چاند کے چھوٹے بڑے ہونے کا اعتبار نہیں اور جب بادل ہوں تو تیس دن شمار کر لو
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ خَرَجْنَا لِلْعُمْرَةِ فَلَمَّا نَزَلْنَا بِبَطْنِ نَخْلَةَ قَالَ تَرَائَيْنَا الْهِلَالَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ قَالَ فَلَقِينَا ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْنَا إِنَّا رَأَيْنَا الْهِلَالَ فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ هُوَ ابْنُ لَيْلَتَيْنِ فَقَالَ أَيَّ لَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ قَالَ فَقُلْنَا لَيْلَةَ کَذَا وَکَذَا فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ مَدَّهُ لِلرُّؤْيَةِ فَهُوَ لِلَيْلَةٍ رَأَيْتُمُوهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن فضیل، حصین، عمر بن مرہ، حضرت ابوالبختری ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم عمرہ کے لئے نکلے تو جب ہم وادی نخلہ میں اترے تو ہم نے چاند دیکھا بعض لوگوں نے کہا کہ یہ تیسری کا چاند ہے اور کسی نے کہا کہ یہ دو راتوں کا چاند ہے تو ہماری ملاقات حضرت ابن عباس ؓ سے ہوئی تو ہم نے ان سے عرض کیا کہ ہم نے چاند دیکھا ہے کوئی کہتا ہے کہ تیسری تاریخ کا چاند ہے، کوئی کہتا ہے دوسری کا چاند ہے، تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ تم نے کس رات چاند دیکھا تھا؟ ہم نے عرض کیا کہ فلاں فلاں رات کا تو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دیکھنے کے لئے اسے بڑھا دیا ہے درحقیقت وہ اسی رات کا چاند ہے جس رات تم نے اسے دیکھا۔
Abul-Bakhtari reported: We went out to perform Umrah and when we encamped in the valley of Nakhla, we tried to see the new moon. Some of the people said: It was three nights old, and others (said) that it was two nights old. We then met Ibn Abbas and told him we had seen the new moon, but that some of the people said it was three nights old and others that it was two nights old. He asked on which night we had seen it; and when we told him we had seen it on such and such night, he said the Prophet ﷺ of Allah ﷺ had said: Verily Allah deferred it till the time it is seen, so it is to be reckoned from the night you saw it.
چاند کے چھوٹے بڑے ہونے کا اعتبار نہیں اور جب بادل ہوں تو تیس دن شمار کر لو
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ قَالَ أَهْلَلْنَا رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَمَدَّهُ لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْکُمْ فَأَکْمِلُوا الْعِدَّةَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر، شعبہ، ابن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عمروابن مرہ، حضرت ابوالبختری فرماتے ہیں کہ ہم نے ذات عرق میں رمضان کا چاند دیکھا تو ہم نے حضرت ابن عباس ؓ کی طرف ایک آدمی بھیجا تاکہ وہ چاند کے بارے میں آپ سے پوچھے تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے چاند کے دیکھنے کے لئے بڑھا دیا ہے تو اگر مطلع ابرآلود ہو تو گنتی پوری کرو۔
Abul-Bakhtari reported: We saw the new moon of Ramadan as we were at Dhit-i-Irq. We sent a man to Ibn Abbas (RA) (Allah be pleased with both of them) to ask him (whether the sighting of a small moon had something of the nature of defect in it). Upon this Ibn Abbas (Allah be pleased with both of them) said that the Messenger of Allah ﷺ had said: Verily Allah deferred its sight, but if (the new moon) is hidden from you, then, complete its number (thirty).
نبی ﷺ کے اس قول کے معنی کے بیان میں کہ عید کے دو مہینے ناقص نہیں ہوتے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ
یحییٰ بن یحییٰ، یزید بن زریع، خالد، حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ عید کے دو ماہ ناقص نہیں ہوتے ایک رمضان المبارک کا دوسرے ذی الحجہ کا۔
The son of Abu Bakra (RA) reported it on the authority of his father that the Apostle of Allah ﷺ had said: The two months of Id, Ramadan and Dhul-Hijja (are not incomplete).
نبی ﷺ کے اس قول کے معنی کے بیان میں کہ عید کے دو مہینے ناقص نہیں ہوتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ سُوَيْدٍ وَخَالِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِي بَکْرَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شَهْرَا عِيدٍ لَا يَنْقُصَانِ فِي حَدِيثِ خَالِدٍ شَهْرَا عِيدٍ رَمَضَانُ وَذُو الْحِجَّةِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، معتمر بن سلیمان، اسحاق بن سوید، خالد، حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا دو مہینے ناقص نہیں ہوتے خالد کی حدیث میں ہے کہ عید کے دو مہینے رمضان اور ذی الحجہ کے ہیں۔
Abd ar-Rahman bin Abu Bakra (RA) reported on the authority of Abu Bakra (RA) that the Apostle of Allah ﷺ had said: The months of Id are not incomplete. And in the hadith narrated by Khalid (the words are):" The months, of Id are Ramadan and Dhul-Hijjah."
روزہ طلوع فجر سے شروع ہوجاتا ہے اس سے قبل تک کھانا پینا جائز ہے اور اس میں ہم ان احکام سے بحث کریں گے جو صبح صادق اور صبح کا ذب سے متعلق ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ حَتَّی يَتَبَيَّنَ لَکُمْ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنْ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنْ الْفَجْرِ قَالَ لَهُ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجْعَلُ تَحْتَ وِسَادَتِي عِقَالَيْنِ عِقَالًا أَبْيَضَ وَعِقَالًا أَسْوَدَ أَعْرِفُ اللَّيْلَ مِنْ النَّهَارِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ وِسَادَتَکَ لَعَرِيضٌ إِنَّمَا هُوَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس، حصین، شعبی، حضرت عدی بن حاتم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جب آیت (حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ) 2۔ البقرۃ: 187) نازل ہوئی تو حضرت عدی ؓ نے آپ ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے اپنے تکیے کے نیچے سفید اور سیاہ رنگ کے دو دھاگے رکھ لئے ہیں جن کی وجہ سے میں رات اور دن میں امتیاز کرلیتا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا تکیہ بہت چوڑا ہے کہ جس میں رات اور دن سما گئے ہیں " خَيْطِ الْأَسْوَدِ " سے رات کی تاریکی اور خَيْطُ الْأَبْيَضُ سے دن کی سفیدی مراد ہے۔
Adi bin Hatim (RA) reported that when (this verse) was revealed: "Until the white streak of the dawn becomes distinct from the dark streak" (ii. 187) Adi bin Hatim said: Messenger of Allah, verily I keep underneath my pillow two strings, one white and the other black, by which I distinguish night from dawn. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: Your pillow seems to be very large. For the word khait implies the blackness of the night and the whiteness of the dawn.
روزہ طلوع فجر سے شروع ہوجاتا ہے اس سے قبل تک کھانا پینا جائز ہے اور اس میں ہم ان احکام سے بحث کریں گے جو صبح صادق اور صبح کا ذب سے متعلق ہیں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی يَتَبَيَّنَ لَکُمْ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنْ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ قَالَ کَانَ الرَّجُلُ يَأْخُذُ خَيْطًا أَبْيَضَ وَخَيْطًا أَسْوَدَ فَيَأْکُلُ حَتَّی يَسْتَبِينَهُمَا حَتَّی أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ الْفَجْرِ فَبَيَّنَ ذَلِکَ
عبیداللہ بن عمر قواریری، فضیل بن سلیمان، ابوحازم، حضرت سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں جب یہ آیت ( وَكُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ) 2۔ البقرۃ: 187) نازل ہوئی تو بعض آدمی سفید دھاگہ اور سیاہ دھاگہ لے لیتے اور جب تک ان میں واضح امتیاز نظر نہ آتا تو کھاتے رہتے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے لفظ " مِنَ الْفَجْرِ " نازل فرمایا اور سفید دھاگے کی وضاحت ہوگئی۔
Sahl bin Sad said that when this verse was revealed: "Eat and drink till the white streak is distinct from the dark streak," a person would take hold of a white thread and a black thread and keep on eating till he could find them distinct (in the light of the dawn). It was then that Allah, the Majestic and Great, revealed (the words) min al-fajr (from the dawn), and then it became clear (that the word khait refers to the streak of light in the dawn).
روزہ طلوع فجر سے شروع ہوجاتا ہے اس سے قبل تک کھانا پینا جائز ہے اور اس میں ہم ان احکام سے بحث کریں گے جو صبح صادق اور صبح کا ذب سے متعلق ہیں۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی يَتَبَيَّنَ لَکُمْ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنْ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ قَالَ فَکَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَرَادَ الصَّوْمَ رَبَطَ أَحَدُهُمْ فِي رِجْلَيْهِ الْخَيْطَ الْأَسْوَدَ وَالْخَيْطَ الْأَبْيَضَ فَلَا يَزَالُ يَأْکُلُ وَيَشْرَبُ حَتَّی يَتَبَيَّنَ لَهُ رِئْيُهُمَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ بَعْدَ ذَلِکَ مِنْ الْفَجْرِ فَعَلِمُوا أَنَّمَا يَعْنِي بِذَلِکَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ
محمد بن سہل تمیمی، ابوبکر بن اسحاق، ابن ابی مریم، ابوغسان، ابوحازم، حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت ( وَكُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ) 2۔ البقرۃ: 187) نازل ہوئی تو بعض آدمی جب ان میں سے کسی کا روزہ رکھنے کا ارادہ ہوتا تو اپنے دونوں پاؤں میں سیاہ اور سفید دھاگے باندھ لیتے اور جب تک دونوں دھاگوں میں واضح امتیاز نظر نہ آتا تو کھاتے اور پیتے رہتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے لفظ " مِنَ الْفَجْرِ " نازل فرمایا تو تب معلوم ہوا کہ سیاہ وسفید دھاگے سے رات اور دن مراد ہے۔
Sahl bin Sad (RA) said: When this verse was revealed. "Eat and drink till the white streak becomes distinct from the dark streak for you," the person who decided to observe fast tied on one of his feet a black thread and on the other a white thread. And he went on eating and drinking till he could distinguish (between their colour) on seeing them. It was after this that Allah revealed (the words): min al-fajr. And they (the Muslims) came to know that (the word khait) refers to the night and day.
روزہ طلوع فجر سے شروع ہوجاتا ہے اس سے قبل تک کھانا پینا جائز ہے اور اس میں ہم ان احکام سے بحث کریں گے جو صبح صادق اور صبح کا ذب سے متعلق ہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی تَسْمَعُوا تَأْذِينَ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ
یحییٰ بن یحیی، محمد بن رمح، لیث، قتیبہ بن سعید، لیث، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ، حضرت عبداللہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ حضرت بلال ؓ رات کے وقت ہی اذان دے دیتے تھے لہذا تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ حضرت ابن ام مکتوم ؓ کی اذان سنو۔
Abdullah bin Masud (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ had said: Bilal (RA) would pronounce Adhan (at the fag end of the night in order to inform the people about the time of the Sahri). So you eat and drink till you hear the Adhan of Ibn Umm Maktum (which was pronounced at the conclusion of the Sahri and the commencement of the fast).
روزہ طلوع فجر سے شروع ہوجاتا ہے اس سے قبل تک کھانا پینا جائز ہے اور اس میں ہم ان احکام سے بحث کریں گے جو صبح صادق اور صبح کا ذب سے متعلق ہیں۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی تَسْمَعُوا أَذَانَ ابْنِ أُمِّ مَکْتُومٍ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ، حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ نے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا حضرت بلال رات کے وقت ہی اذان دے دیتے ہیں لہذا تم کھاتے اور پیتے رہو یہاں تک کہ تم حضرت ابن ام مکتوم کی اذان سنو۔
Abdullah bin Umar (Allah be pleased with both of them) reported: I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: Bilal (RA) announces Adhan during the night, so you eat and drink, till you hear the Adhan of Ibn Umm Maktum.
روزہ طلوع فجر سے شروع ہوجاتا ہے اس سے قبل تک کھانا پینا جائز ہے اور اس میں ہم ان احکام سے بحث کریں گے جو صبح صادق اور صبح کا ذب سے متعلق ہیں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ کَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤَذِّنَانِ بِلَالٌ وَابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ الْأَعْمَی فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی يُؤَذِّنَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ قَالَ وَلَمْ يَکُنْ بَيْنَهُمَا إِلَّا أَنْ يَنْزِلَ هَذَا وَيَرْقَی هَذَا
ابن نمیر، عبیداللہ بن نافع، حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے دو مؤذن تھے حضرت بلال اور حضرت ابن ام مکتوم نابینا تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بلال ؓ تو رات کے وقت ہی اذان دے دیتے ہیں لہذا تم کھاتے اور پیتے رہو یہاں تک کہ حضرت ابن ام مکتوم اذان دیں راوی نے کہا کہ ان دونوں کی اذان میں کوئی فرق نہیں تھا سوائے اس کے کہ وہ اذان دے کر اترتے تھے اور یہ چڑھتے تھے۔
Ibn Umar (Allah be pleased with both of them) reported that the Messenger of Allah ﷺ had two Muadhdhins, Bilal (RA) and son of Umm Maktum, the blind. The Messenger of Allah ﷺ said: Bilal (RA) announces Adhan at (the fag end of the) night (i. e. Sahri), so eat and drink till the son of Umm Maktum announces Adhan. And he (the narrator) said: And the (difference of time) between their (Adhans) was not more than this that one climbed down (from the minaret) and the other climbed up (to announce Adhan).
روزہ طلوع فجر سے شروع ہوجاتا ہے اس سے قبل تک کھانا پینا جائز ہے اور اس میں ہم ان احکام سے بحث کریں گے جو صبح صادق اور صبح کا ذب سے متعلق ہیں۔
و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
ابن نمیر، عبیداللہ، قاسم، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
A hadith like this has been transmitted on the authority of Aisha (Allah be pleased with her).
روزہ طلوع فجر سے شروع ہوجاتا ہے اس سے قبل تک کھانا پینا جائز ہے اور اس میں ہم ان احکام سے بحث کریں گے جو صبح صادق اور صبح کا ذب سے متعلق ہیں۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ کُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِالْإِسْنَادَيْنِ کِلَيْهِمَا نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، اسحاق، مثنی، حماد بن مسعدہ، عبیداللہ، اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث روایت کی گئی ہے
A hadith like this has been narrated on the authority of Ubaidullah on the two chains of transmitters.
روزہ طلوع فجر سے شروع ہوجاتا ہے اس سے قبل تک کھانا پینا جائز ہے اور اس میں ہم ان احکام سے بحث کریں گے جو صبح صادق اور صبح کا ذب سے متعلق ہیں۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدًا مِنْکُمْ أَذَانُ بِلَالٍ أَوْ قَالَ نِدَائُ بِلَالٍ مِنْ سُحُورِهِ فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ أَوْ قَالَ يُنَادِي بِلَيْلٍ لِيَرْجِعَ قَائِمَکُمْ وَيُوقِظَ نَائِمَکُمْ وَقَالَ لَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَکَذَا وَهَکَذَا وَصَوَّبَ يَدَهُ وَرَفَعَهَا حَتَّی يَقُولَ هَکَذَا وَفَرَّجَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ
زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، سلیمان تیمی، ابی عثمان، حضرت ابن مسعود نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی حضرت بلال کی اذان کی وجہ سے نہ رکے یا آپ نے فرمایا کہ حضرت بلال کی پکار سحری کھانے سے نہ روکے کیونکہ وہ اذان دیتے ہیں یا فرمایا کہ وہ پکارتے ہیں تاکہ نماز میں کھڑا ہونے والا سحری کھانے کے لئے لوٹ جائے اور تم میں سے سونے والاجاگ جائے آپ ﷺ نے یہ فرما کر ہاتھ سیدھا کیا اور اوپر کو بلند کیا یہاں تک کہ آپ فرماتے کہ صبح اس طرح نہیں ہوتی پھر انگلیوں کو پھیلا کر فرمایا کہ صبح اس طرح ہوتی ہے۔
This hadith has been narrated by Sulaiman al-Taimi with the same chain of transmitters (but with a slight variation of words) that he (the Holy Prophet) said: The dawn is not like it as it is said; he then gathered his fingers and lowered them. But he said, it is like this (and he placed the index finger upon the other one and spread his hand).
روزہ طلوع فجر سے شروع ہوجاتا ہے اس سے قبل تک کھانا پینا جائز ہے اور اس میں ہم ان احکام سے بحث کریں گے جو صبح صادق اور صبح کا ذب سے متعلق ہیں۔
و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الْأَحْمَرَ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ الْفَجْرَ لَيْسَ الَّذِي يَقُولُ هَکَذَا وَجَمَعَ أَصَابِعَهُ ثُمَّ نَکَسَهَا إِلَی الْأَرْضِ وَلَکِنْ الَّذِي يَقُولُ هَکَذَا وَوَضَعَ الْمُسَبِّحَةَ عَلَی الْمُسَبِّحَةِ وَمَدَّ يَدَيْهِ
ابن نمیر، ابوخالد، سلیمان تیمی، اس سند کے ساتھ حضرت سلیمان تیمی سے یہ روایت اسی طرح نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں انہوں نے فرمایا کہ فجر وہ نہیں جو اس طرح ہو اور آپ نے انگلیوں کو ملایا پھر انہیں زمین کی طرف جھکایا اور فرمایا کہ فجر وہ ہے جو اس طرح ہو اور شہادت کی انگلی کو شہادت کی انگلی پر رکھ کر دونوں ہاتھوں کو پھیلایا۔
This hadith has been narrated by Sulaiman al-Taimi with the same chain of transmitters (but with a slight variation of words) that he (the Holy Prophet) said: The dawn is not like it as it is said; he then gathered his fingers and lowered them. But he said, it is like this (and he placed the index finger upon the other one and spread his hand).
روزہ طلوع فجر سے شروع ہوجاتا ہے اس سے قبل تک کھانا پینا جائز ہے اور اس میں ہم ان احکام سے بحث کریں گے جو صبح صادق اور صبح کا ذب سے متعلق ہیں۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ وَالْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ کِلَاهُمَا عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَانْتَهَی حَدِيثُ الْمُعْتَمِرِ عِنْدَ قَوْلِهِ يُنَبِّهُ نَائِمَکُمْ وَيَرْجِعُ قَائِمَکُمْ و قَالَ إِسْحَقُ قَالَ جَرِيرٌ فِي حَدِيثِهِ وَلَيْسَ أَنْ يَقُولَ هَکَذَا وَلَکِنْ يَقُولُ هَکَذَا يَعْنِي الْفَجْرَ هُوَ الْمُعْتَرِضُ وَلَيْسَ بِالْمُسْتَطِيلِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، معتمر بن سلیمان، اسحاق بن ابرہیم، جریر، معتمر بن سلیمان اس سند کے ساتھ حضرت سلیمان تیمی سے اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے اس میں ہے کہ حضرت بلال کی اذان اس وجہ سے ہوتی ہے کہ تم میں سے جو سو رہا ہو وہ بیدار ہوجائے اور جو نماز پڑھ رہا ہو وہ لوٹ جائے جریر نے اپنی حدیث میں کہا ہے کہ صبح اس طرح نہیں ہے مطلب یہ کہ چوڑائی میں ہے لمبائی میں نہیں ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Sulaiman Taimi with the same chain of transmitters and, at the end, it was said that the first Adhan was meant to awaken those who were in slumber amongst them and in order to make them turn who stand in (prayer) among them (towards food at the commencement of the fast). Jarir (one of the narrators) said that the Messenger ﷺ did not say like this but he said like it (true dawn) that the streaks of (true dawn) are horizontal and not vertical.
روزہ طلوع فجر سے شروع ہوجاتا ہے اس سے قبل تک کھانا پینا جائز ہے اور اس میں ہم ان احکام سے بحث کریں گے جو صبح صادق اور صبح کا ذب سے متعلق ہیں۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيِّ حَدَّثَنِي وَالِدِي أَنَّهُ سَمِعَ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ يَقُولُا سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَغُرَّنَّ أَحَدَکُمْ نِدَائُ بِلَالٍ مِنْ السَّحُورِ وَلَا هَذَا الْبَيَاضُ حَتَّی يَسْتَطِيرَ
شیبان بن فروخ، عبدالوارث، عبداللہ بن سوداہ قشیری، حضرت سمرہ بن جندب فرماتے ہیں کہ میں نے محمد ﷺ سے سنا ہے آپ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی سحری کے وقت حضرت بلال کی اذان سے دھوکہ نہ کھائے اور نہ ہی اس سفیدی سے جب تک کہ وہ پھیل نہ جائے۔
ahadeeth bin Jandub reported Muhammad ﷺ as saying. The call of Bilal (RA) may not mislead any one of you (and he may, under the wrong impression gathered from it), refrain from taking meal before the commencement of the fast (for the streaks) of this whiteness (which are vertical) indicate the false dawn and the true dawn with which the fast commences is that when the streaks of light are spread.
روزہ طلوع فجر سے شروع ہوجاتا ہے اس سے قبل تک کھانا پینا جائز ہے اور اس میں ہم ان احکام سے بحث کریں گے جو صبح صادق اور صبح کا ذب سے متعلق ہیں۔
و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَادَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَغُرَّنَّکُمْ أَذَانُ بِلَالٍ وَلَا هَذَا الْبَيَاضُ لِعَمُودِ الصُّبْحِ حَتَّی يَسْتَطِيرَ هَکَذَا
زہیر بن حرب، اسماعیل بن علیۃ، عبداللہ بن سوادہ، حضرت سمرہ بن جندب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی حضرت بلال کی اذان سے دھوکہ نہ کھائے اور نہ ہی سفیدی سے جو کہ صبح کے وقت ستونوں کی طرح ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ ظاہر ہوجائے۔
ahadeeth bin Jundub reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The Adhan of Bilal (RA) should not mislead you nor the whiteness (of the pillar) of dawn, for it is not the whiteness of the true dawn, but that of the false dawn which is vertical like a pillar and you can eat food till the streaks of whiteness spread like it.
روزہ طلوع فجر سے شروع ہوجاتا ہے اس سے قبل تک کھانا پینا جائز ہے اور اس میں ہم ان احکام سے بحث کریں گے جو صبح صادق اور صبح کا ذب سے متعلق ہیں۔
و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَغُرَّنَّکُمْ مِنْ سَحُورِکُمْ أَذَانُ بِلَالٍ وَلَا بَيَاضُ الْأُفُقِ الْمُسْتَطِيلُ هَکَذَا حَتَّی يَسْتَطِيرَ هَکَذَا وَحَکَاهُ حَمَّادٌ بِيَدَيْهِ قَالَ يَعْنِي مُعْتَرِضًا
ابوربیع زہرانی، حماد، ابن زید، عبداللہ بن سوادہ قشیری، حضرت سمرہ بن جندب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی حضرت بلال کی اذان سے اپنی سحری سے دھوکہ نہ کھائے اور نہ ہی افق کی لمبی سفیدی سے یہاں تک کہ وہ پھیل جائے۔
ahadeeth bin Jundub (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The Adhan of Bilal (RA) may not mislead you with regard to your food at the commencement of the fast, nor the vertical (streaks) of whiteness in the horizon (for it is an indication of false dawn). You should stop eating (food) till (the whiteness) spreads like it. Hammad narrated it and with the gesture of his hand he explained, the horizontal position (of the streaks of light).
روزہ طلوع فجر سے شروع ہوجاتا ہے اس سے قبل تک کھانا پینا جائز ہے اور اس میں ہم ان احکام سے بحث کریں گے جو صبح صادق اور صبح کا ذب سے متعلق ہیں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَوَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَخْطُبُ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَغُرَّنَّکُمْ نِدَائُ بِلَالٍ وَلَا هَذَا الْبَيَاضُ حَتَّی يَبْدُوَ الْفَجْرُ أَوْ قَالَ حَتَّی يَنْفَجِرَ الْفَجْرُ
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، سوادہ، حضرت سمرہ بن جندب ؓ خطبہ دیتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ سے روایت ہے آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی حضرت بلال کی اذان سے دھوکہ نہ کھائے اور نہ اس سفیدی سے یہاں تک کہ فجر ظاہر ہوجائے۔
ahadeeth bin Jundub addressed and narrated from the Apostle of Allah ﷺ having said (these words): Neither the call of Bilal (RA) should mislead you nor this whiteness (of false dawn) till (the true) dawn appears (or he said) till the dawn breaks.
روزہ طلوع فجر سے شروع ہوجاتا ہے اس سے قبل تک کھانا پینا جائز ہے اور اس میں ہم ان احکام سے بحث کریں گے جو صبح صادق اور صبح کا ذب سے متعلق ہیں۔
و حَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي سَوَادَةُ بْنُ حَنْظَلَةَ الْقُشَيْرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ سَمُرَةَ بْنَ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ هَذَا
ابن مثنی، ابوداؤد، شعبہ، سوادہ حنظلہ قشیری، حضرت سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پھر آگے اسی طرح حدیث مبارکہ ذکر فرمائی۔
A hadith like this has been narrated on the authority of ahadeeth bin Jundub.