مانگنے سے ممانعت کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْيَحْصَبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَقُولُا إِيَّاکُمْ وَأَحَادِيثَ إِلَّا حَدِيثًا کَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ فَإِنَّ عُمَرَ کَانَ يُخِيفُ النَّاسَ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ فَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ طِيبِ نَفْسٍ فَيُبَارَکُ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ وَشَرَهٍ کَانَ کَالَّذِي يَأْکُلُ وَلَا يَشْبَعُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زید بن حباب، معاویہ بن صالح، ربیعہ بن یزید دمشقی، عبداللہ بن عامریحصبی، حضرت معاویہ ؓ سے روایت ہے کہ احادیث سے بچو سوائے ان احادیث کے جو حضرت عمر ؓ کے زمانہ خلافت میں مروی تھیں۔ کیونکہ عمر ؓ لوگوں کو اللہ کے بارے میں خوف دیتے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ نے فرمایا میں خزانچی ہوں جس کو میں طیب نفس یعنی دلی خوشی سے کچھ عطا کروں تو اس میں اسے برکت ہوتی ہے اور جس کو میں اس کے مانگنے پر اور ستانے پر دوں اس کا حال اس شخص جیسا ہوتا ہے جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا۔
Muawiyah said: Be cautious about ahadith except those which were current during the reign of Umar, for he exhorted people to fear Allah, the Exalted and Majestic. I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: He upon whom Allah intends to bestow goodness, He confers upon him an insight in religion; and I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: I am the treasurer. To one whom I give out of (my own) sweet will, he would be blessed in that, but he whom I give (yielding to his constant begging and for his covetousness is like one who would eat, but would not be satisfied.
مانگنے سے ممانعت کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَخِيهِ هَمَّامٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُلْحِفُوا فِي الْمَسْأَلَةِ فَوَاللَّهِ لَا يَسْأَلُنِي أَحَدٌ مِنْکُمْ شَيْئًا فَتُخْرِجَ لَهُ مَسْأَلَتُهُ مِنِّي شَيْئًا وَأَنَا لَهُ کَارِهٌ فَيُبَارَکَ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتُهُ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، سفیان، عمرو، وہب بن منبہ، ہمام، حضرت معاو یہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم مانگنے میں لپٹ کر نہ مانگو۔ اللہ کی قسم تم میں کوئی مجھ سے کوئی چیز مانگتا ہے تو اس کے مانگنے کی وجہ سے وہ چیز مجھ سے نکل جاتی ہے یعنی خرچ ہوجاتی ہے تو اس کو برا جانتا ہوں۔ اس کو میرے عطا کردہ مال میں برکت نصیب نہیں ہوتی۔
Muawiyah reported AUahs Messenger ﷺ as saying: Do not beg importunately, for, I swear by Allah, none of you who asks me for anything and manages to get what he asks for when I disapprove to it will he be blessed in that which I give him.
مانگنے سے ممانعت کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ مُنَبِّهٍ وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فِي دَارِهِ بِصَنْعَائَ فَأَطْعَمَنِي مِنْ جَوْزَةٍ فِي دَارِهِ عَنْ أَخِيهِ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَذَکَرَ مِثْلَهُ
ابوعمرم کی، سفیان، عمرو بن دینار، وہب بن منبہ حضرت عمرو بن دینار سے روایت ہے کہ مجھ سے حضرت و ہب بن منبہ نے حدیث بیان کی اور میں ان کے گھر صنعاء میں داخل ہوا تو مجھے انہوں نے اپنے گھر میں اخروٹ کھلائے اور ان کے بھائی نے مجھے حضرت معاویہ ؓ کی حدیث بیان فرمائی جو گزر چکی ہے۔
Amr bin Dinar reported from Wahb bin Munabbih: I went to his house in Sana and he offered me nuts grown in his house to eat. And his brother said: I heard Muawiyah bin Abu Sufyan (RA) saying that he had heard the Messenger of Allah ﷺ as saying, and then he made a mention (of a hadith) like one mentioned above.
مانگنے سے ممانعت کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ يَخْطُبُ يَقُولُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَيُعْطِي اللَّهُ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حمید بن عبدالرحمن بن عوف، حضرت معاویہ بن ابوسفیان ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں اسے دین کی سمجھ عطا کرتے ہیں اور میں تقسیم کرنے والا ہوں اور اسے عطا کرتا ہوں۔
Abdul Rahman bin Auf reported: I heard Muawiyah bin Abu Sufyan (RA) saying in an address that he had heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: He to whom Allah intends to do good, He gives him insight into religion. And I am only the distributor while Allah is the Bestower.
مسکین وہ ہے جو بقدر ضر ورت مال نہ رکھتا ہو اور نہ مسکین تصور کیا جاتا ہو کہ اسے صدقہ دیا جائے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ الْمِسْکِينُ بِهَذَا الطَّوَّافِ الَّذِي يَطُوفُ عَلَی النَّاسِ فَتَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ قَالُوا فَمَا الْمِسْکِينُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًی يُغْنِيهِ وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ وَلَا يَسْأَلُ النَّاسَ شَيْئًا
قتیبہ بن سعید، مغیرہ حزامی، ابوزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسکین وہ نہیں جو گھومتا رہتا ہے اور لوگوں کے اردگرد پھرتا رہتا ہے پھر ایک لقمہ یا دو لقمے اور ایک کھجور یا دو کھجوریں لے کر لوٹ جاتا ہے۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول پھر مسکین کون ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا مسکین وہ ہے جو اتنا مالدار نہ ہو جس سے ضرورت زندگی پوری کرسکے اور نہ لوگ اسے مسکین تصور کرتے ہوں کہ اس کو صدقہ دیں اور نہ وہ لوگوں سے کچھ مانگتا ہو۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The poor man (miskin) is not the one who goes round to the people and is dismissed with one or two morsels, and one or two dates. They (the Prophets Companions) said: Messenger of Allah, then who is miskin? He said: He who does not get enough to satisfy him, and he is not considered so needy (as to elicit the attention of the benevolent people), so that charity may be given to him, and he does not beg anything from people.
مسکین وہ ہے جو بقدر ضر ورت مال نہ رکھتا ہو اور نہ مسکین تصور کیا جاتا ہو کہ اسے صدقہ دیا جائے
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي شَرِيکٌ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَی مَيْمُونَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ الْمِسْکِينُ بِالَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَلَا اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ إِنَّمَا الْمِسْکِينُ الْمُتَعَفِّفُ اقْرَئُوا إِنْ شِئْتُمْ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، ابن ایوب، اسماعیل، ابن جعفر، شریک، عطاء بن یسار، میمونہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسکین وہ شخص نہیں ہے کہ جو ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقموں کے ساتھ لوٹ جاتا ہے۔ مسکین تو وہ ہے جو سوال کرنے سے بچتا ہے۔ اگر چاہو تو تم یہ آیت پڑھو وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Miskin is not he who is dismissed with one or two dates, and with one morsel or two morsels. (In fact) miskin is he who abstains (from begging). Read if you so desire (the verse): "They beg not of men importunately)" (ii. 273).
مسکین وہ ہے جو بقدر ضر ورت مال نہ رکھتا ہو اور نہ مسکین تصور کیا جاتا ہو کہ اسے صدقہ دیا جائے
حَدَّثَنِيهِ أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي شَرِيکٌ أَخْبَرَنِي عَطَائُ بْنُ يَسَارٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِسْمَعِيلَ
ابوبکر بن اسحاق، ابن ابی مریم، محمد بن جعفر، شریک، عطاء بن یسار، عبدالرحمن بن ابوعمرہ، ابوہریرہ، اوپر والی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
This hadith has been narrated through another chain of transmitters.
لوگوں سے مانگنے کی کرا ہت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَزَالُ الْمَسْأَلَةُ بِأَحَدِکُمْ حَتَّی يَلْقَی اللَّهَ وَلَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالاعلی بن عبدالاعلی، معمر، عبداللہ بن مسلم، زہری، حمزہ بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے مانگنے والا ہمیشہ مانگتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا۔
Hamza. son of Abdullah, reported on the authority of his father that the Apostle of Allah ﷺ said: When a man is always begging from people, he would meet Allah (in a state) that there would be no flesh on his face.
لوگوں سے مانگنے کی کرا ہت کا بیان
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَخِي الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ مُزْعَةُ
عمرو ناقد، اسماعیل بن ابراہیم، معمر، زہری، اسی حدیث کی دوسری سند میں مزعہ (ٹکڑے) کا لفظ نہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of the brother of Zuhri with the same chain of transmitters, but no mention has been made of the word "muza" (piece).
لوگوں سے مانگنے کی کرا ہت کا بیان
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ النَّاسَ حَتَّی يَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ
ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، لیث، عبیداللہ بن ابوجعفر، حمزہ بن عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہمیشہ آدمی لوگوں سے مانگتا رہے گا یہاں تک کہ قیامت کا دن آجائے اور اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہوگا۔
Hamza bin Abdullah bin Umar (RA) heard his father say that the Messenger of Allah ﷺ had said: The person would continue begging from people till he would come on the Day of Resurrection and there would be no flesh on his face.
لوگوں سے مانگنے کی کرا ہت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَکَثُّرًا فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرًا فَلْيَسْتَقِلَّ أَوْ لِيَسْتَکْثِرْ
ابوکریب، واصل بن عبدالاعلی، ابن فضیل، عمارہ بن قعقاع، ابوزرعہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو لوگوں سے صرف اپنا مال بڑ ھانے کی غرض سے مانگتا ہے تو یہ انگاروں کو مانگتا ہے خواہ کم لے یا زیادہ جمع کرلے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who begs the riches of others to increase his own is asking only for live coals, so let him ask a little or much.
لوگوں سے مانگنے کی کرا ہت کا بیان
حَدَّثَنِي هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ بَيَانٍ أَبِي بِشْرٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُکُمْ فَيَحْطِبَ عَلَی ظَهْرِهِ فَيَتَصَدَّقَ بِهِ وَيَسْتَغْنِيَ بِهِ مِنْ النَّاسِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلًا أَعْطَاهُ أَوْ مَنَعَهُ ذَلِکَ فَإِنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا أَفْضَلُ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَی وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ
ہناد بن سری، ابوالاحوص، بیان ابوبشر، قیس بن ابی حازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا۔ آپ ﷺ فرماتے تھے تم میں کسی کا صبح کے وقت جا کر اپنی پیٹھ پر لکڑی کا گٹھا اٹھا کر لانا اور اس میں سے صدقہ کرنا اور لوگوں سے مستغنی ہوجانا اس سے بہتر ہے کہ لوگوں سے سوال کرتا پھرے وہ اسے دے یا نہ دے۔ بیشک اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور جن کا کھانا تیرے ذمہ ہے ان سے صدقہ شروع کر۔
Abu Hurairah (RA) is reported to have heard the Messenger of Allah ﷺ as saying: It is better for one among you to bring a load of firewood on his back and give charity out of it (and satisfy his own need) and be independent of people, than that he should beg from people, whether they give him anything or refuse him. Verily the upper hand is better than the lower hand, and begin (charity) with your dependants.
لوگوں سے مانگنے کی کرا ہت کا بیان
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ قَالَ أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُکُمْ فَيَحْطِبَ عَلَی ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهُ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بَيَانٍ
محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، اسماعیل، قیس بن ابی حازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم تم میں سے کوئی صبح اس حال میں کرے کہ اپنی پیٹھ پر لکڑی اٹھا کر لائے پھر ان کو بیچ دے باقی حدیث بیان ہوچکی ہے۔
Qais bin Abu Hizam reported: We came to Abu Hurairah (RA) and he told Allahs Messenger ﷺ having said this: By Allah, (it is better) that one among you should go and bring a load of firewood on his back and he should sell it, and the rest of the hadith was narrated (like the previous one).
لوگوں سے مانگنے کی کرا ہت کا بیان
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَی عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَنْ يَحْتَزِمَ أَحَدُکُمْ حُزْمَةً مِنْ حَطَبٍ فَيَحْمِلَهَا عَلَی ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلًا يُعْطِيهِ أَوْ يَمْنَعُهُ
ابوطاہر، یونس بن عبدالاعلی، ابن وہب، عمرو بن حارث، ابن شہاب، ابن عبید مولیٰ عبدالرحمن بن عوف، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی لکڑیوں کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لادے پھر ان کو بیچ دے تو یہ اس کے لئے بہتر ہے اس سے کہ وہ لوگوں سے مانگے معلوم نہیں کہ وہ دیں یا نہ دیں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: It is better for any one of you to tie a bundle of firewood and carry it on his back and sell it than to beg a person, he may give or may refuse.
لوگوں سے مانگنے کی کرا ہت کا بیان
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ قَالَ سَلَمَةُ حَدَّثَنَا وَقَالَ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَبِيبُ الْأَمِينُ أَمَّا هُوَ فَحَبِيبٌ إِلَيَّ وَأَمَّا هُوَ عِنْدِي فَأَمِينٌ عَوْفُ بْنُ مَالِکٍ الْأَشْجَعِيُّ قَالَ کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً أَوْ سَبْعَةً فَقَالَ أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ وَکُنَّا حَدِيثَ عَهْدٍ بِبَيْعَةٍ فَقُلْنَا قَدْ بَايَعْنَاکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ فَقُلْنَا قَدْ بَايَعْنَاکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ أَلَا تُبَايِعُونَ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَبَسَطْنَا أَيْدِيَنَا وَقُلْنَا قَدْ بَايَعْنَاکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَلَامَ نُبَايِعُکَ قَالَ عَلَی أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِکُوا بِهِ شَيْئًا وَالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَتُطِيعُوا وَأَسَرَّ کَلِمَةً خَفِيَّةً وَلَا تَسْأَلُوا النَّاسَ شَيْئًا فَلَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَ أُولَئِکَ النَّفَرِ يَسْقُطُ سَوْطُ أَحَدِهِمْ فَمَا يَسْأَلُ أَحَدًا يُنَاوِلُهُ إِيَّاهُ
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، سلمہ بن شبیب، سلمہ، مروان بن محمد دمشقی، سعید بن عبدالعزیز، ربیعہ بن یزید، ابوادریس خولانی، ابومسلم خولانی، حبیب امین، حضرت عوف بن مالک اشجعی ؓ سے روایت ہے کہ ہم نو یا آٹھ یا سات آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر تھے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم رسول اللہ ﷺ سے بیعت نہیں کرتے۔ حالانکہ ہم قریب ہی زمانہ میں بیعت کرچکے تھے تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم آپ ﷺ سے بیعت کرچکے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم رسول اللہ ﷺ سے بیعت نہیں کرتے ہم نے اپنے ہاتھ دراز کئے اور عرض کیا ہم آپ ﷺ سے بیعت کرچکے ہیں اب ہم کس بات پر بیعت کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اللہ کی عبادت کرو گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے اور پانچوں نمازیں ادا کرو گے اور اللہ کی اطاعت کرو گے تو یہ بات آہستہ سے فرمائی کہ لوگوں سے کچھ نہ مانگو گے۔ تو میں نے ان میں سے بعض آدمیوں کو دیکھا کہ ان میں سے کسی کا اگر چابک (سواری سے) گر جاتا تو وہ کسی سے اٹھا کر دے دینے کی خواہش نہ کرتا تھا۔
Malik al-Ashjai reported: We, nine, eight or seven men, were in the company of the Messenger of Allah ﷺ and he said: Why dont you pledge allegiance to the Messenger of Allah? ﷺ -while we had recently pledged allegiance. So we said: Messenger of Allah, we have already pledged allegiance to you. He again said: Why dont you pledge allegiance to the Messenger of Allah? ﷺ And we said: Messenger of Allah, we have already pledged allegiance to you. He again said: Why dont you pledge allegiance to the Messenger of Allah? ﷺ We stretched our hands and said: Messenger of Allah, we have already pledged allegiance to you. Now tell (on what things) should we pledge allegiance to you. He said: you must pledge allegiance that you would worship Allah only and would not associate with Him anything, (and observe) five prayers, and obey- (and he said one thing in an undertone) -that you would not beg people of anything. (And as a consequence of that) I saw that some of these people did not ask anyone to pick up the whip for them if it fell down.
مانگنا کس کے لے حلال ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ هَارُونَ بْنِ رِيَابٍ حَدَّثَنِي کِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيُّ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ قَالَ تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فِيهَا فَقَالَ أَقِمْ حَتَّی تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ فَنَأْمُرَ لَکَ بِهَا قَالَ ثُمَّ قَالَ يَا قَبِيصَةُ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّی يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِکُ وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّی يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّی يَقُومَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ لَقَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّی يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ فَمَا سِوَاهُنَّ مِنْ الْمَسْأَلَةِ يَا قَبِيصَةُ سُحْتًا يَأْکُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا
یحییٰ بن یحیی، قتیبہ بن سعید، حماد بن زید، یحیی، حماد بن زید، ہارون بن ریاب، کنا نہ بن نعیم عدوی، قبیصہ بن مخارق ہلالی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے (کسی امر کے لئے) چندہ جمع کرنے کا بار اپنے اوپر ڈال لیا تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھنے کے لئے حاضر ہوا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا ٹھہر جاؤ کہ ہمارے پاس صدقہ کا مال آجائے تو ہم تم کو دینے کا حکم دے دیں گے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے قبیصہ! تین آدمیوں کے علاوہ کسی کے لئے مانگنا جائز نہیں۔ ایک وہ آدمی جس نے اپنے اوپر چندہ کا بوجھ ڈالا ہو تو اس کے لئے اتنی رقم پوری کرنے تک مانگنا جائز ہے پھر وہ رک جائے۔ دوسرا وہ آدمی جس کے مال کو کسی آفت نے ختم کردیا ہو تو اس کے لئے اپنے گزر بسر تک یا گزر اوقات کے قابل ہونے تک مانگنا جائز ہے تیسرا وہ آدمی ہے جس کے تین دن فاقہ میں گزر جائیں اور اس کی قوم میں سے تین کامل العقل آدمی اس بات کی گواہی دیں کہ فلاں آدمی کو فاقہ پہنچا ہے تو اس کے لئے گزر بسر کے قابل ہونے تک مانگنا جائز ہے اے قبیصہ! ان تین کے علاوہ مانگنا حرام ہے اور مانگ کر کھانے والا حرام کھاتا ہے۔
Qabisa bin Mukhariq al-Hilali said: I was under debt and I came to the Messenger of Allah ﷺ and begged from him regarding it. He said: Wait till we receive Sadaqa, so that we order that to be given to you. He again said: Qabisa, begging is not permissible but for one of the three (classes) of persons: one who has incurred debt, for him begging is permissible till he pays that off, after which he must stop it; a man whose property has been destroyed by a calamity which has smitten him, for him begging is permissible till he gets what will support life, or will provide him reasonable subsistence; and a person who has been smitten by poverty, the genuineness of which is confirmed by three intelligent members of this peoples for him begging is permissible till he gets what will support him, or will provide him subsistence. Qabisa, besides these three (every other reason) for begging is forbidden, and one who engages in such, consumes that what is forbidden.
بغیر سوال اور خوا ہش کے لینے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُا قَدْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَائَ فَأَقُولُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي حَتَّی أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا فَقُلْتُ أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذْهُ وَمَا جَائَکَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَکَ
ہارون بن معروف، عبداللہ بن وہب، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ بن عمر، حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مجھے کچھ عطا کیا کرتے تھے۔ تو میں عرض کرتا کہ آپ ﷺ مجھ سے زیادہ ضرورت مند کو عطا فرمائیں۔ حسب معمول آپ ﷺ نے ایک مرتبہ کچھ مال عطا فرمایا تو میں نے عرض کیا کہ جو مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو اسے عطا فرمائیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے لے لے اور تیرے پاس اگر بغیر لالچ کے اور بغیر مانگنے کے کچھ مال آجائے تو اس کو حاصل کرلیا کرو اور جو اس طرح نہ آئے اس کا دل میں خیال نہ کرو۔
Salim binAbdullah bin Umar reported on the authority of his father (Abdullah bin Umar) that he had heard Umar bin Khattab (RA) saying: The Messenger of Allah ﷺ gave me a gift, but I said: Give it to one who needs it more than I. He gave me wealth for the second time but I said: Give it to one who needs it more than I. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: Take out of this wealth which comes to you without your being avaricious and without begging, but in other circumstances do not let your heart hanker after it.
بغیر سوال اور خوا ہش کے لینے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُعْطِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْعَطَائَ فَيَقُولُ لَهُ عُمَرُ أَعْطِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ وَمَا جَائَکَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَکَ قَالَ سَالِمٌ فَمِنْ أَجْلِ ذَلِکَ کَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا وَلَا يَرُدُّ شَيْئًا أُعْطِيَهُ
ابوطاہر، ابن وہب، عمرو بن حارث، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عمر بن خطاب ؓ کو کچھ مال عطا کیا کرتے تھے۔ تو عمر نے آپ ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول جو مجھ سے زیادہ فقیر ہو اس کو عطا کیا کریں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا اسے لے لو اپنے پاس رکھو یا صدقہ کرو اور تیرے پاس جو مال اس طرح آئے کہ تو نہ خوا ہش کرنے والا ہو اور نہ مانگنے والا تو اسے لے لیا کرو اور جو اس طرح نہ آئے تو اپنے دل کو اس کی طرف ہی نہ لگاؤ۔ حضرت سالم کہتے ہیں اسی وجہ سے حضرت ابن عمر ؓ کسی سے کچھ نہ مانگتے تھے اور اگر کوئی آپ کو کچھ دے دیتا تو اسے لوٹاتے بھی نہ تھے۔
Salim bin Abdullah reported on the authority of his father that the Messenger of Allah ﷺ gave to Umar bin Khattab some gift. Umar said to him: Messenger of Allah, give it to one who needs it more than I. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: Take it; either keep it with you or give it as a charity, and whatever comes to you in the form of this type of wealth, without your being avaricious or begging for it, accept it, but in other circumstances do not let your heart hanker after it. And it was on account of this that Ibn Umar never begged anything from anyone, nor refused anything given to him.
بغیر سوال اور خوا ہش کے لینے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ عَمْرٌو وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ بِمِثْلِ ذَلِکَ عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّعْدِيِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوطاہر، ابن وہب، عمرو، ابن شہاب، سائب بن یزید، عبداللہ بن سعدی، عمر بن خطاب، اسی حدیث کی دوسری سند عمر بن خطاب ؓ سے ذکر فرمائی۔
This hadith has been narrated byAbdullah bin al-Sadi from Umar bin al-Khattab who heard it from the Messenger of Allah ﷺ .
بغیر سوال اور خوا ہش کے لینے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ بُکَيْرٍ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ السَّاعِدِيِّ الْمَالِکِيِّ أَنَّهُ قَالَ اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَی الصَّدَقَةِ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْهَا وَأَدَّيْتُهَا إِلَيْهِ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ فَقُلْتُ إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ وَأَجْرِي عَلَی اللَّهِ فَقَالَ خُذْ مَا أُعْطِيتَ فَإِنِّي عَمِلْتُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَمَّلَنِي فَقُلْتُ مِثْلَ قَوْلِکَ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُعْطِيتَ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ أَنْ تَسْأَلَ فَکُلْ وَتَصَدَّقْ
قتیبہ بن سعید، لیث، بکیر، بسر بن سعید، ابن ساعدی مالکی ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے مجھے صدقہ پر عامل مقرر فرمایا۔ جب میں اس سے فارغ ہوا اور رقم زکوٰۃ لا کر جمع کرا دی تو آپ ؓ نے میرے لئے کچھ اجرت کا حکم فرمایا۔ تو میں نے عرض کیا میں نے اللہ کی رضا کے لئے کام کیا اور میرا ثواب اللہ پر ہے تو آپ نے فرمایا جو تجھے دیا جائے وصول کرلے کیونکہ میں بھی رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں عامل مقرر ہوا تھا آپ ﷺ نے مجھے اجرت دی تھی۔ تو میں نے تیرے کہنے کی طرح عرض کیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا جو تجھے تیرے بغیر مانگے مل جائے تم اس کو کھاؤ اور صدقہ بھی کرو۔
Ibn al-Sadi Maliki reported: Umar bin Khattab (RA) appointed me as a collector of Sadaqa. When I had finished that (the task assigned to me) and I handed over that to him (to Umar), he commanded me to (accept) some remuneration (for the work). I said: I performed this duty for Allah and my reward is with Allah. He said: Take whatever has been given to you, for I also performed this duty during the time of the Messenger of Allah ﷺ . He assigned me the task of a collector and I said as you say, and the Messenger of Allah ﷺ said to me: When you are given anything without your begging for it, (then accept it), eat it and give it in charity.