وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اِنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم سَجَدَ فِی صۤ وَقَالَ سَجَدَھَا دَاؤدُ تَوْبَۃً وَنَسْجُدُھَا شُکْرًا۔ (رواہ النسائی )
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے سورت ص میں سجدہ کیا اور فرمایا کہ حضرت داؤد نے سورت ص کا یہ سجدہ توبہ کی قبولیت کے لئے کیا تھا (جس کی تفصیل سورت ص میں مذکور ہے) اور ہم یہ سجدہ (ان کی قبولیت پر) شکر گزاری کے لئے کرتے ہیں۔ (سنن نسائی)
ان اوقات کا بیان جن میں نماز پڑھنا ممنوع ہے
اس باب کے تحت وہ احادیث نقل کی جائیں گی جو اوقات نہی کو ظاہر کرتی ہیں یعنی جن اوقات میں نماز پڑھنا ممنوع ہے۔ لہٰذا یہ باب ان تینوں اوقات کو شامل ہے جن میں نماز حرام ہے جیسے طلوع آفتاب کا وقت، غروب آفتاب کا وقت اور استواء کا وقت یعنی نصف النہار کا وقت اور ان اوقات کو بھی شامل ہے جیسے فجر ( طلوع صبح صادق سے طلوع آفتاب تک فجر کے پورے وقت میں فجر کی دو سنتوں کے علاوہ دوسرے نوافل مکروہ ہیں البتہ فرض و واجب کی قضا پڑھی جاسکتی ہے مگر عصر کا پورا وقت مکروہ نہیں بلکہ فرض نماز کے بعد نفل پڑھنا مکروہ ہے البتہ فرض و واجب کی قضا عصر کے فرض بعد بھی پڑھ سکتے ہیں)۔ اور عصر کی نماز کے بعد کا وقت۔ حنفیہ کے مسلک میں یہ نہی فرض اور نفل دونوں کو شامل ہے چناچہ پہلے تینوں اوقات یعنی طلوع آفتاب، غروب آفتاب اور استواء کے وقت نماز جائز نہیں ہے خواہ ادا ہو یا قضا البتہ اسی دن کی عصر کی نماز جائز ہے اسی طرح نہ جنازہ کی نماز جائز ہے اور نہ تلاوت کا سجدہ جائز ہے ہاں اس جنازے کی نماز جائز ہوگی جو انہیں اوقات میں پڑھا گیا ہو اسی طرح وہ سجدہ تلاوت جائز ہوگا جب آیت سجدہ انہیں اوقات میں پڑھی گئی ہو۔ تاہم ان اوقات سے مؤخر کرنا اولیٰ ہوگا۔ نماز جنازہ سجدہ تلاوت اور قضا نماز فجر کے پورے وقت میں اور عصر کی نماز کے بعد بھی جائز ہے نفل نماز ان اوقات میں بھی مکروہ ہے اگر کوئی آدمی ان اوقات میں نفل نماز شروع کر دے گا وہ لازم ہوجائے گی یعنی اس وقت سے اسے نماز توڑ دینی چاہیے اور پھر وقت مکروہ کے نکل جانے کے بعد اس کی قضا پڑھنی چاہیے اور اگر کوئی آدمی نماز توڑے نہیں بلکہ اسی وقت پوری کرے تو وہ اس سے عہدہ برآ ہوجاتا ہے مگر نماز توڑ دینا ہی افضل ہے۔ حضرت امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کے نزدیک ان اوقات میں قضا نماز اور اس جنازے کی نماز جو اسی وقت لایا گیا ہو جائز ہے نیز تحیۃ المسجد کی نماز پڑھنی بھی جائز ہے اگر اتفاق سے مسجد میں داخل ہوجائے اور اگر کوئی آدمی قصدًا تحیۃ المسجد کی نماز پڑھنے کی خاطر مسجد میں ان اوقات میں آئے یا قضا نماز میں تاخیر اس مقصد سے کرے کہ انہیں اوقات میں پڑھے تو اس صورت میں جائز نہیں کیونکہ ان اوقات میں قصدا یہ نمازیں پڑھنا حدیث کے بموجب ممنوع ہے اسی طرح ان کے نزدیک ان اوقات میں کسوف کی نماز وضو کے بعد کی دو رکعت نماز اور احرام و طواف کی دو رکعت نماز نیز سجدہ تلاوت جس کی آیت انہیں اوقات میں پڑھی جائے جائز ہے۔ ان اوقات میں نماز پڑھنے کی کراہت حنفیہ کے نزدیک ہر وقت اور ہر جگہ ہے لیکن حضرت امام شافعی (رح) اور ان علماء کے نزدیک جو حضرت امام شافعی (رح) کے ساتھ ہیں جمعہ کے روز استواء یعنی نصف النہار کے وقت نماز جائز ہے نیز ان اوقات میں مکہ معظمہ میں بھی جائز ہے۔ اتنی بات سمجھ لیجئے کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا مسلک اس سلسلے میں احوط (یعنی احتیاط پسندی پر مبنی) ہے کیونکہ جب کسی چیز کے بارے میں مباح اور حرام دونوں کے دلائل متعارض ہوں تو حرمت کے پہلو کو ترجیح دی جاتی ہے۔
طلوع وغروب آفتاب کے وقت نماز نہیں پڑھنی چاہیے
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا ےَتَحَرّٰی اَحَدُکُمْ فَےُصَلِّیْ عِنْدَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَلَا عِنْدَ غُرُوْبِھَا وَفِیْ رِوَاےَۃٍ قَالَ اِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلٰوۃَ حَتّٰی تَبْرُزَ وَاِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَدَعُوا الصَّلٰوۃَ حَتّٰی تَغِےْبَ وَلَا تَحَےَّنُوْا بِصَلٰوتِکُمْ طُلُوْعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوْبَھَا فَاِنَّھَا تَطْلُعُ بَےْنَ قَرْنِیَ الشَّےْطَانِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی آفتاب کے نکلنے اور ڈوبنے کے وقت نماز پڑھنے کا قصد نہ کرے۔ ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب سورج کا کنارہ نکل آئے تو نماز چھوڑ دو یہاں تک کہ سورج خوب ظاہر ہوجائے یعنی (ایک نیزے کے بقدر بلند ہوجائے) نیز جب سورج کا کنارہ ڈوب جائے تو مطلقاً کوئی بھی نماز خواہ فرض ہو یا نفل چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ بالکل غروب ہوجائے اور آفتاب کے طلوع و غروب ہونے کے وقت نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کرو اس لئے کہ سورج شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حدیث کے الفاظ قصد نہ کرے سے حضرت امام شافعی (رح) نے یہ نیتجہ اخذ کرتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی ان اوقات میں قصدا تحیۃ المسجد اور قضا کی نماز پڑھے گا تو اس حدیث کی رو سے خلاف کرے گا ہاں اگر کوئی آدمی اتفاقا پڑھ لے تو جائز ہوگا لیکن حنفیہ فرماتے ہیں کہ حدیث کا مقصد مطلق طور پر ان اوقات میں نماز پڑھنے سے منع کرنا ہے اس میں قصدًا یا اتفاقًا کی قید لگانا حدیث کی منشاء کے خلاف ہے۔ شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان آفتاب نکلنے کا مطلب شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان آفتاب نکلنے کا مطلب اس کے سر کے دونوں جانبوں کے درمیان آفتاب نکلنا ہے یعنی شیطان طلوع آفتاب کے وقت آفتاب کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے تاکہ آفتاب اس کے سر کے دونوں جانبوں کے درمیان نکلے اور اس حرکت سے اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ آفتاب کو پوجتے ہیں شیطان ان کا قبلہ بن جائے چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اس وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے تاکہ اللہ کے ان باغیوں کے ساتھ مشابہت نہ ہو۔
وہ تین اوقات جن میں نماز پڑھنا ممنوع ہے
وَعَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ ثَلٰثُ سَاعَاتٍ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَنْھٰنَا اَنْ نُّصَلِّیَ فِےْھِنَّ اَوْ نَقْبُرَ فِےْھِنَّ مَوْتَانَا حِےْنَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَۃً حَتّٰی تَرْتَفِعَ وَحِےْنَ یَقُوْمُ قَآئِمُ الظَّھِےْرَۃِ حَتّٰی تَمِےْلَ الشَّمْسُ وَحِےْنَ تَضَےَّفَ الشَّمْسُ لِلْغُرُوْبِ حَتّٰی تَغْرُبَ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت عقبہ ابن عامر ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ تین وقتوں میں نماز پڑھنے اور اپنے مردوں کو دفن کرنے سے منع فرماتے تھے۔ اول آفتاب نکلنے کے وقت یہاں تک کہ بلند ہوجائے، دوسرے دوپہر کا سایہ قائم ہونے (یعنی نصف النہار) کے وقت یہاں تک کہ آفتاب ڈھل جائے اور تیسرے اس وقت جبکہ آفتاب ڈوبنے لگے یہاں تک کہ غروب ہوجائے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مردوں کو دفن کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان اوقات میں مردے دفن نہ کئے جائیں بلکہ اس کا مطلب جنازے کی نماز سے منع کرنا ہے کیونکہ مردے ہر وقت دفن کئے جاسکتے ہیں۔
فجر و عصر کے بعد کوئی نماز نہ پڑھنی چاہیے
وَعَنْ اَبِیْ سَعِےْدِنِ الْخُدْرِیِّ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا صَلٰوۃَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتّٰی تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ وَلَا صَلٰوۃَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتّٰی تَغِےْبَ الشَّمْسُ ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا صبح (کی نماز) کے بعد اس وقت تک کہ (بقدر نیزہ) آفتاب بلند نہ ہوجائے کوئی نماز نہیں اور عصر کی نماز کے بعد اس وقت تک کہ آفتاب چھپ نہ جائے کوئی نماز نہیں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
یہاں نفی سے مراد نماز کے کمال کی نفی ہے۔ اس لئے کہ ان دونوں اوقات میں نماز پڑھنا حرام نہیں ہے بلکہ مکروہ ہے۔
وَعَنْ عَمْرِوبْنِ عَبَسَۃَص قَالَ قَدِمَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم الْمَدِےْنَۃَ فَقَدِمْتُ الْمَدِےْنَۃَ فَدَخَلْتُ عَلَےْہِ فَقُلْتُ اَخْبِرْنِیْ عَنِ الصَّلٰوۃِ فَقَالَ صَلِّ صَلٰوۃَ الصُّبْحِ ثُمَّ اَقْصِرْ عَنِ الصَّلٰوۃِ حِےْنَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ حَتّٰی تَرْتَفِعَ فَاِنَّھَا تَطْلُعُ حِےْنَ تَطْلُعُ بَےْنَ قَرْنَیْ شَےْطَانٍ وَّحِےْنَئِذٍ ےَّسْجُدُ لَھَا الْکُفَّارُ ثُمَّ صَلِّ فَاِنَّ الصَّلٰوۃَ مَشْھُوْدَۃٌ مَّحْضُوْرَۃٌ حَتّٰی ےَسْتَقِلَّ الظِّلُّ بِالرُّمْحِ ثُمَّ اَقْصِرْ عَنِ الصَّلٰوۃِ فَاِنَّ حِےْنَئِذٍ تُسَجَّرُ جَھَنَّمَ فَاِذَا اَقْبَلَ الْفَئُ فَصَلِّ فَاِنَّ الصَّلٰوۃَ مَشْھُوْدَۃٌ مَّحْضُوْرَۃٌ حَتّٰی تُصَلِّیَ الْعَصْرَ ثُمَّ اَقْصِرْ عَنِ الصَّلٰوۃِ حَتّٰی تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَاِنَّھَا تَغْرُبُ بَےْنَ قَرْنَیْ شَےْطَانٍ وَّحِےْنَئِذٍ ےَّسْجُدُ لَھَا الْکُفَّارُ قَالَ قُلْتُ ےَا نَبِیَّ اللّٰہِ فَالْوُضُوْءۤ ُحَدِّثْنِیْ عَنْہُ قَالَ مَا مِنْکُمْ رَجُلٌ ےُّقَرِّبُ وُضُوْۤءَ ہُ فَےُمَضْمِضُ وَےَسْتَنْشِقُ فَےَسْتَنْثِرُ اِلَّا خَرَّتْ خَطَاےَا وَجْھِہٖ وَفِےْہِ وَخَےَاشِےْمِہٖ ثُمَّ اِذَا غَسَلَ وَجْھَہُ کَمَا اَمَرَہُ اللّٰہُ اِلَّا خَرَّتْ خَطَاےَاوَجْھِہٖ مِنْ اَطْرَافِ لِحْےَتِہٖ مَعَ الْمَآءِ ثُمَّ ےَغْسِلُ ےَدَےْہِ اِلَی الْمِرْفَقَےْنِ اِلَّا خَرَّتْ خَطَاےَا ےَدَےْہِ مِنْ اَنَامِلِہٖ مَعَ الْمَآءِ ثُمَّ ےَمْسَحُ رَاْسَہُ اِلَّا خَرَّتْ خَطَاےَا رَاْسِہٖ مِنْ اَطْرَافِ شَعْرِہٖ مَعَ الْمَآءِ ثُمَّ ےَغْسِلُ قَدَمَےْہِ اِلَی الْکَعْبَےْنِ اِلَّا خَرَّتْ خَطَاےَا رِجْلَےْہِ مِنْ اَنَامِلِہٖ مَعَ الْمَآءِ فَاِنْ ھُوَ قَامَ فَصَلّٰی فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَےْہِ وَمَجَّدَہُ بِالَّذِیْ ھُوَ لَہُ اَھْلٌ وَّفَرَّغَ قَلْبَہُ لِلّٰہِ اِلَّاانْصَرَفَ مِنْ خَطِےْئَتِہٖ کَھَےْئَتِہٖ ےَوْمَ وَلَدَتْہُ اُمُّہُ ۔(صحیح مسلم)
اور حضرت عمر و ابن عبسہ ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ مدینہ تشریف لائے تو میں بھی مدینہ آیا اور آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا یہ یا رسول اللہ مجھے نماز کے اوقات بتا دیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا صبح کی نماز پڑھو اور پھر نماز سے رک جاؤ جب تک کہ آفتاب طلوع ہو کر بلند نہ ہوجائے اس لئے کہ جب آفتاب طلوع ہوتا ہے تو شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان نکلتا ہے اور اس وقت کافر (یعنی سورج کو پوجنے والے) اس کو سجدہ کرتے ہیں پھر (اشراق کی) نماز پڑھو کیونکہ اس وقت کی نماز مشہودہ ہے (یعنی فرشتے نمازی کی گواہی دیتے ہیں) اور اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں یہاں تک کہ (جب) سایہ نیزے پر چڑھ جائے اور زمین پر نہ پڑے (یعنی ٹھیک دوپہر ہوجائے) تو نماز سے رک جاؤ کیونکہ اس وقت دوزخ جھونکی جاتی ہے، پھر جب سایہ ڈھل جائے تو (ظہر کے فرض اور جو چاہو نفل) نماز پڑھو کیونکہ یہ وقت فرشتوں کے شہادت دینے اور حاضری کا ہے یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھ لو پھر نماز سے رک جاؤں یہاں تک کہ آفتاب غروب ہوجائے کیونکہ آفتاب شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت کفار (یعنی آ فتاب کو پوجنے والے) اس کی طرف سجدہ کرتے ہیں حضرت عمرو ابن عبسہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے (پھر) عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! وضو (کی فضیلت) کے متعلق (بھی) بتا دیجئے! آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو آدمی وضو کا پانی لے اور (نیت کرنے اور بسم اللہ پڑھنے اور دونوں ہاتھوں کو پہنچوں تک دھونے کے بعد) کلی کرے اور ناک میں پانی ڈالے اس کے چہرے (کے اندر) کے منہ کے اور ناک کے نتھنوں کے (صغیرہ) گناہ جھڑ جاتے ہیں پھر جب وہ اپنے چہرے کو اللہ کے حکم کے مطابق دھوتا ہے تو اس کے چہرے کے گناہ اس کی داڑھی کے کناروں سے پانی کے ساتھ گرجاتے ہیں اور جب وہ اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوتا ہے تو اس کے دونوں ہاتھوں کے گناہ اس کی انگلیوں کے سرے سے پانی کے ساتھ گرجاتے ہیں اور جب وہ اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوتا ہے تو اس کے دونوں پاؤں کے گناہ اس کی انگلیوں کے سرے سے پانی کے ساتھ گرجاتے ہیں اور پھر (وضو سے فارغ ہو کر) جب وہ کھڑا ہوتا ہے اور نماز پڑھتا ہے نیز (نماز کے بعد) اللہ کی تعریف کرتا ہے ثنا بیان کرتا ہے (یعنی ذکر اللہ بہت زیادہ کرتا ہے) اور اسے اس بزرگی کے ساتھ جس کے وہ لائق ہے یاد کرتا ہے اور اپنے دل کو اللہ کے لئے فارغ (یعنی اس کی طرف متوجہ) کرتا ہے تو وہ (نماز کے بعد) گناہوں سے ایسا پاک ہو کر لوٹتا ہے گویا اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حدیث کے الفاظ جب سایہ نیزے پر چڑھ جائے اور زمین پر نہ پڑے کا تعلق مکہ و مدینہ اور ان کے گرد و نواح سے ہے کیونکہ ان مقامات پر بڑے دنوں میں عین نصف النہار کے وقت سایہ زمین پر بالکل نہیں پڑتا۔ حدیث کے آخری الفاظ سے یہ مفہوم واضح ہوتا ہے کہ صغیرہ اور کبیرہ دونوں گناہ بخش دیئے جاتے ہیں تو اس سلسلے میں تحقیقی بات یہ ہے کہ صغیرہ گناہ تو ضرور بخش دیتے ہیں البتہ کبیرہ گناہوں کی بخشش کا انحصار حق تعالیٰ کی مشیت اور اس کی مرضی پر ہے کہ چاہے تو وہ کبیرہ گناہ بھی اپنے فضل و کرم سے بخش سکتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا عصر کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا
وَعَنْ کُرَےْبٍص اَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍص وَالْمِسْوَرَ ابْنَ مَخْرَمَۃَص وَعَبْدَالرَّحْمٰنِ بْنَ الْاَزْھَرِ اَرْسَلُوْہُ اِلٰی عَآئِشَۃَ فَقَالُوْا اِقْرَأَ عَلَےْھَا السَّلَامَ وَسَلْھَا عَنِ الرَّکْعَتَےْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ قَالَ فَدَخَلْتُ عَلٰی عَآئِشَۃَ فَبَلَّغْتُھَا مَا اَرْسَلُوْنِیْ فَقَالَتْ سَلْ اُمَّ سَلَمَۃَ فَخَرَجْتُ اِلَےْھِمْ فَرَدُّوْنِیْ اِلٰی اُمِّ سَلَمَۃَ فَقَالَتْ اُمُّ سَلَمَۃَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَنْھٰی عَنْھُمَا ثُمَّ رَاَےْتُہُ ےُصَلِّےْھِمَا ثُمَّ دَخَلَ فَاَرْسَلْتُ اِلَےْہِ الْجَارِےَۃَ فَقُلْتُ قُولِی لَہ، تَقُوْلُ اُمُّ سَلَمَۃَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم سَمِعْتُکَ تَنْھٰی عَنْ ھَاتَیْنِ الرَّکْعَتَیْنِ وَاَرَاکَ تُصَلِّیْھِمَا قَالَ یا اِبْنَۃَ اَبِی اُمَیَّۃَ سَأَلْتِ عَن الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَاِنَّہُ اَتَانِی نَاسٌ مِنْ عَبْدِالْقَیْسِ فَشَغَلُونِی عَنِ الرَّکْعَتَیْنِ اللَّتَیْنِ بَعْدَ الظُّھْرِ فَہُمَا ھَاتَانِ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت کریب (حضرت عبداللہ ابن عباس کے خادم) راوی ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن عباس، مسورابن مخرمہ اور عبدالرحمن ابن ازہر ؓ نے انہیں (یعنی کریب کو) حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی خدمت میں بھیجا اور ان سے تینوں نے کہا کہ (ہمارے طرف سے) حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں سلام پیش کر کے ان سے عصر کے بعد دو رکعت نماز کے بارے میں پوچھنا کریب فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان تینوں نے جس پیغام کو پہنچانے کے لئے مجھے بھیجا تھا میں نے وہ پیغام ان تک پہنچا دیا حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا کہ حضرت ام سلمہ ؓ ( کے پاس جاؤ اور ان) سے پوچھو میں (یہ جواب سن کر) ان تینوں صحابہ کرام کے پاس واپس لوٹ آیا، انہوں نے مجھے (پھر) حضرت ام سلمہ ؓ کے پاس بھیجا، حضرت ام سلمہ ؓ نے (میرا سوال سن کر) فرمایا کہ میں نے سرور کونین ﷺ سے سنا ہے کہ آپ ﷺ ان دونوں رکعتوں (کے پڑھنے) سے منع فرمایا کرتے تھے۔ پھر میں نے (ایک دن) دیکھا کہ آپ ﷺ ان دونوں رکعتوں کو پڑھتے ہیں۔ جب آپ ﷺ (ان دونوں رکعتوں کو مسجد میں پڑھ کر گھر میں یا باہر صحن میں پڑھ کر مکان کے اندرونی حصے میں داخل ہوئے تو میں نے خادمہ کو آپ ﷺ کی خدمت میں بھیجا اور اس سے کہا کہ تم رسول اللہ ﷺ سے جا کر کہو کہ ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ یا رسول اللہ ﷺ میں نے آپ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ ان دونوں رکعتوں ( کے پڑھنے) سے منع فرماتے تھے اور (اب) میں نے آپ ﷺ کو دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے (اس کی کیا وجہ ہے) رسول اللہ ﷺ نے (خادمہ سے کہا کہ ام سلمہ ؓ سے جا کر کہو کہ) ابوامیہ کی بیٹی! تم نے عصر کے بعد دو رکعتوں کے (پڑھنے کے) بارے میں پوچھا ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ قبیلہ عبدالقیس کے کچھ لوگ (اسلامی تعلیمات اور احکام سیکھنے کی غرض سے) میرے پاس آئے تھے چناچہ (انہیں دینی احکامات بتانے کی مشغولیت میں) ظہر کے بعد کی میری دونوں رکعتیں رہ گئی تھیں انہیں کو میں نے عصر کے بعد پڑھا ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
سائلین کا مطلب یہ تھا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے عصر کی نماز کے بعد نفل وغیرہ پڑھنے سے منع فرمایا تھا تو خود عصر کے بعد دو رکعت نماز کیوں پڑھی تھی چناچہ انہوں نے حضرت کریب کو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے پاس بھیجا تاکہ وہ اس کی تحقیق کریں اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے حقیقت حال معلوم کریں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے حضرت کریب کو حضرت ام سلمہ ؓ کا حوالہ دیا کہ ان سے معلوم کیا جائے، کیونکہ حضرت ام سلمہ ؓ اس بارے میں پوری طرح واقفیت رکھتی تھیں اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے آپ ﷺ کے اس عمل کے بارے میں پہلے ہی تحقیق کرلی تھی، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے جب حضرت کریب کو حضرت ام سلمہ ؓ کے پاس جانے کو کہا تھا تو انہیں قاعدے میں حضرت ام سلمہ ؓ کے پاس ہی جانا چاہیے تھا لیکن وہ بپ اس ادب پہلے ان تینوں صحابیوں کے پاس آئے جن کے پیغامبر بن کر وہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے پاس گئے تھے، جب ان صحابیوں نے انہیں حضرت ام سلمہ ؓ کے پاس بھیجا تب وہ ان کے پاس گئے اور ان تینوں صحابیوں کا پیغام انہیں پہنچا کر حقیقت حال سے مطلع ہوئے۔ حضرت ام سلمہ ؓ کے جواب کا مطلب یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ عصر کے بعد جو دو رکعتوں سے منع فرماتے تھے تو ان دو رکعتوں سے آپ ﷺ کی مراد مطلقاً نفل نماز پڑھنا تھا اور اسی کے ضمن میں ان دونوں رکعتوں کی نہی بھی شامل تھی لیکن یہ بھی احتمال ہے۔ کہ آپ ﷺ نے ان دونوں رکعتوں ہی کے پڑھنے سے منع فرمایا ہو۔ ابوامیہ حضرت ام سلمہ ؓ کے والد کا نام تھا چناچہ رسول اللہ ﷺ نے خادمہ سے فرمایا کہ ام سلمہ ؓ سے اس سوال کا جواب اس طرح دینا یا یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے براہ راست حضرت ام سلمہ کو جواب دیتے ہوئے ابوامیہ کی بیٹی! کہہ کر مخاطب فرمایا۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ علم دین کی تعلیم احکام شریعت کی تبلیغ اور اللہ کی مخلوق کی ہدایت کرنا نماز نفل پر مقدم ہے اگرچہ سنت غیر موکدہ ہی کیوں نہ ہوں۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی فرض نماز کے بعد کی سنتوں کو موخر کیا اور پہلے وفد عبدالقیس کو دینی مسائل اور احکام شریعت کی تعلیم دی۔ یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اگر نوافل وقتیہ فوت ہوجائیں تو انہیں دوسرے وقت قضا پڑھ لینا چاہیے جیسا کہ حضرت امام شافعی (رح) کا مسلک ہے مگر حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے مسلک میں نوافل وقتیہ کو صرف انہیں کے اوقات میں پڑھنا چاہیے غیر وقت میں ان کی قضاء نہیں ہے چناچہ ان کی جانب سے اس حدیث کی تاویل یہ کی جاتی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی فرض نماز کے بعد ہی سنت کی دونوں رکعتیں پڑھنی شروع کردی ہوں گی مگر وفد عبدالقیس کو علم دین کی تعلیم دینے کی ضرورت کی وجہ سے آپ ﷺ نے نماز توڑ دی ہوگی اس وجہ سے آپ ﷺ نے ان دونوں رکعتوں کی قضا عصر کی نماز کے بعد پڑھی۔ اس موقعہ پر اگر کہ کہا جائے کہ اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کے بعد جو دو رکعت نماز پڑھی تھی وہ دراصل ظہر کے فرض کے بعد کی سنتیں تھیں جو وفد عبدالقیس کے ساتھ تعلیم دین کی مشغولی کی بناء پر پڑھنے سے رہ گئی تھیں لیکن ان احادیث کا کیا جواب ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تو ہمیشہ ہی عصر کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے چناچہ صحیح البخاری میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی یہ روایت منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے رسول اللہ ﷺ کو اس دنیا سے اٹھایا آپ ﷺ نے عصر کے بعد کی دو رکعتیں پڑھنا نہ چھوڑیں یہاں تک کہ آپ ﷺ نے پروردگار سے ملاقات کی۔ اس قسم کی دیگر روایتیں بھی منقول ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ احادیث صحیحہ سے یہ ثابت ہے کہ عصر کی فرض نماز کے بعد دوسری نماز پڑھنا مکروہ ہے چناچہ جمہور علماء کی بھی یہی رائے ہے نیز امیرالمومنین حضرت عمر فاروق ؓ کے بارے میں بھی ثابت ہے کہ وہ عصر کی فرض نماز کے بعد دوسری نماز پڑھنے سے منع فرماتے تھے۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ ایسے لوگوں کو مارتے بھی تھے جو عصر کے بعد نفل وغیرہ پڑھتے تھے۔ لہٰذا۔ اب یہی کیا جائے گا کہ اس ممانعت کے باوجود رسول اللہ ﷺ کا عصر کی نماز کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا دراصل آپ ﷺ کے خصائص میں سے تھا جیسا کہ آپ ﷺ صوم وصال (پے در پے روزے) رکھتے تھے مگر دوسروں کو اس سے منع فرماتے تھے۔
فجر کی سنتوں کی قضا کا مسئلہ
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ وَعَنْ قَیْسِ بْنِ عَمْرٍ وَقَالَ رَآی النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم رَجُلًا یُصَلِّی بَعْدَ صَلاۃِ الصُّبْحِ رَکْعَتَیْنِ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَاۃَ الصُّبْحِ رَکْعَتَیْںِ رَکْعَتَیْنِ فَقَالَ الرَّجُلُ اِنِّی لَمْ اَکُنْ صَلَّیْتُ الرَّکْعَتَیْنِ اللَّتَیْنِ قَبْلَھُمَا فَصَلَّیْتُھُمَا الْاٰنَ فَسَکَتَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَرَوَی التِّرمِذِیُّ نَحْوَہُ وَقَالَ اِسْنَادُ ھٰذَا الْحَدِیْثِ لَیْسَ بِمُتَّصِلٍ لِاَنَّ مُحَمَّدَ ابْنَ اِبْرَاھِیْمَ لَمْ یَسْمَعْ مِنْ قَیْسِ بْنِ عَمْرٍو وَفِیْ شَرْح السُّنَّۃِ وَنُسَخ الْمَصَابِیْحِ عَنْ قَیْسِ بْنِ قَھْدٍ نَحْوَہُ۔
حضرت محمد ابن ابراہیم، قیس ابن عمرو سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ( ایک دن) سرور کونین ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ فجر کی فرض نماز کے بعد دو رکعت نماز پڑھا رہا ہے، آپ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ صبح کی نماز دو کعت ہے (پھر فرمایا کہ) دو رکعت ہی پڑھو! اس آدمی نے عرض کیا کہ فجر کی فرض نماز سے پہلے دو رکعتیں (سنت) میں نے نہیں پڑھی تھیں انہیں کو میں نے اس وقت پڑھا ہے۔ رسول اللہ ﷺ ( یہ سن کر) خاموش ہوگئے۔ (سنن ابوداؤد) امام ترمذی نے بھی اس طرح نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس روایت کی اسناد متصل نہیں ہے کیونکہ محمد بن ابراہیم کا قیس ابن عمرو سے سننا ثابت نہیں ہے، نیز شرح السنہ اور مصابیح کے بعض نسخوں میں قیس ابن فہد سے اسی طرح منقول ہے۔
تشریح
حدیث کے جملہ صَلٰوۃُ الصُّبْحِ رکعتین سے پہلے ایک لفظ مقدر ہے یعنی یہ عبارت پوری طرح یوں ہے اِجْعَلُوا صَلٰوۃُ الصُّبْحِ رَکْعَتَیْںِ۔ لفظ رکعتین نفی زیادیت کی تاکید کے لئے مکرر فرمایا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ فجر کی فرض دو ہی رکعتیں پڑھو اس کے بعد اور کوئی نماز نہ پڑھو۔ رسول اللہ ﷺ نمازی کا جواب سن کر خاموش رہے۔ محدیثن کی اصطلاح میں اس خاموشی کو تقریر کہا جاتا ہے رسول اللہ کے سامنے کوئی عمل کیا گیا اور آپ ﷺ نے اس پر سکوت فرمایا گویا آپ ﷺ اس عمل سے راضی ہوئے، لہٰذا اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر فجر کی فرض نماز سے پہلے کی دو سنتیں نہ پڑھی جاسکیں تو فرض پڑھنے کے بعد ان کی قضا پڑھنی چاہیے، چناچہ حضرت امام شافعی (رح) کا یہی مسلک ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام ابویوسف رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کے نزدیک اس سلسلے میں یہ ہے کہ فجر کی سنتوں کی قضا نہ تو طلوع آفتاب سے پہلے ہے اور نہ طلوع کے بعد ہے لیکن سنتیں اگر فرض کے ساتھ فوت ہوں گی تو وہ بھی فرض کے ساتھ زوال آفتاب سے پہلے پہلے قضا پڑھی جائیں گی۔ حضرت امام محمد (رح) فرماتے ہیں کہ محض سنتوں کی بھی قضا پڑھی جاسکتی ہے مگر طلوع آفتاب کے بعد سے زوال آفتاب تک۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت ابویوسف رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کی دلیل یہ ہے کہ سنتوں میں اصل عدم قضا ہے اور قضا واجب کے ساتھ مخصوص ہے اور حدیث جو سنتوں کے قضا کے اثبات میں وارد ہے وہ ان سنتوں کے بارے میں ہے جو فرض کے ساتھ فوت ہوگئی ہوں بقیہ سنتیں اپنی اصل ( عدم قضا پر رہیں گی یعنی ان کی قضا نہیں کی جائے گی جہاں تک اس حدیث کا تعلق ہے تو محمد ابن ابراہیم کی یہ حدیث چونکہ ضیعف ہے اس لئے اسے کسی مسلک کی بنیاد اور دلیل بنانا ٹھیک نہیں ہے۔ اسی طرح دوسرے اوقات کی سنتوں کا مسئلہ بھی یہی ہے کہ وقت کے بعد تنہا ان کی قضا نہ کی جائے البتہ وہ سنتیں جو فرض کے ساتھ فوت ہوگئی ہوں فرض کے ساتھ ان کی قضا کے بارے میں اختلاف ہے۔
خانہ کعبہ کا طواف ہر وقت کیا جا سکتا ہے
وَعَنْ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ یَا بَنِی عَبْدِ مَنَافٍ لَا تَمْنَعُوْا اَحَدًا طَافَ بِھٰذَا الْبَیْتِ وَصَلَّی اَیَّۃَ سَاعَۃٍ شَاءَ مِنْ لَیْلٍ اَوْنَھَارٍ۔ (رواہ الترمذی وابوداؤد واولنسائی )
اور حضرت جبیر ابن مطعم ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا اے عبد مناف کی اولاد! کسی کو اس گھر (خانہ کعبہ) کا طواف کرنے سے نہ روکو! اور رات دن میں جس وقت کوئی چاہیے اسے نماز پڑھنے دو۔ (جامع ترمذی ابوداؤد، سنن نسائی)
تشریح
خانہ کعبہ کی خدمت عبد مناف کی اولاد کے سپرد تھی اور وہاں کے انتظامات و نگرانی انہیں کے ذمہ تھی چناچہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم فرمایا کہ رات و دن کے کسی بھی حصے میں کوئی خانہ کعبہ کا طواف کرنا چاہیے تو اسے نہ روکو بلکہ اسے طواف کرنے دو، چناچہ رات و دن کے ہر حصے میں خواہ آفتاب کے طلوع کا وقت ہو یا استواء (نصف النہار) کا وقت ہو تمام علماء کے نزدیک خانہ کعبہ کا طواف کیا جاسکتا ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ خانہ کعبہ میں ہر وقت نماز پڑھنے کا مسئلہ البتہ اس بارے میں علماء کا یہاں اختلاف ہے کہ خانہ کعبہ میں رات و دن کے کسی بھی حصہ میں خواہ اوقات مکروہہ کیوں نہ ہوں نماز پڑھی جاسکتی ہے یا نہیں؟ چناچہ حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک اس حدیث کی بناء پر خانہ کعبہ میں ہر وقت کوئی بھی نماز خواہ وہ طواف کی دو رکعتیں ہوں یا دوسری نماز ہو پڑھی جاسکتی ہے۔ حضرت امام احمد کا مسلک یہ ہے کہ خانہ کعبہ میں صرف طواف کی دو رکعتیں کسی وقت بھی پڑھی جاسکتی ہیں۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک خانہ کعبہ کے اندر اوقات مکروہ میں کوئی بھی نماز جائز نہیں ہے اوقات کی حرمت اور کراہت کے سلسلے میں مکہ کا حکم بھی دیگر شہروں کی طرح ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اوقات کی حرمت و کراہت کا حکم اور ان میں نماز پڑھنے کی ممانعت کے سلسلے میں جو احادیث منقول ہیں وہ سب عام ہیں ان میں کسی جگہ اور کسی شہر کی کوئی تخصیص نہیں ہے کہ فلاں جگہ تو ان اوقات میں نماز پڑھنی جائز ہے اور فلاں جگہ ناجائز ہے۔ جہاں تک اس حدیث کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں کہا جائے گا کہ رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کی مراد یہ ہے کہ خانہ کعبہ میں جس وقت چاہے نماز پڑھی جاسکتی البتہ اوقات مکروہ میں وہاں بھی نماز نہیں پڑھی جاسکتی۔ اس تاویل سے تمام احادیث میں موافقت اور مطابقت بھی ہوجاتی ہے جو ایک ضروری چیز ہے۔
جمعہ کے روز نصف النہار کے وقت نماز پڑھنے کا مسئلہ
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم نَھٰی عَنِ الصَّلَاۃِ نِصْفَ النَّھَارِ حَتّٰی تَزُوْلَ الشَّمْسُ اِلَّا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔ (رواہ الشافعی)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے ٹھیک دوپہر کے وقت جب تک کہ آفتاب ڈھل نہ جائے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے البتہ جمعہ کے دن (جائز ہے)۔ (شافعی)
تشریح
حضرت امام شافعی (رح) کا تو یہی مسلک ہے کہ جمعہ کے روز ٹھیک دوپہر کے وقت بھی نماز پڑھی جاسکتی ہے مگر حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک جمعہ کے روز بھی نصف النہار کے وقت نماز پڑھنی درست نہیں ( امام اعظم کا مسلک تو یہی ہے جو یہاں نقل کیا گیا ہے مگر امام ابویو سف کا قول صحیح ہے اور معتمد کذا فی الاشباہ) ہے اس لئے کہ وہ احادیث جن میں مطلقاً نہی ثابت ہے اس حدیث کے مقابلے میں زیادہ مشہور ہیں اور یہ حدیث ضعیف ہے ان احادیث کا مقابلہ نہیں کرسکتی یا پھر یہ کہا جائے گا کہ قاعدے کے مطابق کسی چیز کے بارے میں حرام اور مباح دونوں کے دلائل ہوں تو حرام کے دلائل کو ترجیح دی جائے گی۔
جمعہ کے روز نصف النہار کے وقت نماز پڑھنے کا مسئلہ
وَعَنْ اَبِی الْخَلِیْلِ عَنْ اَبِی قَتَادَۃَ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم کَرِہَ الصَّلَاۃَ نِصْفَ النَّھَارِ حَتّٰی تَزُوْلَ الشَّمْسُ اِلَّا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَقَالَ اِنَّ جَھَنَّمَ تُسَجَّرُ اِلَّا یَوْمَ الْجُمُعَۃِ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَقَالَ اَبُو الْخَلِیْلَ لَمْ یَلْقَ اَبَا قَتَادَۃَ۔
اور حضرت ابوالخیل حضرت ابوقتادہ ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ ٹھیک دوپہر کے وقت جب تک کہ سورج نہ ڈھل جائے نماز پڑھنے کو مکروہ سمجھتے تھے علاوہ جمعہ کے دن کے۔ نیز آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ علاوہ جمعہ کے دن کے روزانہ (دوپہر کے وقت) دوزخ جھونکی جاتی ہے۔ اسی روایت کو امام ابوداؤد نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ حضرت ابوقتادہ ؓ سے ابوالخلیل کی ملاقات ثابت نہیں ہے (لہٰذا اس حدیث کی اسناد متصل نہیں ہے)۔
وَعَنْ عَبْدِ اﷲِ الصُّنَابِحِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ وَمَعَھَا قَرْنُ الشَّیْطَانِ فَاِذَا ارْتَفَعَتْ فَار قَھَا ثُمَّ اِذَا اسْتَوَتْ قَارَنَھَا فَاِذَا زَالَتْ فَارَقَھَا فَاِذَا دَنَتْ الِلْغُرُوْبِ قَارَنَھَا فَاِذَا غَرَبَتْ فَارَقَھَا وَنَھٰی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنِ الصَّلَاۃِ فِی تِلْکَ السَّاعَاتِ۔ (رواہ مالک و احمد بن حنبل والنسائی )
حضرت عبداللہ صنابحی ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا جب آفتاب طلوع ہوتا ہے تو اس کے ساتھ شیطان کا سینگ ہوتا ہے پھر جب وہ بلند ہوجاتا ہے تو وہ الگ ہوجاتا ہے پھر جب دوپہر ہوتی ہے تو شیطان آفتاب کے قریب آجاتا ہے اور جب آفتاب غروب ہونے کے قریب ہوتا ہے تو شیطان اس کے قریب آجاتا ہے اور جب آفتاب غائب (یعنی غروب) ہوجاتا ہے تو شیطان اس سے جدا ہوجاتا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے ان اوقات میں (یعنی آفتاب کے طلوع و غروب کے وقت اور ٹھیک دوپہر کے وقت) نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ (مالک، مسند احمد بن حنبل، سنن نسائی )
تشریح
رسول اللہ ﷺ نے ان اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے نماز خواہ حقیقۃً ہو یا حکماً جیسے نماز جنازہ یا سجدہ تلاوت اور امام مالک (رح) نے باوجود اس کے کہ یہ روایت خود نقل کی ہے مگر وہ ٹھیک دوپہر کے وقت نماز کے حرام ہونے کے قائل نہیں ہیں بلکہ انہوں نے فرمایا ہے کہ ہم نے اہل فضل کو دیکھا ہے کہ وہ کوشش کرتے تھے اور دوپہر میں نماز ادا کرتے تھے۔
نماز عصر کے بعد کوئی نماز جائز نہیں
وَعَنْ اَبِیْ بَصْرَۃَ الْغِفَارِیِّ صقَالَ صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بِالْمُخَمَّصِ صَلٰوۃَ الْعَصْرِ فَقَالَ اِنَّ ہَذٰہِ الصَّلٰوۃَ عُرِضَتْ عَلٰی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَضَیَّعُوْہَا فَمَنْ حَافَظَ عَلَیْھَا کَانَ لَہ، اَجْرُہُ مَرَّتَیْنِ وَلَا صَلٰوۃَ بَعْدَہَا حَتّٰی یَطْلُعَ الشَّاہِدُ وَالشَّاہِدُ اَلنَّجْمُ (رَوَاہُ مُسْلِمٌ)
اور حضرت ابوبصرہ غفاری فرماتے ہیں کہ ( ایک دن) سرور کونین ﷺ نے مقام مخمص میں ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور پھر فرمایا کہ یہ نماز تم سے پہلے لوگوں پر لازم کی گئی تھی لیکن انہوں نے ضائع کردیا (یعنی نہ تو انہوں نے اس پر مداومت کی اور نہ اس کے حقوق ادا کئے) لہٰذا جو آدمی اس نماز کی حفاظت کرے گا (یعنی اس کو ہمیشہ پڑھتا اور اس کے حقوق ادا کرتا رہے گا) اس کو دوگنا ثواب ملے گا اور (آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ) عصر کے بعد کوئی نماز نہیں جب تک کہ شاہد نہ نکلے اور شاہد ستارہ ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
دوگنا ثواب کا مطلب یہ ہے کہ ایک ثواب تو اس لئے ملے گا کہ یہ (یعنی نماز پڑھنا) نیک عمل ہے اور ہر نیک عمل پر ثواب ملتا ہے اور دوسرا ثواب اس نماز کی محافظت کرنے کی وجہ سے ملے گا برخلاف پچھلی قوموں کے کہ انہوں نے اس کی محافظت نہیں کی، اس لئے وہ مستحق عذاب ہوئے۔ ستارہ کو شاہد اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ رات کو حاضر ہوتا ہے یعنی طلوع ہوتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک غروب نہ ہوجائے عصر کی نماز کے بعد کوئی نماز نہ پڑھی جائے۔
عصر کے بعد دو رکعت نماز پڑھنے کی ممانعت
وعَنْ مُعَاوِیَۃَص قَالَ اِنَّکُمْ لَتُصَلُّوْنَ صَلٰوۃً لَقَدْ صَحِبْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَمَا رَأَیْنَاہُ یُصَلِّیْہِمَا وَلَقَدْ نَہٰی عَنْہُمَا یَعْنِی الرَّکْعَیْنِ بَعَدَ الْعَصْرِ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ۔
اور حضرت معاویہ ؓ نے (لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا کہ تم لوگ نماز پڑھتے ہو اور ہم سرور کونین ﷺ کی صحبت میں رہے لیکن ہم نے آپ ﷺ کو یہ دو رکعتیں پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا بلکہ آپ ﷺ نے تو ان سے ( یعنی عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے سے) منع فرمایا ہے۔ (صحیح البخاری )
تشریح
دیگر روایات میں تو صراحت کے ساتھ آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ عصر کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے تھے لیکن یہاں حضرت معاویہ ؓ اس سے انکار کر رہے ہیں۔ لہٰذا اس حدیث کی تاویل یہ کی جائے گی کہ حضرت معاویہ ؓ کے ارشاد کی مراد آپ ﷺ یہ دو رکعتیں باہر لوگوں کے سامنے تو پڑھتے نہیں تھے۔ البتہ گھر میں عام لوگوں کی نگاہوں سے الگ ہو کر پڑھتے ہوں گے تاکہ دوسرے لوگ اس سلسلے میں آپ ﷺ کی پیروی نہ کریں کیونکہ عصر کے بعد یہ دو رکعتیں صرف رسول اللہ ﷺ ہی کو پڑھنی درست تھیں دوسرے لوگوں کے لئے جائز نہیں تھیں۔ حضرت امام طحاوی (رح) اس مسئلے میں کہ آیا عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنا جائز ہیں یا نہیں؟ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے متواتر احادیث ثابت ہیں کہ آپ ﷺ نے عصر کی فرض نماز پڑھ لینے کے بعد کوئی دوسری نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے نیز صحابہ کا عمل بھی اسی پر رہا ہے اس واسطے یہ کسی کے لئے مناسب نہیں ہے کہ اس کے کچھ خلاف کرے یعنی عصر کے بعد نماز پڑھنے کو جائز قرار دے۔
عصر کے بعد دو رکعت نماز پڑھنے کی ممانعت
وَعَنْ اَبِی ذَرٍّ قَالَ وَقَدْ صَعِدَ عَلٰی دَرَجَۃِ الْکَعْبَۃِ مَنْ عَرَفَنِی فَقَدْ عَرَفَنِی وَمَنْ لَمْ یَعْرِفُنِیْ فَاَنَا جُنْدُبٌ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ لَا صَلٰوۃَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتّٰی تَغْرُبَ الشَّمْسُ اِلَّا بِمَکَّۃَ اِلَّا بِمَکَّۃَاِلَّابِمَکَّۃَ۔ (رواہ احمد بن حنبل ورزین)
اور حضرت ابوذر ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے کعبہ کے زینے پر چڑھ کر فرمایا کہ جس آدمی نے مجھے پہچانا (یعنی میرا نام جان لیا) اس نے مجھے (یعنی میری سچائی کو) پہچان لیا اور جس نے مجھ کو نہیں پہچانا تو (میں اس کو بتادینا چاہتا ہوں کہ میں جندب ہوں میں نے سرور کونین ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ صبح کی نماز کے بعد جب تک آفتاب طلوع نہ ہوجائے کوئی نماز نہیں ہے اور نہ عصر کی نماز کے بعد کوئی نماز ہے جب تک آفتاب غروب نہ ہوجائے مگر مکہ میں مگر مکہ میں مگر مکہ میں (مسند احمد بن حنبل، رزین)
تشریح
خانہ کعبہ کا دوازہ چونکہ بلند ہے اس لئے اس پر چڑھنے کے لئے زینہ تھا چناچہ اب بھی ایک چوبی زینے منبر کی شکل میں ہے جو خانہ کعبہ کے سامنے چاہ زمزم کے پاس رکھا رہتا ہے جب خانہ کعبہ کے اندر داخلہ ہوتا ہے تو اس کو دروازے کے سامنے لگا دیتے ہیں اور پھر اس کے بعد اس زینے کو وہاں سے ہٹا کر اپنی جگہ رکھ دیتے ہیں لہٰذا احتمال ہے کہ اس وقت بھی اس قسم کا یا کسی دوسری طرح کا زینے ہوگا جس کے ذریعے خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوتے ہوں گے۔ بہر حال حضرت ابوذر ؓ نے کہ جن کا نام جندب تھا۔ خانہ کعبہ کے زینے پر چڑھ کر یہ بات کہی تاکہ لوگ ان کی صداقت شعاری اور سچائی کی بناء پر حدیث کو صحیح جانیں۔ اس طرح حضرت ابوذر ؓ نے گویا اس طرف اشارہ فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ ابوذر ؓ زیادہ کسی راست گو اور سچے انسان پر نہ تو آسمان نے سایہ کیا اور نہ زمین نے اپنے اوپر اٹھایا۔ مکہ مکرمہ میں اوقات مکروہہ میں نماز کے جائز ہونے کے مسئلے کو اس سے پہلے حدیث نمبر سات میں بتایا جا چکا ہے اس موقعہ پر تو صرف اتنی بات جان لیجئے کہ یہ حدیث ضعیف ہے۔
جماعت اور اس کی فضیلت کا بیان
جماعت کی فضیلت اور تاکید میں صحیح احادیث اس کثرت سے وارد ہیں کہ اگر سب کو یکجا کیا جائے تو ایک دفتر تیار ہوسکتا ہے اس باب کے تحت اسی قسم کی احادیث نقل کی جائیں گی جن سے جماعت کی فضیلت و تاکید اور اس کے احکام و مسائل کا علم حاصل ہوگا۔ ان احادیث کو دیکھنے کے بعد یقینی طور پر آپ یہی نتیجہ اخذ کریں گے کہ جماعت نماز کی تکمیل میں ایک اعلیٰ درجے کی شرط ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے کبھی جماعت کو ترک نہیں فرمایا حتی کہ حالت مرض میں جبکہ آپ ﷺ کے لئے خود چل کر مسجد میں پہنچنا ممکن نہ تھا دو آدمیوں کے سہارے سے مسجد میں تشریف لے گئے اور جماعت سے نماز پڑھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شریعت محمد یہ میں جماعت کا بڑا اہتمام کیا گیا ہے اور ہونا بھی چاہیے تھا کیونکہ نماز جیسی عظیم عبادت کی شان اسی کی متقاضی تھی کہ جس چیز سے اس کی تکمیل ہو اسے اعلیٰ درجے پر پہنچایا جائے۔ جماعت فرض و واجب ہے یا نہیں؟ اس بارے میں علماء کے ہاں اختلاف ہے کہ آیا جماعت سنت ہے یا واجب اور یا فرض عین ہے یا فرض کفایہ؟ چناچہ بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ جماعت فرض عین ہے الا کسی عذر کی وجہ سے، یہ قول امام احمد بن حنبل، داؤد، عطاء اور ابوثورِ رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم کا ہے بعض علماء کا قول یہ ہے کہ جو کوئی نماز کے لئے اذان سنے اور مسجد میں حاضر نہ ہو تو اس کی نماز درست نہیں، حضرت امام شافعی کے (رح) کے نزدیک جماعت فرض کفایہ ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور ان کے متبعین رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم کا مسلک یہ ہے کہ جماعت سنت موکدہ واجب کے قریب ہے لیکن فقہ کی کتابوں کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ جماعت کے بارے میں حنفی فقہاء کے دو قول ہیں بعض کتابوں میں جماعت کو واجب لکھا گیا ہے اور بعض میں سنت موکدہ اور وجوب ہی کا قول راجح اور اکثر محققین حنفیہ کا مسلک بیان کیا گیا ہے چناچہ مشہور محقق حضرت ابن ہمام لکھتے ہیں کہ ہمارے اکثر مشائخ کا مسلک یہی ہے کہ جماعت واجب ہے لیکن اس کو سنت اس لئے کہا جاتا ہے کہ جماعت کا ثبوت سنت یعنی حدیث سے ہے نہ یہ کہ خود جماعت سنت ہے جیسا کہ نماز عیدین، وہ واجب ہے مگر اسے سنت اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کا ثبوت حدیث سے ہے۔ جماعت کے احکام و مسائل کتاب بدائع میں لکھا ہے کہ جماعت کے لئے مسجد میں حاضر ہونا ہر عقال بالغ غیر معذور پر واجب اور اگر ایک مسجد میں جماعت نہ ملے تو دوسری مسجدوں میں پھرنا واجب نہیں ہے البتہ جماعت کی سعادت حاصل کرنے کی خاطر اگر دوسری مسجدوں میں جائے تو یہ اچھی ہی بات ہوگی، قدوری نے لکھا ہے کہ اس صورت میں کہ اگر مسجد میں جماعت نہ ملے، تو چاہیے کہ اہل و عیال کو جمع کر کے گھر ہی میں جماعت سے نماز پڑھ لی جائے۔ اس مسئلے میں علماء کے ہاں اختلاف ہے کہ محلے کی مسجد میں جماعت افضل ہے یا جامع مسجد میں، اگر ایک محلے میں دو مسجدیں ہوں تو ان میں سے قدیم مسجد کو اختیار کرنا چاہیے اور اگر دونوں برابر ہوں تو پھر جو مسجد قریب ہو اسے اختیار کیا جائے، جماعت نماز تراویح میں اگرچہ ایک قرآن مجید جماعت کے ساتھ ہوچکا ہو اور نماز کسوف کے لئے سنت موکدہ ہے، رمضان کے وتر میں جماعت مستحب ہے رمضان کے علاوہ اور کسی زمانہ کے وتر میں جماعت مکروہ تنزیہی ہے مگر اس کے مکروہ ہونے میں یہ شرط ہے کہ مواظبت کی جائے اگر مواظبت نہ کی جائے بلکہ کبھی کبھی دو تین آدمی جماعت سے پڑھ لیں تو مکروہ نہیں۔ نماز خسوف میں اور تمام نوافل میں جماعت مکروہ تحریمی ہے بشرطیکہ نوافل اس اہتمام سے ادا کئے جائیں جس اہتمام سے فرائض کی جماعت ہوتی ہے یعنی اذان و اقامت کے ساتھ یا کسی اور طریقے سے لوگوں کو جمع کر کے ہاں اگر بغیر اذان و اقامت کے اور بغیر بلائے ہوئے دو تین آدمی جمع ہو کر کسی نفل کو جماعت سے پڑھ لیں تو کچھ مضائقہ نہیں۔ جماعت کی حکمتیں اور فائدے جماعت کی حکمتیں کیا ہیں؟ اور اس کے کیا فائدے مرتب ہوتے ہیں، اس موضوع پر علماء نے بہت کچھ لکھا ہے لیکن اس سلسلے میں امام الکبیر حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے جو لطیف و جامع بات کہی ہے وہ کہیں نظر نہیں آتی چناچہ اس موقع پر انہیں کی تقریر نقل کی جاتی ہے وہ فرماتے ہیں کہ (١) کوئی چیز اس سے زیادہ سود مند نہیں کہ کوئی عبادت اس طرح رسم عام کردی جائے کہ وہ عبادت ایک ضروری عادت ہوجائے کہ اس کو چھوڑنا کسی عادت کو ترک کرنے کی طرح ناممکن ہوجائے اور تمام عبادتوں میں نماز سے زیادہ عظیم و شاندار کوئی عبادت نہیں کہ اس کے ساتھ یہ خاص اہتمام کیا جائے (٢) مذہب میں ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں جاہل بھی عالم بھی، لہٰذا یہ بڑی مصلحت کی بات ہے کہ سب لوگ جمع ہو کر ایک دوسرے کے سامنے اس عبادت کو ادا کریں تاکہ کہ اگر کسی سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو دوسرا اسے بتادے گویا اللہ کی عبادت ایک زیور ہوئی کہ تمام پرکھنے والے اسے دیکھتے ہیں جو خرابی اس میں ہوتی ہے بتلاد یتے ہیں اور جو عمدگی ہوتی ہے اسے پسند کرتے ہیں پس نماز کی تکمیل کا یہ ایک ذریعہ ہوگا۔ (٣) جو لوگ بےنمازی ہوں گے ان کا بھی اس سے حال کھل جائے گا اور ان کے لئے وعظ و نصیحت کا موقع ملے گا۔ (٤) چند مسلمانوں کا مل کر اللہ کی عبادت کرنا اور اس سے دعا مانگنا حق تعالیٰ کی رحمت کے نزول اور قبولیت کے لئے ایک عجیب خاصیت رکھتا ہے۔ (٥) اس امت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا یہ مقصود ہے کہ اس کے نام کا کلمہ بلند ہو اور کلمہ کفر پست ہو اور روئے زمین پر کوئی اسلام سے غالب نہ رہے اور یہ بات جب ہی ہوسکتی ہے کہ یہ طریقہ مقرر کیا جائے کہ تمام مسلمان خواہ وہ کسی درجے اور کسی طبقے کے ہوں، عام و خاص مسافر اور مقیم، چھوٹے اور بڑے سب ہی اپنی کسی بڑی اور مشہور عبادت کے لئے جمع ہوں اور اسلام کی شان و شوکت اور اس کی ترغیب دی گئی اور اس کے چھوڑنے کی ممانعت کی گئی۔ (حجۃ اللہ البالغہ) (٦) جماعت میں یہ فائدہ بھی ہے کہ تمام مسلمانوں کو ایک دوسرے کے حال پر اطلاع ہوتی رہے گی اور وہ ہر ایک کے درد و مصیبت میں شریک ہو سکیں گے جس سے دینی اخوت اور ایمانی محبت کا پورا اظہار و استحکام ہوگا جو اس شریعت کا ایک بڑا مقصود ہے اور جس کی تاکید و فضیلت جا بجا قرآن عظیم اور احادیث رسول اللہ ﷺ میں بیان فرمائی گئی ہے۔ (علم الفقہ) موجودہ زمانے کی نظریاتی دوڑ کے مطابق دیکھا جائے تو جماعت اسلام کے نظریہ مساوات کا سب سے اعلیٰ مظہر ہے دن میں پانچ مرتبہ اللہ کے تمام بندے جو دنیاوی اعتبار سے کسی بھی منصب و مرتبے کے ہوتے ہیں اپنی تمام برتری و فوقیت اور اپنے دنیاوی جاہ و جلال کو بالائے طاق رکھ کر اللہ کے حضور میں تمام عام مسلمانوں کے ساتھ مل کر سر بسجود ہوجاتے ہیں اور زبان حال سے اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز ترک جماعت کے عذر جیسا کہ بتایا جا چکا ہے ہر عاقل بالغ غیر معذور پر جماعت واجب ہے لیکن اگر ایسا کوئی آدمی ہو یعنی اسے ایسا عذر لاحق ہو جس کی وجہ سے وہ مسجد میں جا کر جماعت میں شریک نہیں ہوسکتا ہو تو اس کے لئے جماعت واجب نہیں رہتی، چناچہ فقہاء نے ترک جماعت کے پندرہ عذر (ماخوذاز علم الفقہ) بیان کئے ہیں۔ (١) نماز کے صحیح ہونے کی شرط مثلاطہارت یا ستر عورت وغیرہ کا نہ پایا جانا۔ (٢) پانی کا بہت زوروں کے ساتھ برسنا، اس سلسلے میں حضرت امام محمد نے اپنی کتاب موطا میں لکھا ہے کہ اگرچہ شدید بارش کی صورت میں جماعت کے لئے نہ جانا جائز ہے لیکن بہتر یہی ہے کہ جا کر جماعت سے نماز پڑھی جائے۔ (٣) مسجد کے راستے میں سخت کیچڑ کا ہونا۔ (٤) سردی اتنی سخت ہو کہ باہر نکلنے میں یا مسجد تک جانے میں کسی بیماری کے پیدا ہوجانے یا بڑھ جانے کا خوف ہو۔ (٥) مسجد تک جانے میں مال و اسباب کے چوری ہوجانے کا خوف ہو۔ (٦) مسجد جانے میں کسی دشمن کے مل جانے کا خوف ہو۔ (٧) مسجد جانے میں کسی قرض خواہ کے ملنے اور اس سے تکلیف پہنچنے کا خوف ہو بشرطیکہ اس کے قرضے کے ادا کرنے پر قادر نہ ہو اگر قادر ہو تو وہ ظالم سمجھا جائے گا اور اس کو ترک جماعت کی اجازت نہ ہوگی۔ (٨) رات اس قدر اندھیری ہو کہ راستہ نہ دکھائی دیتا ہو ایسی حالت میں یہ ضروری نہیں کہ لالٹین وغیرہ ساتھ لے کر جائے۔ (٩) رات کا وقت ہو اور آندھی بہت سخت چلتی ہو۔ (١٠) کسی مریض کی تیمارداری کرنا ہو کہ اس کے جماعت میں چلے جانے سے اس مریض کی تکلیف یا وحشت کا خوف ہو۔ (١١) پیشاب یا پاخانہ معلوم ہوتا ہو۔ (١٢) سفر کا ارادہ رکھتا ہو اور خوف ہو کہ جماعت سے نماز پڑھنے میں دیر ہوجائے گی اور قافلہ نکل جائے گا، ریل کا مسئلہ بھی اسی پر قیاس کیا جاسکتا ہے مگر فرق اس قدر کہ وہاں ایک قافلے کے بعد دوسرا قافلہ بہت دنوں کے بعد ملتا ہے اور یہاں ریل ایک دن کئی بار جاتی ہے اگر ایک وقت کی ریل نہ ملی تو دوسرے وقت جاسکتا ہے ہاں اگر ایسا ہی سخت حرج ہوا ہو تو جماعت چھوڈ دینے میں مضائقہ نہیں۔ (١٣) فقہ وغیرہ پڑھنے یا پڑھانے میں ایسا مشغول رہتا ہو کہ بالکل فرصت نہ ملتی ہو۔ (١٤) کوئی ایسی بیماری مثلاً فالج وغیرہ ہو یا اتنا ضعیف ہو کہ چلنے پر قادر نہ ہو یا نا بینا ہوا گرچہ اس کو مسجد تک پہنچا دینے والا کوئی مل سکے یا لنگڑا ہو یا دونوں طرف سے ہاتھ پاؤں کٹے ہوئے ہوں۔ (١٥) کھانا تیار یا تیاری کے قریب ہو اور ایسی بھوک لگی ہو کہ نماز میں جی نہ لگنے کا خوف ہو۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم صَلٰوۃُ الْجَمَاعَۃِ تَفْضُلُ صَلٰوۃَ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَّعِشْرِےْنَ دَرَجَۃً۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت عبداللہ ابن عمر سے مروی ہے کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا جماعت کی نماز تنہا نماز سے) (ثواب میں) ستائیس درجے زیادہ ہوتی ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کی اس روایت سے تو جماعت کی نماز کے ثواب کی زیادتی ستائیس درجے معلوم ہوتی ہے مگر دوسری روایتوں میں پچیس درجے زیادتی مذکور ہے چناچہ علماء محدثین لکھتے ہیں کہ اکثر روایتوں میں یہی ثابت ہے کہ جماعت کی نماز کا ثواب تنہا نماز کے ثواب سے پچیس درجے زیادہ ہوتا ہے حضرت عمر ؓ ہی کی ایک ایسی روایت ہے کہ جس میں ستائیس درجے کا زکر کیا گیا ہے، لہٰذا اس حدیث اور ان احادیث میں یہ تطبیق پیدا کی جائے گی کہ پہلے وحی کے ذریعے پچیس ہی درجے ثواب کی زیادتی معلوم ہوئی ہوگی پھر بعد میں حق تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ستائیس درجے ثواب کی زیادتی کا اعلان فرمایا ہوگا۔ یا تطبیق کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ یہ کہا جائے کہ درجات کا اختلاف نمازی کے احوال کے تفاوت کی بناء پر ہے یعنی کسی نمازی کو جماعت کی نماز کا ثواب اس کے اپنے احوال کی بناء پر ستائیس گنا ملتا ہے اور کسی نمازی کو جماعت کی نماز کا ثواب اس کے اپنے احوال کی بناء پر پچیس گناہ ملتا ہے۔ اس بارے میں اختلاف ہے کہ ثواب کی زیادتی کی یہ فضیلت اس جماعت کی نماز کے ساتھ مختص ہے جو مسجد میں ادا کی جائے گی یا اس جماعت کی نماز کے لئے بھی ہے جو مسجد میں نہیں بلکہ گھر وغیرہ میں ادا کی جائے چناچہ علماء کے رائے تو یہ ہے کہ یہ فضیلت مسجد کی جماعت کے ساتھ مختص ہے مگر دوسرے بعض علماء کا قول ہے کہ یہ فضیلت عمومی طور پر ہر جماعت کی نماز کے لئے ہے خواہ مسجد میں ادا کی جانے والی جماعت ہو یا مسجد کے علاوہ کسی دوسری جگہ۔
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِےَدِہٖ لَقَدْ ھَمَمْتُ اَنْ اٰمُرَ بِحَطَبٍ فَےُحْطَبُ ثُمَّ اٰمُرَبِالصَّلٰوۃِ فَےُؤَذَّنَ لَھَا ثُمَّ اٰمُرَ رَجُلًا فَےَؤُمَّ النَّاسَ ثُمَّ اُخَالِفَ اِلٰی رِجَالٍ وَفِیْ رِوَاےَۃٍ لَّا ےَشْھَدُوْنَ الصَّلٰوۃَ فَاُحَرِّقَ عَلَےْھِمْ بُےُوْتَھُمْ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِےَدِہٖ لَوْ ےَعْلَمُ اَحَدُھُمْ اَنَّہُ ےَجِدُ عَرْقًا سَمِےْنًا اَوْ مِرْمَاتَےْنِ حَسَنَتَےْنِ لَشَھِدَ الْعِشَآئَ۔(رواہ البخاری ولمسلم نحوہ۔)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے میں نے ارادہ کیا کہ (کسی خادم کو) لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں اور جب لکڑیاں جمع ہوجائیں تو (عشاء) کی نماز کے لئے اذان کہنے کا حکم دوں اور جب اذان ہوجائے تو لوگوں کو نماز پڑھانے کے لئے کسی آدمی کو مامور کروں اور پھر میں ان لوگوں کی طرف جاؤں (جو بغیر کسی عذر کے نماز کے لئے جماعت میں نہیں آتے اور ان کو اچانک پکڑوں) ایک روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ (آپ ﷺ نے یہ فرمایا) ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے گھروں کو جلا دوں اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے (جو لوگ نماز کے لئے جماعت میں شریک نہیں ہوتے ان میں سے) اگر کسی کو یہ معلوم ہوجائے کہ (مسجد میں) گوشت کی فربہ ہڈی بلکہ گائے یا بکری کے دو اچھے کھر مل جائیں گے تو عشاء کی نماز میں حاضر ہوں۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
اس حدیث سے جماعت کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جو لوگ جماعت کے لئے مسجدوں میں نہیں آتے ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہونے کی وعید کس مبالغے کے ساتھ بیان فرمائی جا رہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بذات خود ارادہ فرمایا کہ جماعت ترک کردیں اور ان لوگوں کو جماعت میں حاضر نہ ہونے کے جرم کی سزا دیں۔ آخر حدیث میں ایسے لوگوں کی ذہنی افتاد اور طبعی کمزوری کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے کہ انہیں اگر یہ معلوم ہوجائے کہ مسجد میں دنیا کی ایسی حقیر شی بھی مل جائے گی تو وہ نماز میں شریک ہونے کے لئے بھاگے ہوئے آئیں مگر آخر کی سعادت وثواب اور حق جل شانہ، کا قرب عظیم وغیر فانی چیز کے حصول کی طرف ان کا میلان نہیں ہوتا۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ امام کے لئے جائز ہے کہ وہ کسی عذر کی بناء پر کسی کو اپنا قائم مقام بنا دے اور خود اپنی ضرورت کی وجہ سے چلا جائے۔
نا بینا آدمی کو بھی جماعت میں شریک ہونے کی تاکید
وَعَنْہُ قَالَ اَتَی النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم رَجُلٌ اَعْمٰی فَقَالَ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّہُ لَےْسَ لِیْ قَائِدٌ ےَقُوْدُ نِیْ اِلَی الْمَسْجِدِ فَسَاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ ےُّرَخِّصَ لَہُ فَےُصَلِّیْ فِیْ بَےْتِہٖ فَرَخَّصَ لَہُ فَلَمَّا وَلّٰی دَعَاہُ فَقَالَ ھَلْ تَسْمَعُ النِّدَآءَ بِالصَّلٰوۃِقَالَ نَعَمْ قَالَ فَاَجِبْ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک نا بینا آدمی (حضرت عبداللہ ابن مکتوم) سرور کونین ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے لئے ایسا کوئی رہبر نہیں ہے جو مجھے مسجد میں لے جائے۔ پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ انہیں گھر میں نماز پڑھ لینے کی رخصت یعنی اجازت دے دی جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی (اس کے بعد) جب وہ مجلس نبوی ﷺ سے واپس لوٹے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں پھر بلایا اور ان سے فرمایا کہ کیا تم نماز کی اذان سنتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے لئے مسجد میں حاضر ہونا ضروری ہے۔ (صحیح مسلم) نشریح صحیحین کی حدیث میں منقول ہے کہ جب حضرت عتبان ابن مالک ؓ نے اپنی بینائی کا شکوہ کیا (کہ اس کی وجہ سے میں مسجد میں حاضری سے معذور ہوں) تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس بات کی اجازت دے دی کہ وہ اپنے گھر ہی میں نماز پڑھ لیا کریں۔ لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ نابینا آدمی کو جماعت چھوڑنے کی اجازت ہے مگر جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم ؓ کو جماعت چھوڑنے کی اجازت نہیں دی اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فضلائے مہاجرین میں سے تھے ان کی شان کے لائق یہی بات تھی کہ وہ اولیٰ پر عمل کریں یعنی جماعت میں حاضر ہوا کریں چناچہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں پہلے تو اجازت دے دی مگر پھر وحی آجانے یا اجتہاد کے بدل جانے کی وجہ سے آپ ﷺ نے اجازت واپس لے لی، اس حدیث میں اذان سننے کے بعد مسجد میں حاضری کی ضرورت و اہمیت کو کمال مبالغے کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے۔
سخت سردی و بارش کی وجہ سے جماعت چھوڑ دینا جائز ہے
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ص اَنَّہُ اَذَّنَ بِالصَّلٰوۃِ فِیْ لَےْلَۃٍ ذَاتِ بَرْدٍ وَّرِےْحٍ ثُمَّ قَالَ اَلاَ صَلُّوْا فِی الرِّحَالِ ثُمَّ قَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ ےَامُرُ الْمُؤَذِّنَ اِذَا کَانَتْ لَےْلَۃٌ ذَاتُ بَرْدٍ وَّمَطَرٍ ےَّقُوْلُ اَلَا صَلُّوْا فِیْ الرِّحَالِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے ایک رات میں جبکہ (سخت) سردی اور ہوا تھی نماز کے لئے اذان دی اور (اذان سے فارغ ہو کر لوگوں سے) کہا کہ خبردار! اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو پھر فرمایا کہ سرور کونین ﷺ اس رات میں جبکہ (سخت) سردی اور بارش ہوتی مؤذن کو حکم دیتے تھے۔ کہ وہ (اذان سننے کے بعد لوگوں سے پکار کر یہ بھی) کہہ دے کہ خبر دار! اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سخت سردی اور بارش بھی ترک جماعت کے لئے عذر ہے ایسے اوقات میں جمات چھوڑ کر اپنے گھر میں نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ حضرت ابن ہمام حضرت ابویوسف رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ؟ میں نے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) سے پوچھا کہ کیچٹر وغیرہ کی حالت میں جماعت کے لئے آپ کیا حکم دیتے ہیں تو انہوں نے فرمایا جماعت کو چھوڑ دینا مجھے پسند نہیں۔