نماز کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 11 · 527 hadiths · Page 12 of 27

922Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ کے سلام کا طریقہ

وَعَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُسَلِّمُ فِی الصَّلَاۃِ تَسْلِیْمَۃً تِلْقَاءَ وَجْھِہٖ ثُمَّ یَمِیْلُ اِلَی الشَّقِّ الْاَیْمَنِ شَیْئًا۔ (رواہ الترمذی)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نماز میں ایک سلام پھیرتے تھے سامنے کے رخ پھر تھوڑا سا منہ کو دائیں جانب پھیرتے تھے۔ اس طرح آپ ﷺ سلام پورا فرماتے تھے۔ (جامع ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ جب آپ ﷺ سلام پھیرتے تھے تو یہ طریقہ اختیار فرماتے تھے کہ سلام کی ابتدا قبلہ رخ کرتے تھے درمیان میں دائیں جانب اس قدر چہرہ مبارک پھیرتے تھے کہ رخسار مبارک کی سفیدی نظر آنے لگتی تھی جیسا کہ پہلی روایتوں میں گذر چکا ہے اس حدیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نماز میں صرف ایک ہی سلام دائیں جانب پھیرتے تھے چناچہ حضرت امام مالک (رح) اسی حدیث کے پیش نظر فرماتے ہیں کہ نماز میں صرف ایک ہی سلام مشروع ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنفیہ، حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم کے ہاں متفقہ طور پر نماز میں دوسلام یعنی دائیں اور بائیں دونوں جانب مشروع ہیں۔ کیونکہ اس سلسلہ میں بہت زیادہ احادیث وارد ہوئی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ دائیں اور بائیں دونوں طرف سلام پھیرنا چاہیے۔ اب اس حدیث کی تاویل ان ائمہ ثلاثہ کی جانب سے یہ کی جاتی ہے کہ ایک سلام تو آپ ﷺ بلند آواز سے کہتے تھے اور دوسرا سلام آہستہ آواز سے، اس لئے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے یہاں بلند آواز سے کہے جانے والے سلام کا اعتبار کیا ہے اور صرف اسی ایک کو ذکر کیا۔

923Mishkaat-al-Masabih

سلام پھیرتے وقت جواب کی نیت

وَعَنْ سَمُرَۃَ قَالَ اَمَرَنَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ نَرُدَّ عَلَی الْاِمَام وَنَتَحَابَّ وَاَنْ یُسَلِّمَ بَعْضُنَا عَلَی بَعْضٍ۔ (ابوداؤد)

اور حضرت سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ سلام پھیرتے وقت امام کے سلام کے جواب کی نیت کریں، ہم آپس میں محبت رکھیں اور ایک دوسرے کو سلام کریں۔ (ابوداؤد) تشریح پہلے حکم کا مطلب یہ ہے کہ مقتدی جب سلام پھیریں تو اس وقت وہ یہ نیت کریں کہ ہم امام کے سلام کا جواب دے رہے ہیں، اس کی شکل یہ ہوگی جو مقتدی امام کے دائیں جانب ہوں وہ تو دوسرے سلام میں، جو مقتدی بائیں جانب ہوں وہ پہلے سلام میں اور جو مقتدی امام کے مقابل ہوں وہ دونوں سلام میں امام کے سلام کے جواب کی نیت کریں اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جب امام سلام پھیرے تو وہ بھی اس وقت یہ نیت کرے کہ میں مقتدیوں کو سلام کر رہا ہوں۔ دوسرے حکم کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان آپس میں یعنی نمازیوں اور اللہ کے تمام بندوں سے محبت کریں، ان کے ساتھ خوشی خلفی، مروت اور اچھے اخلاق سے پیش آئیں۔ تیسرے حکم کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح امام سلام پھیرتے وقت مقتدیوں پر سلام کی اور مقتدی سلام پھیرتے وقت امام کے سلام کے جواب کی نیت کرتے ہیں اسی طرح تمام مقتدی نماز میں سلام پھیرتے وقت آپس میں ایک دوسرے کو سلام کی نیت کریں۔ اس طرح کہ دائیں طرف سلام پھیرتے وقت دائیں جانب کے مقتدیوں کی نیت کریں اور بائیں طرف سلام پھیرتے وقت بائیں جانب کے مقتدیوں کی نیت کرنی چاہیے۔ اور ہر نمازی کو چاہئے کہ وہ دونوں سلام میں ملائکہ کی بھی نیت کرے کیونکہ احادیث میں اس کا حکم بھی دیا گیا ہے اور حنفیہ کے بعض علماء نے تو کہا ہے کہ یہ سنت ہے گو دوسرے حضرات نے اسے ترک کیا ہے۔

924Mishkaat-al-Masabih

نماز کے بعد کے ذکر کا بیان

اس باب کی تحت وہ احادیث ذکر کی جائیں گی جن سے نماز کے بعد دعا اور دیگر اور اوارد وظائف کے پڑھنے کی اہمیت اور فضیلت ظاہر ہوتی ہے، یہاں ذکر کا لفظ عام ہے جو دعا اور اور اوارد وظائف سب پر حاوی ہے۔ اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ جن فرض نمازوں کے بعد سنتیں پڑھی جاتی ہیں ان کے بعد نمازی دعا اور اور اوراد وظائف کے لئے کتنی دیر تک بیٹھ سکتا ہے، چناچہ در مختار میں لکھا ہے کہ فرض نماز پڑھ لینے کے بعد سنتوں کے پڑھنے میں تاخیر کرنا مکروہ ہے البتہ اللھم انت السلام (آخر تک) کے بقدر دعا وغیرہ پڑھنے کے لئے کچھ دیر بیٹھنا ثابت ہے۔ علامہ حلوانی (رح) کا قول یہ ہے کہ اوراد وظائف پڑھنے کی غرض سے فرض و سنتوں کے درمیان وقفہ میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اسی قول کو کمال نے بھی اختیار کیا ہے۔ علامہ حلبی نے ان دونوں اقوال میں تطبیق یوں پیدا کی ہے کہ اگر یہاں مکروہ سے مراد مکروہ تحریمی نہ لیا جائے بلکہ مکروہ تنزیہی مراد لیا جائے تو ان دونوں اقوال میں کوئی اختلاف باقی نہیں رہے گا کیونکہ پہلے قول کا مطلب پھر یہ ہوگا کہ اور اوراد وظائف پڑھنے کے لئے سنتوں کے پڑھنے میں تاخیر کرنا کوئی گناہ کی بات نہیں ہے البتہ مکروہ تنزیہی ہے یعنی اگر تاخیر نہ کی جائے تو بہتر ہوگا۔ اسی طرح علامہ حلوانی کے قول کا مطلب یہ ہوگا کہ فرض نماز پڑھنے کے بعد اوارد وظائف پڑھنے کے لئے سنتوں میں تاخیر کرنے میں اگرچہ کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن مناسب یہی ہے کہ تاخیر نہ کی جائے، اس طرح یہ دونوں قول اپنی اپنی جگہ صحیح رہے اور دونوں میں کوئی تضاد بھی باقی نہیں رہا۔ صاحب درمختار کے ایک قول کا مفہوم یہ ہے کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فرض و سنت کے درمیان دعا اور اور اوارد پڑھے جائیں تو تعارض دور ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد موصوف فرماتے ہیں کہ مستحب یہ ہے کہ نماز کے بعد ( نمازوں میں سنتیں نہیں پڑھی جاتیں۔ ان میں فرض کے بعد اور جن کے بعد سنتیں پڑھی جاتی ہیں ان میں سنتوں کے بعد یہ اور اوارد پڑھے جائیں ١٢)۔ تین مرتبہ استغفر اللہ پڑھا جائے، آیتہ الکرسی اور معوذات (یعنی سورت قل ہو اللہ قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس) پڑھی جائے اور سبحان اللہ، الحمد اللہ اور اللہ اکبر تینتیس تینتیس مرتبہ پڑھے جائیں اور پھر ایک مرتبہ تحلیل (لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ الخ) پڑھ کر سو کے عدد کو پورا کیا جائے پھر اس کے بعد دعا مانگی جائے اور دعا کو اس جملے پر ختم کیا جائے سبحان ربک رب العزۃ عما یصفون وسلام علی المرسلین والحمد للہ رب العلمین۔ جماعت ختم ہوجانے کے بعد جب سنتیں پڑھی جائیں تو مقتدیوں کو چاہئے کہ صفوں کو توڑ دیں یعنی سنت پڑھنے کے لئے صف بندی کے ساتھ کھڑے نہ ہوں بلکہ آگے پیچھے ہٹ کر کھڑے ہوں۔ اور امام کو بھی چاہئے کہ وہ بھی امامت کے مصلے سے ہٹ کر آگے پیچھے یا دائیں بائیں ہوجائے تاکہ بعد میں آنے والے نمازیوں کو یہ خیال نہ ہو کہ ہنوز جماعت کھڑی ہے اور کوئی نمازی اسی خیال میں امام کی اقتدا کر کے نماز کے لئے کھڑا ہوجائے اور پھر اس کی اقتداء فاسد ہو۔ اس چیز میں بھی اختلاف ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد دعا اور اوارد وغیرہ پڑھنے کے لئے امام کے لئے دائیں طرف گھوم کر بیٹھنا افضل ہے یا بائیں طرف؟ چناچہ صحیح قول یہ ہے کہ اسے اختیار ہے چاہے دائیں طرف گھوم کر بیٹھے اور چاہے بائیں طرف لیکن اکثر حضرات کی رائے یہ ہے کہ بائیں طرف گھوم کر بیٹھنا ہی متفقہ طور پر سب کے نزدیک افضل ہے کیونکہ حجرہ شریف اسی سمت ہے۔ اگر کوئی آدمی فرض نماز کے بعد سنتیں پڑھ لے اور اس کے بعد احادیث میں مذکورہ اوراد وظائف پڑھے تو یہ اس بعدیت کے منافی نہیں ہوگا جو احادیث میں مذکور ہیں (یعنی احادیث میں مذکور ہے کہ نماز کے بعد فلاں فلاں دعا یا وظیفہ پڑھا جائے تو اگر کوئی آدمی فرض نماز پڑھ کر پہلے سنتیں پڑھے اور پھر اس کے بعد مذکورہ اوارد وظائف پڑھے تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ وہ اس فضیلت سے محروم رہا۔ کیونکہ حدیث کا مقصد تو یہ ہے کہ یہ اوارد وظائف نماز کے بعد پڑھے جائیں خواہ سنتوں کے بعد بلکہ سنتوں کے بعد ہی پڑھنا زیادہ مناسب ہے۔ اس طرح صحیح احادیث سے چونکہ یہ ثابت ہے کہ فجر اور مغرب کی نماز کے بعد لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد و ھو علی کل شییء قدیر دس مرتبہ پڑھا جائے، یا ان نمازوں کے بعد آیت الکرسی پڑھنا احادیث سے ثابت ہے تو اگر کوئی آدمی مغرب کی فرض نماز کے بعد پہلے سنتیں پڑھ لے اور پھر اس کے بعد آیت الکرسی یا مذکورہ بالا تہلیل پڑھے تو حدیث کے مطابق اسے وہی فضیلت حاصل ہوگی جو فرض نماز کے بعد انہیں پڑھنے پر حاصل ہوتی۔ بعض لوگ سوچ کر کہ جلدی بھی ہوجائے اور مذکورہ بالا چیزوں کو پڑھنے کی فضیلت بھی حاصل ہوجائے، مغرب کی سنتوں میں آیۃ الکرسی پڑھ لیتے ہیں یہ محض وہم ہے کیونکہ احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مغرب کی سنتوں میں قل یا ایھا الکافرون اور قل ھو اللہ احد پڑھا کرتے تھے۔

925Mishkaat-al-Masabih

نماز کے اختتام پر اللہ اکبر کہنا

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ کُنْتُ اَعْرِفُ انْقِضَآءَ صَلٰوۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بِالتَّکْبِےْرِ ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں رحمت عالم ﷺ کی نماز کے ختم ہونے کو آپ ﷺ کے اللہ اکبر کہنے سے پہچان لیتا تھا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح نماز کے اختتام پر اللہ اکبر کہنے کی مراد کے تعین میں شارحین کے مختلف اقوال ہیں، چناچہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یہاں تکبیر یعنی اللہ اکبر کہنے سے مراد ذکر ہے جیسا کہ صحیحین میں عبداللہ ابن عباس ؓ کی روایت منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں فرض نماز سے فراغت کے وقت لوگوں کے لئے بآواز بلند ذکر مقرر تھا۔ پھر حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں، کہ میں نماز کے اختتام کو اسی کے ذریعہ پہچانتا تھا (یعنی جب لوگ بلند آواز سے ذکر کرتے تھے تو میں جان لیتا تھا کہ نماز ہوچکی ہے)۔ عبداللہ ابن عباس ؓ کی اس روایت کو نقل کرنے کے بعد محمد بن اسماعیل البخاری نے پھر عبداللہ ابن عباس ؓ کی اس روایت کو نقل کیا ہے جو یہاں ذکر کی گئی ہے لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ تکبیر سے مراد مطلق ذکر ہے۔ لیکن اتنی بات بھی سمجھتے چلئے کہ حضرت امام شافعی (رح) نے رسول اللہ ﷺ کے اس ذکر بالجہر کو تعلیم امت پر محمول کیا ہے چناچہ بیہقی وغیرہ نے آہستہ آواز سے ذکر کرنے پر صحیحین کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام کو اس بات کا حکم دیا کرتے تھے کہ وہ تہلیل و تکبیر بلند آواز سے نہ کریں۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو، وہ (یعنی خدا) تو تمہارے ساتھ ہے اور قریب ہے بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہاں تکبیر سے مراد وہ تکبیر ہے جو نماز کے بعد تسبیح وتحمید کے ساتھ دس مرتبہ یا تیس مرتبہ پڑھتے ہیں۔ کچھ محققین کی رائے ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں نماز کے بعد ایک بار یا تین بار تکبیر کہی جاتی تھی۔ بعض علماء کا قول ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی روایت کا تعلق ایام منیٰ سے ہے کہ وہاں تشریق کی تکبیرات کہتے تھے، بہر حال۔ ان تمام اقوال کو سامنے رکھتے ہوئے بھی سب سے بڑا اشکال حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کے اس قول پر یہ وارد ہوتا ہے کہ یہ کیا وجہ ہے کہ عبداللہ ابن عباس ؓ سلام سے تو نماز کے اختتام کو نہ جانتے تھے اور تکبیر سے جانتے تھے کہ نماز ہوچکی ہے؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ اس وقت صغیر السن تھے اس لئے ممکن ہے کہ وہ ہمیشہ جماعت میں شریک نہ ہوتے ہوں گے، یا پھر یہ احتمال ہے کہ وہ جماعت میں شریک تو ہوتے ہوں گے لیکن پچھلی صف میں کھڑے ہوتے ہوں گے اس لئے وہاں تک رسول اللہ ﷺ کی آواز نہ پہنچنے کے سبب وہ سلام پر نماز کے اختتام کو نہ پہچانتے ہوں گے بلکہ جب مقتدی بآواز بلند تکبیر کہتے ہوں گے تو وہ یہ جان لیتے ہوں گے کہ نماز ختم ہوگئی ہے۔ وا اللہ اعلم۔

926Mishkaat-al-Masabih

فرض کے بعد رسول اللہ ﷺ کے بیٹھنے کی مقدار

وَعَنْ عَآئِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا سَلَّمَ لَمْ ےَقْعُدْ اِلَّا مِقْدَارَ مَا ےَقُوْلُ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ ےَا ذَالْجَلاَلِ وَالْاِکْرَامِ۔ (صحیح مسلم)

اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رحمت عالم ﷺ جب (فرض نماز کا) سلام پھیر لیتے تھے تو صرف اس دعا کے بقدر بیٹھتے تھے اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یاذای الجلال والاکرام۔ (رواہ صحیح مسلم) اے اللہ! تو سالم ہے (یعنی تمام عیوب سے پاک ہے) اور تجھی سے (بندوں کی تمام آفات سے) سلامتی ہے۔ اے بزرگی و بخشش والے تو برتر ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جن فرض نمازوں کے بعد سنتیں پڑھی جاتی ہیں ان کے سلام کے بعد رسول اللہ ﷺ صرف اسی قدر بیٹھتے تھے کہ یہ دعا پڑھ لیں۔ لیکن جن فرض نمازوں کے بعد سنتیں نہیں ہیں۔ جیسے فجر، عصر، ان کے سلام پھیرنے کے بعد آپ ﷺ کا اس سے زیادہ بیٹھنا بھی ثابت ہے، چناچہ اسی بناء پر علماء کرام لکھتے ہیں کہ ان نمازوں کے بعد طلوع آفتاب و غروب آفتاب تک ذکر میں مشغول رہنا مستحب ہے۔ سلام کے بعد نہ بیٹھنے کی ایک توجیہ یہ بھی کی گئی ہے کہ آپ ﷺ ہیت نماز میں صرف اتنی ہی دیر تک بیٹھے رہتے کہ یہ دعا پڑھ لیں یا یہ کہ آپ اکثر و بیشتر صرف اسی قدر بیٹھتے تھے۔ یہاں جو دعا ذکر کی گئی ہے اس میں یہ الفاظ بھی پڑھے جاتے ہیں والیک یرجع السلام فحینا ربنا بالسلام وادخلنا دار السلام حالانکہ یہ الفاظ احادیث سے ثابت نہیں ہیں بلکہ بعد میں ان الفاظ کا اضافہ کیا گیا ہے۔

927Mishkaat-al-Masabih

فرض کے بعد رسول اللہ ﷺ کے بیٹھنے کی مقدار

وَعَنْ ثَوْبَانَص قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلٰوتِہِ اسْتَغْفَرَ ثَلٰثًا وَّقَالَ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ تَبَارَکْتَ ےَا ذَاالْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت ثوبان ؓ فرماتے ہیں کہ رحمت عالم ﷺ جو اپنی نماز سے فارغ ہو لیتے تو (پہلے) تین مرتبہ استغفار کرتے اور (پھر) یہ دعا پڑھتے اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذا الجلال والاکرام۔ (صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ جب آپ ﷺ سلام پھیر لیتے تھے تو پہلے تین مرتبہ استغفار کرتے یعنی استغفر اللہ تین مرتبہ کہتے اس کے بعد مذکورہ بالا دعا پڑھتے۔ بعض روایتوں میں مذکور ہے کہ آپ ﷺ استغفار کے لئے تین مرتبہ اس طرح کہتے تھے استغفر اللہ الذی لا الہ الا ھو الحی القیوم واتوب الیہ۔

928Mishkaat-al-Masabih

فرض نماز کے بعد کی دعا

وَعَنِ الْمُغِےْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ص اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ ےَقُوْلُ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلٰوۃٍ مَّکْتُوْبَۃٍ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِےْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَےْئٍی قَدِےْرٌ اَللّٰھُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا اَعْطَےْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا ےَنْفَعُ ذَالْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت مغیرہ ابن شعبہ ؓ فرماتے ہیں کہ رحمت عالم ﷺ فرض نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شییء قدیر اللھم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ کہتا ہے کوئی اس کا شریک نہیں، اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اسی کے لئے ہر قسم کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ! جو چیز تو نے عطا کی ہے اس کو کوئی روکنے والا نہیں۔ اور جس چیز کو تو نے روک دیا ہے اس کو کوئی دینے والا نہیں ہے اور دولت مند کو اس کی دولت تیرے عذاب سے بچانے والی نہیں ہے۔ (صحیح البخاری، صحیح مسلم) تشریح رسول اللہ ﷺ یہ دعا اور دیگر دعائیں و کلمات اذکار جو مختلف احادیث میں مذکور ہیں نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے علماء کرام لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بعض اوقات تو سلام پھیرنے کے بعد بغیر کچھ پڑھے ہوئے کھڑے ہوتے تھے اور بعض اوقات مذکور دعا و اذکار میں سے کچھ یا سب پڑھا کرتے تھے۔ چونکہ احادیث سے نماز کے بعد پڑھنے کے لئے مختلف دعائیں ثابت ہیں اس لئے بعض علماء نے ان کے پڑھنے کی ترتیب اس طرح قائم کی ہے کہ اول تو استغفار کیا جائے اس کے بعد اللہم انت السلام آخر تک پڑھا جائے پھر اس کے بعد لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، آخر تک پڑھا جائے۔ ان دعاؤں کے علاوہ اور بہت سی دعائیں بھی احادیث میں مذکور ہیں جن کے بارے میں ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ انہیں نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے۔ اتنی بات اور سمجھ لیجئے کہ بعد سے یہ مراد نہیں کہ یہ دعائیں فرض نماز کے بعد متصلاً ہی پڑھنی چاہئیں بلکہ اگر سنتوں کے بعد بھی یہ دعائیں پڑھی جائیں گی تو نماز کے بعد پڑھنا ہی کہلائے گا۔

929Mishkaat-al-Masabih

فرض نماز کے بعد کی دعا

وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَےْرِ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا سَلَّمَ مِنْ صَلٰوتِہٖ ےَقُوْلُ بِصَوْتِہِ الْاَعْلٰی لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِےْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَےْیءٍ قَدِےْرٌ لَّا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَلَا نَعْبُدُ اِلَّا اِےَّاہُ لَہُ النِّعْمَۃُ وَلَہُ الْفَضْلُ وَلَہُ الثَّنَآءُ الْحَسَنُ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُخْلِصِےْنَ لَہُ الدِّےْنَ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت عبدا اللہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ رحمت عالم ﷺ جب اپنی نماز سے سلام پھیرتے تھے تو (سلام کے بعد) بلند آواز سے یہ کلمات پڑھا کرتے تھے لَآ اِلٰہ اِلَّا اللّٰہ وحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہ لَہ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیئ قَدِیر لَّا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ لَا اِلٰہ اِلَّا اللّٰہ وَلَا نَعْبُدُ اِلَّا اِیاہُ لَہ النِّعْمَۃُ وَلَہ الْفَضْلُ وَلَہ الثَّنَآءُ الْحَسَنُ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ مُخْلِصِینَ لَہ الدِّینَ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے کوئی اس کا شریک نہیں، اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اسی کے لئے ہر قسم کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، گناہوں سے باز رہنے اور عبادت کرنے کی قوت صرف اللہ ہی کی مدد سے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں، اللہ ہی کے لئے اس کی بندگی کو خالص کرنے والے ہیں اگرچہ کافر اسے برا سمجھیں۔ (صحیح مسلم) تشریح علماء لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کلمات دعائیہ کو بھی تعلیم امت کے پیش نظر بلند آواز سے پڑھا کرتے تھے۔ امام نووی (رح) نے کتاب مہذب میں لکھا ہے کہ اس دعا کو اور اس کے علاوہ دیگر دعاؤں کو آہستہ آواز سے پڑھنا افضل ہے خواہ امام ہو یا منفرد، ہاں اگر اس بات کی ضرورت ہو کہ کوئی دعا کسی کو سکھانا ہے تو اس کو بلند آواز سے پڑھ لینا چاہئے، چناچہ اس دعا کو رسول اللہ ﷺ کے بلند آواز سے پڑھنے کو اسی پر محمول کیا گیا ہے کہ چونکہ آپ ﷺ کا مقصد، صحابہ کرام کو یہ دعا سکھانا تھا اس لئے آپ ﷺ بلند آواز سے پڑھتے تھے اور جب لوگوں کو دعا یاد ہوگئی تو اسے آہستہ آواز سے پڑھنا ہی افضل ہوا۔

930Mishkaat-al-Masabih

نماز کے بعد کن چیزوں سے پناہ مانگنی چاہئے

وَعَنْ سَعْدٍص اَنَّہُ کَانَ ےُعَلِّمُ بَنِےْہِ ھٰؤُلَاءِ الْکَلِمٰتِ وَےَقُوْلُ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ ےَتَعَوَّذُ بِھِنَّ دُبُرَ الصَّلٰوۃِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ الْبُخْلِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ اَرْذَلِ الْعُمُرِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْےَا وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔ (صحیح البخاری)

اور حضرت سعد ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ اپنی اولاد کو کلمات دعائیہ کے یہ الفاظ سکھاتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ رحمت عالم ﷺ اپنی نماز کے بعد انہیں الفاظ کے ذریعے پناہ مانگا کرتے تھے۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ الْبُخْلِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ اَرْذَلِ الْعُمُرِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْیا و عَذَابِ الْقَبْرِ (رواہ البخاری) تشریح یہاں جبن سے مراد طاعت کی جرات نہ کرنا ہے اور بخل سے مراد یہ ہے کہ کسی غیر کو مال علم اور خیر خواہی سے فائد نہ پہنچایا جائے۔ ناکارہ عمر کا مطلب یہ ہے کہ انسان زندگی کے اس اسٹیج پر پہنچ جائے جہاں عقل میں خلل آجاتا ہے اعضا ضعیف ہوجاتے ہیں طاقت و قوت یکسر جواب دے دیتی ہے اور ایسا آدمی بالکل اپاہج و معذور ہو کر دین و دنیا کے کاموں کے لئے ناکارہ بن جاتا ہے۔ اسی عمر سے پناہ مانگنی چاہیے۔ کیونکہ انسانی زندگی کا حاصل اور مقصود تو صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہا جائے اس کی نعمتوں کا اچھی طرح شکر ادا کیا جاتا رہے اور ظاہر کہ اسی ناکارہ عمر میں کوئی آدمی نہ پوری طرح عبادت کرسکتا ہے اور نہ اداء شکر میں مشغول رہ سکتا ہے۔ اس طرح زندگی اور عمر کا جو اصل مقصد ہے وہ فوت ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس ناکارہ زندگی سے بچائے

931Mishkaat-al-Masabih

نماز کے بعد کی تسبیح اور اس کی فضیلت

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ اِنَّ فُقَرَآءَ الْمُھَاجِرِےْنَ اَتَوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالُوْا قَدْ ذَھَبَ اَھْلُ الدُّثُوْرِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلٰی وَالنَّعِےْمِ الْمُقِےْمِ فَقَالَ وَمَا ذَاکَ قَالُوْا ےُصَلُّوْنَ کَمَا نُصَلِّیْ وَےَصُوْمُوْنَ کَمَا نَصُوْمُ وَےَتَصَدَّقُوْنَ وَلَا نَتَصَدَّقُ وَےُعْتِقُوْنَ وَلَا نُعْتِقُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلماَفَلَا اُعَلِّمُکُمْ شَےْئًا تُدْرِکُوْنَ بِہٖ مَنْ سَبَقَکُمْ وَتَسْبِقُوْنَ بِہٖ مَنْ بَعْدَکُمْ وَلَا ےَکُوْنُ اَحَدٌ اَفْضَلَ مِنْکُمْ اِلَّا مَنْ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُمْ قَالُوْا بَلٰی ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ تُسَبِّحُوْنَ وَتُکَبِّرُوْنَ وَتَحْمَدُوْنَ دُبُرَ کُلِّ صَلٰوۃٍ ثَلٰثًا وَّثَلَثِےْنَ مَرَّۃً قَالَ اَبُوْ صَالِحٍ فَرَجَعَ فُقَرَآءُ الْمُھَاجِرِےْنَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالُوْا سَمِعَ اِخْوَانُنَا اَھْلُ الْاَمْوَالِ بِمَا فَعَلْنَا فَفَعَلُوْا مِثْلَہُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ذَالِکَ فَضْلُ اللّٰہِ ےُؤْتِےْہِ مَنْ ےَّشَآءُ مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ وَلَےْسَ قُوْلُ اَبِیْ صَالِحٍ اِلٰی اٰخِرِہٖ اِلَّا عِنْدَ مُسْلِمٍ وَفِیْ رِوَاےَۃٍ لِلْبُخَارِیِّ تُسَبِّحُوْنَ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلٰوۃٍ عَشْرًا وَّتَحْمَدُوْنَ عَشْرًا بَدَلَ ثَلٰثًا وَّثَلٰثِےْنَ۔

اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک دن فقراء مہاجرین رحمت عالم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! دولت مند لوگ بلند درجات (یعنی ثواب، قرب الہٰی اور رضائے حق) اور دائمی نعمت) یعنی بہشت کی نعمت کو حاصل کرنے میں ہم سے سبقت) لے گئے (یعنی وہ اپنے مال و دولت کی وجہ سے بڑا ثواب حاصل کرتے ہیں اور بہشت کی نعمتوں کے مستحق ہوتے ہیں اور ہم تو اپنی غربت و افلاس کی وجہ سے بلندی درجات میں ان سے پیچھے رہ جاتے ہیں) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ کیسے؟ انہوں نے عرض کیا وہ اسی طرح نماز پڑھتے ہیں جس طرح ہم پڑھتے ہیں اور وہ اسی طرح روزہ رکھتے ہیں جس طرح ہم رکھتے ہیں (ان اعمال میں تو وہ اور ہم برابر ہیں لیکن مال و زر کی وجہ سے) وہ صدقہ و خیرات کرتے ہیں اور) غربت و افلاس کی وجہ سے) ہم صدقہ و خیرات کر نہیں سکتے، وہ غلام آزاد کرتے ہیں ہم غلام آزاد نہیں کرسکتے) (اس طرح وہ ان اعمال کے ثواب کے حق دار ہوجاتے ہیں اور ہم محروم رہتے ہیں (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تم لوگوں کو ایسی بات نہ بتادوں کہ اس پر عمل کر کے تم ان لوگوں کے درجات کو پہنچ جاؤ جو تم سے پہلے اسلام لا چکے ہیں اور ان لوگوں کے مرتبے سے بڑھ جاؤ جو تمہارے بعد کے ہیں (یعنی تمہارے بعد اسلام لائے ہیں یا تمہارے بعد پیدا ہوں گے) اور (مال دار لوگوں میں سے) کوئی آدمی تم سے بہتر نہ ہوگا بجز اس آدمی کے جو تم ہی جیسا عمل کرے (یعنی اگر مالدار لوگوں نے میری بتائی ہوئی بات پر تمہاری طرح علم کیا تو پھر مرتبہ کے اعتبار سے وہی تم سے بہتر ہوں گے) فقراء نے عرض کیا یا رسول اللہ! بہتر ہے، فرمائیے (وہ کیا بات ہے؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا تم لوگ ہر نماز کے بعد سبحان اللہ اللہ اکبر اور الحمد للہ تینتیس مرتبہ پڑھ لیا کرو۔ (حدیث کے ایک راوی) ابوصالح فرماتے ہیں کہ (کچھ دنوں کے بعد) فقراء مہاجرین (پھر) رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! ہمارے دولت مند بھائیوں نے ہمارے عمل کا حال سنا اور وہ بھی وہی کرنے لگے جو ہم کرتے ہیں (اس طرح پھر وہی لوگ ہم سے افضل ہوئے) آپ ﷺ نے فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے وہ جس کو چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) اور روایت کے آخری الفاظ جو ابوصالح کا قول ہے صرف صحیح مسلم ہی نے نقل کئے ہیں نیز صحیح البخاری کی ایک روایت میں تینتیس مرتبہ پڑھنے کے بجائے یہ ہے کہ ہر نماز کے بعد دس دس مرتبہ سبحان اللہ، الحمد اللہ اور اللہ اکبر پڑھ لیا کرو۔ تشریح پہلی روایت میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ ہر نماز کے بعد سبحان اللہ، اللہ اکبر اور الحمد اللہ تینتیس مرتبہ پڑھو تو اس میں دو احتمال ہیں اول تو یہ کہ ان تینوں کلمات کو مجموعی طور پر تینتیس تینتیس مرتبہ پڑھا جائے چناچہ مشائخ کا عمل اسی پر ہے اور یہی افضل بھی اور یہ کہ اس کی صراحت بھی بعض روایات میں تو موجود ہے۔ دوم یہ کہ ان تینوں کلمات کو ملا کر تینتیس مرتبہ پڑھا جائے، اس طرح ان میں سے ہر ایک کو بھی تینتینس مرتبہ پڑھنا ہوجائے گا۔ شکر کرنے والا امیر صبر کرنے والے غریب سے افضل ہے حدیث کے آخری لفظ ذلک فضل اللہ الخ ( اس دارالفناء میں جنتے ازم پیدا ہوئے وہ فانی ہیں صحیح اور باقی رہنے والی بات یہی ہے کہ انسانی جدوجہد اور تدابیر تقدیر الہٰی سے پابستہ زنجیر ہیں) کا مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ نے دولت مند لوگوں کو تم پر فضیلت دی ہے تو یہ محض اس کا فضل و کرم ہے کہ وہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل و کرم سے نواز کر اس کے قدموں میں مال و دولت کے ڈھیر ڈال دیتا ہے لہٰذا تمہیں چاہیے کہ اس معاملے میں صبر کا دامن پکڑے رہو اور تقدیر الہٰی پر راضی رہو کہ اس نے بعض بندوں کو بعض بندوں پر فضیلت و بزرگی عطا فرما دی ہے۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ شکر کرنے والا دولت مند صبر کرنے والے غریب سے افضل ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی اتنی بات بھی ہے کہ دولت مند اپنے مال و دولت کے معاملے میں مختلف قسم کے گناہ کے خوف سے خالی نہیں ہوتا جب کہ فقیر و غریب ان گناہوں کے خوف سے جو مال و دولت کی بناء پر صادر ہوتے ہیں امن میں رہتا ہے۔ امام غزالی (رح) احیاء العلوم میں فرماتے ہیں کہ علماء کرام نے اس مسئلے میں اختلاف کیا ہے چناچہ حضرت جنید بغدادی (رح) اور دیگر اکثر اہل اللہ فضیلت فقر کے قائل ہیں اور ابن عطاء کا قول ہے کہ شاکر دولت مند جو دولت کا حق ادا کرتا ہو صابر غریب سے افضل ہے۔

932Mishkaat-al-Masabih

نماز کے بعد کی تسبیح اور اس کی فضیلت

وَعَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مُعَقِّبَاتٌ لَا ےَخِےْبُ قَآئِلُھُنَّ اَوْ فَاعِلُھُنَّ دُبُرَ کُلِّ صَلٰوۃٍ مَّکْتُوْبَۃٍ ثَلٰثٌ وَّثَلٰثُوْنَ تَسْبِےْحَۃً وَّثَلٰثٌ وَّثَلٰثُوْنَ تَحْمِےْدَۃً وَّاَرْبَعٌ وَّثَلٰثُوْنَ تَکْبِےْرَۃً۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت ابن عجرۃ (رح) فرماتے ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا ہر فرض نماز کے بعد پڑھنے کے چند کلمات ہیں جن کو کہنے والا، یا فرمایا کہ کرنے والا (حصول ثواب سے) محروم نہیں رہ سکتا (اور وہ کلمات یہ ہیں) سبحان اللہ تینتیس بار، الحمد اللہ تیتنیس اور اللہ اکبر چونتیس بار کہنا۔ (صحیح مسلم)

933Mishkaat-al-Masabih

نماز کے بعد کی تسبیح اور اس کی فضیلت

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ صقَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ سَبَّحَ اللّٰہَ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلٰوۃٍ ثَلٰثاً وَّثَلٰثِےْنَ وَحَمِدَاللّٰہَ ثَلٰثاً وَّثَلٰثِےْنَ وَکَبَّرَ اللّٰہَ ثَلٰثاً وَّثَلٰثِےْنَ فَتِلْکَ تِسْعَۃٌ وَّتِسْعُوْنَ وَقَالَ تَمَامَ الْمِائَۃِ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِےْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیءٍ قَدِےْرٌ غُفِرَتْ خَطَاےَاہُ وَاِنْ کَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی ہر نماز کے بعد سبحان اللہ تینتیس مرتبہ، الحمد اللہ تینتیس مرتبہ اللہ اکبر تینتیس مرتبہ کہے جن کا مجموعی عدد ننانوے ہو اور سو کے عدد کو پورا کرنے کے لئے ایک مرتبہ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شییء قدیر کہے تو اس کے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر (یعنی بہت زیادہ) ہوں۔ (صحیح مسلم) تشریح بعض روایات میں ولہ الحمد کے بعد یحی و یمیت اور بعض میں بیدہ الخیر کے الفاظ بھی منقول ہیں، مذکورہ بالا کلمات جو نماز کے بعد پڑھے جاتے ہیں ان کے مختلف عدد منقول ہیں چونکہ رسول اللہ ﷺ خود بھی انہیں مختلف عدد کے ساتھ پڑھتے تھے اس لئے ان کلمات کو احادیث میں مذکور اعداد میں سے جس عدد کے ساتھ بھی پڑھا جائے گا۔ اصل سنت ادا ہوجائے گی۔ حافظ زین عراقی فرماتے ہیں کہ مذکورہ تمام اعداد بہتر ہیں اور جو عدد سب سے بڑا ہے وہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ ان تسبیحات کے ورد کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ثابت ہے کہ آپ ﷺ انہیں دائیں ہاتھ کی انگلیوں پر پڑھتے تھے اور یہ بھی منقول ہے کہ آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے فرمایا کہ انہیں انگلیوں پر شمار کرو کیونکہ قیامت کے روز انگلیوں سے (بندے کے اعمال کے سلسلہ میں) سوال کیا جائے گا اور (جواب کے لئے) انہیں گویائی کی قوت دی جائے گی۔ صحابہ کرام کے بارے میں منقول ہے کہ وہ انہیں کھجور کی گٹھلیوں پر پڑھتے تھے۔ بہر حال ان تسبیحات کو انگلیوں پر پڑھنا ہی افضل ہے اور گٹھلیوں وغیرہ پر پڑھنا بھی جائز ہے۔

934Mishkaat-al-Masabih

قبولیت دعا کا وقت

وَعَنْ اَبِی اَمَامَۃَ قَالَ قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ اَیُّ الدُّعَاءِ اَسْمَعُ جَوْفَ اللَّیْل الْاٰخِرِوَ دُبُرَ الصَّلَوَاتِ الْمَکْتُوْبَاتِ ۔ (رواہ الترمذی)

حضرت ابوامامہ ؓ فرماتے ہیں کہ عرض کیا گیا یا رسول اللہ کسی وقت دعا بہت زیادہ قبول ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا رات کے آخری حصے میں (یعنی سحر کے وقت) اور فرض نمازوں کے بعد۔ (جامع ترمذی )

935Mishkaat-al-Masabih

ہر نماز کے بعد معوذات پڑھنے کا حکم

وَعَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ اَمَرَنِی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ اَقْرَأَ بِالْمُعَوِّذَاتِ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ۔ (رواہ احمد بن حنبل و ابوداؤد و النسائی و البیہقی فی الدعوات الکبیر)

اور حضرت عقبہ ابن عامر ؓ فرماتے ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں ہر نماز کے بعد معوذات پڑھوں۔ (مسند احمد بن حنبل و سنن ابوداؤد، سنن نسائی، بیہقی) تشریح معوذات قرآن کی ان سورتوں کو کہتے ہیں جن کی ابتداء میں اعوذ کا لفظ ہے یعنی قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس یہاں ان دونوں سورتوں کے لئے معوذات جمع کا صیغہ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ اقل جمع دو ہیں اور بعض علماء نے کہا ہے کہ قل ھو اللہ اور قل یا ایھا الکافرون بھی معوذات میں تغلیبًا داخل ہیں یعنی قل اعوذ برب الناس کو امتیاز دے کر سب کو معوذات سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اگرچہ ان دونوں سورتوں کی ابتداء میں اعوذ کا لفظ نہیں ہے۔ گویا اس قول کے مطابق آپ نے چار سورتوں یعنی قل اعوذ برب الفلق، قل اعوذ برب الناس، قل ھو اللہ اور قل یا یھا الکافرون کے پڑھنے کا حکم دیا تھا۔

936Mishkaat-al-Masabih

طلوع و غروب آفتاب تک ذکر میں مشغول رہنے کی فضلیت

وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَاَنْ اَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ یَذْکُرُوْنَ اﷲَ مِنْ صَلَاۃِ الْغَدَاۃِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ اُعْتِقَ اَرْبَعَۃً مِنْ وُلْدِاِسْمَاعِیْلَ وَلَاَنْ اَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ یَذْکُرُوْنَ اﷲَ مِنْ صَلَاۃِ الْعَصْرِ اِلٰی اَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ اُعْتِقَ اَرْبَعَۃً۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا کہ ایک ایسی جماعت کے ساتھ میرا بیٹھنا جو نماز فجر سے طلوع آفتاب تک اللہ کے ذکر میں مشغول ہو میرے نزدیک حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے چار غلام آزاد کرنے سے بہتر ہے اور عصر کی نماز کے بعد سے غروب آفتاب تک ایسے لوگوں میں میرا بیٹھنا جو اللہ کے ذکر میں مشغول ہوں میرے نزدیک اس سے بہتر ہے کہ میں چار غلام آزاد کروں۔ (سنن ابوداؤد) تشریح بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے آخری الفاظ میں بھی چار غلام سے مراد حضرات اسمعیل کی اولاد سے چار غلام ہوں اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہاں چار غلام مطلق مراد ہوں۔ حضرت اسمعیل کی اولاد کی تخصیص آپ ﷺ نے اس لئے کہ وہ افضل عرب ہیں اور خود رسول اللہ ﷺ ان کی اولاد میں سے ہیں۔

937Mishkaat-al-Masabih

طلوع و غروب آفتاب تک ذکر میں مشغول رہنے کی فضلیت

وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّی الْفَجْرَ فِیْ جَمَاعَۃٍ ثُمَّ قَعَدَ یَذْکُرُ اﷲَ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ کَانَتْ لَہُ کَاَجْرِ حَجَّۃٍ وَعُمْرَۃٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَامَّۃٍ تَامَّۃٍ تَامَّۃٍ۔ (رواہ الجامع ترمذی)

اور حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا جو آدمی فجر کی نماز جماعت سے پڑھے اور طلوع آفتاب تک اللہ کی یاد میں مشغول رہے اور پھر دو رکعت نماز پڑھے تو اسے حج و عمرے کی مانند ثواب ملے گا راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پورے حج و عمرے کا پورے حج و عمرے کا پورے حج و عمرے کا ثواب اسے ملے گا۔ (جامع ترمذی ) تشریح مطلب یہ ہے کہ جو آدمی فجر کی نماز جماعت سے پڑھ کر اسی مسجد میں اور اسی مصلی پر طلوع آفتاب تک ذکر الٰہی میں مسلسل مشغول رہے اور پھر اس کے بعد دو رکعت نماز نفل پڑھے تو اسے اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا کہ ایک پورے حج و عمرے کا ثواب ملتا ہے اور اگر کوئی آدمی حالت ذکر میں طواف کے لئے یا طلب علم کے لئے اور یا مسجد ہی میں مجلس و عظ میں جانے کے لئے مصلے سے اٹھایا اسی طرح کوئی آدمی وہاں سے اٹھ کر اپنے گھر چلا آئے مگر ذکر الٰہی میں برابر مشغول بھی رہے تو اسے بھی مذکورہ ثواب ملے گا۔ ذکر سے فارغ ہو کر طلوع آفتاب کے بعد دو رکعت نماز سورج کے ایک نیزے کے بقدر بلند ہوجانے کے بعد پڑھنی چاہئے تاکہ وقت کراہت ختم ہوجائے اس نماز کو نماز اشراق کہتے ہیں اور اکثر احادیث میں اس کا نام صلوۃ الضحٰی بھی منقول ہے اور بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں نمازیں ایک ہی ہیں جن کے الگ الگ یہ دو نام ہیں۔ اس کا ابتدائی وقت آفتاب کے بلند ہوجانے کے بعد شروع ہوجاتا ہے اور انتہائی وقت سورج ڈھلنے سے پہلے پہلے ہے۔ ابتدائی وقت بھی پڑھی جانے والی نماز کو نماز اشراق کہتے ہیں اور انتہائی وقت میں پڑھی جانے والی نماز نماز چاشت کے نام سے تعبیر کی جاتی ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ ایسے آدمی کو حج و عمرے دونوں کا ثواب فرض نماز کو جماعت کے ساتھ ادا کرنے کی بناء پر ملتا ہے اور عمرے کا ثواب نفل نماز (یعنی نماز اشراق) پڑھنے کی وجہ سے ملتا ہے۔

938Mishkaat-al-Masabih

دو نمازوں کے درمیان وقفہ کرنا چاہیے

وَعَنِ الْاَزْرِقِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ صَلَّے بِنَا اِمَامٌ لَنَا یُکْنٰی اَبَارِمْثَۃَ قَالَ صَلَّیْتُ ھٰذِہِ الصَّلَاۃَ اَوْ مِثْلَ ھْذِہٖ الصَّلَاۃِ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ وَکَانَ اَبُوْبَکْرٍ وَ عُمَرُ رَضِیَ اﷲُ عَنْھُمَا یَقُوْمَانِ فِی الصَّفِّ الْمُقَدَّم عَنْ یمِیْنِہٖ وَکَانَ رَجُلٌ قَدْ شَھِدَ التَّکْبِیْرَۃَ الْاُوْلٰی مِنَ الصَّلَاۃِ فَصَلَّی نَبِیُّ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ یَمِیْنِہٖ وَعَنْ یَسَارِہٖ حَتّٰی رَاَیْنَا بَیَاضَ خَدَّیْہٖ ثُمَّ انْفَتَلَ کَاِنْفِتَالِ اِبٖی رِمْثَۃَ یَعْنِی نَفْسَہُ فَقَامَ الرَّجُلُ الَّذِیْ اَدْرَکَ مَعَہُ التَّکْبِیْرَۃَ الْاُوْلٰی مِنَ الصَّلَاۃِ یَشْفَعُ فَوَثَبَ عُمَرُ فَاَخَذَ بِمَنْکِبَیْہِ فَھَزَّہ، ثُمَّ قَالَ اِجْلِسِ فَاِنَّہُ لَنْ یَھْلِکَ اَھْلُ الْکِتَابِ اِلَّا اَنَّہُ لَمْ یَکُنْ بَیْنَ صَلَاتِھِمْ فَصْلٌ فَرَفَعَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم بَصَرَہُ فَقَالَ اَصَابَ اﷲُ بِکَ یَا ابْنَ الْخَطَّابِ۔ (رواہ ابودا ؤد)

اور حضرت ازرق ابن قیس ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) ہمارے امام نے کہ جن کی کنیت ابورمثہ تھی ہمیں نماز پڑھائی اور (نماز کے بعد) انہوں نے فرمایا کہ میں نے (ایک روز) یہ نماز یا اس کی مانند نماز رحمت عالم ﷺ کے ہمراہ پڑھی، حضرت ابورمثہ کہتے تھے کہ (اس نماز میں) حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر ؓ ( بھی) رسول اللہ ﷺ کی دائیں طرف پہلی صف میں کھڑے تھے، ایک آدمی (پیچھے سے آکر) نماز کی تکبیر اولی میں شریک ہوا، رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی اور سلام ( کے وقت آپ ﷺ نے اپنے چہرہ مبارک کو اتنا) پھیرا کہ ہم نے آپ ﷺ کے مبارک رخساروں کی سفیدی دیکھ لی، پھر آپ ﷺ ابورمثہ کی یعنی میری طرف پھر کر بیٹھ گئے وہ آدمی جو تکبیر اولی میں شریک تھا کھڑا ہوگیا اور دو رکعت نماز پڑھنے لگا، حضرت عمر ؓ (یہ دیکھ کر) فورًا اٹھے اور اس آدمی کے دونوں کندھے پکڑ کر ہلائے اور فرمایا کہ بیٹھ جاؤ! کیونکہ اہل کتاب (یعنی یہو و نصاری) اسی لئے ہلاکت کی وادی میں جاگرے کہ اپنی نمازوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے تھے، (حضرت عمر ؓ کی یہ بات سن کر) رسول اللہ ﷺ نے نظر مبارک اوپر اٹھائی اور فرمایا کہ اے خطاب کے بیٹے! اللہ نے تمہیں راہ حق پر پہنچایا (یعنی تم نے سچ کہا)۔ (ابوداؤد) تشریح ابتداء حدیث میں حضرت ابورمثہ نے اپنے قول یہ نماز سے اس نماز کی طرف اشارہ کیا تھا جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ پڑھی تھی اور وہ ظہر یا عصر کی نماز تھی۔ الفاظ او مثل ھذہ الصلوۃ (یا اس کی مانند نماز) میں حرف اور اوی کے شک کو ظاہر کر رہا ہے، یعنی اس روایت کے راوی کو شک ہے کہ حضرت ابورمثہ نے ہذہ الصلوٰۃ فرمایا تھا یا مثل ہذہ الصلوۃ۔ فرمایا گیا ہے کہ ایک آدمی (پیچھے سے آکر) نماز کی تکبیر اولی میں شریک ہوا یہاں تکبیر اولی کی قید اس مقصد کے تحت لگائی گئی ہے تاکہ یہ ظاہر ہوجائے کہ وہ آدمی مسبوق نہیں تھا کہ اپنی بقیہ نماز پوری کرنے کے لئے سلام کے بعد اٹھا ہو بلکہ وہ جماعت کے ساتھ پہلی ہی رکعت میں شامل ہوگیا تھا اور وہ سلام کے بعد سنت مؤ کدہ پڑھنے کے لئے اٹھ گیا تھا۔ فرق سے مراد یا تو سلام پھیر نے کے ساتھ فرق کرنا ہے یا جگہ بدل کر فرق کرنا مراد ہے جیسا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی ایک حدیث میں منقول ہے کہ تم میں سے جو آدمی نماز اداء کرتا ہے اسے کیا دشواری ہے کہ وہ آگے بڑھ جائے یا پیچھے ہٹ جائے یا دائیں طرف ہٹ کر کھڑا ہوجائے (یعنی ایک نماز پڑھ کر دوسری نماز پڑھنے کے لئے پہلی جگہ سے ہٹ جانا چاہئے) یا گفتگو کرنے اور مسجد سے نکلنے کے ساتھ فرق کرنا مراد ہے جیسا کہ مسلم کی ایک روایت میں حضرت سائب سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا ہمیں سرکار دو عالم ﷺ نے حکم فرمایا تھا کہ ہم (دو نمازوں کے درمیان وصل نہ کریں تا وقتیکہ کوئی گفتگو کریں یا باہر نکلیں اور اس طرح دونوں نمازوں کے درمیان وقفہ کریں۔ اس حدیث کو مصنف کتاب نے اس باب یعنی باب الذکر بعد الصلوٰۃ میں ذکر کر کے اس طرف اشارہ کردیا ہے کہ فرق سے مراد نماز فرض ہے کے بعد ذکر کا ترک کرنا ہے یعنی فرض نماز کے بعد چاہے کہ ذکر کیا جائے جو کہ (اس موقع کے لئے دعاؤں کی شکل میں) احادیث میں مذکور ہے۔ اس کے بعد اٹھ کر سنتیں پڑھی جائیں۔ نیز یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز فرض کے ساتھ نفل کو ملانا نہیں چاہیے یعنی دونوں نمازوں کے درمیان اتنا توقف کرنا چاہئے کہ دونوں میں کوئی اشتباہ نہ ہو۔

939Mishkaat-al-Masabih

نماز کے بعد کی تسبیح

وَعَنْ زَیْدِ ابْنِ ثَابِتٍ قَالَ اُمِرْنَا اَنْ نُسَبِّحَ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ ثَلَاثًا وَّثَلَاثِیْنَ وَ نَحْمَدَ ثلَاثًا وَّثلَاثِیْنَ وَنَُکَبِّرَ اَرْبَعًا وَّثلَاَثِیْنَ فَاُتِیَ رَجُلٌ فِی الْمَنَامِ مِنَ الْاَنْصَارِ فَقِیْل لَہُ اَمَرَکُمْ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ تُسَبِّحُوْا فِیْ دُبُرِکُلِّ صَلَاۃٍ کَذَا وَکَذَا قَالَ الْاَنْصَارِیُّ فِی مَنَامِہٖ نَعَمْ قَالَ فَاجْعَلُوْھَا خَمْسًا وَعِشْرِیْنَ وَاجْعَلُوْا فِیْھَا التَّھْلَیْلَ فَلَمَّا اَصْبَحَ غَدًا عَلٰی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَأَخْبَرَہُ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَافْعَلُوْا۔( رواہ احمد بن حنبل والنسائی والدارمی)

اور حضرت زید ابن ثابت ؓ فرماتے ہیں کہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم ہر نماز کے بعد سبحان اللہ تینتیس مرتبہ الحمد اللہ تینتیس مرتبہ اللہ اکبر چونتیس مرتبہ کہیں (حضرت زید فرماتے ہیں کہ ایک دن) ایک انصاری نے ایک فرشتہ خواب میں دیکھا فرشتے نے اس نصاری سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم ہر نماز کے بعد اتنی تسبیح پڑھو؟ اس انصاری نے کہا کہ ہاں! فرشتے نے کہا کہ ان تینوں کلمات (کے پڑھنے) کی تعداد پچیس مقرر کرو اور اس کے ساتھ لا الہ الا اللہ بھی پچیس مرتبہ مقرر کرلو (تاکہ سو کا عدد پورا ہوجائے) جب صبح ہوئی تو انصاری رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے خواب سے آگاہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس پر عمل کرو۔ (مسند احمد بن حنبل، سنن نسائی، دارمی) تشریح رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد اس پر عمل کرو کی مراد غالباً یہ ہوگی کہ جس طرح تمہیں تسبیح پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے اس طرح بھی پڑھو اور جس طرح فرشتہ نے خواب میں بتایا ہے اس طرح بھی پڑھ لیا کرو اور یہ بھی چونکہ ذکر کا ایک طریقہ ہے اس لئے رسول اللہ ﷺ نے اس کی توثیق فرما دی، اگر رسول اللہ ﷺ تقریر یعنی توثیق نہ فرماتے تو محض خواب اس سلسلے میں حجت نہ ہوتا۔

940Mishkaat-al-Masabih

آیۃ الکرسی کی فضیلت

وَعَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اﷲُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم عَلٰی اَعْوَادِ ھٰذَا الْمِنْبَرِ یَقُوْلُ مَنْ قَرَأَ اٰیَۃَ الْکُرْسِیِّ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلَاۃٍ لَمْ یَمْنَعْہُ مِنْ دُخُوْلِ الْجَنَّۃِ اِلَّا الْمَوْتُ وَمَنْ قَرَأَھَا حِیْنَ یَأْخُذُ مَضْجَعَہُ اٰمَنَہُ اﷲُ عَلٰی دَارِہٖ وَدارِ جَارِہٖ وَاَھْلِ دُوَیْرَاتٍ حَوْلَہ، رَوَاہُ الْبَیْھَقِیُّ فِیْ شُعَبِ الْاِیْمَانِ وَقَالَ اِسْنَادُہُ ضَعِیْفٌ۔

اور امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ میں نے رحمت عالم ﷺ کو لکڑی کے اس منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی ہر نماز کے بعد آیتہ الکرسی پڑھتا ہے اسے بہشت میں جانے سے سوائے موت کے اور کوئی چیز نہیں روک سکتی اور جو آدمی (آیت الکرسی کو) اپنی خواب گاہ میں جاتے وقت (یعنی سونے کے وقت) پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے مکان میں اور اس کے ہمسائے میں (یعنی جو مکانات اس کے مکان سے ملے ہوئے ہوں) اور اس کے اردگرد مکانات میں (جو اگرچہ اس کے مکان سے متصل نہ ہوں) امن دیتا ہے اس روایت کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی اسناد ضعیف ہے۔ تشریح حدیث کے ابتدائی جملوں سے ایک خلجان واقع ہوتا ہے وہ یہ کہ موت دخول جنت سے مانع نہیں ہے بلکہ موت تو خود جنت میں جانے کا ذریعہ ہے لہٰذا چاہیے تو یہ تھا کہ بجائے اس کے یہ فرمایا جائے لم یمنعہ من دخول الجنۃ الاالموت (یعنی اس کے بہشت میں جانے سے سوائے حیات کے اور کوئی چیز نہیں روک سکتی، کیونکہ انسان اس دنیا میں حیات کے جال میں پھنسا ہوا ہے جب زندگی ختم ہوگی اور موت آئے گی جنت میں اس وقت ہی دخول ممکن ہوگا لہٰذا دخول جنت کی مانع موت نہیں بلکہ حیات ہے۔ اس کا مختصر جواب علامہ طیبی (رح) نے یہ دیا ہے کہ بندے اور جنت کے درمیان موت ایک پردہ ہے کہ ایک طرف تو حیات ہے اور دوسری طرف جنت ہے جب یہ پردہ ہٹے گا یعنی بندے کو موت آئے گی تو فورًا جنت میں داخل ہوجائے گا۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یہاں موت سے مراد بندے کا قیامت کے روز قبر سے اٹھنے سے پیشتر قبر میں بند رہنا ہے چناچہ جب بندہ قبر سے اٹھے گا فورًا جنت میں داخل ہوجائے گا۔ یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے لیکن جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا ہے فضائل اعمال کے سلسلے میں ضعیف حدیث پر بھی عمل کرنا جائز ہے حدیث کے پہلے جزو کو نسائی ابن حبان اور طبرانی نے بھی نقل کیا ہے ایک روایت میں آیت الکرسی کے ساتھ قل ہو اللہ پڑھنا بھی مذکور ہے۔

941Mishkaat-al-Masabih

نماز فجر و مغرب کے بعد ذکر کی فضیلت

وَعَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ ابْنِ غَنَمٍ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ مَنْ قَالَ قَبْلَ اَنْ یَنْصَرِفَ وَ یَثْنِیْ رِجْلَیْہِ مِنْ صَلَاۃِ الْمَغْرِبِ وَ الصُّبْحِ لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہ، الْحَمْدُ بِیَدِہٖ الْخَیْرِ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ عَلَی کُلِّ شَیْیءٍ قَدِیْرٌ عَشْرَ مَرَّاتٍ کُتِبَ لَہُ بِکُلِّ وَاحِدَۃٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ وَمُحِیَتْ عَنْہُ عَشْرُ سَیِّئَاتٍ وَرُفِعَ لَہ، عَشْرُ دَرَجَاتٍ وَکَانَتْ لَہُ حِرْزًا مِنْ کُلِّ مَکْرُوْہٍ وَحِرْزًا مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ وَلَمْ یَحِلَّ لِذَنْبٍ اَنْ یُدْرِکَہُ اِلَّا الشِّرْکَ وَکَانَ مِنْ اَفْضَلِ النَّاسِ عَمَلًا اِلَّا رَجُلًا یَفْضُلُہُ یَقُوْلُ اَفْضَلَ مِمَّا قَالَ رَوَاہُ اَحْمَدُ وَرَوَی التِّرْمِذِیُّ نَحْوَہُ عَنْ اَبِی ذَرٍّا اِلٰی قَوْلِہٖ اِلَّا الشِّرْکُ وَلَمْ یَذْکُرْ صَلَاۃَ الْمَغْرِبِ وَلَا بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَ قَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ غَرِیْبٌ۔

اور حضرت عبدالرحمن ابن غنم ؓ راوی ہیں کہ رحمت عالم ﷺ فرماتے تھے جو آدمی فجر اور مغرب کے بعد (نماز کی) جگہ سے اٹھنے سے پیشتر اور پاؤں موڑنے سے پہلے (یعنی جس طرح التحیات کے لئے بیٹھنا ہے اس ہیئت کے ساتھ) ان کلمات کو پڑھے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہ، لَہ الْمُلْکُ وَ لَہ الْحَمْدُ بِیَدِہ الْخَیْرِ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ عَلَی کُلِّ شَیْیءٍ قَدِیْرٌ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے نہ اس کا کوئی شریک ہے، اسی کے لئے بادشاہت ہے اور اسی کے واسطے تمام تعریفیں ہیں اسی کے ہاتھ میں بھلائی ہے، وہی (جسے چاہتا ہے) زندہ رکھتا ہے اور جسے چاہتا ہے) موت دے دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے تو اس کے لئے ہر ایک بار کے بدلہ میں دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور اس کے دس گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں اور اس کے (مرتبے کے) دس درجے بلند کر دئیے جاتے ہیں اور یہ کلمات اس کے لئے ہر بری چیز اور شیطان مردود سے امان کا باعث بن جاتے ہیں (یعنی نہ تو اس پر کسی دینی دنیاوی آفت و بلا کا اثر ہوتا ہے اور نہ مردود شیطان اس پر حاوی ہوتا ہے۔ اور شرک کے علاوہ کوئی گناہ (توفیق استغفار اور رحمت پروردگار کی وجہ سے) اسے ہلاکت میں نہیں ڈالتا (یعنی اگر شرک میں مبتلا ہوجائے گا تو پھر اس عظیم عمل کی وجہ سے بھی بخشش نہیں ہوگی) اور وہ آدمی عمل کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے بہتر ہوگا سوائے اس آدمی کے جو اس سے زیادہ افضل عمل کرے گا یعنی (یہ اس آدمی سے تو افضل نہیں ہوسکتا جس نے یہ کلمات) اس سے زیادہ کہے ہوں۔ (مسند احمد بن حنبل) اس روایت کو امام ترمذی (رح) نے بھی ابوذر ؓ صرف الا الشرک تک نقل کی ہے نیز ان کی روایت میں صلوۃ المغرب اور بیدہ الخیر کے الفاظ بھی منقول نہیں ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔