نماز کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 11 · 527 hadiths · Page 19 of 27

1062Mishkaat-al-Masabih

پہلی صفوں کی فضیلت

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ اِنَّ اﷲَ وَمَلائِکَتَہ، یُصَلُّوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ یَلُوْنَ الصُّفُوْفَ الْاُوْلٰی وَمَا مِنْ خَطْوَۃٍ اَحَبَّ اِلَی اﷲِ مِنْ خَطْوَۃٍ یمشیھا یَصِلُ بِھَا صَفًّا۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت براء ابن عازب ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو لوگ پہلی صفوں کے قریب ہوتے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس قدم سے زیادہ محبوب کوئی قدم نہیں ہے جو چل کر صف میں ملے (یعنی اگر صف میں جگہ خالی رہ گئی ہو تو وہاں جا کر کھڑا ہوجائے)۔ (ابوداؤد) تشریح چونکہ دوسری صف کو بھی ان صفوں پر جو اس کے بعد ہوتی ہیں فضیلت حاصل ہے اس لئے جب رسول اللہ ﷺ نے پہلی صف کی بہت زیادہ فضیلت بیان فرمائی تو پہلی صفوں کی اور دوسری صف کی فضیلت کی طرف بھی اشارہ فرمایا۔

1063Mishkaat-al-Masabih

صف میں دائیں طرف کھڑا ہونا افضل ہے

وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ اﷲَ وَمَلا ئِکَتَہ، یُصَلُّوْنَ عَلٰی مَیَامِنِ الصُّفُوْفِ ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صفوں کے دائیں طرف والے لوگوں پر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں۔ (ابوداؤد) تشریح علماء نے لکھا ہے کہ صف میں امام کے دائیں طرف کھڑا ہونا خواہ امام سے دور ہی کیوں نہ ہو بائیں طرف کھڑے ہونے سے خواہ امام سے کتنا ہی نزدیک کیوں نہ ہو افضل ہے ہاں اگر صف میں بائیں طرف جگہ خالی ہو تو پھر صف کے دونوں جانب کو برابر کرنے کی پیش نظر بائیں طرف ہی کھڑا ہونا افضل ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ صفوں کو برابر کرنے کے بعد نماز شروع کرتے تھے

1064Mishkaat-al-Masabih

صف میں دائیں طرف کھڑا ہونا افضل ہے

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُسَوِّی صُفُوْفَنَا اِذَا اُقِیْمَتْ اِلَی الصَّلَاۃِ فَاِذَا اسْتَوَیْنَا کَبَّر۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت نعمان ابن بشیر ؓ فرماتے ہیں کہ جب ہم لوگ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو پہلے رسول اللہ ﷺ ہماری صفوں کو (زبان یا ہاتھ سے) برابر فرماتے چناچہ جب صفیں برابر ہوجاتیں تو آپ تکبیر تحریمہ کہتے۔ (ابوداؤد)

1065Mishkaat-al-Masabih

صف میں دائیں طرف کھڑا ہونا افضل ہے

وَعَنْ اَنَس قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ عَنْ یَمِیْنِہِ اِعْتَدِلُوْا اسَوُّوْا صُفُوْفَکُمْ وَعَنْ یَّسَارِہٖ اعْتَدِلُوْ سوُّوْا صُفُوْفَکُمْ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (جب نماز شروع کرتے تو پہلے) اپنے دائیں طرف (متوجہ ہو کر) فرمایا کرتے تھے سیدھے کھڑے ہوجاؤ اور اپنی صفیں برابر کرلو پھر بائیں (بھی متوجہ ہو کر یہی) فرماتے تھے کہ سیدھے کھڑے ہوجاؤ اور اپنی صفیں برابر کرلو۔ (ابوداؤد)

1066Mishkaat-al-Masabih

نماز میں نرم کندے والے بہتر ہیں

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خِیَارُکُمْ اَلْیَنَکُمْ مَنَا کِبَ فِی الصَّلَاۃِ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے بہترین وہ لوگ ہیں جن کے کندھے نماز میں بہت نرم رہیں۔ (ابوداؤد) تشریح نماز میں نرم کندھے کی توضیح و فائدے میں علماء نے بہت کچھ لکھا ہے اس کے کئی معنی ہیں چناچہ اس کے ایک معنے تو یہ ہیں کہ اگر کوئی آدمی جماعت میں اس طرح کھڑا ہو کہ صف برابر نہ ہوئی ہو اور پیچھے سے آکر کوئی آدمی اس کا کندھا پکڑ کے اسے سیدھا کھڑا ہوجانے کے لئے کہے تو وہ ضدوہٹ دھرمی اور تکبر نہ کرے بلکہ اس آدمی کا کہنا مان لے اور سیدھا کھڑا ہو کر صف برابر کرلے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ اگر کوئی آدمی صف میں آکر کھڑا ہونا چاہیے اور جبکہ صف میں جگہ بھی ہو تو اسے منع نہ کرے صف میں کھڑا ہوجانے دے۔ اس کے تیسرے معنی یہ ہیں کہ کندھوں کو نرم رکھنا نماز میں خشوع و خضوع اور سکون و قار کے لئے کنایہ ہے۔ یعنی نماز میں سب سے بہتر وہ آدمی ہے جو نہایت خاطر جمعی حضوری قلب اور اطمینان و وقار کے ساتھ نماز پڑھتا ہے۔

1067Mishkaat-al-Masabih

نماز میں نرم کندے والے بہتر ہیں

وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ اسْتَوُوْا اسْتَوُوْا فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ اِنِّی لَا رَاکُمْ مِنْ خَلْفِیْ کَمَا اَرَاکُمْ مِنْ بَیْنِ یَدَیَّ۔ (رواہ ابوداؤد)

حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ تم (نماز میں) برابر کھڑا ہوا کرو، برابر کھڑے ہوا کرو، برابر کھڑے ہوا کرو اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں جس طرح اپنے سامنے سے تمہیں دیکھتا ہوں اسی طرح (مشاہدے اور مکاشفے کے ذریعے) اپنے پیچھے سے بھی تمہیں دیکھتا ہوں۔ (ابوداؤد)

1068Mishkaat-al-Masabih

پہلی صف کے مقابلہ میں دوسری صف کی فضیلت کم ہے

وَعَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ اﷲَ وَمَلَا ئِکَتَہ، یُصَلُّوْنَ عَلَے الصَّفِّ الْاَوَّلِ قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اﷲِ وَعَلَے الثَّانِیْ قَالَ اِنَّ اﷲَ وَمَلَا ئِکَتَہ، یُصَلُّوْنَ عَلَے الصَّفِّ الْاَوَّلِ قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اﷲِ وَعَلَے الثَّانِیْ قَالَ اِنَّ اﷲَ وَمَلَا ئِکَتَہ، یُصَلُّوْنَ عَلَی الصَّفِّ الْاَوَّلِ قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اﷲِ وَعَلَی الثَّانِیْ قَالَ وَعَلَی الثَّانِیْ وَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم سَوُّوا صُفُوْ فَکُمْ وَحَاذُوْ بَیْنَ مَنَا کِبِکُمْ وَلِیْنُوْا فِی اَیْدِیْ اِخْوَانِکُمْ وَسَدُّواالْخَلَلَ فَاِنَّ الشَّیْطَانَ یَدْخُلُ فِیْمَا بَیْنَکُمْ بِمَنْزِلَۃِ الْحَذَفِ یَعْنِیْ اَوْلاَدَ الضَّانِ الصَّغَارَ۔ (رواہ احمد بن حنبل)

اور حضرت ابوامامہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے پہلی صف (والوں) پر رحمت بھیجتے ہیں (یہ سن کر) صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ! دوسری صف (والوں) پر بھی (یعنی اس طرح فرمائے کہ پہلی اور دوسری صف پر رحمت بھیجتے ہیں مگر) رسول اللہ ﷺ نے (اس مرتبہ بھی دوسری صف کا ذکر نہیں کیا بلکہ) فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے پہلی صف پر رحمت بھیجتے ہیں صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ اور دوسری صف پر بھی فرمائیے۔ آنحضرت ﷺ نے (پھریہی فرمایا) کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے پہلی صف پر رحمت بھیجتے ہیں، صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ دوسری صف پر بھی فرمائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اور دوسری صف پر بھی (ا اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں) پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اپنی صفوں کو برابر کو اپنے کندھوں کو ہموار رکھو (یعنی ایک سطح اور ہموار جگہ پر کھڑا ہو اور اونچا نیچا ہو کر مت کھڑے ہو) اور اپنے بھائیوں کے ہاتھ کے آگے نرم رہو۔ (یعنی اگر کوئی آدمی کندھے پر ہاتھ رکھ کر تمہیں صف میں برابر کرے تو اس سے انکار نہ کرو بلکہ برابر ہوجاؤ، نیز صفوں میں خلا پیدا نہ کرو کیونکہ شیطان خذف یعنی بھیڑ کا چھوٹا بچہ بن کر تمہارے درمیان گھس جاتا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل) تشریح صحابہ کے قول و علی الثانی میں جو عطف ہے اسے عطف تلقین فرماتے ہیں یعنی صحابہ کا مطلب یہ تھا کہ پہلی صف کی فضیلت آپ ﷺ نے بیان فرما دی دوسری صف کی فضیلت بھی بیان فرما دیجئے کہ دوسری صف پر بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے تیسری مرتبہ دوسری صف کو بھی پہلی صف کی صف مذکورہ میں شامل فرما دیا جس سے معلوم ہو کہ فضیلت کے اعتبار سے دوسری صف کا درجہ پہلی صف سے کم تر ہے۔

1069Mishkaat-al-Masabih

پہلی صف کے مقابلہ میں دوسری صف کی فضیلت کم ہے

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَقِیْمُو الصُّفُوْفَ وَحَاذُوْبَیْنَ الْمَنَاکِبِ وَسَدُّو الْخَلَلَ وَلِیْنُوْ بِاَیْدِیْ اِخْوَانِکُمْ وَلَا تَذَرُوْ فُرُجَاتِ الشَّیْطَانِ وَمَنْ وَّصَلَ صَفَّا وَصَلَہُ اﷲُ وَمَنْ قَطَعَہ، قَطَعَہُ اﷲُ۔ (رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ) وَرَوَی النِّسَائِیُّ مِنْہُ قَوْلَہ، مَنْ وَصَلَ صَفًّا اِلٰی اٰخِرہٖ)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ صفوں کو سیدھی کرو اپنے کندھوں کے درمیان ہمواری رکھ۔ صفوں کے خلاء کو پر کرو اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم رہو (یعنی اگر کوئی آدمی تمہیں ہاتھوں سے پکڑ کر صف میں برابر کرے تو اس کا کہنا مانو) اور صفوں میں شیطان کے لئے خلا نہ چھوڑو اور (فرمایا) جس آدمی نے صف کو ملایا ( یعنی صف میں خالی جگہ پر جا کھڑا ہوگیا) تو اللہ تعالیٰ اسے (اپنے فضل اور اپنی رحمت سے) ملا دے گا اور (یاد رکھو) جو شخص صف کو توڑے گا تو اللہ تعالیٰ اسے توڑ ڈالے گا (یعنی مقام قرب سے دور پھینک دے گا۔ (ابوداؤد) نسائی نے اس حدیث کو من وصل صفا سے آخر تک نقل کیا ہے (یعنی سنن نسائی کی روایت میں من وصل صفا سے پہلے عبارت نہیں ہے)

1070Mishkaat-al-Masabih

امام کو درمیان میں کھڑا ہونا چاہیے

وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَوَ سَّطُو الْاِمَامَ وَسَدُّ والخَلَلَ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا امام کو درمیان میں رکھو (یعنی صف بندی اس طرح کرو کہ امام کی دائیں اور بائیں جانب کے آدمی برابر ہوں) اور (صف کے) خلا کو بند کرو۔ (ابوداؤد)

1071Mishkaat-al-Masabih

پہلی صف میں شمولیت نہ کرنے پر وعید

وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لاَ یَزَالُ قَوْمٌ یَتَأَخَّرُوْنَ عَنِ الصَّفِّ الْاَوَّلِ حَتّٰی یُؤَخِّرُھُمْ اﷲُ فِی النَّارِ۔ ( رواہ ابوداؤد)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کچھ لوگ ہمیشہ پہلی صف سے پیچھے ہٹتے رہیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں دوزخ میں پیچھے ڈالے رکھے گا۔ (ابوداؤد) تشریح حتی یؤخر اللہ فی النار کے دو معنی ہیں ایک تو یہ کہ ( جو لوگ پہلی صف میں شامل ہونے کی کوشش نہیں کریں گے اور برابر پیچھے کی صفوں میں شامل ہوتے رہیں گے تو) اللہ تعالیٰ انہیں آخر الامر دوزخ میں داخل کرے گا یا دوسرے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو دوزخ میں پیچھے رہنے والا کرے گا۔ بہرحال حدیث کا حاصل یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو چاہیے تو یہ تھا کہ وہ پہلی صف میں شامل ہونے کی کوشش کرتے مگر انہوں نے چونکہ اپنی تساہلی اور کاہلی کی بناء پر ہمیشہ پچھلی صفوں میں کھڑا رہ کر اپنے آپ کو اس ثواب سے محروم رکھا اس لئے اس کے بدلہ میں وہ یہ سزا پائیں گے۔

1072Mishkaat-al-Masabih

صف کے پیچھے تنہا کھڑے ہونے والے کا حکم

وَعَنْ وَابِصَۃَ ابْنِ مَعْبَدٍ قَالَ رَایٰ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم رَجُلًا یُصَلِّی خَلْفَ الصَّفِّ وَحْدَہ، فَاَمَرہ، اَنْ یُعِیْدَ الصَّلَاۃَ رَوَاہُ اَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِیُّ وَ اَبُوْدَاؤدَ وَقَالَ التِّرْمِذِیُّ ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ۔

اور حضرت وابصہ ابن معبد فرماتے ہیں کہ (ایک روز) رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ صف کے پیچھے تنہا (کھڑا ہوا) نماز پڑھ رہا تھا چناچہ آپ ﷺ نے اسے دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ (ابوداؤد جامع ترمذی) امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے۔ تشریح چونکہ پہلی صف میں جگہ خالی تھی اس کے باوجود وہ آدمی صف کے پیچھے تنہا کھڑا تھا اس لئے رسول اللہ ﷺ نے اسے بطور استحباب دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ اس سلسلہ میں مسئلہ یہ ہے کہ جو آدمی صف کے پیچھے تنہا کھڑا ہو کر نماز پڑھے گا یعنی پچھلی صف میں اس کے علاوہ کوئی دوسرا نمازی نہیں ہوگا۔ تو امام احمد کے مسلک کے مطابق اس کی نماز نہیں ہوگی۔ مگر حضرت امام اعظم، حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم ان تینوں ائمہ کے نزدیک صف کے پیچھے تنہا پڑھنے والے کی نماز ہوجاتی ہے۔ تاہم ان حضرات کا قول یہ ہے کہ صف کے پیچھے تنہا نماز نہیں پڑھنی چاہیے کیونکہ یہ مکروہ ہے۔

1073Mishkaat-al-Masabih

امام اور مقتدی کے کھڑنے ہونے کی جگہ کا بیان

عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍص قَالَ بِتُّ فِیْ بَےْتِ خَالَتِیْ مَےْمُوْنَۃَرضی اللہ عنہا فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےُصَلِّیْ فَقُمْتُ عَنْ ےَّسَارِہٖ فَاَخَذَ بِےَدِیْ مِنْ وَّرَآءِ ظَھْرِہٖ فَعَدَلَنِیْ کَذَالِکَ مِنْ وَّرَآءِ ظَہْرِہٖ اِلَی الشِّقِّ الْاَےْمَنِ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت عبدا اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) میں نے اپنی خالہ ام المؤمنین حضرت میمونہ ؓ کے ہاں رات گزرای چناچہ ( جب رسول اللہ ﷺ (تہجد) نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو میں آپ ﷺ کے بائیں طرف جا کر کھڑے ہوگیا رسول اللہ ﷺ نے اپنے پیچھے سے میرا ہاتھ پکڑ کر اس طرح پھیرا (کہ) مجھے اپنے پیچھے کی جانب سے لا کر دائیں طرف کھڑا کرلیا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح شرح السنۃ میں لکھا ہے کہ اس حدیث سے کئی مسائل کا استنباط ہوتا ہے۔ (١) نفل نماز جماعت سے پڑھنا جائز ہے۔ (٢) اگر جماعت صرف دو آدمیوں کی ہو یعنی ایک امام اور ایک مقتدی۔ تو مقتدی کو امام کی دائیں جانب کھڑا ہونا چاہیے۔ (٣) نماز میں تھوڑا سا عمل جائز ہے۔ (٤) مقتدی کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ امام سے آگے ہو کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کو آگے کی جانب سے پھیرنے کی بجائے اپنے پیچھے سے پھیر کر دائیں طرف لا کھڑا کیا۔ (٥) ایسے آدمی کے پیچھے اقتداء جائز ہے جس نے شروع سے امام کی نیت نہ کر رکھی ہو۔ ہدایہ میں لکھا ہے کہ صورت مذکورہ میں اگر تنہا مقتدی امام کے پیچھے یا بائیں طرف نماز پڑھے تو جائز ہے لیکن مناسب نہیں ہے۔

1074Mishkaat-al-Masabih

تین آدمیوں کی جماعت

عَنْ جَابِرٍص قَالَ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لِےُصَلِّیَ فَجِئْتُ حَتّٰی قُمْتُ عَنْ ےَّسَارِہٖ فَاَخَذَ بِےَدِیْ فَاَدَارَنِیْ حَتیّٰ اَقَامَنِیْ عَنْ ےَّمِےْنِہٖ ثُمَّ جَاءَ جَبَّارُبْنُ صَخْرٍ فَقَامَ عَنْ ےَّسَارِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَاَخَذَ بِےَدَےْنَا جَمِےْعًا فَدَفَعَنَا حَتّٰی اَقَامَنَا خَلْفَہُ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو میں نے آکر آپ ﷺ کی بائیں طرف کھڑا ہوگیا رسول اللہ ﷺ نے (اپنے پیچھے سے) میرا (داہنا) ہاتھ پکڑا اور (اپنے پیچھے کی جانب سے مجھے لا کر) اپنی دائیں طرف کھڑا کردیا۔ پھر جبار ابن صخر آئے اور رسول اللہ ﷺ کی بائیں طرف کھڑے ہوگئے رسول اللہ ﷺ نے ہم دونوں کے ہاتھ اکٹھے پکڑے (یعنی اپنے دائیں ہاتھ سے ایک کا بایاں ہاتھ پکڑا اور ایک بائیں ہاتھ سے دوسرے کا دایاں ہاتھ پکڑا اور ہمیں اپنی اپنی جگہ سے ہٹا کر اپنے پیچھے کھڑا کردیا۔ (صحیح مسلم) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر مقتدی ایک ہو تو وہ امام کے دائیں طرف کھڑا ہوجائے اور اگر ایک سے زیادہ مقتدی ہوں تو پھر سب امام کے پیچھے کھڑے ہوں۔ قاضی نے کہا ہے کہ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہاتھوں کو ایک مرتبہ یا بغیر وقفے سے دو مرتبہ حرکت میں لانے سے نماز باطل نہیں ہوتی۔

1075Mishkaat-al-Masabih

مقتدی مرد و عورت کس طرح کھڑے ہوں

وَعَنْ اَنَسٍ ص قَالَ صَلَّےْتُ اَنَا وَےَتِےْمٌ فِیْ بَےْتِنَا خَلْفَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم وَاُمُّ سُلَےْمٍ خَلْفَنَا (صحیح مسلم)

اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اور یتیم نے اپنے مکان میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نماز (جماعت سے) پڑھی اور ام سلیم ہمارے پیچھے تھیں۔ (صحیح مسلم) تشریح ام سلیم حضرت انس ؓ کی والدہ محترمہ کا نام تھا اور یتیم ان کے بھائی کا نام تھا۔ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ یتیم ہی ان کا نام تھا لیکن کچھ حضرات کا کہنا ہے کہ ان کا نام ضمیرہ تھا۔ اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اگر امام کے پیچھے مرد و عورت دونوں مقتدی کی حیثیت سے نماز میں شامل ہوں تو مردوں کو اپنی صف آگے قائم کرنی چاہیے اور عورتوں کی صف پیچھے رکھنی چاہیے۔

1076Mishkaat-al-Masabih

مقتدی مرد و عورت کس طرح کھڑے ہوں

وَعَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم صَلّٰی بِہٖ وَبِاُمِّہٖ اَوْ خَالَتِہٖ قَالَ فَاَقَامَنِیْ عَنْ ےَّمِےْنِہٖ وَاَقَامَ الْمَرْاَۃَ خَلْفَنَا۔(صحیح مسلم)

اور حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ ﷺ نے ان کے (یعنی حضرت انس کے) اور ان کی والدہ (ام سلیم) یا ان کی خالہ کے ہمراہ نماز پڑھی حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ (اس موقع پر) رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو اپنی دائیں طرف اور عورت (یعنی ان کی والدہ یا خالہ) کو اپنے پیچھے کھڑا کیا۔ (صحیح مسلم)

1077Mishkaat-al-Masabih

مقتدی مرد و عورت کس طرح کھڑے ہوں

عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَص اَنَّہُ انْتَھٰی اِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم وَھُوَ رَاکِعٌ فَرَکَعَ قَبْلَ اَنْ ےَّصِلَ اِلَی الصَّفِّ ثُمَّ مَشٰی اِلَی الصَّفِّ فَذُکِرَ ذَالِکَ لِلنَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ زَادَکَ اللّٰہُ حِرْصًا وَّلَا تَعُدْ۔(صحیح البخاری)

اور حضرت ابوبکرہ ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ (ایک مرتبہ نماز میں شامل ہونے کے لئے) رسول اللہ ﷺ کے پاس اس وقت پہنچے جب کہ آپ ﷺ رکوع میں تھے وہ (اس بات کے پیش نظر کہ رکوع ہاتھ سے چلا نہ جائے نیت اور تکبیر تحریہ کے بعد) صف میں پہنچنے سے پہلے ہی رکوع میں چلے گئے پھر آہستہ آہستہ چل کر صف میں شامل ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ سے اس واقعے کا ذکر کیا گیا تو آپ نے ان سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ (اطاعت اور نیک کام کے بارے میں) تمہاری حرص اور زیادہ کرے۔ لیکن آئندہ ایسا نہ کرنا۔ (صحیح البخاری) تشریح جس وقت حضرت ابوبکرہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے تو جماعت کھڑی ہوچکی تھی اور آپ ﷺ رکوع میں جا چکے تھے یہ بجائے اس کے کہ صف میں شامل ہو کر نیت اور تکبیر تحریمہ کے بعد رکوع میں جاتے صف میں شامل ہونے سے پہلے ہی نیت اور تکبیر تحریمہ کے بعد رکوع میں چلے گئے اور پھر وہاں سے دو قدموں کے برابر یا دو قدموں سے بھی زیادہ مگر غیر متوالیہ یعنی قدم پے در پے رکھتے ہوئے بلکہ ٹھہر ٹھہر کر قدم رکھتے ہوئے چلے اور صف میں شامل ہوگئے چناچہ دو ایک قدم چلنے سے نماز کا اعادہ لازم نہیں آتا لیکن اولیٰ یہی ہے کہ اس سے بھی احتراز کیا جائے۔ حدیث کے آخری لفظ لا تعد کئی طرح منقول ہے۔ (١) ایک تو اسی طرح جیسا کہ یہاں حدیث میں نقل کیا گیا ہے کہ یعنی تا کے زبر اور عین کے پیش کے ساتھ جو عود سے ماخوذ ہے اس کے معنی ہیں آئندہ ایسا نہ کرنا۔ (٢) دوسرے عین کے سکون اور دال کے پیش کے ساتھ لا تعد جو عدوم دوڑنا سے ماخوذ ہے۔ اس طرح اس لفظ کا مطلب یہ ہوگا کہ آئندہ نماز کے لئے چلنے میں اس طرح جلد نہ کرنا بلکہ صبر و سکون اور اطمینان و وقار کے ساتھ چلو۔ یہاں تک کہ صف میں شامل ہوجاؤ پھر اس کے بعد نماز شروع کرو (٣) تیسرے تاکہ پیش اور عین کے زیر کے ساتھ یعنی لاتعد جو اعادۃ (لوٹنا) ماخوذ ہے۔ اس شکل میں حدیث کے معنی یہ ہوں گے جو نماز تم پڑھ چکے ہو اسے لوٹاؤ نہیں۔ بہر حال ان سب میں پہلا قول یعنی لا تعد (آئندہ نہ کرنا) ہی عقل و نقل کی روشنی میں سب سے زیادہ صحیح اور اولیٰ ہے یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ صف کے پیچھے تنہا کھڑا ہونا نماز کو باطل نہیں کرتا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ سے نماز لوٹانے کے لئے نہیں فرمایا۔ ہاں کراہت بلا شبہ ہے۔

1078Mishkaat-al-Masabih

تین آدمیوں کی جماعت ہو تو ان میں سے ایک امام بن جائے

عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ اَمَرَنَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا کُنَّا ثلَاَ ثَۃً اَنْ یَّتَقَدَّ مَنَا اَحَدُنَا۔ (رواہ الترمذی)

حضرت سمرۃ ابن جندب ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ جب ہم تین آدمی (نماز پڑھنے والے) ہوں تو ہم میں سے ایک آدمی (جو ہم میں بہتر ہو) ہمارے آگے ہوجائے (یعنی ہمارا امام بن جائے)۔ (جامع ترمذی ) تشریح اس حدیث سے تو تین آدمیوں کی جماعت کے بارے میں معلوم ہوا کہ ان میں سے ایک آدمی جو امامت کا مستحق ہو۔ آگے ہوجائے اور امامت کا فریضہ انجام دے۔ یہی حکم دو آدمیوں کی جماعت کا بھی ہے کہ ایک آدمی امام بن جائے اور دوسرا مقتدی، مگر دو آدمیوں کی جماعت کی صورت میں امام آگے نہیں ہوگا بلکہ دونوں برابر برابر کھڑے ہوں گے یعنی امام بائیں جانب رہے اور مقتدی دائیں طرف۔

1079Mishkaat-al-Masabih

امام کے لئے تنہا جگہ پر کھڑا ہونا مکروہ ہے

وَعَنْ عَمَّارٍ اَنَّہ، اَمَّ النَّاسَ بِالْمَدَائِنِ وَقَامَ عَلٰے دُکَّانٍ یُصَلِّی وَالنَّاسُ اَسْفَلَ مِنْہُ فَتَقَدَّمَ حُذَیْفَۃُ فَلَمَّا فَرَغَ عَمَّارٌ مِنْ صَلَاتِہٖ قَالَ لَہ، حُذَیْفَۃُ اَلَمْ تَسْمَعْ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ اِذَا اَمَّ الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَلَا یَقُمْ فِی مَقَامٍ اَرْفَعَ مِنْم مِقَا مِھِمْ اَوْ نَحْوَ ذٰلِکَ فَقَالَ عَمَّارٌ لِذٰلِکَ اتَّبَعْتُکَ حِیْنَ اَخَذْتَ عَلٰی یَدِی۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت عمار ؓ سے نماز کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے (ایک روز) مدائن میں (جو کوفہ کے نزدیک ایک شہر ہے) لوگوں کی امامت کی چناچہ وہ نماز پڑھنے کے لئے ایک چبوترے پر کھڑے ہوئے۔ مقتدی ان سے نیچے کھڑے تھے (یہ دیکھ کر) حضرت حذیفہ صف سے نکل کر آگے بڑھے اور عمار کے دونوں ہاتھ پکڑے (اور انہیں نیچے کی طرف کھینچا تاکہ وہ چپوترے سے اتر کر مقتدیوں کے برابر کھڑے ہوں) حضرت عمار ؓ نے حضرت حذیفہ ؓ سے کوئی تعارض نہیں کیا۔ چناچہ حضرت حذیفہ ؓ نے انہیں (چبوترے سے) نیچے اتار لیا۔ حضرت عمار ؓ جب نماز پڑھ کر فارغ ہوچکے تو حضرت حذیفہ ؓ نے ان سے کہا کہ کیا آپ نے یہ نہیں سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب کوئی آدمی کسی جماعت کا امام بنے تو وہ اس جگہ پر نہ کھڑا ہو جو مقتدیوں کے کھڑے ہونے کی جگہ سے بلند ہو۔ یا اس کے مانند الفاظ فرمائے حضرت عمار ؓ نے جواب دیا کہ اسی لئے تو جب آپ نے میرے ہاتھ پکڑے تو میں نے آپ کا اتباع کیا۔ (اور کوئی تعارض نہیں کیا یعنی آپ کا کہنا مان کر نیچے اتر آیا۔ ) (ابوداؤد) تشریح صورت مذکورہ میں مسئلہ یہ ہے کہ امام تنہا بلند مقام پر اس طرح کھڑا ہو کہ کچھ مقتدی تو اس کے ساتھ اسی بلند جگہ پر ہوں اور کچھ نیچے ہوں تو یہ مکروہ نہیں ہے البتہ اگر امام تنہا بلند مقام پر کھڑا ہو اور تمام مقتدی نیچے ہوں تو یہ مکروہ ہوگا چناچہ حضرت عمار ؓ اس طرح کھڑے ہوئے کہ وہ تنہا بلند جگہ پر تھے ان کے ساتھ کچھ مقتدی نہیں تھے اور اسی لئے حضرت حذیفہ ؓ نے انہیں نیچے اتار کر کھڑا کیا۔ اگر امام نیچے اور مقتدی بلند جگہ پر ہوں تو کیا حکم ہے صورت تو یہ ہے کہ امام بلند جگہ پر ہو اور مقتدی نیچے ہوں، اگر معاملہ اس کے برعکس ہو یعنی امام تو نیچے کھڑا ہو اور مقتدی بلند مقام پر ہوں تو مسئلے میں مشائخ کے ہاں اختلاف ہے چناچہ حضرت امام طحاوی فرماتے ہیں کہ یہ مکروہ نہیں ہے اس لئے کہ اس طرح اہل کتاب (یعنی غیر مسلموں) کے ساتھ مشابہت نہیں ہوتی کیونکہ ان کے ہاں امام کو بطور خاص بلند جگہ پر کھڑا کیا جاتا تھا لہٰذا امام کا تنہا بلند جگہ پر کھڑا ہونا تو ان کی مشابہت کے پیش نظر مکروہ ہوسکتا ہے لیکن امام کا نیچی جگہ پر اور مقتدیوں کا اونچی جگہ پر کھڑا ہونا مکروہ نہیں ہوسکتا۔ لیکن جہاں تک ظاہری روایات اور عقلی تقاضہ کا تعلق ہے تو یہ بھی مکروہ ہے کیونکہ اس طرح امام کی حقارت لازم آتی ہے اور اس کی عظمت پر حرف آتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس بلندی پر امام کا تنہا کھڑا ہونا مکروہ ہے اس کی حد کیا ہے؟ یعنی وہ کتنی بلند جگہ ہو کہ اس پر امام تنہا کھڑا نہ ہو؟ چناچہ اس سلسلہ میں بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ بقدر قد آدمی بلندی پر امام کے لئے تنہا کھڑا ہونا مکروہ ہے لیکن دوسرے حضرات کا کہنا ہے کہ بلندی کی حد ایک ہاتھ ہے یعنی اگر ایک ہاتھ اونچی جگہ پر بھی امام کھڑا ہوگا تو یہ مکروہ ہوگا اور اسی قول پر فتوی ہے یہ تو مسئلے کی وضاحت تھی اب حدیث کی طرف آئیے! حدیث کے الفاظ وقام علی دکان یصلی سے ظاہری طور پر یہ کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ جس وقت حضرت حذیفہ نے حضرت عمار کو ٹوکا اور انہیں نیچے اتارا اس وقت حضرت عمار حقیقۃ نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے تھے یعنی نیت باندھ چکے تھے یا انہوں نے صرف نماز پڑھنے کا ارادہ ہی کیا تھا اور کھڑے ہی ہو رہے تھے کہ حضرت حذیفہ نے انہیں نیچے اتارا؟ ظاہری طور پر یہی ہے کہ حضرت عمار نے اس وقت تک نیت نہیں باندھی تھی بلکہ نماز کے لئے کھڑے ہو ہی رہے تھے اور نیت باندھنے والے تھے کہ یہ واقعہ پیش آیا۔ اونحو ذالک حضرت حذیفہ نے رسول اللہ ﷺ کی حدیث جب بیان فرمائی تو آخر میں یہ الفاظ فرمائے کیونکہ انہیں حدیث کے الفاظ بعینہ یاد نہیں رہے تھے۔ لہٰذا انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے یا تو بعینہ یہی الفاظ فرمائے تھے یا اس کی مانند دوسرے الفاظ ارشاد فرمائے تھے۔ حدیث کے آخری الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمار ؓ کو یہ مسئلہ معلوم تھا اور وہ رسول اللہ ﷺ سے یہ سن چکے تھے کہ امام کو تنہا بلند جگہ پر نہیں کھڑا ہونا چاہیے، لہٰذا یہاں یہ اشکال وارد ہوتا ہے کہ جب حضرت عمار ارشاد نبوت پر مطلع تھے اور انہیں یہ مسئلہ معلوم تھا تو انہوں نے اس کے خلاف کیوں کیا؟ اس کا مختصر سا جواب یہ ہے کہ حضرت عمار کو یہ مسئلہ معلوم تھا اور وہ رسول اللہ ﷺ سے اس کی ممانعت سن بھی چکے تھے مگر اس وقت ان کے ذہن میں نہ یہ حدیث رہی اور نہ انہیں یہ مسئلہ یاد آیا۔ ہاں جب حضرت حذیفہ نے تعارض کیا اور انہیں نیچے اتارا تو یہ مسئلہ ان کو یاد آیا اور ایک صادق سچے فرما نبردار ہونے کے ناطے انہوں نے فوراً اس پر عمل کیا۔

1080Mishkaat-al-Masabih

تعلیم کے پیش نظر امام تنہاد اور نچی جگہ کھڑا ہوسکتا ہے

عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدِنِ السَّاعِدِیِّ اَنَّہُ سُئِلَ مِنْ اَیِّ شَیْءٍ الْمِنْبَرُ فَقَالَ ہُوَ مِنْ اَثْلِ الْغَابَۃِ عَمِلَہُ فَلَانٌ مَوْلٰی فُلاَ نَۃٍ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَقَامَ عَلَیْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم حِیْنَ عُمِلَ وَوُضِعَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ وَکَبَّرَ وَقَامَ النَّاسُ خَلْفَہُ فَقَرَأَوَرَکَعَ وَرَکَعَ النَّاسُ خَلْفَہُ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ ثُمَّ رَجَعَ الْقَہْقَرٰی فَسَجَدَ عَلَی الْاَرْضِ ثُمَّ عَادَ اِلَی الْمِنْبَرِثُمَّ قَرَأَ ثُمَّ رَکَعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ ثُمَّ رَجَعَ الْقَہْقَرٰی حَتّٰی سَجَدَ بِالْاَرْضِ ہَذٰا لَفْظُ الْبُخَارِیِّ۔ وَفِی الْمُتَّفَقِ عَلَیْہِ نَحْوَہُ وَفِیْ اٰخِرِہٖ فَلَمَّافَرَغَ اَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ یَااَیُّھَا النَّاسُ اِنَّمَا صَنَعْتُ ھَذَا لِتَاْتَمُّوْا بِیْ وَ لِتَعْلَمُوْا صَلٰوتِیْ۔

اور حضرت سہل ابن سعد ساعدی ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ ان سے (ایک روز) پوچھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کا منبر کس چیز (یعنی کس لکٹر) کا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ جنگلی جھاؤ کی لکڑی کا تھا۔ جسے فلاں آدمی نے جو فلاں عورت کا آزاد کردہ غلام تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے لئے بنایا تھا۔ چناچہ جب وہ تیار ہوگیا اور (مسجد میں) رکھا گیا تو رسول اللہ ﷺ (اس پر کھڑے ہوئے اور) قبلہ رو ہو کر (نماز کے لئے) تکبیر تحریمہ کی اور سب لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے رسول اللہ ﷺ نے منبر ہی پر قرأت فرمائی اور رکوع کیا اور دوسرے لوگوں نے بھی رسول اللہ ﷺ کے پیچھے رکوع کیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنا سر مبارک رکوع سے اٹھایا اور پچھلے پاؤں ہٹ کر (یعنی منبر سے اتر کر) زمین پر سجدہ کیا۔ یہ الفاظ بخاری کے ہیں اور بخاری ومسلم کی متفقہ روایت بھی اس طرح ہے اس حدیث کے راوی نے حدیث کے آخر میں یہ (بھی) کہا ہے کہ (جب نماز سے) رسول اللہ ﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا کہ یہ میں نے اس لئے کیا ہے تاکہ تم لوگ میری پیروی کرو اور میری نماز کی کیفیات اور اس کے احکام و مسائل سیکھ لو۔ تشریح مدینہ منورہ سے نو کوس کے فاصلے پر ایک جنگل ہے وہاں درخت بہت کثرت سے تھے وہیں کے جھاؤ کی لکڑی سے رسول اللہ ﷺ کے لئے منبر بنایا گیا تھا۔ فلاں آدمی سے مراد یا قوم رومی ہیں اور فلاں عورت سے عائشہ انصاریہ کی ذات مراد ہے۔ مولانا مظہر نے لکھا ہے کہ اس منبر پر چھڑنے اترنے کے لئے تین سیڑھیاں تھیں جو بہت قریب قریب بنائی گئی تھیں ان کے ذریعہ سے منبر پر ایک یا دو قدم کے ساتھ چڑھنا بہت آسان تھا۔ لہٰذا اس وجہ سے فعل کثیر لازم نہیں آیا کہ آپ ﷺ کی نماز باطل ہوتی۔ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر امام اس بات کا ارادہ کرے کہ اس کی نماز کی حرکات و سکنات اور اس کی کیفیات کو دور و نزدیک کھڑے ہوئے سب ہی نمازی دیکھیں اور اس کے ذریعے نماز کے احکام و مسائل سیکھیں تو اس کے لئے بلند جگہ پر تنہا کھڑے ہونا جائز ہے۔ ھذا الفظ البخاری ( یہ الفاظ بخاری کے ہیں) کہ الفاظ اور اس کے بعد عبارت نقل کر کے مصف مشکوٰۃ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ حدیث چونکہ بخاری و مسلم دونوں ہی نے نقل کی ہے اس لئے اس کو پہلی فصل میں ذکر کرنا چاہیے تھا لیکن اس حدیث کو اس فصل میں اس لئے نقل کیا گیا ہے۔ اس لئے مصابیح نے اس کو حسان میں (بخاری و مسلم کے علاوہ دوسرے ائمہ حدیث کی روایتوں کے ساتھ نقل کیا تھا اس کے لئے صاحب مصابیح کی اتباع میں ہم نے بھی اس فصل میں نقل کرنا مناسب سمجھا۔

1081Mishkaat-al-Masabih

اعتکاف میں رسول اللہ ﷺ کی امامت

وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ صَلّٰی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فِیْ حُجْرَتِہٖ وَالنَّاسُ یَأْ َتمُّوْنَ بِہٖ مِنْ وَرَاءِ الْحُجْرَۃِ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے حجرے کے اندر نماز پڑھی اور لوگوں نے حجرے کے باہر آپ ﷺ کی اقتداء کی۔ (سنن ابوداؤد) تشریح اس حدیث کا تعلق رمضان شریف سے ہے رسول اللہ ﷺ نے مسجد کے ایک حصہ میں اعتکاف کے لئے بوریے کا ایک حجرہ سا بنا لیا تھا۔ آپ ﷺ نے اس حجرہ میں چند شب تراویح کی نماز پڑھی چناچہ صحابہ اس موقع پر حجرے سے باہر کھڑے ہو کر آپ ﷺ کی اقتدا کرتے تھے۔