نماز کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 11 · 527 hadiths · Page 15 of 27

982Mishkaat-al-Masabih

سجدہ سہو سلام پھیر کر کرنا چاہیے یا اس کے بغیر؟

وعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُحَےْنَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم صَلّٰی بِھِمُ الظُّہْرَ فَقَامَ فِی الرَّکْعَتَےْنِ الْاُوْلَےَےْنِ لَمْ ےَجْلِسْ فَقَامَ النَّاسُ مَعَہُ حَتّٰی اِذَا قَضَی الصَّلٰوۃَ وَانْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِےْمَہُ کَبَّرَ وَ ھُوَ جَالِسٌ فَسَجَدَ سَجْدَتَےْنِ قَبْلَ اَنْ ےُّسَلِّمَ ثُمَّ سَلَّمَ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عبدا اللہ ابن بحینہ ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک روز) سرور کونین ﷺ نے صحابہ کو ظہر کی نماز پڑھائی اور پہلی دو رکعتیں پڑھ کر (پہلے قعدے میں بیٹھے بغیر تیسری رکعت کے لئے) کھڑے ہوگئے، دوسرے لوگ بھی آپ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہوگئے، یہاں تک کہ جب نماز پڑھ چکے اور (آخری قعدے میں) لوگ سلام پھیرنے کے منتظر تھے کہ آپ ﷺ نے بیٹھے بیٹھے تکبیر کہی اور سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے اور اس کے بعد سلام پھیرا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح حضرت امام شافعی (رح) کے مسلک میں اس حدیث کے مطابق سجدہ سہو سلام پھیرنے سے پہلے ہی کیا جاتا ہے لیکن دوسری روایتوں میں یہ بھی مذکور ہے کہ آپ ﷺ نے سلام پھیرنے کے بعد ہی سجدہ سہو کیا ہے نیز حضرت عمر فاروق ؓ کے بارے میں بھی ثابت ہوا ہے کہ وہ سلام پھیرنے کے بعد ہی سجدہ سہو کیا کرتے تھے لہٰذا حضرت عمر ؓ کا عمل اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے۔

983Mishkaat-al-Masabih

درود و دعا سجدہ سہو سے پہلے پڑھنی چاہیے یا بعد میں

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّی بِھِمْ فَسَھَا فَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ تَشَھَّدَ ثُمَّ سَلَّمَ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ غَرِیْبٌ

اور حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے (ایک روز) لوگوں کو نماز پڑھائی ( درمیان نماز) آپ ﷺ کو سہو ہوگیا، چناچہ آپ ﷺ نے (سلام پھیر کر) دو سجدے کئے اس کے بعد آپ ﷺ نے التحیات پڑھی اور سلام پھیرا ترمذی نے اس حدیث کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تشریح حضرت عمران کا قول فَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ کا مطلب یہی ہے کہ آپ ﷺ نے سلام پھیر کر سہو کے دونوں سجدے کئے جیسا کہ تیسری فصل کی پہلی حدیث سے (جو انہیں سے مروی ہے) بصراحت معلوم ہوجائے گی۔ اس حدیث میں نماز کا وہ رکن ذکر نہیں کیا گیا ہے جس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کو سہو ہوا اور آپ ﷺ اس کی ادائیگی کو بھول گئے تھے نیز اس حدیث میں سجدے کے بعد تشہد پڑھنے کا ذکر کیا گیا ہے جب کہ دوسری روایتوں میں تشہد کا ذکر نہیں ہے۔ حضرت عمران کی اس روایت کی روشنی میں جو تیسری فصل میں آرہی ہے یہ حدیث حنفیہ کے مسلک کی دلیل ہے کہ پہلے سلام پھیر کر پھر سجدہ سہو کرنا چاہیے۔ اسی طرح امام احمد کا مسلک بھی یہی ہے بلکہ شوافع و مالکیہ کے بعض حضرات کا بھی یہی مسلک ہے۔ اس مسئلے میں علماء کے ہاں اختلاف ہے کہ درود و دعا جو التحیات میں پڑھی جاتی ہیں اسے تشہد میں پڑھنا چاہیے جو سجدہ سہو سے پہلے ہے یا سجدے کے بعد کے تشہد میں پڑھنا چاہیے؟ چناچہ امام کرخی نے تو یہ اختیار کیا ہے کہ درود و دعا سجدہ سہو کے بعد کے تشہد میں پڑھے جائیں اور ہدایہ میں بھی اسی کو صحیح کہا گیا ہے۔ البتہ ہدایہ کی بعض شروح میں یہ کہا گیا ہے کہ سجدہ سہو سے پہلے تشہد میں پڑھنا بہتر ہے۔ امام طحاوی کا قول یہ ہے کہ دونوں تشہد میں پڑھنا چاہیے۔ شیخ ابن ہمام نے بھی امام طحاوی کے قول کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتیاط اسی میں ہے۔ حنفیہ کا معمول پہلے یہ بتایا جا چکا ہے کہ التحیات پڑھنے کے بعد دائیں طرف سلام پھیرا جائے اس کے بعد سہو کے دو سجدے کئے جائیں اس کے بعد دوبارہ التحیات اور پھر درود و دعا پڑھ کر سلام پھیر دیا جائے۔

984Mishkaat-al-Masabih

درود و دعا سجدہ سہو سے پہلے پڑھنی چاہیے یا بعد میں

وَعَنِ الْمُغِیْرَۃِ ابْنِ شُعْبَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا اَقَامَ الْاِمَامُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ فَاِنْ ذَکَرَ قَبْلَ اَنْ یَسْتَوِی قَائِمًا فَلْیَجْلِسْ وَاِنْ اسْتَویٰ قَائِمًا فَلَا یَجْلِسْ وَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَی السَّھْوِ۔ (رواہ ابوداؤد و ابن ماجۃ)

اور حضرت مغیرہ ابن شعبہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا جب امام دو رکعت پڑھ کر (پہلے قعدہ میں بیٹھے بغیر تیسری رکعت کے لئے) کھڑا ہوجائے تو اگر سیدھا کھڑا ہونے سے پہلے اسے یاد آجائے تو اسے چاہیے کہ وہ (قعدہ کے لئے) بیٹھ جائے اور اگر وہ سیدھا کھڑا ہوچکا ہو (اس کے بعد اسے یاد آئے) تو وہ (اب) نہ بیٹھے اور (آخری قعدہ میں) سہو کے دو سجدے کرلے۔ (سنن ابوداؤد، و سنن ابن ماجہ) تشریح اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ صورت مذکورہ میں معتبر پوری طرح کھڑا ہونا یا پوری طرح کھڑا نہ ہونا ہے۔ اس سلسلہ میں حنفیہ کا مسلک یہ ہے کہ ایسا آدمی اگر بیٹھنے کے قریب تر ہوجائے تو التحیات پڑھے اور اگر کھڑے ہونے کے قریب تر ہو تو نہ بیٹھے بلکہ اپنی بقیہ دونوں رکعتیں پوری کرلے۔ قریب تر بیٹھنے مطلب یہ ہے کہ اٹھتے وقت اس کے نیچے کا بدن (مثلاً ٹانگیں وغیرہ) سیدھا نہ ہوجائے اور اگر نیچے کا بدن سیدھا ہوجائے تو کھڑے ہونے کے قریب تر ہوگا۔ شیخ ابن الہمام نے کہا ہے کہ اقربیت کے سلسلہ میں امام ابویوسف کی بھی ایک روایت ہے جس کو صحیح البخاری کے مشائخ نے اختیار کیا ہے مگر جیسا کہ اوپر بتایا گیا صحیح مسلک یہی ہے کہ جب تک پورا کھڑا نہ ہوجائے بیٹھا جاسکتا ہے پورا کھڑا ہوجانے کی صورت میں بیٹھنا نہیں چاہیے، یہی قول صحیح ہے اور اس کی تائید یہ حدیث بھی کرتی ہے۔ اگر کوئی آدمی کھڑا ہونے سے پہلے قعدے کے لئے بیٹھ جائے تو اس کے لئے سجدہ سہو کی ضرورت نہ ہوگی۔ ہاں جو آدمی پورا کھڑا ہوجائے اور اس سے پہلا قعدہ چھوٹ جائے تو اس کو سجدہ سہو کرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں اتنی بات اور جان لیجئے جب کوئی آدمی پہلے قعدے میں بیٹھے بغیر تیسری رکعت کے لئے پوری طرح کھڑا ہوجائے تو اس کو بیٹھنا نہیں چاہیے کیونکہ اگر وہ بیٹھ جائے گا تو اس کی نماز ٹوٹ جائے گی۔

985Mishkaat-al-Masabih

درود و دعا سجدہ سہو سے پہلے پڑھنی چاہیے یا بعد میں

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَےْنٍص اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّی الْعَصْرَ وَسَلَّمَ فِیْ ثَلٰثِ رَکْعٰتٍ ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَہُ فَقَامَ اِلَےْہِ رَجُلٌ ےُقَالُ لَہُ الْخِرْبَاقُ وَکَانَ فِیْ ےَدَےْہِ طُوْلٌ فَقَالَ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ فَذَکَرَ لَہُ صَنِےْعَہُ فَخَرَجَ غَضْبَانَ ےَجُرُّ رِدَآءَ ہُ حَتَّی انْتَھٰی اِلَی النَّاسِ فَقَالَ اَصَدَقَ ھٰذَا قَالُوْا نَعَمْ فَصَلّٰی رَکْعَۃً ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَےْنِ ثُمَّ سَلَّمَ۔ (صحیح مسلم)

حضرت عمران ابن حصین ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک روز) سرور کونین ﷺ نے عصر کی نماز پڑھائی اور تین رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا اور گھر میں تشریف لے گئے۔ ایک آدمی نے کہ جس کا نام خرباق تھا اور اس کے ہاتھ کچھ لمبے تھے انہوں نے (یعنی ذوالید ین) کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اور انہوں نے (یعنی ذوالیدین) نے واقعہ بیان کیا (یعنی تین رکعت پڑھ کر سلام پھیرنے کے بارے میں ذکر کیا یہ سن کر رسول اللہ ﷺ غصے میں اپنی چادر مبارک کھینچتے ہوئے باہر نکلے اور لوگوں کے پاس (مسجد میں) پہنچے اور فرمایا کہ کہ کیا ذوالیدین ٹھیک کہہ رہے ہیں؟ صحابہ نے عرض کیا کہ جی ہاں! چناچہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رکعت پڑھی، پھر سلام پھیر اور سہو کے دو سجدے کر کے سلام پھیر دیا۔ (صحیح مسلم) تشریح رسول اللہ ﷺ تین رکعت کے بعد سلام پھیر کر گھر تشریف لے گئے اور وہاں سے تشریف لائے، اس عرصے میں قبلے کی جانب سے منہ بھی پھرا، گفتگو بھی ہوئی اور بہت زیادہ چلنا ہوا، لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ نے از سر نو نماز نہیں پڑھی بلکہ صرف ایک رکعت جو پڑھنے سے رہ گئی تھی پڑھی، لہٰذا یہ افعال سہواً ہونے کے باوجود ( بھی حنفیہ کے مسلک میں چونکہ مفسد نماز ہیں اس لئے حنفیہ کی جانب سے اس حدیث کی توجیہ یہ کی جاتی ہے کہ نماز میں گفتگو کی طرح یہ بھی منسوخ ہے یعنی یہ افعال و کلام پہلے نماز میں جائز تھے پھر بعد میں منسوخ ہوگئے۔ اور یہ واقعہ جواز کے منسوخ ہونے سے پہلے کا ہے۔ خرباق انہیں ذوالیدین کا نام ہے جن کی حدیث اس سے پہلے (نمبر ٤) گزر چکی ہے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ جو اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے اور وہ واقعہ جو حدیث نمبر ٤ میں ذکر کیا گیا ہے دونوں ایک ہی ہیں لیکن اس حدیث اور حدیث نمبر ٤ میں چونکہ بعض باتوں میں با ہم تضاد ہے اس لئے علماء نے لکھا ہے کہ دونوں ایک ہی نہیں بلکہ الگ الگ واقعات ہیں اور دونوں واقعوں میں رسول اللہ ﷺ سے گفتگو کرنے والے حضرت ذوالیدین ہی تھے۔ اس حدیث کے آخری جملوں سے یہ بات بصراحت معلوم ہوگئی کہ رسول اللہ ﷺ نے پہلے سلام پھیرا پھر سجدہ سہو کیا، اس کے بعد سلام پھیر کر نماز پوری کی، چناچہ علامہ طیبی (رح) نے کہا ہے کہ یہی مسلک امام ابوحنیفہ (رح) کا ہے کہ ان کے یہاں سلام کے بعد سہو کے دو سجدے زیادتی اور نقصان کے پیش نظر کئے جاتے ہیں اس کے بعد تشہد پڑھا جاتا ہے اور سلام پھیرا جاتا ہے۔

986Mishkaat-al-Masabih

نماز میں کمی کا شک واقع ہوجانے کی صورت میں کیا کیا جائے

وَعَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ مَنْ صَلَّی صَلَاۃً یَشُکُّ فِی النُّقْصَانِ فَلْیُصَلِّ حَتّٰی یَشُکَّ فِی الزِّیاَدَۃِ۔ (رواہ احمد بن حنبل)

اور حضرت عبدالرحمن ابن عوف ؓ ( نام عبدالرحمن اور کنیت ابومحمد ہے قریش کی ایک شاخ بنو زہرہ میں پیدا ہوئے جن دس صحابہ کو رسول اللہ ﷺ نے جنت کی خوشخبری دی تھی ان میں ایک ہیں۔ غزوہ تبوک میں حضور ﷺ نے ان کے پیچھے نماز پڑھی ٣٢ ھ میں بہتر سال کی عمر میں وفات پائی)۔ فرماتے ہیں کہ میں نے سرور کونین ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے کمی کا شک ہوجائے تو اسے چاہیے کہ وہ اور پڑھ لے تاکہ زیادتی کا شک ہوجائے۔ (مسند احمد بن حنبل) تشریح مطلب یہی ہے کہ شک واقع ہوجانے کی صورت میں اگر کسی جانب غالب گمان نہ ہو اور شک بھی کمی میں واقع ہو مثلاً چار رکعت والی نماز میں شک ہوجائے کہ نہ معلوم تین پڑھی ہیں یا چار تو ایسے آدمی کو چاہیے کہ کہ زیادتی میں شک کرے یعنی کم تر عدد کو اختیار کرے جیسے صورت مذکورہ میں تین رکعت کو اختیار کر کے ایک رکعت اور پڑھ لے تاکہ اب کمی کے شک کے بجائے زیادتی کا شک ہوجائے کہ نہ معلوم چار رکعتیں پڑھی ہیں یا پانچ رکعتیں۔ رسول اللہ ﷺ سے نماز میں کتنی جگہوں پر سہوا ہوا تھا نماز میں رسول اللہ ﷺ سے چند مواقع پر سہو ہوا تھا۔ ایک قعدہ اول میں سہواً ہوا تھا جیسا کہ عبداللہ ابن بحینہ کی روایت نمبر ٥ میں مذکور ہے۔ دوسرا سہو آخری دونوں رکعتوں میں ہوا تھا۔ جیسا کہ حضرت ذوالیدین کے واقعہ (حدیث نمبر ٤) سے معلوم ہوا۔ تیسرا سہو آخری رکعت میں ہوا تھا جیسا کہ خرباق والی حدیث (نمبر ٨) میں گذرا اور چوتھا سہو آپ ﷺ کو پانچویں رکعت کی زیادتی میں ہوا تھا جیسا کہ عبداللہ ابن مسعود ؓ کی (حدیث نمبر ٣) سے معلوم ہوا لہٰذا علماء مجتہدین نے رسول اللہ ﷺ کے عمل پر قیاس کرتے ہوئے یہ کلیہ بنایا کہ اگر نماز میں کسی آدمی سے نماز کے واجبات میں سے کسی واجب میں سہوہو جائے تو اس پر سہو کا سجدہ واجب ہوجاتا ہے۔ اس سلسلے میں جتنی احادیث گزری ہیں ان سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے سہو ہوجانے کی صورت میں بعض موقعوں پر تو سجدہ سہو سلام سے پہلے کیا اور بعض مواقع پر سلام پھیرنے کے بعد کیا۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ کا عمل چونکہ دونوں طرح تھا اس لئے یہی کہا جائے گا کہ دونوں طریقے جائز ہیں لیکن ائمہ نے اس سلسلے میں اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق الگ الگ صورت کو مقرر کردیا ہے۔ سجدہ سہو کے وقت کے بارے میں ائمہ کے مسلک چناچہ حضرت امام شافعی (رح) کا مسلک یہ ہے کہ ہر موقع پر سجدہ سہو سلام سے پہلے کرنا چاہیے۔ اس طرح وہ ان احادیث کو کہ جن سے سلام سے پہلے سجدہ سہو کرنا ثابت ہوتا ہے ان احادیث پر کہ جن سے سلام کے بعد سجدہ سہو کرنا ثابت ہوتا ہے ترجیح دیتے ہیں۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ تمام مواقع پر سلام پھیر کر سجدہ سہو کرنا چاہیے کیونکہ اس کے ثبوت میں بہت زیادہ صحیح احادیث وارد ہیں۔ نیز کہ ابوداؤد، ابن ماجہ اور عبدالرزاق نے ثوبان کی یہ روایت نقل کی ہے، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر سہو کے لئے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں لہٰذا جب رسول اللہ ﷺ کا عمل متضاد مروی ہے کہ کبھی تو آپ ﷺ نے سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ کیا ہے اور کبھی سلام پھیرنے کے بعد۔ تو ایسی صورت میں امام اعظم نے رسول اللہ ﷺ کے قول کو بطور دلیل اختیار کیا ہے کیونکہ ان کے نزدیک قول فعل سے قوی ہے جیسا کہ اصول فقہ میں مذکور ہے۔ حضرت امام احمد (رح) کا مسلک یہ ہے کہ جس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے سلام سے پہلے سجدہ کیا ہے اس موقع پر سلام سے پہلے ہی سجدہ کرنا چاہیے اور جس موقع پر آپ ﷺ نے سلام پھیرنے کے بعد سجدہ کیا ہے اس موقع پر سلام پھیر کر ہی سجدہ کیا جائے علماء لکھتے ہیں کہ حضرت امام احمد بن حنبل (رح) کا یہ قول سب سے قوی اور بہتر ہے۔ اتنی بات سمجھ لینی چاہیے کہ سجدیہ سہوا کے بارے میں یہ تمام اختلافات کہ سجدہ سلام کے بعد کرنا چاہیے یا پہلے محض فضیلت سے متعلق ہیں یعنی بعض ائمہ کے نزدیک سلام کے بعد سجدہ کرنا زیادہ افضل ہے اور بعض کے نزدیک سلام سے پہلے افضل ہے لیکن جہاں تک جواز کا تعلق ہے تو جیسا کہ ائمہ اربعہ کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے اس بات پر سب متفق ہیں کہ جائز دونوں طرح ہے۔ ہدایہ میں لکھا ہے کہ صحیح تر یہ ہے کہ دونوں طرف سلام پھیر کر سجدہ سہو کرنا چاہیے۔

987Mishkaat-al-Masabih

قرآن کے سجدوں کا بیان

حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے مسلک کے مطابق قرآن مجید میں چودہ آیتیں ایسی ہیں جن کے پڑھنے اور سننے سے خواہ قصداً نہ ہو ایک سجدہ واجب ہوتا ہے۔ ان آیتوں کی تفصیل انشاء اللہ آگے آئے گی۔ دیکر ائمہ کے نزدیک سجدہ تلاوت واجب نہیں ہے بلکہ سنت ہے۔ سجدہ تلاوت صرف ایک مرتبہ دو تکبیروں کے درمیان (یعنی) ایک تکبیر سجدے میں جاتے وقت اور دوسری تکبیر سجدے سے اٹھتے وقت کیا جاتا ہے اس سجدے کے لئے رفع یدین تشہد اور سلام کی ضرورت نہیں پڑتی۔ سجدہ تلاوت صحیح ہونے کی وہی سب شرطیں ہیں جو نماز کے صحیح ہونے کی ہیں یعنی طہارت، ستر کی پردہ پوشی، نیت اور استقبال قبلہ تحریمہ اس میں شرط نہیں۔ اس کی نیت میں آیت کا تعین شرط نہیں ہے کہ یہ سجدہ فلاں آیت کے سبب سے ہے۔ اور اگر نماز میں آیت سجدہ پڑھی جائے اور فورًا سجدہ کیا جائے تو نیت بھی شرط نہیں۔

988Mishkaat-al-Masabih

سورت نجم کا سجدہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ سَجَدَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم بِالنَّجْمِ وَسَجَدَ مَعَہُ الْمُسْلِمُوْنَ وَ الْمُشْرِکُوْنَ وَالْجِنُّ وَالْاِنْسُ۔ (صحیح البخاری)

حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے سورت نجم میں سجدہ کیا اور آپ ﷺ کے ساتھ مسلمانوں، مشرکوں جنوں اور سب آدمیوں نے (بھی) سجدہ کیا۔ (صحیح البخاری ) تشریح رسول اللہ ﷺ سورت نجم کی تلاوت کرتے ہوئے آیت سجدہ آیت ( فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَاعْبُدُوْا 53۔ النجم 62) سجدہ کرو اللہ کا اور عبادت کرو۔ پر پہنچے تو آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی فرمانبرداری کی غرض سے سجدہ کیا جب آپ ﷺ نے سجدہ کیا تو تمام مسلمانوں نے بھی آپ ﷺ کی متابعت میں سجدہ کیا، اسی طرح مشرکین نے بھی جب بتوں یعنی لات و منات اور عزی کے نام سنے تو انہوں نے بھی سجدہ کیا، یا پھر مشرکوں کے سجدہ کرنے کا سبب یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں مسجد الحرام کے اندر جب سورت نجم کی ان آیتوں۔ آیت (اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰى 19 وَمَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى 20 اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْاُنْثٰى 21) 53۔ النجم 19) یعنی بھلا تم لوگوں نے لات و عزی کو دیکھا اور تیسرے منات کو (کہ یہ بت کہیں اللہ ہوسکتے ہیں مشرکو! ) کیا تمہارے لئے تو بیٹے ہیں اور اللہ کے لئے بیٹیاں۔ کو پڑھنے لگے تو شیطان ملعون نے اپنی آواز کو رسول اللہ ﷺ کی آواز سے مشابہ بنا کر یہ پڑھا تِلْکَ الْغَرَانِیْقُ الْعُلٰی وَاِنَّ شَفَا عَتَھُنَّ لَتُرْتَجٰی۔ یعنی یہ بت بلند مرغابیاں ہیں اور بیشک ان کی شفاعت امید بخش ہے۔ مشرکین یہ سمجھے کہ (نعوذ باللہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے بتوں کی تعریف کی ہے اس سے وہ بہت زیادہ خوش ہوئے چناچہ جب رسول اللہ ﷺ نے سجدہ کیا تو انہوں نے بھی سجدہ کر ڈالا۔ بعض مفسرین نے اس موقع پر یہ تفسیر کی ہے کہ یہ الفاظ شیطان نے ادا نہیں کئے تھے بلکہ نعوذ باللہ خود رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے سہوا نکل گئے تھے۔ یہ قول بالکل غلط اور محض ذہنی اختراع ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ شیطان ملعون نے اپنی آواز کو رسول اللہ ﷺ کی آواز سے مشابہ بنا کر یہ الفاظ ادا کر دئیے جس سے مشرکین یہ سمجھ بیٹھے کہ خود محمد ﷺ یہ الفاظ ادا کر رہے ہیں۔ حدیث میں مسلمانوں، مشرکوں، جنوں اور سب آدمیوں سے مراد وہ ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے پاس اس وقت موجود تھے۔ لفظ اِنْسٌ تعمیم بعد تخصیص ہے۔

989Mishkaat-al-Masabih

سورت انشقاق او سورت علق کے سجدے

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ سَجَدْنَا مَعَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فِیْ اِذَا السَّمَآْءُ انْشَقَّتْ وَاِقْرَاْء بِاسْمِ رَبِّک۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے سرور کونین ﷺ کے ساتھ ( سورت انشقاق یعنی اِذَا السَّمَاءُ اِنْشَقَّتِ اور ( سورت علق یعنی اِقْرَأْ بِاِسْمِ رَبِّکَ میں سجدہ کیا۔ (صحیح مسلم) تشریح اس حدیث سے امام مالک کے اس قول کا رد ہوتا ہے کہ مفصل میں سجدہ نہیں ہے

990Mishkaat-al-Masabih

، سجدہ تلاوت واجب ہے

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَص قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقْرَاُ السَّجْدَۃَ وَنَحْنُ عِنْدَہُ فَےَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَہُ فَنَزْدَ رحم حَتّٰی مَا ےَجِدُ اَحَدُنَا لِجَبْھَتِہٖ مَوْضِعًا ےَّسْجُدُ عَلَےْہِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ سجدے (کی کوئی آیت) پڑھتے اور ہم آپ ﷺ کے قریب ہوتے تھے تو جب رسول اللہ ﷺ سجدہ کرتے ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کرتے اور (اس وقت) ہم لوگوں کا اس قدر اژدحام ہوتا تھا کہ ہم میں سے بعض کو تو اپنی پیشانی ٹیک کر سجدہ کرنے کی جگہ بھی نہیں ملتی تھی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ سجدے کی کوئی آیت تلاوت فرماتے تو اس موقع پر آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کرنے کے لئے اتنے زیادہ لوگوں کا ہجوم ہوجاتا تھا کہ جگہ کی تنگی کی وجہ سے بعض لوگوں کو تو آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کرنا بھی نصیب نہ ہوتا تھا اور وہ پھر بعد میں سجدہ کرتے تھے۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ سجدہ تلاوت واجب ہے کیونکہ اگر تلاوت کا سجدہ واجب نہ ہوتا تو لوگ اتنا زیادہ اہتمام اور اژدحام کیوں کرتے۔ ایسے موقع پر جب کہ تلاوت کرنے والے کے پاس لوگ بیٹھے ہوں اور اس کی تلاوت سن رہے ہوں تو سجدے کی کوئی آیت پڑھنے کے بعد سجدہ کرنے کے سلسلے میں سنت یہ ہے کہ تلاوت کرنے والا آدمی آگے ہوجائے اور تلاوت سننے والے اس کے پیچھے ہو کر صف باندھیں اس طرح سب لوگ سجدہ کرلیں۔ یہ اقتداء صورۃ ہے حقیقۃ اقتداء نہیں ہے۔

991Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ کا سورت نجم میں سجدہ نہ کرنا

وَعَنْ زَےْدٍ بْنِ ثَابِتٍص قَالَ قَرَأْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَالنَّجْمِ فَلَمْ ےَسْجُدْ فِےْھَا ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت زید ابن ثابت ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سرور کونین ﷺ کے سامنے سورت نجم تلاوت کی اور آپ ﷺ نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حضرت امام شافعی (رح) کی جانب سے تو یہ کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر سورت نجم میں سجدہ بیان جواز کے لئے نہیں کیا، حضرت امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ چونکہ مفصل میں سجدہ نہیں ہے اس لئے آپ ﷺ نے سجدہ نہیں کیا اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کی طرف سے اس حدیث کی توجیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ نے اس موقعہ پر سجدہ یا تو اس لئے نہیں کیا کہ اس وقت آپ ﷺ با وضو نہیں تھے، یا یہ کہ وہ وقت کراہت تھا، یا پھر آپ ﷺ نے سجدہ اس لئے ترک کیا تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ سجدہ تلاوت فرض نہیں ہے۔ ان چیزوں کے علاوہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ چونکہ سجدہ تلاوت فی الفور واجب نہیں ہے اس لئے ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس وقت تو سجدہ نہ کیا ہو البتہ بعد میں کسی وقت کرلیا ہو۔ لہٰذا اس سے کوئی آدمی یہ نہ سمجھے کہ سورت نجم کا سجدہ تلاوت واجب نہیں ہے کیونکہ اس سے پہلے ایک حدیث میں صراحت کے ساتھ گذر چکا ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ نے اور دوسرے لوگوں نے بھی سورت نجم کا سجدہ کیا تھا۔

992Mishkaat-al-Masabih

سورت ص کا سجدہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ص قَالَ سَجْدَۃُ صۤ لَےْسَ مِنْ عَزَآئِمِ السُّجُوْدِ وَقَدْ رَأَےْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَسْجُدُ فِےْھَاوَفِیْ رِوَاےَۃٍ قَالَ مُجَاھِدٌ قُلْتُ لِاِبْنِ عَبَّاسٍ ءَ اَسْجُدُ فِیْ صۤ فَقَرَاَ وَمِنْ ذُرِّےَّتِہٖ دَاؤ،دَ وَسُلَےْمَانَ حَتّٰی اَتٰی فَبِھُدٰھُمُ اقْتَدِہْ فَقَالَ نَبِےُّکُمْ صلی اللہ علیہ وسلم مِمَّنْ اُمِرَاَنْ ےَّقْتَدِیَ بِھِمْ۔ (صحیح البخاری)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا سورت ص کا سجدہ بہت تاکیدی سجدوں میں سے نہیں ہے اور میں نے سرور کونین ﷺ کو اس سورت میں سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت مجاہد نے بیان کیا کہ میں نے حضرات عبداللہ ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ کیا میں سورت ص میں سجدہ کروں حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ نے یہ آیت (وَمِنْ ذُرِّيَّتِه دَاو دَ وَسُلَيْمٰنَ ) 6۔ الانعام 84) سے فَبِھَدَاھُمْ اقْتَدِہ) پڑھی اور فرمایا تمہارے نبی ﷺ بھی انھی لوگوں میں سے ہیں جنہیں پہلے نبیوں کی اتباع کا حکم تھا۔ (صحیح البخاری ) تشریح ( لَیْسَ مِنْ عَزَائِمِ السُّجُوْدِ بہت تاکیدی سجدوں میں سے نہیں) کا مطلب فقہ حنفی کی رو سے یہ ہے کہ یہ سجدہ فرائض میں سے نہیں ہے بلکہ واجبات تلاوت میں سے ہے۔ علماء لکھتے ہیں کہ سورت ص میں رسول اللہ ﷺ کا سجدہ کرنا حضرت داؤد (علیہ السلام) کی موافقت اور ان کی توبہ کی قبولیت کے شکر کے طور پر تھا۔ حضرت ابن عبادہ نے حضرت مجاہد کے سوال کے جواب میں پہلے آیت پڑھی جس سے اس بات کی دلیل دینا مقصود تھا کہ رسول اللہ ﷺ ان لوگوں میں سے ہیں کہ جنہیں سابقہ انبیاء کرام کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے۔ لہٰذا حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کے جواب کا مطلب یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو ان کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے تو تمہیں بطریق اولیٰ ان کی پیروی کرنی چاہیے یعنی جب حضرت داؤد (علیہ السلام) نے سجدہ کیا اور رسول اللہ ﷺ نے بھی ان کی موافقت و پیروی میں سجدہ کیا تو ہم کو چاہیے کہ ہم بھی سجدہ کریں۔

993Mishkaat-al-Masabih

قرآن میں کل کتنے سجدے ہیں؟

عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ اَقْرَأَرَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم خَمْسَ عَشْرَۃَ سَجْدَۃً فِی الْقُرْاٰنِ مِنْھَا ثَلاثٌ فِی الْمُفَصَّلِ وَفِیْ سُوْرَۃِ الْحَجِّ سَجْدَتَیْنِ۔ (رواہ ابوداؤد و ابن ماجۃ)

اور حضرت عمرو ابن العاص ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے انہیں (یعنی عمرو ابن العاص کو) قرآن میں پندرہ سجدے پڑھائے ان میں سے تین تو مفصل (سورتوں میں ہیں اور دو سجدے سورت حج میں ہیں۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ) تشریح مشکوٰۃ کے بعض نسخوں میں لفظ اقراء کے بجائے لفظ اقرائنی ہے یعنی رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے سامنے پڑھوں۔ اس حدیث کے مطابق قرآن کریم کی پندرہ آیتیں ایسی ہیں جن کے پڑھنے اور سننے سے ایک سجدہ واجب ہوتا ہے آیتوں کی تفصیل یہ ہے سورت اعراف کے آخر میں یہ آیت آیت ( اِنَّ الَّذِيْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِه وَيُسَبِّحُوْنَه وَلَه يَسْجُدُوْنَ ) 7۔ الاعراف 206) بیشک جو لوگ (یعنی فرشتے) تیرے رب کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے غرور اور انکار نہیں کرتے اور اس کا سجدہ کرتے ہیں۔ ( اس آیت میں ولہ یسجدون پر سجدہ ہے)۔ (٢) سورت رعد کے دوسرے رکوع میں یہ آیت آیت ( وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ ) 13۔ الرعد 15) وہ تمام چیزیں جو آسمانوں اور زمینوں میں ہیں اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہیں خوشی سے، کوئی نا خوشی سے اور ان کا سایہ صبح و شام۔ ( اس آیت میں بالغد و والاصال سجدہ ہے)۔ (٣) سورت نحل کے پانچویں رکوع کے آخر کی یہ آیت آیت (وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ مِنْ دَا بَّ ةٍ وَّالْمَلٰ ى ِكَةُ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ 49) 16۔ النحل 49) اور تمام جاندار جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب اللہ کے آگے سجدہ کرتے ہیں اور فرشتے بھی اور وہ ذرا بھی غرور نہیں کرتے اور اپنے پروردگار سے جو ان کے اوپر ہے ڈرتے ہیں نیز انہیں جو حکم دیا جاتا ہے وہ اس پر عمل کرتے ہیں۔ ( اس آیت میں و یفعلون ما یو مرون پر سجدہ ہے)۔ (٤) سورت بنی اسرائیل کے بارھویں رکوع میں یہ آیت آیت (وَيَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ يَبْكُوْنَ وَيَزِيْدُهُمْ خُشُوْعًا) 17۔ الاسراء 109) اور وہ منہ کے بل گرپڑتے ہیں (اور) روتے جاتے ہیں اور اس سے ان میں اور زیادہ عاجزی پیدا ہوتی ہے (یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو رسول اللہ ﷺ سے پہلے ایماندار لوگ تھے)۔ ( اس آیت میں ویزیدھم خشوعا پر سجدہ ہے)۔ (٥) سورت مریم کے چوتھے رکوع میں یہ آیت آیت ( اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّبُكِيًّا ) 19۔ مریم 58) جب پڑھی جاتی ہیں ان پر رحمٰن کی آیتیں تو گرتے ہیں وہ سجدہ کرنے کے لئے روتے ہوئے (یہ انبیاء اور ان کے اصحاب کا حال بیان کیا گیا ہے)۔ ( اس آیت میں سجدا و ب کیا پر سجدہ ہے ) (٦) سورہ، حج کے دوسرے رکوع میں آیت آیت ( اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يَسْجُدُ لَه مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَا بُّ وَكَثِيْرٌ مِّنَ النَّاسِ وَكَثِيْرٌ حَقَّ عَلَيْهِ الْعَذَابُ وَمَنْ يُّهِنِ اللّٰهُ فَمَا لَه مِنْ مُّكْرِمٍ اِنَّ اللّٰهَ يَفْعَلُ مَا يَشَا ءُ ) 22۔ الحج 18) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو (مخلوق) آسمانوں میں اور جو زمین میں ہے اور سورج اور چاند ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان اللہ کو سجدہ کرتے ہیں اور بہت سے آدمی ایسے ہیں جن پر عذاب ثابت ہوچکا ہے اور جس آدمی کو اللہ ذلیل کرے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں، بیشک اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ ( اس آیت میں یسجد لہ پر سجدہ ہے مگر پوری آیت پڑھنے کے بعد سجدہ ہے)۔ (٧) سورت حج کے آخری رکوع کی یہ آیت آیت ( يٰ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَاسْجُدُوْا وَاعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَ يْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ) 22۔ الحج 77) اے ایمان والو! رکوع اور سجدہ کرتے اور اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہو اور نیک کام کرو تاکہ فلاح پاؤ۔ ( اس آیت میں لعلکم تفلحون پر سجدہ ہے)۔ (٨) سورت فرقان کے پانچویں رکوع کی یہ آیت آیت ( وَاِذَا قِيْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَمَا الرَّحْمٰنُ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَزَادَهُمْ نُفُوْرًا) 25۔ الفرقان 60) اس آیت میں وزادھم نفورا پر سجدہ ہے)۔ اور جب ان (عرب کے کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ سجدہ کرو رحمن کا تو کہتے ہیں کہ رحمن کیا چیز ہے۔ کیا ہم سجدہ کرلیں اس کو جس کو تم کہتے ہو اور ہم کو نفرت بڑھتی ہے۔ ( اس آیت میں لا یسکتبرون پر سجدہ ہے)۔ (٩) سورت نمل کے دوسرے رکوع میں آیت آیت ( اَلَّا يَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِيْ يُخْرِجُ الْخَبْءَ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ 25 اَللّٰهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ 26) 27۔ النمل 25) اور نہیں سمجھتے کہ اللہ کو جو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو نکالتا ہے اور تمہارے پوشیدہ و ظاہر اعمال کو جانتا ہے کیوں سجدہ نہ کریں؟ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔ (١٠) سورت الم تنزیل السجدہ کے دوسرے رکوع میں یہ آیت آیت ( اِنَّمَا يُؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ 15) 32۔ السجدہ 35) ہماری آیتوں پر وہی لوگ ایمان رکھتے ہیں کہ جب انہیں وہ آیتیں یاد دلائی جائیں تو سجدہ کرنے کے لئے گرجائیں اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کریں اور یہ لوگ غرور نہیں کرتے۔ (١١) سورت ص کے دوسرے رکوع میں یہ آیت آیت (وَخَرَّ رَاكِعًا وَّاَنَابَ 24 فَغَفَرْنَا لَه ذٰلِكَ وَاِنَّ لَه عِنْدَنَا لَ زُلْفٰى وَحُسْنَ مَاٰبٍ 25) 38۔ ص 24) اور (داؤد علیہ السلام) گرپڑے سجدے کے لئے اور توبہ کی۔ پس ہم نے ان کو بخش دیا اور بیشک ہمارے ہاں ان کا تقرب ہے اور عمدہ مقام ہے۔ ( اس آیت میں وحسن ماب پر سجدہ ہے)۔ (١٢) سورت حم سجدہ کے پانچویں رکوع میں یہ آیت آیت (فَاِنِ اسْ تَكْبَرُوْا فَالَّذِيْنَ عِنْدَ رَبِّكَ يُسَبِّحُوْنَ لَه بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَهُمْ لَا يَسْ َ مُوْنَ ) 41۔ فصلت 38) اگر یہ لوگ سرکشی کریں تو (اللہ کو بھی ان کی پرواہ نہیں جو فرشتے) تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ رات دن اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں اور کبھی تھکتے ہی نہیں ( اس آیت میں لا یسئمون پر سجدہ ہے یا تعبدون پر ہے) (١٣) سورت نجم کے آخر میں یہ آیت آیت ( فَاسْجُدُوْا لِلّٰهِ وَاعْبُدُوْا 62 ڙ) 53۔ النجم 62) سجدہ کرو اللہ کا اور عبادت کرو۔ ( اس آیت میں واعبدوا پر سجدہ ہے)۔ (١٤) سورت انشقاق میں یہ آیت آیت (فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ 20 وَاِذَا قُرِي َ عَلَيْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا يَسْجُدُوْنَ 21 ڍ) 84۔ الانشاق 24) تو ان لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ ایمان نہیں لاتے اور جب ان کے سامنے قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے۔ ( اس آیت میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا گیا ہے اور یہاں رب العرش العظیم اور بعض کے نزدیک لعلکم تغلبون پر سجدہ ہے)۔ ( اس آیت میں لا یسجدون پر سجدہ ہے)۔ (١٥) سورت علق میں یہ آیت (وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ 19 ڙ) ( ا 96۔ العلق 19) آیت میں واقترب پر سجدہ ہے)۔ (اے محمد! ) سجدہ کیجئے اور اللہ کے نزدیک ہوجائیے۔ ائمہ کے ہاں سجدوں کی تعداد ائمہ کے ہاں اس بات پر اختلاف ہے کہ قرآن کریم میں کل کتنی آیتیں ایسی ہیں جن کے پڑھنے یا سننے سے ایک سجدہ تلاوت واجب ہوجاتا ہے۔ حضرت امام احمد نے اس حدیث کے مطابق کہا ہے کہ ایسی آیتیں پندرہ ہیں جن کی تفصیل اوپر بیان کی گئی ہے چناچہ انہوں نے اس حدیث کے ظاہر پر عمل کیا ہے۔ حضرت امام شافعی (رح) کے ہاں آیت سجدہ کی تعداد چودہ ہے۔ اس طرح کہ سورت حج میں تو دو سجدے ہیں اور سورت ص میں کوئی سجدہ نہیں ہے۔ حضرت امام مالک (رح) کے ہاں آیت سجدہ کی تعداد گیارہ ہے کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ سورت ص، سورت نجم، سورت انشقت اور سورت اقرا میں سجدہ نہیں ہے حضرت امام شافعی (رح) کا قول قدیم بھی یہی ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ کل سجدوں کی تعداد چودہ ہے اس طرح کہ سورت حج میں دو سجدے نہیں ہیں بلکہ ایک ہی سجدہ ہے جو دوسرے رکوع میں ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ حضرت عمرو ابن العاص کی یہ حدیث جس سے سجدوں کی تعداد پندرہ ثابت ہوتی ہے ضعیف ہے اور اس کو دلیل بنانا ٹھیک نہیں ہے کیونکہ اس کے بعض راوی مجہول ہیں۔ نماز میں بھی سجدہ تلاوت کرنا چاہیے علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نماز فرض اور نماز نفل میں اگر کسی آیت سجدہ کی قرأت کی جائے تو نماز ہی میں سجدہ کیا جائے یعنی جو سجدہ تلاوت نماز میں واجب ہو اسے خارج نماز میں ادا نہ کیا جائے۔ آیت سجدہ اگر فرض نماز میں پڑھی جائے تو اس کے سجدے میں نماز کی طرح سبحان ربی الاعلی کہنا ہی بہتر ہے اور اگر نفل نماز میں یا خارج نماز میں پڑھی جائے تو اس کے سجدے میں اختیار ہے کہ سبحان ربی الاعلی کہا جائے اور تسبیحیں جو احادیث میں وارد ہوئی پڑھی جائیں مثلاً یہ تسبیح سَجَدَ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہ، وَصَوَّرَہ، وَشَقَّ سَمْعَہ وَبَصَرَہ، بِحَوْلِہ وَقُوَّتِہ فَتَبَارَکَ ا اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنِ۔ میرے منہ نے اس ذات کو سجدہ کیا جس نے اس کو پیدا کیا جس نے اسی کو بنا لیا اور اس میں کان و آنکھ پیدا کیں اپنی طاقت اور قوت سے پس بزرگ ہے اللہ اچھا پیدا کرنے والا ہے۔ نماز میں آخر سورت میں سجدہ کی آیت آجانے کا مسئلہ بعض علماء کا یہ قول ہے کہ نماز میں سجدہ کی جو آیت آخر سورت میں آجائے تو رکوع کرنا ہی سجدے کے لئے کافی ہوجاتا ہے یعنی رکوع کرنے میں سجدہ تلاوت بھی ادا ہوجاتا ہے۔ یہ قول حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے اور یہی مسلک حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا ہے۔ فقہ کی کتابوں میں اس مسئلے کی تفصیل اس طرح مذکور ہے کہ اگر آیت سجدہ نماز میں پڑھی جائے اور فورًا رکوع کیا جائے یا آیت سجدہ کے بعد دو تین آیتیں پڑھ کر رکوع کرلیا جائے اور اس رکوع میں جھکتے وقت سجدہ تلاوت کی بھی نیت کرلی جائے تو سجدہ ادا ہوجائے گا اور اگر اسی طرح آیت سجدہ پڑھنے کے بعد نماز کا سجدہ کیا تب بھی سجدہ ادا ہوجائے گا اور اس میں نیت کی بھی ضرورت نہ ہوگی مگر شرط یہ ہے کہ کہ ہر دو صوت میں آیت سجدہ کے بعد تین آیتوں سے زیادہ قرأت نہ کی گئی ہو کیونکہ آیتوں کے پڑھنے میں تو اختلاف بھی ہے مگر یہ مسئلہ متفق علیہ ہے کہ تین سے زیادہ آیتیں پڑھنے کی صورت میں نماز کے رکوع یا سجود میں سجدہ تلاوت ادا نہیں ہوگا بلکہ الگ سے سجدہ تلاوت کرنا ضروری ہوگا۔

994Mishkaat-al-Masabih

دو سجدوں کی وجہ سے سورت حج کی فضیلت

وَعَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ فُضِّلَتْ سُوْرَۃُ الْحَجِّ بِاَنَّ فِیْھَا سَجْدَتَیْنِ قَالَ نَعَمْ وَمَنْ لَمْ یَسْجُدْ ھُمَا فَلَا یَقْرَأَھُمَا رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَالتِّرمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ لَیْسَ اِسْنَادُہ، بِاالْقَوِیِّ وَفِی الْمَصَابِیْحِ فَلَا یَقْرَأھَا کَمَا فِی شَرْحِ السُنَّۃِ۔ (رواہ ابوداؤد، الترمذی)

اور حضرت عقبہ ابن عامر فرماتے ہیں کہ میں نے سرور کونین ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ! سورت حج کو اس لئے فضیلت حاصل ہے کہ اس میں دو سجدے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں! جو آدمی دونوں سجدے نہ کرے تو وہ ان دونوں سجدوں کی آیتوں کو نہ پڑھے۔ (سنن ابوداؤد جامع ترمذی) امام ترمذی فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی اسناد قوی نہیں ہے اور مصابیح میں مثل شرح السنۃ کے فلا یقراھما (تو وہ دونوں سجدوں کی آیتوں کو نہ پڑھے) کے بجائے فلا یقراھا (تو وہ اس سورت کو نہ پڑھے) کے الفاظ ہیں۔ تشریح رسول اللہ ﷺ کے جواب کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی سجدے کی ان دونوں آیتوں کو نہ پڑھے تو اسے وہ آیتیں ہی نہ پڑھنی چاہئیں تاکہ وہ ترک واجب کا گنہگار نہ ہو یعنی قرآن کریم پڑھنے والے کے حق میں سجدے کی آیت کی تلاوت کی وجہ سے ایک سجدہ مشروع ہوا ہے اور سجدہ تلاوت کرنا تلاوت کے حقوق سے ہے لہٰذا اگر کوئی آدمی سجدہ تلاوت کو ترک کرنے کے درپے ہو تو اس کے لئے یہی مناسب ہے کہ وہ ان آیتوں ہی کو نہ پڑھے جن کی وجہ سے سجدہ واجب ہوجاتا ہے کیونکہ سجدہ واجب ہے اور اس کو چھوڑنے والا گنہگار ہوتا ہے اس لئے ترک سجدہ سے ترک تلاوت اولیٰ ہے۔ مشکوٰۃ کے ایک دوسرے صحیح نسخہ میں بجائے فلا یقراھما کے فلم یقراھا کے الفاظ ہیں اس طرح رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے معنی یہ ہوں گے کہ جس نے وہ دونوں سجدے نہ کئے گویا اس نے انہیں پڑھا ہی نہیں یعنی جب اس نے اس آیت کے تقاضے پر عمل نہ کیا تو اس کا پڑھنا نہ پڑھنا دونوں برابر ہے۔ جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ سورت حج کا دوسرا سجدہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک واجب نہیں ہے وہ فرماتے ہیں کہ وہ سجدہ نماز کا ہے کیونکہ وہاں لفظ ارکعوا کا مذکور ہونا اس بات کا قرینہ ہے۔ امام ترمذی (رح) نے آخر میں ھذا حدیث لیس اسنادہ بالقوی کہہ کر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔

995Mishkaat-al-Masabih

سورت الم تنزیل السجدہ کا سجدہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَاَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم سَجَدَ فِیْ صَلٰوۃِ الظُّھْرِ ثُمَّ قَامَ فَرَکَعَ فَرَأَوْا اَنَّہُ قَرَأتَنْزِیْلَ السَّجْدَۃِ۔ (رواہ ابوداؤ)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک روز سرور کونین ﷺ نے ظہر کی نماز میں سجدہ کیا اور کھڑے ہوئے پھر رکوع کیا اور لوگوں کو یہ گمان تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے سورت الم تنزیل السجدہ پڑھی ہے۔ (ابوداؤد) تشریح صحابہ نے محض سجدے سے معلوم نہیں کیا تھا کہ آپ ﷺ نے سورت آلم تنزیل السجدہ پڑھی ہے بلکہ سورت کی ایک آیت رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوگی اس سے انہیں معلوم ہوگیا ہوگا کہ آپ ﷺ یہ سورت پڑھ رہے ہیں۔ چناچہ احادیث میں وارد ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ (آہستہ آواز سے پڑھی جانے والی نمازوں میں) کبھی کبھی ایک آیت بآواز بلند بھی پڑھ دیا کرتے تھے تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ فلاں سورت کی قرأت ہو رہی ہے یا یہ کہ انتہائی شوق اور حضور قلب کی وجہ سے بےاختیار آپ ﷺ کی لسان مقدس سے کوئی آیت بآواز بلند جاری ہوجاتی تھی۔ بظاہر اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے آیت سجدہ پڑھ کر جب سجدہ کیا اور سجدے سے اٹھے تو بقیہ سورت پوری نہیں کی بلکہ رکوع میں چلے گئے چناچہ یہ جائز ہے اگرچہ افضل یہی ہے کہ سجدے سے اٹھ کر بقیہ سورت پوری کی جائے اس کے بعد رکوع کیا جائے لہٰذا یہ ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا بیان جواز کی خاطر کیا ہو باوجود یہ نص سے بصراحت تو یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ ﷺ نے بقیہ سورت پوری نہیں کی اور رکوع میں چلے گئے تاہم بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے محض رکوع پر اکتفا نہیں کیا بلکہ مستقلاً سجدہ کیا جیسا کہ حنفیہ کے ہاں ایسی صورت میں رکوع ہی میں سجدہ ادا ہوجاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ افضل اور اولیٰ چونکہ سجدہ کرلینا ہی ہے اس لئے آپ ﷺ نے افضل طریقہ کو اختیار فرمایا۔

996Mishkaat-al-Masabih

سجدہ تلاوت قاری اور سامع دونوں پر واجب ہوتا ہے

وَعَنْہُ اَنَّہُ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقْرَأُ عَلَیْنَا الْقُرْاٰنَ فَاِذَا مَرَّبِا السَّجْدَۃ کَبَّرَوَ سَجَدْنَا مَعَہ،۔(رواہ ابوداؤد)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ ہمارے سامنے قرآن کریم پڑھتے اور جب سجدے کی کسی آیت پر پہنچتے تو تکبیر کہتے اور سجدہ کرتے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کرتے تھے۔ (ابوداؤد) تشریح اس حدیث سے یہ بات بصراحت معلوم ہوگئی کہ سجدہ تلاوت قاری (یعنی قرآن کریم پڑھنے والے) اور سامع (یعنی تلاوت سننے والے) دونوں پر واجب ہے۔ صرف سجدے کے وقت تکبیر کہنی چاہیے یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ سجدہ تلاوت کے لئے تکبیر صرف سجدے میں جاتے وقت کہنی چاہیے چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا اسی پر عمل ہے۔ البتہ حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک یہ مسئلہ ہے کہ جب کوئی آدمی سجدہ تلاوت کرے تو اسے پہلے ہاتھ اٹھا کر تکبیر تحریمہ کہنی چاہیے اس کے بعد سجدے کے لئے دوسری تکبیر کہے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اللہ تعالیٰ عنہا کی ایک روایت کی روشنی میں یہ ثابت ہے کہ سجدہ تلاوت کے وقت پہلے کھڑے ہونا اور اس کے بعد سجدے میں جانا مستحب ہے۔

997Mishkaat-al-Masabih

سجدہ تلاوت قاری اور سامع دونوں پر واجب ہوتا ہے

وَعَنْہ، اَنَّہُ قَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَرَأَ عَامَ الفَتْحِ سَجِدَۃً فَسَجَدَ النَّاسُ کُلُّھُمْ مِنْھُمْ الرَّاکِبُ وَالسَّاجِدُ عَلَی الْاَرْضِ حَتّٰی اَنَّ الرَّاکِبَ لَیَسْجُدُ عَلٰی یَدِہٖ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فتح مکہ کے سال (کوئی) آیت پڑھی چناچہ تمام لوگوں نے (رسول اللہ ﷺ کے ساتھ) سجدہ تلاوت کیا سجدہ کرنے والوں میں سے بعض تو سواریوں پر تھے (اور بعض زمین پر تھے سواریوں والے اپنے ہاتھ ہی پر سجدہ کرتے تھے۔ (ابوداؤد) نشریج رسول اللہ ﷺ نے یا تو آیت سجدہ کے ساتھ کچھ اور آیتیں بھی ملا کر پڑھی ہوں گی یا پھر محض آیت سجدہ بیان جواز کے لئے پڑھی ہوگی، کیونکہ حنفیہ کے مسلک کے مطابق صرف آیت سجدہ کی تلاوت کرنا خلاف استحباب ہے۔ سواریوں والے اپنے ہاتھ ہی پر سجدہ کرتے تھے کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنی سواریوں مثلاً گھوڑے وغیرہ پر بیٹھے ہوئے تھے وہ اپنے ہاتھوں کو زین وغیرہ پر رکھ کر ان پر سجدہ کرتے تھے اس طرح انہیں حالت سجدہ میں زمین کی سی سختی حاصل ہوجاتی تھی۔ حضرت ابن ملک فرماتے ہیں کہ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اگر کوئی آدمی گردن جھکا کر اپنے ہاتھوں پر سجدہ کرے تو اس کا سجدہ جائز ہوجائے گا اور یہی قول حضرت امام ابوحنیفہ کا ہے البتہ حضرت امام شافعی کا یہ قول نہیں ہے۔ ابن ملک نے حضرت امام اعظم کا جو یہ قول ذکر کیا ہے یہ ان کے مسلک میں غیر مشہور ہے چناچہ شرح منیہ میں لکھا ہے کہ اگر کوئی آدمی ہجوم واژدہام کی وجہ سے اپنی ران پر سجدہ کرلے تو جائز ہوگا اسی طرح ران کے علاوہ کسی دوسرے عضو پر بھی سجدہ کرنا جائز ہے جب کہ اسے کوئی ایسا عذر پیش ہو جو سجدہ کرنے سے مانع ہو، بغیر عذر ایسا کرنا جائز نہ ہوگا نیز اگر کوئی آدمی اپنا ہاتھ زمین پر رکھ کر اس پر سجدہ کرلے تو اگرچہ اسے کوئی عذر نہ ہو یہ جائز ہے مگر مکروہ ہوا۔ ابن ہمام نے لکھا ہے کہ اگر کوئی آدمی بیمار ہو سجدے کی کوئی آیت پڑھے اور سجدہ کرنے پر قادر نہ ہو تو اسے سجدے کا اشارہ کرلینا کافی ہوگا۔

998Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ کا مفصل سورتوں میں سجدہ نہ کرنا

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم لَمْ یَسْجُدْ فِی شَیْی ءٍ مِنَ الْمُفَصَّلِ مُنْذُتَحَوَّلَ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ مدینہ تشریف لانے کے بعد مفصل سورتوں میں سے کسی سورت میں سجدہ نہیں کیا۔ (ابوداؤد) تشریح حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ تشریف لانے سے پہلے مکہ میں تو مفصل سورتوں میں سجدہ تلاوت کیا اور ان کے ساتھ دوسرے لوگوں نے بھی کیا مگر جب آپ ﷺ مدینہ تشریف لے آئے تو یہاں آپ نے مفصل سورتوں میں سجدہ تلاوت نہیں کیا۔ ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے تعارض اس حدیث سے تو بصراحت یہ بات معلوم ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں مفصل سورتوں میں سجدہ تلاوت نہیں کیا حالانکہ اس سے پہلے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت (نمبر ایک) گزر چکی ہے کہ جس میں ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ اَذَا السَّمَاء انْشَقَّتْ اور اِقْرَأْ بِاِسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ میں سجدہ کیا لہٰذا اب جب کہ ان دونوں حدیثوں میں تعارض پیدا ہوگیا تو ان میں سے کسی ایک کو راجح قرار دینا ہوگا اور راجح حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہوگی کیونکہ حضرت ابوہریرہ ؓ مدینہ میں سات ہجری میں اسلام لائے اور ظاہر ہے کہ ان کی روایت کا تعلق مدینہ ہی سے ہے اور فنی طور پر بھی حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت صحیح تر ہے پھر یہ کہ ان کے علاوہ بہت زیادہ صحابہ کی روایات ہیں کہ مفصل سورتوں میں سجدہ ہے نیز اصول ہے کہ مثبت پہلو منفی پہلو پر فوقیت رکھتا ہے اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی روایت سے منفی پہلو ثابت ہوتا ہے جب کہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت مثبت پہلو کو ظاہر کر رہی ہے۔ لہٰذا حاصل یہ نکلا کہ مفصل سورتوں میں رسول اللہ ﷺ سے سجدہ کرنا ثابت ہے اس لئے ان سورتوں میں سجدے کی جو آیتیں ہیں ان کی تلاوت یا سماعت پر سجدہ کرنا چاہیے۔ مفصل چھوٹی سورتوں کو کہتے ہیں کہ وہ سورت حجرات سے آخر تک ہیں۔

999Mishkaat-al-Masabih

سجدہ تلاوت کی تسبیح

وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ فِی سُجُوْدِ الْقُرْآنِ بِاللَّیْلِ سَجَدَ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہ، وَشَقَّ سَمْعَہ، وَبَصَرَہ، بِحَوْلِہٖ وَقُوَّتِہٖ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَالتِّرْمِذِیُّ وَالنَّسَائِیُّ وَقَالَ التِّرمِذِیُّ ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ۔

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرور کونین ﷺ رات کو قرآن کے سجدوں میں یہ تسبیح پڑھتے تھے۔ سَجَدَ وَجْھِیَ لِلَّذِیْ خَلَقَہ وَشَقَّ سَمْعَہ وَبَصَرَہ، بِحَوْلِہ وَقُوَّتِہ میرے منہ نے اس ذات کو سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا اور اپنی قوت وقدرت سے کان اور آنکھیں بنائیں (ابوداؤد جامع ترمذی، سنن نسائی) اور حضرت امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تشریح رات کی قید اتفاقی ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ تسبیح رات ہی میں سنی ہوگی چناچہ اسی کو بیان کیا ورنہ تو رات یا دن کی قید کے بغیر مطلقاً طور پر بھی یہ ثابت ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ تسبیح سجدہ تلاوت میں پڑھتے تھے نیز بعض روایات میں یہ تسبیح بھی منقول ہے۔ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْلِیْ میرے پروردگار میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا مجھے بخش دے۔ حنفیہ کا صحیح مسلک یہ ہے سجدہ تلاوت میں سبحان ربی الاعلی پڑھنا کافی ہے جیسا کہ نماز کے سجدوں میں پڑھتے ہیں لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ سجدہ تلاوت کی جو تسبیحیں ثابت ہیں ان کا پڑھنا اولیٰ ہے۔

1000Mishkaat-al-Masabih

سجدہ تلاوت کی تسبیح

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ رَاَیْتُنِی اللَّیْلَۃَ وَاَنَا نَائِمٌ کَاَنِّی اُصَلِّی خَلْفَ شَجَرَۃٍ فَسَجَدْتُ فَسَجَدَتِ الشَّجَرَۃُ لِسُجُوْدِیْ فَسَمِعْتُھَا تَقُوْلُ اَللّٰہُمَّ اکْتُبْ لِی بِھَا عِنْدَکَ اَجْرًا وَضَعْ عَنِّی بِھَا وِ زْرًا وَاجْعَلْھَا لِی عِنْدَکَ زُخْرًاوَّ تَقَبَّلْھَا مِنِّیْ کَمَا تَقَلَّبْتَھَا مِنْ عَبْدِکَ دَاؤدَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَراالنَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم سَجْدَۃً ثُمَّ سَجْدَ فَسَمِعْتُہ، وَھُوَ یَقُوْلُ مِثْلُ مَا اَخْبَرَہُ الرَّجُلُ عَنْ قَوْلِ الشَّجَرَۃِ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَابْنُ مَاجَۃَ اِلَّا اَنَّہ، لَمْ یَذْکُرْوَ تَقَبَّلَھَا کَمَا تَقَبَّلْتَھَا مِنْ عَبْدِکَ دَاؤدَوَ قَالَ التِّرمِذِیُّ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ۔(جامع ترمذی)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک روز ایک آدمی سرور کونین ﷺ کی خدمت اقدس حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے آج رات خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ گویا ایک درخت کے نیچے میں نماز پڑھ رہا ہوں اور یہ بھی دیکھا کہ جب میں نے سجدہ تلاوت کیا تو اس درخت نے بھی میرے ساتھ سجدے کے وقت سجدہ کیا تو میں نے یہ سنا کہ وہ درخت یہ دعا پڑھتا تھا۔ اَللّٰہُمَّ اکْتُبْ لِیْ بِھَا عِنْدَکَ اُجْرَ وضَعَ عَنِّیْ بِھَا وِزْرًا وَاجْعَلَھَا لِیْ عِنْدَکَ زُخْرًا وَتَقَبَّلَھَا مِنِّی کَمَا تَقَبَّلْتَھَا مِنْ عَبْدِکَ دَاؤْدَ اے اللہ! میرے لئے اس سجدے کا ثواب اپنے پاس رکھ اور اس کی وجہ سے میرے گناہ معاف فرما اور اس سجدے کو میرے واسطے خیر بنا کر اپنے پاس رکھ اور میرے اس سجدے کو ایسا قبول کر جیسا اپنے بندے داؤد سے قبول کیا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا پڑھنے کی غرض سے اسی مجلس میں یا بعد میں سجدے والی آیت پڑھ کر سجدہ تلاوت کیا اور میں نے آپ ﷺ کو (دعا کے) وہی کلمات کہتے ہوئے سنے جو اس آدمی نے درخت سے نقل کئے تھے یعنی آپ ﷺ نے وہی دعا پڑھی۔ (جامع ترمذی ) اس روایت کو ابن ماجہ نے بھی نقل کیا ہے مگر ان کی روایت میں وَتَقَبَّلَھَا مِنِّی کَمَا تَقَبَّلْتَھَا مِنْ عَبْدِکَ دَاؤْدَ کے الفاظ نہیں ہیں نیز امام ترمذی نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس آدمی نے سورت ص کے سجدے کی آیت پڑھی ہوگی اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ہے کہ آپ ﷺ نے بھی یا تو سورة ص ہی کے سجدے والی آیت پڑھی ہوگی یا پھر سورہ، سجدہ کی تلاوت کی ہوگی۔

1001Mishkaat-al-Masabih

سجدہ تلاوت کی تسبیح

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ص اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَرَأَ (وَالنَّجْمِ) فَسَجَدَ فِےْھَا وَسَجَدَ مَنْ کَانَ مَعَہُ غَےْرَ اَنْ شَےْخًا مِنْ قُرَےْشٍ اَخَذَ کَفًّا مِنْ حَصٰی اَوْ تُرَابٍ فَرَفَعَہُ اِلٰی جَبْہَتِہٖ وَقَالَ ےَکْفِیْنِیْ ھٰذَا قَالَ عَبْدُاللّٰہِ فَلَقَدْ رَأَےْتُہُ بَعْدُ قُتِلَ کَافِرًا۔وَزَادَ الْبُخَارِیُّ فِی رِوَاےَۃٍ وَھُوَ اُمَےَّۃُ بْنُ خَلْفٍ

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے ایک روز سورت النجم کی تلاوت فرمائی اور اس میں سجدہ کیا آپ ﷺ کے پاس جو لوگ تھے انہوں نے بھی سجدہ کیا۔ مگر قریش کے ایک بوڑھے نے کنکریاں یا مٹی کی ایک مٹھی لے کر اپنی پیشانی پر لگالی اور بولا کہ میرے لئے یہی کافی ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اس واقعہ کے بعد دیکھا کہ وہ آدمی کفر کی حالت میں مارا گیا۔ (امام بخاری و مسلم) اور صحیح البخاری نے ایک روایت میں یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ وہ بوڑھا امیہ بن خلف تھا۔ تشریح یہ واقعہ فتح مکہ سے پہلے کا ہے امیہ بن خلف قریش کا ایک معزز سردار اور ذی اثر فرد تھا اسلام اور رسول اللہ ﷺ کے خلاف کی جانے والی تمام سازشوں میں اس کا پارٹ اہم ہوتا تھا اسے اپنی بڑائی پر بڑا ناز تھا، چناچہ اس موقع پر جب کہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ مجلس میں موجود تمام ہی اشخاص نے کیا مسلمان اور کیا کفار جب رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سجدہ کیا تو اس آدمی نے ازراہ غرور وتکبر سجدہ نہیں کیا بلکہ یہ حرکت کی کہ کنکری یا مٹی کی ایک مٹھی لے کر اسے پیشانی سے لگا لیا۔