روزوں کی فضیلت کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ إِسْحَقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ الْهُذَلِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ وَهُوَ أَبُو سِنَانٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ وَقَالَ إِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَجَزَاهُ فَرِحَ
اسحاق بن عمر بن سلیط، عبدالعزیز یعنی مسلم، ضرار بن مرہ، ابن سنان اس سند کے ساتھ اس روایت میں ہے راوی نے کہا کہ جب وہ اللہ سے ملاقات کرے گا تو اللہ اسے بدلہ عطا فرمائے گا تو وہ خوش ہوجائے گا۔
A hadith like this is narrated on the authority of Abu Sinan with the same chain of transmitters (and the words are): "As he meets Allah, He rewards him, and he is happy."
روزوں کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ وَهُوَ الْقَطَوَانِيُّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَدْخُلُ مَعَهُمْ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ يُقَالُ أَيْنَ الصَّائِمُونَ فَيَدْخُلُونَ مِنْهُ فَإِذَا دَخَلَ آخِرُهُمْ أُغْلِقَ فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ أَحَدٌ
ابوبکر بن ابی شیبہ، خالد بن مخلد، سلیمان بن بلال، ابوحازم، حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے اس دروازہ سے قیامت کے دن روزہ رکھنے والے ہی داخل ہوں گے ان کے علاوہ کوئی اور داخل نہیں ہوگا کہا جائے گا کہ روزہ رکھنے والے کہاں ہیں؟ پھر وہ اس دروازے سے داخل ہوں گے اور جب روزہ رکھنے والوں میں آخری داخل ہوجائے گا تو وہ دروازہ بند ہوجائے گا اور پھر کوئی اس دروازہ سے داخل نہیں ہوگا۔
Sahl bin Sad (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: In Paradise there is a gate which is called Rayyan through which only the observers of fast would enter on the Day on Resurrection. None else would enter along with them. It would be proclaimed: Where are the observers of fast that they should be admitted into it? -and when the last of them would enter, it would be closed and no one would enter it.
اللہ کے راستے میں ایسے آدمی کے لئے روزے رکھنے کی فضیلت کے بیان میں کہ جسے کوئی تکلیف وغیرہ نہ ہو۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِکَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا
محمد بن رمح بن مہاجر، لیث، ابن ہاد، سہیل بن ابی صالح، نعمان بن ابی عیاش، حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو بندہ بھی اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس دن کی وجہ سے اس کے چہرے کو دوزخ کی آگ سے ستر سال کی دوری کے برابر کر دے گا۔
Abu Said al Khudri (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Every servant of Allah who observes fast for a day in the way of Allah, Allah would remove, because of this day, his face farther from the Fire (of Hell) to the extent of seventy years distance.
اللہ کے راستے میں ایسے آدمی کے لئے روزے رکھنے کی فضیلت کے بیان میں کہ جسے کوئی تکلیف وغیرہ نہ ہو۔
و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز در اور دی، حضرت سہیل ؓ سے اس سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated by Suhail with the same chain of transmitters.
اللہ کے راستے میں ایسے آدمی کے لئے روزے رکھنے کی فضیلت کے بیان میں کہ جسے کوئی تکلیف وغیرہ نہ ہو۔
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ وَسُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنْ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا
اسحاق بن منصور، عبدالرحمن بن بشر، عبدالرزاق، ابن جریج، یحییٰ بن سعید، سہیل بن ابی صالح، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جس آدمی نے ایک دن اللہ تعالیٰ کے راستے میں روزہ رکھا اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ کو اس کے منہ سے ستر سال کی مسافت تک دور کر دے گا۔
Abu Said al-Khudri (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who observes fast for a day in the way of Allah He would remove his face from the Hell to the extent of seventy years distance.
دن کو زوال سے پہلے نفلی روزے کی نیت کا جواز نفلی روزہ کے بغیر عذر افطار کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَی بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ يَا عَائِشَةُ هَلْ عِنْدَکُمْ شَيْئٌ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِنْدَنَا شَيْئٌ قَالَ فَإِنِّي صَائِمٌ قَالَتْ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ أَوْ جَائَنَا زَوْرٌ قَالَتْ فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ أَوْ جَائَنَا زَوْرٌ وَقَدْ خَبَأْتُ لَکَ شَيْئًا قَالَ مَا هُوَ قُلْتُ حَيْسٌ قَالَ هَاتِيهِ فَجِئْتُ بِهِ فَأَکَلَ ثُمَّ قَالَ قَدْ کُنْتُ أَصْبَحْتُ صَائِمًا قَالَ طَلْحَةُ فَحَدَّثْتُ مُجَاهِدًا بِهَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ ذَاکَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يُخْرِجُ الصَّدَقَةَ مِنْ مَالِهِ فَإِنْ شَائَ أَمْضَاهَا وَإِنْ شَائَ أَمْسَکَهَا
ابوکامل، فضیل بن حسین، عبدالواحد بن زیاد، طلحہ بن یحییٰ بن عبیداللہ، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن مجه سے فرمایا: اے عائشہ! کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے آپ ﷺ نے فرمایا تو میں پھر روزہ رکھ لیتا ہوں پھر حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لے گئے تو ہمارے پاس کچھ ہدیہ لایا گیا اور کچھ مہمان بھی آگئے سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ واپس تشریف لائے تو میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس کچھ ہدیہ لایا گیا ہے اور کچھ مہمان بھی آئے ہیں اور میں نے آپ کے لئے کچھ چھپا کر رکھا ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا وہ حسیس ہے آپ ﷺ نے فرمایا اسے لے آؤ میں اسے لے آئی تو آپ ﷺ نے اسے کھایا پھر آپ ﷺ نے فرمایا میں نے صبح روزہ رکھا تھا طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے اسی سند کے ساتھ مجاہد ؓ سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ یہ اس آدمی کی طرح ہے کہ جو اپنے مال سے صدقہ نکالے تو اب اس کے اختیار میں ہے چاہے تو دے دے اور اگر چاہے تو اسے روک لے۔
Aisha, the Mother of the Believers (Allah be pleased with her), reported that one day the Messenger of Allah ﷺ said to me: Aisha, have you anything (to eat)? I said: Messenger of Allah, there is nothing with us. Thereupon he said: I am observing fast. She said: The Messenger of Allah ﷺ went out, and there was a present, for us and (at the same time) some visitors dropped in. When the Messenger of Allah ﷺ came back, I said to him: Messenger of Allah, a present was given to us, (and in the meanwhile) there came to us visitors (a major Portion of it has been spent on them), but I have saved something for you. He said: What is it? I said: It is hasees (a compound of dates and clarified butter). He said: Bring that. So I brought it to him and he ate it and then said: I woke up in the morning observing fast. Talha said: I narrated this hadith to Mujahid and he said: This (observing of voluntary fast) is like a person who sets apart Sadaqa out of his wealth. He may spend it if he likes, or he may retain it if he so likes.
دن کو زوال سے پہلے نفلی روزے کی نیت کا جواز نفلی روزہ کے بغیر عذر افطار کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَی عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ هَلْ عِنْدَکُمْ شَيْئٌ فَقُلْنَا لَا قَالَ فَإِنِّي إِذَنْ صَائِمٌ ثُمَّ أَتَانَا يَوْمًا آخَرَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ فَقَالَ أَرِينِيهِ فَلَقَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا فَأَکَلَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، طلحہ بن یحیی، ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک دن نبی ﷺ میری طرف تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ ہم نے عرض کیا نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں پھر دوسرے دن تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ہمارے لئے حسیس کا ہدیہ لایا گیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا وہ مجھے دکھاؤ میں نے صبح روزے کی نیت کی تھے پھر آپ ﷺ نے اسے کھالیا۔
Aisha, the Mother of the Believers (Allah be pleased with her), reported: The Apostle of Allah ﷺ came to me one day and said: Is there anything with you (to eat)? I said: No. Thereupon he said: I shall then be fasting. Then he came to us another day and we said: Messenger of Allah, has been offered to us as a gift. Thereupon he said: Show that to me; I had been fasting since morning. He then ate it.
اس بات کے بیان میں کہ بھول کر کھانے پینے اور جماع کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا
و حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هِشَامٍ الْقُرْدُوسِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَسِيَ وَهُوَ صَائِمٌ فَأَکَلَ أَوْ شَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ
عمرو بن محمد ناقد، اسماعیل بن ابراہیم، ہشام فردوسی، محمد بن سیرین، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو آدمی روزے کی حالت میں بھول جائے اور کھا پی لے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنا روزہ پورا کرلے کیونکہ اس کو یہ اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: If anyone forgets that he is fasting and eats or drinks he should complete his fast, for it is only Allah Who has fed him and given him drink.
رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا هَلْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَی رَمَضَانَ قَالَتْ وَاللَّهِ إِنْ صَامَ شَهْرًا مَعْلُومًا سِوَی رَمَضَانَ حَتَّی مَضَی لِوَجْهِهِ وَلَا أَفْطَرَهُ حَتَّی يُصِيبَ مِنْهُ
یحییٰ بن یحیی، یزید بن زریع، سعید جریری، حضرت عبداللہ بن شقیق ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے عرض کیا کہ کیا نبی ﷺ نے رمضان کے علاوہ کسی اور مہینہ میں پورا مہینہ روزے رکھے ہیں؟ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم! رمضان کے علاوہ کسی مہینہ میں پورا مہینہ روزے نہیں رکھے اور نہ ہی کوئی ایسا مہینہ گذرا ہے کہ جس میں آپ ﷺ نے بالکل روزے نہ رکھے ہوں یہاں تک کہ آپ ﷺ رحلت فرماگئے۔
Abdullah bin Shaqiq reported: I said toAisha (Allah be pleased with her): Did the Apostle of Allah ﷺ observe fast for full one month besides Ramadan? She said: I do not know of any month in which he fasted through-out, but that of the month of Ramadan and (the month) in which he did not fast at all, till he ran the course of his life.
رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا کَهْمَسٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا کُلَّهُ قَالَتْ مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا کُلَّهُ إِلَّا رَمَضَانَ وَلَا أَفْطَرَهُ کُلَّهُ حَتَّی يَصُومَ مِنْهُ حَتَّی مَضَی لِسَبِيلِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبیداللہ بن معاذ، کہمس، حضرت عبداللہ بن شقیق ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے عرض کیا کہ کیا نبی ﷺ نے پورا مہینہ روزے رکھے ہیں؟ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نہیں جانتی کہ آپ ﷺ نے رمضان کے علاوہ کسی مہینہ میں پورا مہینہ روزے رکھے ہوں اور نہ ہی کسی مہینہ میں روزے چھوڑے ہوں آپ ﷺ ہر مہینے کچھ نہ کچھ روزے رکھتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ اس دار فانی سے گزر گئے۔
Abdullah bin Shaqiq reported: I said to Aisha (Allah be pleased with her): Did the Messenger of Allah ﷺ observe fast during a month? She said, I do not know of any month in which he fasted throughout except Ramadan and (the month) in which he did not fast at all till he ran the course of his life. May peace be upon him.
رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ وَهِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ حَمَّادٌ وَأَظُنُّ أَيُّوبَ قَدْ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ کَانَ يَصُومُ حَتَّی نَقُولَ قَدْ صَامَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّی نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ قَدْ أَفْطَرَ قَالَتْ وَمَا رَأَيْتُهُ صَامَ شَهْرًا کَامِلًا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ إِلَّا أَنْ يَکُونَ رَمَضَانَ
ابوربیع زہرانی، حماد، ایوب، ہشام، محمد، حضرت عبداللہ بن شقیق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے نبی ﷺ کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزے ہی رکھتے رہیں گے آپ ﷺ افطار کرتے تو ہم کہتے کہ آپ ﷺ افطار ہی کرتے رہیں گے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جس وقت سے آپ ﷺ مدینہ تشریف لائے ہیں میں نے نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ نے رمضان کے علاوہ کسی مہینہ میں پورا مہینہ روزے رکھے ہوں۔
Abdullah bin Shaqiq reported. I asked Aisha (Allah be pleased with her) about fasting of the Messenger of Allah ﷺ . She said: He used to observe fast (at times) so continuously that we said: He has fasted, he has fasted. And (at times) he did not observe fast (for days) and we began to say: He has abandoned fasting, he has abandoned fasting. She said: I did not see him observing fast throughout the whole of the month since he arrived in Madinah, but that of Ramadan.
رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي الْإِسْنَادِ هِشَامًا وَلَا مُحَمَّدًا
قتیبہ، حماد، ایوب، عبداللہ بن شقیق، حضرت عبداللہ بن شقیق ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا پھر آگے اسی طرح حدیث ذکر فرمائی۔
A hadith like this has been narrated on the authority ofAbdullah bin Shaqiq but in the chain of transmitters no mention is made of Hisham and Muhammad.
رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّی نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّی نَقُولَ لَا يَصُومُ وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَکْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ قَطُّ إِلَّا رَمَضَانَ وَمَا رَأَيْتُهُ فِي شَهْرٍ أَکْثَرَ مِنْهُ صِيَامًا فِي شَعْبَانَ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابی نضر، مولیٰ عمر بن عبیداللہ، ابی سلمہ بن عبدالرحمن، ام المومنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ ﷺ افطار نہیں کریں گے اور آپ ﷺ افطار کرتے تو ہم کہتے کہ آپ ﷺ روزے نہیں رکھیں گے اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو رمضان کے مہینہ کے علاوہ کسی اور مہینہ میں پورا مہینہ روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی میں نے آپ ﷺ کو شعبان کے مہینہ کے علاوہ کسی اور مہینہ میں اتنی کثرت سے روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔
Aisha, the Mother of the Believers (Allah be pleased with her), reported that the Messenger of Allah ﷺ used to observe fasts (so continuously) that we said that he would not break, and did not observe (them) till we said that he would not fast: and I did not see the Messenger of Allah ﷺ completing the fast of a month, but that of Ramadan, and I did not see him fasting more in any other month than that of Shaban.
رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ کَانَ يَصُومُ حَتَّی نَقُولَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّی نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ وَلَمْ أَرَهُ صَائِمًا مِنْ شَهْرٍ قَطُّ أَکْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ کَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ کُلَّهُ کَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلَّا قَلِيلًا
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، ابن عیینہ، ابوبکر، سفیان بن عیینہ، ابی لبید، حضرت ابوسلمہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو سیدہ ؓ نے فرمایا کہ آپ روزے رکھتے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ روزے ہی رکھتے رہیں گے اور آپ ﷺ افطار کرتے تو ہم کہتے کہ آپ ﷺ افطار ہی کرتے رہیں گے اور میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ نے شعبان کے مہینہ سے زیادہ کسی اور مہینہ میں اتنی کثرت سے روزے رکھے ہوں آپ شعبان کے تھوڑے روزوں کے علاوہ پورا مہینہ روزے رکھتے تھے۔
Abu Salama reported: I asked Aisha (Allah be pleased with her) about the fasting of the Messenger of Allah ﷺ . She said: He used to observe fast (at times so continuously) that we said: He has fasted (never to break), and he did not observe fast till we said: He has given up perhaps never to fast, and I never saw him observing (voluntary fasts) more in any other month than that of Shaban. (lt appeared as if) he observed fast throughout the whole of Shaban except a few (days).
رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمْ يَکُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشَّهْرِ مِنْ السَّنَةِ أَکْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ وَکَانَ يَقُولُ خُذُوا مِنْ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَمَلَّ حَتَّی تَمَلُّوا وَکَانَ يَقُولُ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَی اللَّهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ وَإِنْ قَلَّ
اسحاق بن ابراہیم، معاذ بن ہشام، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی مہینہ میں شعبان سے زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے اور آپ فرماتے تھے کہ تمہیں جتنی طاقت ہو اتنے اعمال کرو کیونکہ اللہ تمہیں (اجر عطا کرنے سے) نہیں تھکتا۔ یہاں تک کہ تم تھک نہ جاؤ اور آپ ﷺ فرماتے تھے کہ اللہ کے نزدیک اعمال میں سے سب محبوب وہ عمل ہے جس پر اسے کوئی کرنے والا ہمیشگی کے ساتھ کرے اگرچہ وہ کم ہو۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: The Messenger of Allah ﷺ did not observe fast in any month of the year more than in the month of Shaban, and used to say: Do as many deeds as you are capable of doing, for Allah will not become weary (of giving you reward), but you would be tired (of doing good deeds); and he also said: The deed liked most by Allah is one to which the doer adheres constantly even if it is small.
رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَا صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا کَامِلًا قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ وَکَانَ يَصُومُ إِذَا صَامَ حَتَّی يَقُولَ الْقَائِلُ لَا وَاللَّهِ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ إِذَا أَفْطَرَ حَتَّی يَقُولَ الْقَائِلُ لَا وَاللَّهِ لَا يَصُومُ
ابوربیع زہرانی، ابوعوانہ، ابی بشر، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کوئی مہینہ رمضان کے علاوہ مکمل مہینہ روزے نہیں رکھے اور جب آپ روزے رکھتے تو کہنے والا کہتا نہیں اللہ کی قسم! اب آپ ﷺ افطار نہیں کریں گے اور جب افطار کرتے تو کہنے والا کہتا نہیں اللہ کی قسم! اب آپ ﷺ روزہ نہیں رکھیں گے۔
Ibn Abbas (RA) (Allah be pleased with both of them) reported: The Messenger of Allah ﷺ did not fast throughout any month except during Ramadan. And when he observed fast (he fasted so continuously) that one would say that he would not break (them) and when he abandoned, he abandoned (so continuously) that one would say: By Allah, perhaps he would never fast.
رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ عَنْ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ
محمد بن بشار، ابوبکر بن نافع، غندر، شعبہ، حضرت ابی بشر ؓ سے اس سند کے ساتھ روایت کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Bishar with the same chain of transmitters (with a slight variation of words and these are), that he (the narrator) said: "During any month continuously since he came to Madinah."
رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَکِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ صَوْمِ رَجَبٍ وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ فِي رَجَبٍ فَقَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّی نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّی نَقُولَ لَا يَصُومُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ابن نمیر، حضرت عثمان بن حکیم انصاری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر ؓ سے رجب کے روزوں کے بارے میں پوچھا اور ہم اس وقت کے مہینہ ہی میں تھے حضرت سعید ؓ نے فرمایا کہ میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ ﷺ افطار نہیں کریں گے اور افطار کرتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ ﷺ روزہ نہیں رکھیں گے۔
Uthman bin Hakim al-Ansari said: I asked Said bin Jubair about fasting In Rajab, and we were then passing through the month of Rajab, whereupon he said: I heard Ibn Abbas (Allah be pleased with both of them) as saying: The Messenger of Allah ﷺ used to observe fast (so continuously) that we (were inclined) to say that he would not break (them) and did not observe them so continuously) that we (were inclined to say) that he would not observe fast.
رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کِلَاهُمَا عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَکِيمٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ
علی بن حجر، علی بن مسہر، ابراہیم بن موسی، عیسیٰ بن یونس، حضرت عثمان بن حکیم ؓ سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
The same hadith as the previous hadith has been transmitted through another chain.
رمضان کے علاوہ دوسر مہینوں میں نبی ﷺ کے روزوں اور ان کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ قَالَا حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَصُومُ حَتَّی يُقَالَ قَدْ صَامَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّی يُقَالَ قَدْ أَفْطَرَ قَدْ أَفْطَرَ
زہیر بن حرب، ابن ابی خلف، روح بن عبادہ، حماد، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ کہا جانے لگتا کہ آپ ﷺ روزے ہی رکھتے رہیں گے اور آپ ﷺ افطار کرتے یہاں تک کہ کہا جانے لگا کہ اب آپ ﷺ افطار ہی کرتے رہیں گے۔
Anas (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ used to observe fast till it was said that he had observed fast, he had observed fast (perhaps never to break it), and he did not fast till it was said that he had given up fast, he had given up fast (perhaps never to observe it).