بڑے بڑے گناہوں اور سب سے بڑے گناہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ ذَکَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْکَبَائِرَ أَوْ سُئِلَ عَنْ الْکَبَائِرِ فَقَالَ الشِّرْکُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَالَ أَلَا أُنَبِّئُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَائِرِ قَالَ قَوْلُ الزُّورِ أَوْ قَالَ شَهَادَةُ الزُّورِ قَالَ شُعْبَةُ وَأَکْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ شَهَادَةُ الزُّورِ
محمد بن ولید بن عبدالحمید، محمد بن جعفر، شعبہ، عبیداللہ بن ابی بکر فرماتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک ؓ کو نبی ﷺ کا یہ فرمان نقل فرماتے سنا کہ نبی ﷺ سے بڑے گناہوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک قرار دینا، کسی نفس کو قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ان بڑے گناہوں میں سے شرک کے بعد سب سے بڑے گناہ سے آگاہ نہ کروں! آپ ﷺ نے فرمایا جھوٹی بات کہنا یا فرمایا جھوٹی گواہی دینا شعبہ کہتے ہیں کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ آپ ﷺ نے جو فرمایا وہ جھوٹی گواہی ہے۔
Ubaidullah bin Abu Bakr (RA) said: I heard Anas bin Malik (RA) saying: The Messenger of Allah ﷺ talked about the major sins, or he was asked about the major sins. Upon this he observed: Associating anyone with Allah, killing of a person, disobedience to parents. He (the Holy Prophet ﷺ further) said: Should I not inform you about the gravest of the major sins, and (in this connection) observed: False utterance or false testimony. Shubah said. It was most probably" false testimony".
بڑے بڑے گناہوں اور سب سے بڑے گناہ کے بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي الْغَيْثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُنَّ قَالَ الشِّرْکُ بِاللَّهِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَکْلُ مَالِ الْيَتِيمِ وَأَکْلُ الرِّبَا وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْمُحْصِنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، سلیمان، بن بلال، ثور بن زید، ابوغیث، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سات ہلاکت میں ڈال دینے والی چیزوں سے بچو، عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول ﷺ وہ سات ہلاک کرنے والی چیزیں کونسی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اور جادو کرنا اور کسی نفس کا قتل کرنا جسے اللہ نے حرام کیا سوائے حق کے اور یتیم کا مال کھانا، سود کھانا، جہاد سے دشمن کے مقابلہ سے بھاگنا اور پاکدامن عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگانا۔
It is reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ observed: Avoid the seven noxious things. It was said (by the hearers): What are they, Messenger of Allah? ﷺ He (the Holy Prophet) replied: Associating anything with Allah, magic, killing of one whom God has declared inviolate without a just cause, consuming the property of an orphan, and consuming of usury, turning back when the army advances, and slandering chaste women who are believers, but unwary.
بڑے بڑے گناہوں اور سب سے بڑے گناہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْ الْکَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَيْهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ يَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالَ نَعَمْ يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ وَيَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ
قتیبہ بن سعید، لیث ابن ہاد، سعد بن ابراہیم، حمید بن عبدالرحمن، عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بڑے گناہ یہ ہیں کہ کوئی آدمی اپنے ماں باپ کو گالی دے صحابہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا کوئی آدمی اپنے والدین کو گالی دے سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں کوئی آدمی کسی کے باپ کو گالی دیتا ہے تو اپنے باپ کو گالی دیتا ہے اور کوئی کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اپنی کی ماں کو گالی دیتا ہے۔
It is narrated on the authority of Abdullah bin Amr (RA) bin al-As that the Messenger of Allah ﷺ observed: Abusing ones parents is one of the major sins. They (the hearers) said: Messenger of Allah, does a man abuse his parents too? He (the Holy Prophet) replied: Yes, one abuses the father of another man, who in turn abuses his father. One abuses his mother and he in turn abuses his (the formers) mother.
بڑے بڑے گناہوں اور سب سے بڑے گناہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کِلَاهُمَا عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، سفیان، سعد بن ابراہیم ایک دوسری سند میں بھی اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has also been transmitted on the authority of Sad bin Ibrahim with this chain of narrators.
تکبر کے حرام ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَی بْنِ حَمَّادٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ عَنْ فُضَيْلٍ الْفُقَيْمِيِّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ کِبْرٍ قَالَ رَجُلٌ إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَکُونَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَنَعْلُهُ حَسَنَةً قَالَ إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ الْکِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابراہیم بن دینار، یحییٰ بن حماد، شعبہ، ابان بن تغلب، فضیل بن عمرو تمیمی، ابراہیم، علقمہ، عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا اس پر ایک آدمی نے عرض کیا کہ ایک آدمی چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کی جوتی بھی اچھی ہو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ جمیل ہے اور جمال ہی کو پسند کرتا ہے تکبر تو حق کی طرف سے منہ موڑنے اور دوسرے لوگوں کو کمتر سمجھنے کو کہتے ہیں۔
It Is narrated on the authority of Abdullah bin Masud that the Apostle of Allah ﷺ , observed: He who has in his heart the weight of a mustard seed of pride shall not enter Paradise. A person (amongst his hearers) said: Verily a person loves that his dress should be fine, and his shoes should be fine. He (the Holy Prophet) remarked: Verily, Allah is Graceful and He loves Grace. Pride is disdaining the truth (out of self-conceit) and contempt for the people.
تکبر کے حرام ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ قَالَ مِنْجَابٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ کِبْرِيَائَ
منجاب بن حارث تمیمی، سوید بن سعید، علی بن مسہر، منجاب ابن مسہر، اعمش، ابراہیم، علقمہ، عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کوئی آدمی دوزخ میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہوگا اور کوئی ایسا آدمی جنت میں داخل نہیں ہو جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہوگا۔
It is narrated on the authority of Abdullah bin Masud that the Messenger of Allah ﷺ observed: None shall enter the Fire (of Hell) who has in his heart the weight of a mustard seed of Iman and none shall enter Paradise who has in his heart the weight of a mustard seed of pride.
تکبر کے حرام ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ عَنْ فُضَيْلٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ کَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ کِبْرٍ
محمد بن بشار، ابوداؤد، شعبہ، ابان بن تغلب، فضیل، ابراہیم، علقمہ، عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ کوئی آدمی جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہوگا۔
It is narrated on the authority of Abdullah that the Apostle of Allah ﷺ observed: He who as in his heart the weight of a mustard seed of pride shall not enter Paradise.
اس بات کے بیان میں کہ جو اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے ہوئے مرا وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَوَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ وَکِيعٌ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ مَاتَ يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ وَقُلْتُ أَنَا وَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، وکیع، اعمش، شقیق، عبداللہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ وکیع نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابن نمیر نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہوئے مرا وہ دوزخ میں داخل ہوگا اور میں کہتا ہوں کہ مجھے آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی کسی کو اللہ کے ساتھ شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
It is narrated on the authority of Abdullah bin Masud that Waki told (him) that the Messenger of Allah ﷺ had observed and Ibn Numair asserted: I heard the Messenger of Allah ﷺ saying: He who dies associating anything with Allah would enter the Fire (of Hell). Abdullah bin Masud said: I say that he who died without associating anything with Allah entered Paradise.
اس بات کے بیان میں کہ جو اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے ہوئے مرا وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْمُوجِبَتَانِ فَقَالَ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ مَاتَ يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب ابومعاویہ، اعمش، ابوسفیان، جابر سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ جنت اور دوزخ کو واجب کرنے والی کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے کسی کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرایا وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔
It is narrated on the authority of Jabir that a man came to the Apostle of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, what are the two things quite unavoidable? He replied: He who dies without associating anyone with Allah would (necessarily) enter Paradise and he who dies associating anything with Allah would enter the (Fire of) Hell.
اس بات کے بیان میں کہ جو اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے ہوئے مرا وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔
حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا قُرَّةُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِکُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ لَقِيَهُ يُشْرِکُ بِهِ دَخَلَ النَّارَ قَالَ أَبُو أَيُّوبَ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِمِثْلِهِ
ابوایوب غیلانی، سلیمان بن عبیداللہ، حجاج بن شاعر، عبدالملک، ابن عمرو، ابوزبیر جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے اللہ کے ساتھ اس حال میں ملاقات کی کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا وہ جنت میں داخل ہوگا اور جس نے اللہ کے ساتھ اس حال میں ملاقات کی کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا تھا تو وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔ حضرت ابوایوب راوی نے کہا کہ ابوالزبیر نے حضرت جابر ؓ سے روایت کیا۔ اسحاق بن منصور، معاذ ابن ہشام ابوزبیر، جابر ایک دوسری سند سے حضرت جابر ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔
It is narrated on the authority of Jabir bin Abdullah (RA) : I heard the Messenger of Allah ﷺ saying: He who met Allah without associating anything with Allah entered Paradise and he who met Him associating (anything) with Him entered Fire.
The same hadith has been narrated by Ishaq bin Mansur on the authority of Jabir with another chain of transmitters.
اس بات کے بیان میں کہ جو اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے ہوئے مرا وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَبَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِکَ لَا يُشْرِکُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، واصل، احدب، معرور بن سوید ؓ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر ؓ کو نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے انہوں نے مجھے یہ خوشخبری دی کہ آپ ﷺ کی امت میں سے جو اس حال میں مرا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگا میں نے یہ سن کر عرض کیا اگرچہ وہ آدمی زنا اور چوری کرتا ہو فرمایا خواہ وہ زنا یا چوری کرے۔
I heard Abu Dharr (RA) narrating it from the Apostle ﷺ that he observed: Gabriel (علیہ السلام) came to me and gave me the tidings: Verily he who died amongst your Ummah without associating anything with Allah would enter Paradise. I (the narrator) said: Even if he committed adultery and theft. He (the Holy Prophet) said: (Yes), even if he committed adultery and theft.
اس بات کے بیان میں کہ جو اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے ہوئے مرا وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ أَنَّ يَحْيَی بْنَ يَعْمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ الدِّيلِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ حَدَّثَهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَائِمٌ عَلَيْهِ ثَوْبٌ أَبْيَضُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَإِذَا هُوَ نَائِمٌ ثُمَّ أَتَيْتُهُ وَقَدْ اسْتَيْقَظَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ مَاتَ عَلَی ذَلِکَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ قُلْتُ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ قَالَ وَإِنْ زَنَی وَإِنْ سَرَقَ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ عَلَی رَغْمِ أَنْفِ أَبِي ذَرٍّ قَالَ فَخَرَجَ أَبُو ذَرٍّ وَهُوَ يَقُولُ وَإِنْ رَغِمَ أَنْفُ أَبِي ذَرٍّ
زہیر بن حرب، احمد بن خراش، عبدالصمد بن عبدالوارث، حسین، ابن بریدہ، یحییٰ بن یعمر، ابواسود دیلی ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں آیا آپ ﷺ سفید کپڑا اوڑھے ہوئے سو رہے تھے میں واپس چلا گیا پھر دوبارہ حاضر ہوا تو آپ ﷺ جاگ رہے تھے میں آپ ﷺ کے پاس بیٹھ گیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس بندے نے لَا ِالٰہ اِلَّا اللہ کہا اور اس پر وہ مرگیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا میں نے عرض کیا اگرچہ وہ زنا کرتا ہو اور چوری کی ہو آپ ﷺ نے فرمایا اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو تین مرتبہ فرمایا پھر چوتھی مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا (اگرچہ وہ زنا اور چوری کرے) ابوذر ؓ کی ناک خاک آلود ہو، پھر حضرت ابوذر ؓ آپ ﷺ کا محبت اور شفقت بھرا جملہ دھراتے ہوئے نکلے کہ ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔
Abu Dharr (RA) reported,: I came to the Apostle ﷺ and he was asleep with a white mantle over him. I again came, he was still asleep, I came again and he had awakened. I sat by his side and (the Holy Prophet) observed: There is none among the bondsmen who affirmed his faith in La illaha ill-Allah there is no God but Allah) and died in this state and did not enter Paradise. I (Abu Dharr) said: Even if he committed adultery and theft? He (the Holy Prophet) replied: (Yes) even though he committed adultery and theft. I (again said): Even if he committed adultery and theft? He replied: (Yes) even though he committed adultery and theft. (Th Holy Prophet ﷺ repeated it three times) and said for the fourth time: In defiance of Abu Dharr. Abu Dharr (RA) then went out and he repeated (these words): In defiance of Abu Dharr.
اس بات کے بیان میں کہ کافر کا لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ وَاللَّفْظُ مُتَقَارِبٌ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنْ الْکُفَّارِ فَقَاتَلَنِي فَضَرَبَ إِحْدَی يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا ثُمَّ لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ فَقَالَ أَسْلَمْتُ لِلَّهِ أَفَأَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقْتُلْهُ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ قَطَعَ يَدِي ثُمَّ قَالَ ذَلِکَ بَعْدَ أَنْ قَطَعَهَا أَفَأَقْتُلُهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقْتُلْهُ فَإِنْ قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِکَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ وَإِنَّکَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ کَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ
قتیبہ بن سعید، لیث محمد بن رمح، لیث، ابن شہاب عطاء بن یزید لیثی، عبیداللہ بن عدی بن خیار، مقداد بن اسود ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اگر کافروں میں کسی آدمی سے میرا مقابلہ ہوجائے مجھ سے لڑے میرا ہاتھ تلوار سے کاٹ ڈالے پھر جب میرے حملے کی زد میں آئے تو ایک درخت کی پناہ میں آکر کہے کہ میں اللہ پر ایمان لے آیا ہوں تو کیا اس کلمہ کے بعد اے اللہ کے رسول ﷺ میرے لئے اسے قتل کرنا درست ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے قتل کرنا درست نہیں، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اس نے یہ کلمہ میرا ہاتھ کاٹنے کے بعد کہا ہے تو میں اسے کیسے قتل نہ کروں؟ آپ نے فرمایا اسے ہرگز قتل نہ کرنا کیونکہ اگر اسے قتل کرو گے تو اب وہ ایسا ہی مسلمان ہوگا جیسا تم اسے قتل کرنے سے پہلے اور تم اسی طرح ہوجاؤ گے جیسے وہ کلمہ پڑھنے سے پہلے تھا۔
It is narrated on the authority of Miqdad bin Aswad that he said. Messenger of Allah, you just see (here is a point): If I encountered a person amongst the infidels (in the battlefield) and he attacked me and struck me and cut off one of my hands with the sword. Then he (in order to protect himself from me) took shelter of a tree and said: I become Muslim for Allahs sake. Messenger of Allah, can I kill him after he had uttered this? The Messenger of Allah ﷺ said: Do not kill him. I (the narrator) said: Messenger of Allah, he cut off my hand and uttered this after amputating it; should I then kill him? The Messenger of Allah ﷺ said: Dont kill him, for I you kill him, verily he would be in a position where you had been before killing him and verily you would be in a position where he had been before uttering (kalima).
اس بات کے بیان میں کہ کافر کا لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ جَمِيعًا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا الْأَوْزَاعِيُّ وَابْنُ جُرَيْجٍ فَفِي حَدِيثِهِمَا قَالَ أَسْلَمْتُ لِلَّهِ کَمَا قَالَ اللَّيْثُ فِي حَدِيثِهِ وَأَمَّا مَعْمَرٌ فَفِي حَدِيثِهِ فَلَمَّا أَهْوَيْتُ لِأَقْتُلَهُ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ
اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، اسحاق بن موسیٰ انصاری، ولید بن مسلم، اوزاعی محمد بن رافع، عبدالرزاق ابن جریج، زہری ایک دوسری سند میں امام اوزاعی اور ابن جریر دونوں کی روایت میں ہے کہ اس نے کہا کہ میں اللہ عزوجل کے لئے اسلام لایا جیسا کہ لیث کی حدیث میں ہے اور معمر کی روایت میں ہے کہ جب میں نے اسے قتل کرنا چاہا تو اس نے لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہہ دیا۔
The same hadith has been transmitted by the same chain of narrators. The hadith transmitted by Auzai and Ibn Juraij contains these words: I embraced Islam for Allahs sake. and in the hadith narrated by Mamar the words are: I knelt down to kill him, that he said; There is no god but Allah.
اس بات کے بیان میں کہ کافر کا لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَطَائُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ثُمَّ الْجُنْدَعِيُّ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمِقْدَادَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْأَسْوَدِ الْکِنْدِيَّ وَکَانَ حَلِيفًا لِبَنِي زُهْرَةَ وَکَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيتُ رَجُلًا مِنْ الْکُفَّارِ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عطا بن یزید، لیثی، جندعی، عبیداللہ، ابن عدی بن خیار، مقداد بن عمرو بن اسود کندی ؓ جو بنو زہرہ کے حلیف ہیں اور بدری صحابی ؓ ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اگر کافروں میں سے کسی شخص سے میرا مقابلہ ہوجائے پھر لیث کی روایت کی طرح حدیث مبارکہ ذکر کی۔
It is narrated by Miqdad, and he was an ally of B. Zuhra and was of those who participated in the Battle of Badr along with the Messenger of Allah, that he said: Messenger of Allah, here is a point: If I happened to encounter a person amongst the infidels (in the battle). Then he narrated a hadith similar to the one transmitted by Laith.
اس بات کے بیان میں کہ کافر کا لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ کِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي ظِبْيَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَصَبَّحْنَا الْحُرَقَاتِ مِنْ جُهَيْنَةَ فَأَدْرَکْتُ رَجُلًا فَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَطَعَنْتُهُ فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِکَ فَذَکَرْتُهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَقَتَلْتَهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا قَالَهَا خَوْفًا مِنْ السِّلَاحِ قَالَ أَفَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّی تَعْلَمَ أَقَالَهَا أَمْ لَا فَمَا زَالَ يُکَرِّرُهَا عَلَيَّ حَتَّی تَمَنَّيْتُ أَنِّي أَسْلَمْتُ يَوْمَئِذٍ قَالَ فَقَالَ سَعْدٌ وَأَنَا وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ مُسْلِمًا حَتَّی يَقْتُلَهُ ذُو الْبُطَيْنِ يَعْنِي أُسَامَةَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ أَلَمْ يَقُلْ اللَّهُ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّی لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَيَکُونَ الدِّينُ کُلُّهُ لِلَّهِ فَقَالَ سَعْدٌ قَدْ قَاتَلْنَا حَتَّی لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَأَنْتَ وَأَصْحَابُکَ تُرِيدُونَ أَنْ تُقَاتِلُوا حَتَّی تَکُونُ فِتْنَةٌ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد احمد، ابوکریب، اسحاق بن ابراہیم، ابومعاویہ، اعمش، ابوظبیان، اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ (جنگ) میں بھیجا تو ہم صبح صبح جہینہ کے علاقہ میں پہنچ گئے میں نے وہاں ایک آدمی کو پایا اس نے کہا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ، میں نے اسے ہلاک کردیا پھر میرے دل میں کچھ خلجان سا پیدا ہوا کہ میں نے مسلمان کو قتل کیا یا کافر کو؟ تو میں نے اس کے متعلق نبی ﷺ سے ذکر کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا اس نے لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہا اور پھر بھی تم نے اسے قتل کردیا! میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اس نے تو یہ کلمہ تلوار کے ڈر سے پڑھا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا کہ اس نے دل سے کہا تھا یا نہیں، آپ ﷺ باربار یہی کلمات دہراتے رہے یہاں تک کہ مجھے یہ تمنا ہونے لگی کہ کاش میں آج سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا حضرت سعد ؓ نے کہا اللہ کی قسم میں مسلمان کو قتل نہیں کروں گا جب تک کہ اس کو اسامہ قتل کردیں ایک آدمی نے کہا کہ کیا اللہ عز وجل نے نہیں فرمایا کافروں سے اس وقت تک قتال کرو جب تک کہ فتنہ نہ رہے اور اللہ کا دین عام ہوجائے حضرت سعد ؓ نے کہا کہ ہم فتنہ مٹانے کے لئے جہاد کر رہے ہیں اور تمہارے ساتھی فتنہ پھیلانے کے لئے جنگ کر رہے ہیں۔
It is narrated on the authority of Usama b. Zaid that the Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) sent us in a raiding party. We raided Huraqat of Juhaina in the morning. I caught hold of a man and he said:
There is no god but Allah, I attacked him with a spear. It once occurred to me and I talked about it to the Apostle (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ). The Messenger of Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) said: Did he profess" There is no god but Allah," and even then you killed him? I said: Messenger of Allah, he made a profession of it out of the fear of the weapon. He (the Holy Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)) observed: Did you tear his heart in order to find out whether it had professed or not? And he went on repeating it to me till I wished I had embraced Islam that day. Sad said: By Allah, I would never kill any Muslim so long as a person with a heavy belly, i. e., Usama, would not kill. Upon this a person remarked: Did Allah not say this: And fight them until there is no more mischief and religion is wholly for Allah? Sad said: We fought so that there should be no mischief, but you and your companions wish to fight so that there should be mischief.
اس بات کے بیان میں کہ کافر کا لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ حَدَّثَنَا أَبُو ظِبْيَانَ قَالَ سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ يُحَدِّثُ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ فَصَبَّحْنَا الْقَوْمَ فَهَزَمْنَاهُمْ وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ رَجُلًا مِنْهُمْ فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَکَفَّ عَنْهُ الْأَنْصَارِيَّ وَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي حَتَّی قَتَلْتُهُ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي يَا أُسَامَةُ أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا کَانَ مُتَعَوِّذًا قَالَ فَقَالَ أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ فَمَا زَالَ يُکَرِّرُهَا عَلَيَّ حَتَّی تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَکُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِکَ الْيَوْمِ
یعقوب دورقی، ہشیم، حصین، ابوظیبان، اسامہ، بن زید بن حارثہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں قبیلہ حرقہ کی طرف بھیجا جو قبیلہ جہینہ سے ہے ہم صبح صبح وہاں پہنچ گئے اور ان کو شکست دے دی میں نے اور ایک انصاری نے مل کر اس قبیلہ کے آدمی کو گھیر لیا جب وہ ہمارے حملہ کی زد میں آگیا تو اس نے کہا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ! انصاری تو یہ سن کر علیحدہ ہوگیا لیکن میں نے اسے نیزہ مار کر قتل کردیا جب ہم نبی ﷺ کے پاس پہنچے تو آپ ﷺ تک اس کی خبر پہنچ چکی تھی آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے اسامہ! کیا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہنے کے بعد بھی تم نے اسے قتل کر ڈالا؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اس نے اپنی جان بچانے کے لئے ایسا کہا تھا آپ ﷺ بار بار یہی فرماتے تھے یہاں تک کہ مجھے باربار آرزو ہونے لگی کہ کاش میں آج سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔
It is narrated on the authority of Usama b. Zaid:
The Messenger of Allah may peace be upon him) sent us to Huraqat, a tribe of Juhaina. We attacked that tribe early in the morning and defeated them and I and a man from the Ansar caught hold of a person (of the defeated tribe). When we overcame him, he said: There is no god but Allah. At that moment the Ansari spared him, but I attacked him with my spear and killed him. The news had already reached the Apostle (peace be upon him), so when we came back he (the Apostle (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)) said to me: Usama (RA), did you kill him after he had made the profession: There is no god but Allah? I said. Messenger of Allah, he did it only as a shelter. The Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) observed: Did you kill him after he had made the profession that there is no god but Allah? He (the Holy Prophet (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ)) went on repeating this to me till I wished I had not embraced Islam before that day.
اس بات کے بیان میں کہ کافر کا لا الہ الا اللہ کہنے کے بعد قتل کرنا حرام ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ أَنَّ خَالِدًا الْأَثْبَجَ ابْنَ أَخِي صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ حَدَّثَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ أَنَّهُ حَدَّثَ أَنَّ جُنْدَبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيَّ بَعَثَ إِلَی عَسْعَسِ بْنِ سَلَامَةَ زَمَنَ فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَ اجْمَعْ لِي نَفَرًا مِنْ إِخْوَانِکَ حَتَّی أُحَدِّثَهُمْ فَبَعَثَ رَسُولًا إِلَيْهِمْ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَائَ جُنْدَبٌ وَعَلَيْهِ بُرْنُسٌ أَصْفَرُ فَقَالَ تَحَدَّثُوا بِمَا کُنْتُمْ تَحَدَّثُونَ بِهِ حَتَّی دَارَ الْحَدِيثُ فَلَمَّا دَارَ الْحَدِيثُ إِلَيْهِ حَسَرَ الْبُرْنُسَ عَنْ رَأْسِهِ فَقَالَ إِنِّي أَتَيْتُکُمْ وَلَا أُرِيدُ أَنْ أُخْبِرَکُمْ عَنْ نَبِيِّکُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بَعْثًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ إِلَی قَوْمٍ مِنْ الْمُشْرِکِينَ وَإِنَّهُمْ الْتَقَوْا فَکَانَ رَجُلٌ مِنْ الْمُشْرِکِينَ إِذَا شَائَ أَنْ يَقْصِدَ إِلَی رَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ لَهُ فَقَتَلَهُ وَإِنَّ رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ قَصَدَ غَفْلَتَهُ قَالَ وَکُنَّا نُحَدَّثُ أَنَّهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَلَمَّا رَفَعَ عَلَيْهِ السَّيْفَ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَتَلَهُ فَجَائَ الْبَشِيرُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَأَخْبَرَهُ حَتَّی أَخْبَرَهُ خَبَرَ الرَّجُلِ کَيْفَ صَنَعَ فَدَعَاهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لِمَ قَتَلْتَهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْجَعَ فِي الْمُسْلِمِينَ وَقَتَلَ فُلَانًا وَفُلَانًا وَسَمَّی لَهُ نَفَرًا وَإِنِّي حَمَلْتُ عَلَيْهِ فَلَمَّا رَأَی السَّيْفَ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَتَلْتَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَکَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِذَا جَائَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَغْفِرْ لِي قَالَ وَکَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِذَا جَائَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ فَجَعَلَ لَا يَزِيدُهُ عَلَی أَنْ يَقُولَ کَيْفَ تَصْنَعُ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِذَا جَائَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
احمد بن حسن بن خراش، عمرو بن عاصم، معتمر، خالد، صفوان بن محرز بیان کرتے ہیں کہ حضرت جندب بن عبداللہ البجلی ؓ نے عسعس بن سلام کی طرف کسی کو بھیجا حضرت ابن زبیر ؓ کے دور حکومت میں فتنہ کا زمانہ تھا انہوں نے فرمایا کہ اپنے کچھ بھائیوں کو جمع کرلو تاکہ ان کے سامنے حدیث بیان کروں تو جندب نے آدمی بھیج کر ان کو بلایا سب کے جمع ہونے پر عسعس زرد رنگ کا کپڑا سر پر لپیٹے ہوئے آئے انہوں نے فرمایا اس فتنہ کے بارے میں گفتگو کرو جو تم کرتے ہو لوگ آپس میں باتیں کرنے لگے پھر جب حضرت عسعس سے بات کرنے کے لئے کہا گیا تو وہ کپڑا آپ کے سر سے کھل گیا اور انہوں نے فرمایا میں تمہارے پاس اس لئے آیا ہوں کہ تم سے رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کردوں رسول اللہ ﷺ نے کچھ مسلمانوں کو مشرکین کی طرف بھیجا، ان مشرکیں میں سے ایک آدمی ایسا تھا کہ مسلمانوں میں سے جس کو قتل کرنے کا ارادہ کرتا تو اسے قتل کردیتا تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی حضرت اسامہ بن زید ؓ نے اسے غفلت میں ڈال کر اسے قتل کرنے کا ارادہ کیا جب تلوار اس کی طرف اٹھائی تو اس نے کہا لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ! مگر اسامہ نے اسے قتل کردیا پھر فتح کی بشارت دینے والا نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے جنگ کے بارے میں پوچھا وہ بتارہا تھا یہاں تک کہ اس نے حضرت اسامہ ؓ کا یہ واقعہ بیان کیا کہ کس طرح اسامہ نے کیا، آپ ﷺ نے اسامہ کو بلا کر پوچھا کہ تم نے اسے کیوں قتل کردیا؟ اسامہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس نے مسلمانوں میں کھلبلی ڈال دی تھی اور اس نے فلاں فلاں مسلمان کو قتل کیا اور میں نے اس پر قابو پالیا جب اس نے تلوار دیکھی تو لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کہنے لگا، آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے اس کے بعد بھی اسے قتل کردیا؟ اسامہ نے عرض کیا جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا اس کے لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ کا کیا جواب دو گے جب وہ قیامت کے دن اس کو لے کر آئے گا؟ اسامہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ میرے لئے استغفار فرمائیں، مگر آپ ﷺ یہی فرماتے رہے کہ تم کیا جواب دو گے جب وہ قیامت کے دن لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ لے کر آئے گا۔
It is narrated by Safwan bin Muhriz that Jundab bin Abdullah al-Bajali during the stormy days of Ibn Zubair sent a message to Asas bin Salama (RA) : Gather some men of your family so that I should talk to them. He (Asas) sent a messenger to them (to the members of his family). When they had assembled, Jundab came there with a yellow hooded cloak on him, He said: Talk what you were busy in talking. The talk went on by turns, till there came his (Jundabs) turn. He took off the hooded cloak from his head and said: I have come to you with no other intention but to narrate to you a hadith of your Apostle: Verily the Messenger of Allah ﷺ sent a squad of the Muslims to a tribe of the polytheists. Both the armies confronted one another. There was a man among the army of polytheists who (was so dashing that), whenever he intended to kill a man from among the Muslims, he killed him. Amongst the Muslims too was a man looking forward to (an opportunity of) his (the polytheists) unmindfulness. He (the narrator) said: We talked that he was Usama b, Zaid. When he raised his sword, he (the soldier of the polytheists) uttered:" There is no god but Allah," but he (Usama bin Zaid) killed him. When the messenger of the glad tidings came to the Apostle ﷺ he asked him (about the events of the battle) and he informed him about the man (Usama) and what he had done He (the Prophet ﷺ of Allah) called for him and asked him why he had killed him. He (Usama) said: Messenger of Allah, he struck the Muslims and killed such and such of them. And he even named some of them. (He continued): I attacked him and when he saw the sword he said: There is no god but Allah. The Messenger of Allah ﷺ said: Did you kill him? He (Usama) replied in the affirmative. He (the Holy Prophet) remarked: What would you do with:" There is no god but Allah," when he would come (before you) on the Day of Judgment? He (Usama) said: Messenger of Allah, beg pardon for me (from your Lord). He (the Holy Prophet) said: What would you do with:" There is no god but Allah" when he would come (before you) on the Day of Judgment? He (the Holy Prophet) added nothing to it but kept saying: What would you do with:" There is no god but Allah," when he would come (before you) on the Day of Judgment?
نبی ﷺ کے فرمان کے بیان میں کہ جو ہم پر اسلحہ اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ کُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا
زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، یحییٰ قطان، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، ابن نمیر، عبیداللہ بن نافع، ابن عمر، یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، ابن عمر حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جس نے ہم پر ( یعنی مسلمانوں) پر اسلحہ اٹھایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
It is narrated on the authority of Abdullah bin Umar (RA) who narrates from the Prophet ﷺ of Allah ﷺ who said: He who took up arms against us is not of us.
نبی ﷺ کے فرمان کے بیان میں کہ جو ہم پر اسلحہ اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ وَهُوَ ابْنُ الْمِقْدَامِ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَلَّ عَلَيْنَا السَّيْفَ فَلَيْسَ مِنَّا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، مصعب، ابن مقدام، عکرمہ بن عمار، ایاس بن سلمہ نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس نے ہم پر یعنی مسلمانوں پر تلوار اٹھائی وہ ہم میں سے نہیں۔
Iyas bin Salama narrated from his father that the Apostle ﷺ observed: He who draws the sword against us is not of us.