not eyed him fully. Had I died in this state had every reason to hope that I would have bee among the dwellers of Paradise. Then we were responsible for certain things (in the light of which) I am unable to know what is in store for me. When I die, let neither female mourner nor fire accompany me. When you bury me, fill my grave well with earth, then stand around it for the time within which a camel is slaughtered and its meat is distributed so that I may enjoy your intimacy and (in your company) ascertain what answer I can give to the messengers (angels) of Allah.