نماز کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 11 · 527 hadiths · Page 17 of 27

1022Mishkaat-al-Masabih

کھانا سامنے آجائے تو کھانے سے فارغ ہو کر نماز پڑھنی چاہیے

وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا وُضِعَ عَشَآ ءُ اَ حَدِ کُمْ وَاُقِےْمَتِ الصَّلٰوۃُ فَابْدَءُ وْا بِالْعَشَآءِ وَلَا ےَعْجَلْ حَتّٰی ےَفْرُغَ مِنْہُ وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ ےُوْضَعُ لَہُ الطَّعَامُ وَتُقَامُ الصَّلٰوۃُ فَلَا ےَاتِےْھَا حَتّٰی ےَفْرُغَ مِنْہُ وَاِنَّہُ لَےَسْمَعُ قِرَآءَ ۃَ الْاِمَامِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے سامنے رات کا کھانا رکھا جائے اور (اسی وقت) نماز کی تکبیر کہی جائے تو وہ کھانا شروع کر دے اور کھانا کھانے میں جلدی نہ کرے بلکہ اس سے اطمینان کے ساتھ فارغ ہو۔ اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب ان کے سامنے کھانا رکھا جاتا اور نماز شروع ہوجاتی تو نماز کے لئے اس وقت تک نہ آتے جب تک کہ کھانے سے فارغ نہ ہو لیتے اور امام کی قرأت سنتے رہتے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح ظاہر ہے کہ یہ حکم اس صورت میں ہے جب کہ نماز پڑھنے والا بھوکا ہو اور وہ جانتا ہو کہ اس بھوک کی حالت میں نماز پڑھوں گا تو دھیان کھانے ہی میں لگا رہے گا اور نماز دل جمعی اور سکون کے ساتھ ادا نہیں کرسکوں گا تو اس کے لئے یہی اولیٰ ہوگا کہ وہ پہلے کھانا کھالے اس کے بعد نماز پڑھے بشر طی کہ وقت میں وسعت ہو یعنی اتنا وقت ہو کہ وہ کھانے سے فراغت کے بعد اطمینان سے نماز پڑھ سکتا ہو۔

1023Mishkaat-al-Masabih

بول براز کی حاجت کے وقت نماز نہ پڑھنی چاہیے

وَعَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَااَنَّہَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقُوْلُ لَا صَلٰوۃَ بِحَضْرَۃِ الطَّعَامِ وَلَا ہُوَ ےُدَافِعُہُ الْاَخْبَثَانِ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے سرور کونین ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کھانا سامنے ہونے کی صورت میں نماز کامل نہیں ہوتی اور نہ اس حالت میں (نماز پوری ہوتی ہے) جب کہ دو خبیث (یعنی پیشاب و پاخانہ) اس ( کی نماز میں حضوری قلب) کو ختم کریں۔ (صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کسی آدمی کے سامنے کھانا آیا ہو یا اسے پیشاب و پاخانہ کی حاجت ہو تو اسے اس وقت نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔ بلکہ وہ ان چیزوں سے فارغ ہو کر نماز پڑھے۔ علامہ نووی فرماتے ہیں کہ جب کسی کے سامنے کھانا آجائے اور اسے کھانے کی خواہش ہو یا اسی طرح بول و براز کا تقاضا ہو تو اسی صورت میں اسے نماز پڑھنی مکروہ ہے اور ریح وقے بھی اس حکم میں ہے یعنی ان کو روک کر نماز نہ پڑھے کیونکہ ان کی وجہ سے نماز میں حضوری قلب اور خشوع و خضوع باقی نہ رہے گا جس کی وجہ سے نماز کامل طو پر ادا نہ ہوگی، مگر ان سب صورتوں میں وسعت وقت کی شرط ہے اگر وقت تنگ ہو تو بہر صورت نماز پہلے پڑھنی چاہیے۔

1024Mishkaat-al-Masabih

فرض نماز کی تکبیر ہوجانے پر دوسری نماز نہیں پڑھنی چاہیے

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا اُقِےْمَتِ الصَّلٰوۃُ فَلَا صَلٰوۃَ اِلَّا الْمَکْتُوْبَۃَ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا جب نماز کھڑی ہوجائے (یعنی فرض نماز کے لئے تکبیر کہی جائے) تو فرض نماز کے علاوہ اور کوئی نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔ (صحیح مسلم) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مؤذن کے تکبیر کہنے کے بعد فجر کی سنتیں بھی نہ پڑھنی چاہئیں بلکہ امام کے ساتھ فرض نماز میں شریک ہوجانا چاہیے چناچہ امام شافعی (رح) کا یہی مسلک ہے مگر امام اعطم ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ اگر فجر کی سنتیں پڑھنے میں فرض کی ایک رکعت بھی ہاتھ لگ جانے کا یقین ہو تو سنتیں پڑھ لی جائیں اس کے بعد جماعت میں شریک ہوا جائے تاکہ سنتوں کا ثواب بھی ہاتھ سے نہ جائے اور جماعت کا ثواب بھی مل جائے۔ لیکن اس صورت میں سنتیں صف سے الگ ایک طرف پڑھنی چاہئیں ہاں اگر سنتیں پڑھنے میں فرض نماز کی دونوں رکعتیں فوت ہوجانے کا خوف ہو تو پھر اس صورت میں سنتیں چھوڑ دیں۔ حضرت ابن مالک (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں جو حکم ذکر کیا گیا ہے فجر کی سنتیں اس سے مشثنی ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے صلو ھاوان طردتکم الخیل فجر کی سنتیں (ضرور) پڑھو اگرچہ تمہیں لشکر ہانکے۔ لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ فجر کی سنتوں کو پڑھنے کی بڑی تاکید ہے انہیں چھوڑنا نہیں چاہیے۔ حضرت علامہ ابن ہمام (رح) فرماتے ہیں کہ فجر کی سنتیں تمام سنتوں میں سب سے زیادہ اہم اور قوی تر ہیں یہاں تک کہ حسن کی حضرت امام ابوحنیفہ (رح) سے یہ روایت ہے کہ فجر کی سنتوں کو بلا عذر بیٹھ کر پڑھنا جائز نہیں۔

1025Mishkaat-al-Masabih

عورتوں کو مسجد میں جانے کی اجازت

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا اسْتَاذَنَتِ امْرَاَۃُ اَحَدِکُمْ اِلَی الْمَسْجِدِ فَلَا ےَمْنَعَنَّھَا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کی عورت مسجد میں جانے کی اجازت مانگے تو اس کو منع مت کرو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح امام نووی (رح) نے فرمایا ہے کہ یہ نہی کراہت تنزیہی پر محمول ہے اور حضرت مظہر فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورتوں کا مسجد میں جانا جائز ہیں لیکن موجودہ دور میں فتنے کے خوف سے عورتوں کو مسجد میں جانا مکروہ ہے چناچہ اس کی موید صحیح البخاری و صحیح مسلم کی یہ روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا اگر رسول اللہ ﷺ اس چیز کو دیکھتے جو عورتوں نے پیدا کی ہے تو بیشک آپ ﷺ ان کو (مسجد جانے سے) منع کردیتے جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کردیا گیا تھا۔ نیز حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے عورتوں کو (مسجد میں) جانے سے منع فرمایا مگر بوڑھی عورتوں کو (اجازت دی وہ بھی) کاروبار کے یعنی میلے اور پرانے کپڑوں میں۔ اس کا حال یہ ہے کہ اگر بوڑھی عورتیں بغیر بناؤسنگار اور خوشبو لگائے بغیر مسجد میں جانا چاہیں تو ان کے لئے ایک حد تک اجازت ہے۔ مگر جوان عورتوں کو تو مسجد میں جانے کی قطعا اجازت نہیں ہے۔ پھر یہ کہ اس زمانے میں عورتیں مسجدوں میں دینی مسائل و احکام سیکھنے کی خاطر جایا کرتی تھی لیکن اب تو اس کی بھی احتیاج نہیں کیوں کہ دینی مسائل و احکام اتنے مشہورو واضح ہوچکے ہیں کہ گھر میں بیٹھی عورتوں کو بآسانی معلوم ہوجاتے ہیں۔

1026Mishkaat-al-Masabih

عورتیں خوشبو لگا کر مسجد میں نہ جائیں

وَعَنْ زَےْنَبَ امْرَاَۃِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍص قَالَتْ قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا شَھِدَتْ اِحْدٰکُنَّ الْمَسْجِدَ فَلَا تَمَسَّ طِےْبًا۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کی زوجہ مطہرہ حضرت زینب ؓ کہتی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے ہم سے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی (عورت) مسجد میں جائے تو وہ خوشبو نہ لگائے۔ (صحیح مسلم)

1027Mishkaat-al-Masabih

عورتوں کے لئے گھر ہی میں نماز پڑھنا بہتر ہے

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَےُّمَا امْرَاَۃٍ اَصَابَتْ بَخُوْرًا فَلَا تَشْھَدْ مَعَنَا الْعِشَآءَ الْاٰخِرَۃَ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا جو عورت بخور (یعنی خوشبو) لگائے وہ ہمارے ساتھ عشاء کی نماز میں شریک نہ ہو۔ (صحیح مسلم) تشریح خوشبو دار چیز کا دھواں لینے کو بخور کہتے ہیں جیسے اگر بتی وغیرہ۔ اس حدیث میں خاص طور پر عشاء کے وقت کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ یہ اندھیرے کا وقت ہوتا ہے اس میں کسی فتنے و شر کے پیدا ہونے کا زیادہ خوف رہتا ہے۔ ویسے اوپر والی حدیث میں گزر ہی چکا ہے کہ آپ ﷺ نے مطلقاً خوشبو لگا کر مسجد میں آنے سے منع فرمایا ہے۔

1028Mishkaat-al-Masabih

عورتوں کے لئے گھر ہی میں نماز پڑھنا بہتر ہے

عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اﷲُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ لاَ تَمْنَعُوا نِسَاءَ کُمْ الْمَسَاجِدَ وَبُیُو تُھُنَّ خَیْرٌ لَّھُنَّ۔(رواہ ابوداؤد)

حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا تم اپنی عورتوں کو مسجدوں (میں آنے) سے نہ روکو لیکن (نماز پڑھنے کے لئے) ان کے گھر ان کے لئے بہتر ہیں۔ (ابوداؤد)

1029Mishkaat-al-Masabih

عورت کا کس جگہ نماز پڑھنا افضل ہے

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَاۃُ الْمَرْاۃِ فِی بَیْتِھَا اَفْضَلُ مِنْ صَلَا تُھَا فِی حُجْرَتِھَا وَصَلاَ تِھَا فِیْ مُخْدَعِھَا اَفْضَلُ مِنْ صَلَاتِھَا فِیْ بَیْتِھَا۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا عورت کا گھر کے اندر (یعنی دالان میں) نماز پڑھنا صحن میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور کوٹھری میں نماز پڑھنا کھلے ہوئے مکان میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ (ابوداؤد) تشریح اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عورت جتنا پوشیدہ اور باپردہ ہو کر نماز پڑھے اس کے لئے افضل اور بہتر ہے کیونکہ اس کا سارا دارو مدار پردے کے اوپر ہے، یہی وجہ ہے کہ عورتوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ نَعَمَ الصَّھْرُ الْقَبْرُ (یعنی اچھی سسرال قبر ہے)۔ بہر حال اس سے معلوم ہوا کہ عورتوں کو نماز پڑھنے کے لئے جس قدر پردہ زیادہ ہو بہتر ہے۔

1030Mishkaat-al-Masabih

خوشبو لگا کر مسجد میں جانے والی عورت کی نماز قبول نہیں ہوتی

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ اِنِّی سَمِعْتُ حِبِّی اَبَاا لْقَاسِمِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ لَا تُقْبَلُ صَلَاۃُ اِمْرَأَۃٍ تَطَیَّبَتْ لِلْمَسْجِدِ حَتّٰی تَغْتَسِلَ غُسْلَھَا مِنَ الْجَنَابَۃِ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَرَوَی اَحْمَدُ وَالنَّسَائِیُّ نَحْوَہُ۔

اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے محبوب ابوالقاسم رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس عورت کی نماز قبول نہیں کی جاتی جو مسجد جانے کے لئے خوشبو لگائے یہاں تک کہ وہ اگر خوشبو لگائے ہوئے ہو تو اچھی طرح) غسل نہ کرے جیسا کہ ناپاکی کا غسل کیا جاتا ہے۔ (سنن ابوداؤد، مسند احمد بن حنبل، سنن نسائی) تشریح اس حدیث میں بھی اسی بات سے شدت کے ساتھ منع کیا گیا ہے کہ کوئی عورت خوشبو لگا کر مسجد میں جانے کی جرأت نہ کرے یہاں تک کہ اگر کسی نے خوشبو لگا رکھی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ مسجد جاتے وقت غسل کرلے یعنی اگر اس نے پورے بدن پر خوشبو لگا رکھی ہے تو سارا بدن پانی سے دھو ڈالے تاکہ اس کے بدن سے خوشبو جاتی رہے اور اگر بدن کے کسی خاص حصے پر خوشبو لگی ہوئی ہو تو صرف اسی حصے کو دھو ڈالے اور اگر خوشبو کپڑوں پر لگی ہوئی ہو تو اس صورت میں وہ کپڑے تبدیل کر دئیے جائیں۔ خوشبو لگے ہوئے بدن کو دھونے یا کپڑے کو بدلنے کا یہ حکم اسی صورت میں ہے جب کہ مسجد میں جانے کا ارادہ کرلے۔ اگر مسجد میں جانے کا ارادہ نہ ہو بلکہ گھر ہی میں نماز پڑھنی ہو تو پھر اس حکم پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے۔ حضرت ابن مالک (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حکم خوشبو لگا کر مسجد میں جانے والی عورتوں کو زجر میں مبالغے کے طور پر ہے کیونکہ اس صورت میں فتنہ و شر زیادہ پیدا ہوتا ہے معطر عورت کی طرف لوگوں کی رغبت زیادہ ہوتی ہے۔

1031Mishkaat-al-Masabih

خوشبو لگا کر باہر نکلنے والی عورتوں کے بارے میں وعید

وَعَنْ اَبِی مُوْسٰی قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کُلُّ عَیْنٍ زَانِیَۃٌ وَاِنَّ المَرْأَۃَ اِذَا اسْتَعْطَرَتْ فَمَرَّتْ بِالْمَجْلِسِ فَھِیَ کَذَاوَکَذَا یَعْنِی زَانِیَۃٌ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَلاَبِیْ دَاؤدَ وَ النِّسَائِیِّ نَحْوُہُ۔

اور حضرت ابوموسی ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا ہر آنکھ زنا کرنے والی ہے (جب کہ وہ کسی غیر عورت کی طرف بری نظر سے دیکھے کیونکہ اجنبی عورت کی طرف بری نظر سے دیکھنا آنکھ کا زنا ہے) اور جو عورت خوشبو لگا کر (مردوں کی) مجلس سے گزرے (اور چاہے کہ لوگ اس کی طرف دیکھیں تو وہ ایسی ہے ایسی ہے یعنی زانیہ ہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، سنن نسائی) تشریح جس عورت نے خوشبو لگا کر مردوں کی مجلس میں اپنے آپ کو جلوہ گاہ بنایا تو وہ زانیہ ہے کیونکہ اس نے خوشبو لگا کر غیر مردوں کو اس بات کی رغبت دلائی کہ وہ اس کی طرف دیکھیں اور جب انہوں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ آنکھوں کے زنا میں مبتلا ہوئے اور چونکہ یہ عورت اس فتنے کا خود باعث بنی ہے اس لئے گویا اسی نے زنا کے فعل کا ارتکاب کیا ہے۔

1032Mishkaat-al-Masabih

فجر اور عشاء کی نمازوں کی فضیلت

وَعَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ صَلَّی بِنَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَوْمًا الصُبْحَ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ اَشَاھِدٌ فَلَانٌ قَالُوْا لَا قَالَ اَشَاھِدٌ فَلَانٌ قَالُوْا لَا قَالَ اِنَّ ھَاتَیْنِ الصَّلاَ تَیْنِ اَثْقَلُ الصَّلَوَاتِ عَلَی الْمُنَافِقِیْنَ وَلَوْ تَعْلَمُوْنَ مَا فِیْھِمَا لَا تَیْتُمْوھُمَا وَلَوْ حَبْوًا عَلَی الرُّکَبِ وَاِنَّ الصَّفَّ الْاَوَّلَ عَلٰی مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِکَۃِ وَلَوْ عَلِمْتُمْ مَافَضِیْلَتُہ، لَا بْتَدَرْتُمُوْہُ وَاِنَّ صَلَاۃَ الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلِ اَزْکٰی مِنْ صَلَاتِہٖ وَحْدَہُ وَصَلَاتِہٖ مَعَ الرَّجُلَیْنِ اَزْکٰی مِنْ صَلَاتِہٖ مَعَ الرَّجُلِ وَمَاکَثُرَ فَھُوَ اَحَبُّ اِلَی اﷲِ۔ (رواہ ابوداؤد و النسائی )

اور حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ ایک روز سرور کونین ﷺ نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی جب آپ ﷺ سلام پھیر چکے تو ( ایک آدمی کا نام لے کر اس کے بارے میں) فرمایا کہ فلاں آدمی حاضر ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ نہیں آپ ﷺ نے (ایک دوسرے آدمی کا نام لے کر اس کے بارے میں) فرمایا کہ فلاں شخص حاضر ہے، صحابہ نے عرض کیا کہ نہیں۔ (اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا تمام نمازوں میں سے یہ دونوں (یعنی فجر و عشاء) کی نمازیں منافقین پر بہت گراں گزرتی ہیں، اگر تم جان لیتے کہ ان دونوں نمازوں کا کتنا ثواب ہے، تو تم (دوڑ کر اور) گھٹنوں کے بل (یعنی افتاں و خیزاں) آتے اور (ثواب و فضیلت نیز تقرب الی اللہ کے سلسلے میں) پہلی صف فرشتوں کی صف کی طرح ہے اگر تم پہلی صف کی فضیلت جان لو تو اس میں شامل ہونے کے لئے جلدی پہنچنے کی کوشش کرنے لگو اور آدمی کا اکیلے نماز پڑھنے سے دوسرے آدمی کے ساتھ مل کر پڑھنا زیادہ ثواب کا باعث ہے اور دو آدمیوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھنا ایک آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے سے زیادہ ثواب کا باعث ہے اور جس قدر زیادہ (نمازی ایک ساتھ یعنی جماعت سے نماز پڑھتے) ہوں اللہ کے نزدیک یہ سب سے محبوب ہے۔ (سنن ابوداؤد، سنن نسائی) تشریح منافق کا ہر عمل ریا پر مبنی ہوتا ہے اور اس کی ہر عبادت نمائش کی خاطر ہوتی ہے چناچہ فجر و عشاء کے علاوہ دوسری نمازیں تو منافقین پر زیادہ گراں نہیں گزرتیں کیونکہ ان نمازوں میں نہ صرف یہ کہ زیادہ کسل و سستی نہیں ہوتی بلکہ زیادہ نمائش بھی خوب ہوجاتی ہے برخلاف اس کے کہ فجر وعشا کی نماز میں چونکہ محنت زیادہ کرنا پڑتی ہے۔ کسل بھی ہوتا ہے اور پھر یہ کہ ریا و نمائش کا زیادہ موقع نہیں ملتا اس لئے دونوں نمازیں ان پر بڑی گراں گزرتی ہیں۔ اسی کی طرف اس حدیث میں اشارہ فرمایا گیا ہے اور اس کے بعد ان دونوں نمازوں کی فضیلت کو ظاہر کردیا گیا ہے تاکہ مخلص و صادق مسلمان ان نمازوں سے کسی بھی وجہ سے محروم نہ رہیں۔

1033Mishkaat-al-Masabih

جماعت سے نماز پڑھنے والوں پر شیطان غالب نہیں ہوتا

وَعَنْ اَبِی الدَّرْدَآءِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَامِنْ ثَلَاثَۃٍ فِی قَرْیَۃٍ وَلَا بَدْوٍ لَا تُقَامُ فِیْھِمُ الصَّلَاۃُ اِلَّا قَدِاسْتَحْوَذَ عَلَیْھِمُ الشَّیْطَانُ فَعَلَیْکَ بِالْجَمَاعَۃِ فَاِنَّمَا یَا کُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِیَۃَ۔ (رواہ احمد بن حنبل وابوداؤد، النسائی )

اور حضرت ابودرداء ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا جس بستی اور جنگل میں تین آدمی ہوں اور جماعت سے نماز نہ پڑھتے ہوں تو ان پر شیطان غالب رہتا ہے لہٰذا تم جماعت کو اپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ اس بکری کو بھیڑیا کھا جاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو (کر تنہا رہ) جاتی ہے۔ (مسند احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد، سنن نسائی) تشریح اجتماعیت میں فلاح و کامیابی ہے اور انفرادیت میں خسران و ناکامی، چناچہ اسلام اپنے متبعین کو اجتماعیت کی تعلیم بڑی اہمیت کے ساتھ دیتا ہے اور اس بات کی تاکید کرتا ہے کہ اگر اپنی قوم وملی شان و شوکت کو برقرار رکھنا ہے اور اپنی امتیازی حیثیت کو پوری طاقت کے ساتھ دنیا سے منوانا ہے تو پھر اجتماعیت کے راستہ سے کبھی انحراف نہ کرنا، یہی وجہ ہے کہ اسلام کی اکثر و بیشتر عبادات شان اجتماعیت کی حامل ہیں۔ یہ تو دنیا کی دیکھی بات ہے کہ جو آدمی تن تنہا رہتا ہے نہ تو اس کی کوئی حیثیت و وقعت ہوتی ہے اور نہ اس کی کسی بات میں کوئی طاقت ہوتی ہے جب کوئی چاہتا ہے بڑی آسانی کے ساتھ اس پر قابو پا لیتا ہے لیکن جو افراد اجتماعیت کے ساتھ رہتے ہیں نہ صرف یہ کہ ان کی ہر بات میں ایک وزن ہوتا ہے بلکہ ان کی قوت و طاقت سے سب ہی لوگ مرعوب رہتے ہیں۔ یہی حالت شیطان کا ہے کہ کسی تنہا مسلمان پر اس کا اثر بہت جلدی ہوتا ہے مگر اس کے برخلاف مسلمانوں کی کسی جماعت پر اس کے مکر و فریب کا جادو نہیں چلتا۔ چنانچہ اس حدیث میں یہی بتایا جا رہا ہے کہ اگر کسی بستی یا کسی جنگل میں تین افراد رہتے ہوں اور اس کی مثال یہ دی گئی ہے کہ جس طرح ایک بھیڑیا بکریوں کے کسی ریوڑ پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کرتا مگر جب کوئی بکری ریوڑ سے الگ ہو کر بالکل تنہا رہ جاتی ہے تو بھیڑیا اسے آن واحد میں اپنی غذا بنا لیتا ہے۔

1034Mishkaat-al-Masabih

بغیر عذر جماعت میں شریک نہ ہونے والے نمازی کی نماز قبول نہیں ہوتی

وَعنِ ِابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ سَمِعَ الْمُنَادِیَ فَلَمْ یَمْنَعْہُ مِن اتِّبَاعِہٖ عُذْرٌ قَالُوْوَمَا الْعُذْرُ قَالَ خَوْفٌ اَوْ مَرَضَ لَمْ تُقْبَلْ مِنْہُ الصَّلٰوۃُ الَّتِی صَلَّی۔ (رواہ ابوداؤد والدارقطنی)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا جو آدمی اذان کہنے والے (یعنی موذن) کی اذان سنے اور مؤذن کی تابعداری (یعنی مسجد پہنچ کر جماعت میں شریک ہونے) سے اسے کوئی عذر نہ روکے لوگوں نے پوچھا کہ عذر کیا ہے؟ فرمایا کہ ) (دشمن سے) ڈرنا، بیماری تو اس کی نماز جو بغیر جماعت اگرچہ مسجد ہی میں پڑھے قبول نہیں کی جاتی۔ (ابوداؤد، دارقطنی) تشریح حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ یہ حدیث بیان فرما رہے تھے کہ لوگوں نے درمیان میں پوچھا کہ وہ کیا عذر ہے جو جماعت سے روک سکتا ہے تو حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ڈر، خواہ کسی دشمن سے جان کا ہو یا مال و آبرو کا، یا کوئی سخت بیماری ہو حضرت ابن مالک نے ڈر کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ڈر خواہ تو کسی کے ظلم کا شکار ہوجانے کا ہو یا ڈر کسی قرضدار کا ہو ایسی صورت میں کہ وہ اپنی مفلسی کی وجہ سے قرض ادا کرنے پر قادر نہ ہو۔ ان اعذار کے علاوہ اس سے پہلے بقیہ اعذار ذکر کئے جا چکے ہیں مثلاً سخت سردی و بارش یا کھانا سامنے آچکا ہو، یا استنجے کی حاجت ہو یہ سب چیزیں ترک جماعت کے حق میں معقول عذر ہیں اسی طرح بیماری بھی عذر ہے، مگر ایسی بیماری جس کی وجہ سے مسجد میں پہنچنا ممکن نہ ہو۔ بہر حال اس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ جو آدمی مؤذن کی اذان سنے اور پھر مؤذن کی تابعداری نہ کرے یعنی جماعت میں بلا عذر شریک نہ ہو تو اس کی نماز قبول نہیں ہوگی۔ ہاں اگر کوئی آدمی کسی عذر کی بنا پر جماعت میں شریک نہ ہو تو اس کی نماز قبول ہوجائے گی لیکن اتنی بات سمجھ لیجئے کہ یہاں قبول نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کی نماز سرے سے ادا نہیں ہوگی بلکہ اس سے یہ مراد ہے کہ اس کے ذمہ سے نماز کی فرضیت تو ساقط ہوجائے گی مگر اسے نماز کا ثواب نہیں ملے گا۔ جیسا کہ اگر کوئی آدمی غصب کی گئی زمین پر نماز پڑھے تو اس کے ذمہ سے نماز کی فرضیت تو ساقط ہوجاتی ہے مگر اسے نماز کا ثواب نہیں ملتا یا اسی طرح اگر کوئی آدمی حرام مال سے حج کرے تو اس کے ذمہ سے فرض تو اتر جاتا ہے مگر اسے ثواب نہیں ملتا۔ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس حدیث اور اس سے پہلے گزرنے والی حدیث کے پیش نظر کسی آدمی کے لئے قصداً بلا عذر جماعت ترک کرنے کی مطلقاً اجازت نہیں ہے۔

1035Mishkaat-al-Masabih

جماعت کھڑی ہوجائے اور استنجے کی حاجت ہو تو پہلے ستنجے سے فارض ہوجانا چاہیے

وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ اَرْقَمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ اِذَا اُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ وَوَجَدَ اَحَدُکُمْ الْخَلَاءَ فَلْیَبْدَأْ بِالْخَلَائِ۔ (رواہ الترمذی وروی مالک و ابوداؤ د و النسائی نحوہ)

اور حضرت عبدا اللہ ابن ارقم ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سرور کونین ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر نماز ( کے لئے) جماعت کھڑی ہوجائے اور تم میں سے کسی کو پاخانے کی حاجت ہو تو اسے چاہیے کہ وہ پہلے پاخانے کو چلا جائے ( اگرچہ جماعت ترک ہوجائے)۔ (جامع ترمذی، مالک، ابوداؤد، سنن نسائی)

1036Mishkaat-al-Masabih

تین چیزوں کی ممانعت

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ لَا یَحِلُّ لِاَحَدٍ اَنْ یَفْعَلَھُنَّ لَا یُؤَمَّنَّ رَجُلٌ قَوْمًا فَیَخُصَّ نَفْسَہُ بِالدُّعَاءِ دُوْنَھُمْ فَاِنْ فَعَلَ ذٰلِکَ فَقَدْ خَانَھُمْ وَلَا یَنْظُرُ فِی قَعْرِبَیْتٍ قَبْلَ اَنْ یَسْتَأذِنَ فَاِنْ فَعَلَ ذالِکَ فَقَدْ خَانَھُمْ وَلَا یُصَلِّ وَھُوَ حَقِنٌ حَتّٰی یَتَخَفَّفَ۔ (رواہ ابوداؤد للترمذی نحوہ)

اور حضرت ثوبان ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا تین چیزیں ایسی ہیں جن کا کرنا کسی کے لئے حلال نہیں ہے۔ اول تو یہ کہ کوئی آدمی کسی جماعت کا امام بنے اور دعاء میں جماعت کو شریک کئے بغیر اپنی ذات کو مخصوص کرے اگر کسی نے ایسا کیا تو اس نے جماعت کے ساتھ خیانیت کی۔ دوم یہ کہ کوئی آدمی کسی کے گھر میں اجازت حاصل کئے بغیر نظر نہ ڈالے۔ اگر کسی نے ایسا کیا تو اس نے گھر والوں کے ساتھ خیانت کی۔ سوم یہ کہ کوئی آدمی ایسی حالت میں نماز نہ پڑھے کہ وہ پیشاب یا یاخا نہ کئے ہوئے ہو یہاں تک کہ وہ (استنجے سے فارغ ہو کر) ہلکا ہوجائے۔ (ابوداؤد،، جامع ترمذی )

1037Mishkaat-al-Masabih

کھانے کی وجہ سے نماز میں تاخیر کی ممانعت

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تُؤَخِّرُو الصَّلَاۃَ لِطَعَامٍ وَلَا لِغَیْرِہٖ۔ (رواہ فی شرح النسۃ)

اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے (صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ کھانے کے لئے یا کسی اور وجہ سے نماز کو ( اس کے وقت سے) موخر نہ کرو۔ (شرح السنۃ) تشریح اس سے پہلے ایک حدیث (نمبر ٦) گزرچکی ہے جس سے یہ معلوم ہوچکا ہے کہ (جب کھانا سامنے آجائے تو) پہلے کھانا کھالیا جائے اور اس کے بعد نماز پڑھی جائے اور یہاں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ کھانے وغیرہ کی خاطر نماز کو موخر نہ کیا جائے، چونکہ ان دونوں احادیث میں تعارض واقع ہو رہا ہے کہ اس لئے سمجھ لیجئے کہ حدیث اس بات پر محمول ہے کہ اگر کھانا کھانے کی صورت میں نماز کا وقت ختم ہوجانے کا اندیشہ ہو تو پھر یہی حکم ہے کہ نماز کو موخر نہ کیا جائے۔ اور حدیث نمبر ٦ کا تعلق اس صورت سے ہے جب کہ وقت میں وسعت ہو اور کھاناسامنے آچکا ہو نیز کھانے کی خواہش بھی ہو تو یہ حکم ہوگا کہ پہلے کھانا کھالیا جائے اس کے بعد نماز پڑھی جائے۔ اس فائدے سے دونوں حدیثوں میں کوئی تعارض باقی نہیں رہا۔

1038Mishkaat-al-Masabih

جماعت سے نماز پڑھنے کی تاکید

وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ لَقَدْ رَاَےْتُنَا وَمَا تَخَلَّفُ عَنِ الصَّلٰوۃِاِلَّا مُنَافِقٌ قَدْ عُلِمَ نِفَاقُہُ اَوْ اِنْ کَانَ الْمَرِےْضُ لَےَمْشِیْ بَےْنَ رَجُلَےْنِ حَتّٰی ےَاتِیَ الصَّلٰوۃَ قَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَّمَنَا سُنَنَ الْھُدٰی وَاِنَّ مِنْ سُنَنِ الْھُدٰی اَلصَّلٰوۃَ فِی الْمَسَاجِدِ الَّذِیْ ےُؤَذَّنْ فِےْہِ وَفِیْ رِوَاےَۃٍ قَالَ مَنْ سَرَّہَ اَنْ ےَّلْقَی اللّٰہَ غَدًا مُّسْلِمًا فَلْےُحَافِظْ عَلٰی ھٰذِہِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ حَےْثُ ےُنَادٰی بِھِنَّ فَاِنَّ اللّٰہَ شَرَعَ لِنَبِےِّکُمْ سُنَنَ الْہُدٰی وَاِنَّھُنَّ مِنْ سُنَنِ الْھُدٰی وَلَوْ اَنَّکُمْ صَلَّےْتُمْ فِی بُےُوْتِکُمْ کَمَا ےُصَلِّیْ ھٰذَا الْمُتَخَلِّفُ فِیْ بَےْتِہٖ لَتَرَکْتُمْ سُنَّۃَ نَبِےِّکُمْ وَلَوْ تَرَکْتُمْ سُنَّۃَ نَبِےِّکُمْ لَضَلَلْتُمْ وَمَا مِنْ رَجُلٍ ےَتَطَھَّرُ فَےُحْسِنُ الطُّھُوْرَ ثُمَّ ےَعْمِدُ اِلٰی مَسْجِدٍ مِّنْ ھٰذِہِ الْمَسَاجِدِ اِلَّا کَتَبَ اللّٰہُ لَہُ بِکُلِّ خُطُوَۃٍ ےَّخْطُوْھَا حَسَنَۃً وَّرَفَعَہُ بِھَا دَرَجَۃً وَحَطَّ عَنْہُ بِھَا سَےِّئَۃً وَلَقَدْ رَاَےْتُنَا وَمَا ےَتَخَلَّفُ عَنْھَا اِلَّا مُنَافِقٌ مَّعْلُوْمُ النِّفَاقِ وَلَقَدْ کَانَ الرَّجُلُ ےُؤْتٰی بِہٖ ےُھَادٰی بَےْنَ الرَّجُلَےْنِ حَتّٰی ےُقَامَ فِی الصَّفِّ۔ (صحیح مسلم)

حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے دیکھا کہ نماز با جماعت سے صرف وہی منافق لوگ پیچھے رہتے تھے جن کا نفاق معلوم اور کھلا ہوا تھا (یعنی جن لوگوں کا نفاق پوشیدہ تھا وہ بھی جماعت میں حاضر ہوتے تھے) یا بیمار رہ جاتے تھے (یعنی جس مریض کو مسجد آنے کی کچھ نہ کچھ طاقت ہوتی تھی وہ بھی جماعت میں آتا تھا چناچہ جو مریض دو آدمیوں کے درمیان (یعنی ان کے سہارے سے) چل سکتا تھا وہ بھی نماز میں آتا تھا۔ (اس کے بعد) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا بیشک سرور کونین ﷺ نے ہمیں ہدایت کے طریقے سکھائے ہیں اور ہدایت کے ان طریقوں میں سے (ایک طریقہ) اس مسجد میں (جماعت سے) نماز پڑھنا ہے جس میں اذان دی جاتی ہو ایک دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ حضرت عبدا اللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا جس آدمی کے لئے یہ بات خوش کن ہو کہ وہ کل کے دن اللہ سے کامل مسلمان کی حیثیت سے ملاقات کرے تو اسے چاہیے کہ وہ ان پانچوں نمازوں کی اس جگہ حفاظت کرے جہاں ان نمازوں کے لئے اذان دی جاتی ہو (یعنی مسجد میں ان پانچوں نمازوں کو جماعت کے ساتھ پابندی سے ادا کرتا رہے ہے) کیونکہ اللہ جل شانہ نے تمہارے رسول اللہ ﷺ کے لئے ہدایت کے (تمام) طریقے مقرر کردیئے تھے اور ان پانچوں نمازوں کو جماعت سے پڑھنا بھی ہدایت کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے۔ اگر تم اپنی نماز کو اپنے گھروں میں (اگرچہ جماعت سے) پڑھو گے جیسا کہ یہ پیچھے رہنے والا (یعنی منافق) نماز پڑھتا ہے تو سمجھ لو کہ تم اپنے نبی ﷺ کی سنت کو چھوڑنے والے ہوگے اور اگر اپنے نبی ﷺ کی سنت کو چھوڑ دو گے تو بیشک گمراہ ہوجاؤ گے۔ اور جو آدمی پاک ہو کر اچھی طرح وضو کرتا ہے (یعنی وضو کے پورے حقوق و آداب کا لحاظ رکھتا ہے اور اس کے تمام واجبات و سنن کو ادا کرتا ہے اور پھر ان مساجد میں سے کسی مسجد میں جاتا ہے تو رب قدوس اس کے ہر قدم کے بدلے جو وہ ( مسجد کی راہ میں) رکھتا ہے ایک نیکی لکھتا ہے اور اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک برائی کو اس سے دور کردیتا ہے ہم نے دیکھا ہے کہ کھلے ہوئے منافق کے علاوہ کوئی آدمی جماعت سے پیچھے نہ رہتا تھا (یعنی جماعت ترک نہ کرتا تھا) یہاں تک کہ بیمار آدمی اس حالت میں نماز میں لایا جاتا کہ وہ (انتہائی ضعف و کمزوری کیوجہ سے دو آدمیوں کا سہارا لئے ہوئے ہوتا اور اس کو صف میں لا کھڑا کردیا جاتا تھا۔ (صحیح مسلم) تشریح سنن الھدی (ہدایت کے طریقے) ان طریقوں اور راستوں کو کہتے ہیں جن پر عمل کرنا ہدایت کا موجب اور حق تعالیٰ جل شانہ کے قرب اور اس کی رضا کا باعث ہو۔ رسول اللہ ﷺ کے افعال کی قسمیں رسول اللہ ﷺ کے افعال دو نوعیت کے ہوتے تھے! ایک قسم کے افعال تو وہ تھے جنہیں رسول اللہ ﷺ بطور عبادت کرتے تھے۔ دوسرے قسم کے افعال وہ تھے جو آپ ﷺ بطریق عادت کرتے تھے۔ جن افعال کو آپ ﷺ بطریق عادت کرتے تھے انہیں سنن زوائد کہا جاتا ہے اور جن افعال کو آپ ﷺ بطریق عبادت کرتے تھے انہیں سنن ہدی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ پھر سنن ہدی کی دو قسمیں ہیں (١) سنن مؤ کدہ (٢) سنن غیر مؤ کدہ۔ سنن موکدہ۔ وہ افعال ہیں جنہیں آپ ﷺ نے بطریق مواظبت کے کیا اور لوگوں کو ان افعال کے کرنے کی تاکید فرمائی۔ سنن غیر موکدہ۔ وہ افعال ہیں جو نہ آپ ﷺ سے بطریق مواظبت کے صادر ہوتے تھے اور نہ آپ ﷺ ان پر عمل کرنے کے لئے لوگوں کو تاکید فرماتے تھے۔ اس حدیث میں جن سنن ہدی کا ذکر فرمایا گیا ہے اس سے مراد سنن موکدہ ہیں۔ جو حضرات جماعت کو واجب قرار دیتے ہیں یہ تعریف ان کے نقطہ نظر کے بھی منافی نہیں ہے کیونکہ لغۃً واجب بھی سنن ہدی کی تعریف میں داخل ہے احمد بن حنبل اور طبرانی رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما نے رسول اللہ ﷺ سے مرفوعاً روایت نقل کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ظلم پورا ظلم، کفر اور نفاق (کا حامل) وہ (آدمی) ہے کہ اللہ کے پکارنے والے کو سنا کہ وہ مسجد کی طرف (نماز کی جماعت میں شریک ہونے کے لئے) پکارتا ہے مگر اس (آدمی نے) جواب نہیں دیا (یعنی مسجد میں پہنچ کر جماعت میں شریک نہیں ہوا) اس روایت کی روشنی میں معلوم ہوا کہ ان لوگوں کے بارے میں جو (مسجد میں ہونے والی) جماعت کو ترک کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ کی یہ سخت ترین وعید ہے۔ کما یصلی ھذا المتخلف فی بیتہ (جیسا کہ یہ پیچھے رہنے والا آدمی اپنے گھر میں نماز پڑھتا ہے) سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی خاص آدمی تھا جو جماعت میں حاضر نہیں ہوتا تھا چناچہ عبداللہ ابن مسعود ؓ نے اس آدمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح یہ آدمی جماعت کی سعادت سے اپنے آپ کو محروم کر کے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہے، اسی طرح اگر تم لوگ بھی اپنے گھروں میں نماز پڑھنے لگو گے تو یہ سمجھ لو کہ اس آدمی کی طرح تمہارا بھی یہ فعل رسول اللہ ﷺ کی سنت کو چھوڑنے کے مترادف ہوگا اور ظاہر ہے کہ سنت کو ترک کرنے والا آدمی ضلالت و گمراہی کی تباہ کن کھائی میں گرتا ہے۔

1039Mishkaat-al-Masabih

جماعت کو چھوڑنے والا سخت گناہ گار ہوتا ہے

وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لَوْ لَا مَافِی الْبُیُوْتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالذُّرِّیَۃِ اَقَمْتُ صَلٰوۃَ الْعِشَاءِ وَاَمَرْتُ فِتْیَانِی یُحَرِّفَوْنَ الْبُیُوْتِ بِالنَّارِ۔ (رواہ احمد بن حنبل)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا اگر گھر میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے تو میں عشاء کی نماز قائم کر کے خادموں کو حکم دیتا کہ ( جو لوگ نماز میں حاضر نہیں ہوئے ان کے) گھر بار آگ سے جلا دئیے جائیں۔ (مسند احمد بن حنبل) تشریح اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ عورتوں اور بچوں کے لئے جماعت سے نماز پڑھنا چونکہ واجب نہیں ہے اس لئے ان کو بچانے کا خیال ضروری ہے کہ یہ بےخطاد وسروں کی سزا میں تکلیف نہ پاجائیں۔ اگر عورتوں اور بچے گھروں میں نہ ہوتے تو عشاء کی نماز قائم کرنے کا حکم دیتا اور صحابہ سے کہتا کہ جو لوگ جماعت میں حاضر نہیں ہوئے ہیں ان کو اور ان کے گھروں کے اسباب کو آگ کے شعلوں میں جھونک دیا جائے تاکہ انہیں احساس ہو کہ جماعت کو ترک کرنے کی سزا کیا ہے؟ اس سے معلوم ہوا کہ جماعت چھوڑنے والا سخت گناہ گار ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے جلانے کا قصد فرمایا ہے۔

1040Mishkaat-al-Masabih

اذان ہوجانے کے بعد بغیر نماز پڑھے مسجد سے نہ نکلنے کا حکم

وَعَنْہُ قَالَ اَمَرَنَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا کُنْتُمْ فِی الْمَسْجِدِ فَنُوْدِیَ بِالصَّلٰوۃِ فَلَا یَخْرُجُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یُصَلِّی۔ (رواہ احمد بن حنبل)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے ہمیں حکم دیا تھا کہ تم مسجد میں موجود ہو اور نماز کے لئے اذان ہو جاے تو تم میں سے کوئی آدمی بغیر نماز پڑھے مسجد سے نہ نکلے۔ (مسند احمد بن حنبل) تشریح علماء حنفیہ کے نزدیک اذان کے بعد مسجد سے نہ نکلنے کا یہ حکم اس آدمی کے لئے ہے جو کسی دوسری جماعت کا منتظم نہ ہو یعنی اگر کوئی آدمی کسی دوسری مسجد کا امام ہو تو اذان کے بعد مسجد سے جاسکتا ہے اگر کوئی آدمی دوسری مسجد کا امام نہ ہو یا جا کر واپس آنے کا قصد نہ کرے تو اس کا اذان سن کر مسجد سے نکلنا جائز نہیں۔ ہاں اگر کوئی آدمی نماز پڑھ چکا ہے تو اس کے لئے مسجد سے نکلنا مکروہ نہیں لیکن ظہر اور عشاء کی نماز کے لئے اگر مؤذن تکبیر کہنی شروع کر دے تو اسے بھی نماز پڑھ لینے کے باوجود جماعت میں شریک ہونا چاہیے تاکہ ترک جماعت کا الزام نہ آئے دوسرے ائمہ کے نزدیک ایسی صورت میں ہر نماز میں شریک ہوجانا چاہیے۔ ان کے ہاں ظہر و عشاء کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔

1041Mishkaat-al-Masabih

اذان ہوجانے کے بعد بغیر نماز پڑھے مسجد سے نہ نکلنے کا حکم

وَعَنْ اَبِیْ الشَّعْثَائِص قَالَ خَرَجَ رَجُلٌ مِّنَ الْمَسْجِدِ بَعْدَ مَا اُذِّنَ فِےْہِ فَقَالَ اَبُوْ ھُرَےْرَۃَ اَمَّا ھٰذَا فَقَدْ عَصٰی اَبَاالْقَاسِمِ صلی اللہ علیہ وسلم۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت ابوشعثاء فرماتے ہیں کہ (ایک دن) اذان ہوجانے کے بعد ایک آدمی مسجد سے نکلا تو حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا کہ اس آدمی نے ابوالقاسم (یعنی رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی۔ (صحیح مسلم)