نماز میں کن آنکھیوں سے ادھر ادھر دیکھنا مکروہ نہیں ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اﷲُ تَعَالَی عَنْھُمَا قَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یَلْحَظُ فِی الصَّلٰوۃِ یَمِیْنَاہُ شِمَالًا وَیَلْوِیْ عُنُقَہ، خَلْفَ ظَھْرِہٖ۔ ( رواہ الترمذی والنسائی )
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ نماز میں کن انکھیوں سے دائیں بائیں دیکھتے تھے مگر پیچھے پیٹھ کی طرف اپنی گردن کبھی نہیں موڑ تے تھے۔ (جامع ترمذی، سنن نسائی )
تشریح
رسول اللہ ﷺ نماز میں دائیں بائیں کن انکھیوں سے یا تو اس لئے دیکھتے تھے تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ نماز میں اس طرح دیکھنا نماز کو باطل نہیں کرتا یا پھر اپنے پیچھے کھڑے ہوئے مقتدیوں کے احوال دیکھنے کے لئے آپ ﷺ اس طرح دیکھا کرتے تھے۔ بہر حال اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گردن گھما کر ادھر ادھر دیکھنا تو مکروہ ہے مگر کن اکھیوں سے اس طرح دیکھنا کہ گردن کا رخ تبدیل نہ ہو مکروہ نہیں ہے اگرچہ اس طرح نہ دیکھنا بھی اولیٰ ہے۔
وَعَنْ عَدِیِّ ابْنِ ثَابِتٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ رَفَعَہ، قَالَ اَلْعُطَاسُ وَالنُّعَاسَ وَالتَّثَاءُ بُ فِی الصَّلٰوۃِ وَالْحَیْضُ وَالْقُئُ وَالرُّعَافُ مِنَ الشَّیْطٰنِ۔ (رواہ الترمذی)
اور حضرت عدی ابن ثابت اپنے والد مکرم سے اور وہ اپنے والد یعنی عدی کے دادا سے جنہوں نے اس حدیث کو رسول اللہ ﷺ تک پہنچایا ہے نقل کرتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا نماز میں چھینکنا، اونگھنا، جمائی کا آنا اور حیض کا آنا اور قے کا ہونا اور نکسیر کا پھوٹنا شیطان کے (اثر) سے ہے۔ (جامع ترمذی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں جب نماز میں پیدا ہوتی ہیں تو شیطان بہت زیادہ خوش ہوتا ہے کیونکہ ان چیزوں سے نماز پر اثر پڑتا ہے۔ یہاں چھینک سے مراد بکثرت چھینکنا ہے لہٰذا یہ حدیث اس روایت کے منافی نہیں ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ چھینکنے کو پسند کرتا ہے کیونکہ اس چھینکنے سے مراد معتدل طریقے پر چھینکنا ہے اور معتدل کا اطلاق تین سے کم پر ہوتا ہے۔ ان دونوں احادیث کے درمیان ظاہری وجہ تطبیق یہ ہوسکتی ہے کہ نماز کے علاوہ دوسرے اوقعات میں چھینکنے کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور مکروہ چھینک وہ ہے جو نماز میں آئے۔ ان چیزوں سے شیطان اس لئے خوش ہوتا ہے کہ چھینکنا قرأت و حضور کے لئے مانع ہے اور اونگھ اور جمائی عبادت میں کسل و سستی کا باعث ہیں اور حیض و نکسیر و قے مفسد صلوٰۃ ہیں۔ حدیث میں پہلی تین چیزوں (چھینک، اونگھ، جمائی کے) ذکر کے بعد فی الصلوٰۃ ذکر کے آخر کی تین چیزیں (یعنی حیض، قے، نکسیر) کو جدا کردیا گیا ہے اس سے اس طرف اشارہ مقصود ہے کہ پہلی تین چیزیں مفسد صلوٰۃ نہیں ہیں بلکہ مکروہ ہیں جب کہ آخری تینوں چیزیں مفسد صلوٰۃ ہیں یعنی ان سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔
رونے سے نماز باطل نہیں ہوتی
وَعَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِاﷲِ بْنِ الشِّخِّیْرِ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ اَتَیْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم وَھُوَ یُصَلِّی وَلِجَوفِہٖ اَزِیْرٌ کَاَزِیْرِ الْمِرْجَلِ یَعْنِی یَبْکِیْ وَفِیْ رِوَایَۃٍ قَالَ رَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَفِیْ صَدْرِہٖ اَزِیْرٌ کَاَزِیْرِ الرَّحٰی مِنَ البُکَاءِ رَوَاہُ اَحْمَدُ وَارَوَی النِّسَائِیُ الرَّوَایَۃَ الْاُوْلٰی وَ اَبُوْدَاؤدَ الثَّانِیَۃَّ۔
اور حضرت مطرف ابن عبداللہ بن شخیر اپنے والد مکرم سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں ایک روز سرور کونین ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے اور آپ ﷺ کے اندر سے دیگ کے جوش جیسی آواز آرہی تھی یعنی رسول اللہ ﷺ رو رہے تھے اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اس وقت آپ ﷺ کے سینہ سے چکی کی سی رونے کی آواز آرہی تھی۔ (مسند احمد بن حنبل)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رونے سے نماز باطل نہیں ہوتی ہدایہ میں اس مسئلے کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے کہ اگر کوئی آدمی نماز میں بہت روئے اور دوزخ یا عذاب وغیرہ کے ذکر اور یاد سے متاثر ہو کر آہ کرے یا بآواز روئے تو اس کی نماز باطل نہیں ہوگی اور اگر کوئی آدمی کسی جسمانی درد اور تکلیف کی شدت کی وجہ سے آہ کرے یا بآواز بلند روئے تو اس کی نماز ٹوٹ جائے گی۔
نماز میں کنکریاں نہ ہٹانے کا حکم
وَعَنْ اَبِی ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا قَامَ اَحَدُکُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَـلَا یَمْسَحُ الْحَصَا فَاِنَّ الرَّحْمَۃَ تُوَاجِھُہ، ۔ (رواہ احمد بن حنبل والترمذی، وابوداؤد و النسائی و ابن ماجۃ)
اور حضرت ابوذر ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی نماز کے لئے کھڑا ہوجائے تو اسے ہاتھ سے کنکری نہیں ہٹانی چاہیے کیونکہ رحمت اس کے سامنے ہوتی ہے۔ (مسند احمد بن حنبل، جامع ترمذی ِ سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ)
تشریح
رحمت سامنے ہوتی ہے کہ مطلب یہ ہے کہ جب کوئی آدمی دنیا سے منہ موڑ کر نماز کی حالت میں اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو اس وقت اس کے سامنے رحمت الہٰی کا نزول ہوتا ہے اس لئے ایسے مقدس و باعظمت موقع پر نمازی کے لئے مناسب نہیں کہ وہ کنکریوں سے کھیل کرے یا اس قسم کا کوئی دوسرا فعل کر کے بےادبی کا معاملہ کرے کہ جس کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے انوار فضل و رحمت سے محروم ہوجائے۔
سجدے کی جگہ کو صاف کرنے کے لئے پھونک نہ ماری جائے
وَعَنْ اُمِّ سَلْمَۃَ رَضِیَ اﷲُ عَنْھَا قَالَتْ رَأَی النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلمغُلَامًا لَنَا یُقَالَ لَہ، اَفْلَحُ اِذَا سَجَدَ نَفَخَ فَقَالَ یَا اَفْلَحُ تَرِّبْ وَجْھَکَ۔ (رواہ الترمذی)
اور ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے ہمارے ایک غلام جس کا نام افلح تھا دیکھا کہ وہ جب سجدہ کرتا ہے تو سجدے کی جگہ کو صاف کرنے کے لئے پھونک مارتا ہے تاکہ منہ خاک آلود نہ ہوجائے رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ افلح اپنے منہ پر مٹی لگنے دو۔ (جامع ترمذی )
تشریح
رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ سجدے کی جگہ کو پھونک مار کر صاف نہ کرو بلکہ اپنے منہ کو خاک آلود ہوجانے دو کیونکہ بار گاہ الٰہی میں حاضری کے وقت اظہار عجز و بےکسی کا یہ بہترین ذریعہ ہے۔ اس سے بہت زیادہ ثواب حاصل ہوتا ہے۔
کوکھ پر ہاتھ رکھنا دوذخیوں کے آرام لینے کی صورت ہے
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اﷲُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَ لْاِخْتِصَارُ فِی الصَّلٰوۃِ رَاحَۃُ اَھْلِ النَّارِ۔ (رواہ فی السنۃ)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا نماز میں اختصار (یعنی کوکھ پر ہاتھ رکھنا) دوزخیوں کے آرام لینے کی صورت ہے۔ (ابوداؤد)
تشریح
اس باب کی حدیث نمبر ٤ کے فائدے کے ضمن میں خصر و اختصار کی وضاحت کی جا چکی ہے وہاں یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ میدان حشر میں جب دوزخی کھڑے کھڑے بہت زیادہ تکلیف محسوس کریں گے تو وہ اپنے کوکھ پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہوجائیں گے اور اس طرح وہ کچھ دیر کے لئے آرام اور سکون کی خواہش کریں گے اس لئے رسول اللہ ﷺ نے نماز میں کوکھ پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہونے کو منع فرمایا ہے کہ دوزخیوں کے ساتھ مشابہت نہ ہو۔
نماز میں سانپ و بچھو مارنے کا مسئلہ
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اﷲُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اُقْتُلُوالْاَسْوَدَیْنِ فِی الصَّلٰوۃِ الْحَیَّۃَ وَالْعَقْرَبَ۔ (رواہ احمد بن حنبل و ابوداؤد، والترمذی و النسائی معناہ ۔)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ نماز میں دو کالوں یعنی سانپ اور بچھو کو مار ڈالو۔ احمد، ترمذی اور نسائی بالمعنیٰ )
تشریح
ابن ملک (رح) فرماتے ہیں کہ ایسی حالت میں نماز پڑھتے ہوئے سانپ یا بچھو سامنے آجائے تو ان کو ایک چوٹ یا دو چوٹ کے ساتھ مارنا چاہیے اس سے زیادہ چوٹ نہ مارنی چاہیے کیونکہ یہ عمل کثیر ہوجائے گا جس سے نماز فاسد ہوجائے گی۔ شرح منیہ میں بعض مشائخ کا قول مذکور ہے کہ یہ (یعنی نماز میں سانپ بچھو مارنے کا حکم) اس صورت میں ہے جب کہ نمازی کو بہت زیادہ یعنی تین قدم پے در پے چلنا نہ پڑے اور نہ زیادہ مشغولیت ہو یعنی تین چوٹ پے در پے مارنے کی ضرورت پیش نہ آئے اور اگر کوئی نمازی سانپ یا بچھو مارنے کی غرض سے پے در پے تین قدم چلے گا یا پے در پے چوٹیں مارے گا تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی۔ کیونکہ اتنا زیادہ چلنا یا اتنی مقدار مشغولیت اختیار کرنا عمل کثیر ہے۔ سرخسی نے اسے مبسوط میں ذکر کیا ہے اور پھر کہا ہے کہ بہتر یہ ہے کہ اس سلسلے میں یہ فرق نہ کیا جائے کہ تین قدم چلنے سے یا تین چوٹیں مارنے سے نماز فاسد ہوجائے گی کیونکہ جس طرح حدیث پیش آجانے (یعنی وضو ٹوٹ جانے کی شکل میں زیادہ چلنے کی سہولت دی گئی ہے اسی طرح اس مسئلے میں بھی سہولت دی گئی ہے۔ لیکن تحقیقی طور پر صحیح بات یہی ہے کہ تین قدم چلنے یا تین چوٹ مارنے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے۔ البتہ اتنی سہولت ہے کہ ایسے موقع پر جب کہ سانپ یا بچھو نماز میں سامنے آجائے اور اس کا مارنا ضروری ہو تو ایسی صورت میں ان کو مارنے کے لئے نماز توڑ دینا مباح ہے جیسا کہ کسی مظلوم کی فریاد رسی یا کسی کو ڈوبنے اور ہلاکت سے بچانے کی خاطر نماز توڑ دینا مباح ہے یعنی اگر کسی کے چھت سے گر جانے یا آگ میں جل جانے یا کنویں وغیرہ میں ڈوب جانے کا قوی خطرہ ہو اور قریب ہی ایک آدمی نماز میں ہو تو اس نمازی کو چاہئے کہ نماز کو توڑ دے اور انہیں بچانے کی کوشش کرے یا اسی طرح کسی نمازی کو حالت نماز میں اپنی یا غیر کی کسی چیز کے ضائع ہوجانے کا خوف ہو اور اس کی قیمت ایک درہم تک ہو تو اسے اس چیز کو بچانے کے لئے نماز توڑ دینا جائز ہے۔ اس حدیث سے بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف کالے سانپ ہی کو مارا جاسکتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ حدیث میں کالے سانپ کی تخصیص محض تغلیبا کی گئی ہے چناچہ ہدایہ میں لکھا ہے کہ ہر قسم کے سانپوں کو مارنا جائز ہے کالے سانپوں ہی کی تخصیص نہیں ہے۔
رسول اللہ ﷺ نماز کے حالت میں دروازہ کھولتے تھے
وَعَنْ عَآئِشَۃَ رَضِیَ اﷲُ عَنْھَا قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُصَلِّی تَطَوُّعًا وَالْبَابُ عَلَیْہِ مُغْلَقٌ جِئْتُ فَاسْتَفْتَحْتُ فَمْشٰی فَفَتَحَ لِیْ ثُمَّ رَجَعَ اِلٰی مُصَلاَّہُ وَذَکَرَتْ اَنَّ الْبَابَ کَانَ فِی الْقِبْلَۃِ ۔ (رواہ احمد بن حنبل، و ابوداؤد، والترمذی و النسائی نحوہ)
اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرور کونین ﷺ گھر میں نفل نماز میں مشغول ہوتے اور دروازہ بند رہا کرتا تھا میں ( گھر میں آتی تو دروازہ کھلواتی اور آپ ﷺ چل کر میرے لئے دروازہ کھول دیا کرتے تھے پھر مصلے پر واپس آجاتے ( اور اپنی نماز میں مشغول ہوجاتے) اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ دروازہ قبلے کی جانب تھا۔ (مسند احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ دروازہ چونکہ قبلے کی طرف تھا اس لئے رسول اللہ ﷺ دروازہ کھولنے کے لئے تشریف لاتے تھے تو آپ ﷺ کا چہرہ مبارک قبلے کی طرف سے پھرتا نہیں تھا کیونکہ قبلہ سامنے ہی ہوتا تھا پھر جب مصلے پر واپس تشریف لاتے تو پچھلے پاؤں ہٹ کر آتے تھے تاکہ پشت قبلے کی طرف نہ ہو۔ علماء لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا حجرہ مبارک زیادہ وسیع و عریض نہیں بلکہ بہت تنگ تھا اس لئے ایک دو قدم سے زیادہ چلنا نہیں پڑھتا تھا کہ یہ عمل کثیر ہوتا لیکن اس کے باوجود ایک اشکال پھر بھی واقع ہوتا ہے کہ دو قدم چلنا دروازہ کھولنا پھر مصلے پر واپس آنا یہ سب مل کر تو عمل کثیر ہوجاتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ افعال پے در پے نہیں ہوتے تھے کہ عمل کثیر ہو سکیں۔
نماز میں وضو ٹوٹ جانے کا مسئلہ
وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِیٍّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا فَسَا اَحَدُکُمْ فِی الصَّلٰوۃِ فَلْیَنْصَرِفْ وَلْیَتَوَضَّأْ وَلْیُعِدِ الصَّلَاۃَ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَرَوَی التَّرِمِذِیُّ مَعَ زِیَادَۃٍ وَ نُقْصَانٍ۔
اور حضرت طلق ابن علی ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا نماز کی حالت میں جب تم میں سے کسی کی بغیر آواز کے ریح خارج ہو تو اسے چاہیے کہ جا کر وضو کرے اور نماز کو دوبارہ پڑھے۔ اس روایت کو ترمذی نے بھی کچھ کمی زیادتی کے ساتھ نقل کیا ہے۔ (ابوداؤد)
تشریح
جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر نماز کی حالت میں کسی کی ریح خود بخود خارج ہوجائے تو اسے وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھنا افصل ہے لیکن فقہی شرائط کے مطابق اگر کوئی آدمی وضو کر کے نماز از سر نو شروع نہ کرے بلکہ جہاں سے نماز چھوڑی تھی اسی پر بقیہ نماز کی بناء کرے تو جائز ہے چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا یہی مسلک ہے اور انہوں نے اس حدیث سے ثابت کیا ہے لیکن حضرت امام شافعی، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمم اللہ تعالیٰ علیہم کے نزدیک یہ جائز نہیں ہے۔ یہ مسئلہ تو خود بخود ریح خارج ہونے کا ہے، اگر کوئی آدمی حالت نماز میں قصدا ریح خارج کرے تو اس کے لئے دوبارہ وضو کر کے از سر نو نماز پڑھنا واجب ہے۔
نماز میں وضو ٹوٹ جانے کا مسئلہ
وَعَنْ عَآئِشَۃَ اَنَّھَا قَالَتْ قَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا اَحْدَثَ اَحَدُکُمْ فِی صَلَا تِہٖ فَلْیَأْخُذْ بِاَنْفِہٖ ثُمَّ لِیَنْصَرِفْ۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا وضو حالت نماز میں ٹوٹ جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی ناک پکڑ کر نماز سے نکل آئے۔ (ابوداؤد)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر حالت نماز میں کسی آدمی کی ریح خارج ہوجائے تو اسے چاہیے کہ وہ ناک پکڑ کر وضو کے لئے چلا جائے تاکہ لوگ یہ گمان کریں کہ نکسیر پھوٹی ہے۔ ناک پکڑ کر نماز سے نکلنے کا حکم اس لئے فرمایا گیا تاکہ ایسا آدمی ایسے موقعہ پر شرمندگی و ندامت سے بچ جائے۔ کیونکہ یہ ظاہر ہے کہ جس آدمی کی ریح خارج ہوئی ہے عام طور پر شرمندگی و ندامت کا باعث بنتا ہے پھر یہ کہ لوگ اس کے بارے میں کوئی چہ میگوئی نہ کریں گے بلکہ یہ جانیں گے کہ اس کی نکسیر پھوٹ گئی ہے جس کی وجہ سے نماز سے نکل گیا ہے۔ اس لئے علماء نے لکھا ہے کہ اگر کسی آدمی سے کوئی ایسا فعل سرزد ہوجائے جو لوگوں کی نظروں میں معیوب اور محل اعتراض بنتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ اس فعل کو پوشیدہ رکھے اور لوگوں پر ظاہر نہ کرے تاکہ لوگ نہ اس کے بےآبروئی کے درپے ہوں اور نہ کھلم کھلا اس کی طرف وہ عیب منسوب کیا جائے جسے وہ چھپائے رکھنا چاہتا ہے اور اس کا یہ فعل چھپانا جھوٹ میں شمار نہیں ہوگا بلکہ معاریض ( کسی واقعہ کو اس طرح بیان کرنا کہ واقعہ کی پوری صراحت نہ ہو ایسے انداز کو تعریض فرماتے ہیں۔ ١٢)۔ کی قسم سے ہوگا۔
نماز میں وضو ٹوٹ جانے کا مسئلہ
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا اَحْدَثَ اَحَدُکُمْ وَقَدْ جَلَسَ فِیْ اٰخِرِصَلَاتِہٖ قَبْلَ اَنْ یُسَلِّمَ فَقَدْ جَازَتْ صَلٰوتُہُ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ اِسْنَادُہُ لَیْسَ بِالْقَوِیِّ وَقَدِ اضْطَرَبُوْا فِی اَسْنَادِہٖ۔
اور حضرت عبدا اللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کا وضو اس وقت ٹوٹے جب کہ وہ اپنی نماز کے آخری قعدے میں (بمقدار تشہد بیٹھ چکا) ہو اور سلام نہ پھیرا ہو تو اس کی نماز پوری ہوگئی۔ ترمذی نے اسے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک ایسی حدیث ہے جس کی اسناد مضبوط نہیں ہے اور انہوں نے اس کی اسناد میں اضطراب ہونا بیان کیا ہے۔
تشریح
حدیث کی مذکورہ صورت میں امام ابوحنیفہ (رح) کا مسلک یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی قصدًا وضو توڑے گا تو اس کی نماز پوری ہوجائے گی کیونکہ اس کے نزدیک نمازی کا اپنے کسی بھی فعل کے ذریعے نماز سے نکلنا فرض ہے یعنی اگر کوئی آدمی نماز کے پورے ارکان ادا کرنے کے بعد نماز کو مکمل طور ختم کرنا چاہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ کوئی ایسا فعل اختیار کرے جو نماز کے خاتمے کا ذریعہ بن جائے جیسا کہ سلام پھیرنا۔ چنانچہ اتنی بات سمجھ لیجئے کہ امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک نماز کو محض سلام کے ذریعے ہی ختم کرنا فرض نہیں ہے بلکہ اگر کوئی آدمی نماز کے ارکان کے بعد بجائے سلام پھیرنے کے کوئی ایسا دوسرا فعل اختیار کرے جو نماز کے منافی ہو تو اس کی نماز پوری ہوجائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ امام اعظم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی آخری قعدے میں تشہد وغیرہ پڑھنے کے بعد قصدا اپنا وضو توڑ ڈالے تو اس کی نماز پوری ہوجائے گی کیونکہ اس نے نماز کے ارکان پورے کرنے کے بعد ایسا طریقہ اختیار کیا ہے جو نماز کے خاتمہ کا ذریعہ بن گیا ہے اگرچہ وہ ترک واجب کا گنہ گاہ ہوگا مگر فرض ادا ہوجائے گا کیونکہ امام اعظم کے نزدیک سلام کے ذریعہ نماز کو پورا کرنا واجب ہے۔ صاحبین یعنی امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کے نزدیک قصدا وضو توڑنے کی شرط نہیں ہے بلکہ یہ حضرات فرماتے ہیں کہ مذکورہ بالا صورت میں کسی کا وضو خود بخود ٹوٹ جائے تو اس کی نماز تمام ہوجائے گی یعنی فرض پورا ہوجائے گا۔ لہٰذا امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک یہ حدیث قصدا وضو توڑنے پر محمول ہے اور صاحبین کے نزدیک مطلق ہے خواہ کوئی قصدا وضو توڑ دے یا اس کا وضو خود بخود ٹوٹ جائے۔ چناچہ یہ حدیث حنفیہ خصوصا صاحبین کے مسلک کی موید ہے بخلاف حضرات امام شافعی (رح) کے کہ ان کے نزدیک نماز کو صرف سلام کے ذریعے پورا کرنا فرض ہے۔ حدیث مضطرب وہ حدیث کہلاتی ہے جو مختلف الفاظ اور مختلف وجوہ سے نقل کی گئی ہو اور یہ چیز حدیث کے ضعف کی علامت ہوتی ہے کیونکہ حدیث کا اس طرح مروی ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ راویان حدیث کو حدیث پوری طرح یاد نہیں رہی۔ ملا علی قاری (رح) نے اس حدیث کو مضطرب و ضعیف تسلیم نہیں کیا ہے بلکہ انہوں نے کہا ہے کہ یہ حدیث متعدد طرق سے مروی ہے جن کو امام طحاوی (رح) نے نقل کیا ہے اور اصول حدیث میں یہ بات مسلم ہے کہ کسی حدیث ضعیف کا متعدد طرق سے مروی ہونا اسے حسن کے قریب کردیتا ہے۔
عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم خَرَجَ اِلَی الصَّلَاۃِ فَلَمَّا کَبَّرَ اِنْصَرَفَ وَاَوْمَأَ اِلَیْھِمْ اَنْ کَمَا کُنْتُمْ ثُمَّ خَرَجَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ جَاءَ وَرَأسُہُ یَقْطُرُ فَصَلّٰی بِھِمْ فَلَمَّا صَلّٰی قَالَ اِنِّی کُنْتُ جُنُبًا فَنَسِیْتُ اَنْ اَغْتَسِلَ رَوَاہُ اَحْمَدُ وَرَوَی مَالِکٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ یَسَارٍمُرْسَلًا۔
اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) سرور کونین ﷺ نماز کے لئے (مسجد میں) تشریف لائے۔ جب تکبیر کہنے کا ارادہ کیا گیا تو آپ ﷺ پیچھے مڑے اور صحابہ کرام کو یہ اشارہ کر کے کہ تم اپنی اپنی جگہ کھڑے رہو، مسجد سے باہر نکلے، چناچہ آپ ﷺ نے غسل کیا اور اس حال میں واپس تشریف لائے کہ آپ ﷺ کے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، پھر آپ ﷺ نے صحابہ کو نماز پڑھائی۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوگئے تو فرمایا کہ مجھے غسل کی حاجت تھی مگر میں غسل کرنا بھول گیا تھا۔ (مسند احمد بن حنبل) امام مالک نے بھی اس حدیث کو عطاء ابن یسار سے بطریق ارسال نقل کیا ہے۔
سجدے کی جگہ کو گرمی سے بچانے کے لئے حضرت جابر کا طریقہ
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ کُنْتُ اُصَلِّی الظُّھْر مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَاٰخُذُ قَبْضَۃً مِنَ الْحَصٰی لِتَبْرُدَ فِیْ کَفِّی اَضَعُھَا لِجَبْھَتِیْ اَسْجُدُ عَلَیْھَا لِشِدَّۃِ الْحَرِّ۔ (رواہ ابوداؤد وروی النسائی نحوہ)
اور حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ میں ظہر کی نماز سرور کونین ﷺ کے ہمراہ پڑھا کرتا تھا اور ایک مٹھی میں کنکریاں لے لیتا تھا کہ وہ میرے ہاتھ میں ٹھنڈی ہوجائیں۔ چناچہ (سجدے کی جگہ کی) شدت گرمی سے بچنے کی خاطر میں ان کنکریوں کو سجدے کے وقت اپنی پیشانی کے نیچے رکھ لیتا تھا۔ (ابوداؤد، سنن نسائی )
تشریح
اس حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نماز میں اس قدر فعل اختیار کرنا معاف ہے اور اتنا فعل کثیر بھی نہیں ہے۔
نماز میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شیطان کا ایک عجیب معاملہ
وَعَنْ اَبِی الدَّرْدَآءِ رضی اللہ عنہ قَالَ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےُصَلِّیْ فَسَمِعْنَاہُ ےَقُوْلُ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْکَ ثُمَّ قَالَ اَلْعَنُکَ بِلَعْنَۃِ اللّٰہِ ثَلٰثًا وَبَسَطَ ےَدَہُ کَاَنَّہُ ےَتَنَاوَلُ شَےْئًا فَلَمَّا فَرَغَ مِنَ الصَّلٰوۃِ قُلْنَا ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَدْ سَمِعْنَاکَ تَقُوْلُ فیِ الصَّلٰوۃِ شَےْئًا لَمْ نَسْمَعْکَ تَقُوْلُہُ قَبْلَ ذٰلِکَ وَرَأَےْنَاکَ بَسَطْتَّ ےَدَکَ قَالَ اِنَّ عَدُوَّاللّٰہِ اِبْلِےْسَ جَآءَ بِشِھَابٍ مِّنْ نَّارٍ لِّےَجْعَلُہُ فِی وَجْھِیْ فَقُلْتُ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْکَ ثَلٰثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قُلْتُ اَلْعَنُکَ بِلَعْنَۃِ اللّٰہِ التَّآمَّۃِ فَلَمْ ےَسْتَاخِرْ ثَلٰثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ اَرَدْتُّ اَنْ اٰخُذَہُ وَاللّٰہِ لَوْ لَا دَعْوَۃُ اَخِےْنَا سُلَےْمَانَ لَاَصْبَحَ مُوْثَقًا ےَّلْعَبُ بِہٖ وِلْدَانُ اَھْلِ الْمَدِےْنَۃِ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت ابودرداء ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک روز) سرور کونین ﷺ کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے (نماز کے درمیان) میں نے سنا کہ آپ ﷺ فرما رہے ہیں میں تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں پھر آپ ﷺ نے تین مرتبہ یہ فرمایا کہ میں تجھ پر لعنت کرتا ہوں، اللہ کی لعنت اور (یہ فرماتے ہوئے) آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک اس طرح پھیلائے گویا آپ ﷺ کسی چیز کو پکڑ رہے ہوں، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوگئے تو ہم نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ! ہم نے آج آپ ﷺ کو نماز میں ایسی بات کہتے ہوئے سنا ہے کہ اس سے پہلے کبھی آپ ﷺ کو یہ کہتے نہیں سنا اور آج ہم نے آپ ﷺ کو ہاتھ پھیلاتے ہوئے بھی دیکھا ہے؟ آپ ﷺ نے یہ فرمایا اللہ کا دشمن ابلیس ملعون آگ کا شعلہ لے کر آیا تھا تاکہ اسے میرے منہ میں ڈالے چناچہ میں تین مرتبہ یہ کہا کہ میں تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں پھر میں نے کہا کہ میں تجھ پر لعنت کرتا ہوں اللہ کی پوری لعنت، وہ نہیں ہٹا تو میں نے (یہ الفاظ) تین مرتبہ کہے، جب وہ پھر بھی نہ ہٹا تو میں نے (اپنے ہاتھ پھیلا کر) اسے پکڑانا چاہا لیکن اللہ کی قسم! اگر ہمارے بھائی سلیمان کی دعا نہ ہوتی تو وہ (مسجد کے ستون) سے صبح تک بندھا رہتا اور مدینہ کے بچے اس کے ساتھ کھیلتے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اسی باب کی حدیث نمبر ٩ کے ضمن میں اس کی وضاحت کی جا چکی ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے جنات کے تابع ہونے اور ان پر تصرف کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی تھی جو قبول ہوئی اور جنات ان کے فرمانبردار ہوئے چناچہ یہ سوچ کر کہ اس معاملے میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی امتیازی حیثیت پر اثر پڑے گا رسول اللہ ﷺ نے اس کو اپنا تابع کرنا نہیں چاہا اس حدیث سے یہ بات پوری قوت کے ساتھ ثابت ہوتی ہے کہ ابلیس یقینا جنات کی قوم سے ہے۔
نماز میں اشارے سے سلام کا جواب دینے کا مسئلہ
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ اَنَّ عَبْدَاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ مَرَّعَلٰی رَجُلٍ وَھُوَ یُصَلِّی فَسَلَّمَ عَلَیْہِ فَرَد الرَّجُلُ کَلَامًا فَرَجَعَ اِلَیْہِ عَبْدُاﷲِ بْنِ عُمَرَ فَقَالَ لَہُ اِذَا سُلِّمَ عَلٰی اَحَدِکُمْ وَھُوَ یُصَلِّی فَلَا یَتَکَلَّمْ وَ لْیُشِرْ بِیَدِہٖ۔ (رواہ مالک)
اور حضرت نافع فرماتے ہیں کہ (ایک روز) حضرت عبدا اللہ بن عمر ؓ کا گذر ایک آدمی پر ایسی حالت میں ہوا کہ وہ نماز پڑھ رہا تھا۔ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ نے اس آدمی کو سلام کیا اور اس نے حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کے سلام کا جواب زبان سے دیا، حضرت عبداللہ ابن ؓ اس کی طرف لوٹے اور فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو نماز پڑھنے کی حالت میں سلام کیا جائے تو اس کو بولنا نہیں چاہئے بلکہ اسے چاہئے کہ وہ سلام کا جواب دینے کے لئے) اپنے ہاتھ سے اشارہ کر دے۔ (مالک)
تشریح
اسی باب میں حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کی ایک روایت (نمبر ١٢) گذر چکی ہے۔ اس کے فائدہ کے ضمن میں نماز کی حالت میں ہاتھ یا سر کے اشارے سے سلام کا جواب دینے کا مسئلہ بیان کیا جا چکا ہے کہ یہ حکم پہلے تھا پھر بعد میں اشارے سے بھی سلام کا جواب دینا منسوخ ہوگیا۔
نماز کے سنن و مستحبات اگر ترک ہوجائیں تو اس سے نماز میں کوئی خرابی نہیں آتی یعنی نماز صحیح ہوجاتی ہے اور نماز کے فرائض میں سے کوئی چیز اگر سہواً یا عمداً چھوٹ جائے تو نماز فاسد ہوجاتی ہے جس کا کوئی تدارک نہیں جس کی وجہ سے نماز کا اعادہ ضروری ہوتا ہے۔ نماز کے واجبات میں سے اگر کوئی چیز عمداً چھوڑی جائے تو اس کا بھی تدراک نہیں ہوسکتا اور نماز فاسد ہوجاتی ہے اور اگر نماز کے واجبات میں سے کوئی چیز عمداً نہیں بلکہ سہوا چھوڑ دی جائے تو اس کا تدارک ہوسکتا ہے اور وہ تدارک یہ ہے کہ قعدہ اخیر میں التحیات دورد شریف اور دعا حسب معمول پڑھ کر سلام پھیرا جائے انہیں سجدوں کو سجدہ سہو کیا جاتا ہے۔ اتنی بات سمجھ لیجئے کہ سرکار دو عالم ﷺ کے ان اقوال میں جو شرعی چیزوں کی خبر دینے اور دینی احکام کے بیان سے متعلق ہیں نہ تو کبھی سہو ہوا ہے اور نہ یہ ممکن ہے ہاں آپ ﷺ کے افعال میں سہو ہوتا تھا وہ بھی اس حکمت و مصلحت کے پیش نظر۔ تاکہ امت کے لوگ اس طرح سہو کے مسائل سیکھ لیں۔
رکعتوں کی تعداد بھول جانے کی صورت میں سجدئہ سہو کا حکم
عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ اَحَدَکُمْ اِذَا قَامَ ےُصَلِّیْ جَا ءَ ہُ الشَّےْطَانُ فَلَبَسَ عَلَیْہِ حَتّٰی لَا ےَدْرِیْ کَمْ صَلّٰی فَاِذَا وَجَدَ ذَلِکَ اَحَدُکُمْ فَلْےَسْجُدْ سَجْدَتَےْنِ وَھُوَ جَالِسٌ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے پاس شیطان آتا ہے اور اسے شک و شبہ میں مبتلا کردیتا ہے یہاں تک کہ اس (نمازی) کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں، لہٰذا تم میں سے کسی کو اگر یہ صورت پیش آئے تو اسے چاہیے کہ وہ آخری قعدے میں) بیٹھ کردو سجدے کرے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حدیث میں جو صورت بیان کی گئی ہے وہ سہو سے متعلق نہیں ہے بلکہ شک کی صورت ہے اور شک و سہو کے درمیان فرق یہ ہے کہ سہو میں ایک جانب کا تعین ہوتا ہے (کہ فلاں چیز بھول گیا) اور شک میں تردد ہوتا ہے کہ آیا یہ صحیح ہے یا وہ اور شیطان ملعون کی کیا مجال تھی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو شک و شبہ میں مبتلا کردیتا۔ ہاں غلبہ استغراق اور آخرت کی طرف بےانتہا توجہ کی بناء پر آپ ﷺ کو سہو ہوجاتا تھا۔ سجدہ سہو واجب ہونے کے سلسلہ میں شک اور سہو دونوں کا یکساں حکم ہے، اس مسئلے کی پوری وضاحت آئندہ حدیث کے فائدہ میں ملا حظہ فرما یے۔
رکعتوں کی تعداد بھول جانے کی صورت میں سجدئہ سہو کا حکم
وَعَنْ عَطَآءِ بْنِ ےَسَارٍص عَنْ اَبِیْ سَعِےْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا شَکَّ اَحَدُکُمْ فِیْ صَلٰوتِہٖ فَلَمْ ےَدْرِکَمْ صَلّٰی ثَلٰثًا وَّاَرْبَعًا فَلْےَطْرِحِ الشَّکَّ وَلْےَبْنِ عَلٰی مَا اسْتَےْقَنَ ثُمَّ ےَسْجُدْ سَجْدَتَےْنِ قَبْلَ اَنْ ےُسَلِّمَ فَاِنْ کَانَ صَلّٰی خَمْسًا شَفَعْنَ لَہُ صَلٰوتَہُ وَاِنْ کَانَ صَلّٰی اِتَمَامًا لِّاَرْبَعٍ کَانَتَا تَرْغِےْمًا لِّلشَّےْطَانِ (رَوَاہُ مُسْلِمٌ )
اور حضرت عطاء ابن یسار حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی درمیان نماز شک میں مبتلا ہوجائے اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار رکعتیں تو اسے چاہیے کہ وہ اپنا شک دور کرے اور جس عدد پر اسے یقین ہو اس پر بناء کرے (یعنی کسی ایک عدد کا تعین کر کے نماز پوری کرلے) اور پھر سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرلے۔ اگر اس نے پانچ رکعتیں پڑھی ہوں گی تو یہ پانچ رکعتیں ان دو سجدوں کے ذریعے اس کی نماز کو جفت کردیں گی اور اگر اس نے پوری چار رکعتیں پڑھی ہوں گی تو یہ دونوں سجدے شیطان کی ذلت کا سبب بنیں گے مسلم اور مالک نے اس روایت کو عطاء سے بطریق ارسال نقل کیا ہے نیز امام مالک کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ نمازی ان دونوں سجدوں کے ذریعے پانچ رکعتوں کو جفت کر دے گا۔
تشریح
صورت مسئلہ یہ ہے کہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے درمیان نماز وہ شک و شبہ میں مبتلا ہوگیا یعنی اسے یاد نہیں رہا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو اسے چاہئے کہ وہ کمتر عدد کا تعین کرے اور اسی کا گمان غالب کر کے نماز پڑھ لے مثلاً اسے یہ شبہ ہو کہ نہ معلوم میں نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار رکعتیں تو اس صورت میں اس تین رکعتوں کا تعین کر کے نماز پوری کرنی چاہیے اور پھر آخری قعدے میں التحیات پڑھنے کے بعد سلام پھیرنے سے پہلے دائیں طرف سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کرنا چاہئے۔ صحیح البخاری کی روایت میں سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ سہو کرنے کی قید نہیں ہے چناچہ اسی وجہ سے ائمہ کے ہاں اس بات پر اختلاف ہے کہ سجدے سلام پھیرنے سے پہلے کرنے چاہئے یا سلام پھیرنے کے بعد۔ اس مسئلے کی تفصیل ہم آئندہ کسی حدیث کے فائدہ کے ضمن میں بیان کریں گے۔ حدیث میں سہو کے دونوں سجدوں کا فائدہ بھی بتایا گیا ہے چناچہ فرمایا گیا ہے کہ اگر کسی آدمی نے مذکورہ صورت میں تین رکعت کا تعین کر کے ایک رکعت اور پڑھ لی حالانکہ حقیقت میں وہ چار رکعتیں پہلے پڑھ چکا تھا اس طرح اس کی پانچ رکعتیں ہوگئی تو پانچ رکعتیں ان دونوں سجدوں کی وجہ سے اس کی نماز کو شفع (جفت کردیں گی کیونکہ وہ دونوں سجدے ایک رکعت کے حکم میں ہیں یعنی یہ پانچ رکعتیں ان دونوں سجدوں سے مل کر چھ رکعت کے حکم میں ہوجائیں گی اور اگر اس نے حقیقت میں تین ہی رکعتیں پڑھی ہیں اور سہو کی صورت میں اس نے تین ہی کا تعین کرکے ایک رکعت اور پڑھی اور اس کی چار رکعتیں پوری ہوگئیں تو اس کے وہ دونوں سجدے شیطان کی ذلت کا سبب بن جائیں گے۔ یعنی اس صورت میں جب کہ اس آدمی نے چار ہی رکعتیں پڑھی ہیں تو دونوں سجدوں کی ضرورت نہیں تھی کہ وہ نماز کو جفت کردیں جیسا کہ پہلی صورت (پانچ رکعتیں پڑھنے کی صورت) میں ان دونوں سجدوں کی ضرورت تھی لیکن ان دونوں سجدوں کو جو بظاہر زائد معلوم ہوتے ہیں یہ فائدہ ہوا کہ ان سے شیطان کی ذلت و ناکامی ہوئی۔ کیونکہ شیطان کا مقصد تو یہ تھا کہ وہ نمازی کو شک و شبہ میں مبتلا کر کے اسے عبادت سے باز رکھے حالانکہ نمازی نے اس کے برعکس دو سجدے اور کر کے عبادت چھوڑنے کی بجائے اس میں زیادتی کی جو یقینی بات ہے کہ شیطان کی ناکامی و نامرادی کا باعث ہے۔ اس حدیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ شک کی صورت میں اقل (کمتر) کو اختیار کرنا چاہئے تحری (غالب گمان) پر عمل نہ کیا جائے چناچہ جمہور ائمہ کا بھی یہی مسلک ہے۔ امام ترمذی کا قول یہ ہے کہ اہل علم میں سے بعض حضرات کا مسلک یہ ہے کہ شک کی صورت میں نماز کا اعادہ کرنا چاہیے یعنی اگر کسی کو درمیان نماز میں رکعتوں کی تعداد کے بارے میں شک ہوجائے تو اسے چاہیے کہ نماز کو از سر نو پڑھے۔ اس مسئلے میں امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے مسلک کا حاصل یہ ہے کہ اگر کسی آدمی کو نماز میں شک ہوجائے کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں تو اگر اس آدمی کی عادت شک کرنے کی نہ ہو تو اسے چاہیے کہ پھر نئے سرے سے نماز پڑھے اور اگر اس کو شک ہونے کی عادت ہو تو اپنے غالب گمان پر عمل کرے یعنی جتنی رکعتیں اس کو غالب گمان سے یاد پڑیں تو اسی قدر رکعتیں سمجھے کہ پڑھ چکا ہے اور اگر غالب گمان کسی طرف نہ ہو تو کمتر عدد کو اختیار کرے مثلاً کسی کو ظہر کی نماز میں شک ہوا کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار اور غالب گمان کسی طرف نہ ہو تو اسے کو چاہیے کہ تین رکعتیں شمار کرے اور ایک رکعت اور پڑھ کر نماز پوری کرلے پھر سجدہ سہو کرلے۔ اتنی بات سمجھ لینی چاہیے کہ غالب گمان پر عمل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ شریعت میں غالب گمان کو اختیار کرنے کی اصل موجود ہے جیسا کہ اگر کوئی آدمی کسی ایسی جگہ نماز پڑھنا چاہے جہاں سے قبلے کی سمت معلوم نہ ہو سکے تو اس کے لئے حکم ہے کہ وہ جس سمت کے بارے میں غالب گمان رکھے کہ ادھر قبلہ ہے اسی طرف منہ کر کے نماز پڑھ لے اس کی نماز ہوجائے گی۔ غالب گمان کو اختیار کرنے کے سلسلے میں احادیث بھی مروی ہیں۔ چناچہ صحیحین میں حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کی ایک روایت ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک واقع ہوجائے تو اسے چاہیے کہ وہ صحیح رائے قائم کر کے (یعنی کسی ایک پہلو پر غالب گمان کر کے) نماز پوری کرلے اس حدیث کو شمنی نے بھی شرح نقایہ میں نقل کیا ہے نیز جامع الاصول میں بھی نسائی سے ایک حدیث تحری ( غالب گمان) پر عمل کرنے کے صحیح ہونے کے بارے میں منقول ہے۔ امام محمد (رح) نے اپنی کتاب موطا میں تحری کی افادیت کے سلسلے میں یہ کہتے ہوئے کہ تحری کے سلسلے میں بہت آثار وارد ہیں بڑی اچھی بات یہ کہی ہے کہ اگر ایسا نہ کیا جائے یعنی تحری کو قابل قبول نہ قرار دیا جائے تو شک اور سہو سے نجات ملنی بڑے مشکل ہوگی اور پہر شک و شبہ کی صورت میں اعادہ بڑی پریشانی کا باعث بن جائے گا۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی (رح) نے اس موقع پر مسئلہ مذکورہ کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس موقع پر حاصل کلام یہ ہے کہ اس مسئلہ کے سلسلہ میں تین احادیث منقول ہیں۔ پہلی حدیث کا مطلب یہ ہے کہ نماز میں جب بھی کسی کو شک واقع ہوجائے تو وہ نماز کو از سر نو پڑھے دوسری حدیث کا ماحصل یہ ہے کہ جب کسی کو نماز میں شک واقع ہوجائے تو اسے چاہئے کہ صحیح بات کو حاصل کرنے کے لئے تحری کرے۔ یعنی غالب گمان پر عمل کرے۔ تیسری حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب نماز میں شک واقع ہو تو یقین پر عمل کرنا چاہیے یعنی جس پہلو پر یقین ہو اسی پر عمل کیا جائے حضرت امام ابوحنیفہ (رح) نے ان تینوں حدیثوں کو اپنے مسلک میں جمع کردیا ہے اس طرح کہ انہوں نے پہلی حدیث کو تو مرتبہ شک واقع ہونے کی صورت پر محمول کیا ہے، دوسری حدیث کو کسی ایک پہلو پر غالب گمان ہونے کی صورت پر محمول کیا ہے اور تیسری حدیث کو کسی بھی پہلو پر غالب گمان نہ ہونے کی صورت پر محمول کیا ہے۔ حضرت شیخ عبدالحق فرماتے ہیں کہ حضرت امام اعظم کے مسلک کے کمال جامعیت اور انتہائی محقق ہونے کی دلیل ہے۔
رکعتوں کی تعداد بھول جانے کی صورت میں سجدئہ سہو کا حکم
وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍِص اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّی الظُّھْرَ خَمْسًا فَقِےْلَ لَہُ اَزِےْدَ فِی الصَّلٰوۃِ فَقَالَ وَمَا ذَاکَ قَالُوْا صَلَّےْتَ خَمْسًا فَسَجَدَ سَجْدَتَےْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ وَفِیْ رِوَاےَۃٍ قَالَ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ اَنْسٰی کَمَا تَنْسَوْنَ فَاِذَا نَسِےْتُ فَذَکِّرُوْنِیْ وَاِذَا شَکَّ اَحَدُکُمْ فِیْ صَلٰوتِہٖ فَلْےَتَحَرَّ الصَّوَابَ فَلْےُتِمَّ عَلَےْہِ ثُمَّ لِےُسَلِّمْ ثُمَّ ےَسْجُدْ سَجْدَتَےْنِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک روز) سرور کونین ﷺ نے ظہر کی نماز پانچ رکعت پڑھ لی، چناچہ آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کیا نماز میں کچھ زیادتی ہوگئی ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کیا ہوا؟ صحابہ نے عرض کیا کہ آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں (یہ سن کر) آپ ﷺ نے سلام پھیر لینے کے بعد دو سجدے کئے۔ اور ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں انسان ہی تو ہوں، جس طرح تم بھولتے ہو اس طرح میں بھی بھول جاتا ہوں جب میں کچھ بھول جایا کروں، مجھے یاد دلایا کرو اور جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک ہوجائے تو اسے چاہیے کہ وہ صحیح رائے قائم کرے اور اس رائے کی بنیاد پر نماز پوری کرلے اور پھر سلام پھیر کردو سجدے کرلے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں کمتر پر عمل کرنے کو نہیں کہا گیا گو مراد یہی ہے کہ اگر تحری فائدہ نہ دے یعنی کسی بھی عدد کے بارے میں غالب گمان نہ ہو سکے تو کمتر عدد کو اختیار کر کے نماز پوری کرلی جائے چونکہ حضرات شوافع تحری کے قائل نہیں ہیں اس لئے وہ بھی اس حدیث کے الفاظ فلیتحر الصواب سے مراد کمتر عدد کو اختیار کرنا لیتے ہیں۔ حنفیہ کے ہاں پانچ رکعت ادا کرلینے کی صورت میں مسئلے کی کچھ تفصیل ہے۔ چناچہ ان کا مسلک یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی قعدہ اخیرہ بھول کر پانچویں رکعت کے لئے کھڑا ہوجائے اور پانچویں رکعت کا سجدہ کرنے سے پہلے اسے یاد آجائے تو اسے چاہیے کہ فورًا بیٹھ جائے اور التحیات پڑھ کر سجدہ سہو کرلے۔ اور اگر پانچویں رکعت کا سجدہ کرچکا ہو تو پھر نہیں بیٹھ سکتا اور اس کی یہ نماز اگر فرض کی نیت سے پڑھ رہا تھا تو فرض ادا نہیں ہوگا بلکہ نفل ہوجائے گی۔ اور اس کو اختیار ہوگا کہ ایک رکعت کے ساتھ دوسری رکعت اور ملا دے تاکہ یہ رکعت بھی ضائع نہ ہو اور دو رکعتیں یہ بھی نفل ہوجائیں۔ اگر عصر اور فجر میں یہ واقعہ پیش آئے تب بھی دوسری رکعت ملا سکتا ہے اس لئے کہ عصر و فجر کے فرض کے بعد نفل مکروہ ہے اور یہ رکعتیں فرض نہیں رہی بلکہ نفل ہوگئی ہیں پس گویا فرض سے پہلے نفل پڑھی گئی ہیں اور اس میں کچھ کراہت نہیں۔ مغرب کے فرض میں صرف یہی رکعت کافی ہے دوسری رکعت نہ ملائی جائے، ورنہ پانچ رکعتیں ہوجائیں گی اور نفل میں طاق رکعتیں منقول نہیں اور اس صورت میں سجدہ سہو کی ضرورت نہ ہوگی۔ یہ شکل تو قعدہ اخیرہ میں بیٹھے بغیر رکعت کے لئے اٹھ جانے کی تھی۔ اگر کوئی آدمی قعدہ اخیرہ میں التحیات پڑھنے کے بقدر بیٹھ کر سلام پھیرنے سے پہلے پانچویں رکعت کے لئے کھڑا ہوجائے تو اگر وہ پانچویں رکعت کا سجدہ نہ کرچکا ہو تو فورا بیٹھ جائے اور چونکہ سلام کے ادا کرنے میں جو واجب تھا تاخیر ہوگئی اس لئے سجدہ سہو کرلے اگر پانچویں رکعت کا سجدہ کر نیکے بعد یاد آئے تو اس کو چاہیے کہ وہ اب نہ بیٹھے بلکہ ایک رکعت اور ملا دے تاکہ یہ پانچوں رکعت ضائع نہ ہو اور اگر رکعت نہ ملائے بلکہ پانچویں رکعت کے بعد سلام پھیر دے تب بھی جائز ہے مگر ملا دینا بہتر ہے۔ اس صورت میں اس کی وہ رکعتیں اگر فرض نیت کی تھی تو فرض ادا ہوں گی نفل نہ ہوں گی۔ عصر اور فجر کے فرض میں بھی دوسری رکعت ملا سکتا ہے اس لئے کہ عصر اور فجر کے فرض کے بعد قصدا نفل پڑھنا مکروہ ہے اور اگر سہوا پڑھ بھی لیا جائے تو کچھ کراہت نہیں۔ اس صورت میں فرض کے بعد رکعتیں پڑھی گئیں ہیں یہ ان موکدہ سنتوں کے قائم مقام نہیں ہوسکتیں جو فرض کے بعد ظہر و مغرب اور عشاء کے وقت مسنوں ہیں کیونکہ ان سنتوں کا تحریمہ سے ادا کرنا رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے۔ یہ حدیث اس بات پر محمول ہے کہ رسول اللہ ﷺ چار رکعت کے بعد قعدہ اخیرہ میں بیٹھ کر پھر بعد میں رکعت کے لئے اٹھ گئے تھے چونکہ اس حدیث سے بظاہر معلوم یہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پانچویں رکعت کے ساتھ چھٹی رکعت نہیں ملائی تھی اور صرف سہو پر اکتفاء کیا جیسا کہ امام شافعی (رح) کا مسلک ہے اس لئے کہا جائے گا کہ یہاں یہ احتمال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان جواز کی خاطر ایسا کیا ہوگا
رکعتوں کی تعداد بھول جانے کی صورت میں سجدئہ سہو کا حکم
وَعَنِ ابْنِ سِےْرِےْنَ صعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِحْدٰی صَلٰوتَیِ الْعَشِیِّ قَالَ ابْنُ سِےْرِےْنَ قَدْ سَمَّاھَا اَبُوْ ھُرَےْرَۃَ وَ لٰکِنْ نَّسِےْتُ اَنَا قَالَ فَصَلّٰی بِنَا رَکْعَتَےْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَقَامَ اِلٰی خَشْبَۃٍ مَّعْرُوْضَۃٍ فِی الْمَسْجِدِ فَاَ تَّکَأَ عَلَےْھَا کَاَنَّہُ غَضْبَانٌ وَوَضَعَ ےَدَہُ الْےُمْنٰی عَلَی الْےُسْرٰی وَشَبَّکَ بَےْنَ اَصَابِعِہٖ وَوَضَعَ خَدَّہُ الْاَےْمَنَ عَلٰی ظَھْرِ کَفِّہِ الْےُسْرٰی وَخَرَجَتْ سَرْعَانُ الْقَوْمِ مِنْ اَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالُوْا قُصِرَتِ الصَّلٰوۃُ وَفِی الْقَوْمِ اَبُوْ بَکْرٍ وَّعُمَرُرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فَھَابَاہُ اَنْ ےُّکَلِّمَاہُ وَفِی الْقَوْمِ رَجُلٌ فِیْ ےَدَےْہِ طُوْلٌ ےُقَالُ لَہُ ذُوْالْےَدَےْنِ قَالَ ےَارَسُوْلَ اللّٰہِ اَنَسِےْتَ اَمْ قُصِرَتِ الصَّلٰوۃُ فَقَالَ لَمْ اَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ فَقَالَ اَکَمَا ےَقُوْلُ ذُوالْےَدَےْنِ فَقَالُوْا نَعَمْ فَتَقَدَّمَ فَصَلّٰی مَا تَرَکَ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ کَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُوْدِہٖ اَوْ اَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَاْسَہُ وَکَبَّرَ ثُمَّ کَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُوْدِہٖ اَوْ اَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ رَاسَہُ وَکَبَّرَ فَرُبَّمَا سَاَلُوْہُ ثُمَّ سَلَّمَ فَےُقُوْلُ نُبِّئْتُ اَنّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَےْنٍ قَالَ ثُمَّ سَلَّمَ مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ وَلَفْظُہُ لِلْبُخَارِیِّ وَفِیْ اُخْرٰی لَھُمَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بَدْلَ لَمْ اَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ کُلُّ ذَالِکَ لَمْ ےَکُنْ فَقَالَ قَدْکَانَ بَعْضُ ذَالِکَ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ۔
اور حضرت ابن سیرین (رح) ( آپ کا اسم گرامی محمد اور کنیت ابوبکر ہے حضرت انس بن مالک ؓ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ آپ کے تیس بچے تھے جو آپ کی زندگی ہی میں سوائے ایک کے وفات پاگئے صرف ایک صاحبزادے عبداللہ بن محمد بن سیریں بقید حیات تھے۔ ستر سال کی عمر میں ١١٠ ھ میں ان انتقال ہوا)۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا (ایک دن) سرور کونین ﷺ نے ظہر یا عصر کی نماز جس کا نام ابوہریرہ ؓ نے تو بتایا تھا مگر میں بھول گیا، ہمیں پڑھائی۔ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے ساتھ دو رکعت نماز پڑھی اور تیسری رکعت کے لئے اٹھنے کی بجائے سلام پھیرلیا، پھر اس لکٹری کے سہارے جو مسجد میں عرضا کھڑی تھی کھڑے ہوگئے اور (محسوس ایسا ہوتا تھا) گویا آپ ﷺ غصہ کی حالت میں ہیں، آپ ﷺ نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر رکھا اور انگلیوں میں انگلیاں ڈال لیں اور اپنا بایاں رخسار مبارک اپنے بائیں ہاتھ کی پشت پر رکھ لیا۔ جلد باز لوگ (جو نماز کی ادائیگی کے بعد ذکر اور دعا وغیرہ کے لئے نہیں ٹھہرتے تھے) مسجد کے دروازوں سے جانے لگے، صحابہ کہنے لگے کہ کیا نماز میں کمی ہوگئی ہے؟ ( کہ رسول اللہ ﷺ نے چار رکعت کے بجائے دو ہی کعتیں پڑھی ہیں؟ ) صحابہ کے درمیان (جو مسجد میں باقی رہ گئے تھے) حضرت ابوبکر و حضرت عمر ؓ بھی موجود تھے مگر خوف کی وجہ سے ان کو رسول اللہ ﷺ سے کلام کرنے کی جرات نہ ہوئی صحابہ میں ایک اور آدمی (بھی) تھے جن کے ہاتھ لمبے تھے اور جنہیں (اسی وجہ سے) ذوالیدین (یعنی ہاتھوں والا کے لقب سے) پکارا جاتا تھا انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا آپ ﷺ بھول گئے ہیں یا نماز ہی میں کمی ہوگئی ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہ تو میں بھولا ہوں اور نہ نماز میں کمی ہوئی ہے پھر (صحابہ سے مخاطب ہوئے اور) فرمایا کیا تم بھی یہی کہتے ہو جو ذوالیدین کہہ رہے ہیں؟ صحابہ نے عرض کیا کہ جی ہاں یہی بات ہے اور یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ آگے آئے اور جو نماز (یعنی دو رکعت) چھوٹ گئی تھی اسے پڑھا اور سلام پھیر کر تکبیر کہی اور حسب معمول سجدوں جیسا یا ان سے بھی کچھ طویل سجدہ کیا اور پھر تکبیر کہہ کر سر اٹھایا لوگ ابن سیرین سے پوچھنے لگے کہ پھر اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیر دیا ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ مجھے عمران بن حصین ؓ سے یہ خبر ملی ہے کہ وہ کہتے تھے کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیر دیا اس روایت کو بخاری و مسلم نے نقل کیا ہے مگر الفاظ صحیح البخاری کے ہیں۔ اور صحیح البخاری ومسلم ہی کی ایک اور روایت میں یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ذوالیدین کے جواب میں) لم انس ولم تقصر (یعنی نہ میں بھولا ہوں اور نہ نماز میں کمی ہوئی ہے) کے بجائے یہ فرمایا کہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو اس میں سے کچھ بھی نہیں ہے انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ اس میں سے کچھ ضرور ہوا ہے۔
تشریح
فتح الباری میں اس حدیث کی بہت لمبی چوڑی شرح کی گئی ہے اگر اس کو یہاں نقل کی جائے تو بات بڑی لمبی ہوجائے گی البتہ اتنا بتادینا ضروری ہے کہ اس حدیث کے بارے میں دو اشکال پیدا ہوتے ہیں۔ پہلا اشکال تو یہ ہے کہ علماء کے نزدیک یہ بات مسلم ہے کہ خبر میں تو رسول اللہ ﷺ کو سہو ہونا ناممکن ہے اور افعال میں بھی اختلاف ہے مگر رسول اللہ ﷺ نے یہاں ذوالیدین کے جواب میں جو یہ فرمایا کہ نہ تو میں بھولا ہوں اور نہ نماز میں کمی ہی ہوئی ہے کیا خلاف واقعہ نہیں ہے؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کو خبر میں بھی سہو ہوسکتا تھا۔ اس کا جواب مختصر طریقہ پر یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سہو ہونا ان خبروں میں ناممکن ہے جو تبلیغ شرائع، دینی علم اور وحی الہٰی سے متعلق ہیں نہ کہ تمام خبروں میں۔ دوسرا یہ اشکال وارد ہوتا ہے کہ دو رکعت نماز ادا کرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ سے افعال بھی سرزد ہوئے اور آپ ﷺ نے گفتگو بھی کی مگر اس کے باوجود آپ ﷺ نے از سر نو نماز نہیں پڑھی بلکہ جو رکعتیں باقی رہ گئیں تھی انہیں کو پورا کرلیا۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کا جواب علماء نے یہ دیا ہے کہ مفسد نماز وہ کلام و افعال ہیں جو قصدا واقع ہوئے ہوں نہ کہ وہ کلام و افعال جو سہوا ہوگئے ہوں جیسا کہ امام شافعی (رح) کا مسلک ہے۔ لیکن چونکہ یہ جواب نہ صرف یہ کہ خود اپنے اندر جھول رکھتا ہے بلکہ حنفیہ کے مسلک کے مطابق بھی نہیں ہے کیونکہ ان کے ہاں مطلقا کلام مفسد صلوٰۃ ہے خواہ قصدا صادر ہوا ہو یا سہوا۔ اس لئے علماء حنفیہ کے نزدیک اس اشکال کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب کہ نماز میں کلام اور افعال کا جواز منسوخ نہیں ہوا تھا۔ حضرت امام احمد کا مسلک بھی یہی ہے کہ نماز میں کلام مطلقاً مفسد صلوٰۃ ہے خواہ قصدا ہو یا سہوا مگر ان کے ہاں اتنی گنجائش بھی ہے کہ نماز میں جو کلام امام یا مقتدی سے نماز کی کسی مصلحت کے پیش نظر صادر ہوا ہوگا وہ مفسد نماز نہیں ہوگا جیسا کہ حدیث مذکورہ میں پیش آمدہ صورت ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اس حدیث کو جب حضرت ابن سیرین لوگوں کے سامنے بیان کرچکے تو ان سے بطریق استفہام اکثر لوگوں نے پوچھا کہ کیا ابوہریرہ ؓ نے ثم سلم بھی کہا تھا گویا ان لوگوں کے پوچھنے کا مطلب یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے سجدہ سہو سلام کے بعد کیا تھا یا پہلے کیا تھا اس کے جواب میں ابن سیرین نے کہا ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں تو یہ الفاظ مجھے یاد نہیں پڑتے، ہاں حضرت عمران ابن حصین نے یہی حدیث مجھ سے روایت کی ہے ان کی روایت میں ثم سلم کے الفاظ موجود ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے سجدہ سہو سلام کے بعد کیا تھا اور میں نے ابوہریرہ ؓ کی روایت میں ثم سلم کے جو الفاظ نقل کئے ہیں وہ عمران ابن حصین ہی کی روایت سے اس جگہ لایا ہوں۔