نبی ﷺ کے فرمان کے بیان میں کہ جو ہم پر اسلحہ اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن براد، اشعری، ابوکریب، ابواسامہ برید، ابی بردہ ؓ حضرت ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
It is narrated on the authority of Abu Musa Ashari: He who took up arms against us is not of us.
نبی ﷺ کے فرمان کے بیان میں کہ جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ح و حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ کِلَاهُمَا عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا وَمَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا
قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن قاری، ابوالاحوص محمد بن حیان، ابن ابوحازم، سہیل بن ابی صالح، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے ہم پر (مسلمانوں پر) ہتھیار اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں اور جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ بھی ہم میں سے نہیں ہے۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ observed: He who took up arms against us is not of us and he who acted dishonestly towards us is not of us.
نبی ﷺ کے فرمان کے بیان میں کہ جس نے ہمیں دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں
حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلَائُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَی صُبْرَةِ طَعَامٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهَا فَنَالَتْ أَصَابِعُهُ بَلَلًا فَقَالَ مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ قَالَ أَصَابَتْهُ السَّمَائُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَفَلَا جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ کَيْ يَرَاهُ النَّاسُ مَنْ غَشَّ فَلَيْسَ مِنِّي
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن حجر، اسماعیل بن جعفر، ابن ایوب، علاء، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ غلہ کے ایک ڈھیر پر سے گزرے آپ ﷺ نے اس میں اپنا مبارک ہاتھ ڈالا تو انگلیاں تر ہوگئیں، آپ ﷺ نے غلہ کے مالک سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ یہ بارش کی وجہ سے بھیگ گیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم یہ تر حصہ اوپر نہیں کرسکتے تھے کہ لوگ اس کو دیکھ لیتے پھر فرمایا جس نے دھوکہ دیا ہو مجھ سے نہیں۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ happened to pass by a heap of eatables (corn). He thrust his hand in that (heap) and his fingers were moistened. He said to the owner of that heap of eatables (corn): What is this? He replied: Messenger of Allah, these have been drenched by rainfall. He (the Holy Prophet) remarked: Why did you not place this (the drenched part of the heap) over other eatables so that the people could see it? He who deceives is not of me (is not my follower).
منہ پر مارنے گریبان پھاڑنے اور جاہلیت کے زمانہ جیسی چیخ وپکار کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الْخُدُودَ أَوْ شَقَّ الْجُيُوبَ أَوْ دَعَا بِدَعْوَی الْجَاهِلِيَّةِ هَذَا حَدِيثُ يَحْيَی وَأَمَّا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو بَکْرٍ فَقَالَا وَشَقَّ وَدَعَا بِغَيْرِ أَلِفٍ
یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، و کی، ع ابن نمیر، اعمش، عبداللہ بن مرہ، مسروق، عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ ہم میں سے نہیں کہ جو اپنے منہ پر مارے اور گریبان پھاڑے یا زمانہ جاہلیت کی طرح چیخ و پکار کرے یہ حدیث یحییٰ سے اسی طرح روایت ہے اور ابن نمیر اور ابوبکر کی روایت بغیر الف کی شق اور دعا کے ہے۔
It is narrated on the authority of Abdullah bin Masud that the Holy Prophet ﷺ observed: He is not one of us (one among the Ummah of Islam) who beat the cheeks or tore the front opening of the shirt or uttered the slogans of (the days of) Jahiliya (ignorance). Ibn Numair and Abu Bakr (RA) said (instead of the word" au" (or) it is" wa" [and] the words are) and tore and uttered (the slogans) of Jahiliya without" alif".
منہ پر مارنے گریبان پھاڑنے اور جاہلیت کے زمانہ جیسی چیخ وپکار کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ جَمِيعًا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَا وَشَقَّ وَدَعَا
عثمان بن ابی شبیہ، جریر، اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، اعمش ایک دوسری سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated by Amash with the same chain of narrators and the transmitters said: He tore and called.
منہ پر مارنے گریبان پھاڑنے اور جاہلیت کے زمانہ جیسی چیخ وپکار کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی الْقَنْطَرِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمْزَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ حَدَّثَهُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَی قَالَ وَجِعَ أَبُو مُوسَی وَجَعًا فَغُشِيَ عَلَيْهِ وَرَأْسُهُ فِي حَجْرِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ فَصَاحَتْ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِهِ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شَيْئًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ أَنَا بَرِيئٌ مِمَّا بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِئَ مِنْ الصَّالِقَةِ وَالْحَالِقَةِ وَالشَّاقَّةِ
حکم بن موسیٰ قنطری، یحییٰ بن حمزہ، عبدالرحمن بن یزید بن جابر، قاسم بن مخیمرہ، ابوبردہ بن ابوموسی سے روایت ہے کہ وہ سخت بیمار ہوگئے اتنے سخت بیمار کہ غشی طاری ہوگئی اور آپ کا سر آپ ﷺ کی اہلیہ کی گود میں تھا اہلیہ یہ حالت دیکھ کر چلاّ پڑیں، حضرت ابوموسی ؓ اس وقت کچھ کہنے پر قادر نہ تھے پھر جب آپ کو اس سے افاقہ ہوا تو ان کو فرمایا کہ میں اس چیز سے بری ہوں جس سے رسول اللہ ﷺ نے برأت فرمائی بیشک رسول اللہ ﷺ نے مصیبت کے وقت چلانے والی اور بال مونڈنے والی اور گریبان پھاڑنے والی عورتوں سے برأت ظاہر فرمائی۔
It is narrated on the authority of Abu Burda bin Abu Musa that Abu Musa was afflicted with grave pain and he became unconscious and his head was in the lap of a lady of his household. One of the women of his household walled. He (Abu Musa) was unable (because of weakness) to say anything to her. But when he was a bit recovered he said: I have no concern with one with whom the Messenger of Allah ﷺ has no concern, Verily the Messenger of Allah ﷺ has no concern with that woman who wails loudly, shaves her hair and tears (her garment in grief).
منہ پر مارنے گریبان پھاڑنے اور جاہلیت کے زمانہ جیسی چیخ وپکار کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَا أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَخْرَةَ يَذْکُرُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ وَأَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَی قَالَا أُغْمِيَ عَلَی أَبِي مُوسَی وَأَقْبَلَتْ امْرَأَتُهُ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ قَالَا ثُمَّ أَفَاقَ قَالَ أَلَمْ تَعْلَمِي وَکَانَ يُحَدِّثُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنَا بَرِيئٌ مِمَّنْ حَلَقَ وَسَلَقَ وَخَرَقَ
عبد بن حمید، اسحاق بن منصور، جعفر بن عون، ابوعمیس، ابوصخرہ، عبدالرحمن بن یزید، ابی بردہ، ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابوموسی ؓ پر مرض کی شدت کی وجہ سے غشی طاری ہوگئی تو ان کی اہلیہ ام عبداللہ چلاّ اٹھیں حضرت ابوموسی ؓ کو جب افاقہ ہوا تو فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں اس سے بری ہوں جو بطور ماتم بال منڈوائے اور چلاّ کر روئے اور کپڑے پھاڑے۔
It is narrated on the authority of Abu Burda that Abu Musa fell unconscious and his wife Umm Abdullah came there and wailed loudly. When he felt relief he said: Dont you know? -and narrated to her: Verily the Messenger of Allah ﷺ said: I have no concern with one who shaved her hair, lamented loudly and tore (her clothes in grief).
منہ پر مارنے گریبان پھاڑنے اور جاہلیت کے زمانہ جیسی چیخ وپکار کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنْ امْرَأَةِ أَبِي مُوسَی عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ لَيْسَ مِنَّا وَلَمْ يَقُلْ بَرِيئٌ
عبداللہ بن مطیع، ہشیم، حصین، عیاض اشعری، امراۃِ ابی موسی، ابی موسیٰ حضور اللہ ﷺ (دوسری سند) حجاج بن شاعر، عبدالصمد، داؤد ابن ابی ہند، عاصم، صفوان بن محزر، ابوموسی، حسن بن علی حلوانی، عبدالصمد، شعبہ، عبدالملک بن عمیر، ربعی بن حراش، ابوموسی ایک دوسری سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے جس طرح پہلے مذکور ہوئی اس میں صرف اتنا فرق ہے کہ بَرِيئٌ کی جگہ لَيْسَ مِنَّا ہے یعنی آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
This hadith is narrated on the authority of Abu Musa with this change only: That (the Holy Prophet) did not say that he had no concern but said: He is not one of us.
چغل خوری کی سخت حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ الضُّبَعِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا يَنُمُّ الْحَدِيثَ فَقَالَ حُذَيْفَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ نَمَّامٌ
شیبان بن فروخ، عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی، مہدی، ابن میمون، واصل، ابو وائل، حذیفہ حضرت ابو وائل ؓ سے روایت ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ تک یہ بات پہنچی کہ ایک آدمی ادھر کی بات ادھر لگاتا پھرتا ہے تو حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔
It is reported from Hudhaifa that news reached him (the Holy Prophet) that a certain man carried tales. Upon this Hudhaifa remarked: I heard Allahs Messenger ﷺ saying: The tale-bearer shall not enter Paradise.
چغل خوری کی سخت حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ کَانَ رَجُلٌ يَنْقُلُ الْحَدِيثَ إِلَی الْأَمِيرِ فَکُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ الْقَوْمُ هَذَا مِمَّنْ يَنْقُلُ الْحَدِيثَ إِلَی الْأَمِيرِ قَالَ فَجَائَ حَتَّی جَلَسَ إِلَيْنَا فَقَالَ حُذَيْفَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ
علی بن حجر سعدی، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق، جریر، منصور، ابراہیم، ہمام بن حارث ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی حاکم تک لوگوں کی باتیں نقل کرتا تھا، حضرت ہمام ؓ کہتے ہیں کہ پھر وہ آدمی ہم میں آکر بیٹھ گیا تو حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
It is reported on the authority of Hammam b, al-Harith that a man used to carry tales to the governor. We were sitting in the mosque. the people said: He is one who carries tales to the governor. He (the narrator) said: Then he came and sat with us. Thereupon Hudhaifa remarked: I heard the Messenger of Allah ﷺ saying: The beater of false tales would never enter heaven.
چغل خوری کی سخت حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ کُنَّا جُلُوسًا مَعَ حُذَيْفَةَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَائَ رَجُلٌ حَتَّی جَلَسَ إِلَيْنَا فَقِيلَ لِحُذَيْفَةَ إِنَّ هَذَا يَرْفَعُ إِلَی السُّلْطَانِ أَشْيَائَ فَقَالَ حُذَيْفَةُ إِرَادَةَ أَنْ يُسْمِعَهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، وکیع، اعمش، منجاب بن حارث، تمیمی بن مسہر، اعمش، ابراہیم، ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ ہم حضرت حذیفہ ؓ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے تو ایک آدمی کر ہمارے ساتھ بیٹھ گیا حضرت حذیفہ ؓ سے کہا گیا کہ یہ آدمی لوگوں کی باتیں حاکم تک پہنچا دیتا ہے تو حضرت حذیفہ ؓ نے اس آدمی کو سنانے کے ارادے سے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
It is narrated on the authority of Hammam bin al-Harith (RA) : We were sitting with Hudhaifa in the mosque. A man came and sat along with us. It was said to Hudhaifa that he was the man who carried tales to the ruler. Hudhaifa remarked with the intention of conveying to him: I have heard the Messenger of Allah ﷺ saying: The tale-bearer will not enter Paradise.
ازار بند (شلوار، پاجامہ وغیرہ) ٹخنوں سے بیچے لٹکانے اور عطیہ دے کر احسان جتلانے اور جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنے والوں کی سخت حرمت اور ان تین آدمیوں کے بیان میں کہ جن سے اللہ قیامت کے دن بات نہیں فرمائیں گے اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت فرمائیں گے اور نہ ہی ان کو پاک کریں گے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِکٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَةٌ لَا يُکَلِّمُهُمْ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَکِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ قَالَ فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مِرَارًا قَالَ أَبُو ذَرٍّ خَابُوا وَخَسِرُوا مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْمُسْبِلُ وَالْمَنَّانُ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْکَاذِبِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، علی بن مدرک، ابوزرعہ، خرشہ بن حر، ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں کہ جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا نہ انہیں گناہوں سے پاک وصاف کرے گا (معاف کرے گا) اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، حضرت ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے تین بار یہ فرمایا: حضرت ابوذر ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ یہ لوگ تو سخت نقصان اور خسارے میں ہوں گے یہ کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے والا اور دے کر احسان جتلانے والا اور جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنے والا۔
It is narrated o the authority of Abu Dharr (RA) that the Messenger of Allah ﷺ (may ace he upon him) observed: Three are the (persons) with whom Allah would neither speak on the Day of Resurrection, nor would look at them nor would absolve the and there is a painful chastisement for them. The Messenger of Allah ﷺ repeated it three times. Abu Dharr (RA) remarked: They failed and they lost; who are these persons, Messenger of Allah? ﷺ Upon this he (the Holy) Prophet) observed: They are: the dragger of lower garment, the recounter of obligation the seller of goods by false oath.
________
ازار بند (شلوار، پاجامہ وغیرہ) ٹخنوں سے بیچے لٹکانے اور عطیہ دے کر احسان جتلانے اور جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنے والوں کی سخت حرمت اور ان تین آدمیوں کے بیان میں کہ جن سے اللہ قیامت کے دن بات نہیں فرمائیں گے اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت فرمائیں گے اور نہ ہی ان کو پاک کریں گے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔
حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَةٌ لَا يُکَلِّمُهُمْ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمَنَّانُ الَّذِي لَا يُعْطِي شَيْئًا إِلَّا مَنَّهُ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْفَاجِرِ وَالْمُسْبِلُ إِزَارَهُ
ابوبکر بن خلاد باہلی، یحییٰ قطان، سفیان، سلیمان، اعمش، سلیمان بن مسہر، خرشہ بن حر، ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تین آدمیوں سے اللہ عزوجل قیامت کے دن بات نہیں کرے گا ایک وہ آدمی جو ہر نیکی کا احسان جتلاتا ہے، دوسرا وہ جو جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچتا ہے اور تیسرا وہ آدمی جو اپنے کپڑوں کو ٹخنوں سے نیچے لٹکاتا ہے۔
It is narrated on the authority of Abu Dharr (RA) who narrates that the Prophet ﷺ observed: Three are the persons with whom Allah would not speak on the Day of Resurrection: the bestower of gift who does not give anything but by laying obligation on him, the seller of goods who sells them by taking false oath and one who hangs low his lower garment.
ازار بند (شلوار، پاجامہ وغیرہ) ٹخنوں سے بیچے لٹکانے اور عطیہ دے کر احسان جتلانے اور جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنے والوں کی سخت حرمت اور ان تین آدمیوں کے بیان میں کہ جن سے اللہ قیامت کے دن بات نہیں فرمائیں گے اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت فرمائیں گے اور نہ ہی ان کو پاک کریں گے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔
حَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ ثَلَاثَةٌ لَا يُکَلِّمُهُمْ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَکِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
بشر بن خالد، محمد ابن جعفر، شعبہ، سلیمان ایک دوسری سند میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ کلام نہ کرے گا اور نہ ان کی طرف نظر رحمت فرمائے گا اور نہ ہی انہیں پاک و صاف کرے گا ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔
Bishr bin Khalid has narrated this hadith on the authority of Sulaiman with the same chain of transmitters with this addition: Allah shall neither speak nor look at nor absolve then, and there is a tormenting punishment for them.s
ازار بند (شلوار، پاجامہ وغیرہ) ٹخنوں سے بیچے لٹکانے اور عطیہ دے کر احسان جتلانے اور جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنے والوں کی سخت حرمت اور ان تین آدمیوں کے بیان میں کہ جن سے اللہ قیامت کے دن بات نہیں فرمائیں گے اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت فرمائیں گے اور نہ ہی ان کو پاک کریں گے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ لَا يُکَلِّمُهُمْ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَکِّيهِمْ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ شَيْخٌ زَانٍ وَمَلِکٌ کَذَّابٌ وَعَائِلٌ مُسْتَکْبِرٌ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ابومعاویہ، اعمش، ابی حازم، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں کہ جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ بات کریں گے اور نہ ہی انہیں پاک و صاف کریں گے اور ابومعاویہ فرماتے ہیں کہ اور نہ ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھیں گے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے بوڑھا زانی، جھوٹا بادشاہ اور مفلس تکبر کرنے والا۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ observed: Three (are the persons) with whom Allah would neither speak, nor would He absolve them on the Day of Resurrection. Abu Muawiyahh (RA)h (RA) added: He would not look at them and there is grievous torment for them: the aged adulterer, the liar king and the proud destitute.
ازار بند (شلوار، پاجامہ وغیرہ) ٹخنوں سے بیچے لٹکانے اور عطیہ دے کر احسان جتلانے اور جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنے والوں کی سخت حرمت اور ان تین آدمیوں کے بیان میں کہ جن سے اللہ قیامت کے دن بات نہیں فرمائیں گے اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت فرمائیں گے اور نہ ہی ان کو پاک کریں گے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي بَکْرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ لَا يُکَلِّمُهُمْ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَکِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ رَجُلٌ عَلَی فَضْلِ مَائٍ بِالْفَلَاةِ يَمْنَعُهُ مِنْ ابْنِ السَّبِيلِ وَرَجُلٌ بَايَعَ رَجُلًا بِسِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ لَهُ بِاللَّهِ لَأَخَذَهَا بِکَذَا وَکَذَا فَصَدَّقَهُ وَهُوَ عَلَی غَيْرِ ذَلِکَ وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا لَا يُبَايِعُهُ إِلَّا لِدُنْيَا فَإِنْ أَعْطَاهُ مِنْهَا وَفَی وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ مِنْهَا لَمْ يَفِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابی صالح، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں کہ جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ بات فرمائیں گے اور نہ ان کی طرف نظر رحمت کریں گے اور نہ ہی انہیں گناہوں سے پاک کریں گے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے، ایک تو وہ آدمی جس کے پاس ضرورت سے زیادہ پانی ہو پھر اس کے باوجود کسی مسافر کو پانی نہ دے اور دوسرا وہ آدمی جو عصر کے بعد کوئی چیز بیچے اور اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ میں نے یہ چیز اتنے میں خریدی ہے اور خریدار اس کی بات پر یقین کرلے حالانکہ حقیقتًا اس نے اتنے میں نہ خریدی ہو اور تیسرا وہ آدمی جو دنیاوی مال کی خاطر بیعت کرے پھر اگر وہ اسے مال دے تو وہ حقِ بیعت ادا کرے اور نہ دے تو حقِ بیعت کی ادائیگی سے گریز کرے۔
Abu Hurairah (RA) narrated on the authority of Abu Bakr (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Three are the persons with whom Allah would neither speak on the Day of Resurrection, nor would He look towards them, nor would purify them (from sins), and there would be a tormenting chastisement for them: a person who in the waterless desert has more water (than his need) and he refuses to give it to the traveller and a person who sold a commodity to another person in the afternoon and took an oath of Allah that he had bought it at such and such price and he (the buyer) accepted it to be true though it was not a fact, and a person who pledged allegiance to the Imam but for the sake of the world (material gains). And if the Imam bestowed on him (something) out of that (worldly riches) he stood by his allegiance and if he did not give him, he did not fulfil the allegiance.
ازار بند (شلوار، پاجامہ وغیرہ) ٹخنوں سے بیچے لٹکانے اور عطیہ دے کر احسان جتلانے اور جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنے والوں کی سخت حرمت اور ان تین آدمیوں کے بیان میں کہ جن سے اللہ قیامت کے دن بات نہیں فرمائیں گے اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت فرمائیں گے اور نہ ہی ان کو پاک کریں گے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ وَرَجُلٌ سَاوَمَ رَجُلًا بِسِلْعَةٍ
زہیر بن حرب، جریر، سعید بن عمرو اشعثی، عبثر، اعمش، ایک دوسری سند میں یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس میں قیمت بتانے کا ذکر ہے۔
The same hadith has been transmitted by another chain of transmitters with the exception of these words: He offered for sale a commodity to another person.
ازار بند (شلوار، پاجامہ وغیرہ) ٹخنوں سے بیچے لٹکانے اور عطیہ دے کر احسان جتلانے اور جھوٹی قسم کھا کر سامان بیچنے والوں کی سخت حرمت اور ان تین آدمیوں کے بیان میں کہ جن سے اللہ قیامت کے دن بات نہیں فرمائیں گے اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت فرمائیں گے اور نہ ہی ان کو پاک کریں گے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أُرَاهُ مَرْفُوعًا قَالَ ثَلَاثَةٌ لَا يُکَلِّمُهُمْ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ رَجُلٌ حَلَفَ عَلَی يَمِينٍ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ عَلَی مَالِ مُسْلِمٍ فَاقْتَطَعَهُ وَبَاقِي حَدِيثِهِ نَحْوُ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ
عمرو ناقد، سفیان، عمرو، ابوصالح، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں کہ جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ بات کریں گے اور نہ ہی ان کی طرف نظر رحمت فرمائیں گے اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہوگا اور ایک آدمی وہ ہے کہ جس نے عصر کے بعد قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال مار لیا باقی حدیث اعمش کی حدیث کی طرح ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that he (the Apostle of Allah ﷺ ) observed: Three are the persons with whom Allah would neither speak (on the Day of Resurrection) nor would He look at them, and there would be a painful chastisement for them, a person who took an oath on the goods of a Muslim in the afternoon and then broke it. The rest of the hadith is the same as narrated by Amash.
خود کشی کی سخت حرمت اور اس کو دوزخ کے عذاب اور یہ کہ مسلمان کے علاوہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ فَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَتَوَجَّأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا وَمَنْ شَرِبَ سَمًّا فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا وَمَنْ تَرَدَّی مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ يَتَرَدَّی فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوسعید، اشج، وکیع، اعمش، ابوصالح، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اپنے آپ کو لوہے کے ہتھیار سے قتل کیا تو وہ ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہوگا اور اس ہتھیار سے اپنے پیٹ کو زخمی کرتا رہے گا، ہمشیہ ہمیشہ دوزخ کی آگ میں رہے گا اور جس نے زہر پی کر اپنے آپ کو قتل کیا تو وہ اسے چوستا رہے گا اور دوزخ کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور جس نے اپنے آپ کو پہاڑ سے گرا کر قتل کیا تو وہ پہاڑ سے یوں ہی گرتا رہے گا اور ہمیشہ ہمیشہ دوزخ کے عذاب میں رہے گا۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ observed: He who killed himself with steel (weapon) would be the eternal denizen of the Fire of Hell and he would have that weapon in his hand and would be thrusting that in his stomach for ever and ever, he who drank poison and killed himself would sip that in the Fire of Hell where he is doomed for ever and ever; and he who killed himself by falling from (the top of) a mountain would constantly fall in the Fire of Hell and would live there for ever and ever.
خود کشی کی سخت حرمت اور اس کو دوزخ کے عذاب اور یہ کہ مسلمان کے علاوہ جنت میں کوئی داخل نہیں ہوگا کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ ح و حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ کُلُّهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَفِي رِوَايَةِ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ ذَکْوَانَ
زہیر بن حرب، جریر، سعید بن عمرو اشعثی، عبثر، ابن قاسم، یحییٰ بن حبیب، حارثی، خالد بن حارث، شعبہ ایک دوسری سند سے بھی یہ روایت اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated by another chain of transmitters.