بغیر سوال اور خوا ہش کے لینے کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ السَّعْدِيِّ أَنَّهُ قَالَ اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَی الصَّدَقَةِ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، عمرو بن حارث، بکیر بن اشج، بسر بن سعید، ابن سعدی، عمر بن خطاب، اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے لیکن اس میں ابن ساعدی کے بجائے ابن سعدی ہے۔
Ibn al-Sadi reported: Umar bin Khattab (RA) appointed me as a collector of Sadaqat. The rest of the hadith is the same.
دینا پر حرص کی کرا ہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ عَلَی حُبِّ اثْنَتَيْنِ حُبِّ الْعَيْشِ وَالْمَالِ
زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، ابوزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا بوڑھے آدمی کا دل دو چیزوں کی محبت پر جوان رہتا ہے۔ زندگی اور مال کی محبت۔
Abu Hurairah (RA) reported from the Messenger of Allah ﷺ as having said this: The heart of an old person feels young for the love of two things: love for long life and wealth.
دینا پر حرص کی کرا ہت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ عَلَی حُبِّ اثْنَتَيْنِ طُولُ الْحَيَاةِ وَحُبُّ الْمَالِ
ابوطاہر، حرملہ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے بوڑھے آدمی کا دل زندگی کے لمبے ہونے اور مال کی محبت میں جوان رہتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ had said this: The heart of an old person is young for two things: for long life and love for wealth.
دینا پر حرص کی کرا ہت کے بیان میں
حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ کُلُّهُمْ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَتَشِبُّ مِنْهُ اثْنَتَانِ الْحِرْصُ عَلَی الْمَالِ وَالْحِرْصُ عَلَی الْعُمُرِ
یحییٰ بن یحیی، سعید بن منصور، قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، یحیی، قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ابن آدم بوڑھا ہوتا ہے اور اس میں دو چیزیں جوان رہتی ہیں مال اور عمر پر حرص۔
Anas reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The son of Adam علیہ السلامgrows old, but two (desires) in him remain young: desire for wealth and desire for life.
دینا پر حرص کی کرا ہت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِمِثْلِهِ
ابوغسان مسمعی، محمد بن مثنی، معاذ بن ہشام، قتادہ، انس ؓ اوپر والی حدیث اس سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔
A hadith like this has been narrated by Anas through another chain of transmitters.
دینا پر حرص کی کرا ہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ
ابن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، انس بن مالک ؓ، اسی حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters.
اگر ابن آ دم کے پاس جنگل کی دو وادیاں ہوں تو بھی وہ تیسری کا طلبگار ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَی وَادِيًا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَی مَنْ تَابَ
یحییٰ بن یحیی، سعید بن منصور، قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر ابن آدم کے لئے دو وادیاں مال کی بھری ہوئی ہوں تب بھی وہ تیسری وادی کی تلاش کرے گا اور ابن آدم کا پیٹ سوائے مٹی کے کوئی نہیں بھر سکتا اور اللہ اسی پر رجوع فرماتے ہیں جو توبہ کرتا ہے۔
Anas reported Allahs Messenger ﷺ as saying: If the son of Adam علیہ السلامwere to possess two valleys of riches, he would long for the third one. And the stomach of the son of Adam علیہ السلامis not filled but with dust. And Allah returns to him who repents.
اگر ابن آ دم کے پاس جنگل کی دو وادیاں ہوں تو بھی وہ تیسری کا طلبگار ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَلَا أَدْرِي أَشَيْئٌ أُنْزِلَ أَمْ شَيْئٌ کَانَ يَقُولُهُ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ
ابن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے اور میں نہیں جانتا یہ بات اتری تھی یا آپ ﷺ خود فرماتے تھے باقی حدیث ابوعوانہ کی طرح ہے۔
Anas bin Malik (RA) reported: I heard the Messenger of Allah ﷺ as saying this, but I do not know whether this thing was revealed to him or not, but he said no.
اگر ابن آ دم کے پاس جنگل کی دو وادیاں ہوں تو بھی وہ تیسری کا طلبگار ہوتا ہے۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادٍ مِنْ ذَهَبٍ أَحَبَّ أَنَّ لَهُ وَادِيًا آخَرَ وَلَنْ يَمْلَأَ فَاهُ إِلَّا التُّرَابُ وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَی مَنْ تَابَ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر ابن آدم کے لئے سونے کی ایک وادی ہو تب بھی دوسری وادی کی خواہش کرے گا۔ اور اس کا منہ مٹی ہی بھرے گی اور اللہ تعالیٰ رجوع کرنے والے ہی پر رجوع فرماتے ہیں۔
Anas bin Malik (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: If there were two valleys of gold for the son of Adam, he would long for another one, and his mouth will not be filled but with dust, and Allah returns to him who repents.
اگر ابن آ دم کے پاس جنگل کی دو وادیاں ہوں تو بھی وہ تیسری کا طلبگار ہوتا ہے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَائً يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ مِلْئَ وَادٍ مَالًا لَأَحَبَّ أَنْ يَکُونَ إِلَيْهِ مِثْلُهُ وَلَا يَمْلَأُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَی مَنْ تَابَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَلَا أَدْرِي أَمِنْ الْقُرْآنِ هُوَ أَمْ لَا وَفِي رِوَايَةِ زُهَيْرٍ قَالَ فَلَا أَدْرِي أَمِنْ الْقُرْآنِ لَمْ يَذْکُرْ ابْنَ عَبَّاسٍ
زہیر بن حرب، ہارون بن عبداللہ، حجاج بن محمد، ابن جریج، عطاء، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے اگر ابن آدم کے لئے وادی بھر مال ہو تو بھی وہ پسند کرے گا کہ اس کی مثل اور ہو اور ابن آدم کا جی سوائے مٹی کے کسی چیز سے نہیں بھرتا اور اللہ اسی پر رجوع فرماتے ہیں جو توبہ کرتا ہے ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ یہ قرآن سے ہے یا نہیں اور زہیر کی روایت میں ابن عباس ؓ کا نام ذکر نہیں کیا گیا۔
Ibn Abbas (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: If there were for the son of Adam علیہ السلامa valley full of riches, he would long to possess another one like it. And Ibn Adam علیہ السلامdoes not feel satiated but with dust. And Allah returns to him who returns (to HiM). Ibn Abbas (RA) said: I do not know whether it is from the Quran or not; and in the narration transmitted by Zuhair it was said: I do not know whether it is from the Quran, and he made no mention of Ibn Abbas (RA) .
اگر ابن آ دم کے پاس جنگل کی دو وادیاں ہوں تو بھی وہ تیسری کا طلبگار ہوتا ہے۔
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ دَاوُدَ عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَعَثَ أَبُو مُوسَی الْأَشْعَرِيُّ إِلَی قُرَّائِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ ثَلَاثُ مِائَةِ رَجُلٍ قَدْ قَرَئُوا الْقُرْآنَ فَقَالَ أَنْتُمْ خِيَارُ أَهْلِ الْبَصْرَةِ وَقُرَّاؤُهُمْ فَاتْلُوهُ وَلَا يَطُولَنَّ عَلَيْکُمْ الْأَمَدُ فَتَقْسُوَ قُلُوبُکُمْ کَمَا قَسَتْ قُلُوبُ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ وَإِنَّا کُنَّا نَقْرَأُ سُورَةً کُنَّا نُشَبِّهُهَا فِي الطُّولِ وَالشِّدَّةِ بِبَرَائَةَ فَأُنْسِيتُهَا غَيْرَ أَنِّي قَدْ حَفِظْتُ مِنْهَا لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَی وَادِيًا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَکُنَّا نَقْرَأُ سُورَةً کُنَّا نُشَبِّهُهَا بِإِحْدَی الْمُسَبِّحَاتِ فَأُنْسِيتُهَا غَيْرَ أَنِّي حَفِظْتُ مِنْهَا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ فَتُکْتَبُ شَهَادَةً فِي أَعْنَاقِکُمْ فَتُسْأَلُونَ عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
سوید بن سعید، علی بن مسہر، حضرت ابوالاسود ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ابوموسی ؓ کو اہل بصرہ کے قراء کی طرف بھیجا گیا آپ ان کے پاس پہنچے تو تین سو فارسیوں نے قرآن پڑھا تو آپ نے فرمایا کہ تم اہل بصرہ کے سب لوگوں سے افضل ہو اور ان کے قاری ہو تو تم ان کو قرآن پڑھاؤ اور بہت مدت تک تم تلاوت قرآن پڑھاؤ اور بہت مدت تک تم تلاوت قرآن سے غافل نہ ہوا کرو ورنہ تمہارے دل اسی طرح سخت ہوجائیں گے جس طرح تم سے پہلے لوگوں کے ہوگئے تھے اور ہم ایک سورت پڑھتے تھے جو لمبائی میں اور سخت وعیدات میں سورت برأت کے برابر تھی پھر میں سوائے اس آیت کے سب بھول گیا (لَوْ کَانَ لِابْنِ آدَمَ ) کہ اگر ابن آدم کے لئے مال کے دو میدان ہوں تو بھی وہ تیسرا میدان طلب کرے گا اور ابن آدم کا پیٹ سوائے مٹی کے کوئی نہیں بھر سکتا اور ہم ایک سورت اور پڑھتے تھے جس کو ہم مسبحات میں سے ایک سورت کے برابر جانتے تھے میں اس کو بھول گیا سوائے اس کے کہ اس میں سے میں نے (يٰ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ ) 61۔ الصف: 2) کو یاد رکھا ہے یعنی اے ایمان والوں وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں تو تمہاری گردنوں میں شہادت کے طور پر لکھ دی جاتی ہے قیامت کے دن تم سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا۔
Abu Harb bin Abu al-Aswad reported on the authority of his father that Abu Musa al-Ashari sent for the reciters of Basrah. They came to him and they were three hundred in number. They recited the Quran and he said: You are the best among the inhabitants of Basrah, for you are the reciters among them. So continue to recite it. (But bear in mind) that your reciting for a long time may not harden your hearts as were hardened the hearts of those before you. We used to recite a surah which resembled in length and severity to (Surah) Baraat. I have, however, forgotten it with the exception of this which I remember out of it: "If there were two valleys full of riches, for the son of Adam علیہ السلامعلیہ السلام, he would long for a third valley, and nothing would fill the stomach of the son of Adam علیہ السلامعلیہ السلامbut dust." And we used so recite a surah which resembled one of the surahs of Musabbihat, and I have forgotten it, but remember (this much) out of it: "Oh people who believe, why do you say that which you do not practise" (lxi 2.) and "that is recorded in your necks as a witness (against you) and you would be asked about it on the Day of Resurrection" (xvii. 13).
قناعت کی فضیلت اور ترغیب کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ الْغِنَی عَنْ کَثْرَةِ الْعَرَضِ وَلَکِنَّ الْغِنَی غِنَی النَّفْسِ
زہیر بن حرب، ابن نمیر، سفیان بن عیینہ، ابوزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دولت مندی کثرت مال سے نہیں ہوتی بلکہ دولت مندی دل کے غنی ہونے کا نام ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ had said: Richness does not lie in the abundance of (worldly) goods but richness is the richness of the soul (heart, self).
دنیا کی زینت و کشادگی پر غرور کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ مَا أَخْشَی عَلَيْکُمْ أَيُّهَا النَّاسُ إِلَّا مَا يُخْرِجُ اللَّهُ لَکُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ کَيْفَ قُلْتَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ أَوَ خَيْرٌ هُوَ إِنَّ کُلَّ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آکِلَةَ الْخَضِرِ أَکَلَتْ حَتَّی إِذَا امْتَلَأَتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتْ الشَّمْسَ ثَلَطَتْ أَوْ بَالَتْ ثُمَّ اجْتَرَّتْ فَعَادَتْ فَأَکَلَتْ فَمَنْ يَأْخُذْ مَالًا بِحَقِّهِ يُبَارَکْ لَهُ فِيهِ وَمَنْ يَأْخُذْ مَالًا بِغَيْرِ حَقِّهِ فَمَثَلُهُ کَمَثَلِ الَّذِي يَأْکُلُ وَلَا يَشْبَعُ
یحییٰ بن یحیی، لیث بن سعد، قتیبہ بن سعید، سعید بن ابوسعید مقبری، عیاض بن عبداللہ بن سعد، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا اللہ کی قسم میں تم پر اس سے زیادہ کسی چیز کی وجہ سے نہیں ڈرتا جو اللہ تمہارے لئے دنیا کی زینت کی چیز نکالتا ہے ایک صحابی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا بھلائی سے برائی بھی آسکتی ہے تو رسول اللہ ﷺ کچھ خاموش رہے۔ پھر فرمایا تو نے کیسے کہا تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول میں نے عرض کیا کیا بھلائی سے بھی برائی آسکتی ہے۔ تو اسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بھلائی کا نتیجہ تو بھلائی ہی ہوتا ہے لیکن موسم بہار میں اگنے والا سبزہ جانوروں کو ہلاک کردیتا ہے۔ یا ہلاکت کے قریب کردیتا ہے سوائے اس سبزہ کھانے والے جانور کے جو کھائے جب اس کی کو کھیں بھر جائیں تو وہ دھوپ میں چلا جائے اور جگالی یا پیشاب کرلے۔ پھر جگالی کرے اور اس میں اس کے لئے برکت دی جائے گی اور جو مال ناحق لے گا تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے اس کی جو کھاتا تو ہے لیکن سیر نہیں ہوتا۔
Abu Said al-Khudri reported that the Messenger of Allah ﷺ stood up and addressed the people thus: O people, by Allah, I do not entertain fear about you in regard to anything else than that which Allah would bring forth for you in the form of adornment of the world. A person said: Messenger of Allah, does good produce evil? The Messenger of Allah ﷺ remained silent for a while and he then said: What did you say? He replied: Messenger of Allah, I said: Does good produce evil? The Messenger of Allah ﷺ said to him: The good does not produce but good, but among the plants the spring rain produces there some which kill with a tremour or nearly kill all but the animal which feeds on vegetation. It eats and when its flanks are distended, it faces the can. Then when it has donged or urinated and chewed, it returns and eats. He who accepts wealth rightly, Allah confers blessing on it for him. And he who takes wealth without any right, he is like one who eats and is not satisfied.
دنیا کی زینت و کشادگی پر غرور کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَخْوَفُ مَا أَخَافُ عَلَيْکُمْ مَا يُخْرِجُ اللَّهُ لَکُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا قَالُوا وَمَا زَهْرَةُ الدُّنْيَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بَرَکَاتُ الْأَرْضِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ قَالَ لَا يَأْتِي الْخَيْرُ إِلَّا بِالْخَيْرِ لَا يَأْتِي الْخَيْرُ إِلَّا بِالْخَيْرِ لَا يَأْتِي الْخَيْرُ إِلَّا بِالْخَيْرِ إِنَّ کُلَّ مَا أَنْبَتَ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آکِلَةَ الْخَضِرِ فَإِنَّهَا تَأْکُلُ حَتَّی إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتْ الشَّمْسَ ثُمَّ اجْتَرَّتْ وَبَالَتْ وَثَلَطَتْ ثُمَّ عَادَتْ فَأَکَلَتْ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِحَقِّهِ وَوَضَعَهُ فِي حَقِّهِ فَنِعْمَ الْمَعُونَةُ هُوَ وَمَنْ أَخَذَهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ کَانَ کَالَّذِي يَأْکُلُ وَلَا يَشْبَعُ
ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، مالک بن انس، زید بن اسلم، عطاء بن یسار، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے زیادہ مجھے تمہارے متعلق خوف اس بات کا ہے جو اللہ تمہارے لئے دنیا کی زینت سے نکالے گا۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول دنیا کی زینت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا زمین کی برکات۔ صحابہ نے کہا اے اللہ کے رسول کیا خیر کا بدلہ برائی بھی ہوتا ہے فرمایا نہیں خیر کا نتیجہ خیر ہی ہوتا ہے ہاں یہ ہے کہ بہار میں اگنے و الا سبزہ مار دیتا ہے یا قریب المرگ کردیتا ہے۔ سوائے ان سبزہ خور جانوروں کے جو کھاتے ہیں یہاں تک کہ ان کی کو کھیں پھول جاتی ہیں پھر دھوپ میں آجاتے ہیں پھر جگالی اور پیشاب کرتے ہیں اور اگال نگل لیتے ہیں پھر دوبارہ لوٹتے ہیں تو کھاتے ہیں (یعنی انہیں کچھ نہیں ہوتا) بیشک ہر مال سبز و شاداب اور میٹھا ہے پس جو اس کو حق کے ساتھ وصول کرے اور اس کے حق ہی میں خرچ کرے تو یہ بہترین مددگار ہے اور جو اسے ناحق طریقہ سے حاصل کرے تو وہ اسی کی طرح ہے جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا۔
Abu Said al-Khudri reported that the Messenger of Allah ﷺ had said: The most dreadful thing I fear in your case is what Allah brings forth for you in the form of the adornment of the world. They (the Prophets Companions) said: Messenger of Allah, what is the adornment of the world? He said: Blessings (the natural resources) of the earth. They (again) said: Messenger of Allah, does good produce evil? He said: No, only good comes out of good. No, only good comes out of good. No. only good comes out of good. All that which the spring rain helps to grow kills or is about to kill but (the animal) which feeds on vegetation. It eats and when its flanks are distended, it faces the sun, it chews the cud, it has dunged and urinated. it returns and eats. This wealth is green and sweet, and he who accepts it and applies it rightly, finds it a good help, but he who takes it wrongfully is like one who eats without being satisfied.
دنیا کی زینت و کشادگی پر غرور کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتَوَائِيِّ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ فَقَالَ إِنَّ مِمَّا أَخَافُ عَلَيْکُمْ بَعْدِي مَا يُفْتَحُ عَلَيْکُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا فَقَالَ رَجُلٌ أَوَ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَسَکَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهُ مَا شَأْنُکَ تُکَلِّمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُکَلِّمُکَ قَالَ وَرَأَيْنَا أَنَّهُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ فَأَفَاقَ يَمْسَحُ عَنْهُ الرُّحَضَائَ وَقَالَ إِنَّ هَذَا السَّائِلَ وَکَأَنَّهُ حَمِدَهُ فَقَالَ إِنَّهُ لَا يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آکِلَةَ الْخَضِرِ فَإِنَّهَا أَکَلَتْ حَتَّی إِذَا امْتَلَأَتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ ثُمَّ رَتَعَتْ وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ وَنِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ هُوَ لِمَنْ أَعْطَی مِنْهُ الْمِسْکِينَ وَالْيَتِيمَ وَابْنَ السَّبِيلَ أَوْ کَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ مَنْ يَأْخُذُهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ کَانَ کَالَّذِي يَأْکُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَيَکُونُ عَلَيْهِ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
علی بن حجر، اسماعیل بن ابراہیم، ہشام دستوائی، یحییٰ بن ابی کثیر، ہلال بن ابی میمونہ، عطاء بن یسار، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ منبر پر بیٹھے اور ہم آپ ﷺ کے ارد گرد بیٹھ گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا میں تم پر اپنے بعد اس بات سے ڈرتا ہوں کہ اللہ تم پر دنیا کی زینت کھول دے اور دنیا کا نفع تو ایک صحابی ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا خیر کا انجام شر ہوتا ہے تو رسول اللہ ﷺ اس کی بات پر خاموش ہوگئے تو اس سے کہا گیا تیری بات کا کیا حال ہے کہ تم نے ایسی بات کی جس سے رسول اللہ ﷺ خاموش ہوگئے اور تجھ سے گفتگو نہ کی اور ہم نے خیال کیا کہ آپ پر وحی نازل ہو رہی ہے پھر آپ ﷺ نے تھوڑی دیر بعد پسینہ پونچھ کر ارشاد فرمایا یہ سوال کرنے والا کیسا ہے گویا آپ ﷺ اس کی تعریف کر رہے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا بھلائی کا بدلہ برائی نہیں ہوتا لیکن موسم بہار کی پیداوار جانور کو مار ڈالتی ہے یا مرنے کے قریب کردیتی ہے سوائے اس سبزے کے جس کو اس نے کھایا یہاں تک کہ اس کی کو کھیں بھر گئیں وہ دھوپ میں چلا گیا پس جگالی کی اور پیشاب کیا اور معدہ کا اگال چبا کر کھایا یہ مال سرسبز و شاداب اور مٹیھا ہے اور اس مسلمان کا اچھا ساتھی ہے جو اس میں سے مسکین، یتیم، مسافر کو دیتا ہے یا جیسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور جس نے اس کو ناحق حاصل کیا اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا اور وہ مال قیامت کے دن اس پر گواہ ہوگا۔
Abu Said al-Khudri reported: The Messenger of Allah ﷺ was sitting on the pulpit and we were sitting around him, and he said: What I am afraid of in regard to you after my death is that there would be opened for you the adornments of the world and its beauties. A person said: Messenger of Allah, does good produce evil? The Messenger of Allah ﷺ remained silent. And it was said to him (the man who had asked the question from the Holy Prophet): What Is the matter with you, that you speak with the Messenger of Allah ﷺ but he does not speak with you? We thought as if revelation was descending upon him. He regained himself and wiped the sweat from him and said: He was the inquirer (and his style of expression showed as if he praised him and then added): Verily good does not produce evil. Whatever the spring rainfall causes to grow kills or is about to kill, but that (animal) which feeds on vegetation. It eats till its flanks are filled; it faces the sun and dungs and urinates, and then returns to eat. And this Wealth is a sweet vegetation, and it is a good companion for a Muslim who gives out of it to the needy, to the orphan, to the wayfarer, or something like that as the Messenger of Allah ﷺ said: He who takes it without his right is like one who eats but does not feel satisfied, and it would stand witness against him on the Day of Judgment.
سوال سے بچنے اور صبر و قناعت کی فضیلت اور ان سب کی ترغیب کے بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَاسًا مِنْ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُمْ ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ حَتَّی إِذَا نَفِدَ مَا عِنْدَهُ قَالَ مَا يَکُنْ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْکُمْ وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ يَصْبِرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ مِنْ عَطَائٍ خَيْرٌ وَأَوْسَعُ مِنْ الصَّبْرِ
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، ابن شہاب، عطاء بن یزید لیثی، حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے بعض انصاری صحابہ نے رسول اللہ ﷺ سے کچھ طلب فرمایا آپ ﷺ نے ان کو عطا فرمایا انہوں نے پھر مانگا تو آپ ﷺ نے ان کو عطا فرمایا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاس موجود مال ختم ہوگیا۔ تو فرمایا میرے پاس جو کچھ ہوتا ہے اس کو ہرگز تم سے بچا کر نہ رکھوں گا۔ جو شخص سوال سے بچتا ہے اللہ اس کو بچاتا ہے اور جو استغناء اختیار کرتا ہے اللہ اسے غنی کردیتا ہے اور جو صبر کرتا ہے اللہ اسے صبر دے دیتا ہے جو کچھ تم میں سے کسی کو دیا جائے وہ بہتر ہے اور صبر سے بڑھ کر کوئی وسعت نہیں۔
Abu Said al-Khudri reported that some people from among the Ansar begged from the Messenger of Allah ﷺ and he gave them. They again begged him and he again gave them, till when what was in his possession was exhausted he said: Whatever good (riches, goods) I have, I will not withhold it from you. He who refrains from begging Allah safeguards him against want. and he who seeks sufficiency, Allah would keep him in a state of sufficiency, and he who shows endurance. Allah would grant him power to endure, and none is blessed with an endowment better and greater than endurance.
سوال سے بچنے اور صبر و قناعت کی فضیلت اور ان سب کی ترغیب کے بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، دوسری سند سے بھی یہی حدیث مروی ہے۔
This hadith has been narrated by Zuhri with the same chain of transmitters.
کفایت شعاری اور قناعت پسندی کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ وَهُوَ ابْنُ شَرِيکٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ وَرُزِقَ کَفَافًا وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِمَا آتَاهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوعبدالرحمن مقری، سعید بن ابوایوب، شرحبیل بن شریک، ابوعبدالرحمن حبلی، حضرت ابن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اسلام قبول کیا اور اسے بقدر کفایت رزق عطا کیا گیا اور اللہ نے اپنے عطا کردہ مال پر قناعت عطا کردی تو وہ شحض کامیاب ہوا۔
Amr bin al-As reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He is successful who has accepted Islam, who has been provided with sufficient for his want and been made contented by Allah with what He has given him.
کفایت شعاری اور قناعت پسندی کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ کِلَاهُمَا عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، ابوسعید اشج، وکیع، اعمش، زہیر بن حرب، محمد بن فضیل، عمارہ بن قعقاع، ابوزرعہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ آل محمد ﷺ کو بقدر ضرورت رزق عطا فرما۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: O Allah, make the provision of Muhammads family sufficient just to sustain life.
مولفتہ القلوب اور جسے اگر نہ دیا جائے تو اس کے ایمان کا خوف ہو اسے دینے اور جو اپنی جہالت کی وجہ سے سختی سے سوال کرے اور خوارج اور ان کے احکا مات کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا فَقُلْتُ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَغَيْرُ هَؤُلَائِ کَانَ أَحَقَّ بِهِ مِنْهُمْ قَالَ إِنَّهُمْ خَيَّرُونِي أَنْ يَسْأَلُونِي بِالْفُحْشِ أَوْ يُبَخِّلُونِي فَلَسْتُ بِبَاخِلٍ
عثمان بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم حنظلی، اسحاق، جریر، اعمش، ابو وائل، سلمان بن ربیعہ، حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مال تقیسم فرمایا تو میں نے عرض کیا اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول ان لوگوں کے علاوہ دوسرے لوگ زیادہ مستحق و حقدار تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان لوگوں نے مجھے اختیار دیا کہ یہ مجھ سے بےحیائی کے ساتھ مانگیں یا مجھے بخیل کہیں پس میں تو بخل کرنے والا نہیں ہوں۔
Umar bin Khattab (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ distributed something. Upon this I said: Messenger of Allah, I swear by God, the others besides them were more deserving than these (to whom you gave charity). He said: They had in fact left no other alternative for me. but (that they should) either beg importunately from me or they would regard me as a miser, but I am not a miser.