نماز فجر کے بعد ذکر کی فضیلت
وَعَنْ عُمَرَ بْنُ نِ الْخَطَّابِ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم بَعَثَ بَعْثًا قِبَلَ نَجْدٍ فَغَنَمُوْا غَنَائِمَ کَثِیْرَۃٍ وَاسْرَعُوْا الرَّجْعَۃَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَّالَمْ یَخْرُجْ مَارَأَیْنَا بَعْثًا اَسْرَعُ رَجْعَۃٍ وَلَا اَفْضَلَ غَنِیْمَۃً مِنْ ھٰذَا الْبَعْثِ فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ھَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی قَوْمٍ اَفْضَلَ غَنِیَمَۃً وَاَفْضَلَ رَجْعَۃً قَوْمًا شَھِدُوْ اصَلَاۃَ الصُّبْحِ ثُمَّ جَلَسُوْ ا یَذْکُرُوْنَ اﷲَ حَتّٰی طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَاُوْلٰئِکَ اَسْرَعُ رَجْعَۃً وَافْضَلَ غَنِیْمَۃً رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ وَحَمَّادُ ابْنُ اَبِیْ حُمَیْدٍ الرَّاوِی ھُوَ ضَعِیْفٌ فِی الْحَدِیْثِ۔
اور امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک موقع) رحمت عالم ﷺ نے ایک لشکر نجد کی طرف بھیجا چناچہ وہ لشکر (فتح و کامیابی کے بعد) بہت زیادہ مال غنیمت لے کر بہت جلد (مدینہ) واپس لوٹ آیا، ہم میں سے ایک آدمی نے جو لشکر کے ساتھ نہیں گیا تھا کہا کہ ہم نے تو ایسا کوئی لشکر نہیں دیکھا جو اس لشکر کی طرح اتنی جلدی واپس آیا ہو اور اپنے ساتھ اتنا مال غنیمت بھی لایا ہو! (یہ سن کر) سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایک ایسی جماعت کے بارے میں نہ بتلاؤں جو مال غنیمت میں اور جلد واپسی میں اس لشکر سے بھی بڑھی ہوئی ہے تو سنو وہ جماعت وہ ہے جو فجر کی نماز ( کی جماعت) میں حاضر ہوئی ہو اور پھر سورج نکلنے تک بیٹھی ہوئی اللہ کا ذکر کرتی رہی ہو، یہی وہ لوگ ہیں جو جلد واپس آنے اور مال غنیمت لانے میں ان سے بڑھے ہوئے ہیں۔ (یہ روایت ترمذی نے نقل کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے اور اس کے ایک راوی حماد ابن ابوحمید ضعیف ہیں)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اس لشکر کے لوگوں کو صرف دنیا کی دولت ملی جو فانی ہے اور اس جماعت کے لوگوں کو تھوڑی سی دیر میں بہت زیادہ ثواب ملا جو باقی رہنے والا ہے جیسا کہ رب العزت کا ارشاد ہے۔ آیت (مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ ) 16۔ النحل 96) جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ فانی ہے اور جو کچھ اللہ جل شانہ کے پاس ہے وہ باقی ہے۔ لہٰذا اس جماعت کے لوگ نہ صرف یہ کہ مال غنیمت کے اعتبار سے اس لشکر کے لوگوں سے افضل ثابت ہوئے بلکہ جلد واپس لوٹنے میں بھی ان سے بڑھے رہے۔
نماز میں جائز اور ناجائز چیزوں کا بیان
اس باب میں ان چیزوں کا ذکر کیا جائے گا جن کو نماز میں اختیار کرنا جائز ہے نیز ایسی چیزوں کو بھی ذکر کیا جائے گا جن کو نماز میں اختیار کرنا حرام، مکروہ اور مباح ہے اور جن سے نماز پر کسی بھی حیثیت سے اثر پڑتا ہے۔
نماز میں چھینک کے جواب میں یرحمک اللہ کہنا مفسد نماز ہے
عَنْ مُعَاوِےَۃَ بْنِ الْحَکَمِ رضی اللہ عنہ قَالَ بَےْنَا اَنَا اُصَلِّیْ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَاعَطَسَ رَجُلٌ مِّنَ الْقَوْمِ فَقُلْتُ ےَرْحَمُکَ اللّٰہُ فَرَمَانِی الْقَوْمُ بِاَبْصَارِھِمْ فَقُلْتُ وَاثُکْلَ اُمِّےَاہُ مَا شَانُکُمْ تَنْظُرُوْنَ اِلَیَّ فَجَعَلُوْا ےَضْرِبُوْنَ بِاَےْدِےْھِمْ عَلٰی اَفْخَاذِھِمْ فَلَمَّا رَاَےْتُھُمْ ےُصَمِّتُوْنَنِیْ لٰکِنِّیْ سَکَتُّ فَلَمَّا صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَبِاَبِیْ ھُوَ وَاُمِّیْ مَا رَاَےْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَہُ وَلَا بَعْدَہُ اَحْسَنَ تَعْلِےْمًا مِنْہُ فَوَاللّٰہِ مَاکَہَرَنِیْ وَلَا ضَرَبَنِیْ وَلَا شَتَمَنِیْ قَالَ اِنَّ ھٰذِہِ الصَّلٰوۃَ لَاےَصْلُحُ فِےْھَا شَیْءٌ مِّنْ کَلَامِ النَّاسِ اِنَّمَا ھِیَ التَّسْبِےْحُ وَالتَّکْبِےْرُ وَقِرَآءَ ۃُ الْقُرْآنِ اَوْ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قُلْتُ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ حَدِےْثُ عَھْدٍ بِجَاھِلِےَّۃٍ وَقَدْ جَآءَ نَا اللّٰہُ بِالْاِسْلَامِ وَاِنَّ مِنَّا رِجَالًا ےَّاتُوْنَ الْکُھَّانَ قَالَ فَلاَ تَاْتِھِمْ قُلْتُ وَمِنَّا رِجَالٌ ےَّتَطَےَّرُوْنَ قَالَ ذَاکَ شَیْءٌ ےَّجِدُوْنَہُ فِیْ صُدُوِْرِھِمْ فَلَا ےَصُدَّنَّھُمْ قَالَ قُلْتُ وَمِنَّا رِجَالٌ ےَخُطُّوْنَ قَالَ کَانَ نَبِیٌّ مِّنْ الْاَنْبِےَآءِ ےَخُطُّ فَمَنْ وَّافَقَ خَطُّہُ فَذَاکَ (رَوَاہُ مُسْلِمٌ )
حضرت معاویہ ابن حکم ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک روز) سرور کونین ﷺ کے ہمراہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ (درمیان نماز) اچانک جماعت میں سے ایک آدمی کو چھینک آگئی میں نے (جواب میں) یرحمک اللہ کہا (یہ سن کر) لوگوں نے مجھ کو گھورنا شروع کیا ( کہ نماز میں چھینک کا جواب دیتے ہو) میں نے کہا کہ تمہاری ماں تمہیں گم کر دے تم لوگ مجھے کیوں گھور رہے ہو لوگوں نے (میری گفتگو سن کر مجھے چپ کرانے اور اظہار تعجب کے لئے) اپنی رانوں پر اپنے ہاتھ مارنے شروع کئے (جب) میں نے دیکھا کہ لوگ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں (تو مجھے بہت غصہ آیا کیونکہ مجھے اس فعل کی برائی کا علم نہ تھا) لیکن میں خاموش رہا جب رسول اللہ ﷺ نماز پڑھا چکے ( تو کیا کہوں) میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان میں نے تو ایسا اچھا تعلیم دینے والا نہ آپ ﷺ سے پہلے دیکھا تھا اور نہ بعد میں دیکھا اللہ کی قسم! نہ تو آپ ﷺ نے مجھے ڈانٹا، نہ مارا اور نہ برا بھلا کہا، (ہاں اتنا) فرمایا کہ نماز میں انسان کی بات مناسب نہیں ہے، نماز تو تسبیح و تکبیر اور قرآن پڑھنے کا نام ہے یا آپ نے اس کی مانند کچھ اور فرمایا (یعنی راوی کو شک ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہی الفاظ فرمائے تھے یا اس کے مانند دوسرے الفاظ تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں ایک نو مسلم ہوں (ابھی تک دین کے تمام احکام مجھے معلوم نہیں تھے ہاں (اب) اللہ نے ہمیں اسلام کی دولت سے مشرف فرمایا ہے، (تو دین کے تمام احکام سیکھ لوں گا پھر میں نے عرض کیا کہ) ہم میں سے بہت لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں (اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ ) فرمایا تم ان کے پاس ہرگز نہ جایا کرو میں نے عرض کیا ہم میں سے بہت لوگ بد فالی (بھی) لیتے ہیں۔ فرمایا یہ ایک ایسی چیز ہے جسے وہ اپنے دلوں میں پاتے ہیں (یعنی یہ ان کا محض وہم اور ذہن کی اختراع ہے جو کاموں کے نفع و نقصان میں کوئی اثر نہیں رکھتا) انہیں اپنے کام سے رکنا نہیں چاہئے معاویہ ؓ فرماتے ہیں میں نے پھر عرض کیا ہم میں سے بعض لوگ خط کھینچتے ہیں اور اس کے ذریعے وہ غیب کی کچھ باتیں بتاتے ہیں) فرمایا انبیاء میں سے ایک نبی تھے جو خط کھینچتے تھے لہٰذا جس آدمی کا خط کھینچنا اس نبی کے خط کھینچتے کے موافق ہو وہ اس بات کو حاصل کرلیتا ہے۔ (صحیح مسلم) مؤلف مشکوٰۃ فرماتے ہیں کہ حدیث کے الفاظ لٰکِنِّیْ سَکَتُ کو صحیح مسلم اور کتاب حمیدی میں اسی طرح دیکھا ہے (البتہ) صاحب جامع الاصول نے لفظ لکنی کے اوپر لفظ کذا) لکھ کر اس کی صحت کی طرف اشارہ کیا ہے۔
تشریح
و اثکل امیاہ (یعنی تمہاری ماں تمہیں گم کرے) ان الفاظ کی تشریح پہلے بھی کسی موقع پر کی جا چکی ہے چناچہ وہاں بتایا جا چکا ہے کہ اہل عرب کے ہاں یہ الفاظ ایسے موقع پر استعمال کئے جاتے تھے کہ مخاطب کی کوئی بات یا اس کا کوئی فعل قابل تعجب ہوتا تھا۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں چھینکنے والے نے الحمد اللہ کہا ہوگا اس کے جواب میں حضرت معاویہ ؓ نے یرحمک اللہ کہا۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں چھینک کے جواب میں یرحمک اللہ کہنا حرام ہے جس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے اب اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب حضرت معاویہ ؓ نے ایک مفسد نماز فعل کا ارتکاب کیا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں نماز لوٹانے کا حکم کیوں نہیں دیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ وہ نو مسلم تھے اسلام قبول کئے ہوئے انہیں زیادہ دن نہیں گذرے تھے اس لئے انہیں معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ نماز میں گفتگو کرنا منسوخ ہوچکا ہے اب گفتگو کرنے سے نماز باطل ہوجاتا ہے اس لئے آپ ﷺ نے اس کی ناواقفیت کی بناء پر انہیں نماز دوبارہ پڑھنے کا حکم نہیں دیا۔ حضرت امام نووی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی نماز میں یرحمک اللہ کہے تو اس کی نماز باطل ہوجاتی ہے کیونکہ اس میں دوسرے آدمی کو خطاب کرنا پایا جاتا ہے اور اگر کوئی ی (رح) کہے تو نماز اس کی باطل نہیں ہوتی حضرت ابن ہمام (رح) کا قول ہے کہ اگر کوئی اپنے نفس کے لئے یرحمک اللہ کہے تو نماز فاسد نہیں ہوتی جیسا کہ یرحمنی اللہ کہنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ ارشاد نبوت اِنَّ ھٰذِہِ الصَّلٰوۃَ لَا یَصْلُحْ فِیْھَا شَیْیءٌ مِنْ کَلاَمِ النَّاسِ (نماز میں انسان کی بات مناسب نہیں ہے) میں کلام الناس اس لئے فرمایا گیا ہے تاکہ اس حکم سے وہ تسبحیات و اذکار نکل جائیں جو نماز میں پڑھے جاتے ہیں جو اگرچہ انسان کا کلام ہی ہیں لیکن ان سے انسانوں کو خطاب کرنے یا ان کو سمجھانے کا ارادہ نہیں ہوتا لہٰذا یہاں کلام الناس (انسان کی بات) سے مراد وہ کلام ہے جس میں لوگوں کو خطاب کیا گیا ہو یا خود مخاطب بننے کا ارادہ ہو۔ فقہاء لکھتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی کسی نمازی سے حالت نماز میں پوچھے کہ تمہارے پاس کیا اور کس قسم کا مال ہے؟ اور وہ نمازی جواب میں یہ آیت پڑھے (وَّالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيْرَ ) 16۔ النحل 8) (گھوڑے، خچر اور گدھے) یا کسی نماز پڑھنے والے کے آگے کوئی کتاب رکھی ہو اور ایک آدمی یحییٰ نامی سامنے کھڑا ہوا ہو اور اس آدمی کو خطاب کرنے کی نیت سے یہ آیت پڑھے (يٰ يَحْ يٰى خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍ ) 19۔ مریم 12) (اے یحییٰ یہ کتاب لے لو) تو ان صورتوں میں نمازی نے اگرچہ قرآن کی آیتیں پڑھی ہیں لیکن یہ پڑھنا چونکہ ایک دوسرے آدمی کو خطاب کرنے کے ارادے سے ہے اس لئے نماز فاسد ہوجائے گی۔ ہاں اگر خطاب کا ارادے نہ کرے بلکہ قرأت کے ارادہ سے پڑھے گا تو نماز فاسد نہیں ہوگی۔ کاہن کی تعریف عرب میں کاہن ان لوگوں کو کہتے ہیں جو جنات شیاطین اور ارواح خبیثہ کے ساتھ تعلق رکھتے تھے اور شیاطین جھوٹی سچی خبریں ان کو بتا تے تھے، اس طرح وہ لوگ علم غیب کا دعوی کر کے شیاطین و جنات کی پہنچائی ہوئی انہی باتوں کو غیب کی بات کہہ کر دوسرے لوگوں تک پہنچاتے تھے۔ ایسے لوگوں کے پاس جانے سے رسول اللہ ﷺ نے روکا ہے چناچہ ایک دوسری روایت میں مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی کسی عراف یا کاہن کے پاس جائے اور ان کی بتائی ہوئی باتوں کو سچ جانے تو اس نے بیشک محمد ﷺ پر اتاری گئی چیز (یعنی قرآن) سے کفر کیا۔ اس روایت کو امام احمد نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے۔ عراف کسے کہتے ہیں کاہن کی تعریف تو معلوم ہوگئی، اب یہ بھی جان لیجئے عراف کسے کہتے ہیں۔ عراف اس آدمی کو کہتے ہیں جو کسی عمل یا جادو و منتر کے ذریعے کسی چیز کی حقیقت بیان کرتا ہے، چوری کی چیزوں کا پتہ بتاتا ہے اور مکان کی کسی گم شدہ چیز کا حال بتاتا ہے ان کے پاس بھی جانے سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ عمل رمل جس طرح جنات و شاطین کے ذریعے یا علم نجوم کے ذریعہ غیب کی باتوں کا پتہ لگانے کی کچھ لوگ کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح رمل کے ذریعے بھی کچھ لوگ غیب کی باتوں تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ رمل اس علم کا نام ہے جس میں خطوط کھینچ کر اور ان کے ذریعے حساب لگا کر پوشیدہ باتوں کو جاننے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حدیث کے الفاظ سے بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمل کے بارے میں ایک ایسا کلمہ بیان فرما دیا ہے جس سے کسی نہ کسی حد تک علم رمل کا جواز نکلتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ پہلے تو سمجھ لیجئے کہ وہ نبی جو علم رمل جانتے تھے اور خط کھینچتے تھے حضرت ادریس یا حضرت دانیال علیہما السلام تھے اس کے بعد حدیث کی طرف آئیے، رسول اللہ ﷺ کے ارشاد سے علم رمل کا جواز نہیں ہوتا کیونکہ بقول خطابی یہاں رسول اللہ ﷺ نے تعلیق بالمحال کی ہے یعنی رسول اللہ ﷺ نے فَمَن وَّافَقَ خُطُّہ ازراہ زجر فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی دوسرے کا خط کھینچنا اس نبی ﷺ کے خط کھینچنے کے موافق نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ ان نبی کا معجزہ تھا اور معجزہ صرف نبی ﷺ کی ذات تک محدود رہتا ہے اور پھر یہ کہ اگر کوئی آدمی خط کھینچے اور کہے کہ یہ اس نبی کے خط کھینچنے اور کہے کہ یہ اس نبی کے خط کھینچنے کے موافق ہے تو یہ غلط ہوگا۔ اس لئے کہ خط کی موافقت صحیح طور پر تواتر یا نص سے ثابت ہوسکتی ہے جو رسول اللہ ﷺ سے منقول ہو۔ جب کہ رسول اللہ ﷺ سے یہ منقول نہیں۔ لہٰذا ارشاد نبوت سے حاصل یہ نکلا کہ جب کسی رمال (علم رمل جاننے والا) اور اس نبی کے خط میں موافقت نہیں ہوسکتی تو بھی عمل رمل کو اختیار کرنا بھی درست نہیں۔ اسی طرح کہ دو اور سلسلے ہیں ان کا مدار حساب پر ہے جنہیں اصطلاحی طور پر عمل تکسیر اور عمل تخریج سے موسوم کیا جاتا ہے ان کے بارے میں بھی محققین علماء اور مشائخ کا فیصلہ یہ ہے کہ یہ اعمال بھی شرعًا جائز نہیں ہیں اور ان کا بھی وہی حکم ہے جو اوپر مذکور ہوچکا ہے۔ آخر عبارت کا مطلب یہ ہے کہ لفظ کذا علامت صحت ہے یعنی اگر یہ ضرورت محسوس ہو کہ عبارت میں کسی ایسے لفظ پر کہ جس کے بارے میں عدم صحت کا گمان ہوگیا ہے کوئی ایسی علامت لگا دی جائے جس کے ذریعہ سے اس لفظ کا صحیح ہونا ثابت ہوجائے تو اس موقع پر اس لفظ پر کذا لکھ دیتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ لفظ اس طرح صحیح ہے، چونکہ اس حدیث کا لفظ لکنی اصول میں ہے، مگر مصابیح میں نہیں ہے، اس صورت میں یہ ممکن تھا کہ اس لفظ کے عدم صحت کا گمان ہوجاتا۔ اس لئے صاحب جامع الاصول نے اس لفظ پر کذا لکھ کر اس بات کی تصحیح کردی ہے کہ یہ لفظ اصول میں یوں ہی ہے اور یہ صحیح ہے۔
نماز میں سلام کا جواب دینا حرام ہے
وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ کُنَّا نُسَلِّمُ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم وَھُوَ فِی الصَّلٰوۃِ فَےَرُدُّ عَلَےْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ عِنْدِالنَّجَاشِیِّ سَلَّمْنَا عَلَےْہِ فَلَمْ ےَرُدَّ عَلَےْنَا فَقُلْنَا ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ کُنَّا نُسَلِّمُ عَلَےْکَ فِی الصَّلٰوۃِ فَتَرُدُّ عَلَےْنَا فَقَالَ اِنَّ فِی الصَّلٰوۃِ لَشُغْلًا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ نماز میں ہوتے اور ہم آپ ﷺ کو سلام کرتے تو آپ ﷺ ہمارے سلام کا جواب دیتے تھے پھر کچھ دنوں کے بعد جب ہم نجاشی کے ہاں سے واپس آئے اور آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے (حسب معمول) ہم نے آپ ﷺ کو سلام کیا آپ ﷺ نے ہمارے سلام کا جواب نہیں دیا جب آپ ﷺ نماز پڑھ چکے تو) ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم آپ ﷺ کو نماز میں سلام کرتے تھے آپ ﷺ جواب دیتے تھے آج آپ ﷺ نے جواب کیوں نہیں دیا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نماز خود ایک بڑا شغل ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے وقت ملک حبشہ کا بادشاہ ایک عیسائی تھا جس کا لقب نجاشی تھا چونکہ یہ ایک عالم تھا اس لئے جب توریت و انجیل کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کے نبی برحق ہونا معلوم ہوا تو وہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر ایمان لا کر اللہ کے اطاعت گزار بندوں میں شامل ہوگئے، جب ٩ ھ میں ان کا انتقال ہوا تو رسول اللہ ﷺ کو بہت افسوس ہوا اور آپ ﷺ نے صحابہ کرام کے ہمراہ کھڑے ہو کر ان کے جنازے کی غائبانہ نماز پڑھی۔ چونکہ انہیں رسول اللہ ﷺ سے بہت زیادہ عقیدت تھی اس لئے جب مسلمان مکہ میں کفار کے ہاتھوں بڑی اذیت ناک تکالیف میں مبتلا ہوگئے اور ان کی جانوں کے لالے پڑگئے تو اکثر صحابہ رسول اللہ ﷺ کے ایماء پر ان کے ملک کو ہجرت کر گئے انہوں نے اپنے ملک میں صحابہ کی آمد کو اپنے لئے دین و دنیا کی بہت بڑی سعادت سمجھ کر صحابہ کی بہت زیادہ خدمت کی اور ان کے ساتھ بہت زیادہ حسن سلوک کے ساتھ پیش آئے بعد میں جب صحابہ کو علم ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لے جا چکے ہیں تو وہ بھی مدینہ چلے آئے۔ چنانچہ اسی وقت کا واقعہ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ بیان فرما رہے ہیں کہ حبشہ سے واپس آنے والے قافلے میں میں بھی شریک تھا جب ہم لوگ مدینے پہنچ کر بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ ﷺ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے ہم نے حسب معمول آپ ﷺ کو سلام کیا مگر آپ ﷺ نے ہمارے سلام کا جواب نہ دیا پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ ﷺ نے ہمارے استفسار پر فرمایا کہ نماز خود ایک بہت بڑا شغل ہے یعنی نماز میں قرآن و تسبیحات اور دعا مناجات پڑھنے کا شغل ہی اتنی اہمیت و عظمت کا حامل ہے کہ ایسی صورت میں کسی دوسرے آدمی سے سلام و کلام کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے یا یہ کہ نمازی کا فرض ہے کہ نماز میں پورے انہماک کے ساتھ مشغول رہے اور جو کچھ نماز میں پڑھے اس پر غور کرے اور نماز کے سوا کسی دوسری جانب خیال کو متوجہ نہ ہونے دے اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں کسی کے سلام کا جواب دینا یا کسی سے گفتگو کرنا حرام ہے کیونکہ اس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔ سر یا ہاتھ کے اشارے سے سلام کا جواب دینا مفسد نماز نہیں شرخ منیہ میں لکھا ہے کہ اگر کوئی نمازی کسی کے سلام کا جواب ہاتھ یا سر کے اشارے سے دے یا اسی طرح کوئی آدمی نمازی سے کسی چیز کو طلب کرے اور وہ سر یا ہاتھوں سے ہاں یا نہیں کا اشارہ کرے تو اس کی نماز فاسد تو نہیں البتہ مکروہ ہوجائے گی۔
نماز میں زمین کو برابر کرنے کا مسئلہ
وَعَنْ مُّعَےْقِےْبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فِی الرَّجُلِ ےُسَوِّی التُّرَابَ حَےْثُ ےَسْجُدُ قَالَ اِنْ کُنْتَ فَاعِلًا فَوَاحِدَۃً (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت معیقیب ؓ سرور کونین ﷺ سے اس آدمی کے بارے میں روایت کرتے ہیں جس نے اپنے بارے میں آپ ﷺ سے پوچھا تھا کہ (نماز میں) سجدے کی جگہ سے مٹی برابر کرتا ہوں اس کا کیا حکم ہے) تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم برابر کرنا ضروری ہی سمجھو تو صرف ایک مرتبہ ایسا کرلیا کرو۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
شرح منیہ میں لکھا ہے کہ حالت نماز میں سجدے کی جگہ سے کنکر وغیرہ ہٹانا یا زمین برابر کرنا مکروہ ہے ہاں اگر صورت یہ ہو کہ سجدے کی جگہ سے کنکر ہٹائے بغیر نشیب و فراز کی وجہ سے زمین برابر کئے بغیر اس جگہ سجدہ کرنا ممکن نہ ہو تو وہاں سے کنکر ہٹا لیا جائے یا زمین برابر کرلی جائے مگر ایسا صرف ایک مرتبہ یا زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ کیا جاسکتا ہے۔ اس سے زیادہ نہیں۔
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ صقَالَ نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنِ الْخَصْرِ فِی الصَّلٰوۃِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے نماز میں خصر ( کوکھ پر ہاتھ رکھنے) سے منع فرمایا ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس روایت میں لفظ خصر ہے بعض راویتوں میں نھی عن الاختصار اور ان یصلی مختصراً کے الفاظ بھی منقول ہیں۔ خصر کی تعریف لغت میں خصر انسان کی کمر اور کوکھ کو کہتے ہیں، علماء کے ہاں خصر و اختصار کی تعریف کمر یا کوکھ پر ہاتھ رکھنا کی جاتی ہے حدیث کا حاصل یہ ہے کہ نماز میں کوئی آدمی اپنی کوکھ یعنی پہلو پر ہاتھ رکھ کر کھڑا نہ ہو۔ نماز میں خصر ممنوع کیوں ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھنے سے منع کیوں فرمایا گیا؟ جواب یہ ہے کہ اس کی مختلف وجوہ ہیں پہلی بات تو یہ ہے کہ کمر پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہونا سماجی حیثیت سے کوئی اچھی بات نہیں سمجھی جاتی جاننے والے جانتے ہیں کہ اکثر و بیشتر کمر پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہونا یا چلنا دنیا کے ان بدنصیب لوگوں کا شیوہ ہے جنہیں دنیا و سماج کے ہر طبقے میں انتہائی ذلت و حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے یعنی ٹرنخے اور ہیجڑے اس کے علاوہ ایک دوسری حدیث میں صراحت کے ساتھ اس کی توجیہ یہ فرمائی گئی ہے کہ اختصار اہل نار کی حالت آرام کا ایک ذریعہ ہے جس کی تشریح یوں کی جاتی ہے کہ قیامت کے روز میدان حشر میں جب تمام لوگ حساب کتاب کے انتظار میں کھڑے ہوں گے تو اس وقت کثرت مشقت اور لعب کی وجہ سے وہ لوگ جن کے حصے میں دوزخ کی آگ ہوگی اپنی کوکھ پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہوں گے تاکہ اس طرح کچھ دیر کے لئے آرام مل جائے جیسا کہ عام طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی آدمی ایک طویل عرصہ تک کھڑا کھڑا تھک جاتا ہے تو ایک ٹانگ پر پورے بدن کا بوجھ ڈال کر اور کوکھ پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہوجاتا ہے یا یہ کہ اس حدیث میں اہل نار سے مراد یہودی ہیں کہ ان کی عادت اسی طرح کھڑے ہونے کی ہے۔ تیسری توجیہ ایک روایت کی روشنی میں یہ ہے کہ جس وقت شیطان مردود کو زمین پر اتارا گیا اور اسے ملعون قرار دیا گیا اس وقت وہ اپنی کوکھ پر ہاتھ رکھ کر کھڑا تھا۔ لہٰذا ان تمام توجیہات کے پیش نظر کوکھ پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہونا چونکہ اہل نار اور شیطان ملعون کی صفت ہے اس لئے ان کی مشابہت سے بچنے کے لئے مسلمانوں کو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ وہ نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھ کر کھڑے نہ ہوں نھی عن الخصر کا صحیح مطلب اور تشریح جو صحابہ اور علمائے سلف سے منقول ہیں مذکورہ بالا ہے لیکن بعض حضرات نے اس حدیث کی تشریح یہ بھی کی ہے کہ خصر (مخصرہ) کے معنی میں ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ نماز میں عصا پر ٹیک لگا کر کھڑا نہ ہونا چاہئے اس کے علاوہ دیگر تشریحات بھی کی گئی ہیں مگر جیسا کہ بتایا گیا ہے صحیح تشریح اور توضیح وہی ہے جو پہلے ذکر کی گئی۔ (اشعۃ اللمعات)
نماز میں ادھر ادھر دیکھنا کیسا ہے
وَعَنْ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہاقَالَتْ سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنِ الْاِلْتِفَاتِ فِی الصَّلٰوۃِ فَقَالَ ھُوَ اخْتِلَاسٌ ےَّخْتَلِسُہُ الشَّےْطٰنُ مِنْ صَلٰوۃِ الْعَبْدِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے سرور کونین ﷺ سے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے بارے میں پوچھا کہ آیا یہ مفسد نماز ہے یا نہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ اچک لینا ہے کہ شیطان بندے کی نماز میں سے اچک لیتا ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جب کوئی آدمی نماز میں پوری توجہ اور پورے آداب کی ساتھ نہیں کھڑا رہتا بلکہ ادھر ادھر دیکھتا ہے تو شیطان مردود ایسے نمازی کی نماز کے کمال کو اچک لیتا ہے یعنی اس طرح نماز کا کمال باقی نہیں رہتا یہاں ادھر ادھر دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ نماز میں کوئی آدمی گردن گھما کر ادھر ادھر اس طرح دیکھے کہ منہ قبلے کی طرف سے پھر جائے تو اس کا مسئلہ یہ ہے کہ ایسے آدمی کی نماز مکروہ ہوجاتی ہے۔ اور اگر کوئی آدمی نماز میں ادھر ادھر اس طرح دیکھے کہ منہ کے ساتھ ساتھ سینہ بھی قبلے کی طرف بالکل پھر جائے تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی۔ کن انکھیوں سے ادھر ادھر دیکھنے سے نہ تو نماز فاسد ہوتی ہے اور نہ مکروہ ہوتی ہے البتہ یہ بھی خلاف اولیٰ ہے۔
نماز میں دعا کے وقت نگاہ آسمان کی طرف نہ اٹھانی چاہئے
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ صقَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَےَنْتَھِےَنَّ اَقْوَامٌ عَنْ دَفْعِھِمْ اَبْصَارَھُمْ عِنْدَ الدُّعَآءِ فِی الصَّلٰوۃِ اِلَی السَّمَآءِ اَوْ لَتُخْطَفُنَّ اَبْصَارُھُمْ ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا۔ لوگ نماز میں دعا کے وقت اپنی نگاہوں کو آسمان کی طرف اٹھانے سے باز رہیں ورنہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی۔ (صحیح مسلم)
تشریح
رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو متنبہ کرنے کے لئے ازراہ زجر یہ فرمایا ہے کہ لوگوں کو چاہئے کہ وہ نماز میں دعا مانگنے کے وقت اپنی نگاہوں کو آسمان کی طرف نہ اٹھائیں ورنہ ان کی بینائی چھین لی جائے گی۔ اس سلسلے میں یہ مسئلہ ہے کہ یوں تو نماز میں مطلقاً اور خاص طور پر دعا کے وقت آسمان کی طرف نگاہ اٹھانی مکروہ ہے کیونکہ اس طرح اس بات کا وہم پیدا ہوتا ہے کہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کے لئے آسمان میں مکان متعین ہے کہ وہ صرف آسمان ہی پر موجود ہے حالانکہ وہ مکانیت سے پاک ہے وہ ہر وقت ہر جگہ موجود ہے۔ نماز کے علاوہ دوسرے مواقع پر آسمان کی طرف نگاہ اٹھانے کے بارے میں اختلاف ہے بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ بھی مکروہ ہے اور بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ جائز ہے مگر صحیح یہ ہے کہ نماز کے علاوہ دوسرے مواقع پر بھی دعا کے وقت نگاہ اوپر نہ اٹھانی چاہیے ایک روایت میں منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں اپنی نظر مبارک آسمان کی طرف اٹھاتے تھے مگر جب یہ آیت نازل ہوئی آیت (الَّذِيْنَ هُمْ فِيْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَ ) 23۔ المومنون 2) تو رسول اللہ ﷺ اپنی نگاہ مبارک نیچے رکھنے لگے۔
رسول اللہ ﷺ کا اپنی نواسی کو نماز میں کندھے پر بٹھانا
وَعَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ قال ص رَأَےْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَؤُمُّ النَّاسَ وَاُمَامَۃُ بِنْتُ اَبِیْ الْعَاصِ عَلٰی عَاتِقِہٖ فَاِذَا رَکَعَ وَضَعَھَا وَاِذَارَفَعَ مِنَ السُّجُوْدِ اَعَادَھَا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوقتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا ہے کہ سرور کونین ﷺ (ایک روز) لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے (اور آپ ﷺ کی نواسی) امامہ بنت ابوالعاص آپ ﷺ کے مبارک کندھے پر بیٹھی تھیں جب آپ ﷺ رکوع کرتے امامہ کو (اشارے سے نیچے) بٹھا دیتے اور جب سجدے سے اٹھتے تو ان کو اپنے کندھے پر بٹھا لیتے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
ابوالعاص سرکار دو عالم ﷺ کے داماد تھے جن کی شادی آپ ﷺ کی صاحبزادی حضرت زینب سے ؓ ہوئی تھی انہیں کی بیٹی کا نام امامہ تھا۔ ایک اشکال اور اس کا جواب یہاں یہ ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ نماز میں رسول اللہ ﷺ کا امامہ کو اٹھانا اور نیچے بٹھانا اور پھر اٹھا کر کندھے پر رکھنا فعل کثیر ہوا اور اگر فعل کثیر نہ بھی ہو ( فعل کثیر وہ ہے جو بار بار کیا جائے اور خصوصاً دونوں ہاتھوں سے کیا جائے)۔ تو قلیل فعل ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے اس لئے حالت نماز میں یہ فعل مکروہ ضرور تھا لہٰذا سمجھ میں نہیں آتا کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ایسا کیوں کیا؟ خطابی نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا امامہ کو اٹھانا اور بٹھانا قصدا نہ تھا چونکہ امامہ حضور اکرم ﷺ سے بہت زیادہ مانوس تھیں اور آپ ﷺ کے مبارک کندھے پر چڑھ کر بیٹھ جاتی تھیں اور پھر رکوع کے وقت کندھے سے گر پڑتی تھیں گویا اس طرح رسول اللہ ﷺ انہیں اتارتے تھے لہٰذا ان کو کندھے سے اتارنا یا کندھے پر بٹھانا رسول اللہ ﷺ کا فعل نہیں ہوا بلکہ اس فعل کی نسبت آپ ﷺ کی طرف مجازا کردی گئی اس توجیہ کے پیش نظر یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ یہ فعل کثیر تھا کیونکہ فعل کثیر تو اس فعل کو کہتے ہیں جو پے در پے کیا جائے اور یہاں پے در پے نہیں پایا جاتا۔ ایک توجیہہ یہ بھی کی جاسکتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کا یہ عمل اس وقت کا ہے جب نماز میں فعل کثیر حرام نہیں ہوا تھا یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ صرف آنحضرت ﷺ کے ساتھ مخصوص تھا۔
نماز میں جمائی کے وقت منہ بند کرلینا چاہیے
وَعَنْ اَبِیْ سَعِےْدٍ صقَالَ قَالَ رَسُوْل ُاللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا تَثَآءَ بَ اَحَدُکُمْ فِی الصَّلٰوۃ فَلْےَکْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ فَاِنَّ الشَّےْطَانَ ےَدْخُلُ رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَفِیْ رَوَاےَۃٍ لِلْبُخَارِیِّ عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ قَالَ اِذَا تَثَآءَ بَ اَحَدُکُمْ فِی الصَّلٰوۃِ فَلْےَکْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ وَلَا ےَقُلْ ھَا فَاِنَّمَا ذَالِکُمْ مِّنَ الشَّےْطَانِ ےَضْحَکُ مِنْہُ۔
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو نماز میں جمائی آئے تو اسے چاہئے کہ وہ حتی الامکان اسے روکے کیونکہ (جمائی کے وقت) شیطان (منہ میں) گھس جاتا ہے۔ (صحیح مسلم) اور بخاری کی روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ جب تم میں سے کسی کو نماز میں جمائی آئے تو حتی الامکان اسے روکنا چاہئے اور اور ہا نہ کہے (جیسا کہ جمائی کے وقت بےاختیار منہ سے یہ لفظ نکل جاتا ہے) اس لئے کہ یہ شیطان کی طرف سے ہے اور وہ اس سے ہنستا ہے۔
تشریح
پیٹ بھر نے حو اس کی کدورت اور بدن کے ثقل کی وجہ سے جمائی آتی ہے اور یہ عبادت میں کسل و سستی کا باعث بنتی ہے اس لئے اس کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے کہ جمائی لیتے وقت شیطان منہ میں گھس جاتا ہے یعنی ایسی حالت میں اس کے لئے نمازی کو بہکانے اور عبادت سے روکنے کا موقعہ بہت اچھی طرح میسر آتا ہے اور اس کے ہنسنے سے مراد یہ ہے کہ وہ ایسی حالت میں نمازی کو دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہے کیونکہ اس سے عبادت میں کسل اور سستی پیدا ہوجاتی ہے۔ جو شیطان کا عین منشاء ہے۔ لہٰذا فرمایا گیا ہے کہ نماز میں جب کسی کو جمائی آئے تو اسے چاہیے کہ حتی الامکان جمائی کو روکے اور ایسی صورت میں منہ بند کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہونٹ بھینچ لئے جائیں اور نچلا ہونٹ دانتوں میں پکڑ لیا جائے یا جب جمائی آئے تو بائیں ہاتھ کی پشت منہ پر رکھ لی جائے۔ بعض فرماتے ہیں کہ جمائی روکنے کی سب سے بہتر ترکیب یہ ہے کہ جب جمائی آئے تو فورًا دل میں یہ خیال پیدا کرلینا چاہئے کہ رسول اللہ ﷺ کو کبھی جمائی نہیں آئی۔ محض اس خیال میں جمائی رک جائے گی کہا جاتا ہے کہ یہ طریقہ مجرب ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا جن کے ساتھ ایک واقعہ
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ صقَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ عِفْرِےْتًا مِّنَ الْجِنِّ تَفَلَّتِ الْبَارِحَۃَ لِےَقْطَعَ عَلَیَّ صَلٰوتِیْ فَاَمْکَنَنِیَ اللّٰہُ مِنْہُ فَاَخَذْتُہُ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَرْبِطَہُ عَلٰی سَارِےَۃٍ مِّنْ سَوَارِی الْمَسْجِدِ حَتّٰی تَنْظُرُوْا اِلَےْہِ کُلُّکُمْ فَذَکَرْتُ دَعْوَۃَ اَخِیْ سُلَےْمَانَ رَبِّ ھَبْ لِیْ مُلَکًا لَّا ےَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْ بَعْدِیْ فَرَدَدْتُّہُ خَاسِئًا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ (ایک روز) سرور کونین ﷺ نے فرمایا آج رات جنوں میں سے ایک دیو ( یعنی ایک سرکش شیطان) چھوٹ کر میرے پاس آیا تاکہ میری نماز میں خلل ڈالے مگر اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اس پر حاوی کردیا چناچہ میں نے اسے پکڑ لیا اور چاہا کہ مسجد (نبوی) کے ستونوں میں سے کسی ستون سے اسے باندھ دوں تاکہ تم سب لوگ اسے دیکھ لو پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی یہ دعا یاد آگئی آیت (رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْ بَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْ بَعْدِيْ ) 38۔ ص 35) اے پروردگار مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما جو میرے بعد اور کسی کے لئے مناسب نہ ہو چناچہ میں نے اسے ذلیل بنا کر چھوڑ دیا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی دعا میں بادشاہت سے مراد جنات و شیاطین کو مسخر کرنا اور ان پر تصرف حاصل کرنا ہے چونکہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا اپنے لئے کی تھی اور یہ مرتبہ صرف اپنے لئے ہی چاہا تھا اس لئے رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں چاہا کہ اس شیطان کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ کر ایسا طریقہ اختیار کریں کہ جس سے حضرت سلیمان کی اس خصوصیت پر کچھ اثر پڑے اور اپنے تصرف کا اظہار ہو ورنہ تو رسول اللہ ﷺ کو خود بھی یہ خصوصیت اور مرتبہ اور شیاطین و جنات پر تصرف کی قدرت حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے زیادہ حاصل تھی۔ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ شیطان کو چھونا نماز کو نہیں توڑتا۔
نماز میں کسی خاص موقعہ پر اشارہ کیا جا سکتا ہے
وَعَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ رضی اللہ عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ نَّابَہُ شَیْ ءٌ فِیْ صَلٰوتِہٖ فَلْےُسَبِّحْ فَاِنَّمَا التَّصْفِےْقُ لِلنِّسَآءِ وَفِیْ رَوَاےَۃٍ قَالَ اَلتَّسْبِےْحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِےْقُ لِلنِّسَآئِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت سہل بن سعد ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا جس آدمی کو نماز میں کوئی بات پیش آئے تو اسے چاہئے کہ وہ سبحان اللہ کہے اور دستک دینا یعنی تالی بجانا عورتوں کے لئے مخصوص ہے اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ فرمایا سبحان اللہ کہنا مردوں کے لئے مخصوص ہے اور تالی بجانا عورتوں کے لئے (مخصوص) ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ حالت نماز میں اگر کوئی خاص واقعہ پیش آجائے مثلاً کوئی آدمی گھر میں نماز پڑھ رہا ہے اور باہر دروازے پر اسے کسی نے آواز دی یا کسی نے گھر میں آنے کی اجازت طلب کی اور اسے معلوم نہیں کہ صاحب خانہ نماز پڑھ رہا ہے اور باہر دروازے پر اسے کسی نے آواز دی پھر یہ کہ گھر میں کوئی دوسرا آدمی ایسا موجود نہیں ہے جو باہر کی آواز کا جواب دے تو ایسی صورت میں مرد نمازی کو چاہئے کہ وہ بآواز بلند سبحان اللہ کہہ کر نماز میں مشغول ہونے کا اشارہ کر دے۔ اسی طرح اگر کوئی عورت نماز پڑھ رہی ہو تو مذکورہ بالا صورت میں اس کے لئے یہ حکم ہے کہ وہ سبحان اللہ نہ کہے بلکہ تالی بجادے تاکہ باہر سے آواز دینے والا سمجھ لے کہ گھر میں صرف عورت موجود ہے اور وہ بھی نماز پڑھ رہی ہے۔ عورتوں کو سبحان اللہ کہنے سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ جس طرح وہ خود غیر مردوں کے سامنے نہیں آسکتی اسی طرح وہ اپنی آواز بھی غیر مرد کو نہیں سنا سکتی۔ اور ایسے موقعہ پر عورتوں کے لئے تالی بجانے کا بھی ایک طریقہ ہے وہ یہ کہ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کی پشت پر ماری جائے۔ ایک ہاتھ کی ہتھیلی کو دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی پر نہ مارا جائے جیسا کہ گانے والیاں تالی بجاتی ہیں کیونکہ اس طرح تالی بجانے سے نماز فاسد ہوجائے گی۔
نماز میں سلام کا جواب نہیں دینا چاہیے
عَنْ عَبْدِاﷲِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اﷲُ تَعَالیٰ عَنْہُ قَالَ کُنَّا نُسَلِّمُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَھُوَ فِی الصَّلٰوۃِ قَبْلَ اَنْ نَاتِیَ اَرْضَ الْحَبَشَۃِ فَیَرُدُّ عَلَیْنَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ اَرْضِ الْحَبَشَۃِ اَتَیْتُہ، فَوَجَدْتُہ، یُصَلِّی فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ حَتّٰی اِذَا قَضٰی صَلٰوتَہ، قَالَ اِنَّ اﷲَ یُحْدِثُ مِنْ اَمْرِہٖ مَا یَشَاءُ وَاِنَّ مِمَّا اَحْدَثَ اَنْ لاَّ تَتَکَلَّمُوْا فِی الصَّلٰوۃِ فَرَدَ عَلَیَّ السَّلَامَ وَقَالَ اِنَّمَا الصَّلٰوۃُ لِقَرَاءَ ۃِ الْقُرْاٰنِ وَذِکْرِ اﷲِ فَاِذَا کُنْتَ فِیْھَا فَلْیَکُنْ ذَالِکَ شَانَکَ۔ (رواہ ابوداؤد)
حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ملک حبشہ سے واپسی سے قبل ہم سرور کونین ﷺ کو جب کہ آپ ﷺ نماز میں ہوتے تھے سلام کرتے تھے اور آپ ﷺ ہمارے سلام کا جواب دے دیا کرتے تھے پھر جب ہم ملک حبشہ سے واپس ہوئے تو میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت میں نے آپ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا میں نے آپ ﷺ کو سلام کیا مگر آپ ﷺ نے جواب نہیں دیا جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوگئے تو فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے جس حکم کو چاہتا ہے ظاہر کرتا ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے اب یہ حکم ظاہر کیا ہے کہ نماز میں بات چیت نہ کیا کرو پھر آپ ﷺ نے میرے سلام کا جواب دیا اور اس کے بعد فرمایا نماز صرف قرآن پڑھنے اور اللہ کا ذکر کرنے کے لئے ہے لہٰذا جب تم نماز کی حالت میں ہو تو تمہارا بھی یہی حال ہونا چاہئے یعنی صرف قرآن پڑھو اور اللہ کا ذکر کرو۔ (ابوداؤد)
تشریح
ابن ملک (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ نماز سے فراغت کے بعد سلام کا جواب دینا مستحب ہے۔ اسی طرح اگر کوئی استنجاء کرتا ہوا ہو یا قرآن پڑھتا ہوا ہو اور کوئی دوسرا آدمی اسی حالت میں اسے سلام کرے تو اس کے لئے یہ مستحب ہے کہ وہ ان امور سے فراغت کے بعد سلام کا جواب دے۔
نماز میں اشارے سے سلام کا جواب دینے کا مسئلہ
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اﷲُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ قُلْتُ لِبَلَالٍ کَیْفَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم یَرُدُّ عَلَیْھِمْ حِیْنَ کَانُوْا یُسَلِّمُوْنَ عَلَیْہِ وَھُوَ فِی الصَّلٰوۃِ قَالَ کَانَ یُشِیْرُ بِیَدِہٖ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَفِیْ رَوَایَۃِ النَّسَائِیُّ نَحْوُہُ وَ عِوَضُ بِلَالٍ صُہَیْبٌ۔
اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت بلال ؓ سے پوچھا کہ جب سرور کونین ﷺ حالت نماز میں ہوتے تھے اور اس وقت کوئی آپ ﷺ کو سلام کرتا تھا تو آپ ﷺ سلام کا جواب کس طرح دیتے تھے؟ حضرت بلال ؓ نے فرمایا آپ ﷺ اپنے ہاتھ سے اشارہ کردیا کرتے تھے۔ (جامع ترمذی) اور نسائی میں ایک روایت بجائے عبداللہ ابن عمر ؓ کے صہیب ؓ سے اچھی طرح منقول ہے (یعنی ترمذی کی روایت میں تو یہ ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ نے حضرت بلال ؓ سے یہ سوال کیا اور نسائی کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت صہیب ؓ نے حضرت بلال سے ؓ یہ سوال کیا تھا)۔
تشریح
رسول اللہ ﷺ اگر حالت نماز میں ہوتے اور اس وقت کوئی آپ ﷺ کو سلام کرتا تو آپ ﷺ اس کے سلام کا جواب اپنے ہاتھ کے اشارے سے دیا کرتے تھے اور اشارہ کرنے کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ ہاتھ کا پنجہ کھول کر ہتھیلی کو زمین کی طرف لے جاتے تھے جیسا کہ ابوداؤد وغیرہ کی روایت میں اس کی صراحت بھی کی گئی ہے اور آپ ﷺ صرف انگلی سے اشارہ کرلینے پر اکتفا کرلیا کرتے تھے۔ نماز میں سلام کا جواب ہاتھ یا سر کے اشارے سے دینا مکروہ ہے فتاویٰ ظہیر میں مذکورہ ہے کہ اگر کوئی آدمی حالت نماز میں کسی کے سلام کے جواب میں ہاتھ یا سر کا اشارہ کرے تو اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی۔ خلاصہ میں لکھا ہے کہ اگر کوئی آدمی سر یا ہاتھ کے اشارے سے سلام کا جواب دے گا۔ تو اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی۔ صحیح اور مفتی بہ قول جو شرح منیہ اور شامی وغیرہ میں مذکور ہے وہ یہ ہے کہ نمازی کو کسی کے سلام کا جواب ہاتھ یا سر کے اشارہ سے دینا مکروہ تنزیہی ہے لہٰذا اب اس حدیث کی توجیہ یہ کی جائے گی کہ رسول اللہ ﷺ حالت نماز میں سلام کا جواب ہاتھ کے اشارہ سے اس وقت دیا کرتے تھے جب نماز میں بات چیت ممنوع نہیں قرار دیا گیا تھا جب نماز میں کسی قسم کی کوئی بھی گفتگو ممنوع قرار دے دی گئی تو سلام کا جواب بھی زبان یا اشارہ سے دینا منسوخ ہوگیا کیونکہ اشارہ کرنا بھی ایک طرح کلام ہی کے معنی ہیں۔
نمازی چھینکنے کے بعد حمد بیان کرنا
وَعَنْ رِفَاعَۃَ ابْنِ رَافِعٍ قَالَ صَلَّیْتُ خَلْفَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَعَطَسْتُ فَقُلْتُ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ مُبَارَکًا عَلَیْہِ کَمَا یُحِبُّ رَبُّنَا وَیَرْضٰی فَلَمَّا صَلّٰی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنْصَرَفَ فَقَالَ مَنِ الْمُتَکَلِّمُ فِی الصَّلٰوۃِ فَلَمْ یَتَکَلَّمْ اَحَدٌ ثُمَّ قَالَھَا الثَّانِیَۃَ فَلَمْ یَتَکَلَّمْ اَحَدٌ ثُمَّ قَالَھَا الثَّالِثَۃَ فَقَالَ رِفَاعَۃٌ اَنَا یَا رَسُوْلَ اﷲِ فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہٖ لَقَدْ اِبْتَدَرَھَا بِضْعَۃٌ وَثَلَاثُوْنَ مَلَکًا اَیُّھُمْ یَصْعَدُبِھَا۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی )
اور حضرت رفاعہ ابن رافع ؓ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں نے سرور کونین ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی نماز کے درمیان مجھے چھینک آگئی میں نے یہ کلمات حمد کہے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ مُبَارَکًا عَلَیْہ کَمَا یُحِبُّ رَبَّنَا وَ یَرْضٰی تمام تعریف اللہ کے لئے ہے بہت زیادہ تعریف بہت پاکیزہ یعنی خالص بابرکت) اور برکت کی گئی جیسی (تعریف) کہ دوست رکھتا ہے ہمارا رب اور پسند کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ جب نماز پڑھ چکے تو (ہماری طرف) متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ نماز میں باتیں کرنے والا کون ہے؟ رسول اللہ ﷺ کی ناراضگی کے خوف) سے کوئی نہیں بولا پھر آپ ﷺ نے دوسری مرتبہ یہی فرمایا جب بھی کوئی نہیں بولا جب تیسری مرتبہ آپ ﷺ نے یہی فرمایا تو رفاعہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں ہوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے (میں نے دیکھا ہے) کہ تیس سے زیادہ فرشتے ان کلمات کو لے جانے میں جلدی کر رہے تھے کہ ان میں سے کون پہلے اس کو لے جائے۔ (جامع ترمذی، ابوداؤد، سنن نسائی)
تشریح
ابن مالک (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز میں چھینکنے والے کے لئے حمد بیان کرنا جائز ہے لیکن اولیٰ یہ ہے کہ حمد دل میں کہے یا خلاف اولیٰ سے بچنے کی خاطر چھینک کے بعد سکوت اختیار کرے جیسا کہ شرح منیہ میں مذکور ہے۔
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلتَّثَاءُ بُ فِی الصَّلٰوۃِ مِنَ الشَّیْطٰنِ فَاِذَا تَثَاءَ بَ اَحَدُکُمْ فَلْیَکْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَفِی اُخْرٰی لَہ، وَ لِاِ بْنِ مَاجَۃَ فَلْیَضَعْ یَدَہ، عَلَی فِیْہِ۔
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا نماز میں جمائی لینا شیطان (کے اثر) سے ہے لہٰذا جب تم میں سے کسی کو نماز میں جمائی آئے تو اسے حتی الامکان روکنا چاہئے۔ جامع ترمذی کی ایک دوسری روایت اور ابن ماجہ کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں (کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ نماز میں جسے جمائی آئے تو اسے اپنا ہاتھ منہ پر رکھ لینا چاہئے۔ (جامع ترمذی )
تشریح
پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ جمائی کا آنا شیطانی اثر کی وجہ سے ہے کیونکہ جمائی عبادت میں کسل و سستی اور نیند و غفلت کا باعث بنتی ہے اور شیطان ان چیزوں سے خوش ہوتا ہے اس لئے جمائی کو شیطان کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔
نماز کے راستے میں انگلیوں کے درمیان تشبیک نہ کرنے کا حکم
وَعَنْ کَعْبِ ابْنِ عُجْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا تَوَضَّأُ اَحَدُکُمْ فَاَحْسَنَ وُضُوءَ ہ، ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا اِلٰی الْمَسْجِدِ فَلَا یُشَبِّکَنَّ بَیْنَ اَصَابِعِہٖ فَاِنَّہ، فِی الصَّلٰوۃِ۔ (رواہ احمد بن حنبل الترمذی و ابوداؤد و النسائی و الدارمی)
اور حضرت کعب ابن عجرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو اچھی وضو کرے پھر نماز کا ارادہ کر کے مسجد کی طرف چلے (تو اسے چاہیے کہ راستے میں انگلیوں کے درمیان تشبیک نہ کرے کیونکہ وہ اس وقت سے گویا نماز میں ہے۔ (مسند احمد بن حنبل، جامع ترمذی، ابوداؤد، سنن نسائی، دارمی)
تشریح
حدیث کے پہلے جزء کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی آدمی وضو کرے تو اسے چاہئے کہ وہ وضو کی تمام شرائط و آداب کو ملحوظ رکھے اور حضور قلب کے ساتھ وضو کرے تاکہ وضو پورے کمال اور حسن کے ساتھ ادا ہو۔ چناچہ علماء لکھتے ہیں کہ جس قدر توجہ اور حضور قلب وضو میں حاصل ہوگا اسی قدر نماز میں خشوع و خضوع اور توجہ پیدا ہوگی۔ تشبیک کیا ہے؟ حدیث کے دوسرے جزو کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی وضو کے بعد نماز کے ارادے سے مسجد کی طرف چلے تو راستے میں انگلیوں کے درمیان تشبیک نہ کرے یعنی ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر کھیلتا ہوا نہ چلے کیونکہ جب وہ نماز کی نیت سے گھر سے نکلا ہے تو گویا وہ نماز ہی میں ہے اور خشوع و خضوع کے منافی ہونے کی وجہ سے تشبیک چونکہ نماز میں ممنوع ہے اس لئے نماز کے راستے میں بھی یہ ممنوع ہے اسی پر قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جو چیز نماز میں ممنوع ہے وہ نماز کے لئے مسجد آتے ہوئے راستے میں بھی ممنوع ہوگی۔ اس حدیث سے اس بات پر تنبیہ مقصود ہے کہ بندے کو چاہئے کہ وہ نماز کے راستے میں حضور اور خشوع و ادب اور وقار کے ساتھ چلے محمد بن اسماعیل بخاری (رح) نے اپنی کتاب صحیح البخاری میں ایک باب مسجد میں تشبیک کے موضوع پر قائم کیا ہے جس کے تحت انہوں نے دو حدیثیں نقل کی ہیں دونوں حدیثیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ مسجد میں انگلیوں کے درمیان تشبیک جائز ہے لہٰذا علماء کرام نے لکھا ہے کہ اس حدیث سے ثابت شدہ ممانعت کا تعلق اس صورت میں ہے کہ جب کوئی آدمی انگلیوں کے درمیان تشبیک محض کھیل اور تفریح طبع کی خاطر کرے اور کوئی آدمی بطریق تمثیل کرے تو جائز ہے یا پھر صحیح البخاری کی روایت کردہ احادیث کی یہ توجیہ بھی کی جاسکتی ہے کہ ان احادیث کا تعلق اس وقت سے ہے جب کہ انگلیوں کے درمیان تشبیک کی ممانعت کا حکم نہیں ہوا تھا۔ وا اللہ اعلم۔
نماز میں ادھر ادھر دیکھنے سے ثواب میں کمی ہوجاتی ہے
وَعَنْ اَبِی ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَزَالُ اﷲُ تَعَالٰی عَزَّوَجَلَّ مُقْبِلًا عَلَی الْعَبْدِ وَھُوَ فِیْ صَلَا تِہٖ مَالَمْ یَلْتَفِتْ فَاِذَ الْتَفَتَ اِنْصَرَفَ عَنْہُ۔ (رواہ احمد بن حنبل و ابوداؤدو السنن نسائی والدارمی)
اور حضرت ابوذر ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کوئی بندہ نماز میں ہوتا ہے تو اللہ عز وجل اس بندے کی طرف اس وقت تک متوجہ رہتا ہے جب تک وہ ادھر ادھر (گردن پھیر کر نہیں دیکھتا چناچہ جب بندہ ادھر ادھر دیکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے منہ پھیر لیتا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد، سنن نسائی، دارمی)
تشریح
ابن ملک (رح) نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے منہ پھیرنے سے مراد یہ ہے کہ جب کوئی نمازی حالت نماز میں گردن پھیر کر ادھر ادھر دیکھتا ہے تو اس کے ثواب میں کمی ہوجاتی ہے۔ امام ترمذی (رح) نے حضرت انس ؓ سے ایک صحیح روایت نقل کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ جب بندہ نماز میں کھڑا ہوتا ہے۔ تو پروردگار اپنی بزرگ و برتر ذات کے ساتھ اس طرف متوجہ ہوتا ہے (مگر) جب وہ بندہ (نماز میں) ادھر ادھر دیکھتا ہے اور اپنی نظر کو غیر کی طرف متوجہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے ابن آدم تو کس کی طرف دیکھ رہا ہے کیا تیرے لئے مجھ سے بھی کوئی بہتر ہے کہ جس کی طرف تیری نظر متوجہ ہو رہی ہے؟ میری طرف اپنا منہ پھیر جب بندہ دوبارہ ادھر ادھر دیکھتا ہے تو پروردگار پھر یہی فرماتا ہے اور جب تیسری مرتبہ ادھر ادھر دیکھتا ہے تو اللہ جل شانہ اپنے روئے مبارک جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے اس بندے کی طرف سے پھیر لیتا ہے۔
نماز میں نظر سجدے کی جگہ پر رکھنی چاہیے
وَعَنْ اَنَسٍ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ یَا اَنَسُ اِجْعَلْ بَصَرَکَ حَیْثُ تَسْجُدُ رَوَاہُ الْبَیْھَقِیُّ فِیْ سُنَنِ الْکَبِیْرِ مِنْ طَرِیْقِ الْحَسَنِ عَنْ اَنَسٍ یَرْفَعَہ، الْجَزْرِیْ۔
اور حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ انس نماز میں تم اپنی نگاہ وہاں رکھو جہاں سجدہ کرتے ہو اس روایت کو بیہقی نے سنن کبیر میں حضرت انس ؓ سے بطریق حسن نقل کیا ہے جس کو جزری نے مرفوع کیا ہے۔
تشریح
اس حدیث سے بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ پوری نماز میں نظر سجدے کی جگہ رکھنی چاہئے چناچہ شوافع کا عمل اسی پر ہے مگر علامہ طیبی (رح) نے فرمایا ہے کہ مستحب یہ ہے کہ حالت قیام میں نظر سجدے کی جگہ، رکوع میں پشت قدم پر، سجدے میں ناک کی طرف اور بیٹھنے کی حالت میں زانو پر رکھنی چاہئے یہی مسلک حنفیہ کا بھی اتنے اضافے کے ساتھ ہے کہ سلام کے وقت نظر کندھوں پر رکھنی چاہئے بعض علماء کا یہ بھی قول ہے کہ حرم شریف میں نماز پڑھتے ہوئے نظر کعبہ پر رکھنی چاہئے۔ اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ نماز میں آنکھیں بند کرنا مکروہ ہے اصل مشکوٰۃ میں روایت کے بعد جگہ خالی ہے بعد میں کسی شارح نے البیہقی سے آخر تک کی عبادت کا اضافہ کیا ہے۔
نماز میں ادھر ادھر دیکھنے پر وعید
وَعَنْہُ قَالَ لِی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَا بُنَیَّ اِیَّاکَ وَالْاِلْتَفَاتَ فِی الصَّلٰوۃِ فَاِنَّ الْاِلْتِفَاتَ فِی الصَّلٰوۃِ ھَلَکَۃٌ فَاِنْ کَانَ لا بُدَّ فَفِی التَّطَوُّعِ لَا فِی الْفَرِیْضَۃِ۔ (رواہ الترمذی)
اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ اے میرے بیٹے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے سے بچو کیونکہ نماز میں (گردن پھیر کر) ادھر ادھر دیکھنا (آخرت میں) ہلاکت کا سبب ہے اور اگر دیکھنا ضروری ہو تو نفلوں میں (تو خیر مضائقہ نہیں) مگر فرضوں میں (ہرگز درست) نہیں۔ (جامع ترمذی)
تشریح
نماز میں گردن ادھر ادھر پھیر کر دیکھنا آخرت میں ہلاکت کا سبب اس لئے ہے کہ ایسا کرنے والا دراصل شیطان کی اطاعت کرنا ہے کیونکہ شیطان کا بھی یہی مقصد ہوتا ہے کہ بندہ نماز میں پوری توجہ اور لگن کے ساتھ نہ رہے بلکہ ان کی نظر اور اس کا خیال ادھر ادھر بھٹکتا رہے۔ حدیث کے الفاظ فان کان لا بد کا مطلب یہ ہے کہ اگر تمہارا احساس و شعور اور تمہاری سعادت اس بات سے متاثر نہیں ہوتی کہ تمہاری نماز میں نقصان ہوجائے یا نماز کا کمال ختم ہوجائے تو کم از کم فرض نماز میں تو ایسا نہ کرو کہ ادھر ادھر دیکھ کر اس نماز کے کمال کو ختم کرو ہاں نفل نماز میں تو کسی نہ کسی حد تک انگیز بھی کیا جاسکتا ہے کیونکہ نفل نماز فرض نماز کے مقابلے میں کچھ سہل ہے کہ فرض نماز کے لئے بہت زیادہ اور کامل اہتمام کی ضرورت ہوتی ہے اور اس میں ذرا سا بھی نقصان اخروی حیثیت سے تباہی و ہلاکت کا باعث بن سکتا ہے اور عقلمندی اور سعادت کا تقاضا تو یہ ہونا چاہئے کہ ادھر ادھر دیکھ کر نفل نماز میں کوئی نقصان نہ پیدا کرنا چاہیے حقیقت میں نفل نماز کا نقصان فرض نماز کے نقصان کا باعث ہے اس لئے کہ نوافل در حقیق فرائض کی تکمیل کرنے والے ہیں لہٰذا حدیث کے اس جملے سے یہ مطلب اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ نفل نماز میں ادھر ادھر دیکھنا مکروہ نہیں بلکہ اس کا مقصد اس بات کی طرف رغبت دلاتا ہے کہ فرض نماز اپنی عظمت و اہمیت کے اعتبار سے اس بات کو برداشت نہیں کرسکتی کہ اس قسم کے افعال کا ارتکاب کر کے نماز میں نقصان پیدا کیا جائے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث اس بات کو واضح کر رہی ہے کہ نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کی کراہت فرض نماز کی بہ نسبت نفل نماز میں کم ہے۔