Sahih Muslim

All 7,570 hadiths in order · Page 135 of 379

2689Sahih Muslim

رمضان کے روزوں کی قضا جب تک کہ دوسرا رمضان نہ آجائے تاخیر کے جواز کے بیان میں اور یہ اس آدمی کے لئے ہے جس نے بیماری سفر حیض وغیرہ عذر کی وجہ سے روزہ چھوڑ دیا

و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فَظَنَنْتُ أَنَّ ذَلِکَ لِمَکَانِهَا مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْيَی يَقُولُهُ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، حضرت یحییٰ بن سعید نے اس سند کے ساتھ اس طرح بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ یہ تاخیر نبی ﷺ کی خدمت میں مشغولی کی وجہ سے ہوتی تھی۔

(In another version, the words are): "Yahya said: I think it was due to the regard for the Apostle of Allah ﷺ ."

2690Sahih Muslim

رمضان کے روزوں کی قضا جب تک کہ دوسرا رمضان نہ آجائے تاخیر کے جواز کے بیان میں اور یہ اس آدمی کے لئے ہے جس نے بیماری سفر حیض وغیرہ عذر کی وجہ سے روزہ چھوڑ دیا

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ح و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَی بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرَا فِي الْحَدِيثِ الشُّغْلُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

محمد بن مثنی، عبدالوہاب، عمرو ناقد، سفیان، حضرت یحییٰ سے اس سند کے ساتھ روایت ہے اور اس حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی وجہ سے قضا میں تاخیر ہوتی تھی۔

This hadith is reported on the authority of Yahya with the same chain of transmitters but no mention is made of the duty to the Messenger of Allah ﷺ .

2691Sahih Muslim

رمضان کے روزوں کی قضا جب تک کہ دوسرا رمضان نہ آجائے تاخیر کے جواز کے بیان میں اور یہ اس آدمی کے لئے ہے جس نے بیماری سفر حیض وغیرہ عذر کی وجہ سے روزہ چھوڑ دیا

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ إِنْ کَانَتْ إِحْدَانَا لَتُفْطِرُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا تَقْدِرُ عَلَی أَنْ تَقْضِيَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی يَأْتِيَ شَعْبَانُ

محمد بن ابی عمر مکی، عبدالعزیز بن محمد در اور دی، یزید بن عبداللہ بن ہاد، محمد بن ابراہیم، ابی سلمہ بن عبدالرحمن، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ اگر ہم میں سے کوئی رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں کوئی روزہ چھوڑتی تھی تو وہ قدرت نہ رکھتی کہ ان کی قضا کرلے رسول اللہ ﷺ کی وجہ سے یہاں تک کہ شعبان آجاتا۔

Aisha reported: If one amongst us had to break fasts of Ramadan (due to natural reasons, i. e. menses) during the life of the Messenger of Allah ﷺ she could not find it possible to complete them so long she had been in the presence of Allahs Messenger ﷺ till Shaban commenced.

2692Sahih Muslim

میت کی طرف سے روزوں کی قضا کے بیان میں

و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ صَامَ عَنْهُ وَلِيُّهُ

ہارون بن سعید، احمد بن عیسی، ابن وہب، عمرو بن حارث، عبیداللہ بن ابی جعفر، محمد بن جعفر بن زبیر، عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی انتقال کر جائے اور اس پر کچھ روزے لازم ہوں تو اس کا وارث اس کی طرف سے روزے رکھے۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: If anyone dies in a state (that he had to complete) some fasts, his heir must fast on his behalf.

2693Sahih Muslim

میت کی طرف سے روزوں کی قضا کے بیان میں

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ فَقَالَ أَرَأَيْتِ لَوْ کَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَکُنْتِ تَقْضِينَهُ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ بِالْقَضَائِ

اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اعمش، مسلم، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی کہ میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور اس پر ایک مہینے کے روزے لازم ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تیرا کیا خیال ہے کہ اگر اس پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو اسے ادا کرتی؟ اس نے عرض کیا ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے قرض کا زیادہ حق ہے کہ اسے ادا کیا جائے

Ibn Abbas (Allah be pleased with both of them) reported: A woman came to the Messenger of Allah ﷺ and said: My mother has died, and fasts of a month are due from her. Thereupon he said: Dont you see that if debt was due from her, would you not pay it? She said: Yes (I would pay on her behalf). Thereupon he said: The debt of Allah deserves its payment more than the payment of anyone else.

2694Sahih Muslim

میت کی طرف سے روزوں کی قضا کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَکِيعِيُّ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا فَقَالَ لَوْ کَانَ عَلَی أُمِّکَ دَيْنٌ أَکُنْتَ قَاضِيَهُ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَی قَالَ سُلَيْمَانُ فَقَالَ الْحَکَمُ وَسَلَمَةُ بْنُ کُهَيْلٍ جَمِيعًا وَنَحْنُ جُلُوسٌ حِينَ حَدَّثَ مُسْلِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَا سَمِعْنَا مُجَاهِدًا يَذْکُرُ هَذَا عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ

احمد بن عمر وکیعی، حسین بن علی، زائدہ، سلیمان، مسلم، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت آپ ﷺ کی خدمت میں آئی اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ﷺ میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور اس پر ایک مہینے کے روزوں کی قضا لازم ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر تیری ماں پر کوئی قرض ہوتا تو کیا وہ قرض اس کی طرف سے تو ادا کرتی؟ عرض کیا کہ ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کا قرض زیادہ اس کا حقدار ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔

Ibn Abbas (RA) reported: A man came to the Apostle of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, my mother has died (in a state) that she had to observe fasts of a month (of Ramadan). Should I complete (them) on her behalf? Thereupon he (the Holy Prophet) said: Would you not pay the debt if your mother had died (without paying it)? He said: Yes. He (the Holy Prophet) said: The debt of Allah deserves more that it should he paid.

2695Sahih Muslim

میت کی طرف سے روزوں کی قضا کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ وَالْحَکَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَمُجَاهِدٍ وَعَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ

ابوسعید اشج، ابوخالد، اعمش، سلمہ بن کہیل، حکم بن عتیبہ، مسلم، سعید بن جبیر، مجاہد، وعطاء، ابن عباس اس سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ نے نبی کریم ﷺ سے اس حدیث کی طرح روایت کیا۔

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Abbas (RA) from the Apostle of Allah ﷺ .

2696Sahih Muslim

میت کی طرف سے روزوں کی قضا کے بیان میں

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَابْنُ أَبِي خَلَفٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ زَکَرِيَّائَ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِي زَکَرِيَّائُ بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَائَتْ امْرَأَةٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ نَذْرٍ أَفَأَصُومُ عَنْهَا قَالَ أَرَأَيْتِ لَوْ کَانَ عَلَی أُمِّکِ دَيْنٌ فَقَضَيْتِيهِ أَکَانَ يُؤَدِّي ذَلِکِ عَنْهَا قَالَتْ نَعَمْ قَالَ فَصُومِي عَنْ أُمِّکِ

اسحاق بن منصور، ابن ابی خلف، عبد بن حمید، زکریا بن عدی، عبیداللہ بن عمرو، زید بن ابی انیسہ، حکم بن عتیبہ، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی اور عرض کرنے لگی اے اللہ کے رسول ﷺ! میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اور اس پر منت کا روزہ لازم تھا تو کیا میں اس کی طرف سے روزہ رکھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا تیرا کیا خیال ہے کہ اگر تیری ماں پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تو اس کی طرف سے ادا کرتی؟ اس نے عرض کیا ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کا قرض اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔ آپ نے فرمایا کہ تو اپنی ماں کی طرف سے روزہ رکھ۔

Ibn Abbas (RA) reported: A woman came to the Messenger of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, my mother has died and there is due from her a fast of vow; should I fast on her behalf? Thereupon he said: You see that if your mother had died in debt, would it not have been paid on her behalf? She said: Yes. He (the Holy Prophet) said: Then observe fast on behalf of your mother.

2697Sahih Muslim

میت کی طرف سے روزوں کی قضا کے بیان میں

و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ أَبُو الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَائٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَی أُمِّي بِجَارِيَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ قَالَ فَقَالَ وَجَبَ أَجْرُکِ وَرَدَّهَا عَلَيْکِ الْمِيرَاثُ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ کَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَصُومُ عَنْهَا قَالَ صُومِي عَنْهَا قَالَتْ إِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ قَطُّ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا قَالَ حُجِّي عَنْهَا

علی بن حجر، علی بن مسہر، ابوالحسن، عبداللہ بن عطاء، حضرت عبداللہ بن بریدہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت آئی اور اس نے عرض کیا کہ میں نے اپنی ماں پر ایک باندی صدقہ کی تھی اور وہ فوت ہوگئی ہے آپ ﷺ نے فرمایا تیرا اجر لازم ہے اور وراثت نے تجھ پر اسے لوٹا دیا اس عورت نے عرض کیا کہ اس پر ایک ماہ کے روزے بھی لازم تھے کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھوں؟ آپ نے فرمایا تو اس کی طرف سے روزے رکھ لے اس عورت نے عرض کیا کہ میری ماں نے حج نہیں کیا تھا کیا میں اس کی طرف سے حج بھی کرلوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس کی طرف سے حج بھی کرلے۔

Abdullah bin Buraida (RA) reported on the authority of his father: When we were sitting with the Messenger of Allah ﷺ , a woman came to him and said: I had gifted to my mother a maid-servant, and now she (the mother) has died. Thereupon he (the Holy Prophet) said: There is a definite reward for you and she (the maid-servant) has been returned to you as an inheritance. She (that woman) again said: Fasts of a month (of Ramadan) are due upon her; should I observe them on her behalf? He (the Holy Prophet) said: Observe fasts on her behalf. She (again) said: She did not perform Hajj, should I perform it on her behalf? He (the Holy Prophet) said: Perform Hajj on her behalf.

2698Sahih Muslim

میت کی طرف سے روزوں کی قضا کے بیان میں

و حدثناه ابوبکر بن ابی شيبة حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَائٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ صَوْمُ شَهْرَيْنِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، عبداللہ بن عطاء، حضرت عبداللہ بن بریدہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا پھر آگے ابن مسہر کی حدیث مبارکہ کی طرح حدیث مبارکہ ذکر فرمائی اور اس میں دو مہینے کے روزوں کا کہا۔

Abdullah bin Buraida (RA) reported on the authority of his father: I was sitting with the Apostle of Allah ﷺ ; the rest of the hadith is the same but with this variation that the (the narrator) said: "Fasts of two months."

2699Sahih Muslim

میت کی طرف سے روزوں کی قضا کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَائَتْ امْرَأَةٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ بِمِثْلِهِ وَقَالَ صَوْمُ شَهْرٍ

عبد بن حمید، عبدالرزاق، ثوری، عبداللہ بن عطاء، حضرت بریدہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئی اور اس طرح ذکر فرمایا اور اس میں ایک مہینے کے روزوں کا ذکر ہے۔

Ibn Buraida (RA) reported on the authority of his father: A woman came to the Apostle of Allah ﷺ , and the rest of the hadith is the same, but he said: "Fasting of one month."

2700Sahih Muslim

میت کی طرف سے روزوں کی قضا کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ صَوْمُ شَهْرَيْنِ

اسحاق بن منصور، عبیداللہ بن موسی، حضرت سفیان ؓ سے اس سند کے ساتھ روایت مذکور ہے اور اس میں دو مہنیے کے روزوں کا کہا ہے

This hadith has been narrated on the authority of Sufyan with the same chain of transmitters in which it is said: "Fasting of two months."

2701Sahih Muslim

میت کی طرف سے روزوں کی قضا کے بیان میں

و حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَائٍ الْمَکِّيِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَتْ امْرَأَةٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَقَالَ صَوْمُ شَهْرٍ

ابن ابی خلف، اسحاق بن یوسف، عبدالملک بن ابی سلیمان، عبداللہ بن عطاء مکی، حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے باپ سے اس حدیث کی طرح روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کی طرف ایک عورت آئی آگے اسی طرح حدیث ہے اور ایک مہینے کے روزوں کا کہا۔

Buraida (RA) reported a similar hadith on the authority of his father that a woman came to the Apostle of Allah ﷺ and he said: "Fasting for one month."

2702Sahih Muslim

اس بات کے استح کے بیان میں کہ جب کوئی روزہ دار کو کھانے کیطرف بلائے یا اسے گالی دی جائے یا اس سے جھگڑا کیا جائے تو وہ یہ کہے کہ میں روزہ دار ہوں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ رِوَايَةً و قَالَ عَمْرٌو يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و قَالَ زُهَيْرٌ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا دُعِيَ أَحَدُکُمْ إِلَی طَعَامٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عمروناقد، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو کوئی کھانے کی طرف بلائے اس حال میں کہ وہ روزہ دار ہو تو اسے چاہئے کہ وہ کہے کہ میں روزہ دار ہوں۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying: If any one of you is invited to a meal when he is fasting, he should say: "I am fasting."

2703Sahih Muslim

روزہ دار کے لئے زبان کی حفاظت کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رِوَايَةً قَالَ إِذَا أَصْبَحَ أَحَدُکُمْ يَوْمًا صَائِمًا فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ فَإِنْ امْرُؤٌ شَاتَمَهُ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ إِنِّي صَائِمٌ

زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ جب تم میں سے کوئی روزے کی حالت میں صبح کرے تو نہ تو وہ کوئی بےہودہ بات کرے اور نہ ہی کوئی جہالت کا کام کرے تو اگر کوئی اسے گالی سے یا اس سے لڑے تو اسے چاہئے کہ وہ کہہ دے کہ میں روزہ سے ہوں میں روزہ سے ہوں۔

Abu Hurairah (RA) reported: When any one of you gets up in the morning in the state of fasting, he should neither use obscene language nor do any act of ignorance. And if anyone slanders him or quarrels with him, he should say: "I am fasting, I am fasting."

2704Sahih Muslim

روزوں کی فضیلت کے بیان میں

و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ هُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلْفَةُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْکِ

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ابن آدم نے ہر عمل اپنے لئے کیا سوائے روزوں کے کہ وہ میرے لئے ہے اور میں اس کا بدلہ دوں گا تو قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں روزہ دار کے منہ کی بو مشک سے زیادہ پاکیزہ (اور خوشبودار) ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah, the Majestic and the Exalted, said: Every act of the son of Adam علیہ السلامعلیہ السلامis for him except fasting. It is done for My sake, and I will give a reward for it. By Allah in Whose Hand is the life of Muhammad, the breath of the observer of fast is sweeter to Allah than the fragrance of musk.

2705Sahih Muslim

روزوں کی فضیلت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ وَهُوَ الْحِزَامِيُّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصِّيَامُ جُنَّةٌ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، قتیبہ بن سعید، مغیرہ، ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Fasting is a shield.

2706Sahih Muslim

روزوں کی فضیلت کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ فَإِذَا کَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِکُمْ فَلَا يَرْفُثْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَسْخَبْ فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْکِ وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِهِ وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عطاء، ابی صالح، حضرت اب صالح زیات سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہ ابن آدم کا ہر عمل روزوں کے علاوہ اسی کے لئے ہے اور روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں ہی روزوں کا بدلہ دوں گا اور روزہ ڈھال ہے تو جب تم میں سے کوئی روزہ رکھے تو وہ اس دن نہ بےہودہ گفتگو کرے اور نہ کوئی فحش کام کرے اور اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے جھگڑے تو اسے چاہئے کہ وہ آگے سے کہہ دے کہ میں روزہ سے ہوں میں روزہ سے ہوں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ روزہ رکھنے والے کے منہ کی بُو اللہ کے ہاں قیامت کے دن مشک کی خوشبو سے زیادہ خوشبودار ہوگی اور روزہ رکھنے والے کے لئے دو خوشیاں ہیں جس کی وجہ سے وہ خوش ہوگا جب روزہ افطار کرتا ہے تو وہ اپنی اس افطاری سے خوش ہوتا ہے جب وہ اپنے رَبّ سے ملے گا تو وہ اپنے روزہ سے خوش ہوگا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah the Exalted and Majestic said: Every act of the son of Adam علیہ السلامعلیہ السلامis for him, except fasting. It is (exclusively) meant for Me and I (Alone) will reward it. Fasting is a shield. When any one of you is fasting on a day, he should neither indulge in obscene language, nor raise the voice; or if anyone reviles him or tries to quarrel with him he should say: I am a person fasting. By Him, in Whose Hand is the life of Muhammad, the breath of the observer of fast is sweeter to Allah on the Day of Judgment than the fragrance of musk. The one who fasts has two (occasions) of joy, one when he breaks the fast he is glad with the breaking of (the fast) and one when he meets his Lord he is glad with his fast.

2707Sahih Muslim

روزوں کی فضیلت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ يُضَاعَفُ الْحَسَنَةُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا إِلَی سَبْعمِائَة ضِعْفٍ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ أَجْلِي لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ وَفَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَائِ رَبِّهِ وَلَخُلُوفُ فِيهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْکِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، وکیع، اعمش، زہیر بن حرب، جریر، اعمش، ابوسعید، وکیع، اعمش، ابی صالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ابن آدم کے ہر عمل میں سے نیک عمل کو دس گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ اللہ نے فرمایا سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا کیونکہ روزہ رکھنے والا میری وجہ سے اپنی شہوت اور اپنے کھانے سے رکا رہتا ہے۔ روزہ رکھنے والے کے لئے دو خوشیاں ہیں ایک اسے افطاری کے وقت خوشی حاصل ہوتی ہے اور دوسری خوشی اپنے رب عزوجل سے ملاقات کے وقت حاصل ہوگی اور روزہ رکھنے والے کے منہ کی بُو اللہ عزوجل کے ہاں مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ (خوشبودار) ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Every (good) deed of the son of Adam علیہ السلامعلیہ السلامwould be multiplied, a good deed receiving a tenfold to seven hundredfold reward. Allah, the Exalted and Majestic, has said: With the exception of fasting, for it is done for Me and I will give a reward for it, for one abandons his passion and food for My sake. There are two occasions of joy for one who fasts, joy when he breaks it, and joy when he meets his Lord, and the breath (of an observer of fast) is sweeter to Allah than the fragrance of musk.

2708Sahih Muslim

روزوں کی فضیلت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِي سِنَانٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِنَّ الصَّوْمَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ إِنَّ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَيْنِ إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَرِحَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْکِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن فضیل، ابی سنان، ابی صالح، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابن آدم کے ہر عمل میں سے ایک نیک عمل کو دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے اللہ نے فرمایا سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا کیونکہ روزہ رکھنے والا میری وجہ سے اپنی شہوت اور اپنے کھانے سے رکا رہتا ہے روزہ رکھنے والے لے کئے دو خوشیاں ہیں ایک اسے افطاری کے وقت خوشی حاصل ہوتی ہے اور دوسری خوشی اپنے رب عزوجل سے ملاقات کے وقت حاصل ہوگی اور روزہ رکھنے والے کے منہ کی بُو اللہ عزوجل کے ہاں مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Every (good) deed of the son of Adam علیہ السلامعلیہ السلامwould be multiplied, a good deed receiving a tenfold to seven hundredfold reward. Allah, the Exalted and Majestic, has said: With the exception of fasting, for it is done for Me and I will give a reward for it, for one abandons his passion and food for My sake. There are two occasions of joy for one who fasts, joy when he breaks it, and joy when he meets his Lord, and the breath (of an observer of fast) is sweeter to Allah than the fragrance of musk.