Sahih Muslim

All 7,570 hadiths in order · Page 17 of 379

322Sahih Muslim

اس بات کے بیان میں کہ اسلام اور حج اور ہجرت پہلے گناہوں کو مٹادیتے ہیں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ وَاللَّفْظُ لِإِبْرَاهِيمَ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَی بْنُ مُسْلِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْکِ قَتَلُوا فَأَکْثَرُوا وَزَنَوْا فَأَکْثَرُوا ثُمَّ أَتَوْا مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا إِنَّ الَّذِي تَقُولُ وَتَدْعُو لَحَسَنٌ وَلَوْ تُخْبِرُنَا أَنَّ لِمَا عَمِلْنَا کَفَّارَةً فَنَزَلَ وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِکَ يَلْقَ أَثَامًا وَنَزَلَ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَی أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ

محمد بن حاتم بن میمون، ابراہیم بن دینار، ابراہیم، حجاج، بن محمد، ابن جریج، یعلی بن مسلم، سعید بن جبیر، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ مشرکین میں سے کچھ لوگوں نے بہت سے قتل کئے تھے اور کثرت سے زنا کا ارتکاب بھی کیا تھا، وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ آپ ﷺ جو کچھ فرماتے ہیں اور جس بات کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ بہت اچھا ہے اگر آپ ﷺ ہمارے گناہوں کا کفارہ بتلا دیں جو ہم نے کئے ہیں تو ہم مسلمان ہوجائیں، اس پر یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں اور جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کی عبادت نہیں کرتے اور جس آدمی کے قتل کرنے کو اللہ نے حرام کیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے ہاں مگر حق کے ساتھ اور وہ زنا نہیں کرتے اور جوا ی سے کام کرے گا تو سزا سے اس کو سابقہ پڑے گا سورت الفرقان اور یہ آیت نازل ہوئی اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانون پر زیادتی کی ہے وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔

It is narrated on the authority of Ibn Abbas that some persons amongst the polytheist had committed a large number of murders and had excessively indulged in fornication. Then they came to Muhammad ﷺ and said: Whatever you assert and whatever you call to is indeed good. But if you inform us that there is atonement of our past deeds (then we would embrace Islam). Then it was revealed: And those who call not unto another god along with Allah and slay not any soul which Allah has forbidden except in the cause of justice, nor commit fornication; and he who does this shall meet the requital of sin. Multiplied for him shall be the torment on the Day of Resurrection, and he shall therein abide disgraced, except him who repents a believes and does good deeds. Then these! for the Allah shall change their vices into virtues. Verily Allah is Ever Forgiving, Merciful (xxv. 68-70). Say thou: O my bondsmen woo have committed extravagance against themselves despair not of the Mercy of Allah I Verily Allah will forgive the sins altogether. He is indeed the Forgiving, the Merciful (xxxix. 53).

323Sahih Muslim

اسلام لانے کے بعد کافر کے گزشتہ نیک اعمال کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ حَکِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ أُمُورًا کُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ هَلْ لِي فِيهَا مِنْ شَيْئٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمْتَ عَلَی مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْرٍ وَالتَّحَنُّثُ التَّعَبُّدُ

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حکیم بن حزام کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ میں نے جاہلیت کے زمانے میں جو نیک کام کئے کیا ان میں میرے لئے کچھ اجر ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اسلام لائے ان نیکیوں پر جو تم کرچکے ہو، (یعنی ان کا بھی ثواب ملے گا) تحنث کے معنی عبادت کے ہیں یعنی گناہ سے نفرت اور غیر اللہ کی عبادت سے توبہ کرنا۔

Hakim bin Hizam reported to Urwa bin Zubair that he said to the Messenger of Allah: Do you think that there is any thing for me (of he reward with the Lord) for the deed of religious purification that I did in the state of ignorance? Upon this he (the Apostle of Allah ﷺ ) said to him: You accepted Islam with all the previous virtues that you practised.

324Sahih Muslim

اسلام لانے کے بعد کافر کے گزشتہ نیک اعمال کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا وَقَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ حَکِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ أُمُورًا کُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ صَدَقَةٍ أَوْ عَتَاقَةٍ أَوْ صِلَةِ رَحِمٍ أَفِيهَا أَجْرٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمْتَ عَلَی مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْرٍ

حسن حلوانی، عبد بن حمید، یعقوب ابن ابراہیم بن سعد، ابن سعد، صالح، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حکیم بن حزام ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول آپ ان کاموں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ جو میں نے جاہلیت کے زمانے میں ( یعنی اسلام لانے سے پہلے) مثلا صدقہ و خیرات یا غلام آزاد کرنا یا رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرنا کئے تھے ان کاموں میں مجھے اجر ملے گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم اسی نیکی پر اسلام لائے جو تم پہلے کرچکے ہو۔

Hakim bin Hizam reported to Urwa bin Zubair that he said to the Messenger of Allah ﷺ : Messenger of Allah, do you think if there is any reward (of the Lord with me on the Day of Resurrection) for the deeds of religious purification that I performed in the state of ignorance, such as charity, freeing a slave, cementing of blood-relations? Upon this he (the Apostle of Allah ﷺ ) said to him: You have accepted Islam with all the previous virtues that you had practised.

325Sahih Muslim

اسلام لانے کے بعد کافر کے گزشتہ نیک اعمال کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَکِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَشْيَائَ کُنْتُ أَفْعَلُهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ هِشَامٌ يَعْنِي أَتَبَرَّرُ بِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمْتَ عَلَی مَا أَسْلَفْتَ لَکَ مِنْ الْخَيْرِ قُلْتُ فَوَاللَّهِ لَا أَدَعُ شَيْئًا صَنَعْتُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِلَّا فَعَلْتُ فِي الْإِسْلَامِ مِثْلَهُ

اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، اسحاق بن ابراہیم، ابومعاویہ، ہشام بن عروہ، حکیم بن حزام کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ چند کام ایسے بھی ہیں جنہیں میں جاہلیت کے زمانہ میں بھی کرتا تھا، راوی ہشام کہتے ہیں کہ نیک کام کرتا تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تو ان نیکیوں پر اسلام لایا ہے جو تو نے اسلام لانے سے پہلے کی ہیں، میں نے عرض کیا اللہ کی قسم میں ان نیکیوں کو نہیں چھوڑوں گا جو میں جاہلیت کے زمانہ میں کرتا تھا اور زمانہ اسلام میں بھی اسی طرح نیک کام کرتا رہوں گا۔

It is narrate on the authority of Hakim bin Hizam: I said: Messenger of Allah, I did so some of the deeds in the state of ignorance. (One of the transmitters Hisham bin Urwa explained them as acts of piety. Upon this the Messenger, of Allah remarked: You have embraced Islam with all the previous acts of virtue. I said: By God, I would leave nothing undone in Islam the like of which I did in the state of ignorance.

326Sahih Muslim

اسلام لانے کے بعد کافر کے گزشتہ نیک اعمال کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ حَکِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَعْتَقَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِائَةَ رَقَبَةٍ وَحَمَلَ عَلَی مِائَةِ بَعِيرٍ ثُمَّ أَعْتَقَ فِي الْإِسْلَامِ مِائَةَ رَقَبَةٍ وَحَمَلَ عَلَی مِائَةِ بَعِيرٍ ثُمَّ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ہشام بن عروہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت حکیم بن حزام ؓ نے اسلام لانے سے قبل زمانہ جاہلیت میں سو غلاموں کو آزاد کیا اور سو اونٹ اللہ کے راستے میں سواری کی خاطر دئیے تھے اس کے بعد پھر جب انہوں نے اسلام قبول کرلیا تو سو اونٹوں کو آزاد کیا اور مزید سو اونٹ اللہ کے راستے میں سواری کی خاطر دئیے پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے پھر وہی حدیث بیان کی گئی جو ذکر کی گئی۔

Hisham bin Urwa narrated it on the authority of his father: Hakim bin Hizam freed one hundred slave and donated one hundred camels (for the sake of Allah) during the state of ignorance. Then he freed one hundred slaves and donated one hundred camel (for the sake of Allah) after) he had embraced Islam. He subsequently came to the Apostle ﷺ . The rest of the hadith is the same as narrated above.

327Sahih Muslim

سچے دل سے ایمان لانے اور اس کے اخلاص کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ شَقَّ ذَلِکَ عَلَی أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالُوا أَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ هُوَ کَمَا تَظُنُّونَ إِنَّمَا هُوَ کَمَا قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِکْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس، ابومعاویہ، وکیع، اعمش، ابراہیم، علقمہ، عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ( اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْ ا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰ ى ِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ ) 6۔ الانعام: 82) (وہ لوگ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کو نہیں ملایا) تو اللہ کے رسول ﷺ کے صحابہ پر یہ بات شاق گزری تو آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے اپنے نفس پر ظلم نہ کیا ہو (یعنی اس سے گناہ نہ ہوا ہو) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کا مطلب یہ نہیں جو تم خیال کر رہے ہو اس آیت میں ظلم کا مطلب وہ ہے جو حضرت لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ اے میرے بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا نا کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔

It is narrated on the authority of Abdullah (b. Masud) that when this verse was revealed:" It is those who believe and confound not their belief with wrongdoing" (vi. 82), the Companions of the Messenger of Allah ﷺ wore greatly perturbed. They said: Who amongst us (is so fortunate) that he does not wrong himself? Upon this the Messenger of Allah ﷺ remarked: It does not mean that which you presume It implies that which Luqman said to his son: O my son, do not associate anything with Allah, for indeed it is the gravest wrongdoing (xxxi. 13).

328Sahih Muslim

سچے دل سے ایمان لانے اور اس کے اخلاص کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ أَبُو کُرَيْبٍ قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ حَدَّثَنِيهِ أَوَّلًا أَبِي عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ عَنْ الْأَعْمَشِ ثُمَّ سَمِعْتُهُ مِنْهُ

اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم، عیسیٰ ابن یونس، منجاب بن حارث تمیمی، ابن مسہر، ابوکریب، ابن ادریس، اعمش، ابوکریب ایک دوسری سند میں یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith is narrated by another chain of transmitters, (namely) lshaq bin Ibrahim. Ibn Idris says: My father transmitted it from Aban bin Taghlib who heard it from Amash; then I heard it also from him (Amash).

329Sahih Muslim

اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہوجائیں اور اللہ پاک کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور اس بات کے بیان میں کہ نیکی اور گناہ کے ارادے کا کیا حکم ہے۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ وَأُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ وَاللَّفْظُ لِأُمَيَّةَ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِکُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْکُمْ بِهِ اللَّهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَائُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَائُ وَاللَّهُ عَلَی کُلِّ شَيْئٍ قَدِيرٌ قَالَ فَاشْتَدَّ ذَلِکَ عَلَی أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بَرَکُوا عَلَی الرُّکَبِ فَقَالُوا أَيْ رَسُولَ اللَّهِ کُلِّفْنَا مِنْ الْأَعْمَالِ مَا نُطِيقُ الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ وَالْجِهَادَ وَالصَّدَقَةَ وَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيْکَ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَا نُطِيقُهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُرِيدُونَ أَنْ تَقُولُوا کَمَا قَالَ أَهْلُ الْکِتَابَيْنِ مِنْ قَبْلِکُمْ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا بَلْ قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَإِلَيْکَ الْمَصِيرُ قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَإِلَيْکَ الْمَصِيرُ فَلَمَّا اقْتَرَأَهَا الْقَوْمُ ذَلَّتْ بِهَا أَلْسِنَتُهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي إِثْرِهَا آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ کُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِکَتِهِ وَکُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَإِلَيْکَ الْمَصِيرُ فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِکَ نَسَخَهَا اللَّهُ تَعَالَی فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُکَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اکْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا قَالَ نَعَمْ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَهُ عَلَی الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا قَالَ نَعَمْ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ قَالَ نَعَمْ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِينَ قَالَ نَعَمْ

محمد بن منہال، ضریر، امیہ بن بسطام، یزید بن زریع، روح، ابن قاسم، علاء، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جب اللہ کے رسول ﷺ پر یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں کہ اللہ ہی کی ملک میں ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور جو باتیں تمہارے نفسوں میں ہیں اگر تم ان کو ظاہر کروگے یا چھپاؤ گے اللہ تعالیٰ تم سے حساب لیں گے جسے چاہیں گے معاف فرما دیں گے اور جسے چاہیں گے عذاب دیں گے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، تو صحابہ کرام ؓ پر یہ آیات کریمہ گراں گزریں وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر یعنی دو زانو ہو کر آپ ﷺ سے عرض کرنے لگے اے اللہ کے رسول ﷺ ہمیں ان اعمال کے کرنے کا مکلف بنایا گیا ہے جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے نماز روزہ جہاد اور صدقہ تو آپ ﷺ پر یہ آیات نازل ہوئیں جس میں ذکر کئے گئے احکام کی ہم طاقت نہیں رکھتے (یعنی دل میں کوئی وسوسہ نہ آنے پائے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم یہ کہنا چاہتے ہو جس طرح تم سے پہلے اہل کتاب کہہ چکے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور نافرمانی کی ( اس پر عمل نہیں کریں گے) بلکہ تم اس طرح کہو کہ ہم نے آپ ﷺ کا فرمان سن لیا اور ہم نے بخوشی مان لیا۔ ہم آپ سے مغفرت چاہتے ہیں اے پروردگار اور آپ ہی کی طرف لوٹنا ہے، صحابہ کرام ؓ نے کہا (سَمِعنَا وَاَطَعنَا غُفرَانَکَ رَبَّنَا وَاِلَیکَ المَصَیِر) صحابہ کرام ؓ کے یہ کہنے کے فورا بعد ہی یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں، ایمان لائے رسول اس چیز پر جو ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے نازل کی گئی اور مومنین بھی سارے کے سارے ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پر ہم اس کے تمام رسولوں میں سے کسی میں تفریق نہیں کرتے اور ان سب نے یوں کہا ہم نے سن لیا آپ ﷺ کا فرمان اور ہم نے خوشی سے مان لیا ہم آپ سے مغفرت چاہتے ہیں اے ہمارے رب اور آپ ہی کی طرف لوٹنا ہے، جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت (وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِيْ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ ) 2۔ البقرۃ: 386) منسوخ فرما کر یہ آیات نازل فرمائیں (لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا اِنْ نَّسِيْنَا اَوْ اَخْطَاْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَه عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِه وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْ صُرْنَا عَلَي الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ ) 2۔ البقرۃ: 286) سورت البقرہ کے آخری رکوع تک اللہ تعالیٰ کسی کو مکلف نہیں بناتا مگر جو اس کی طاقت اور اختیار میں ہو اس کو ثواب بھی اسی کا ملے گا جو وہ ارادے سے کرے اور اسے سزا بھی اسی کی ملے گی جو وہ ارادے سے کرے اے ہمارے پروردگار ہمارا مواخذہ نہ فرمایا اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے غلطی ہوجائے، اللہ نے فرمایا اچھا! اے ہمارے پروردگار اور ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈالنا جس کی ہم کو طاقت نہ ہو، فرمایا اچھا اور ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما تو ہی ہمارا مالک ہے کافروں پر ہمیں غلبہ عطا فرما، اللہ نے فرمایا اچھا۔

It is reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that when it was revealed to the Messenger of Allah ﷺ : To Allah belongs whatever is in the heavens and whatever is in the earth and whether you disclose that which is in your mind or conceal it, Allah will call you to account according to it. Then He forgives whom He pleases and chastises whom He Pleases; and Allah is over everything Potent" (ii. 284). the Companions of the Messenger of Allah ﷺ felt it hard and severe and they came to the Messenger of Allah ﷺ and sat down on their knees and said: Messenger of Allah, we were assigned some duties which were within our power to perform, such as prayer, fasting, struggling (in the cause of Allah), charity. Then this (the above-mentioned) verse was revealed unto you and it is beyond our power to live up to it. The Messenger of Allah ﷺ said: Do you intend to say what the people of two books (Jews and Christians) said before you:" We hear and disobey"? You should rather say:" We hear and we obey, (we seek) Thy forgiveness, our Lord! and unto Thee is the return." And they said:" We hear and we obey, (we seek) Thy forgiveness, Our Lord! and unto Thee is the return." When the people recited it and it smoothly flowed on their tongues, then Allah revealed immediately afterwards:" The Apostle ﷺ believes in that which is sent down unto him from his Lord, and so do the believers. Each one believes in Allah and His Angels and His Books and His Apostles, saying: We differentiate not between any of His Apostles and they say: We hearken and we obey: (we seek) Thy forgiveness, our Lord! and unto Thee is the return" (ii. 285). When they did that, Allah abrogated this (verse) and the Great, Majestic Allah revealed:" Allah burdens not a soul beyond its capacity. It gets every good that it earns and it suffers every ill that it earns. Our Lord, punish us not if we forget or make a mistake." (The Prophet ﷺ said:) Yes, our Lord! do not lay on us a burden as Thou didst lay on those before us. (The Prophet ﷺ said:) Yes, our Lord, impose not on us (burdens) which we have not the strength to bear (The Prophet ﷺ said:) Yes, and pardon us and grant us protection! and have mercy on us. Thou art our Patron, so grant us victory over the disbelieving people" (ii. 286). He (the Lord) said: Yes.

330Sahih Muslim

اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہوجائیں اور اللہ پاک کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور اس بات کے بیان میں کہ نیکی اور گناہ کے ارادے کا کیا حکم ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ مَوْلَی خَالِدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِکُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْکُمْ بِهِ اللَّهُ قَالَ دَخَلَ قُلُوبَهُمْ مِنْهَا شَيْئٌ لَمْ يَدْخُلْ قُلُوبَهُمْ مِنْ شَيْئٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَسَلَّمْنَا قَالَ فَأَلْقَی اللَّهُ الْإِيمَانَ فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی لَا يُکَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اکْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا قَالَ قَدْ فَعَلْتُ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا کَمَا حَمَلْتَهُ عَلَی الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا قَالَ قَدْ فَعَلْتُ وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا قَالَ قَدْ فَعَلْتُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، اسحاق بن ابراہیم، وکیع، سفیان، آدم بن سلیمان، خالد، سعید بن جبیر، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت کریمہ مغفرت چاہتے ہیں اے ہمارے رب اور آپ ہی کی طرف لوٹنا ہے، جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت (وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِيْ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ ) 2۔ البقرۃ: 386) ( سورت البقرہ) نازل ہوئی اور اگر تم ظاہر کرو یا چھپاؤ جو کچھ تمہارے نفسوں میں ہے اللہ تعالیٰ تم سے اس کا حساب لیں گے تو صحابہ ؓ کے دلوں میں ایسا ڈر پیدا ہوا کہ اس سے پہلے کسی چیز سے ان کے دلوں میں ایسا ڈر پیدا نہیں ہوا تھا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم کہو کہ ہم نے سن لیا اور ہم نے اطاعت کی اور ہم نے مان لیا پس اللہ تعالیٰ نے ایمان کو ان کے دلوں میں ڈال دیا پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ( لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ الخ۔ ) 2۔ البقرۃ: 286) کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں کرتے ہر آدمی کو اس کے نیک اعمال پر اور برے اعمال پر سزا ملے گی اے پروردگار اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کر جائیں تو ہمارا موخذہ نہ فرمانا اللہ عزوجل نے فرمایا میں نے کردیا، اے ہمارے پروردگار ہم پر کوئی ایسا بوجھ (دنیا وآخرت میں) نہ ڈالنا جس طرح ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے کردیا، ہمیں معاف فرما اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما تو ہی ہمارا مالک ہے اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا میں نے کردیا۔

It is narrated on the authority of Ibn Abbas (RA) : When this verse:" Whether you disclose that which is in your mind or conceal it, Allah will call you to account according to it" (ii 284), there entered in their minds something (of that fear) such as had never entered their hearts (before). The Apostle ﷺ observed: Say: We have heard and obeyed and submitted ourselves. He (the reporter) said: Allah instilled faith in their hearts and He revealed this verse:" Allah burdens not a soul beyond its capacity. It gets every good that it earns and it suffers every ill that it earns. Our Lord, call us not to account if we forget or make a mistake. He the (Lord) said: I indeed did it. Our Lord! do not lay on us a burden as Thou didst lay on those before us. He (our Lord) said: I indeed did it. And pardon us, have mercy on us. Thou art our Protector" (ii. 286). He said: I indeed did it.

331Sahih Muslim

اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وُمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي مَا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ يَتَکَلَّمُوا أَوْ يَعْمَلُوا بِهِ

سعید بن منصور، قتیبہ بن سعید، محمد بن عبید، سعید، ابوعوانہ، قتادہ، زرارہ بن اوفی، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لوگوں سے جو ان کے نفسوں میں وسوسے پیدا ہوتے ہیں جب تک کہ ان کا کلام نہ کریں یا جب تک کہ ان پر عمل نہ کریں معاف کردیا ہے۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ observed: Verily Allah forgave my people the evil promptings which arise within their hearts as long as they did not speak about them or did not act upon them.

332Sahih Muslim

اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ کُلُّهُمْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ أَوْ تَکَلَّمْ بِهِ

عمرو ناقد، زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن مسہر، عبدہ بن سلیمان، ابن مثنی، ابن بشار، ابن ابی عدی، سعید بن ابوعروہ، قتادہ، زرارہ بن اوفی، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دلوں میں پیدا ہونے والے وساوس و خیالات کو معاف کردیا ہے جب تک کہ ان پر عمل پیرا نہ ہوں یا کلام نہ کریں۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ observed: Verily the Great and Mighty Allah forgave my people the evil promptings arising in their minds, but they neither talked about them nor acted upon them.

333Sahih Muslim

اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ وَهِشَامٌ ح و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ شَيْبَانَ جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

زہیر بن حرب، وکیع، مسعر، ہشام، اسحاق بن منصور، حسین بن علی، زائدہ، شیبان، قتادہ ؓ سے یہ روایت بھی اسی طرح روایت کی گئی ہے۔

The same hadith has been narrated by Zuhair bin Harb, Waki, Ishaq bin Mansur, Husain bin Ali.

334Sahih Muslim

اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا هَمَّ عَبْدِي بِسَيِّئَةٍ فَلَا تَکْتُبُوهَا عَلَيْهِ فَإِنْ عَمِلَهَا فَاکْتُبُوهَا سَيِّئَةً وَإِذَا هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا فَاکْتُبُوهَا حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا فَاکْتُبُوهَا عَشْرًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، سفیان، ابن عیینہ، ابی زناد، اعرج، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میرا بندہ کسی گناہ کا ارادہ کرے تو اسے اس کے نامہ اعمال میں نہ لکھو اگر وہ اس پر عمل کرے تو ایک گناہ لکھو اور جب کسی نیکی کا ارادہ کرے لگے اس نیکی پر عمل نہ کرے تو اس کے نامہ اعمال میں ایک نیکی لکھو اور اگر اس نیکی پر عمل کرلے تو اس کی ایک نیکی کے بدلہ میں اس کے نامہ اعمال میں دس نیکیاں لکھو۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: The Great and the Glorious Lord said (to angels): Whenever My bondsman intends to corn it an evil, do not record it against him, but if he actually commits it, then write it as one evil. And when he intends to do good but does not do it, then take it down is one act of goodness, but if he does it, then write down ten good deeds (in his record).

335Sahih Muslim

اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا هَمَّ عَبْدِي بِحَسَنَةٍ وَلَمْ يَعْمَلْهَا کَتَبْتُهَا لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا کَتَبْتُهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَی سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ وَإِذَا هَمَّ بِسَيِّئَةٍ وَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ أَکْتُبْهَا عَلَيْهِ فَإِنْ عَمِلَهَا کَتَبْتُهَا سَيِّئَةً وَاحِدَةً

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ ابن حجر، اسماعیل، ابن جعفر، علاء، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب میرا بندہ نیکی کا ارادہ کرتا ہے اور اس پر عمل نہیں کرتا تو میں اس کے لئے ایک نیکی لکھتا ہوں اگر اس نیکی پر عمل کرلے تو میں دس گنا نیکیوں سے سات سو گنا نیکیوں تک لکھتا ہوں اور جب گناہ کا ارادہ کرے اور اس گناہ پر عمل نہ کرے تو میں اس کا گناہ نہیں لکھتا اگر وہ اس گناہ پر عمل کرلے تو میں ایک ہی گناہ لکھتا ہوں۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ observed: Allah, the Great and Glorious, said: Whenever my bondsman intends to do good, but does not do it, I write one good act for him, but if he puts it into practice I wrote from ten to seven hundred good deeds in favour of him. When he intends to commit an evil, but does not actually do it, do not record it. But if he does it, I write only one evil.

336Sahih Muslim

اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا تَحَدَّثَ عَبْدِي بِأَنْ يَعْمَلَ حَسَنَةً فَأَنَا أَکْتُبُهَا لَهُ حَسَنَةً مَا لَمْ يَعْمَلْ فَإِذَا عَمِلَهَا فَأَنَا أَکْتُبُهَا بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَإِذَا تَحَدَّثَ بِأَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً فَأَنَا أَغْفِرُهَا لَهُ مَا لَمْ يَعْمَلْهَا فَإِذَا عَمِلَهَا فَأَنَا أَکْتُبُهَا لَهُ بِمِثْلِهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ الْمَلَائِکَةُ رَبِّ ذَاکَ عَبْدُکَ يُرِيدُ أَنْ يَعْمَلَ سَيِّئَةً وَهُوَ أَبْصَرُ بِهِ فَقَالَ ارْقُبُوهُ فَإِنْ عَمِلَهَا فَاکْتُبُوهَا لَهُ بِمِثْلِهَا وَإِنْ تَرَکَهَا فَاکْتُبُوهَا لَهُ حَسَنَةً إِنَّمَا تَرَکَهَا مِنْ جَرَّايَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَحْسَنَ أَحَدُکُمْ إِسْلَامَهُ فَکُلُّ حَسَنَةٍ يَعْمَلُهَا تُکْتَبُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَی سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ وَکُلُّ سَيِّئَةٍ يَعْمَلُهَا تُکْتَبُ بِمِثْلِهَا حَتَّی يَلْقَی اللَّهَ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، ابوہریرہ ؓ حضرت محمد ﷺ سے کچھ احادیث ذکر فرما رہے تھے ان میں سے ایک نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب میرا بندہ کسی نیک کام کا ارادہ کرتا ہے تو میں اس کے لئے ایک نیکی لکھتا ہوں جب تک کہ اس پر عمل نہ کرے جب اسپر عمل کرے تو میں ایک نیکی کے بدلہ دس نیکیاں لکھتا ہوں اور جب کسی گناہ کے کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو میں اسے معاف کردیتا ہوں جب تک کہ اس پر عمل نہ کرے اور جب اس گناہ پر عمل کرے تو ایک ہی گناہ لکھتا ہوں اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی سچے دل سے اسلام قبول کرلیتا ہے تو اس کی ہر نیکی کو دس سے لے کر سات سو نیکیوں تک لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے پاس پہنچ جاتا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported that Muhammad, the Messenger of Allah ﷺ , said: When it occurs to my bondsman that he should do a good deed but he actually does not do it, record one good to him, but if he puts it into practice, I make an entry of ten good acts in his favour. When it occurs to him to do evil, but he does not commit it, I forgive that. But if he commits it, I record one evil against his name. The Messenger of Allah ﷺ observed. The angels said: That bondsman of Yours intends to commit evil. though His Lord is more Vigilant than he. Upon this He (the Lord) said: Watch him; if he commits (evil), write it against his name but if he refrains from doing it, write one good deed or him, for he desisted from doing it for My sake. The Messenger of Allah ﷺ said: He who amongst you is good of faith, all his good acts are multiplied from ten to seven hundred times (and are recorded in his name) and all the evils that he commits are recorded as such (i, e. without increase) till he meets Allah.

337Sahih Muslim

اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا کُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَعَمِلَهَا کُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا إِلَی سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُکْتَبْ وَإِنْ عَمِلَهَا کُتِبَتْ

ابوکریب، ابوخالد احمر، ہشام، ابن سیرین، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کوئی نیکی کا ارادہ کرے مگر اس پر عمل نہ کرے تو اس کے لئے اس کے نامہ اعمال میں ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور جو نیکی کا ارادہ کرنے کے ساتھ اس پر عمل بھی کرے تو اس کے لئے اس کے نامہ اعمال میں سات سو نیکیوں تک لکھی جاتی ہیں اور جس نے برائی کا ارادہ کیا مگر اس پر عمل نہ کیا تو اس کا گناہ نہیں لکھا جاتا اور اگر اس گناہ پر عمل کرلے تو ایک ہی گناہ لکھا جاتا ہے۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ observed: He who intended to do good, but did not do it, one good was recorded for him, and he who intended to do good and also did it, ten to seven hundred good deeds were recorded for him. And he who intended evil, but did not commit it, no entry was made against his name, but if he committed that, it was recorded.

338Sahih Muslim

اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَائٍ الْعُطَارِدِيُّ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی قَالَ إِنَّ اللَّهَ کَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ ثُمَّ بَيَّنَ ذَلِکَ فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا کَتَبَهَا اللَّهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً کَامِلَةً وَإِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا کَتَبَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إِلَی سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ إِلَی أَضْعَافٍ کَثِيرَةٍ وَإِنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا کَتَبَهَا اللَّهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً کَامِلَةً وَإِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا کَتَبَهَا اللَّهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً

شیبان بن فروخ، عبدالوارث جعدانی، ابورجاء، ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے پروردگار سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھیں پھر ان کو بیان فرمایا پس جس آدمی نے نیکی کا ارادہ کیا مگر اس پر عمل نہ کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں پوری ایک نیکی لکھیں گے اگر اس نیکی کے ارادے کے ساتھ اس پر عمل بھی کرے تو اللہ تعالیٰ دس نیکیوں سے لے کر سات سو نیکیوں تک بلکہ اس سے بھی زیادہ لکھیں گے اور اگر برائی کا ارادہ کرے اور اس پر عمل بھی کرے تو اللہ تعالیٰ ایک ہی برائی لکھتے ہیں۔

It is narrated on the authority of Ibn Abbas (RA) that the Messenger of Allah ﷺ transmitted it from the Blessed and Great Lord: Verily Allah recorded the good and the evil and then made it clear that he who intended good but did not do it, Allah recorded one complete good in his favour, but if he intended it and also did it, the Glorious and Great Allah recorded ten to seven hundred virtues and even more to his credit. But it he intended evil, but did not commit it, Allah wrote down full one good in his favour. If he intended that and also committed it, Allah made an entry of one evil against him.

339Sahih Muslim

اس چیز کے بیان میں کہ اللہ تعالیٰ نے دل میں آنے والے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جب تک کہ دل میں پختہ نہ ہو جائیں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَی حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ وَزَادَ وَمَحَاهَا اللَّهُ وَلَا يَهْلِکُ عَلَی اللَّهِ إِلَّا هَالِکٌ

یحییٰ بن یحیی، جعفر بن سلیمان، ابوعثمان، عبدالوارث ایک دوسری سند کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس گناہ کو بھی مٹا دیں گے اور عذاب میں وہی مبتلا ہوگا جس کے مقدر میں ہلاکت لکھی ہو۔

This hadith has been narrated with another chain of transmitters with the addition of these words: Allah would even wipe out (the evil committed by a man) and Allah does not put to destruction anyone except he who is doomed to destruction.

340Sahih Muslim

ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَائَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا مَا يَتَعَاظَمُ أَحَدُنَا أَنْ يَتَکَلَّمَ بِهِ قَالَ وَقَدْ وَجَدْتُمُوهُ قَالُوا نَعَمْ قَالَ ذَاکَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ

زہیر بن حرب، جریر، سہیل، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام ؓ میں سے کچھ لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگے کہ ہم اپنے دلوں میں کچھ خیالات ایسے پاتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ان کو بیان نہیں کرسکتا، آپ ﷺ نے فرمایا کیا واقعی تم اسی طرح پاتے ہو؟ (یعنی گناہ سمجھتے ہو) صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا جی ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا یہ تو واضح ایمان ہے۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that some people from amongst the Companions of the Apostle ﷺ came to him and said: Verily we perceive in our minds that which every one of us considers it too grave to express. He (the Holy Prophet) said: Do you really perceive it? They said: Yes. Upon this he remarked: That is the faith manifest.

341Sahih Muslim

ایمان کی حالت میں وسوے اور اس بات کا بیان میں کہ وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہئے ؟

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ

محمد بن بشار، ابن ابی عدی، شعبہ، محمد بن عمرو بن جبلہ بن ابی رواد، ابوبکر بن اسحاق، ابوجواب، عمار بن رزیق، اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ ایک دوسری سند سے حضرت ابوہریرہ ؓ نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے روایت فرمائی۔

It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that some people from amongst the Companions of the Apostle ﷺ came to him and said: Verily we perceive in our minds that which every one of us considers it too grave to express. He (the Holy Prophet) said: Do you really perceive it? They said: Yes. Upon this he remarked: That is the faith manifest. The same hadith has been transmitted by Muhammad bin Amr, Abu Baker bin Ishaq, Abul-Jawwab, Amash and Abu Hurairah (RA) .