سحری کھانے کی فضیلت اور اس کی تاکید اور آخری وقت تک کھانے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حو حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسَحَّرُوا فَإِنَّ فِي السُّحُورِ بَرَکَةً
یحییٰ بن یحیی، ہشیم، عبدالعزیز بن صہیب، انس، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن علیہ، عبدالعزیز، انس، قتیبہ بن سعید، قتادہ، عبدالعزیز بن صہیب، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سحری کھایا کرو کیونکہ سحری کے کھانے میں برکت ہوتی ہے۔
Anas (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Take meal a little before dawn, for there is a blessing in taking meal at that time.
سحری کھانے کی فضیلت اور اس کی تاکید اور آخری وقت تک کھانے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ مُوسَی بْنِ عُلَيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَی عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْکِتَابِ أَکْلَةُ السَّحَرِ
قتیبہ بن سعید، لیث، موسیٰ بن علی، ابی قیس، مولیٰ عمرو بن عاص، حضرت عمر بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہمارے روزے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان سحری کھانے کا فرق ہے۔
Amr bin al-As reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The difference between our fasting and that of the people of the Book is eating shortly before dawn.
سحری کھانے کی فضیلت اور اس کی تاکید اور آخری وقت تک کھانے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ ح و حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ کِلَاهُمَا عَنْ مُوسَی بْنِ عُلَيٍّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ ؓ اس سند کے ساتھ حضرت موسیٰ بن علی ؓ سے اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
Musa bin Ali has narrated this hadith through the same chain of transmitters.
سحری کھانے کی فضیلت اور اس کی تاکید اور آخری وقت تک کھانے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قُمْنَا إِلَی الصَّلَاةِ قُلْتُ کَمْ کَانَ قَدْرُ مَا بَيْنَهُمَا قَالَ خَمْسِينَ آيَةً
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ہشام، قتادہ، انس، حضرت زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سحری کھائی پھر نماز کے لئے کھڑے ہوئے میں نے عرض کیا کہ سحری کھانے اور نماز کے درمیان کتنا وقفہ تھا آپ نے فرمایا پچاس آیات کے برابر۔
Zaid bin Thabit (RA) said: We took meal shortly before dawn along with the Messenger of Allah ﷺ . We then stood up for prayer. I said: How much span of time was there between the two (acts, i. e. taking of Sahri and observing of prayer)? He said (a span of reciting) fifty verses.
سحری کھانے کی فضیلت اور اس کی تاکید اور آخری وقت تک کھانے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ کِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
عمرو ناقد، یزید بن ہارون، ہمام، ابن مثنی، سالم بن نوح، عمر بن عامر، قتادہ اس سند کے ساتھ حضرت قتادہ ؓ سے روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of Qatada too.
سحری کھانے کی فضیلت اور اس کی تاکید اور آخری وقت تک کھانے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ
یحییٰ بن یحیی، عبدالعزیز بن ابی حازم، حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگ ہمیشہ بھلائی کے ساتھ رہیں گے جب تک روزہ جلد افطار کرتے رہیں گے
Sahl bin Sad (RA) repotted Allahs Messenger ﷺ as saying: The people will continue to prosper as long as they hasten the breaking of the fast.
سحری کھانے کی فضیلت اور اس کی تاکید اور آخری وقت تک کھانے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
قتیبہ، یعقوب، زہیر بن حرب، عبدالرحمن ابن مہدی، سفیان، حضرت سہل بن سعد ؓ نے نبی کریم ﷺ سے اسی حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی ہے
A hadith like this has been transmitted by Sahl bin Sad.
سحری کھانے کی فضیلت اور اس کی تاکید اور آخری وقت تک کھانے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ قَالَا أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَی عَائِشَةَ فَقُلْنَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ قَالَتْ أَيُّهُمَا الَّذِي يُعَجِّلُ الْإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلَاةَ قَالَ قُلْنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَتْ کَذَلِکَ کَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَادَ أَبُو کُرَيْبٍ وَالْآخَرُ أَبُو مُوسَی
یحییٰ بن یحیی، ابوکریب، محمد بن علاء، ابومعاویہ، اعمش، عمارہ بن عمیر، حضرت ابوعطیہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اور مسروق دونوں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ام المومینن! محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے دو آدمی ہیں ان میں سے ایک افطاری میں جلدی کرتا ہے اور نماز میں بھی جلدی کرتا ہے دوسرا ساتھی افطاری میں تاخیر کرتا ہے اور نماز میں بھی تاخیر کرتا ہے؟ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا کہ ان میں سے وہ کون ہیں جو افطاری میں جلدی کرتے ہیں اور نماز بھی جلدی پڑھتے ہیں حضرت ابوعطیہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا کہ وہ حضرت عبداللہ ؓ ہیں یعنی ابن مسعود، حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے اب کریب کی روایت میں اتنا زائد ہے کہ دوسرے ساتھی حضرت ابوموسی ؓ ہیں۔
Abu Atiyya reported: I and Masruq went to Aisha and said to her: Mother of the Believers, there are two persons among the Companions of Muhammad ﷺ one among whom hastens in breaking the fast and in observing prayer, and the other delays breaking the fast and delays observing prayer. She said: Who among the two hastens in breaking fast and observing prayers? We said, It is Abdullah. i. e. son of Masud. whereupon she said: This is how the Messenger of Allah ﷺ did. Abu Kuraib added: The second one was Abu Musa.
سحری کھانے کی فضیلت اور اس کی تاکید اور آخری وقت تک کھانے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَمَسْرُوقٌ عَلَی عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ لَهَا مَسْرُوقٌ رَجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کِلَاهُمَا لَا يَأْلُو عَنْ الْخَيْرِ أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَالْإِفْطَارَ وَالْآخَرُ يُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَالْإِفْطَارَ فَقَالَتْ مَنْ يُعَجِّلُ الْمَغْرِبَ وَالْإِفْطَارَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَتْ هَکَذَا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ
ابوکریب، ابن ابی زائدہ، اعمش، عمارہ، حضرت ابوعطیہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ میں اور حضرت مسروق ؓ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سے حضرت مسروق ؓ نے عرض کیا کہ محمد ﷺ کے ساتھیوں میں سے دو آدمی ایسے ہیں جو بھلائی کے بارے میں کمی نہیں کرتے ان میں سے ایک مغرب کی نماز اور افطاری میں جلدی کرتا ہے دوسرا مغرب کی نماز اور افطاری میں تاخیر کرتا ہے تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ مغرب کی نماز اور افطاری میں کون جلدی کرتا ہے؟ مسروق ؓ نے عرض کیا کہ حضرت عبداللہ تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
Abu Atiyya reported: I and Misruq went to Aisha (Allah be pleased with her) and Masruq said to her: There are two persons among the Companions of Muhammad ﷺ none of whom abandons the good, but one of them hastens to observe sunset prayer and break the fast, and the other delays in observing the sunset prayer and in breaking the fast, whereupon she said: Who hastens to observe sunset prayer and break the fast? He said: It is Abdullah. Upon this she said: This is how the Messenger of Allah ﷺ used to do.
روزہ پورا ہونے اور دن کے نکلنے کے وقت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو کُرَيْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَاتَّفَقُوا فِي اللَّفْظِ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ و قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي و قَالَ أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ وَأَدْبَرَ النَّهَارُ وَغَابَتْ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ لَمْ يَذْکُرْ ابْنُ نُمَيْرٍ فَقَدْ
یحییٰ بن یحیی، ابوکریب، ابن نمیر، یحییٰ، ابومعاویہ، ابن نمیر، ابوکریب، اسامہ، ہشام، عروہ، عاصم، ابن عمر، حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب رات آجائے اور دن چلا جائے اور سورج غروب ہوجائے تو روزہ رکھنے والے کو روزہ افطار کرلینا چاہیے۔
Umar (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When the night approaches and the day retreates and the sun sinks down, then the observer of the fast should break it. Ibn Numair made no mention of the word "then".
روزہ پورا ہونے اور دن کے نکلنے کے وقت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَلَمَّا غَابَتْ الشَّمْسُ قَالَ يَا فُلَانُ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيْکَ نَهَارًا قَالَ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا قَالَ فَنَزَلَ فَجَدَحَ فَأَتَاهُ بِهِ فَشَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ إِذَا غَابَتْ الشَّمْسُ مِنْ هَا هُنَا وَجَائَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ
یحییٰ بن یحییٰ، ہشیم، ابی اسحاق شیبانی، حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان کے مہینے میں ایک سفر میں تھے جب سورج غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا اے فلاں! اتر اور ہمارے لئے ستو ملا اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ابھی تو دن ہے آپ نے فرمایا اتر اور ہمارے لئے ستو ملا تو وہ اترا اور اس نے ستو ملا کر آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا نبی ﷺ نے ستو پیا پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک سے فرمایا جب سورج اس طرف سے غروب ہوجائے اور اس طرف سے رات آجائے تو روزہ رکھنے والے کو روزہ افطار کرلینا چاہیے۔
Abdullah bin Abi Aufa reported: We were with the Messenger of Allah ﷺ on a journey during the month of Ramadan. When the sun had sunk he said: So and so, get down (from your ride) and prepare the meal of parched barley for us. He said: Messenger of Allah, still there is light of day. He (the Holy Prophet) said: Get down and prepare meal of parched barley for us. So he got down and prepared the meal of parched barley and offered him, and the apostle of Allah ﷺ drank that (liquid meal). He then told with the gesture of his hand that when the sun sank from that side and the night appeared from that side, then the observer of the fast should break it.
روزہ پورا ہونے اور دن کے نکلنے کے وقت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَعَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا غَابَتْ الشَّمْسُ قَالَ لِرَجُلٍ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمْسَيْتَ قَالَ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا قَالَ إِنَّ عَلَيْنَا نَهَارًا فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُ فَشَرِبَ ثُمَّ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمْ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، عباد بن عوام، شیبانی، حضرت ابن ابی اوفیٰ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے جب سورج غروب ہوگیا تو آپ ﷺ نے ایک آدمی سے فرمایا اتر اور ہمارے لئے ستو ملا اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اگر آپ شام ہونے دیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا اتر اور ہمارے لئے ستو ملا اس نے عرض کیا ابھی تو دن ہے وہ اترا اور اس نے ستو ملایا آپ ﷺ نے ستو پیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات اس طرف آگئی ہے اور آپ ﷺ نے مشرق کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا تو روزہ دار کو روزہ افطار کرلینا چاہئے۔
Ibn Abi Aufa (RA) reported: We were with the Messenger of Allah ﷺ on a journey. When the sun sank he said to a person: Get down and prepare barley meal for us. Upon this he said: Messenger of Allah, let there be dusk. (He the Holy Prophet) said: Get down and prepare barley meal for us. He (the person) said: There is still (the light of) day upon us. (But) he got down (in obedience to the command of the Holy Prophet) and prepared a barley meal for him and he (the Holy Prophet) drank that (liquid meal) and then said: When you see the night approaching from that side (west) (and he pointed towards the east with his hand), then the observer of the fast should break it.
روزہ پورا ہونے اور دن کے نکلنے کے وقت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُا سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ فَلَمَّا غَرَبَتْ الشَّمْسُ قَالَ يَا فُلَانُ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ وَعَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ
ابوکامل، عبدالواحد، سلیمان شیبانی، حضرت عبداللہ بن اوفی ؓ فرماتے ہیں کہ تم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور آپ ﷺ روزہ کی حالت میں تھے تو جب سورج غروب ہوگیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اے فلاں! اتر اور ہمارے لئے ستو لا آگے حدیث اسی طرح ہے۔
Abdullah bin Abi Aufa (RA) reported: We travelled with the Messenger of Allah ﷺ as he had been observing fast. When the sun sank he said: So and so, get down and prepare barley meal for us. The rest of the hadith is the same.
روزہ پورا ہونے اور دن کے نکلنے کے وقت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ کِلَاهُمَا عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَی ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ وَعَبَّادٍ وَعَبْدِ الْوَاحِدِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ وَلَا قَوْلُهُ وَجَائَ اللَّيْلُ مِنْ هَا هُنَا إِلَّا فِي رِوَايَةِ هُشَيْمٍ وَحْدَهُ
ابن ابی عمر، سفیان، اسحاق، جریر، شیبانی، ابن ابی اوفی، عبیداللہ بن معاذ، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ اس سند کے ساتھ حضرت ابن اوفی ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے لیکن اس میں بعض الفاظ کی کمی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Abi Aufa (RA) through another chain of transmitters (but with a sight alteration of words): In this hadith transmitted by one of the narrators (neither these words are found): "During the month of Ramadan." nor his statement: "And the night prevails from that side (the eastern side)." (These words are found in the narration of) Hushaim only.
صوم وصال کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْوِصَالِ قَالُوا إِنَّکَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ کَهَيْئَتِکُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَی
یحییٰ بن یحییٰ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے صوم وصال سے منع فرمایا ہے صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ آپ تو وصال کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں کیونکہ مجھے تو کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔
Ibn Umar (Allah be pleased with both of them) said that the Apostle of Allah ﷺ forbade uninterrupted fasting. They (some of the Companions) said: You yourself fast uninterruptedly, whereupon he said: I am not like you. I am fed and supplied drink (by Allah).
صوم وصال کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاصَلَ فِي رَمَضَانَ فَوَاصَلَ النَّاسُ فَنَهَاهُمْ قِيلَ لَهُ أَنْتَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ مِثْلَکُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَی
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں وصال فرمایا (یعنی بغیر افطاری کے مسلسل روزے رکھے) لہذا صحابہ ؓ نے بھی وصال شروع کردیا تو آپ ﷺ نے ان کو منع فرمایا۔ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ آپ بھی تو وصال کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں کیونکہ مجھے کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔
Ibn Umar reported that the Messenger of Allah ﷺ observed fasts uninterruptedly in Ramadan and the people (in his wake) did this. But he forbade them to do so. It was said to him (to the Holy Prophet): You yourself observe the fasts uninterruptedly (but you forbid us to do so). Upon this he said: I am not like you; I am fed and supplied drink (by Allah).
صوم وصال کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَقُلْ فِي رَمَضَانَ
عبدالوارث بن عبدالصمد، ایوب، نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اسی حدیث کی طرح نقل فرمایا ہے لیکن اس میں رمضان کا لفظ نہیں۔
A hadith like this has been transmitted by Ibn Umar (Allah be pleased with both of them), but he did not make mention of (the words): "During the month of Ramadan."
صوم وصال کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَإِنَّکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُوَاصِلُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَيُّکُمْ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنْ الْوِصَالِ وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا ثُمَّ يَوْمًا ثُمَّ رَأَوْا الْهِلَالَ فَقَالَ لَوْ تَأَخَّرَ الْهِلَالُ لَزِدْتُکُمْ کَالْمُنَکِّلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا
حرملہ بن یحییٰ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے وصال سے منع فرمایا مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! آپ بھی تو مسلسل روزے رکھتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے میری طرح کون ہے؟ میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے جب اس کے باوجود صحابہ ؓ صوم وصال سے نہ رکے تو آپ ﷺ نے ان کے ساتھ ایک افطاری کے بغیر روزہ رکھا پھر افطار کے بغیر روزہ رکھا پھر انہوں نے چاند دیکھ لیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر چاند تاخیر کرتا تو میں اور زیادہ وصال کرتا گویا کہ آپ ﷺ نے ان کے نہ رکنے پر نا پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ forbade (his Companions) from observing fast unintermptedly. One of the Muslims said: Messenger of Allah, you yourself observe Saum Wisal. Whereupon the Messenger of Allah ﷺ said: Who among you is like me? I spend night (in a state) that my Allah feeds me and provides me drink. When they (the Companions of the Holy Prophet) did not agree in abandoning the uninterrupted fast, then the Holy Prophet ﷺ also observed this fast with them for a day, and then for a day. They then saw the new moon and he (the Holy Prophet) said: If the appearance of the new moon were delayed, I would have observed more (fasts) with you (and he did it) by way of warning to them as they had not agreed to refrain (from observing Saum Wisal)
صوم وصال کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاکُمْ وَالْوِصَالَ قَالُوا فَإِنَّکَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّکُمْ لَسْتُمْ فِي ذَلِکَ مِثْلِي إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي فَاکْلَفُوا مِنْ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ
زہیر بن حرب، اسحاق، زہیر، جریر، عمارہ، ابی زرعہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم وصال کے روزے رکھنے سے بچو صحابہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ بھی تو وصال کے روزے رکھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا تم اس معاملہ میں میری طرح نہیں ہو کیونکہ میں اس حالت میں رات گزارتا ہوں کہ میرا رب مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے تو تم وہ کام کرو جس کی تم طاقت رکھتے ہو۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Abstain from Saum-Wisal. They (his Companions) said: Messenger of Allah, but you observe Saum Wisal. Upon this he said: You are not like me in this matter, for I spend my night (in a state) that my Lord feeds me and provides me drink Devote yourselves to the deeds (the burden of which) you can bear.
صوم وصال کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَاکْلَفُوا مَا لَکُمْ بِهِ طَاقَةٌ
قتیبہ، مغیرہ، ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ سوائے اس کے کہ اس میں ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کام کی تم طاقت رکھو وہی کام کرو
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle ﷺ as saying (the words as said in the previous hadith) but with this alteration (of words): "Take upon yourselves (the burden of the deeds) for which you have the strength to bear."