نماز کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 11 · 527 hadiths · Page 18 of 27

1042Mishkaat-al-Masabih

اذان ہوجانے کے بعد بغیر نماز پڑھے مسجد سے نہ نکلنے کا حکم

وَعَنْ عُثْمَانِ بْنَ عَفَّانَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ اَدْرَکَہُ الْاَذَانُ فِی الْمَسْجِدِ ثُمَّ خَرَجَ لَمْ یَخْرُجْ لِحَاجَۃٍ وَّھُوَ لَا یُرِیْدُ الرَّجْعَۃَ فَھُوَ مُنَافِقٌ۔ (رواہ ابن ماجۃ)

اور حضرت عثمان ابن عفان ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا جو آدمی مسجد میں ہو اور اذان ہوجائے پھر وہ بغیر کسی ضرورت کے مسجد سے چلا جائے اور (جماعت میں شریک ہونے کے لئے) واپس آنے کا ارادہ بھی نہ رکھتا ہو تو وہ منافق ہے۔ (ابن ماجہ) تشریح اگر کوئی آدمی مسجد میں موجود ہو اور اذان ہوجائے اور پھر وہ جماعت کی سعادت سے منہ موڑ کر مسجد سے چلا جائے تو یہ بڑی بدبختی کی بات ہے۔ چناچہ فرمایا جا رہا ہے کہ ایسا آدمی ترک جماعت کا گناہ گار ہونے کی وجہ سے منافق کی طرح ہوتا ہے۔

1043Mishkaat-al-Masabih

زبان و عمل سے اذان کا جواب نہ دینے والے کی نماز کامل نہیں ہوتی

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ یُجِبْہُ فَلَا صَلَاۃَ لَہ، اِلَّا مِنْ عُذْرٍ۔ (رواہ الدار قطنی)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے اذان سنی اور اس کا جواب نہ دیا تو اس کی نماز ( کامل یا قبول نہیں ہوتی مگر کسی عذر کی وجہ سے (ایسا کیا تو مضائقہ نہیں۔ (دار قطنی) تشریح اذان کا جواب دینا ایک تو زبان سے ہوتا ہے جیسے موزن کلمات اذان کہے تو سننے والا ان کلمات کو دہرائے اور ایک جواب عمل سے ہوتا ہے چناچہ جو آدمی مؤذن کی اذان سن کر مسجد میں جماعت سے نماز پڑھنے کے لئے آتا ہے وہ اپنے عمل سے مؤذن کی اذان کا جواب دیتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زبان و عمل دونوں کے جواب پر نماز کی قبولیت اور نماز کی تکمیل موقوف ہے یعنی جس آدمی نے اذان سن کر اس کا جواب نہ تو زبان سے دیا اور نہ مسجد میں آکر عمل سے دیا تو اس کی نماز پائے تکمیل اور باب قبولیت کو نہیں پہنچتی اتنی بات سمجھ لیجئے کہ اصل جواب عمل یعنی مسجد میں آنا ہی ہے اور اس کی زیادہ تاکید ہے۔

1044Mishkaat-al-Masabih

نابینا آدمی کو بھی جماعت نہ چھوڑنی چاہیے

وَعَنْ عَبْدِاﷲِ ابْنِ اُمِّ مَکْتُوْمٍ قَالَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ اِنَّ الْمَدِیْنَۃَ کَثِیْرَۃُ الْھَوَّامِ وَالسِّبَاعِ وَاَنَا ضَرِیْرُ الْبَصَرِ فَھَلْ تَجِدُلِی مِنْ رُخْصَۃٍ فَقَالَ ھَلْ تَسْمَعُ حَیَّ عَلٰی الصَّلٰوۃِ حَیَّ عَلَے الْفَلَاحِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَحَیَّ ھَلًا وَلَمْ یُرخِّصْ۔ (رواہ ابوداؤد و النسائی )

اور حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول! مدینہ میں موذی جانور اور درندے بہت ہیں اور میں نابینا ہوں (اس عذر کی وجہ سے) کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں جماعت میں نہ آؤں اور اپنی نماز میں گھر ہی پڑھ لوں) رسول اللہ ﷺ نے (یہ سن) کر فرمایا کیا تم حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح سنتے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! فرمایا جماعت میں آیا کرو اور انہیں جماعت چھوڑنے کی اجازت نہیں دی۔ (ابودارؤد، سنن نسائی) تشریح رسول اللہ ﷺ نے خاص طور پر حی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح کا ذکر کیا کیونکہ ان الفاظ میں نماز کی طرف بلانا اور ترغیب ہے۔

1045Mishkaat-al-Masabih

نابینا آدمی کو بھی جماعت نہ چھوڑنی چاہیے

وَعَنْ اُمِّ الدَّرْدَآئِص قَالَتْ دَخَلَ عَلَیَّ اَبُوْ الدَّرْدَآءِ وَھُوَ مُغْضِبٌ فَقُلْتُ مَا اَغْضَبَکَ قَالَ وَاللّٰہِ مَا اَعْرِفُ مِنْ اَمْرِ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم شَےْئًا اِلَّا اَنَّھُمْ ےُصَلُّوْنَ جَمِےْعًا۔

اور حضرت ام درداء ؓ فرماتی ہیں کہ (ایک روز میرے خاوند) حضرت ابودرد اء ؓ میرے پاس غصے میں بھرے بھرے ہوئے آئے (ان کی حالت دیکھ کر) میں نے پوچھا کہ کس چیز نے آپ کو غضبناک بنایا؟ انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم! سرور کونین ﷺ کی امت کے بارے میں (پہلی جیسی) ایک یہی بات جانتا تھا کہ وہ جماعت سے نماز پڑھتے ہیں مگر ( اب اسے بھی چھوڑ دیتے ہیں)۔ (صحیح البخاری )

1046Mishkaat-al-Masabih

فجر کی نماز جماعت سے پڑھنا رات بھر عبادت کرنے سے بہتر ہے

وَعَنْ اَبِی بَکْرِ بْنِ سُلَیْمَانَ بْنِ اَبِیْ حَثْمَۃَ قَالَ اِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَدَ سُلَیْمَانَ بْنَ اَبِی حَثْمَۃَ فِی صَلَاۃِ الصُّبْحِ وَاِنَّ عُمَرَ غَدَا اِلَے السُّوْقِ وَ مَسْکَنُ سُلَیْمَانَ بَیْنَ الْمَسْجِدِ وَالسُّوْقِ فَمَرَّ عَلَی الشِّفَاء اُمِّ سُلَیْمَانَ فَقَالَ لَھَا لَمْ اَر سُلَیْمَانَ فِی الصُّبْحِ فَقَالَتْ اِنَّہ، بَاتَ یُصَلِّی فَغَلَبَتْہُ عَیْنَاہُ فَقَالَ عُمَرَ لَانْ اَشْھَدَ صَلَاۃَ الصُّبْحِ فِیْ جَمَاعَۃٍ اَحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ اَقُوْمَ لَیْلَۃً ۔ (رواہ مالک)

اور حضرت ابوبکر ابن سلیمان ابن ابی حثمہ فرماتے ہیں کہ (ایک روز) حضرت عمر فاروق نے فجر کی نماز میں ( میرے والد) حضرت سلیمان ابن ابی حثمہ کو نہیں پایا۔ حضرت عمر جب صبح کو بازار جانے لگے تو سلیمان کا مکان چونکہ مسجد اور بازار کے درمیان تھا اس لئے وہ سلیمان کی والدہ شفاء کے پاس گئے اور ان سے پوچھا کہ (کیا بات ہے) آج میں نے سلیمان کو فجر کی نماز میں نہیں دیکھا؟ سلیمان کی والدہ کہنے لگیں (کہ بات یہ ہوئی) کہ سلیمان نے آج پوری رات نماز پڑھنے میں گزاری اور (صبح ہوتے ہوتے) ان کی آنکھ لگ گئی (اس لئے وہ نماز فجر میں حاضر نہ ہو سکے، حضرت عمر ؓ نے فرمایا میں صبح کی نماز جماعت سے پڑھ لینا رات بھر (عبادت کے لئے) کھڑے رہنے سے بہتر سمجھتا ہوں۔ (مالک) تشریح اس حدیث سے نماز فجر با جماعت پڑھنے کی اہمیت اور فضیلت کا اندازہ لگائیے کہ حضرت سلیمان ؓ رات بھر عبادت الٰہی میں مصروف رہے اور نماز پڑھتے رہے مگر صبح ہوتے ہوتے آنکھ لگ جانے کی وجہ سے چونکہ وہ فجر کی جماعت میں شریک نہ ہو سکے تو حضرت عمر ؓ نے ان کی والدہ سے فرمایا کہ میرے نزدیک یہ افضل نہیں ہے کہ رات بھر عبادت کی جائے مگر فجر کی جماعت چھوڑ دی جائے اگر کوئی آدمی رات بھر عبادت الٰہی میں مشغول رہنے کے باوجود فجر کی جماعت میں شامل ہوتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس سے افضل کوئی بات ہی نہیں ہے۔ مگر رات بھر عبادت خداوندی میں مصروف رہنے اور پھر بعد میں بتقاضائے بشریت آنکھ وغیرہ لگ جانے کی وجہ سے فجر کی جماعت ترک ہوجائے تو میں اسے اچھا نہیں سمجھتا۔ یہ بہتر ہے کہ رات بھر آرام کیا جائے اور فجر کی جماعت میں پابندی سے شرکت کی جائے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رات کو عبادت کرنے اور تہجد کی نماز پڑھنے سے فجر کی جماعت میں شریک ہونا زیادہ فضیلت کی بات ہے۔

1047Mishkaat-al-Masabih

دو آدمیوں کی جماعت ہوجاتی ہے۔

وَعَنْ اَبِی مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِثْنَانِ فَمَا فَوْقَھُمَا جَمَاعَۃٌ۔ (رواہ ابن ماجۃ)

اور حضرت ابوموسی اشعری ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا دو آدمی ہوں یا دو سے زیادہ ہوں، ان سے جماعت ( ہوسکتی) ہے۔ (سنن ابن ماجہ) تشریح مطلب یہ ہے کہ جماعت کے انعقاد کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ بہت بڑی تعداد میں لوگ ہوں یا کم سے کم تین آدمیوں کا ہونا ضروری ہے بلکہ اگر صرف دو آدمی ہوں اور ان میں سے ایک امام بن جائے اور دوسرا مقتدی، اس طرح دونوں مل کر نماز پڑھ لیں تو جماعت ہوجاتی ہے اور دونوں کو جماعت کا ثواب مل جاتا ہے۔

1048Mishkaat-al-Masabih

عورتوں کے مسجد جانے کا مسئلہ

وَعَنْ بِلَالِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَص عَنْ اَبِےْہِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا تَمْنَعُوا النِّسَاءَ حُظُوْظَھُنَّ مِنَ الْمَسَاجِدِاِذَااسْتَاذَنَّکُمْ فَقَالَ بِلَالٌ وَّاللّٰہِ لَنَمْنَعُھُنَّ فَقَالَ لَہُ عَبْدُاللّٰہِ اَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَتَقُوْلُ اَنْتَ لَنَمْنَعُھُنَّ وَفِیْ رِوَاےَۃِ سَالِمٍ عَنْ اَبِےْہِ قَالَ فَاَقْبَلَ عَلَےْہِ عَبْدُاللّٰہِ فَسَبَّہُ سَبًّا مَّا سَمِعْتُہُ مِثْلَہُ قَطُّ وَقَالَ اُخْبِرُکَ عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَتَقُوْلُ وَاللّٰہ لَنَمْنَعُھُنَّ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت بلال ابن عبداللہ اپنے والد مکرم (حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے (ایک روز) کہا کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا کہ جب عورتیں تم سے مسجد جانے کی اجازت مانگیں تو تم انہیں (روک کر) ان کو مساجد کے حصے سے محروم نہ کرو (یعنی مسجد میں جانے کا ثواب انہیں ملتا ہے تو انہیں مسجدوں میں جانے سے روک کر اس ثواب کے حاصل کرنے سے نہ روکو) بلال نے کہا کہ اللہ کی قسم ہم تو انہیں ضرور منع کریں گے حضرت عبداللہ نے بلال سے فرمایا کہ میں تو کہہ رہا ہوں کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے اور تم کہتے ہو کہ تم تو انہیں ضرور منع کرو گے۔ ایک دوسری روایت میں حضرت سالم نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ پھر (اس کے بعد) حضرت عبداللہ بلال کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں اس قدر برا بھلا کہا کہ میں نے تو کبھی حضرت عبداللہ کی زبان سے انہیں اس قدر برا بھلا کہتے نہیں سنا اور پھر کہا کہ میں تو کہتا ہوں یہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اور تم کہتے ہو کہ ہم انہیں ضرور منع کریں گے۔ تشریح حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ بلال سے اس لئے ناراض ہوئے اور انہیں برا بھلا کہا کہ انہوں نے بظاہر ایسے الفاظ سے جواب دیا جن سے اپنی رائے کے ساتھ حدیث کا مقابلہ کرنا معلوم ہوتا تھا۔ اگر بلال اس نزاکت کا احساس دلاتے ہوئے کہتے کہ اب اس زمانہ میں عورتوں کا مسجد میں جانا مناسب نہیں ہے تو حضرت عبداللہ ناراض نہ ہوتے، یہی وجہ ہے کہ علماء نے ماحول کی نزاکت کے پیش نظر عورتوں کو مسجد میں جانے سے منع کیا ہے چناچہ ہدایہ میں لکھا ہے کہ ہمارے زمانے میں امام عورتوں کی نیت نہ کرے۔ اس سلسلے میں پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ موجودہ دور کے تمام علماء کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اب اس زمانہ میں جب کہ فتنہ و شر کا دور ہے عورتوں کے لئے مسجد میں جانا مکروہ ہے۔

1049Mishkaat-al-Masabih

عورتوں کے مسجد جانے کا مسئلہ

وَعَنْ مُجَاھِدٍ عَنْ عَبْدِاﷲِ عُمَرَاَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لَا یَمْنَعَنَّ رَجُلٌ اَھْلَہ، اَنْ یَأتُو الْمَسَاجِدَ فَقَالَ ابْنٌ لِعَبْدِاﷲِ بْنِ عُمَرَ فَاِنَّا نَمْنَعُھُنَّ فَقَالَ عَبْدُاﷲِ اُحَدِّثُکَ عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم وَتَقُوْلُ ھٰذَا قَالَ فَمَا کَلَّمَہ، عَبْدُاﷲِ حَتّٰی مَاتَ۔ (رواہ احمد بن حنبل)

حضرت مجاہد حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا کہ کوئی آدمی اپنے اہل (یعنی اپنی بیوی) کو مساجد میں جانے سے منع نہ کرے۔ (یہ سن کر) حضرت عبداللہ ؓ کے ایک صاحبزداے (بلال) نے کہا کہ ہم تو انہیں منع کریں گے۔ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ نے ان سے فرمایا کہ میں تو رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم یہ کہہ رہے ہو۔ راوی کا بیان ہے کہ اس کے بعد حضرت عبداللہ ؓ نے اپنے بیٹے سے (آخر عمر تک) گفتگو نہیں کی یہاں تک کہ ان کی وفات ہوگئی۔ (مسند احمد بن حنبل) تشریح اس حدیث کی وضاحت وہی ہے جو پہلے کی جا چکی ہے کہ اپنے صاحبزادے سے حضرت عبداللہ ؓ کی اس قدر شدید ناراضگی کہ آخر عمر تک ان سے گفتگو نہیں کی محض اس بناء پر تھی کہ ان کے صاحبزادے نے اپنے مافی الضمیر کو اس انداز سے ظاہر کیا جو حدیث نبوی کے مقابل معلوم ہوتا تھا۔ بہر حال اس حدیث سے اتنی بات معلوم ہوئی کہ اگر کسی آدمی کی اولاد سنت کو ترک کر دے یا سنت کے خلاف اپنی رائے کو غلط انداز میں پیش کرے تو اس سے ترک کلام کیا جاسکتا ہے۔ اس باب کی چونکہ یہ آخری حدیث ہے اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جماعت کے حاصل کرنے میں بعض طریقے اور مسائل جن کا جاننا ضروری ہے نقل کردئیے جائیں۔

1050Mishkaat-al-Masabih

جماعت کے بعض مسائل

اگر کوئی آدمی اپنے محلہ یا مکان کے قریب مسجد میں ایسے وقت پر پہنچا کہ وہاں جماعت ہوچکی تھی تو اس کے لئے مستحب ہے کہ دوسری مسجد میں دوبارہ جماعت کے لئے جائے اور اسے یہ بھی اختیار ہے کہ اپنے گھر واپس آکر آدمیوں کو جمع کر کے جماعت کرلے۔ اگر کوئی آدمی نفل نماز شروع کرچکا ہو اور فرض جماعت ہونے لگے تو اس کو چاہیے کہ دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دے اگرچہ چار رکعت نفل کی نیت کی ہو۔ یہی حکم ظہر اور جمعہ کی سنت موکدہ کا ہے کہ اگر شروع کرچکا ہو اور فرض ہونے لگے تو دوہی رکعت پڑھ کر سلام پھیر دے اور پھر ان سنتوں کو فرض کے بعد پڑھ لے۔ ظہر کی سنتیں ان سنتوں کے بعد پڑھی جائیں جو فرض کے بعد پڑھی جاتی ہیں۔ اگر فرض نماز ہو رہی ہو تو پھر سنتیں وغیرہ شروع نہ کی جائیں بشرطیکہ کسی رکعت کے چلے جانے کا خوف ہو ہاں اگر یقین یا گمان غالب ہو کہ کوئی رکعت نہ جانے پائے گی تو پڑھ لے۔ مثلاً ظہر کے وقت جب فرض شروع ہوجائے اور خوف ہو کہ سنت پڑھنے سے کوئی رکعت جاتی رہے گی تو پھر موکدہ سنتیں جو فرض سے پہلے پڑھی جاتی ہیں چھوڑ دے اور فرض کے بعد دو رکعت سنت موکدہ پڑھ کر ان سنتوں کو پڑھ لے مگر فجر کی سنتیں چونکہ زیادہ موکدہ ہیں لہٰذا ان کے لئے حکم ہے کہ اگر فرض شروع ہوچکا ہو تب بھی ادا کرلی جائیں، بشر طی کہ قعدہ اخیرہ مل جانے کی امید ہو اور اگر قعدہ اخیرہ کے بھی نہ ملنے کا خوف ہو تو پھر نہ پڑھے۔ ( ماخودذاز علم الفقہ ١٢)۔ اگر یہ خوف ہو کہ فجر کی سنتیں اگر نماز کے سنن و مستحبات وغیرہ کی پابندی سے ادا کی جائیں تو جماعت نہ ملے گی تو ایسی حالت میں چاہیے کہ صرف فرائض اور واجبات پر اختصاد کرے اور سنن وغیرہ چھوڑ دے۔ فرض شروع ہوجانے کی صورت میں جو سنتیں پڑھی جائیں خواہ فجر کی ہوں یا کسی اور وقت کی تو وہ ایسے مقام پر پڑھی جائیں جو مسجد سے علیحدہ ہو اس لئے کہ جہاں فرض نماز ہوتی ہو تو پھر کوئی دوسری نماز وہاں پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔ اور اگر کوئی ایسی جگہ نہ ملے تو صف سے علیحدہ مسجد کے کسی گوشے میں پڑھ لے اور یہ بھی نہ ہو تو نہ پڑھے۔ اگر جماعت کا قعدہ مل جائے اور رکعتیں نہ ملیں تب بھی جماعت کا ثواب مل جائے گا اگرچہ اصطلاح فقہاء میں اس کو جماعت کی نماز نہیں کہتے۔ جماعت سے ادا کرنا جب ہی کہا جائے گا کہ جب کل رکعتیں مل جائیں۔ یا اکثر رکعتیں مل جائیں مثلاً چار رکعت والی نماز کی تین رکعت مل جائیں یا تین رکعت والی نماز کی دو رکعت مل جائیں اگرچہ بعض فقہا کے نزدیک جب تک کل رکعتیں نہ ملیں جماعت میں شمار نہیں ہوتا۔ جس رکعت کا رکوع امام کے ساتھ مل جائے گا تو سمجھا جائے کہ وہ رکعت مل گئی۔ ہاں اگر رکوع نہ ملے تو پھر اس رکعت کا شمار ملنے میں نہ ہوگا۔

1051Mishkaat-al-Masabih

صفوں کے برابر کرنے کا بیان

صفوں کو برابر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب لوگ نماز کے لئے جماعت میں کھڑے ہوں تو صف بندی اس طرح کریں کہ آپس میں بالکل مل کر کھڑے ہوں تاکہ ایک دوسرے کے درمیان خلا نہ رہے اور آگے پیچھے ہٹ کر کھڑے نہ ہوں بلکہ برابر کھڑے رہیں اگر کئی صفیں ہوں تو وہ اس طرح قائم کی جائیں کہ ایک دوسری صف کے درمیان شروع سے لے کر آخر تک یکساں فرق رہے ایسا نہ ہو کہ کسی جگہ سے تو دونوں صفوں کا درمیانی فاصلہ کم ہو اور کسی جگہ سے زیادہ۔ اس باب کے تحت جو احادیث نقل کی جائیں گی ان سے صفوں کو برابر کرنے کی اہمیت و تاکید معلوم ہوگی اور صف بندی کے جو مسائل و احکام ہیں وہ واضح ہوں گے۔

1052Mishkaat-al-Masabih

صف برابر رکھنے کا حکم

عَنِ النُّعْمَانِِ بْنِ بَشِےْرٍص قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےُسَوِّیْ صُفُوْفَنَا حَتّٰی کَاَنَّمَا ےُسَوِّیْ بِھَا الْقِدَاحَ حَتّٰی رَاٰی اَنَّا قَدْ عَقَلْنَا عَنْہُ ثُمَّ خَرَجَ ےَوْمًا فَقَامَ حَتّٰی کَادَ اَنْ ےُّکَبِّرَ فَرَاٰی رَجُلًا بَادِےًا صَدْرُہُ مِنَ الصَّفِّ فَقَالَ عِبَادَاللّٰہِ لَتُسَوُّنَّ صُفُوْفَکُمْ اَوْلَےُخَالِفَنَّّ اللّٰہُ بَےْنَ وُجُوْھِکُمْ۔(صحیح مسلم)

حضرت نعمان ابن بشیر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہماری صفیں (اس طرح) برابر (سیدھی) کیا کرتے تھے کہ گویا تیر بھی ان صفوں سے سیدھا کیا جاسکتا تھا یہاں تک کہ ہم بھی آپ ﷺ سے (صفوں کی برابر کرنے کی اہمیت) سمجھ گئے۔ ایک دن رسول اللہ ﷺ (مکان سے نکل کر) تشریف لائے اور (نماز کے لئے) کھڑے ہوگئے اور تکبیر (تحریمہ) کہنے ہی کو تھے کہ ایک آدمی کا سینہ صف سے کچھ نکلا ہوا ہے آپ ﷺ نے دیکھ لیا چناچہ (یہ دیکھ کر) آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے اللہ کے بندو! اپنی صفیں سیدھی کردو ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان اختلاف ڈال دے گا۔ (صحیح مسلم) تشریح عرب میں تیر کی ہمواری اور سیدھا پن اس قدر مشہور تھا کہ دوسری چیزوں کے سیدھے پن اور ہمواری کو بھی تیر سے تشبیہ دیا کرتے تھے اس طرح گویا تیر بھی ان صفوں سے سیدھا کیا جاتا تھا۔ یہ جملہ کسی چیز کی ہمواری اور سیدھے پن کے لئے مثل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ تیروں کے ذریعہ دوسری چیزوں کو سیدھا اور برابر کرتے ہیں اور یہاں یہ مبالغے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے کہ صفیں اس قدر سیدھی اور ہموار ہوتی تھیں کہ تیر بھی ان کے ذریعہ سیدھے کئے جاسکتے تھے، بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یہ عبارت اپنے عکس پر محمول ہے لہٰذا اس کا مطب یہ ہے کہ گویا صفیں تیروں کے ذریعہ برابر کرتے تھے حدیث کے آخری جملے کا مطلب مولانا مظہر نے یہ بیان کیا ہے کہ ظاہری ادب و فرمانبرداری نہیں کرو گے تو تمہاری یہ ظاہری نافرمانی تمہارے باطن یعنی دلوں کے اختلاف کی طرف تمہیں پہنچائے گی۔ جو آگے چل کر آپس کے بغض وعناد اور کدورت و عداوت کا سبب بن جائے گی اور پھر قلوب کے یہ اختلاف اور یہ باطنی بری خصلتیں تمہاری ظاہری زندگی میں بھی اس طرح سرایت کر جائیں گی کہ تمہارے درمیان بغض و عداوت پیدا ہوجائے گی چناچہ تم میں سے ہر آدمی ایک دوسرے سے اعراض کرے گا اور کسی کے دل میں کسی کے لئے ہمدردی کا کوئی جذبہ باقی نہ رہ جائے گا بہر حال حدیث کا حاصل یہ ہے کہ صفوں کو سیدھا اور ہموار رکھنے کی بڑی اہمیت ہے جب جماعت کھڑی ہو تو ہر آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو صف کے برابر کرلے اور ایک دوسرے سے آگے پیچھے نہ کھڑا ہونا چاہیے، اگر صف سیدھا کرنے کے اس حکم کی پیروی نہیں کی جائے گی تو جان لو کہ رب قدوس اس کی سزا تمہیں یہ دے گا کہ تمہارے درمیان بغض و نفرت پیدا ہوجائے گی جس سے تمہارے معاشرتی و سماجی امن و سکون کا شیرازہ بکھر کر رہ جائے گا۔

1053Mishkaat-al-Masabih

جب تک ایک صف پوری نہ ہو دوسری صف قائم نہ کی جائے

وَعَنْ اَنَسٍص قَالَ اُقِےْمَتِ الصَّلٰوۃُ فَاَقْبَلَ عَلَےْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بِوَجْھِہٖ فَقَالَ اَقِےْمُوا صُفُوْفَکُمْ وَتَرَآصُّوْا فَاِنِّیْ اَرٰکُمْ مِّنْ وَّرَآءِ ظَھْرِیْ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَفِی الْمُتَّفَقِ عَلَےْہِ قَالَ اَتِمُّوا الصُّفُوْفَ فَاِنِّیْ اَرٰاکُمْ مِّنْ وَّرَآءِ ظَھْرِیْ۔

اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک روز جب) نماز کھڑی ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا چہرہ مبارک ہماری طرف متوجہ کرکے فرمایا کہ اپنی صفیں سیدھی کرو اور آپس میں مل کر کھڑے ہو، بیشک میں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی تمہیں دیکھ سکتا ہوں (یعنی نماز کے حالت میں مکاشفے کے ذریعے نمازیوں کے احوال پر مطلع رہتا ہوں) اس روایت کو صحیح البخاری نے نقل کیا اور بخاری و مسلم دونوں کی روایت یہ ہے کہ ) (رسول اللہ نے فرمایا صفوں کو پورا کرلیا کرو، میں تم کو اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔ تشریح دوسری روایت کے الفاظ صفوں کو پورا کرلیا کرو کا مطلب یہ ہے کہ جب تک ایک صف پوری نہ ہوجائے دوسری صف قائم نہ کرو ایسا نہ ہونا چاہیے کہ آگے صف میں جگہ خالی ہو اور اس میں مزید نمازیوں کے کھڑے ہونے کی گنجائش ہو لیکن اس کے باوجود پیچھے دوسری صف قائم کرلی جائے ایسا کرنا غلط ہے۔

1054Mishkaat-al-Masabih

صف برابر رکھنا نماز کی تکمیل میں سے ہے

وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم سَوُّوْا صُفُوْفَکُمْ فَاِنَّ تَسْوِےَۃَ الصُّفُوْفِ مِنْ اِقَامَۃِ الصَّلٰوۃِ مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ اِلَّا اَنَّ عِنْدَ مُسْلِمٍ مِنْ تَمَامِ الصَّلٰوۃِ۔

اور حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنی صفوں کو برابر رکھا کرو کیونکہ صفوں کو برابر رکھنا نماز کی تکمیل میں ہے۔ (صحیح البخاری) مسلم کی روایت من اقامۃ الصلوۃ کی بجائے من تمام الصلوۃ کے الفاط ہیں) تشریح قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے (اقیمو الصلوۃ یعنی) نماز تعدیل ارکان، سنن و آداب کی رعایت کے ساتھ پڑھو لہٰذا یہاں حدیث میں الفاظ اقامۃ الصلوۃ سے اسی آیت کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ صفوں کو برابر کرنا بھی اقیموا الصلاۃ کے حکم میں داخل ہے۔

1055Mishkaat-al-Masabih

صف برابر نہ رکھنے سے قلوب میں اختلاف پیدا ہوجاتا ہے

وعَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدِ نِ الْاَنْصَارِیِّ ص قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَمْسَحُ مَنَاکِبَنَا فِی الصَّلٰوۃِ وَےَقُوْلُ اسْتَوُوْا وَلَا تَخْتَلِفُوْا فَتَخْتَلِفَ قُلُوْبُکُمْ لِےَلِنِیْ مِنْکُمْ اُوْلُوا الْاَحْلَامِ وَالنُّھٰی ثُمَّ الَّذِےْنَ ےَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِےْنَ ےَلُوْنَھُمْ قَالَ اَبُوْ مَسْعُوْدٍ فَاَنْتُمُ الْےَوْمَ اَشَدُّ اِخْتِلَافًا۔(صحیح مسلم)

اور حضرت ابومسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (جب نماز پڑھنے کا ارادہ فرماتے تو) ہمارے کندھوں پر اپنا دست مبارک رکھ کر فرماتے تھے کہ برابر رہو مختلف (یعنی آگے پیچھے کھڑے) نہ ہو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہوجائے گا اور تم میں سے جو لوگ عاقل و بالغ ہوں وہ میرے قریب رہیں پھر وہ لوگ جو ان کے قریب ہوں اور پھر وہ لوگ جو ان کے قریب ہوں۔ حضرت ابومسعود نے (لوگوں کے سامنے یہ حدیث بیان کر کے) فرمایا کہ آج تم لوگوں میں اختلاف بہت زیادہ ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح مختلف نہ ہو کا مطلب یہ ہے کہ جب صف بندی کر کے نماز کے لئے کھڑے ہو تو اس بات کا بطور خاص خیال رکھو کہ سب کے بدن برابر رہیں ایک دوسرے سے آگے پیچھے ہو کر کھڑے نہ ہو اور اپنے بدن کا کوئی عضو صف سے باہر نہ نکالو اور اگر تم لوگ صف میں اپنے بدن کے ظاہری اعضاء کو غیر برابر اور ناہموار رکھو گے تو اس کا اثر باطنی طور پر یہ ہوگا کہ تمہارے قلوب میں اختلاف پیدا ہوجائے گا کیونکہ بدن کے ظاہری اعضاء اور قلب کے درمیان بڑا لطیف تعلق ہے اور ایک دوسرے کی تاثیر بڑی عجیب ہے اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ جیسے ظاہری اعضاء کی ٹھنڈک باطنی اعضاء پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اور باطنی اعضاء کی ٹھنڈک ظاہری اعضاء کو متاثر کرتی ہے اسی طرح صف میں ظاہری بدن کو غیر برابر رکھنا قلوب پر اثر انداز ہوتا ہے جس کا خاصہ ہے کہ دلوں میں اختلاف پیدا ہوتا ہے۔ صف کی ترتیب حدیث کے دوسرے جزو میں صف کی ترتیب یہ بتائی گئی ہے کہ میرے قریب وہ لوگ کھڑے ہوں جو صاحب عقل و فہم اور بالغ ہوں، یعنی پہلی صف میں ان لوگوں کو کھڑا ہونا چاہیے جو بالغ اور عقل و فہم کے مالک ہوں تاکہ وہ نماز کی کیفیت اور اس کے احکام دیکھیں اور یاد کریں اور پھر امت کے دوسرے لوگوں کو ان کی تعلیم دیں، پھر دوسری صف میں وہ لوگ کھڑے ہوں جو ان کے قریب ہوں یعنی مراہق (جو بالغ ہونے کے قریب ہوں) اور لڑکے اور پھر تیسری صف میں وہ کھڑے ہوں جو ان کے قریب ہوں یعنی مخنث (جن میں مرد و عورت دونوں کی علامتیں پائی جائیں) پھر ان کے بعد آخر میں عورتوں کی صف قائم کی جائے یہاں حدیث میں عورتوں کی صف کے بارے میں ذکر نہیں کیا گیا ہے کیونکہ یہ متعین ہے آخر میں عورتوں ہی کی صف ہوتی ہے۔ آخر میں حضرت ابومسعود ؓ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ آج تمہارے اندر افتراق و انتشار پیدا ہوگیا ہے اور آپس میں تم لوگ جو اتنا اختلاف کرتے ہو نیز فتنوں کی جو بھر مار ہو رہی ہے ان سب کی وجہ یہ ہے کہ تم لوگ اگر ان فتنوں اور اختلاف سے بچنا چاہتے ہو تو پہلے اپنے ظاہری اختلاف کو ختم کر ڈالو یعنی صفوں کو برابر رکھو پھر اللہ تعالیٰ تمہارے باطنی اختلاف کو بھی ختم کر دے گا۔

1056Mishkaat-al-Masabih

مساجد میں شور شرابہ نہیں مچانا چاہیے

وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لِےَلَنِیْ مِنْکُمْ اُوْلُوالْاَحْلَامِ وَالنُّھٰی ثُمَّ الَّذِےْنَ ےَلُوْنَھُمْ ثَلٰثًا وَّاِےَّاکُمْ وَھَےْشَاتِ الْاَسْوَاقِ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو لوگ صاحب عقل اور بالغ ہوں وہ (نماز میں) میرے قریب کھڑے ہوں پھر وہ لوگ کھڑے ہوں جو ان کے قریب ہوں۔ یہ الفاظ آپ ﷺ نے تین بار فرمائے اور تم (مساجد میں) بازاروں کی طرح شور شرابہ مچانے سے بچو۔ (صحیح مسلم) تشریح پہلی حدیث میں عورتوں کی صف کا ذکر نہ پیش نظر تھا اس لئے وہاں ثم الذین یلونھم کے الفاظ دو مرتبہ ذکر فرمائے گئے اور یہاں چونکہ عورتوں کی صف کا ذکر بھی پیش نظر تھا اس لئے یہ الفاظ تین مرتبہ فرمائے گئے اس طرح صف کے چار درجے ہوگئے، یعنی پہلی صف میں بالغ اور صاحب عقل و فہم لوگ کھڑے ہوں اس کے بعد کی صفوں میں مراہق اور لڑکے کھڑے ہوں۔ اس کے بعد صفوں میں مخنث کھڑے ہوں اور پھر آخر میں عورتوں کی صف قائم کی جائے۔

1057Mishkaat-al-Masabih

مساجد میں شور شرابہ نہیں مچانا چاہیے

وَعَنْ اَبِیْ سَعِےْدِ نِ الْخُدْرِیِّ قَالَ رَاٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فِیْ اَصْحَابِہٖ تَاَخُّرًا فَقَالَ لَھُمْ تَقَدَّمُوْا وأَتَمُّوْا بِیْ وَلْےَاتَمَّ بِکُمْ مَنْ بَعْدَکُمْ لَاےَزَالُ قَوْمٌ ےَتَاَخَّرُوْنَ حَتّٰی ےُؤَخِّرَھُمُ اللّٰہُ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے (جب) دیکھا کہ صحابہ کرام (پہلی صف میں آنے میں) تاخیر کرتے ہیں تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ آگے بڑھو! اور میری اقتداء کر تاکہ وہ لوگ جو تمہارے پیچھے کھڑے ہیں وہ تمہاری اقتداء کریں (اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا) ایک جماعت ہمیشہ ( پہلی صف میں کھڑے ہونے میں) تاخیر کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بھی (اپنا فضل اور رحمت بھی) انہیں پیچھے ڈال دے گا۔ (صحیح مسلم) تشریح رسول اللہ ﷺ نے جب صحابہ کرام کو دیکھا کہ وہ پہلی صف میں کھڑے ہونے کی کوشش نہیں کرتے تو ان سے فرمایا کہ آگے بڑھو اور پہلی صف میں کھڑے ہو کر میری اقتداء کرو یعنی پیچھے مجھ سے قریب ہو کر کھڑے رہو تاکہ میرے افعال دیکھتے رہو اسی طرح جو لوگ تم سے پیچھے کھڑے ہوں وہ تمہاری متابعت کریں کیونکہ پچھلی صف کے لوگ اگلی صف کے لوگوں کی متابعت بایں طور کرتے ہیں کہ نماز کے جو افعال اگلی صف والے کرتے ہیں وہی افعال پچھلی صف والے کرتے رہتے ہیں لہٰذا یہ متابعت اور اقتداء ظاہر کے اعتبار سے ہے ورنہ تو حقیقت میں سب نمازی امام ہی کے تابع ہوتے ہیں۔

1058Mishkaat-al-Masabih

صفیں پوری اور برابر رکھنی چاہئیں

وَعَنْ جَابِرِبْنِ سَمُرَۃَص قَالَ خَرَجَ عَلَےْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَرَاٰنَا حَلَقًا فَقَالَ مَالِیْ اَرٰکُمْ عِزِےْنَ ثُمَّ خَرَجَ عَلَےْنَا فَقَالَ اَلَا تَصُفُّوْنَ کَمَا تَصُفُّ الْمَلٰئِکَۃُ عِنْدَ رَبِّھَا فَقُلْنَا ےَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَکَےْفَ تَصُفُّ الْمَلٰئِکَۃُ عِنْدَ رَبِّھَا قَالَ ےُتِمُّوْنَ الصُّفُوْفَ الْاُوْلٰی وَےَتَرَآصُّوْنَ فِی الصَّفِّ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت جابر ابن سمرۃ ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک روز) رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان تشریف لائے اور ہمیں مختلف حلقوں میں بیٹھے دیکھ کر فرمایا کہ کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں الگ الگ جماعتوں کی صورت میں (بیٹھے ہوئے) دیکھ رہا ہوں (یعنی اس طرح الگ الگ جماعت کر کے نہ بیٹھا کرو کیونکہ یہ نا اتفاقی اور انتشار کی علامت ہے) پھر اسی طرح (ایک روز) رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان تشریف لائے اور فرمایا کہ تم لوگ (نماز میں) اس طرح صف کیوں نہیں باندھتے جس طرح فرشتے اللہ کے حضور میں (بندگی کے لئے کھڑے ہونے کے واسطے) صف باندھتے ہیں۔ ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ فرشتے اپنے پروردگار کے حضور میں کس طرف صف باندھتے ہیں؟ فرمایا پہلی صفوں کو پوری کرتے ہیں اور صف میں بالکل (برابر، برابر) کھڑے ہوتے ہیں۔ (صحیح مسلم)

1059Mishkaat-al-Masabih

مرد اور عورت کی بہترین صف کون سی ہے؟

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم خَےْرُ صُفُوْفِ الرِّجَالِ اَوَّلُھَا وَشَرُّھَا اٰخِرُھَا وَخَےْرُ صُفُوْفِ النِّسَآءِ اٰخِرُھَا وَشَرُّھَا اَوَّلُھَا۔(صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرۃ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مردوں کی بہترین صف پہلی صف ہے اور بد ترین صف پچھلی صف ہے عورتوں کی بہترین صف پچھلی صف ہے اور بدترین صف پہلی صف ہے۔ (صحیح مسلم) فائدہ بہترین سے مراد ثواب کی زیادتی ہے یعنی پہلی صف والے دوسری صف والوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ثواب کے حق دار ہوتے ہیں۔ مردوں کے لئے بہترین صف پہلی صف کو اس لئے قرار دیا گیا ہے کہ اس صورت میں وہ امام سے قریب ہوتے ہیں اور عورتوں سے دور اور پچھلی صف بدترین اس لئے ہوتی ہے کہ اس شکل میں امام سے دوری ہوجاتی ہے اور عورتوں سے نزدیکی۔ اس طرح عورتوں کے لئے پہلی صف اس لئے بدترین ہے کہ وہ پہلی صف میں کھڑے ہونے سے مردوں سے نزدیک ہوجاتی ہیں پچھلی صف ان کے لئے اس وجہ سے بہترین ہے کہ اس صورت میں وہ مردوں سے دور رہتی ہے۔ بہرحال حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ مردوں کو تو پہلی صف میں کھڑا ہونے کی کوشش کرنی چاہیے اور عورتوں کو آخری صف میں شامل ہونے کی سعی کرنی چاہیے۔

1060Mishkaat-al-Masabih

صفوں میں خلاء رکھنا چاہیے

عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَصُّوْاصُفُوْ فَکُمْ وَقَارِبُوْ بَیْنَھَا وَحَاذُوْ بِالْاَعْنَاقِ فَوَالَّذِیْ نَفْسِی بِیَدِہٖ اِنِّی لَاَرَیَ الشَّیْطَانَ یَدْخُلُ مِنْ خُلَلِ الصَّفِّ کَاَنَّھَا الْحَذَفُ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی صفیں ملی ہوئی رکھو (یعنی آپس میں خوب مل کر کھڑے ہو) اور صفوں کے درمیان قرب رکھو (یعنی آپس میں خوب مل کر کھڑے ہو) اور صفوں کے درمیان قرب رکھو (یعنی دو صفوں کے درمیان اس قدر فاصلہ نہ ہو کہ ایک صف اور کھڑی ہو سکے) نیز اپنی گردنیں برابر رکھو (یعنی صف میں تم میں سے کوئی بلند جگہ پر کھڑا نہ ہو بلکہ ہموار جگہ پر کھڑا ہو تاکہ سب کی گردنیں برابر رہیں) قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے میں شیطان کو بکری کے کالے بچے کی طرح تمہاری صفوں کی کشادگی میں گھستے دیکھتا ہوں۔ (ابوداؤد)

1061Mishkaat-al-Masabih

صفیں پوری کرو

وَعَنْ اَنَس قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَتِمُّو الصَّفَّ الْمُقَدَّمَ ثُمَّ الَّذِی یَلِیْہٖ فَمَا کَانَ مِنْ نَقْصٍ فَلْیَکُنْ فِی الصَّفِّ المُؤَخِّرِ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پہلی صف کو پورا کرو پھر جو اس کے قریب (یعنی اس کے بعد) ہو اسے پورا کرو اور صف میں جو کمی رہے تو وہ سب سے پچھلی صف میں ہونی چاہیے۔ (ابوداؤد)