آقا کے مال سے غلام کے خرچ کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَيْرًا مَوْلَی آبِي اللَّحْمِ قَالَ أَمَرَنِي مَوْلَايَ أَنْ أُقَدِّدَ لَحْمًا فَجَائَنِي مِسْکِينٌ فَأَطْعَمْتُهُ مِنْهُ فَعَلِمَ بِذَلِکَ مَوْلَايَ فَضَرَبَنِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَهُ فَدَعَاهُ فَقَالَ لِمَ ضَرَبْتَهُ فَقَالَ يُعْطِي طَعَامِي بِغَيْرِ أَنْ آمُرَهُ فَقَالَ الْأَجْرُ بَيْنَکُمَا
قتیبہ بن سعید، حاتم بن اسماعیل، یزید بن ابی عبید، حضرت عمیر ؓ سے روایت ہے کہ جو ابواللحم کے آزاد کردہ غلام ہیں میرے آقا نے مجھے حکم دیا کہ میں گوشت کھاؤں میرے پاس ایک مسکین آیا تو میں نے اس میں سے اس کو کھلا دیا۔ میرے مالک کو اس کا علم ہوا تو اس نے مجھے مارا میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہو کر آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے اس کو بلایا اور فرمایا تو نے اس کو کیوں مارا تو اس نے کہا کہ یہ میرا کھانا میرے حکم کے بغیر عطا کرتا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا ثواب تم دونوں کو ہے۔
Umair, the freed slave of Abil-Lahm, said: My master commanded me to cut some meat in strips; (as I was doing it) a poor man came to me and I gave him some of it to eat. My master came to know of that, and he beat me. I came to the Messenger of Allah ﷺ and narrated it to him. He (the Holy Prophet) summoned him and said: Why did you beat him? He (Abil-Lahm) said: He gives away my food without being commanded to do so. Upon this he (the Holy Prophet) said: The reward would be shared by you two.
آقا کے مال سے غلام کے خرچ کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَصُمْ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ وَلَا تَأْذَنْ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ کَسْبِهِ مِنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَإِنَّ نِصْفَ أَجْرِهِ لَهُ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی خاوند کی موجودگی میں کوئی عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر روزہ (نفل) نہ رکھے اور اس کے گھر میں اس کی موجودگی میں کسی کو اس کی اجازت کے بغیر آ نے نہ دے اور اس کی کمائی میں سے اس کے حکم کے بغیر خرچ نہ کرے کیونکہ اس میں بھی اس کے خاوند کے لئے آدھا ثواب ہے۔
Hammam bin Munabbih said: These are some of the a hadith of Muhammad the Messenger of Allah ﷺ , transmitted to us on the authority of Abu Hurairah (RA) . So he narrated one hadith out of them (as this): The Messenger of Allah ﷺ said: No woman should observe fast when her spouse is present (in the house) but with his permission. And she should not admit any (mahram) in his house, while he (her husband) is present, but with his permission. And whatever she spends from his earnings without his sanction, for him is half the reward.
صدقہ کے ساتھ اور نیکی ملا نے والے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ وَاللَّفْظُ لِأَبِي الطَّاهِرِ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ فَمَنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ وَمَنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ وَمَنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ وَمَنْ کَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ قَالَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّيقُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَلَی أَحَدٍ يُدْعَی مِنْ تِلْکَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ فَهَلْ يُدْعَی أَحَدٌ مِنْ تِلْکَ الْأَبْوَابِ کُلِّهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ وَأَرْجُو أَنْ تَکُونَ مِنْهُمْ
ابوطاہر، حرملہ بن یحییٰ تجیبی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حمید بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے اپنے مال میں سے کسی چیز کا جوڑا اللہ کے راستہ میں خرچ کیا تو جنت میں پکارا جائے گا۔ اے اللہ کے بندے یہ بہتر ہے، پس جو نماز والوں میں سے ہوگا تو وہ باب نماز سے پکارا جائے گا اور جو اہل جہاد میں سے ہوگا وہ جہاد کے دروازہ سے پکارا جائے گا جو صدقہ والوں میں سے ہوگا وہ صدقہ کے دروازہ سے بلایا جائے گا اور جو روزہ والوں سے ہوگا وہ باب الریان (سیراب کرنے والا دروازہ) سے پکارا جائے گا حضرت ابوبکر صدیق نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا کوئی ایک ان سب دروازوں میں سے پکارا جائے گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں! اور میں امید کرتا ہوں کہ تو ان میں سے ہوگا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ assaying: If anyone contributes a pair of anything for the sake of Allah, he would be invited to enter Paradise (with these words): O servant of Allah. It is good (for you). These who engage in prayer will he invited to enter by the gate of prayer; those who take part in Jihad will be invited to enter by the gate of Jihad; those who give charity will be invited to enter by the gate of charity; and those who observe fast will be invited to enter by the gate ar-Rayyan. Abu Bakr Siddiq (RA) said: Messenger of Allah, is it necessary that a person be invited through one of these gates? Will anyone he invited to enter by all those gates? The Messenger of Allah ﷺ (way peace be upon him) said: Yes, and I hope you will be one of them.
صدقہ کے ساتھ اور نیکی ملا نے والے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ يُونُسَ وَمَعْنَی حَدِيثِهِ
عمرو ناقد، حسن حلوانی، عبد بن حمید، ابن ابراہیم بن سعد، صالح، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، یونس حدیث مذکور کی دوسری اسناد ذکر ہیں۔
This hadith has been narrated by Zuhri through another chain of transmitters.
صدقہ کے ساتھ اور نیکی ملا نے والے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنِي شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دَعَاهُ خَزَنَةُ الْجَنَّةِ کُلُّ خَزَنَةِ بَابٍ أَيْ فُلُ هَلُمَّ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَلِکَ الَّذِي لَا تَوَی عَلَيْهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَکُونَ مِنْهُمْ
محمد بن رافع، محمد بن عبداللہ بن زبیر، شیبان، محمد بن حاتم، شبابہ، شیان بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے اللہ کے راستہ میں کسی چیز کا جوڑا خرچ کیا تو اس کو جنت کا خزانچی بلائے گا ہر دروازہ کا خازن کہتا ہے اے فلاں! ادھر آ! حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! ایسے شخص پر تو کوئی مشکل نہ ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ تو انہی میں سے ہوگا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: He who spent pairs for the sake of Allah, the guardians of Paradise would call him, (in fact) every guardian of the door (of Paradise would welcome him saying): O, so and so, come on. Upon this Abu Bakr (RA) said: Messenger of Allah, (it means) there would be no distress on this person. The Messenger of Allah ﷺ said. I hope you would be among them.
صدقہ کے ساتھ اور نیکی ملا نے والے کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَصْبَحَ مِنْکُمْ الْيَوْمَ صَائِمًا قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا قَالَ فَمَنْ تَبِعَ مِنْکُمْ الْيَوْمَ جَنَازَةً قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا قَالَ فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْکُمْ الْيَوْمَ مِسْکِينًا قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا قَالَ فَمَنْ عَادَ مِنْکُمْ الْيَوْمَ مَرِيضًا قَالَ أَبُو بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ
ابن ابی عمر، مروان فزاری، یزید بن کیسان، ابوحازم اشجعی، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے آج کس نے روزہ دار صبح کی؟ ابوبکر ؓ نے عرض کیا میں نے، آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کس نے آج مریض کی عیادت کی؟ ابوبکر ؓ نے عرض کیا میں نے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ سب کام جب کسی ایک آدمی میں جمع ہوجاتے ہیں تو وہ ضرور جنت میں داخل ہوتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ said: Who has observed fast among you today? Abu Bakr (RA) replied: It is I. He (the Holy Prophet ﷺ again) said: Who among you followed the bier today? Abu Bakr (RA) replied: It is I. He (the Holy Prophet ﷺ again) said: Who among you led a poor man today? Abu Bakr (RA) (Allah he pleased with him) replied: It is I. He (again) said: Who among you visited an invalid today? Abu Bakr (RA) said: It is I. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: Anyone in whom (these good deeds) are combined will certainly, enter paradise.
خرچ کرنے کی تر غیت اور گن گن کر رکھنے کی کرا ہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْفِقِي أَوْ انْضَحِي أَوْ انْفَحِي وَلَا تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْکِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، ہشام، فاطمہ بنت منذر، اسماء بنت ابوبکر سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خرچ کر یا فیاضی کر اور دینے کا شمار نہ کر ورنہ تجھ پر اللہ بھی شمار کرے گا۔
Asma, daughter of Abu Bakr (RA) (Allah be pleated with him), reported: The Messenger of Allah ﷺ said to me: Spend, and do not calculate, or otherwise Allah would also calculate in your case.
خرچ کرنے کی تر غیت اور گن گن کر رکھنے کی کرا ہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَائَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْفَحِي أَوْ انْضَحِي أَوْ أَنْفِقِي وَلَا تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْکِ وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْکِ
عمرو ناقد، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، ابومعاویہ، زہیر، محمد بن حازم، ہشام بن عروہ، عباد بن حمزہ، فاطمہ بنت منذر، حضرت اسماء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سخاوت یا فیاضی یا خرچ کر اور شمار نہ کر پس شمار کرے گا اللہ تجھ پر اور جمع کر کے نہ رکھ ورنہ اللہ بھی تجھے دینا بند کر دے گا۔
Asma reported Allahs Messenger ﷺ as saying (to her): Spend and do not calculate, (for) Allah would calculate in your case; and do not hoard, otherwise Allah would be withholding from you.
خرچ کرنے کی تر غیت اور گن گن کر رکھنے کی کرا ہت کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ عَنْ أَسْمَائَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
ابن نمیر، محمد بن بشر، ہشام، عباد بن حمزہ، اسماء ؓ سے اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Asma through another chain of transmitters.
خرچ کرنے کی تر غیت اور گن گن کر رکھنے کی کرا ہت کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّهَا جَائَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَيْسَ لِي شَيْئٌ إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أَرْضَخَ مِمَّا يُدْخِلُ عَلَيَّ فَقَالَ ارْضَخِي مَا اسْتَطَعْتِ وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْکِ
محمد بن حاتم، ہارون بن عبداللہ، حجاج بن محمد، ابن جریج، ابن ابی ملیکہ، عباد بن عبداللہ بن زبیر، حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئیں اور عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ میرے پاس کوئی چیز نہیں سوائے اس کے جو حضرت زبیر ؓ مجھے دیں کیا مجھ پر کوئی گناہ ہے کہ اگر میں اس دئیے ہوئے میں سے کچھ صدقہ دوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا جنتی تجھے طاقت ہو اتنا دو اور جمع کر کے نہ رکھو ورنہ اللہ بھی تم کو دینا بند کر دے گا۔
Asma, daughter of Abu Bakr, reported that abe came to the Apostle of Allah ﷺ (may peace he upon him) and said: Apostle of Allah ﷺ , I have nothing with me, but only, that which is given to me by Zubair (for household expenses). Is there any sin for me if I spend out of that which is given to me (by Zabair)? Upon this he (the Holy Prophet) said: Spend according to your means; and do not hoard, for Allah will withhold from you.
قلیل صدقہ کی تر غیت اور قلیل مال سے اس کی حقارت کی وجہ سے صدقہ کی ممانعت نہ ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقُولُ يَا نِسَائَ الْمُسْلِمَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ
یحییٰ بن یحیی، لیث بن سعد، قتیبہ بن سعید، لیث، سعید بن ابوسعید، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمان عورتو! تم میں کوئی اپنی ہمسائی کے گھر بکری کے پائے کا ایک کھر بھیجنے کو بھی حقیر نہ سمجھے۔ یعنی کچھ نہ کچھ ہدیہ بھیجتی رہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: O Muslim women, none of you should consider even a sheeps trotter too insignificant to give to her neighbour.
صدقہ چھپا کردینے کی فضیلت کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی جَمِيعًا عَنْ يَحْيَی الْقَطَّانِ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمْ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ الْإِمَامُ الْعَادِلُ وَشَابٌّ نَشَأَ بِعِبَادَةِ اللَّهِ وَرَجُلٌ قَلْبُهُ مُعَلَّقٌ فِي الْمَسَاجِدِ وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ اجْتَمَعَا عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَا عَلَيْهِ وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّی لَا تَعْلَمَ يَمِينُهُ مَا تُنْفِقُ شِمَالُهُ وَرَجُلٌ ذَکَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ
زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، یحییٰ قطان، زہیر، یحییٰ بن سعید، عبیداللہ، خبیب بن عبدالرحمن، حفص بن عاصم، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سات آدمی ایسے ہیں جن کو اللہ اپنے سایہ میں سایہ عطا کرے گا۔ جس دن اس کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا ایک عادل بادشاہ، دوسرا وہ جوان جس کی پرورش اللہ کی عبادت میں ہوئی ہو، تیسرا وہ آدمی جس کا دل مساجد میں اٹکا ہوا ہو، چوتھے وہ دو آدمی جن کی دوستی اللہ کے لئے ہو اسی پر جمع ہوں اور اسی پر جدا ہوں پانچواں وہ آدمی جس کو کوئی نسب و جمال والی عورت بلائے (برائی کی طرف) تو وہ کہے میں اللہ سے ڈرتا ہوں، چھٹا وہ آدمی جو صدقہ اس طرح چھپا کردیتا ہے کہ اس کے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ کے دینے کی خبر نہ ہو۔ سا تو اں وہ آدمی جو خلوت میں اللہ کا ذکر کرے تو اس کی آنکھیں بہہ پڑیں۔
Abu Hurairah (RA) reported that the Apostle of Allah ﷺ had said: Seven are (the persons) whom Allah would give protection with His Shade on the Day when there would be no shade but that of Him (i. e. on the Day of Judgment) and they are: a just ruler, a youth who grew up with the worship of Allah; a person whose heart is attached to the mosques; two persons who love and meet each other and depart from each other for the sake of Allah; a man whom a beautiful woman of high rank seduces (for illicit relation), but he (rejects this offer by saying): "I fear Allah"; a person who gives charity and conceals it (to such an extent) that the right hand does not know what the left has given: and a person who remembered Allah in privacy and his eyes shed tears.
صدقہ چھپا کردینے کی فضیلت کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ وَقَالَ وَرَجُلٌ مُعَلَّقٌ بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّی يَعُودَ إِلَيْهِ
یحییٰ بن یحیی، مالک، حبیب بن عبدالرحمن، حفص بن عاصم، ابوسعید خدری، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک وہ آدمی ہے جس کا دل مسجد میں معلق ہو جب اس سے نکلے یہاں تک کہ اس کی طرف لوٹ آئے باقی وہی حدیث ہے جو گزر چکی۔
This hadith has been narrated, on the authority, of Abu Hurairah (RA) (with this change of words). "A person whose heart is attached to the mosque when he goes out of it till he returns to it."
افضل صدقہ تندرستی اور خوشحالی میں صدقہ کرنا ہے۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ فَقَالَ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَی الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْغِنَی وَلَا تُمْهِلَ حَتَّی إِذَا بَلَغَتْ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلَانٍ کَذَا وَلِفُلَانٍ کَذَا أَلَا وَقَدْ کَانَ لِفُلَانٍ
زہیر بن حرب، جریر، عمارہ بن قعقاع، ابوزرعہ، حضرت ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا۔ اس نے کہا اے اللہ کے رسول! کون سا صدقہ بڑا ہے؟ فرمایا کہ تو صدقہ کرے اس حال میں کہ تو تندرست اور حریص ہو اور محتاج کا خوف کرتا ہو اور مالداری کا امیدوار ہو اور تو دیر نہ کر یہاں تک کہ سا نس گلے میں آجائے تو اس وقت کہے فلاں کو اتنا اور فلاں کے لئے اس طرح، آگاہ رہو کہ وہ تو فلاں کے لئے ہو ہی چکا۔
Abu Hurairah (RA) reported that there came a person to the Messenger of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, which charity is the best? Upon this he said: That you should give charity (in a state) when you are healthy and close-fisted, one haunted by the fear of poverty, hoping to become rich (charity in such a state of health and mind is the best). And you must not defer (charity to such a length) that you are about to die and would he saying: This is for so and so, and this is for so and so. Lo, it has already come into (the possession of so and so).
افضل صدقہ تندرستی اور خوشحالی میں صدقہ کرنا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا فَقَالَ أَمَا وَأَبِيکَ لَتُنَبَّأَنَّهُ أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَی الْفَقْرَ وَتَأْمُلُ الْبَقَائَ وَلَا تُمْهِلَ حَتَّی إِذَا بَلَغَتْ الْحُلْقُومَ قُلْتَ لِفُلَانٍ کَذَا وَلِفُلَانٍ کَذَا وَقَدْ کَانَ لِفُلَانٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابن فضیل، عمارہ، ابوزرعہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! کون سے صدقے کا ثواب بڑا ہے آپ ﷺ نے فرمایا سن تیرے باپ کی قسم تجھے معلوم ہونا چائے کہ اس صدقہ کا دینا افضل ہے جب تو تندرست ہو اور ایسی حالت میں ہو جس میں لوگ بخل کرتے ہیں اور تو فقر و فاقہ کا خوف کرے اور مال کے باقی رکھنے کا امیدوار ہو تو تاخیر نہ کر یہاں تک کہ سانس گلے میں آجائے اور تو کہے فلاں کے لئے اتنا اور فلاں کو اتنا دے دو حالانکہ وہ تو فلاں کا ہوچکا۔
Abu Hurairah (RA) reported that a person came to the Apostle of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, which charity is the greatest in reward? (The Holy Prophet ﷺ said): By your father, beware, you should give charity (in a state when you are) healthy and close-fisted, haunted by the fear of poverty, and still hoping to live (as rich). And you must not defer charity (to the time) when you are about to die, and would then say: "This is for so and so, and this for so and so." It has already become the possession of so and so.
افضل صدقہ تندرستی اور خوشحالی میں صدقہ کرنا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ الْقَعْقَاعِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ
ابوکامل جحدری، عبدالواحد، عمارہ بن قعقاع، اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے لیکن اس میں ہے کہ کون سا صدقہ افضل ہے۔
This hadith has been narrated with the same chain of transmitters except with this change (of words): "Which charity is most excellent?"
اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا اور نیچے والا ہاتھ لینے والا ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَذْکُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ عَنْ الْمَسْأَلَةِ الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَی وَالْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ وَالسُّفْلَی السَّائِلَةُ
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، نافع، عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر صدقہ کرنے اور سوال سے بچنے کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور اوپر والا خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہے۔
Abdullah bin Umar (RA) reported that as Allahs Messenger ﷺ was sitting on the pulpit and talking about Sadaqa and abstention from begging, he said: The upper hand is better than the lower one, the upper being the one which bestows and the lower one which begs.
اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا اور نیچے والا ہاتھ لینے والا ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَی الْقَطَّانِ قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ مُوسَی بْنَ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ أَنَّ حَکِيمَ بْنَ حِزَامٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ أَوْ خَيْرُ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنًی وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَی وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ
محمد بن بشار، محمد بن حاتم، احمد بن عبدہ، یحییٰ قطان، یحیی، عمرو بن عثمان، موسیٰ بن طلحہ، حضرت حکیم بن حزام ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا افضل یا بہتر صدقہ وہ ہے اس کے بعد بھی دینے والا غنی رہے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور صدقہ دینا اپنے عیال سے شروع کرے۔
Hakim bin Hizam reported Allahs Messenger ﷺ having said this: The most excellent Sadaqa or the best of Sadaqa is that after giving which the (giver) remains rich and the upper hand is better than the lower hand, and begin from the members of your household.
اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا اور نیچے والا ہاتھ لینے والا ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدٍ عَنْ حَکِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِطِيبِ نَفْسٍ بُورِکَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَکْ لَهُ فِيهِ وَکَانَ کَالَّذِي يَأْکُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَی
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، سفیان، زہری، عروہ، سعید، حضرت حکیم بن حزام ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا آپ ﷺ نے مجھے عطا کیا پھر میں نے مانگا آپ ﷺ نے مجھے عطا کیا پھر میں نے مانگا آپ ﷺ نے مجھے عطا کیا پھر فرمایا یہ مال ہرا بھرا اور شیریں ہے جو اس کو پاکیزہ نفس سے لیتا ہے تو اس کے لئے اس میں برکت دی جاتی ہے اور جو اس کو نفس کی حرص و ہوس سے لیتا ہے تو اس کے لئے برکت نہیں دی جاتی اور وہ ایسے شخص کی طرح ہوجاتا ہے جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔
Hakim bin Hizam reported: I begged the Apostle of Allah ﷺ , and he gave me. I again begged, he again gave me. I again begged, he again gave me, and then said: This property is green and sweet; he who receives it with a cheerful heart is blessed in it, and he who receives it with an avaricious mind would not be blessed in it, he being like one who eats without being satished, and the upper hand is better than the lower hand.
اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا اور نیچے والا ہاتھ لینے والا ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا شَدَّادٌ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا ابْنَ آدَمَ إِنَّکَ أَنْ تَبْذُلَ الْفَضْلَ خَيْرٌ لَکَ وَأَنْ تُمْسِکَهُ شَرٌّ لَکَ وَلَا تُلَامُ عَلَی کَفَافٍ وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَی
نصر بن علی جہضمی، زہیر بن حرب، عبد بن حمید، عمر بن یونس، عکرمہ بن عمار، حضرت ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابن آدم اپنی ضرورت سے زائد مال خرچ کردینا تیرے لئے بہتر ہے اگر تو اس کو روک لے گا تو تیرے لئے برا ہوگا اور دینے کی ابتداء اپنے اہل و عیال سے کر اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔
Abu Umama reported Allahs Messenger ﷺ as saying: O son of Adam, it is better for you if you spend your surplus (wealth), but if you withhold it, it is evil for you. There is (however) no reproach for you (if you withhold means necessary) for a living. And begin (charity) with your dependants; and the upper hand is better than the lower hand.