نماز کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 11 · 527 hadiths · Page 11 of 27

902Mishkaat-al-Masabih

درود کی فضیلت

وَعَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم حَتّٰی دَخَلَ نَخْلًا فَسَجَدَ فَاَطَالَ السُّجُوْدَ حَتّٰی خَشِیْتُ اَنْ یَکُوْنَ اﷲُ تَعَالیٰ قَدْ تَوَفَّاہُ قَالَ فَجِئْتُ اَنْظُرُ فَرَفَعَ رَأْسَہ،، فَقَالَ مَالَکَ فَذَکَرْتُ لَہ، ذٰلِکَ قَالَ فَقَالَ اِنَّ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ قَالَ لِیْ أَلَا أبْشِرُکَ اَنَّ اﷲَ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ لَکَ مَنْ صَلّٰی عَلَیْکَ صَلَاۃَ صَلَّیْتُ عَلَیْہِ وَمَنْ سَلَّمَ عَلَیْکَ سَلَّمْتُ عَلَیْہِ۔ (رواہ احمد بن حنبل)

اور حضرت عبدالرحمن ابن عوف ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) رحمت عالم ﷺ (مسجد سے یا مکان سے) نکل کر کھجوروں کے ایک باغ میں داخل ہوگئے اور وہاں (بارگاہ خداوندی) میں) سجدہ ریز ہوگئے اور سجدے میں آپ ﷺ نے اتنا طول کیا کہ میں ڈرا کہ (خدانخواستہ) کہیں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو وفات تو نہیں دے دی، چناچہ میں آپ ﷺ کو دیکھنے کے لئے آیا کہ آیا آپ ﷺ زندہ ہیں یا واصل بحق ہوچکے ہیں آپ ﷺ نے (میری آہٹ پاکر) ( اپنا سر مبارک (زمین سے) اٹھایا اور فرمایا کہ کیا ہوا۔۔۔؟ (یعنی ایسی کیا بات پیش آگئی ہے جو تم پر اس قدر (گھبراہٹ اور غم کی علامت طاری ہے) تب میں نے صورت حال ذکر کی ( کہ نصیب دشمناں میں تو آپ ﷺ کی طرف سے ڈر ہی گیا تھا) راوی فرماتے ہیں کہ (اس کے بعد) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھ سے کہا ہے کہ کیا آپ ﷺ کو یہ خوشی خبری نہ سنا دوں کہ اللہ بزرگ و برتر فرماتا ہے کہ جو آدمی آپ ﷺ پر درود بھیجے گا میں اس پر رحمت بھیجوں گا اور جو آدمی آپ ﷺ پر سلام بھیجے گا میں اس پر سلام بھیجوں گا۔ (مسند احمد بن حنبل) تشریح امام احمد نے اپنی دوسری روایات میں آخر کے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں اور کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور سجدہ شکر کے سلسلہ میں اس سے زیادہ صحیح حدیث میری نظر میں نہیں ہے اور یہ روایت متعدد طریق سے مروی ہے۔

903Mishkaat-al-Masabih

قبولیت دعا درود پر موقوف ہوتی ہے

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اﷲُ عَنْہُ قَالَ اِنَّ الدُّعَاءَ مَوْقُوْفٌ بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ لَا یَصْعَدُ مِنْہُ شَیْئٌ حَتّٰی تُصَلِّیَ عَلٰی نَبِیِّکَ۔ (رواہ الترمذی)

اور امیر المومنین حضرت عمر ابن خطاب ؓ فرماتے ہیں کہ دعا اس وقت تک آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتی ہے اور اس میں سے کوئی چیز اوپر نہیں چڑھتی جب تک کہ تم اپنے نبی پر درود نہ بھیجو (جامع ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ دعا کی قبولیت درود پر موقوف ہے کیونکہ درود خود مقبول ہے اس لئے اس کے توسط اور وسیلے سے دعا بھی مقبول ہوتی ہے مور مسکین ہو سے داشت کہ درکعبہ رسد دست در پائے کبوتر زدہ ناگاہ رسید حصن حصین میں منقول ہے کہ حضرت شیخ ابوسلیمان درانی (رح) نے فرمایا جب تم اللہ کے سامنے اپنی کسی حاجت کی تکمیل کے لئے دست دعا دراز کرو تو ابتداء رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے سے کرو اس کے بعد تم جو کچھ چاہتے ہو اس کے لئے دعا مانگو اور دعا کو درود پر ختم کرو (یعنی دعا سے پہلے بھی رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجو اور دعا کے بعد بھی) کیونکہ اللہ جل شانہ اپنے فضل و کرم سے دونوں درودوں کو قبول کرتا ہے اور وہ اس چیز سے بزرگ و برتر ہے کہ اس دعا کو چھوڑ دے جو ان دونوں درودوں کے درمیان ہے۔ (یعنی اللہ کے رحم و کرم سے یہ بات بعید ہے کہ وہ دونوں کو تو قبول کر کے ان کے درمیان مانگی جانے والی دعا کو قبول نہ کرے) علامہ طبیی اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ خود حضرت عمر ؓ کا ارشاد ہو اس شکل میں یہ حدیث موقوف ہوگی اور یہ بھی ممکن ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہو اس صورت میں یہ حدیث مرفوع ہوگی اور صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث موقوف ہے یعنی حضرت عمر ؓ کا ہی ارشاد ہے۔ لیکن محققین علمائے حدیث فرماتے ہیں کہ اس قسم کی بات کوئی راوی اپنی طرف سے کہہ نہیں سکتا (جیسا کہ اسی باب کی حدیث نمبر ١٧ کے فائدے میں بتایا جا چکا ہے) اس لئے یہ حدیث روایۃ تو موقوف ہی ہے لیکن حکما مرفوع ہے۔

904Mishkaat-al-Masabih

تشہد میں دعا پڑھنے کا بیان

آخری قعدے میں التحیات اور درود کے بعد دعا مانگنا سنت ہے، فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ نمازی التحیات اور درود پڑھنے کے بعد اپنی خواہش و پسند کے مطابق دعا مانگے لیکن دعا عام لوگوں کے کلام کے مشابہ نہ ہو جیسے کہ کوئی دعا مانگنے لگے یا اللہ! مجھے روٹی دے مجھے کپڑا دے وغیرہ وغیرہ اس قسم کی دعا مانگنی ذرا مناسب نہیں ہے۔ ابھی باب التشہد بھی آپ نے وہ حدیث پڑھی! جو حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے مروی ہے اس میں بھی یہ الفاظ منقول ہیں انہیں رسول اللہ ﷺ نے التحیات کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ پھر ان دعاؤں کو اختیار کرو جو تمہیں پسند ہوں۔ اور چونکہ تشہد میں رسول اللہ ﷺ سے خاص دعائیں منقول ہیں کہ آپ تشہد میں وہ دعائیں پڑھا کرتے تھے۔ لہٰذا پسندیدہ سے مراد رسول اللہ ﷺ سے وہی منقول دعائیں ہوسکتی ہیں۔ بہر حال۔ حاصل یہ ہے کہ تشہد میں انہیں دعاؤں کو پڑھنا جو رسول اللہ ﷺ سے جو منقول ہیں زیادہ اولیٰ اور افضل ہے کیونکہ وہ دعائیں دنیا اور آخرت دونوں کے مقاصد کو جامع ہیں چناچہ اس باب کے تحت وہ دعائیں نقل کی جائیں گی جنہیں رسول اللہ ﷺ تشہد میں پڑھا کرتے تھے یا جن کی تعلیم آپ ﷺ دوسرے لوگوں کو فرمایا کرتے تھے۔

905Mishkaat-al-Masabih

تشہد میں رسول اللہ کی دعا

عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَدْعُوْ فِی الصَّلٰوۃِ ےَقُوْلُ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِےْحِ الدَّجَّالِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْےَا وَفِتْنَۃِ الْمَمَاتِ اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْمَأْثَمِ ومِنَ الْمَغْرَمِ فَقَالَ لَہُ قَآئِلٌ مَّا اَکْثَرَ مَا تَسْتَعِےْذُ مِنَ الْمَغْرَمِ فَقَالَ اِنَّ الرَّجُلَ اِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَکَذَبَ وَوَعَدَ فَاَخْلَفَ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نماز میں (تشہد کے بعد) یہ دعا مانگتے تھے اللہم انی اعوذ بک من عذاب القبر واعوذ بک من فتنۃ المسیح الدجال واعوذ بک من فتنۃ المحیا و فتنہ الممات اللہم انی اعوذبک من الماثم والمغرم اے اللہ میں عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور کانے دجال کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور زندگی کے فتنوں اور موت کے فتنوں سے تیری پناہ کا طلب گار ہوں اے پروردگار! میں تجھ سے گناہوں سے اور قرض سے پناہ چاہتا ہوں۔ (راوی کا بیان ہے کہ آپ ﷺ کی یہ دعا سن کر کسی کہنے والے نے کہا کہ آپ ﷺ قرض سے پناہ مانگنا بڑے تعجب کی بات ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا جب آدمی قرضدار ہوتا ہے تو باتیں بناتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح دجال آخر زمانے میں قیامت کے قریب پیدا ہوگا جو خدائی کا دعویٰ کرے گا اور لوگوں کو اپنے مکر و فریب اور شعبدہ بازیوں سے گمراہ کرے گا۔ اس کا مفصل ذکر انشاء اللہ مشکوٰۃ کے آخری ابواب میں آئے گا۔ دجال کو مسیح کیوں کہتے ہیں دجال کو مسیح اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کی ایک آنکھ ملی ہوئی ہوگی یعنی وہ کانا ہوگا چونکہ ممسوح ہوگا اس لئے اس مناسبت سے اسے مسیح کہا جاتا ہے۔ ممسوح کا مطلب ہے تمام بھلائیوں، نیکیوں اور خیر و برکت کی باتوں سے بالکل بعید، نا آشنا اور ایسا کہ جیسے اس پر کبھی ان چیزوں کا سایہ بھی نہ پڑا ہوگا۔ اور ظاہر کہ اتنی بری خصلتوں کا حامل دجال کے علاوہ اور کون ہوسکتا ہے؟ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو مسیح کہنے کی وجہ اسی کے ساتھ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا لقب بھی مسیح ہے جس کی اصل مسیحا ہے اور مسیحا عبرانی زبان میں مبارک کو کہتے ہیں یا یہ کہ مسیح کے معنی ہیں بہت سیر کرنے والا چونکہ قرب قیامت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس دنیا میں آسمان سے اتارے جائیں گے اور دنیا سے گمراہی و ضلالت اور برائیوں کی جڑ اکھاڑنے اور پھر تمام عالم پر اللہ کے خلیفہ کی حیثیت سے حکمرانی کرنے پر مامور فرمائے جائیں گے اور اس سلسلے میں آپ ﷺ کو امور مملکت کی دیکھ بھال کرنے اور اللہ کے دین کو عالم میں پھیلانے اور کانے دجال کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لئے تقریبا پوری دنیا میں پھرنا پڑے گا۔ اس لئے اس مناسبت سے مسیح (علیہ السلام) کا لقب قرار پایا ہے۔ بہر حال لفظ مسیح کا اطلاق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور دجال ملعون دونوں پر ہوتا ہے اور دونوں کے درمیان امتیازی فرق یہ ہے کہ جب صرف مسیح لکھا اور بولا جاتا ہے تو اس سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات گرامی مراد لی جاتی ہے اور جب دجال ملعون مراد ہوتا ہے تو لفظ مسیح کو دجال کے ساتھ قید کردیتے ہیں یعنی مسیح دجال لکھتے اور بولتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس دعا میں چھ چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کی ہے (١) عذاب قبر (٢) فتنہ دجال (٣) فتنہ زندگی (٤) فتنہ موت (٥) گناہ (٦) قرض۔ یہ چھ چیزیں اپنی ہیبت و ہلاکت اور دینی و دنیاوی خسران و نقصان کے باعث بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان چیزوں سے اگر اللہ تعالیٰ نے نجات دی اور اپنا فضل و کرم فرما دیا تو دینی و دنیاوی دونوں زندگیاں کامیابی و کامرانی سے اور رحمت وسعادت کی ہم آغوش ہوگی اور اگر خدانخوستہ کہیں کسی بدنصیب کا ان میں سے کسی ایک سے بھی پالا پڑگیا تو جانئے کہ اس کی دنیا بھی تباہ و برباد ہوجائے گی اور آخرت کی تمام سہولتیں و آسانیاں اور وہاں کی رحمتیں و سعادتیں بھی اس کا ساتھ چھوڑ دیں گی اور وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مسحتق ہوگا اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے خود ان چیزوں سے پناہ مانگ کر امت کے لئے تعلیم کا دروازہ کھولا ہے کہ ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنے پروردگار سے ان سخت وہیبت ناک چیزوں سے پناہ مانگتا رہے تاکہ پروردگار اس کو ان سے محفوظ و مامون رکھے۔ عذاب قبر اور فتنہ دجال یہ تو بالکل ظاہر ہیں ان کی کسی فائدہ و توضیح کی ضرورت نہیں ہے البتہ فتنہ زندگی یہ ہے کہ صبر و رضا کے فقدان کی وجہ سے زندگی کی مصیبتوں اور بلاؤں میں گرفتار ہو اور نفس ان چیزوں میں مشغول و مستغرق ہوجائے جو راہ ہدایت اور راہ حق سے ہٹا دیتی ہوں اور زندگی کو گمراہیوں وضلالتوں کی کھائی میں پھینک دیتی ہوں۔ فتنہ موت کا مطلب یہ ہے کہ شیطان لعین حالت نزع میں اپنے مکروفریب کا جال پھینکنے اور مرنے والے کے دل میں وسو اس و شبہات کے بیج بو کر اس کے آخری لمحوں کو جن پر دائمی نجات و عذاب کا دارومدار ہے برائی و گمراہی کی بھینٹ چڑھا دے تاکہ اس دنیا سے رخصت ہونے والا نعوذ باللہ ایمان و یقین کے ساتھ نہیں بلکہ کفر و تشکیک کے ساتھ فوت ہوجائے (العیاذ با اللہ) اسی طرح منکر و نکیر کے سوالات کی سختی، عذاب قبر کی شدت اور عذاب عقبی میں گرفتاری بھی موت کے فتنے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب سے ہر مسلمان کو محفوظ و مامون رکھے۔ آمین لفظ ماثم یا تو مصدر ہے یعنی گناہ کرنا، یا اس سے مراد وہ چیز ہے جو گناہ کا باعث ہے۔ بہر حال اس کا مطلب یہ ہے کہ ان گناہوں سے اللہ کی پناہ، جس کے نتیجے میں بندہ عذاب آخرت اور اللہ کی ناراضگی مول لیتا ہے۔ یا ان چیزوں سے اللہ کی پناہ جو گناہ صادر ہونے کا ذریعہ ہیں، یا جن کو اختیار کر کے بندہ راہ راست سے ہٹ جاتا ہے اور ضلالت و گمراہی کی راہ پر پڑجاتا ہے۔ قرض سے پناہ مانگنے کی وجہ قرض سے پناہ مانگنے پر ایک صحابی کو تعجب ہوا کہ قرض میں ایسی کونسی برائی ہے جس سے پناہ مانگی جا رہی ہے بلکہ اس سے تو بہت سے ضرورت مندوں کے کام پورے ہوتے ہیں اور دنیاوی حالات میں اس سے بڑی حد تک مدد ملتی ہے رسول اللہ ﷺ نے اس کی قباحت اور برائی کی جس کی بنیادی حقیقت کی طرف توجہ دلائی وہ یقینا ایسی ہی ہے کہ اس سے پناہ مانگی جانی چاہئے۔ اول تو دنیاوی اعتبار سے بھی کسی کا قرضدار ہونا کوئی اچھی بات نہیں ہے پھر دین و آخرت کا جہاں تک تعلق ہے تو اس کی وجہ سے ایسی چیزوں کا ارتکاب ہوتا ہے جو شریعت کی نظر میں نہ صرف یہ کہ معیوب بلکہ عذاب آخرت کا سبب بنتی ہیں۔ مثلاً جب کوئی آدمی کسی سے قرض مانگنے جاتا ہے تو پہلا مرحلہ یہی ہوتا ہے جب وہ گنہگار ہوتا ہے کیونکہ بسا اوقات قرض مانگنے والا سینکڑوں بہانے تراشتا ہے سیکڑوں غلط سلط باتیں بناتا ہے اور مقصد برآری کے لئے بڑے سے بڑا جھوٹ بولنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتا۔ اس کے بعد دوسرا مرحلہ قرض کی ادائیگی کا آتا ہے کہ قرض دار قرض لیتے وقت ایک وقت و عرصہ متعین کرتا ہے جس میں وہ قرض کی ادائیگی کا وعدہ کرتا ہے مگر تجربہ شاہد ہے کہ کوئی ایک آدھ ہی قرضدار ایسا ہوگا جو وقت معینہ پر ادائیگی کردیتا ہوگا ورنہ اکثر و بیشتر وعدہ خلافی کرتے ہیں اس موقع پر بھی نہ صرف یہ کہ وعدہ خلافی ہوتی ہے بلکہ عدم ادائیگی کے عذر میں ہر طرح کا جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔ اس طرح قرضدار وعدہ خلافی اور جھوٹ کا ارتکاب کر کے گناہ گار ہوتا ہے۔ پھر عدم ادائیگی کا یہ عذر ایک دو مرتبہ ہی پر ختم نہیں ہوجاتا بلکہ اس کا ایک سلسلہ ہوتا ہے جو بہت دنوں تک چلتا رہتا ہے اس طرح قرضدار مسلسل جھوٹ پر جھوٹ بولتا ہے، ہر مرتبہ وعدہ خلافیاں کرتا ہے اور اس طرح وہ گناہوں کی پوٹ اپنے اوپر لادتا رہتا ہے۔ ظاہر کہ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کے عذاب اور مواخذہ آخرت کا سبب ہیں اس لئے ایسی غلط چیز سے پناہ مانگی گئی ہے۔

906Mishkaat-al-Masabih

نماز میں کن چیزوں سے پناہ مانگنی چاہئے

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا فَرَغَ اَحَدُکُمْ مِّنَ التَّشَھُّدِ الْاٰخِرِ فَلْےَتَعَوَّذْ بِاللّٰہِ مِنْ اَرْبَعٍ مِّنْ عَذَابِ جَھَنَّمَ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْےَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ شَرِّ الْمَسِےْحِ الدَّجَّالِ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رحمت دو عالم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی (نماز میں) آخری تشہد (یعنی التحیات) سے فارغ ہوجائے تو اسے چاہئے کہ وہ چار چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ کا طلب گار ہو۔ (١) عذاب دوزخ (٢) عذاب قبر (٣) فتنہ زندگی و موت (٤) مسیح دجال کی برائی۔ (صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ کہ قعدہ اخیرہ میں تشہد سے فراغت کے بعد یہ دعا پڑھنی چاہئے۔ اللہم انی اعوذبک من عذاب جہنم ومن عذاب القبر ومن فتنۃ المحیاء والممات ومن شرالمسیح الدجال۔ اے اللہ! میں دوزخ کے عذاب، قبر کے عذاب، زندگی اور موت کے فتنوں اور دجال کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

907Mishkaat-al-Masabih

نماز میں کن چیزوں سے پناہ مانگنی چاہئے

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍص اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ ےُعَلِّمُھُمْ ھٰذَالدُّعَاءَ کَمَا ےُعَلِّمُھُمُ السُّوْرَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ ےَقُوْلُ قُوْلُوْا اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ جَھَنَّمَ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَسِےْحِ الدَّجَّالِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الْمَحْےَا وَالْمَمَاتِ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رحمت عالم ﷺ ہم صحابہ اور اہل بیت کو یہ دعا اسی طرح سکھاتے تھے جس طرح آپ ﷺ ہمیں قرآن کی کوئی سورت سکھایا کرتے تھے کہ (کہ دعا اس طرح پڑھو اللہم انی اعوذ بک من عذاب جہنم واعوذبک من عذاب القبر واعوذ بک من فتنۃ المسیح الدجال واعوذبک من فتنۃ المحیا والممات اے اللہ! میں عذاب جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں، عذاب قبر سے تیری پناہ کا طلب گار ہوں، مسیح دجال کے فتنہ سے پناہ چاہتا ہوں اور زندگی و موت کے فتنہ سے تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ (صحیح مسلم)

908Mishkaat-al-Masabih

تشہد و درود کے بعد کی دعا

وَعَنْ اَبِیْ بَکْرِ نِ الصِّدِّےْقِص قَالَ قُلْتُ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ عَلِّمْنِیْ دُعَآئً اَدْعُوْ بِہٖ فِی صَلٰوتِیْ قَالَ قُلْ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ ظُلْمًا کَثِےْرًا وَّلَا ےَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ فَاغْفِرْلِیْ مَغْفِرَۃً مِّنْ عِنْدِکَ وَارْحَمْنِیْ اِنَّکَ اَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِےْمُ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیق ( آپ کا نام عبداللہ اور کنیت ابوبکر ہے لقب آپ کا صدیق و عتیق ہے۔ بعض محققین کے مطابق آپ کا اصل نام عبدالکعبہ تھا پھر آپ ﷺ نے ان کا نام عبداللہ رکھا۔ آپ کے والد کا نام عثمان اور کنیت ابوقحافہ تھی۔ سب مسلمان مردوں میں سے آپ پہلے ایمان لائے اور ہجرت میں یار غار تھے حضور ﷺ کے وصال کے بعد آپ کو خلیفہ بنایا گیا ١٣ ھ میں ٦٣ سال کی عمر میں وفات پائی اور روضہ اطہر میں مدفون ہوئے) فرماتے ہیں کہ میں نے رحمت عالم ﷺ سے، عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسی دعا بتا دیجئے کہ جسے میں اپنی نماز میں (تشہد و درود کے بعد) پڑھ لیا کروں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ پڑھ لیا کرو اللہم انی ظلمت نفسی ظلما کثیرا و لا یغفر الذنوب الا انت فاغفرلی مغفرۃ من عندک وارحمنی انک انت الغفور الرحیم اے پروردگار! بیشک میں نے اپنے نفس پر بہت ظلم کیا ہے اور تیرے علاوہ کوئی دوسرا گناہوں کو نہیں بخشا سکتا لہٰذا تو مجھے بخش دے خاص طور سے بخشا اور مجھ پر رحم فرما، بیشک تو بخشنے والا اور رحمت کرنے والا ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح اس روایت میں لفظ کثیرا ثاء مثلہ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے اور صحیح مسلم کی بعض روایات باء موحدہ کے ساتھ یعنی کبیرا ذکر کیا گیا ہے لہٰذا اس دعا کو دونوں الفاظ کے ساتھ پڑھا جاسکتا ہے یعنی کبھی کثیرا پڑھا جائے اور کبھی کبیرا پڑھ لیا جائے۔

909Mishkaat-al-Masabih

سلام پھیرنے کا بیان

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍص عَنْ اَبِےْہِ قَالَ کُنْتُ اَرٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےُسَلِّمُ عَنْ ےَّمِےْنِہٖ وَعَنْ ےَّسَارِہٖ حَتّٰی اَرٰی بَےَاضَ خَدِّہٖ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت عامر ابن سعد (رح) (تابعی) اپنے والد مکرم (حضرت سعد ابن وقاص ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے (یعنی حضرت سعد نے) فرمایا کہ میں دیکھتا تھا کہ رحمت عالم ﷺ اپنے دائیں اور بائیں (اس طرح) سلام پھیرتے تھے کہ میں آپ کے رخساروں کی سفیدی دیکھ لیتا تھا۔ (صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ سلام پھیرنے کے وقت اپنا چہرہ مبارک اتنا پھیرتے تھے کہ آپ ﷺ کا منور رخسار نظر آنے لگتا تھا۔ قبربان جائیے حضرت سعد ؓ کی اس سعادت پر کہ ان کو نماز میں رحمت عالم سرور کائنات ﷺ کا پہلوئے مبارک نصیب ہوتا تھا۔ کاش کے اندر نماز م جاشود پہلوئے تو تابہ تقریب سلام افتد نظر بر روئے تو

910Mishkaat-al-Masabih

نماز کے بعد امام مقتدیوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے

وَعَنْ سَمُرَۃ بْنِ جُنْدُبٍ صقَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا صَلّٰی صَلٰوۃً اَقْبَلَ عَلَےْنَا بِوَجْھِہٖ۔ (صحیح البخاری)

اور حضرت سمرہ ابن جندب ؓ فرماتے ہیں کہ رحمت عالم ﷺ جب نماز پڑھ کر فارغ ہوجاتے تھے تو ہماری طرف اپنا مبارک منہ متوجہ کر کے بیٹھے تھے۔ (صحیح البخاری ) تشریح مطلب یہ ہے کہ جب جماعت ختم ہوجاتی اور آپ ﷺ نماز سے فارغ ہو لیتے تھے تو اپنا روئے اقدس مقتدیوں کی طرف متوجہ کر کے بیٹھ جاتے تھے۔

911Mishkaat-al-Masabih

نماز کے بعد امام مقتدیوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے

وَعَنْ اَنَسٍ صقَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَنْصَرِفُ عَنْ ےَّمِےْنِہٖ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نماز سے فارغ ہونے کے بعد (کبھی) اپنی دائیں طرف پھر کر بیٹھے تھے۔ (صحیح مسلم)

912Mishkaat-al-Masabih

نماز کے بعد امام مقتدیوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے

وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍص قَالَ لَا ےَجْعَلُ اَحَدُکُمْ لِلشَّےْطَانِ شَےْئًا مِنْ صَلٰوتِہٖ ےَرٰی اَنَّ حَقًّا عَلَےْہِ اَنْ لاَّ ےَنْصَرِفَ اِلَّا عَنْ ےَّمِےْنِہٖ لَقَدْ رَاَےْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَثِےْرًا ےَّنْصَرِفُ عَنْ ےَّسَارِہٖ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی آدمی اپنی نماز میں شیطان کا حصہ مقرر نہ کرے (یعنی) اس چیز کو لازم جانے کہ (نماز کے بعد) دائیں جانب ہی سے پھرے، کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ رحمت عالم ﷺ اکثر بائیں جانب سے پھرا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح ان احادیث کا حاصل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ سلام پھیرنے کے بعد کبھی تو دائیں جانب سے پھیرتے تھے اور بائیں طرف بیٹھتے تھے اور بسا اوقات ایسا ہوتا تھا کہ آپ ﷺ سلام پھیر کر دعا مانگتے اور اپنے حجرہ شریف کی جانب (جو بائیں طرف تھا) تشریف لے جاتے تو کبھی اس کے برعکس کرتے تھے بائیں طرف سے پھر کر دائیں طرف بیٹھ جاتے تھے۔ پہلے طریقے کو عزیمت یعنی اولیت پر محمول کیا گیا ہے کیونکہ اس میں دائیں طرف سے ابتداء ہوتی ہے اور رسول اللہ ﷺ کا فعل اکثر اسی طرح ہوتا ہے، لیکن حضرت ابن مسود ؓ فرماتے ہیں کہ دوسری صورت یعنی بائیں طرف سے پھرنا اگرچہ رخصت یعنی جائز ہے اور اس صورت کو کم ہی اختیار بھی کیا جاتا تھا لیکن سنت کو واجب کا درجہ دینا چونکہ ٹھیک نہیں ہے اس لئے صرف پہلی صورت یعنی دائیں طرف سے پھرنے کو لازم و واجب قرار نہ دیا جائے اور شارع کی جانب سے دی گئی رخصت (یعنی اجازت) کو کہ وہ دوسری صورت سے ناقابل اختیار نہ جانا جائے اس لئے کہ حدیث شریف میں وارد ہے حق تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی جانب سے عنایت کی گئی رخصتوں پر عمل کیا جائے جیسا کہ وہ عزیمتوں پر عمل کرنے کو پسند کرتا ہے۔ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ چیز پسندیدہ اور محبوب ہے کہ اس عمل کو اختیار کیا جائے جس میں عزیمت یعنی اولیت ہے، اسی طرح اس کے نزدیک یہ چیز بھی قابل قبول اور پسندیدہ ہے کہ ان اعمال کو بھی اختیار کیا جائے جن کو حق تعالیٰ نے اولیٰ و افضل نہ سہی بہر حال جائز مقرر کر رکھا ہے۔ حضرات شوافع نے ان احادیث سے مصلی کے لئے یہ درمیانی طریقہ اختیار کیا ہے کہ وہ اپنی ضرورت و سہولت جس طرف دیکھے، اسی طرف پھرے یعنی اگر اس کا مکان وغیرہ اس کے دائیں جانب ہے تو اسے دائیں طرف پھرنا چاہیے اور اگر بائیں طرف ہو تو اسے بائیں طرف پھرنا ہے چاہیے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے بھی منقول ہے کہ رحمت عالم ﷺ کبھی مقتدیوں کی طرف بھی منہ کر کے اور پشت قبلے کی طرف کر کے بیٹھتے تھے جیسا کہ اوپر والی حدیث میں گذرا۔ نماز میں شیطان کا حصہ اس لئے کہا گیا ہے کہ جب کوئی آدمی ایک غیر لازم چیز کو اپنے اوپر واجب و لازم ہونے کا اعتقاد کرے گا تو گویا وہ شیطان کا تابع ہوا لہٰذا اس کی نماز کا کمال جاتا رہے گا۔ علامہ طیبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس میں اس بات پر دلیل ہے کہ جس آدمی نے کسی امر مستحب کو مستقل طریقہ سے اختیار کئے رکھا اور اسے لازم کا درجہ دے دیا اور رخصت (یعنی جواز) پر عمل نہ کیا تو سمجھو کہ شیطان اسے گمراہ کرنے کے لئے اس کے پاس پہنچ گیا ہے۔ کاش کہ اہل بدعت اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر دیکھیں کہ انہوں نے امر مستحب تو کجا خلاف شرع چیزوں اور بدعات کو اپنے اوپر لازم و واجب گردان کر اپنے آپ کو ضلالت و گمراہی کی کس وادی میں پھینک رکھا ہے اور اپنے اوپر شیطان کو کتنا مسلط کر رکھا ہے۔ یہ چاروں حدیثیں یعنی حدیث عامر، حدیث سمرہ، حدیث انس اور حدیث عبداللہ ؓ اس باب کے موضوع سے متعلق تو نہیں ہیں البتہ اس کے متعلقات سے ہیں۔

913Mishkaat-al-Masabih

نماز کے بعد کی دعا

وَعَنِ الْبَرَآءِ قَالَ کُنَّا اِذَا صَلَّےْنَا خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَحْبَبْنَا اَنْ نَکُوْنَ عَنْ ےَّمِےْنِہٖ ےُقْبِلُ عَلَےْنَا بِوَجْھِہٖ قَالَ فَسَمِعْتُہُ ےَقُوْلُ رَبِّ قِنِیْ عَذَابَکَ ےَوْمَ تَبْعَثُ اَوْ تَجْمَعُ عِبَادَکَ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت براء ؓ فرماتے ہیں کہ جب ہم رحمت عالم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تو اسے پسند کرتے تھے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے دائیں جانب ہوں تاکہ آپ ﷺ (سلام کے وقت سب سے پہلے) ہماری طرف متوجہ ہوں، برا فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو (سلام کے بعد دعا کے طور پر) یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رب قنی عذابک یوم تبعث او تجمع عبادک اے پروردگار۔ مجھے اپنے عذاب سے بچا اس روز جب کہ تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا یا جمع کرے گا۔ (صحیح مسلم) تشریح یا تو آپ ﷺ یہ دعا ازراہ تواضع اور انکساری فرماتے ہوں گے یا اس سے آپ ﷺ کا مقصد امت کو تعلیم دینا تھا کہ لوگ نماز کے بعد اس دعا کو پڑھا کریں۔ تبعث اور تجمع میں راوی کو شک واقع ہو رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یا تو یوم تبعث فرمایا ہے یا یوم تجمع فرمایا ہے۔ بہر حال اس دعا کو ان دونوں الفاظ کے ساتھ کسی بھی ایک لفظ کے ساتھ پڑھا جاسکتا ہے۔

914Mishkaat-al-Masabih

نماز کے بعد مقتدیوں کا امام سے پہلے اٹھ جانا غیر مستحب ہے

وَعَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ ص قَالَتْ اِنَّ النِّسَاءَ فِیْ عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کُنَّ اِذَا سَلَّمْنَ مِنَ الْمَکْتُوْبَۃِ قُمْنَ وَثَبَتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَمَنْ صَلّٰی مِنَ الرِّجَالِ مَا شَآءَ اللّٰہُ فَاِذَا قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَامَ الرِّجَالُ (رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ)

اور حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ رحمت عالم ﷺ کے زمانہ مبارک میں عورتیں (جب مردوں کے ساتھ جماعت سے نماز پڑھتی تھیں تو، فرض نماز کا سلام پھیر کر فوا اٹھ جاتی تھیں اور اپنے گھروں کو چلی جاتی تھیں اور رسول اللہ ﷺ اور مردوں میں سے جو لوگ نماز میں شامل ہوتے تھے جتنی دیر اللہ کو منظور ہوتا بیٹھے رہتے تھے، پھر جب رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوتے تو سب مرد کھڑے ہوجاتے (اور اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے تھے)۔ (صحیح البخاری ) تشریح اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے مبارک زمانہ میں جب کہ عورتیں بھی مردوں کے ساتھ ہی آپ ﷺ کے پیچھے نماز جماعت کے ساتھ ادا کرتیں تھیں اس وقت عورتوں کا یہ دستور ہوتا تھا کہ جوں ہی رسول اللہ ﷺ سلام پھیر کے فارغ ہوتے وہ اس وجہ سے کہ راستے میں مردوں سے مڈبھیڑ نہ ہو اور ان کے ساتھ راستے میں چلنا نہ پڑے فورا اٹھ جاتیں اور اپنے گھروں کو چل دیتیں تھیں۔ نماز کے بعد رسول اللہ ﷺ کے بیٹھنے کے بارے میں میں کوئی دائمی معمول مذکور نہیں کہ آپ تمام نمازوں کے بعد ہمیشہ اتنی دیر تک بیٹھتے تھے بلکہ اس کا انحصار اختلاف اوقات پر ہوتا تھا چناچہ آپ ﷺ سلام پھیر کر کبھی تو اللہم انت السلام الخ پڑھنے تک بیٹھتے تھے اور کبھی آپ ﷺ اتنا بیٹھتے تھے کہ دعا وغیرہ سے فارغ ہو کر قرآن کریم پڑھتے اور صحابہ کو احکام الٰہی کی تعلیم دیتے اور کبھی آپ ﷺ فجر کی نماز میں مصلے پر طلوع آفتاب تک بیٹھے رہے تھے۔ اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ امام کے لئے اس قسم کی ضرورت کے وقت نماز کے بعد مصلی پر کچھ دیر تک بیٹھے رہنا مستحب ہے۔ نیز مقتدیوں کے لئے یہ مستحب ہے کہ جب تک امام مصلے سے نہ اٹھے وہ بھی نہ اٹھیں۔ وسنذکر حدیث جابر بن سمرۃ فی باب الضحک انشاء اللہ تعالیٰ۔ اور جابر ابن سمرہ کی (وہ) حدیث جس میں نماز کے بعد سے طلوع آفتاب تک رسول اللہ ﷺ کا بیٹھنا مذکور ہے اور جسے صاحب مصابیح نے یہاں نقل کیا تھا، ہم انشاء اللہ باب الضحک میں نقل کریں گے۔

915Mishkaat-al-Masabih

نماز کے بعد کی دعا

وَعَنْ مُعَاذِبْنِ جَبَلٍ قَالَ اَخَذَ بِیَدِی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ اِنِّیْ لَا حِبُّکَ یَا مُعَاذُ فَقُلْتُ وَاَنَا اَحِبُّکَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ قَالَ فَلَا تَدْعُ اَنْ تَقُوْلَ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ رَبِّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِ کَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ رَوَاہُ اَحْمَدُ وَ اَبُوْدَاؤدَ وَالنِّسَائِیُّ اِلَّا اَنَّ اَبَادَاؤلَمْ یَذْکُرْ قَالَ مُعَاذٌ وَ اَنَا اُحِبُّکَ۔

حضرت معاذ ابن جبل ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) رحمت عالم ﷺ نے میرا ہاتھ اپنے دست مبارک میں لے کر فرمایا کہ معاذ! میں تمہیں دوست رکھتا ہوں۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں بھی آپ ﷺ کو دوست رکھتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا (جب تم مجھے دوست رکھتے ہو تو) کسی بھی نماز کے بعد اس دعا کو پڑھنا ترک نہ کرو رب اعنی علی ذکرک وشکرک وحسن عبادتک اے پروردگار! تو اپنے ذکر اپنے شکر اور اپنی اچھی عبادت میں میری مدد کر!۔ اس روایت کو احمد، سنن ابوداؤد اور سنن نسائی نے نقل کیا ہے مگر سنن ابوداؤد نے معاذ کے یہ الفاظ وانا احبک نقل نہیں کئے ہیں۔ تشریح اچھی عبادت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی عبادت ہو خواہ بدنی ہو یا مالی، پورے کمال اور حضور قلب کی اس کیفیت کے ساتھ کی جائے گویا کہ عبادت کرنے والا اللہ جل شانہ، کو دیکھ رہا ہے اور اس کی عبادت کر رہا ہے۔ کتاب الایمان کی بھی ایک حدیث میں اچھی عبات کا یہی مطلب بیان کیا گیا ہے وہاں اس کی وضاحت اچھی طرح کی جا چکی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی آدمی کسی کو دوست رکھتا ہے تو اس کے لئے مستحب ہے کہ وہ اپنی دوستی اور محبت کا اظہار اس سے کر دے۔ یہ حدیث اس فعل و قول (اخذ بیدی و یقول انا احبک) کے ساتھ مسلسل ہے۔ اس اصطلاح کی تعریف علماء و محدثین بخوبی سمجھتے ہیں چونکہ عوام سے اس کا تعلق نہیں ہے اس لئے ان کے سامنے اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔

916Mishkaat-al-Masabih

سلام پھیرنے کا طریقہ

وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یُسَلِّمُ عَنْ یَمِیْنِہِ السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اﷲِ حَتّٰی یُرٰی بَیَاضُ خَدِّہِ الْاَیْمَنِ وَعَنْ یَسَارِہٖ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اﷲِ حَتّٰی یُرٰی بَیَاضُ خَدِّہِ الْاَیْسَرِ۔ (رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَ التِّرْمِذِیُّ وَ النَّسَائِیُّ وَلَمْ یَذْکُرِ التِّرْمِزِیُّ حَتّٰی یُرٰ بِیَاضُ خَدِّہٖ وَرَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ)

اور حضرت عبدا اللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رحمت عالم ﷺ اپنی دائیں جانب السلام علیکم و رحمتہ اللہ (یعنی تم پر اللہ کی سلامتی اور اللہ کی رحمت) کہتے ہوئے سلام پھیر تے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے دائیں رخسار کی سفیدی نظراتی اور اپنی بائیں جانب بھی السلام علیکم و رحمتہ اللہ کہتے ہوئے سلام پھیرتے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے بائیں رخسار کی سفیدی نظر آتی۔ (سنن ابوداؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی) ترمذی نے اپنی روایت میں حتی یری بیاض خدہ کے الفاظ ذکر نہیں کئے ہیں اور ابن ماجہ نے اس روایت کو عمار ابن یاسر سے نقل کیا ہے۔ تشریح ابوداؤد اور نسائی نے تو اس روایت کو انہیں الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے۔ مگر امام ترمذی نے اپنی روایت میں حتی یری بیاض خدہ (یہاں تک کہ آپ کے رخسار کی سفیدی نظر آئی) نقل کیا ہے بلکہ انہوں نے صرف اس قدر نقل کیا ہے کہ کان یسلم عن یمینہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وعن یسارہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابن ماجہ نے عمار ابن یاسر سے یہ حدیث پوری اسی طرح نقل کی ہے نہ کہ ترمذی کی طرح اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے۔

917Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ نماز کے بعد اکثر بائیں جانب پھر کر بیٹھتے تھے

وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ کَانَ اَکْثَرُ اِنْصِرَافِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم مِنْ صَلَا تِہٖ اِلٰی شِقِّہِ الْاَ یْسٰرِ اِلٰی حُجْرَتِہٖ۔ (رواہ فی شرح االسنۃ)

اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نماز کے بعد اکثر بائیں جانب اپنے حجرے کی طرف پھرجاتے تھے۔ (شرح السنۃ) تشریح مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے حجرہ مبارک کا دروازہ مسجد میں بائیں محراب کی طرف تھا۔ اس لئے جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوجاتے تھے تو اکثر و بیشتر بائیں جانب پھرتے تھے اور اپنے حجرے میں تشریف لے جاتے تھے۔

918Mishkaat-al-Masabih

فرض کے بعد سنتیں پڑھنے کے لئے جگہ بدل لینی چاہئے

عَنْ عَطَاءِ الْخُرَسَانِیِّ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یُصَلِّی الْاِمَامُ فِی الْمَوضِعِ الَّذِیْ صَلٰی فِیْہِ حَتّٰی یَتَحَوَّلَ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَقَالَ عَطَاءُ الْخُرَسَانِیُّ لَمْ یُدْرِکِ الْمُیِغْرَۃَ۔

حضرت عطاء خراسانی (رح) حضرت مغیرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا امام اس جگہ نماز نہ پڑھے جہاں نماز پڑھ چکا ہے بلکہ وہاں سے سرک جائے اس روایت کو ابوداؤد نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ عطاء خراسانی کی ملاقات حضرت مغیرہ ؓ سے (ثابت نہیں ہے لہٰذا یہ حدیث منقطع ہے۔ تشریح یہاں یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ جس جگہ فرض نماز پڑھی گئی ہے اسی جگہ سنتیں نہ پر ھی جائیں بلکہ اس جگہ سے ذرا ہٹ کر اور جگہ بدل کر دوسری جگہ سنتیں پڑھی جائیں اس سلسلہ میں یہ بات جان لیجئے کہ اس حدیث سے بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم خاص طور پر امام ہی کے لئے ہے مقتدی اس میں شامل نہیں ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ حکم مجموعی طور پر امام اور مقتدی سب کے لئے ہے۔ فرض اور سنتیں دونوں ایک ہی جگہ پڑھنے سے منع یا تو اس لئے کیا گیا ہے کہ کوئی آنے والا یہ گمان نہ کرے کہ نمازی ابھی فرض نماز ہی پڑھ رہا ہے یا اس لئے کہ دونوں جگہیں قیامت کے روز پروردگار کے سامنے نمازی کی اطاعت گزاری کی گواہی دیں جس سے اس کے مرتبے میں اضافہ ہو۔ ملا علی قاری (رح) نے لکھا ہے کہ بعض علماء کا قول ہے کہ یہ حکم ان فرض نمازوں کے بارے میں ہے جن کے بعد سنت موکدہ ہیں اور جن فرض نمازوں کے بعد سنتیں نہیں پڑھی جاتیں جیسے فجر و عصر تو ان کے بارے میں یہ حکم نہیں ہے مگر بعض علماء کی یہی رائے ہے کہ حکم تمام نمازوں کے بارے میں یکساں طور پر ہے۔

919Mishkaat-al-Masabih

فرض کے بعد سنتیں پڑھنے کے لئے جگہ بدل لینی چاہئے

وَعَنْ اَنَسٍ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم حَضَّھُمْ عَلٰی الصَّلَاۃِ وَنَھَا ھُمْ اَنْ یَنْصَرِفُوْا قَبْلَ انْصَرِافِہٖ مِنَ الصَّلَاۃِ۔(رواہ ابوداؤد)

اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رحمت عالم ﷺ صحابہ کرام کو نماز پڑھنے کی رغبت دلاتے تھے اور ان کو اس بات سے منع فرماتے تھے کہ وہ نماز کے بعد آپ ﷺ کے اٹھنے سے پہلے اٹھیں۔ (ابوداؤد) تشریح حدیث کے پہلے جزء کا مطلب یہ ہے کہ یا تو آپ ﷺ صحابہ کو مطلقاً نماز پڑھنے کی تاکید فرماتے تھے یا انہیں اس بات کی رغبت دلاتے تھے کہ نماز جماعت کے ساتھ ادا کریں۔ آپ ﷺ کے ارشاد کے دوسرے جزو کا مطلب یہ ہے کہ جب نماز ختم ہوجائے اور دعاء وغیرہ سے فارغ ہوجائے تو جب تک میں نہ اٹھ جاؤں مقتدی نہ اٹھیں تاکہ راستے میں مرد عورتوں سے مل نہ جائیں جیسا کہ پہلے ایک حدیث میں گزر چکا ہے کہ نماز کے بعد رسول اللہ ﷺ اور دوسرے لوگ بیٹھے رہتے تھے یہاں تک کہ جب عورتیں اٹھ کر چلی جاتی تھیں تو پہلے آپ ﷺ اٹھتے تھے اس کے بعد دوسرے لوگ اٹھ کر اپنے گھروں کو چل دیتے تھے۔ اس صورت میں یہ نہی تنزیہی ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ یہاں پہلے اٹھنے سے مراد مسبوق کا اٹھ کھڑا ہونا ہے۔ اس صورت میں اس ارشاد کا مطلب یہ ہوگا کہ جب تک امام سلام نہ پھیرے اس وقت تک مسبوق اپنی بقیہ رکعتیں پڑھنے کے لئے کھڑا نہ ہو بلکہ جب امام سلام پھیرے تب مسبوق ( مسبوق اس آدمی کو کہتے ہیں جو جماعت میں ایک رکعت یا اس سے زیادہ ہوجانے کے بعد آکر شریک ہوا ہو) کھڑا ہو۔ اس سلسلے میں اتنی بات جان لیجئے کہ یہ شکل یعنی مسبوق کا امام کے سلام پھیرنے سے پہلے اٹھ کھڑا ہونا حنفیہ کے نزدیک حرام ہے۔

920Mishkaat-al-Masabih

تشہد کے بعد رسول اللہ کی دعا

وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ اَوْسٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ فِیْ صَلَا تِہٖ اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَسْأَلُکَ الثُّبَاتَ فِی الْاَمْرِ وَ الْعَزِیْمَۃَ عَلَی الرُّشْدِ وَاَسْأَلُکَ شُکْرَ نِعْمَتِکَ وَحُسْنَ عِبَادَتِکَ وَاَسْأَلُکَ قَلْبًا سَلِیْمًا وَلِسَانًا صَادِقَا وَاَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَاتَعْلَمْ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّمَا تَعْلَمُ وَاَسْتَغْفِرُکَ لِمَا تَعْلَمُ رَوَاہُ النَّسَائِیُّ وَرَویٰ اَحْمَدُ نَحْوَہُ۔

حضرت شداد ابن اوس ؓ فرماتے ہیں کہ رحمت عالم ﷺ اپنی نماز میں (تشہد کے بعد) یہ دعا پڑھا کرتے تھے اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَسْأَلُکَ الثُّبَاتَ فِی الْاَمْرِ وَ الْعَزِیْمَۃَ عَلَی الرُّشْدِ وَاَسْأَلُکَ شُکْرَ نِعْمَتِکَ وَحُسْنَ عِبَادَتِکَ وَاَسْأَلُکَ قَلْبًا سَلِیْمًا وَلِسَانًا صَادِقَا وَاَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَاتَعْلَمْ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّمَا تَعْلَمُ وَاَسْتَغْفِرُکَ لِمَا تَعْلَمُ اے پروردگار! میں تجھ سے دین میں ثابت قدمی اور راہ راست کے قصد کا سوال کرتا ہوں اور میں تجھ سے تیری نعمت کے شکر اور تیری عبادت کے حسن کی درخواست کرتا ہوں اور تجھ سے قلب سلیم اور سچی زبان مانگتا ہوں اور تجھ سے وہ بھلائی چاہتا ہوں جس کو تو جانتا ہے اور اس برائی سے پناہ مانگتا ہوں جس کو تو جانتا ہے اور معافی چاہتا ہوں ان گناہوں سے جن کو تو جانتا ہے۔ (سنن نسائی، مسند احمد بن حنبل) تشریح یہ دعا بھی آنحضرت ﷺ کی لسان مقدس سے تعلیم امت کے پیش نظر ارشاد ہوئی ہے کہ امت کے لوگ اس طرح دعا مانگا کریں۔ ورنہ تو جہاں تک رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی کا تعلق ہے آپ ﷺ کو یہ تمام بھلائیاں اور سعادتیں حاصل تھیں جن کی طرف اس دعا میں اشارہ کیا گیا ہے اور تمام گناہوں سے آپ محفوظ تھے، نیز آپ ﷺ کے تمام اگلے پچھلے گناہ بخشے جا چکے تھے۔ راہ راست کے قصد کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ! مجھے اس بات کی توفیق عنایت فرما کہ تو نے ہدایت کا جو راستہ دکھلایا ہے اس پر ہمیشہ ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہوں اور ہدایت کو اپنی زندگی کے لئے لازم پکڑوں۔ تجھ سے تیری نعمت کے شکر اور تیری عبادت کے حسن کی درخواست کرتا ہوں کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ مجھے اس بات کی توفیق عنایت فرما کہ تیری ان نعمتوں کو جن سے تو نے مجھے سرفراز فرمایا ہے تیری اطاعت و فرمانبرداری میں اس طرح صرف کروں کہ تیرے احکام و فرمان کا پابند رہوں اور جن چیزوں سے تو نے منع کیا ہے ان سے بچتا رہوں اور تیری عبادت کو اس کی پوری شرائط و آداب اور پورے ارکان کے ساتھ ادا کروں۔ قلب سلیم اس دل کو کہتے ہیں جو برے عقائد، کمزور خیالات اور غلط اعتقادات و نظریات سے پاک وصاف ہو اور خواہشات نفسانی کی طرف اس کا میلان نہ ہو نیز یہ کہ وہ ماسوی اللہ سے خالی ہو۔ دعا کے جملے وَاَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا تَعْلَمُ میں لفظ ماموصولہ ہے یا موصوفہ اور عائد محذوف ہے۔ اسی طرح اس جملہ میں لفظ من زائد ہے یا بیانیہ اور مبین محذوف ہے۔ گویا اصل میں یہ عبارت اس طرح ہے اسالک شیئا ھو خیر ما تعلم یعنی میں تجھ سے اس اچھی چیز کی درخواست کرتا ہوں جس کے بارے میں تو جانتا ہے کہ وہ اچھی ہے یعنی میں ایسی چیز کی درخواست نہیں کرتا جس کے بارے میں میرا خیال ہے کہ وہ اچھی چیز ہے کیونکہ بندہ تو کسی چیز کو اچھی سمجھ لیتا ہے حالانکہ حقیقت میں وہ اچھی نہیں ہوتی۔ اس لئے میں وہی چیز مانگتا ہوں جو تیرے نزدیک اچھی ہے۔ اسی طرح (واعوذبک من شرما تعلم) کا مطلب بھی یہی ہے کہ میں اس بری چیز سے پناہ مانگتا ہوں جو تیرے نزدیک بری اور جس کے بارے میں تیرا فیصلہ ہے کہ یہ بندے کے حق میں برائی کا باعث ہے۔

921Mishkaat-al-Masabih

تشہد کے بعد رسول اللہ کی دعا

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ فِیْ صَلٰوتِہٖ بَعْدَ التَّشَھُّدِ اَحْسَنُ الْکَلَامِ کَلَامُ اﷲِ وَاَحْسَنُ الْھُدْیِ ھَدْیُ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم۔ (رواہ النسائی )

اور حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی نماز میں التحیات کے بعد فرماتے تھے، بہترین کلاموں کا کلام اللہ کا ہے اور بہت بہترین طریقوں کا طریقہ محمد ﷺ کا ہے روایت کیا اس کو نسائی نے۔