جماعت کھڑی ہوجائے اور استنجے کی حاجت ہو تو پہلے ستنجے سے فارض ہوجانا چاہیے
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ اَرْقَمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ اِذَا اُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ وَوَجَدَ اَحَدُکُمْ الْخَلَاءَ فَلْیَبْدَأْ بِالْخَلَائِ۔ (رواہ الترمذی وروی مالک و ابوداؤ د و النسائی نحوہ)
اور حضرت عبدا اللہ ابن ارقم ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سرور کونین ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر نماز ( کے لئے) جماعت کھڑی ہوجائے اور تم میں سے کسی کو پاخانے کی حاجت ہو تو اسے چاہیے کہ وہ پہلے پاخانے کو چلا جائے ( اگرچہ جماعت ترک ہوجائے)۔ (جامع ترمذی، مالک، ابوداؤد، سنن نسائی)