التحیات آہستہ آواز سے پڑھنا سنت ہے
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ کَانَ یَقُوْلُ مِنَ السُّنَّۃِ اِخْفَاءُ التَّشَھُّدِ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَالتِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثُ حَسَنٌ غَرِیْبٌ۔
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ تشہد (یعنی التحیات) آہستہ آواز سے پڑھنا سنت ہے (ابوداؤد، جامع ترمذی) اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
جب کوئی صحابی کسی فعل کے بارے میں یہ کہے کہ یہ سنت ہے تو اس کا یہ قول قال رسول اللہ ﷺ کے حکم میں ہوگا یعنی وہ حدیث مرفوع ہوگی۔ چناچہ عبداللہ ابن مسعود ؓ کی اس حدیث کے پیش نظر جمہور محدثین اور فقہا کا مسلک یہی ہے کہ تشہد یعنی التحیات آہستہ آواز سے پڑھنا چاہئے۔
رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے اور اس کی فضلیت کا بیان
لغوی طو پر صلوۃ کے معنی دعا، رحمت اور استغفار کے ہیں اور درود کا مطلب ہے بندوں کی جانب سے رسول اللہ ﷺ کے لئے اللہ جل شانہ کی ایسی رحمت کو طلب کرنا جو دنیا و آخرت کی بھلائی کو شامل ہو۔ ا اللہ تعالیٰ نے بندوں کو رسول اللہ ﷺ پر صلوٰۃ وسلام یعنی درود بھیجنے کا حکم دیا ہے چناچہ ارشاد بانی ہے۔ آیت ( يٰ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِ يْمًا) 33۔ الاحزاب 56) اے ایمان والو تم آپ (یعنی رسول اللہ ﷺ پر سلام اور حمت بھیجو۔ علمائے امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم وجوب کے لئے ہے چناچہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جتنی مرتبہ بھی رسول اللہ ﷺ کا نام مبارک سنا جائے ہر ہر بار درود بھیجا جائے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جس طرح پوری زندگی میں صرف ایک مرتبہ آپ ﷺ کی نبوت کی گواہی دینی فرض ہے اسی طرح پوری عمر میں صرف ایک مرتبہ آپ ﷺ پر درود بھیجنا فرض ہے۔ اس کے بعد زیادہ سے زیادہ درود بھیجنا مستحب و مسنون اور شعار اسلام میں ہے جس پر بیحد و حساب اجر وثواب کا وعدہ ہے۔ حضرت قاضی ابوبکر (رح) تو فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مومنین پر فرض کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر درود وسلام بھیجا جائے اور چونکہ اس سلسلے میں کوئی خاص وقت متعین نہیں کیا اس لئے واجب ہے کہ درود وسلام زیادہ سے زیادہ بھیجا جائے اور اس میں غفلت نہ برتی جائے لیکن بعض حضرات نے حضرت قاضی ابوبکر (رح) کے اس قول کے مقابلے میں پہلے قول کو ترجیح دی ہے۔ التحیات میں درود پڑھنا فرض ہے یا سنت حضرت امام اشافعی (رح) نے التحیات میں درود پڑھنے کو فرض کہا ہے لیکن علماء نے صراحت کی ہے کہ امام اشافعی (رح) کا یہ قول شاذ ہے اس مسئلے میں امام شافعی (رح) کا موافق کوئی عالم نہیں ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کا معتمد و مفتی بہ قول یہ ہے کہ کوئی آدمی اگر ایک ہی مجلس میں سرور کائنات ﷺ کا نام مبارک کئی مرتبہ سنے تو اس پر صرف ایک مرتبہ درود بھیجنا واجب ہے اور ہر مرتبہ بھیجنا مستحب ہے اور التحیات میں درود پڑھنا سنت ہے۔ صلوٰۃ وسلام کے الفاظ کا استعمال غیر انبیاء کے لئے جائز ہے یا نہیں؟ علماء کے ہاں اس بات پر اختلاف ہے کہ انبیاء کے علاوہ دوسرے لوگوں کے ناموں سے ساتھ صلوٰۃ وسلام کے الفاظ استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟ مثلاً رسول اللہ ﷺ کے اسم گرامی کے ساتھ ﷺ یا دوسرے انبیاء کے اسماء کے ساتھ (علیہ السلام) کے الفاظ بولے اور لکھے جاتے ہیں تو اس طرح انبیاء کے علاوہ کسی دوسری آدمی کے نام کے ساتھ ان الفاظ کا استعمال جائز ہوگا یا نہیں؟ چناچہ جمہور علماء فرماتے ہیں کہ ان الفاظ کا استعمال صرف انبیاء کے لئے مخصوص ہے۔ ان کے علاوہ کسی دوسرے آدمی کے لئے ان الفاظ کو استعمال کرنا جائز نہیں ہے البتہ دوسرے لوگوں کے اسماء کے ساتھ غفر اللہ، (رح) اور ؓ وغیرہ کے الفاظ استعمال کئے جائیں۔ علامہ طیبی (رح) نے نقل کیا ہے کہ انبیاء کے علاوہ دوسرے لوگوں پر دورد بھیجنا خلاف اولیٰ ہے۔ بعض حضرات نے حرام اور مکروہ بھی کہا ہے اس مسئلہ میں صحیح بات یہ ہے کہ غیر انبیاء اور ملائکہ پر صلوٰۃ وسلام بھیجنا ابتدا اور مستقلاً مکروہ تنزیہی ہے کیونکہ یہ اہل بدعت کا شعار ہے البتہ انبیاء کے ساتھ ان پر بھیجنا جائز ہے مثلا اس طرح کہا جاسکتا ہے صلی اللہ علی محمد و علی الہ و اصحابہ وسلم یعنی محمد ﷺ پر اور آپ کی آل اولاد پر اور آپ ﷺ کے صحابہ پر اللہ کی رحمت و برکت وا اللہ اعلم
التحیات میں درود پڑھنے کا طریقہ
وَعَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ ابْنِ اَبِیْ لَےْلٰی صقَالَ لَقِےَنِیْ کَعْبُ ابْنُ عُجْرَۃَ رضی اللہ عنہ فَقَالَ اَلَااُھْدِیْ لَکَ ھَدِےَّۃً سَمِعْتُھَا مِنَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقُلْتُ بَلٰی فَاَھْدِ ھَالِیْ فَقَالَ سَاَلْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقُلْنَا ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ کَےْفَ الصَّلٰوۃُ عَلَےْکُمْ اَھْلَ الْبَےْتِ فَاِنَّ اللّٰہَ قَدْ عَلَّمَنَا کَےْفَ نُسَلِّمُ عَلَےْکَ قَالَ قُوْلُوْا اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّےْتَ عَلٰی اِبْرٰھِےْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرٰھِےْمَ اِنَّکَ حَمِےْدٌ مَّجِےْدٌ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرٰھِےْمَ وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِےْمَ اِنَّکَ حَمِےْدٌ مَّجِےْدٌ (مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ) الا ان مسلما لم یذکر علی ابراہیم فی المومنین۔
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلی (رح) (تابعی) فرماتے ہیں کہ حضرت کعب ابن عجرہ (صحابی) سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں وہ چیز بطور ہدیہ پیش نہ کروں جس کو میں نے رحمت عالم ﷺ سے سنا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! مجھے وہ ہدیہ ضرور عنایت فرمائیے انہوں نے فرمایا کہ ہم چند صحابہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ اور اہل بیت نبوت پر ہم درود کس طرح بھیجیں؟ اللہ نے ہمیں یہ تو بتادیا ہے کہ آپ ﷺ پر سلام کس طرح بھیجا جائے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس طرح کہو! اللہم صل علی علی محمد وعلی ال محمد کما صلیت علی ابراہیم وعلی ال ابراہیم انک حمید مجید اللہم بارک علی محمد وعلی ال محمد کما بارکت علی ابراہیم وعلی ال ابراہیم انک حمید مجیدا اے اللہ! محمد پر آل محمد ﷺ پر رحمت نازل کر جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی بیشک تو بزرگ و برتر ہے۔ اے اللہ! محمد ﷺ اور آل محمد ﷺ پر برکت نازل کر جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی بیشک تو بزرگ و برتر ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
صحابہ کے سوال کا حاصل یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو حکم دیا ہے کہ آپ ﷺ پر درود اور سلام بھیجیں تو سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ آپ ﷺ نے ہمیں سکھایا۔ کہ التحیات میں ہم السلام علیک ایھا النبی کہا کریں۔ اب یہ بھی بتا دیجئے کہ درود کس طرح بھیجیں؟ صحابہ کے قول اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتادیا ہے کہ آپ ﷺ پر سلام کس طرح بھجیں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی لسان اقدس کے ذریعے ہمیں سلام بھیجنے کی تعلیم دی۔ اسے اللہ تعالیٰ کی جانب سے تعلیم اس لئے کہا گیا ہے کہ حقیقت میں رسول اللہ ﷺ کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے جو بھی احکام بیان فرمائے ہیں وہ از خود اور اپنے ذہن و فکر سے نہیں بیان فرمائے ہیں بلکہ وہ احکام بذریعہ وحی اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپ ﷺ کو دیئے گئے اس کو آپ ﷺ اپنی لسان اقدس کے ذریعہ نافذ فرمایا۔ ال کی تعریف و تحقیق اہل و عیال کو کہتے ہیں اس کے معنی تابعدار بھی مراد لئے جاتے ہیں چناچہ وعلی ال محمد میں آل کے تعین کے سلسلہ میں علماء کے مختلف اقوال ہیں۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ ال محمد سے مراد صرف آپ ﷺ کے اہل و عیال ہیں۔ کچھ حضرات نے کہا ہے کہ آل سے مراد تابعداد مراد ہیں بعض علماء کی رائے ہے کہ ہر مومن آل محمد میں سے ہے کسی نے کہا کہ ہر متقی مومن آل محمد میں شامل ہے یہ سب علماء کے اقوال ہیں لیکن بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس حدیث میں آل سے مراد تابعدار ہیں۔ گو بعض علماء نے آل کی تفسیر اہل بیت سے کی ہے یعنی ان حضرات کے نزدیک آل محمد سے اہل بیت یعنی وہ لوگ مراد ہیں جن پر صدقہ حرام ہے اور جنہیں بنی ہاشم کہا جاتا ہے۔ امام فخر الدین رازی (رح) نے کہا ہے کہ اہل بیت میں آپ ﷺ کی ازواج مطہرات اور اولاد شامل ہیں اور چونکہ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کا ربط بھی ان سب سے حضرت فاطمہ الزہراء ؓ کی وجہ سے بہت زیادہ تھا اس لئے وہ بھی اہل بیت میں داخل ہیں۔ کما صلیت علی ابراہیم میں صرف حضرت ابراہیم کی تخصیص کی گئی ہے اور کسی نبی کا ذکر نہیں کیا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اول تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ کے جد امجد ہیں، نیزیہ کہ اصول دین میں شریعت محمدی ان کے تابع ہے۔ اے اللہ محمد ﷺ پر برکت نازل کر کا مطلب یہ ہے کہ رب قدوس! تو نے ہمارے سرکار و سردار رحمت عالم ﷺ کو جو شرف و فضیلت عطا فرمائی اور آپ ﷺ کو جو بزرگی و بڑائی دی ہے اس کو ہمیشہ اور باقی رکھ! روایت کے آخری الفاظ الا ان مسلما لم یذکر الخ کا مطلب یہ ہے کہ مسلم نے جو روایت نقل کی ہے اس کے پہلے اور دوسرے دونوں ہی درود میں علی ابراہیم کے الفاظ نہیں ہیں یعنی اس کے الفاظ اس طرح ہیں کما صیلت علی آل ابراہیم اور کما بارکت علی آل ابراہیم
التحیات میں درود پڑھنے کا طریقہ
وَعَنْ اَبِیْ حُمَےْدِ السَّاعِدِیِّ صقَالَ قَالُوْا ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ کَےْفَ نُصَلِّیْ عَلَےْکَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قُوْلُوْا اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاَزْوَاجِہٖ وَذُرِّےَّتِہٖ کَمَا صَلَّےْتَ عَلٰی اِبْرَاھِےْمَ وَبَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاَزْوَاجِہٖ وَذُرِےَّتِہٖ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاہِےْمَ اِنَّکَ حَمِےْدٌ مَّجِےْدٌ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوحمید ساعدی (رح) فرماتے ہیں کہ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہم آپ ﷺ پر درود کس طرح بھیجیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کہو؟ اللہم صل علی محمد وازواجہ وذریتہ کما صلیت علی ابراہیم وبارک علی محمد وازواجہ وذریتہ کما بارکت علی ال ابراہیم انک حمید مجید اے اللہ! محمد ﷺ پر، آپ ﷺ کی ازواج مطہرات پر اور آپ ﷺ کی اولاد پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی اور محمد ﷺ پر، آپ ﷺ کی ازاوج مطہرات پر اور آپ ﷺ کی اولاد پر برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم پر برکت نازل فرمائی، بیشک تو بزرگ و برتر ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
درود کے الفاظ مختلف طریقے سے وارد ہوئے ہیں جیسا کہ ابھی آپ نے دیکھا۔ پہلی حدیث میں درود کے الفاظ کچھ اور ہیں اور اس حدیث کے الفاظ کچھ اور چناچہ علماء لکھتے ہیں کہ پہلی حدیث میں جو درود ذکر کیا ہے وہ پڑھ لینا کافی ہے بعض روایتوں میں وارحم کما رحمت و ترحمت کے الفاظ بھی مذکور ہیں مگر یہ الفاظ صحیح طور پر ثابت نہیں ہیں۔ بعض محدثین نے وضاحت کی ہے کہ جس حدیث میں ان الفاظ و ترحم علی محمد وال محمد کما ترحمت علی ابراہیم وعلی ال ابراہیم کا بھی اضافہ ہے وہ حدیث حسن ہے۔ وا اللہ اعلم
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ وَاحِدَۃً صَلَّی اللّٰہُ عَلَےْہِ عَشْرًا۔(صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ نے فرمایا جو آدمی مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔ (صحیح مسلم)
تشریح
چونکہ ارشاد ربانی ہے من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثا لھا یعنی جو آدمی ایک نیکی کرتا ہے تو اس کے لئے اس جیسی دس نیکیوں کا ثواب ہے اس لئے جو آدمی آنحضرت ﷺ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس خوشخبری کے مطابق اس آدمی پر دس مرتبہ رحمت نازل فرماتا ہے۔
وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ صَلَّی عَلَیَّ صَلَاۃً وَّاحِدَۃً صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ عَشْرَ صَلٰواتٍ وَحُطَّتْ عَنْہُ عَشْرُ خَطِیْأَتٍ وَرَفَعْتُ لَہ، عَشْرُ دَرَجَاتٍ ۔ (رواہ النسائی )
حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا جو آدمی مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس (مرتبہ) رحمتیں نازل فرمائے گا، اس کے دس گناہوں کو معاف کرے گا اور (تقرب الی اللہ کے سلسلے میں) اس کے دس درجے بلند کرے گا۔ (سنن نسائی )
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَوْلَی النَّاسَ بِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَکْثَرُ ھُمْ عَلَیَّ صَلَاۃً۔ (رواہ الترمذی)
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ مجھ سے قریب وہ لوگ ہوں گے جو مجھ پر اکثر درود پڑھنے والے ہیں۔ (جامع ترمذی )
تشریح
ابن حبان (رح) نے اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد گرامی اور آپ ﷺ کی یہ خوشخبری عظمی محدثین کرام پر زیادہ صادق آتی ہے چونکہ کوئی جماعت محدثین سے زیادہ دورد نہیں بھیجتی اس لئے قیامت کے دن تمام لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ سے قریب یہی مقدس طبقہ ہوگا۔
فرشتے امتیوں کے سلام رسول اللہ ﷺ تک پہنچاتے ہیں
وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ لِلّٰہِ مَلَائِکَۃً سَیَّا حِیْنَ فِی الْاَرْضِ یُبَلِّغُوْنِی مِنْ اُمَّتِیَ السَّلَامُ۔ (رواہ النسائی والدارمی)
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے بہت سے فرشتے جو زمین پر سیاحت کرنے والے ہیں میری امت کا سلام میرے پاس پہنچاتے ہیں۔ (سنن نسائی، دارمی)
تشریح
اس حدیث کا تعلق ان لوگوں سے ہے جو روضہ اقدس سے دور رہتے ہیں اور انہیں روضہ مقدس پر حاضری کا شرف حاصل نہیں ہوتا، چناچہ ایسے لوگ جب رسول اللہ ﷺ پر قلیل یا کثیر تعداد میں سلام بھیجتے ہیں تو فرشتے ان کا سلام بارگاہ نبوت میں بصد عقیدت و احترام پیش کرتے ہیں۔ البتہ وہ حضرات جنہیں اللہ نے اپنے محبوب کے روضہ اقدس پر حاضری کی سعادت سے نواز رکھا ہے۔ جب وہ بارگاہ نبوت میں سلام پیش کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ تک پہنچانے کے لئے فرشتوں کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ روضہ اقدس پر حاضر ہونے والوں کے سلام آنحضور ﷺ خود سنتے ہیں۔ اس حدیث سے چند باتوں پر روشنی پڑتی ہے۔ اول یہ کہ رسول اللہ ﷺ کو حیات جسمانی حاصل ہے کہ جس طرح آپ ﷺ کو اس دنیا میں زندگی حاصل تھی اس طرح آپ ﷺ کو قبر میں بھی زندگی حاصل ہے۔ دوم یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی امت کے لوگ جب آپ ﷺ پر سلام بھیجتے ہیں تو آپ ﷺ خوش ہوتے ہیں جو سلام بھیجنے والے کے حق میں انتہائی سعادت و خوش بختی کی بات ہے۔ سوم یہ کہ جب فرشتے کسی امتی کا سلام بارگاہ نبوت میں پیش کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سلام قبولیت کے درجہ کو پہنچ گیا ہے۔ اور اگلی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ۔ آپ ﷺ سلام بھیجے والے کے سلام کا جواب بھی دیتے ہیں نیز ایک روایت میں مذکور ہے کہ جب فرشتے سلام لے کر بارگاہ نبوت میں حاضر ہوتے ہیں تو سلام بھیجنے والے کا نام بھی لیتے ہیں مثلا وہ فرماتے ہیں۔ یا رسول اللہ ﷺ! مولانا محمد قطب الدین محی الدین آپ کی خدمت بابرکت میں سلام عرض کرتے ہیں۔ یا آپ کا ایک ادنیٰ غلام عبداللہ جاوید ابن مولانا محمد عبدالحق خدمت اقدس میں نذرانہ سلام پیش کرتے ہیں۔ یا فقیر محمد اصغر خدمت عالیہ میں سلام عرض کرتا ہے۔ جاں می دہم درآز والے قاصد آخر باز گو در مجلس آں نازنیں حرفے کہ ازامامی رود
رسول اللہ ﷺ سلام بھیجنے والے کے سلام کا جواب دیتے ہیں
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ اَحَدٍ یُسَلِّمُ عَلَیَّ اِلَّا رَدَّ اﷲُ عَلٰی رُوْحِیْ حَتّٰی اُرُدَّ عَلَیْہِ السَّلَامَ۔ (رواہ ابوداؤد و البیہقی فی الدعوات الکبیر)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا جب کوئی آدمی مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ میری روح کو مجھ پر لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔ (سنن ابوداؤد، بیہقی)
تشریح
اہل سنت والجماعت کا یہ مسلمہ عقیدہ ہے کہ آقائے نامدار فخر دو عالم ﷺ (فداہ ابی و امی) عالم برزخ میں زندہ ہیں مگر اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ عالم برزخ میں زندہ نہیں ہیں بلکہ جب کوئی آدمی آپ ﷺ کی خدمت میں سلام پیش کرتا ہے تو اس وقت آپ ﷺ کی روح مبارک جسم میں لوٹ آتی ہے پھر آپ ﷺ سلام کا جواب دیتے ہیں۔ اس تعارض کا جواب یہ ہے کہ حدیث کے الفاظ روح لوٹانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ روح مبارک آپ ﷺ کے مقدس بدن میں ہمہ وقت موجود نہیں رہتی صرف سلام بھیجنے کے وقت اسے کچھ وقت کے لئے بدن میں واپس کردیا جاتا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ۔ آپ ﷺ کی روح مبارک چونکہ ہمہ وقت مشاہدہ رب العزت میں مستغرق رہتی ہے اس لئے اس کو حالت استغراق و مشاہدہ سے ہٹا کر اس عالم کی طرف متوجہ کردیا جاتا ہے تاکہ آپ ﷺ اپنے امتیوں کے درود وسلام سنیں اور اس کا جواب دیں۔ چناچہ روح مبارک کے اسی متوجہ کرنے اور آگاہ کرنے کو ان الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ میری روح کو مجھ پر لوٹا دیتا ہے ورنہ تو تمام انبیاء صلوات اللہ علیہم اجمعین اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔ اب سوال یہ رہ گیا کہ حدیث میں مذکورہ فضیلت خاص طو پر ان لوگوں سے متعلق ہے جو روضہ اقدس پر حاضری دیتے ہیں اور اس کی زیارت کرتے ہیں یا عمومی طور پر سب لوگوں کے لئے ہے؟ تو بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی فضیلت کا تعلق عمومی طور پر ہے۔ یعنی خواہ کوئی آدمی آپ ﷺ کے مزار اقدس پر حاضر ہو کر سلام پیش کرے یا کسی دور دراز علاقے سے سلام بھیجے۔ سلام بھیجے۔ البتہ فرق صرف اتنا ہے کہ جو آدمی روضہ اقدس پر حاضری کا شرف حاصل نہیں کرسکتا آپ ﷺ ان کا سلام فرشتوں کے واسطے سے سنتے ہیں جیسا کہ تیسری فصل میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی آنے والی حدیث سے بھی معلوم ہوجائے گا۔
گھروں کو قبر نہ بنایا جائے
وَعَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ لَا تَجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ قُبُوْرًا وَلَا تَجْعَلُوْا قَبْرِ عِیْدًا وَصَلُّوْا عَلَیَّ فَاِنَّ صَلَا تَکُمْ تَبْلُغُنِیْ حَیْثُ کُنْتُمْ۔ (رواہ النسائی )
اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں۔ کہ میں نے رحمت عالم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اپنے گھروں کو قبروں کی طرح نہ رکھو اور میری قبر پر عید (کی طرح میلہ) نہ مقرر کرو۔ تم مجھ پر درود پڑھا کرو۔ کیونکہ تم جہاں کہیں بھی ہو تمہارا درود میرے پاس پہنچتا ہے۔ (سنن نسائی)
تشریح
حدیث کے پہلے جزء کے تین مطلب ہوسکتے ہیں اول یہ کہ اپنے گھروں کو قبروں کی طرح نہ سمجھ لو کہ جس طرح مردے اپنی قبر میں پڑے رہتے ہیں تم بھی اپنے گھروں میں مردوں کی طرح پڑے رہو ان میں نہ عبادت کرو اور نہ کچھ نمازیں پڑھو بلکہ اسی طرح گھروں میں بھی عبادت کرو اور کچھ نمازیں پڑھو تاکہ اس کے انوار و برکات گھر اور گھر والوں کو پہنچیں اور اس کی شکل یہ ہونی چاہئے کہ فرض نمازیں تو مساجد میں ادا کرو اور سنن و نوافل اپنے گھر آکر پڑھو کیونکہ نوافل مساجد کی بہ نسبت گھر میں ادا کرنا زیادہ افضل ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ۔ اپنے گھروں میں مردے دفن نہ کرو۔ اس موقعہ پر یہ اشکال پیدا نہ کیجئے کہ خود رسول اللہ ﷺ تو اپنے گھر ہی زیر زمین آرام فرما ہیں۔ کیونکہ یہ صرف رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مختص ہے کسی دوسرے کو ایسا نہ کرنا چاہئے۔ تیسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ قبروں کو سکونت کی جگہ قرار نہ دو جیسا کہ آجکل اولیاء اللہ کے مزارات اور قبرستانوں پر ان کے خدام مجاوروں نے سکونت اختیار کر رکھی ہے، تاکہ دل کی نرمی اور طبیعت و مزاج کی شفقت و رحمت ختم نہ ہوجائے بلکہ ایسا کرنا چاہئے کہ قبروں کی زیارت کر کے اور ان پر فاتحہ وغیرہ پڑھ کر اپنے گھروں کو واپس آجاؤ۔ حدیث کے دوسرے جزء میری قبر کو عید (کی طرح) قرار نہ دو کا مطلب یہ ہے کہ میری قبر کو عید گاہ کی طرح نہ سمجھو کہ وہاں جمع ہو کر زیب وزینت اور لہو و لعب کے ساتھ خوشیاں مناؤ اور اس سے لطف و سرور حاصل کرو۔ جیسا کہ یہود و نصاری اپنے انبیاء کی قروں پر اس قسم کی حرکتیں کرتے ہیں۔ حدیث کے اس جزء سے آج کل کے ان نام نہاد ملاؤں اور بدھ پرستوں کو یہ سبق حاصل کرنا چاہئے جنہوں نے اولیا اللہ کے مزارات کو اپنی نفسانی خواہشات اور دنیاوی اغراض کا منبع و مرجع بنا رکھا ہے اور ان مقدس بزرگوں کے مزارات پر عرس کے نام سے دنیا کی وہ خرافات اور ہنگامہ آرائیاں کرتے ہیں جن پر کفر و شرک بھی خندہ زن ہیں۔ مگر افسوس یہ ہے کہ ان کے حوالے مانڈوں نذر و نیاز اور لذت پیٹ و دہن نے ان کی عقل پر نفس پرستی اور ہوس کاریوں کے وہ موٹے پردے چڑھا دیئے ہیں جن کی موجودگی میں نہ انہیں نعوذ باللہ قرآنی احکام کی ضرورت ہے اور نہ انہیں کسی حدیث کی حاجت۔ اللہ ان لوگوں کو ہدایت دے۔ آمین بعض علماء نے اس جزء کی تشریح یہ کی ہے عید کی طرح سال میں صرف ایک دو مرتبہ ہی میری قبر کی زیارت کے لئے نہ آیا کرو بلکہ اکثر و بیشتر حاضر ہوا کرو۔ اس صورت میں آپ ﷺ نے اپنی قبر کی زیادہ سے زیادہ زیارت اور اس محیط علم و عرفان اور منبع امن و سکون پر اکثر و بیشتر حاضری پر امت کے لوگوں کو ترغیب دلائی ہے۔ حدیث کے آخری جزء کا مطلب یہ ہے کہ مجھ پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجو، اگر کوئی آدمی میرے روضے سے دور ہے اور بعد مسافت اختیار کئے ہوئے ہے تو اس کو اس کا خیال نہ کرنا چاہئے بلکہ اسے چاہئے کہ وہ اپنی جگہ بیٹھا ہوا ہی مجھ پر درود بھیجتا رہے کیونکہ جہاں سے بھی درود بھیجا جائے گا میرے پاس پہنچ جائے گا۔ اس طرح آپ ﷺ نے ان مشتاقان زیارت کی جنہیں روضہ اقدس پر حاضری کی سعادت حاصل نہیں ہوسکی۔ تسلی فرمائی ہے کہ اگرچہ مجبوریوں کی بنا پر تم مجھ سے دور ہو لیکن تمہیں چاہئے کہ توجہ اور حضور قلب سے غافل نہ رہو کہ قرب جانے چوں بود بعد کانے سہل ست
وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَغِمَ اَنْفُ رَجُلٍ ذُکِرْتُ عِنْدَہ، فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ وَرَغِمَ اَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَیْہِ رَمَضَانُ ثُمَّ انْسَلَخَ قَبْلَ اَنْ یُغْفَرَلَہ، وَرَغِمَ اَنْفُ رَجُلٍ اَدْرَکَ عِنْدَہ، اَبَوَاہُ الْکِبَرَ اَوْاَحَدُ ھُمَا فَلَمْ یُدْخِلَاہُ الْجَنَّۃَ۔ (رواہ الترمذی)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا خاک آلود ہو اس آدمی کی ناک کہ اس کے سامنے میرا ذکر کیا گیا اور اس نے مجھے پر درود نہ بھیجا، خاک آلود ہو اس آدمی کی ناک کہ اس پر رمضان آیا اور اس کی بخشش سے پہلے گذر گیا اور خاک آلود ہو اس آدمی کی ناک کہ اس کے ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک نے اس کے سامنے بڑھاپا پایا اور انہوں نے اسے جنت میں داخل نہیں کیا۔ (جامع ترمذی )
تشریح
اس حدیث میں تین قسم کے لوگوں کے لئے و عید بیان کی جا رہی ہے، سب سے پہلے ان لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے۔ جن کے سامنے سرور کائنات فخر دو عالم ﷺ کا نام نامی اسم گرامی لیا جائے یا آپ ﷺ کا ذکر مبارک کیا جائے اور وہ آپ ﷺ پر درود نہ بھیجیں کہ ان کی ناک خاک آلود ہو یعنی وہ ذلیل و خوار ہوں اور ہلاک ہوں۔ بظاہر اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کسی مجلس میں جب بھی آپ ﷺ کا اسم گرامی لیا جائے ہر مرتبہ درود بھیجنا یعنی ﷺ کہنا واجب ہوتا ہے کیونکہ اس کے ترک پر اتنی شدت کے ساتھ وعید بیان فرمائی جا رہی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ پچھلے صفحات میں بتایا جا چکا ہے کہ ہر مرتبہ درود بھیجنا واجب نہیں ہے صرف ایک مرتبہ دورد بھیجنا واجب ہے البتہ ہر مرتبہ درود بھیجنا مستحب و افضل ہے اب اس حدیث کی توجیہ یہ کی جائے گی کہ وجوب کی دلیل آخرت کی وعید ہوتی ہے اور چونکہ اس وعید کا تعلق آخرت سے نہیں ہے اس لئے اس کا انتہائی امر یہ ہے کہ یہ وعید ہر مرتبہ درود بھیجنے کے استحباب و فضیلت پر دلالت کرتی ہے نہ کہ وجوب پر۔ دوسرے قسم کے لوگ جن کے لئے وعید بیان کی جا رہی ہے وہ ہیں جو رمضان کے حقوق ادا نہیں کرتے نہ تو روزہ ہی ٹھیک سے رکھتے ہیں اور نہ رمضان میں عبادتیں ہی پورے ذوق و شوق سے کرتے ہیں اور چونکہ یہ تمام چیزیں مغفرت اور بخشش کا ذریعہ ہیں اس لئے فرمایا جا رہا ہے کہ ان کے لئے تباہی و ہلاکت ہو جو رمضان میں اس مقدس مہینے کے فضل و شرف سے محروم رہتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس مہینے میں بخشش کی سعادت سے نوازے بھی نہیں جاتے اور یہ مہینہ اپنی تمام سعادتوں کے ساتھ گذر جاتا ہے۔ تیسری قسم کے لوگ جن سے اس نوعیت کا تعلق ہے وہ ہیں جو اپنے ماں باپ کے اطاعت گذار فرما نبردار نہیں ہیں۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک نہیں کیا، ان کے حقوق ادا نہ کئے، اس کی رضا مندی و خوشنودی کا خیال نہیں رکھا اور خاص طور پر ان کی کبر سنی میں ان کی خدمت اور دیکھ بھال نہیں کی اور درحقیقت بڑے بدنصیب ہیں کیونکہ انہوں نے ان چیزوں کو ترک کر کے آخرت کا عذاب اور نقصان مول لیا ہے کہ یہ چیزیں جنت میں داخل ہونے کا سبب اور ذریعہ ہیں۔
وَعَنْ اَبِیْ طَلْحَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم جَاءَ ذَاتَ یَوْمٍ وَالبِشْرُ فِیْ وَجِھِہٖ فَقَالَ اِنَّہ، جَاءَ نِیْ جِبْرِیْلُ فَقَالَ اِنَّ رَبُّکَ یَقُوْلُ اَمَا یَرْ ضِیْکَ یَا مُحَمَّدُ اَنْ لَا یُصَلِّیْ عَلَیْکَ اَحَدٌ مِنْ اُمَّتِکَ اِلَّا صَلَّیْتُ عَلَیْہِ عَشْرًا وَلَایُسَلِّمُ عَلَیْکَ اَحَدٌ مِنْ اُمَّتِکَ اِلَّا سَلَّمْتُ عَلَیْہِ عَشْرًا۔ (رواہ النسائی والدارمی)
اور حضرت ابوطلحہ ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) رحمت عالم ﷺ (صحابہ کے پاس) تشریف لائے اور اس وقت آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر بشاشت کھیل رہی تھی، آپ ﷺ نے (صحابہ کے دریافت کرنے کے بعد یا دریافت کرنے سے پہلے ہی) فرمایا۔ میرے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آئے تھے، وہ کہتے تھے کہ پروردگار فرماتا ہے، کہ اے محمد ﷺ! کیا آپ ﷺ اس بات سے راضی نہیں ہیں کہ آپ ﷺ کی امت میں سے جو کوئی آپ ﷺ درود بھیجے گا میں اس پر دس مرتبہ رحمت نازل کروں گا اور آپ ﷺ کی امت میں سے جو کوئی آپ ﷺ پر سلام بھیجے گا میں اس پر دس مرتبہ سلام بھیجوں گا۔ (سنن نسائی و دارمی)
تشریح
رسول اللہ ﷺ چونکہ اپنی امت کے حق میں انتہائی مشفق و مہربان تھے اور امت کے لئے خیر کی طلب آپ ﷺ کی انتہائی غرض و خواہش تھی اس لئے جب آپ ﷺ کو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعے یہ عظیم خوشخبری دی گئی تو آپ ﷺ کا چہرہ مبارک خوشی و مسرت سے کھل اٹھا اور آپ ﷺ نے یہ عظیم خوشخبری صحابہ کرام اور ان کے واسطے سے پوری امت تک پہنچا دی۔
درودو سلام بھیجنے کی کوئی مقررہ حد نہیں ہے
وَعَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ اِنِّیْ اُکْثِرُ الصَّلَاۃُ عَلَیْکَ فَکَمْ اَجْعَلُ لَکَ مِنْ صَلَا تِیْ فَقَالِ مَاشِئْتَ قُلْتُ الرُّبُعَ قَالَ مَاشِئْتَ فَاِنْ زِدْتَ فَھُوَ خَیْرٌ لَکَ قُلْتُ النِّصْفَ قَالَ مَاشِئْتَ فَاِنْ زِدْتَ فَھُوَ خَیْرٌ لَکَ قُلْتُ فَالثُّلْثَیْنِ قَالَ مَا شِئْتَ فَاِنْ زِدْتَ فَھُوَ خَیْرٌ لَکَ قُلْتُ اَجْعَلُ لَکَ صَلَا تِیْ کُلَّھَا قَالَ اِذًا تُکْفٰی ھَمُّکَ وَیُکَفَّرُلَکَ ذَنْبُکَ۔ (رواہ الترمذی)
اور حضرت ابی ابن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں آپ ﷺ پر کثرت سے درود بھیجتا ہوں (یعنی کثرت سے درود بھیجنا چاہتا ہوں اب آپ ﷺ بتلا دیجئے کہ) اپنے لئے دعا کے واسطے جو وقت میں نے مقرر کیا ہے اس میں سے کتنا وقت آپ ﷺ پر درود بھیجنے کے لئے مخصوص کردوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا جس قدر تمہارا جی چاہے! میں نے عرض کیا کیا چوتھائی (وقت مقرر کردوں)؟ فرمایا جتنا تمہارا جی چاہے اور اگر زیادہ مقرر کرو تمہارے لئے بہتر ہے میں نے عرض کیا تو پھر دو تہائی مقرر کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا جس قدر تمہارا جی چاہے اور اگر زیادہ مقرر کرو تو تمہارے لئے بہتر ہے میں نے عرض کیا اچھا تو پھر میں اپنی دعا کا سارا وقت ہی آپ ﷺ کے درود کے واسطے مقرر کئے دیتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا یہ تمہیں کفایت کرے گا، تمہارے دین و دنیا کے مقاصد کو پورا کرے گا۔ اور تمہارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ (جامع ترمذی )
تشریح
اجعل لک من صلوتی میں لفظ صلوٰۃ سے مراد دعا ہے۔ حضرت ابن کعب ؓ کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ میری خواہش ہے کہ آپ ﷺ پر بہت زیادہ درود بھیجوں۔ چونکہ میں نے اپنے اوقات میں سے ایک خاص وقت کو اس لئے مقرر کر رکھا ہے کہ میں اس وقت اپنے نفس کے لئے دعا کیا کرتا ہوں، اب میں چاہتا ہوں کہ اسی وقت میں آپ ﷺ پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجا کروں لہٰذا آپ ﷺ ہی مقرر فرما دیجئے کہ اس وقت کا کتنا حصہ میں درود بھیجنے پر صرف کروں؟ رسول اللہ ﷺ نے ان کی اس درخواست پر درود بھیجنے کے لئے اس وقت کا کوئی حصہ مقرر نہیں فرمایا بلکہ اسے ان کے اختیار پر چھوڑ دیا اور فرمادیا کہ تم تو خود ہی جانتے ہو کہ درود بھیجنے کی کتنی فضیلت ہے اور اس کے کیا فضائل و برکات ہیں اس مقدس کام کے لئے تمہاری سعادت جتنا وقت چاہئے مقرر کرلو، تاہم یہ سمجھ لو کہ تم اس کام کے لئے جتنا زیادہ سے زیادہ وقت دو گے اسی قدر تمہارے حق میں بہتر ہوگا۔ چناچہ جب انہوں نے اپنے اس پورے وقت کو درود بھیجنے پر صرف کرنے کا اظہار کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اظہار اطمینان و خوشنودی فرمایا اور فرمایا کہ تم نے ایک مستقل وقت کو اس مقدس عمل کے لئے متعین کر کے درحقیقت دنیا اور آخرت کی بھلائی اور مقاصد کو حاصل کرلیا ہے کیونکہ جب بندہ اپنی طلب اور رغبت کو اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ اور محبوب چیز میں خرچ کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کو اپنی خواہشات اور اپنے مطالب پر مقدم رکھتا تو خداوند اقدس اس کے تمام امور و مہمات میں اس کا مددگار و حامی ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے اس کی تمام دنیوی و دینی مقاصد پورے ہوجاتے ہیں من کان اللہ کان اللہ لہ یعنی جو اللہ تعالیٰ کا ہو کر رہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا ہوجاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ درود شریف کی یہ برکت و فضیلت ہے کہ جو آدمی اس کا ورد رکھے اور اسے اپنی زندگی کا ایک ضروری جزء بنالے تو اس کے لئے دین و دنیا دونوں جگہ آسانیاں اور سہولتیں فراہم ہوجاتی ہیں اور اس کے تمام مقاصد خیر پورے ہوجاتے ہیں۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ جب میرے شیخ بزرگوار حضرت عبد الوہاب متقی نے مجھے مدینہ منورہ کی زیارت کے لئے رخصت فرمایا تو یہ الفاظ ارشاد فرمائے کہ جاؤ! اور یاد رکھو کہ اس راہ میں اداء فرض کے بعد کوئی عبادت رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے کے مماثل نہیں ہے لہٰذا (ادائے فرض کے بعد) تم اپنے اوقات کو اسی مقدس مشغلے میں صرف کرنا اور کسی دوسری چیز میں مشغول نہ ہونا حضرت شیخ عبدالحق (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اس کے لئے کوئی عدد مقرر فرما دیا جائے (کہ میں اتنی تعداد میں درود پڑھ لیا کروں) شیخ عبدالوہاب نے فرمایا اس سلسلے میں کسی عدد کا تعین کرنا شرط نہیں ہے بلکہ درود شریف اتنی کثرت کے ساتھ پڑھنا کہ اس کے ساتھ رطب اللسان ہوجاؤ اور اسی کے رنگ میں رنگین ہوجاؤ اور اسی میں مستغرق ہوجاؤ حصن حصین کے مصنف علام نے مفتاح میں لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے کے بیشمار فوائد ہیں اور دنیا اور آخرت میں اس کے لئے بےانتہا ثمرات مرتب ہوتے ہیں خصوصا تنگی و پریشانی، کسی خاص مہم، فکرات اور مطلب برآوری کے سلسلہ میں اس کا بارہا تجربہ ہوا ہے چناچہ خود میرا تجربہ ہے کہ میں اکثر خوف و ہلاکت کی جگہ گھر گیا اور مجھے وہاں سے اگر نجات ملی تو رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے کے صدقہ میں۔
درود کے بعد مانگی جانے والی دعا قبول ہوتی ہے
وَعَنْ فُضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ قَالَ بَیْنَمَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَاعِدٌ اِذْدَخَلَ رَجُلٌ فَصَلّٰی فَقَالَ اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِیْ وَارْحَمْنِیْ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلمعَجَّلْتَ اَیُّھَا المُصَلِّیْ اِذَا صَلَّیْتَ فَقَعَدْتَ فَاحْمَدِ اﷲِ بِمَا ھُوَ اَھْلُہ، وَصَلِّ عَلَیَّ ثُمَّ اُدْعُہُ قَالَ ثُمَّ صَلَّی رَجُلٌ اٰخَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَحَمِدَ اﷲَ وَصَلّٰی عَلَی النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اَیُّھَاالْمُصَلِّیْ اُدْعُ تُجَبْ۔ (رواہ الترمذی وروی ابوداؤ و النسائی نحوہ)
اور حضرت فضالہ ابن عبید ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک روز) جبکہ رحمت عالم ﷺ بیٹھے ہوتے تھے اچانک ایک آدمی آیا اس نے نماز پڑھی اور پھر یہ دعا مانگی۔ اللہم اغفرلی وارحمنی اے اللہ مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما! ( یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے نماز پڑھنے والے تم نے (دعا کی ترکیب ترک کر کے) جلدی کی اور پھر فرمایا کہ جب تم نماز پڑھو تو (نماز کے بعد دعا کے لئے) بیٹھو اور اللہ کی تعریف کہ جس تعریف کے وہ لائق ہے بیان کرو اور مجھ پر درود بھیجو، پھر (تم جو چاہو اللہ سے مانگو (گویا آپ ﷺ نے اسے دعا کے یہ آداب و طریقے سکھائے) حضرت فضالہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد ایک دوسرے آدمی نے نماز پڑھی ( آخر میں ) اس نے اللہ تعالیٰ کی تعریف بھی بیان کی اور رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجا (مگر اس نے دعا نہیں مانگی) رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ اے نماز پڑھنے والے، دعا بھی مانگو قبول کی جائے گی۔ (جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، سنن نسائی)
درود کے بعد مانگی جانے والی دعا قبول ہوتی ہے
وَعَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ کُنْتُ اُصَلِّی وَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلمحَاضِرٌ وَاَبُوْبَکْرٍ وَ عُمُرُ مَعَہُ فَلَمَّا جَلَسْتُ بَدَأْتُ بِالثَّنَاءِ عَلَی اﷲِ تَعَالٰی ثُمَّ الصَّلَاۃِ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلمثُمَّ دَعَوْتُ لِنَفْسِیْ فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم سَلْ تُعْطَہْ سَلْ تُعْطَہْ۔ (رواہ الترمذی)
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک روز) میں نماز پڑھ رہا تھا رحمت عالم ﷺ (بھی وہیں) تشریف فرما تھے اور آپ ﷺ کے پاس حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر ؓ بھی حاضر تھے، چناچہ (نماز کے بعد) جب میں بیٹھا تو اللہ جل شانہ، کی تعریف بیان کرنا شروع کی اور پھر رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجا، اس کے بعد میں اپنے (دینی و دنیاوی مقاصد کے) لئے مانگنے لگا ( یہ دیکھ کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مانگو! دئیے جاؤ گے۔ مانگو دیئے جاؤ گے (یعنی دعا مانگو ضرور قبول ہوگی)۔ (جامع ترمذی )
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ سَرَّہ، اَنْ یُّکْتَالَ بِالْمِکْیَالِ الْاَوْفٰی اِذَا صَلّٰی عَلَیْنَا اَھْلَ البَیْتِ فَلْیَقُلْ اَللّٰہُمَّ صَلِّی عَلٰی مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الْاُمِّی وَاَزْوَاجِہٖ اُمَّھَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَذُرِّیّٰتِہٖ وَاَھْلِ بَیْتِہٖ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اٰلِ اِبْرٰھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدُ مَّجِیْدٌ۔ (رواہ سنن ابوداؤد)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا جس آدمی کو یہ پسند ہو (یعنی اس کی خواہش ہو) کہ اسے بھر پور (اور زیادہ سے زیادہ) ثواب ملے تو اسے چاہئے کہ ہم اہل بیت پر اس طرح درود بھیجے اللہم صل علی محمد النبی الامی وازواجہ امھات المومنین وذریتہ واھل بیتہ کما صلیت علی ال ابراہیم انک حمید مجید۔ اے بار خدایا! محمد ﷺ پر جو نبی امی ہیں، آپ ﷺ کی ازواج مطہرات پر جو سب مومنوں کی مائیں ہیں اور آپ ﷺ کی اولاد و اہل بیت پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی بیشک تو بزرگ و برتر ہے۔ ( ابوداؤد، )
تشریح
سرکار دو عالم ﷺ کے جہاں اور بہت سے اسماء ہیں کہ جو آپ ﷺ کی مختلف خصوصیات وصفات پر دلالت کرتے ہیں۔ وہیں آپ ﷺ کا ایک خاص اور عظیم لقب امی بھی ہے، آپ ﷺ کا یہ لقب توریت و انجیل اور آسمان سے اتری ہوئی تمام کتابوں میں مذکور ہے۔ امی لغت میں اس آدمی کو کہتے ہیں جو نہ تو لکھنا جانتا ہو اور نہ لکھے ہوئے کو پڑھنا جانتا ہو اور نہ کبھی مکتب و مدرسہ گیا ہو اور نہ کسی سے تعلیم حاصل کی ہو اور چونکہ امی منسوب ہے ام یعنی ماں کی طرف لہٰذا اس مناسبت سے مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایسا آدمی ہے جو ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے والے بچہ کی طرح ہے اسے کسی نے نہ لکھنے کی تعلیم دی ہے اور نہ پڑھنے کی۔ چنانچہ جب رسول اللہ ﷺ اس دنیا میں آخری نبی کی حیثیت سے مبعوث فرمائے گئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو کسی استاد، کسی مکتب اور کسی معلم کا محتاج نہیں رکھا بلکہ خود آپ ﷺ کو دین و دنیا کے تمام علوم سے پوری طرح مکمل کر کے اس دنیا میں بھیجا چناچہ اس دنیا میں نہ تو آپ ﷺ نے کسی مکتب میں قدم رکھا اور نہ کسی استاد کی شاگردی کی بلکہ بظاہر نہ تو آپ ﷺ لکھتے تھے اور نہ لکھے ہوئے کو پڑھتے تھے اس وجہ سے آپ ﷺ کو امی کہا گیا نگار من کہ بہ مکتب نہ رفت و خط نہ نوشت بغمزہ مسئلہ آموز صد مدرس شد یتیمے کہ نا کردہ قرآن درست کتب خانہ چند ملت بشست بہ تعلیم و ادب اور اچہ نسبت کہ خود زآغاز او آد مودب بعض حضرات فرماتے ہیں کہ امی دراصل ام القری یعنی مکہ کی طرف منسوب ہے جو تمام زمین کی اصل ہے۔
درود نہ بھیجنے والا بخیل ہے
وَعَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اﷲُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْبَخِیْلُ الَّذِیْ مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہ، فَلَمْ یُصَّلِّ عَلَیَّ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَرَوَاہُ اَحْمَدُ عَنِ الْحُسَیْنِ ابْنِ عَلِیٍّ رَضِیَ اﷲُ عَنْھُمَا وَقَالَ التِّرْمِذِّیُّ ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ غَرِیْبٌ۔
اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا بخیل وہ آدمی ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا گیا (یعنی میرا نام لیا گیا) اور اس نے مجھ پر درود نہیں بھیجا (جامع ترمذی) اس حدیث کو امام احمد نے حسین ابن علی سے نقل کیا ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ ایک بخیل تو مال کا ہوتا ہے کہ وہ مال کی خواہش کی وجہ سے اپنی جبلت طبعی کے تقاضہ پر بخل کرتا ہے کہ کسی کو اپنا مال نہیں دیتا مگر بڑا بخیل وہ آدمی ہے جوا پنی طبعی کسل و غفلت اور سستی کے غلط تقاضے کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کے نام پر اپنی زبان اور اپنے دل سے درود کا ایک کلمہ نہیں نکالتا اور اس طرح وہ اداء حق اور شکر نعمت کا لحاظ بھی نہیں کرتا حالانکہ رسول اللہ ﷺ کا امت پر وہ احسان و انعام ہے کہ اگر امت کے لوگ آپ ﷺ کے نام پر اپنی جانیں بھی قربان کردیں تو کم ہے چہ جائیکہ مجلس میں آپ ﷺ کا مبارک ذکر ہو اور آپ ﷺ کا نام لیا جائے اور اس آدمی کی زبان سے اور اس کے دل سے درود کے چند الفاظ بھی نہ نکلیں؟ مرحبا اے پیک مشتاقان پیغام دوست تاکنم جال از سر رغبت فرائے نام دوست
درود رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچتے ہیں
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲِ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ عِنْدَ قَبْرِیْ سَمِعْتُہ، وَمَنْ صَلّٰی عَلَیَّ نَائِیًا اُبْلِغْتُہ، رَوَاہُ الْبَیْھَقِیُّ فِیْ شُعَبِ الْاِیْمَانِ۔
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا جو آدمی میری قبر کے پاس کھڑا ہو کر مجھ پر درود پڑھتا ہے میں اس کو سنتا ہوں اور جو آدمی دور سے مجھے پر بھیجتا ہے وہ میرے پاس پہنچا دیا جاتا ہے۔ (بیہقی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کو میری قبر کی زیارت کی سعادت میسر آتی ہے اور وہ وہاں حاضر ہو کر سلام بھیجتا ہے تو میں بغیر کسی واسطہ کے اس کے سلام کو سنتا ہوں اور جس کو یہ سعادت میسر نہیں آتی بلکہ وہ جہاں کہیں سے بھی مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو اس کا سلام ملائکہ سیاحین میرے پاس پہنچا دیتے ہیں اور سلام کا جواب میں دونوں صورتوں میں دیتا ہوں۔ اس حدیث سے اندازہ لگا نا چاہئے کہ رسول اللہ ﷺ پر سلام بھیجنے کی فضیلت وسعادت ہے اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ پر سلام بھیجنے والے کو اور خاص طور پر اس آدمی کو جو برابر اور کثرت سے آپ ﷺ پر سلام بھیجتا ہے کیا شرف و مرتبہ حاصل ہے؟ اگر کسی کے ایک سلام کا جواب بھی بارگاہ نبوت سے حاصل ہوجائے تو بہت بڑی سعادت ہے چہ جائکہ برابر اور ہر سلام کا جواب ملتا ہے۔ بہر سلام مکن رنجہ درجواب آن لب کہ صد سلام بس یکے جواب از تو
وَعَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَمْرٍوَقَالَ مَنْ صَلّٰی عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم وَاحِدَۃً صلی اللہ علیہ وسلم وَمَلَائِکَتُہ، سَبْعَیْنِ صَلَاۃً۔ (رواہ احمد بن حنبل)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جو آدمی رحمت عالم ﷺ پر ایک مرتبہ درود بھجتا ہے اس پر اللہ اور اس کے فرشتے ستر مرتبہ رحمت بھیجتے ہیں۔ (مسند احمد بن حنبل)
تشریح
بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے ہے کہ ایک مرتبہ درود بھیجنے کا یہ ثواب جمعہ کے دن سے متعلق ہے اس لئے کہ یہ ثابت ہے کہ جمعہ کے روز اعمال کا ثواب ستر گنا زیادہ ملتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ حج اکبر (جو جمعہ کو ہوتا ہے) ستر حج کے برابر ہوتا ہے۔ اگرچہ حدیث موقوف ہے یعنی حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کا قول ہے لیکن پھر بھی مرفوع رسول اللہ ﷺ کا ارشاد کے حکم میں ہے کیونکہ کوئی بھی صحابی اعمال کا ثواب از خود بیان نہیں کرسکتا جب تک وہ اسے رسول اللہ ﷺ سے سن نہ لے اس لئے یقینی بات ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ نے یہ مضمون رسول اللہ ﷺ سے سنا ہوگا۔
وَعَنْ رُوَیْفِعٍ اَنَّ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ مَنْ صَلّٰی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَقَالَ اَللّٰہُمَّ اَنْزِلْہُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَجَبَتْ لَہ، شَفَاعَتِیْ۔ (رواہ احمد بن حنبل)
اور حضرت رویفع ؓ راوی ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا جو آدمی محمد ﷺ پر درود بھیجے اور (درود بھیجنے کے بعد یہ بھی کہے) اَللّٰہُمَّ اَنْزِلْہُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَکَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اے پروردگار! محمد ﷺ کو اس مقام پر جگہ دے جو تیرے نزدیک مقرب ہے قیامت کے دن تو اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوجاتی ہے۔ (مسند احمد بن حنبل)
تشریح
مقام مقرب سے مراد مقام محمود ہے جہاں قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر اللہ جل شانہ، کی ثنا و تعریف بیان فرمائیں گے اور بندوں کے حق میں شفاعت کریں گے۔ یوں تو رسول اللہ ﷺ کی شفاعت تمام مسلمانوں کے لئے ثابت ہے کہ آپ ﷺ ہر امتی کے لئے شفاعت فرمائیں گے یہ نہیں ہوگا کہ کسی امتی کے لئے شفاعت فرمائیں اور کسی کے لئے نہیں پھر بھی اس آدمی کو (جو درود کے بعد مذکورہ دعا پڑھتا ہے) ایک خاص درجہ حاصل ہوگا کہ اس کے لئے رسول اللہ ﷺ کی شفاعت واجب ہوگی۔ یا اس کو دوسرے الفاظ میں یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس ارشاد سے درحقیقت ایسے آدمی کے خاتمہ بالخیر کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ یہ آدمی حسن خاتمہ کی دولت سے نوازا جائے گا۔