وَعَنْ اَبِی مَالِکِ نِ الْاَشْعَرِیِّ قَالَ اَ لَا اُحَدِّثُکُمْ بِصَلاۃِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اَقَامَ الصَّلَاۃَ وَصَفَّ الرِّجَالَ وَصَفَّ خَلْفَھُمُ الْغِلْمَانَ ثُمَّ صَلَّی بِھِمْ فَذَکَرَ صَلاَ تَہ، ثُمَّ قَالَ ھٰکَذَا صَلٰوۃُ قَالَ عَبْدُا الْاَعْلٰی الَااَحْسِبَہ، اِلَّا قَالَ اُمَّتِیْ۔ (رواہ ابوداؤد)
حضرت ابومالک اشعری ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے (لوگوں سے) کہا کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز (کیفیت) سے آگاہ نہ کروں؟ تو سنو کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز ( کے لئے لوگوں) کو کھڑا کر کے (اول) مردوں کی صف قائم کی پھر ان کے پیچھے لڑکوں کی صف باندھی اور انہیں نماز پڑھائی۔ ابومالک نے رسول اللہ ﷺ کی نماز (کی کیفیت) بیان کی اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے (نماز پڑھ کر فرمایا کہ نماز اسی طرح پڑھنی چاہیے۔ عبدالاعلی (جنہوں نے یہ روایت ابومالک سے نقل کی ہے) فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ ابومالک نے میری امت کی (بھی) کہا ہے یعنی ابومالک نے حدیث کے آخری الفاظ اس طرح نقل کئے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ھٰکَذَا صَلٰوۃُ اُمَّتِی (یعنی میری) امت کی نماز اسی طرح ہونی چاہیے۔ (ابوداؤد)
تشریح
حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ میری امت کے لوگوں کو چاہیے کہ نماز کی جو کیفیت مجھے سے نقل کی گئی ہے اسی طرح نماز میں پڑھیں نیز اس سے یہ تنبیہ بھی مقصود ہے کہ جو لوگ اس طریقے سے یعنی سنت نبوی کے مطابق نماز نہیں پڑھیں گے وہ اپنے اس علم سے یہ ظاہر کریں گے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی تابعدار امت میں سے نہیں ہیں۔
وَعَنْ قِیْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ بَیْنَا اَنَا فِی الْمَسْجِدِ فِی الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ فَجَبَذَنِی رَجُلٌ مِنْ خَلْفِیْ جَبْذَۃً فَنُحَّانِی وَقَامَ مَقَامِی فَوَ اﷲِ مَا عَقَلْتُ صَلَا تِی فَلَمَّا انْصَرَفَ اِذَا ھُوَ اُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ فَقَالَ یَافَتَی لَا یَسُؤْکَ اﷲُ اِنَّ ھٰذَا عَھْدٌ مِنَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم اِلَیْنَا اَنْ نَلِیَہ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ فَقَالَ ھَلَکَ اَھْلُ الْعَقْدِ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ ثَلَا ثًا ثُمَّ قَالَ وَاﷲِ مَا عَلَیْھِمْ اٰسٰی وَلَکِنْ اٰسٰی عَلٰی مَنْ اَضَلُّوْاقُلْتُ یَا اَبَا یَعْقُوْبَ مَا تَعْنِی بِاَھْلِ الْعَقْدِ قَالَ الْاُمَرَائُ۔ (رواہ النسائی )
اور حضرت قیس ابن عباد (رح) (تابعی) فرماتے ہیں کہ (ایک روز) میں مسجد میں پہلی صف میں کھڑا (نماز پڑھ رہا) تھا۔ ایک آدمی نے پیچھے سے مجھے کھینچا اور مجھ کو ایک طرف کر کے خود میری جگہ کھڑا ہوگیا اللہ کی قسم! (اس غصے کی وجہ سے کہ اس نے مجھے پہلی صف سے جو افضل ہے کھینچ لیا باوجود اس کے کہ میں وہاں پہلے سے کھڑا تھا) مجھے اپنی نماز کا بھی ہوش نہ رہا۔ ( کہ میں نماز کس طرح ادا کر رہا ہوں اور کتنی رکعتیں پڑھ رہا ہوں) جب وہ آدمی نماز پڑھا چکا (اور میں نے بھی نماز پڑھنے کے بعد دیکھا) تو معلوم ہوا کہ وہ حضرت ابی بن کعب ؓ تھے (مجھے غصے کی حالت میں دیکھ کر) انہوں نے فرمایا کہ اے جوان (اس وقت میں نے تمہارے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہیں غمگین نہ کرے۔ (چونکہ) ہمارے لئے رسول اللہ ﷺ کی یہ وصیت ہے کہ ہم آپ کے پاس کھڑے ہوا کریں ( اس لئے آپ کے بعد اب ہم امام کے قریب کھڑے ہونے کی کوشش کرتے ہیں) پھر قبلے کی طرف منہ کر کے تین مرتبہ فرمایا رب کعبہ کی قسم! اہل عقد (یعنی سردار) ہلاک ہوگئے! اور فرمایا اللہ کی قسم! مجھے سرداروں کا کوئی غم نہیں ہے، غم تو ان لوگوں (یعنی رعایا) کا ہے جنہیں سردار گمراہ کرتے ہیں ( بایں طور کہ جو کام سردار کرتے ہیں وہی کام ان کی رعایا کرتی ہے) قیس ابن عباد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی ابن کعب ؓ سے عرض کیا کہ ابویعقوب! اہل عقد سے آپ کی کیا مراد ہے؟ فرمایا امراء (یعنی سردار و حکام )۔ (سنن نسائی )
تشریح
حضرت ابی بن کعب کے الفاظ اِنْ ھٰذَا عَھْدٌ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الخ سے رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کی طرف اشارہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا لِیَلنِی مِنْکُمْ اُوْلُوْ الْاَحْلَامِ وَالنُّھٰی یعنی (نماز میں) تم میں سے صاحب عقل و بالغ میرے نزدیک کھڑے ہوا کریں۔ اس ارشاد کا حاصل چونکہ یہ تھا کہ جو لوگ صاحب عقل و فہم اور بالغ ہوں وہ امام کے قریب کھڑے ہوا کریں اور قیس ابن عباد اس زمرے میں آتے نہیں تھے۔ اس لئے حضرت ابی بن کعب نے انہیں وہاں سے ہٹا دیا اور خود وہاں کھڑے ہوگئے۔ ھَلَکَ اَھْلُ الْعَقْدِ (اہل عقد یعنی سرور و احکام ہلاک ہوگئے) اس کا مطلب یہ ہے کہ رعایا کے اعمال و کردار اور ان کے دینی و دنیاوی احکام و افعال یہاں تک صف بندی کی رعایت اور نگہداشت حکام و سرداروں کے ذمہ ہے لیکن وہ حکام و سردار جو اپنی رعایا کے دینی و دینوی کاموں کے نگہبان و سربراہ ہونے کی حیثیت سے لوگوں کے افعال و کردار پر نظر رکھتے تھے اور انہیں سنت نبوی پر چلاتے تھے ختم ہوگئے۔ اس لئے نیتجہ یہ ہوا کہ لوگوں کو دینی کاموں میں سست رفتاری بےراہ روی اور غلط انداز عمل و انداز فکر پیدا ہوگیا ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان الفاظ کے ذریعے حضرت کعب نے اپنے زمانے کے حاکم پر طعن کیا ہے مگر حضرت کعب کا انتقال چونکہ حضرت عثمان ؓ کی خلافت کے زمانے میں ہوا ہے اس لئے یہ کہا جائے گا کہ ان الفاظ کا محمل خود خلیفہ کی ذات نہیں ہے بلکہ حضرت کعب کے پیش نظر حضرت عثمان ؓ کے وہ بعض حکام ہوں گے جو اپنے فرائض کو پورے طور سے انجام نہیں دیتے تھے۔
شریعت میں نماز کی امامت کا بڑا اہم اور عظیم الشان کام ہے تمام مقتدیوں کی نمازوں کا ذمہ دار ہونے کی وجہ سے امام مقرر کرنے کے سلسلے میں شریعت نے کچھ شرائط مقرر کی ہیں اور یہ بتایا ہے کہ اس اہم اور عظیم الشان منصب کا حامل کون آدمی ہوسکتا ہے، اس باب کے تحت اس قسم کی احادیث نقل کی جائیں گی جن سے معلوم ہوگا کہ امام مقرر کرنے کے وقت کن باتوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے اور یہ کہ امامت کا استحقاق کن لوگوں کو حاصل ہے۔ اس سلسلہ میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ مقتدیوں کو چاہیے کہ حاضر نمازیوں میں جس آدمی میں امامت کے لائق زیادہ اوصاف ہوں اس کو امام بنائیں اگر کئی آدمی ایسے ہوں جن میں امامت کی لیاقت ہو تو کثرت رائے پر عمل کیا جائے یعنی جس آدمی کی طرف زیادہ لوگوں کی رائے ہوں اسی کو امام بنایا جائے اگر کسی ایسے آدمی کی موجودگی میں جو امامت کا مستحق اور لائق ہو کسی غیر مستحق اور نالائق آدمی کو امام بنا لیا جائے گا تو سب نمازی ترک سنت کے فتنے میں مبتلا ہوں گے۔ (١) امامت کا سب سے زیادہ استحقاق اس آدمی کو ہے جو نماز کے مسائل خوب جانتا ہو بشر طی کہ ظاہری طور پر اس میں کوئی فسق وغیرہ نہ ہو اور کم سے کم بقدر قرأت مسنون اسے قرآن یاد ہو۔ (٢) پھر وہ آدمی جو قرآن مجید اچھا یعنی عمدہ آواز سے قرأت کے قاعدے کے موافق پڑھتا ہو۔ (٣) پھر وہ آدمی جو سب سے زیادہ خوبصورت ہو (٤) پھر وہ آدمی جو سب سے عمر زیادہ رکھتا ہوں۔ (٥) پھر وہ آدمی جو سب سے زیادہ خلیق ہو (٦) پھر وہ آدمی جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہو (٧) پھر وہ آدمی جو سب سے عمدہ لباس پہنے ہو (٨) پھر وہ آدمی جس کا سر سب سے زیادہ بڑا ہو (٩) پھر وہ آدمی جو مقیم ہو بہ نسبت مسافروں کے (١٠) پھر وہ آدمی جو اصلی آزاد ہو (١١) پھر وہ آدمی جس نے حدث اصغر سے تییم کیا ہو بنسبت اس آدمی کے جس نے حدث اکبر سے تییم کیا ہو۔ جس آدمی میں دو وصف پائے جائیں وہ امامت کا زیادہ مستحق ہے بہ نسبت اس آدمی کے جس میں ایک ہی وصف پایا جاتا ہے۔ مثلاً وہ آدمی جو نماز کے مسائل بھی جانتا ہو اور قرآن مجید بھی اچھی طرح پڑھتا ہو امامت کا زیادہ مستحق اور اہل ہے بہ نسبت اس آدمی کے جو صرف نماز کے مسائل جانتا ہو قرآن مجید اچھی طرح نہ پڑھتا ہو۔
عَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدٍص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَؤُمُّ الْقَوْمَ اَقْرَاُھُمْ لِکِتَابِ اللّٰہِ فَاِنْ کَانُوْا فِی الْقِرْآۃِ سَوَآئً فَاَعْلَمُھُمْ بِالسُّنَّۃِ فَاِنْ کَانُوْ فِی السُّنَّۃِ سَوَآئً فَاَقْدَمُھُمْ ھِجْرَۃً فَاِنْ کَانُوْا فِی الْھِجْرَۃِ سَوَآئً فَاَقْدَمُھُمْ سِنَّا وَّلَا ےَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِیْ سُلْطَانِہٖ وَلَا ےَقْعُدْ فِیْ بَےْتِہٖ عَلٰی تَکْرِمَتِہٖ اِلَّا بِاِذْنِہٖ رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَفِیْ رِوَاےَۃٍ لَّہُ وَلَا ےَؤُمَّنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِیْ اَھْلِہٖ۔
حضرت ابومسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قوم کی امامت وہ آدمی کرے جو نماز کے احکام و مسائل جاننے کے ساتھ قرآن مجید سب سے اچھا پڑھتا ہو (یعنی تجوید سے واقف ہو۔ اور حاضرین میں سب سے اچھا قاری ہو) اگر قرآن مجید اچھا پڑھنے میں سب برابر ہوں۔ تو وہ آدمی امامت کرے جو (قرأت مسنونہ اچھی طرح پڑھنے کے ساتھ) سنت کا علم سب سے زیادہ رکھتا ہو۔ اگر (قرآن مجید اچھی طرح پڑھنے اور) سنت کا علم جاننے میں سب برابر ہوں تو وہ آدمی امامت کرے جو (مدینہ میں) سب سے پہلے ہجرت کر کے آیا ہو اگر ( علم قرأت اور) ہجرت میں سب برابر ہوں تو وہ آدمی امامت کرے جو عمر میں سب سے بڑا ہو! اور کوئی دوسرے کے علاقے میں امامت نہ کرے (یعنی دوسرے مقررہ امام کی جگہ امامت نہ کرے) اور کسی کے گھر میں اس کی مسند پر اس کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھے۔ (صحیح مسلم) اور مسلم کی ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ (آپ ﷺ نے فرمایا) کہ کوئی آدمی دوسرے کے گھر میں (اس کی اجازت کے بغیر اگرچہ وہ صاحب خانہ سے افضل ہی کیوں نہ ہو) امامت نہ کرے۔
تشریح
علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ حدیث کے الفاظ فَاَعْلَمُھُمْ بِالسُّنَۃِ میں سنت سے مراد رسول اللہ ﷺ کی احادیث ہیں عہد صحابہ میں جو آدمی احادیث زیادہ جانتا تھا وہ بڑا فقیہ مانا جاتا تھا حضرت امام احمد اور امام ابویوسف کا عمل اسی حدیث پر ہے، یعنی ان حضرات کے نزدیک امامت کے سلسلہ میں قاری عالم پر مقدم ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ حضرت امام محمد حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم کا مسلک یہ ہے کہ زیادہ علم جاننے والا اور فقیہ امامت کے سلسلے میں بڑے قاری پر مقدم ہے کیونکہ علم قرأت کی ضرورت تو نماز کے صرف ایک ہی رکن میں (یعنی قرأت کے وقت ہوتی ہے، برخلاف اس کے کہ علم کی ضرورت نماز کے تمام ارکان میں پڑتی ہے) جن احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عالم پر سب سے اچھا قرآن پڑھنے والا مقدم ہے اس کا جواب ان حضرات کی طرف سے یہ دیا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جو لوگ قاری ہوتے تھے وہی سب سے زیادہ علم والے بھی ہوتے تھے کیونکہ وہ لوگ قرآن کریم مع احکام کے سیکھتے تھے اسی وجہ سے احادیث میں قاری کو عالم پر مقدم رکھا گیا ہے اور اب ہمارے زمانے میں چونکہ ایسا نہیں ہے بلکہ اکثر قاری مسائل سے ناواقف ہوتے ہیں، اس لئے ہم عالم کو قاری پر مقدم رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان حضرات کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مرض الموت میں حضرت ابوبکر صدیق سے لوگوں کو نماز پر ھوائی باوجود اس کے وہ قاری نہ تھے بلکہ سب سے زیادہ علم والے تھے حالانکہ اس وقت ان سے زیادہ بڑے بڑے موجود تھے۔ فاقدمہم ہجرۃ کے بارے میں ابن مالک (رح) فرماتے ہیں کہ آج کل ہجرت چونکہ متروک ہے اس لئے اب یہاں حقیقی ہجرت کے بجائے معنوی ہجرت (یعنی گناہوں اور برائیوں سے ترک) کا اعتبار ہوگا یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے علم اور قرأت میں برابری کے بعد پرہیز گاری کو مقدم رکھا ہے یعنی اگر وہ آدمی ایسے جمع ہوں جو عالم بھی ہوں اور قاری بھی ہوں تو ان دونوں میں سے امامت کا مستحق وہ آدمی ہوگا جو دوسرے کی بہ نسبت زیادہ پرہیز گاری کے وصف کے حامل ہوگا۔ اس حدیث میں امامت کے صرف اتنے ہی مراتب ذکر کئے گئے ہیں لیکن علماء نے کچھ اور مراتب ذکر کئے ہیں چناچہ اگر عمر میں بھی سب برابر ہوں تو وہ آدمی امامت کرے جو سب سے زیادہ اچھے اخلاق و الا ہو اگر اخلاق میں بھی سب برابر ہوں تو وہ آدمی امامت کرے جو اچھے چہرے والا ہو یعنی خوبصورت ہو اگر خوبصورتی میں سب برابر ہوں تو وہ آدمی امامت کرے جو سب سے عمدہ لباس پہنے ہوئے ہو یا سب سے زیادہ شریف النسب ہو اگر تمام اوصاف میں سب برابر ہوں تو اس صورت میں بہتر شکل یہ ہے کہ قرعہ ڈالا جائے جس کا نام نکل آئے وہ امامت کرے یا پھر قوم جسے چاہیے اپنا امام مقرر کرے اور اس کے پیچھے نماز پڑھے۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی دوسرے آدمی کی سلطنت و علاقے میں امامت نہ کرے اسی طرح ایسی جگہ بھی امامت نہ کرے جس کا مالک کوئی دوسرا آدمی ہو جیسا کہ دوسری روایت کے الفاظ فی اھلہ سے ثابت ہوا۔ لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ اگر کسی مقام پر حاکم وقت امامت کرتا ہے یا حاکم وقت کی جانب سے مقرر شدہ اسی کا نائب جو امیر اور خلیفہ کے ہی حکم میں ہوتا ہے امامت کے فرائض انجام دیتا ہے تو کسی دوسرے آدمی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ سبقت کر کے امامت کرے خاص طور پر عیدین اور جمعہ کی نماز میں تو یہ بالکل ہی مناسب نہیں ہے۔ اسی طرح جس مسجد میں امام مقرر ہو یا کسی مکان میں صاحب خانہ کی موجودگی میں مقررہ امام اور صاحب خانہ کی اجازت کے بغیر امامت کی طرف سبقت کرنا کسی دوسرے آدمی کا حق نہیں ہے کیونکہ اس طرح امور سلطنت میں انحطاط آپس میں بعض وعناد ترک ملاقات، افتراق و اختلاف اور فتنہ و فساد کا دروازہ کھلتا ہے اور جب کہ جماعت کی مشروعیت ہی انہیں غیر اخلاقی چیزوں کے سد باب کے لئے ہوئی ہے چناچہ اس سلسلے میں حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کا یہ رویہ قابل تقلید ہے کہ وہ اپنے فضل و شرف اور علم وتقوی کے باوجود حجاج بن یوسف جیسے ظالم و فاسق کے پیچھے نماز پڑھتے تھے۔
وَعَنْ اَبِیْ سَعِےْدٍص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا کَانُوْا ثَلٰثَۃً فَلْےَؤُمَّھُمَْ اَحَدُھُمْ وَاَحَقُّھُمْ بِالاِمَامَۃِ اَقْرَاُھُمْ رَوَاہُ مُسْلِمٌ۔
حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب (نماز پڑھنے کے لئے) تین آدمی (جمع) ہوں تو ان میں سے ایک امام بن جائے اور ان میں سے امامت کا زیادہ مستحق وہ ہے جو زیادہ تعلیم یافتہ ہو۔ (صحیح مسلم)
تشریح
تین آدمیوں کی قید اتفاقی ہے تین سے کم یا زیادہ ہونے کی شکل میں بھی یہی حکم ہے کہ ان میں سے ایک امام بن جائے اور باقی مقتدی علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے اکثر صحابہ عمر کا ایک بڑا حصہ طے کرچکے تھے جب اسلام کی سعادت سے مشرف ہوئے اس وجہ سے وہ لوگ قرآن پڑھنے سے پہلے علم دین سیکھتے تھے لیکن بعد میں یہ صورت نہ رہی بلکہ اب تو لوگ عمر کے ابتدائی حصے میں علم دین حاصل کرنے سے پہلے قرآن کریم پڑھنا سیکھ لیتے ہیں۔ بہر حال۔ امامت کے سلسلے میں اچھے قاری پر اس فقیہ اور عالم کو اولیت حاصل ہوگی جو نماز کے احکام و مسائل کا علم جانتا ہو معاملات کا زیادہ علم رکھنے والا قاری پر مقدم نہیں ہوسکتا۔ وَذَکَرَ حَدِیْثٌ مَالِکِ بْنِ اَلْحُوَیْرِثِ فِیْ بَابِ فَضْلِ الْاذَانَ اور مالک بن حویرث کی روایت باب فضل الاذان کے بعد کے باب میں ذکر کی جا چکی ہے (یعنی اس حدیث کو صاحب مصابیح نے یہاں ذکر کیا تھا مگر ہم نے اسے وہاں نقل کردیا ہے۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِیُؤَذِّنَ لَکُمْ خِیَارُکُمْ وَلْیَؤْمَّکُمْ قُرَّاءَ کُمْ۔ (رواہ ابوداؤد)
حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو لوگ بہتر ہیں انہیں اذان دینی چاہیے اور تم میں جو لوگ خوب تعلیم یافتہ ہوں انہیں تمہاری امامت کرنی چاہیے۔ (ابوداؤد)
تشریح
نماز و روزے کے اوقات کی ذمہ داری مؤذنوں پر ہی ہوتی ہے نیز جب مؤذن بلند جگہ پر کھڑے ہو کر آذان دیتا ہے تو بسا اوقات اس کی نظر لوگوں کے گھروں پر پڑتی ہے لہٰذا مؤذن اگر صاحب دیانت اور دیندار متقی ہوگا تو وہ نماز روزے کے اوقات کی بھی رعایت کرے گا اور اپنی نظر کو غیر محرم پر پڑنے سے بھی بچائے گا۔
وَعَنْ اَبِیْ عَطِیَّۃَ الْعُقَیْلِیْ قَالَ کَانَ مَالِکُ بْنُ الْحَوَیْرِثِ یَأتِیْنَا اِلٰی مُصَلَّانَا یَتَحَدَّثُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاۃُ یَوْمًا قَالَ اَبُوْ عَطِیَّۃَ فَقُلْنَا لَہ، تَقَدَّمْ فَصَلِّہٖ قَالَ لَنَا قَدِّ مُوْارَجُلًا مِنْکُمْ یُصَلِّی بِکُمْ وَ سَأُحَدِّ ثُکُمْ لِمَ لَا اُصَلِّی بِکُمْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَا یُؤُمَّھُمْ رَجُلٌ مِنْھُمْ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَالتِّرْمِذِیُّ وَالنِّسَائِیُّ اِلَّا اَنَّہ، اِقْتَصَرَ عَلَی لَفْظِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم۔
اور حضرت ابوعطیہ عقیلی (رح) (تابعی) فرماتے ہیں کہ حضرت مالک ابن حویرث ؓ (صحابی) مسجد میں آیا کرتے تھے اور (ہمارے سامنے رسول اللہ ﷺ کی) حدیث بیان کرتے (اور بات چیت کرتے رہتے) تھے ایک دن (جب کہ وہ ہمارے درمیان مسجد میں موجود تھے) نماز کا وقت ہوگیا۔ ابوعطیہ فرماتے ہیں کہ ہم نے مالک سے (ان کی شان صحابیت کی عظمت و فضیلت کے پیش نظر) کہا کہ آگے ہوجائیے اور ہمیں نماز پڑھائیے حضرت مالک نے فرمایا کہ تم اپنے ہی میں سے کسی کو آگے کرو تاکہ وہ تمہیں نماز پڑھائے اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ میں نماز کیوں نہیں پڑھاتا (تو سنو کہ) میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جو آدمی کسی قوم سے ملاقات کرے تو وہ ان کی امامت نہ کرے (بلکہ ان میں سے کسی آدمی کو ان کی امامت کرنی چاہیے۔ (ابوداؤد، جامع ترمذی) نسائی نے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے مگر انہوں نے صرف رسول اللہ ﷺ ذکر نہیں کیا بلکہ صرف رسول اللہ ﷺ کے الفاظ پر اکتفاء کیا ہے یعنی انہوں نے اپنی روایت میں حضرت مالک کے مسجد میں آنے کا واقعہ اور ان کا امامت سے انکار کرنا ذکر نہیں کیا بلکہ صرف رسول اللہ ﷺ کے الفاظ من زاد سے آخر تک نقل کیا ہے)
تشریح
حضرت مالک نے اپنی فضیلت و بڑائی اور ان لوگوں کی اجازت کے باوجود امامت کا فریضہ انجام نہیں دیا کیونکہ ان کے سامنے رسول اللہ ﷺ کا یہ اشارہ تھا کہ انہوں نے بظاہر حدیث پر عمل کرنا ہی اپنے حق میں بہتر سمجھا۔
نا بینے آدمی کی امامت جائز ہے
وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ اَسْتَخْلَفَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ابْنَ اُمِّ مَکْتُوْمٍ یُؤُمَّ النَّاسَ وَھُوَ اَعْمٰی۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبدا اللہ ابن ام مکتوم ؓ کو اپنا قائم مقام مقرر کیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں اور وہ نابینا تھے۔ (سنن ابوداؤد)
تشریح
اس حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نا بینے کی امامت بلا کراہت جائز ہے اس سلسلے میں حنفی مسلک میں یہ فقہی روایتیں بھی وارد ہیں کہ اگر نابینا قوم کا سردار ہو تو اس کی امامت جائز ہے بلکہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اگر نابینا بہت زیادہ علم کا حامل ہو تو امامت کے سلسلے میں وہ اولیٰ ہے۔ (شرح کنز، اشباہ و النظائر)
نا پسندیدہ امام کی نماز قبول نہیں ہوتی
وَعَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَـلَاثَۃٌ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُھِمْ اَذَا نُھُمْ اَلْعَبْدُ الْاٰبِقُ حَتّٰی یَرْجِعَ وَ امْرَأَۃٌ بَاتَتْ وَزَوْجُھَا عَلَیْھَا سَاخِطٌ وَاِمَامُ قَوْمٍ وَھُمْ لَہ، کَارِھُوْنَ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ۔
اور حضرت ابوامامہ ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تین آدمی ایسے ہیں جن کی نماز ان کے کانوں سے بلند نہیں ہوتی (یعنی درجہ قبولیت کو نہیں پہنچتی) ایک تو اپنے مالک کے ہاں سے بھاگا ہوا غلام جب تک کہ وہ (اپنے مالک کے پاس) واپس نہ آجائے دوسری وہ عورت جو اس حالت میں رات گزرا دے کہ اس کا خاوند اس سے ناراض ہو تیسرا وہ امام جسے اس کی قوم پسند نہ کرتی ہو۔ (امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے)
تشریح
غلام کے حکم میں باندی بھی داخل ہے یعنی اگر باندی بھی اپنے آقا کے ہاں سے بھاگ جائے تو اس کا بھی یہی حال ہوگا کہ جب تک وہ اپنے آقا کے پاس واپس نہ آجائے گی اس کی نماز قبول نہیں ہوگی۔ عورت کے بارے میں جو فرمایا گیا ہے تو یہ اس شکل میں ہے جب کہ عورت بدخلق ہو اور اس کا خاوند اس کی بد خلقی، نافرما نبرداری اور بےادبی کی وجہ سے اس سے ناراض ہو اور اگر خاوند ہی بدخلق ہو اور اپنی بیوی سے ناحق ناراض و خفا ہے تو عورت گنہگار نہیں ہوگی بلکہ مرد ہی گنہگار ہونگے۔ امام کے بارے میں حضرت ابن ملک (رح) فرماتے ہیں کہ امام پر یہ گناہ اس وقت ہوگا جب کہ اس کی بدعت اور اس کے فسق یا اس کے جہل کی وجہ سے اس کے مقتدی اس سے ناراض ہوں اور اگر مقتدی کسی دینوی غرض کے تحت اس سے کراہت و عداوت رکھتے ہوں تو امام مطلقاً گنہگار نہیں ہوگا اور نہ ایسے امام کے حق میں حدیث کا مذکورہ بالا حکم ہے بلکہ مقتدی ہی گنہگار رہیں گے۔ اتنی بات سمجھ لیجئے کہ حدیث میں مذکورہ امام سے مراد بھی نماز کا امام بھی ہے اور حاکم و خلیفہ بھی یعنی اگر کسی حاکم اور خلفیہ سے اس کی رعایا اس کی بداعمالیوں اور غلط کاریوں کی وجہ سے نا خوش ہوگی تو وہ بھی ایسا ہی گنہگار ہوگا۔
تین آدمیوں کی نماز قبول نہیں ہوتی
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَـلَاثَۃٌ لَا تُقْبَلُ مِنْھُمْ صَلَا تُھُمْ مَنْ تَقَدَّم قَوْمًا وَھُمْ لَہ، کَارِھُوْنَ وَرَجُلٌ اَتَی الصَّلَاۃَ دِبَارًا وَالدِّبَارُاَنْ یَأتِیَھَا بَعْدَاَنْ تَفُوْتَہ، وَرَجُلٌ اعْتَبَدَ مُحَرَّرَہ،۔ (رواہ ابوداؤد و ابن ماجۃ)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین آدمی ایسے ہیں جن کی نماز قبول نہیں ہوتی (یعنی انہیں نماز کا ثواب نہیں ملتا) ایک تو وہ آدمی جو کسی قوم کا امام ہو اور قوم اس سے خوش نہ ہو دوسرا آدمی جو نماز میں پیچھے آئے اور پیچھے کا مطلب یہ ہے کہ نمازوں کا (مستحب) وقت نکل جانے کے بعد آئے اور تیسرا وہ آدمی جو آزاد کو غلام سمجھے۔ (سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ)
تشریح
اعتبد محروۃ (آزاد کو غلام سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ غلام کو آزاد کر دے اور پھر بعد میں زبردستی اس سے خدمت لینے لگے یا غلام کو آزاد کردیا مگر اس کی آزادی کو خود اس غلام سے چھپائے یا کسی آزاد آدمی کے بارے میں دعوی کرے کہ یہ میرا غلام ہے اور اس کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک بھی کرے۔ یا بردہ ( غلام) مول لے کر اس پر مالکانہ تصرف کرے مگر حقیقت میں اس کی خریداری شرعی طور پر نہ ہوئی ہو جیسا کہ لوگ غیر شرعی طور پر غلام اور لونڈی مول لیتے ہیں۔ شرعی غلام اور لونڈی کی تفصیل فقہاء اس طرح لکھتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کی جماعت دارالاسلام سے دارالحرب جا کر غلبہ حاصل کرے اور زبر دستی حربی کافر کو خواہ مرد ہوں یا عورت خواہ بڑے ہوں یا چھوٹے غلام اور لونڈی بنا کر دارالاسلام میں لائے یا۔ اسی طرح کسی ملک کے حربی کفار دوسرے ملک کے حربی کفار پر غلبہ حاصل کر کے انہیں زبردستی لے آئیں تو ان دونوں صورتوں میں غلام اور لونڈی بنانے والے خواہ وہ مسلمان ہوں یا کافر ان غلاموں اور لونڈیوں کے مالک ہوتے ہیں ان غلاموں اور لونڈیوں کی خریدو فروخت کرنا ان کو رہن رکھنا ان کو ہبہ کرنا، لوندیوں کے ساتھ بغیر نکاح کا ہم بستری کرنا اور اسی طرح ان پر تمام مالکانہ تصرفات کرنے جائز ہیں نیز اس صورت میں لونڈی کی اولاد بھی ان ہی کا حکم رکھتی ہے بشرطیکہ وہ مالک یا ذی رحم مالک سے پیدا نہ ہو اور اگر ان میں سے کسی سے پیدا ہوگی تو وہ آزاد ہوگی بہر حال فقہاء نے بردے کی یہ دونوں قسمیں لکھ کر مزید قسمیں بھی لکھی ہیں اور ان میں سے بعض کے بارے میں کہا ہے کہ ان صورتوں میں شرعی بردے نہیں ہوتے اور بعض کے بارے میں اختلاف کیا ہے لیکن صحیح یہی ہے کہ مذکورہ بالا دونوں قسموں کے علاوہ اور کسی صورت میں شرعی بردے نہیں ہوتے اور نہ ان کی خریدو فروخت شرعی طور پا جائز ہوتی ہے۔ لہٰذا مسلمان کو چاہیے کہ وہ غلام اور لونڈی کے بارے میں احتیاط سے کام لیں اگر شرعی لونڈی ہو تو اسے خدمت میں لائیں ورنہ ایسا نہ کریں کہ جس پر بھی لونڈی ہوجانے کا داغ لگ جائے اگر وہ شرعی لونڈی نہ ہو تو جانوروں کی طرح اندھا دھند اس سے صحبت نہ کرنے لگیں کہ درحقیقت ایسا کرنا حرام کاری اور زنا میں مبتلا ہونا ہے اسی طرح اس کے ساتھ دیگر مالکانہ تصرفات بھی نہ کئے جائیں۔
امامت سے عام گریز قیامت کی علامت ہے
وَعَنْ سُلاَمَۃَ بِنْتِ الْحُرِّ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ مِنْ اَشْرَاطِ السَّاعَۃِ اَنْ یَتَدَافَعَ اَھْلُ الْمَسْجِدِ لَا یَجِدُوْنَ اِمَامًا یُصَلِّی بِھِمْ۔( رواہ احمد بن حنبل و ابوداؤد و ابن ماجۃ)
اور حضرت سلامۃ بنت حر راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کی علامتوں میں سے (ایک علامت یہ ہے کہ مسجد کے لوگ امامت کو دفع کریں گے یعنی امام بننے سے گریز کریں گے) اور کوئی نماز پڑھانے والا ان کو نہ ملے گا۔ (مسند احمد بن حنبل، ابوداؤد، سنن ابن ماجہ)
تشریح
یہ دراصل آخری زمانے کے عام جہل و فسق سے کنایہ ہے کہ قیامت کے قریب جہل و فسق عمومی طور پر اس طرح پھیل جائے گا۔ اور لوگ اتنے جاہل و نااہل پیدا ہوں گے کہ کوئی آدمی امامت کا اہل نہیں ہوگا تمام لوگ اپنی نا اہلی و جہالت کے پیش نظر امامت سے گریز کرنے لگیں گے اور آس پاس میں ایک دوسرے سے نماز پڑھانے کے لئے کہیں گے مگر ہر آدمی امام بننے سے انکار کرے گا۔ ہاں اگر کوئی آدمی کسی کو اپنے سے افضل سمجھ کر خود امامت سے گریز کرے اور اس سے نماز پڑھانے کے لئے کہے تو اس کا تعلق اس حدیث سے نہیں ہوگا کیونکہ دوسرے کو افضل اور اپنے سے بہتر سمجھ کر خود امامت سے گریز کرنا اور اس افضل کو امامت کے لئے کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
وَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْجِھَادٌ وَاجِبٌ عَلَیْکُمْ مَعَ کُلِّ اَمِیْرٍ بَرًّاکَانَ اَوْ فَاجِرً وَاِنْ عَمِلَ الْکَبَائِرَ وَ الصَّلَاۃُ وَاجِبَۃٌ عَلَیْکُمْ خَلْفَ کُلِّ مُسْلِمْ بَرًّاکَانَ اَوْفَاجِرًا وَاِنْ عَمِلَ الْکَبَائِرَ وَالصَّلَاۃُ وَاجِبَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ بَرًّاکَانَ اَوْفَاجِرً وَاِنْ عَمِلَ الْکَبَائِرَ۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے اوپر جہاد ہر سردار کے ہمراہ خواہ وہ نیک ہو یا بد واجب ہے اگرچہ وہ (سردار) گناہ کبیرہ کرتا ہو اور تم پر نماز ہر مسلمان کے پیچھے واجب ہے خواہ وہ (نماز پڑھانے والا) نیک ہو یا بد واجب ہے اگرچہ گناہ کبیرہ کرتا ہو اور نماز جنازہ ہر مسلمان پر واجب ہے خواہ نیک ہو یا بد اگرچہ گناہ کبیرہ کرتا ہو۔ (ابوداؤد)
تشریح
جہاد واجب ہے کا مطلب یہ ہے کہ بعض صورتوں میں تو جہاد فرض عین ہے اور بعض صورتوں میں فرض کفایہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر مسلمان کے پیچھے نماز پڑھی جاسکتی ہے خواہ وہ فاسق ہی کیوں نہ ہو بشرطیکہ اس کا فسق کفر کی حد تک نہ پہنچ چکا ہو فاسق کے پیچھے نماز ادا تو ہوجاتی ہے لیکن اس کے پیچھے نماز پڑھنا بہر حال مکروہ ہے۔ علماء لکھتے ہیں کہ نیک بخت کی موجودگی میں فاسق کو امامت نہیں کرنی چاہیے۔ نماز جنازہ کے واجب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان پر جنازہ کی نماز پڑھنا فرض کفایہ ہے۔
نا بالغ کی امامت کا مسئلہ
عَنْ عَمْرِوبْنِ سَلِمَۃَص قَالَ کُنَّا بِمَآءٍ مَمَرِّ النَّاسِ ےَمُرُّ بِنَاالرُّکْبَانُ نَسْاَلُھُمْ مَا لِلنَّاسِ مَا ھٰذَا الرَّجُلُ فَےَقُوْلُوْنَ ےَزْعَمُ اَنَّ اللّٰہَ اَرْسَلَہُ اَوْحٰی اِلَےْہِ اَوْحٰی اِلَےْہِ کَذَا وَکُنْتُ اَحْفَظُ ذَالِکَ الْکَلَامَ فَکَاَنَّمَا ےُغَرّٰی فِیْ صَدْرِیْ وَکَانَتِ الْعَرَبُ تَلَوَّمُ بِاِسْلَامِھِمْ الْفَتْحَ فَےَقُوْلُوْنَ اُ تْرُکُوْہُ وَقَوْمَہُ فَاِنَّہُ اِنْ ظَھَرَ عَلَےْھِمْ فَھُوَ نَبِیٌّ صَادِقٌ فَلَمَّا کَانَتْ وَقْعَۃُ الْفَتْحِ بَادَرَ کُلُّ قَوْمٍ بِاِسْلَامِھِمْ وَبَدَرَ اَبِیْ قَوْمِیْ بِاِسْلَامِھِمْ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ جِئْتُکُمْ وَاللّٰہِ مِنْ عِنْدِالنَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلمحَقًّا فَقَالَ صَلُّوْا صَلٰوۃَ کَذَا فِیْ حِےْنِ کَذَا وَصَلٰوۃَ کَذَا فِیْ حِےْنِ کَذَا فَاِذَا حَضُرَتِ الصَّلٰوۃُ فَلْےُؤَذِّن ْ اَحَدُکُمْ فَلْےَؤُمَّکُمْ اَکْثَرُکُمْ قُرْاٰنًا فَنَظَرُوْا فَلَمْ ےَکُنْ اَحَدٌ اَکْثَرُ قُرْاٰناً مِّنِّیْ لِمَا کُنْتُ اَتَلَقّٰی مِنَ الرُّکْبَانِ فَقَدَّمُوْنِیْ بَےْنَ اَےْدِےْھِمْ وَاَنَا ابْنُ سِتٍّ اَوْ سَبْعِ سِنِےْنَ وَکَانَتْ عَلَیَّ بُرْدَۃٌ کُنْتُ اِذَا سَجَدْتُّ تَقَلَّصَتْ عَنِّیْ فَقَالَتِ امْرَاَۃٌ مِّنَ الْحَیِّ اَلَّا تَغُطُّوْنَ عَنَّا اسْتَ قَارِئِکُمْ فَاشْتَرَوْا فَقَطَعُوْا لِیْ قَمِےْصًا فَمَا فَرِحْتُ بِشَیءٍ فَرَحِیْ بِذَالِکَ الْقَمِےْصِ۔(صحیح البخاری)
حضرت عمرو ابن سلمہ ؓ فرماتے ہیں کہ ہم پانی کے کنارے رہتے تھے جو لوگوں کی گزر گاہ تھا قافلے ہمارے پاس سے گزرتے ہم ان سے پوچھتے تھے کہ لوگوں کے واسطے (ایک آدمی یعنی رسول اللہ ﷺ نے جو دین نکالا ہے وہ) کیا ہے؟ اور اس آدمی (یعنی حضرت محمد ﷺ کی صفات کیا ہیں؟ وہ لوگ ہم سے بیان کرتے کہ وہ (رسول ﷺ دعوی کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں (اپنا نبی برحق بنا) کر بھیجا ہے اور (قافلے کے لوگ قرآن کی آیتیں سنا کر کہا کرتے تھے کہ یہ) ان کے پاس وحی آتی ہے (اس طرح) ان کے پاس وحی آتی ہے چناچہ میں (رسول اللہ ﷺ کے اوصاف کو جو قافلے والے بیان کرتے تھے اور کلام کو) یعنی قافلے والے جو آیتیں پڑھ کر سنایا کرتے ان کو اس طرح یاد کرلیتا تھا گویا وہ میرے سینے میں جم جاتی تھیں (یعنی قرآن کی آیتیں مجھے خود یاد ہوجایا کرتی تھیں) اہل عرب (رسول اللہ ﷺ کی جماعت کے علاوہ) اسلام لانے کے سلسلے میں مکہ کے فتح ہونے کا انتظار کر رہے تھے (یعنی یہ کہتے تھے کہ اگر مکہ فتح ہوگیا تو ہم اسلام لائیں گے اور یہ) کہا کرتے تھے تھے ان (رسول ﷺ کو ان کی قوم پر چھوڑ دو اگر وہ اپنے لوگوں پر غالب آگئے اور مکہ کو فتح کرلیا) تو سمجھو کہ وہ سچے نبی ہیں (کیونکہ ان کی اس ظاہری بےسروسامانی اور مادی کمزوری کے باوجود اہل عرب پر غالب آجانا اور مکہ کو فتح کرلینا ان کا معجزہ ہوگا اور معجزہ صرف سچے نبی ہی سے صادر ہوسکتا ہے چناچہ جب اللہ نے اپنے دین کا بول بالا کیا اور مکہ فتح ہوگیا تو لوگ اسلام قبول کرنے کے لئے ٹوٹ پڑے میرے والد نے اپنی قوم پر پہل کی اور سب سے پہلے اسلام لے آئے جب وہ یعنی میرے والد لوٹ کر آئے تو اپنی قوم سے کہنے لگے کہ اللہ کی قسم! میں سچے نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ فلاں وقت میں ایسی ( اور اتنی) نماز پڑھو اور فلاں وقت میں ایسی (اور اتنی) نماز پڑھو (یعنی آپ نے نماز کی کیفیات اور اوقات بیان کئے) اور جب نماز کا وقت ہوجائے تو تم میں سے ایک آدمی اذان دے اور تم میں سے جو آدمی قرآن زیادہ جاننے والا ہو وہ تمہاری امامت کرائے چناچہ جب نماز کا وقت آیا اور جماعت کی تیاری ہوئی تو لوگوں نے آپس میں دیکھا ( کہ امام کسے بنایا جائے! ) مجھ سے زیادہ کوئی قرآن کا جاننے والا نہیں تھا کیونکہ میں (پہلے ہی سے) قافلے والوں سے قرآن سیکھ رہا تھا چناچہ لوگوں نے مجھے آگے کردیا (اور نماز میں میری اقتداء کی) اس وقت میری عمر چھ یا سات سال کی تھی اور میرے بدن پر فقط ایک چادر تھی چناچہ جب میں سجدہ کرتا تو وہ چادر میرے بدن سے سرک جاتی تھی (اور کو لھے کھل جاتے تھے) قوم میں سے ایک عورت نے (یہ دیکھ کر) کہا کہ ہمارے سامنے سے تم لوگ اپنے امام کی شرم گاہ کیوں نہیں ڈھانکتے؟ تب قوم نے کپڑا خریدا اور میرے لئے کرتہ بنوا دیا اس مرتبے کی وجہ سے مجھے جیسی خوشی ہوئی ایسی خوشی کبھی نہیں ہوئی تھی۔ (صحیح البخاری)
تشریح
عام طور پر سلمہ لام کے زبر کے ساتھ ہے مگر یہ عمرو جو قوم کے امام بنے تھے ان کے والد کے نام سلمہ میں لام زبر کے ساتھ ہے۔ اس کے بارے میں علماء کے ہاں اختلاف ہے کہ عمرو ابن سلمہ بھی اپنے والد کے ہمراہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اسلام قبول کرنے گئے یا نہیں؟ اسی وجہ سے اس بات میں اختلاف ہے کہ آیا یہ صحابی نہیں یا ہیں؟ بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کے والد تنہا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گئے تھے یہ ان کے ساتھ نہیں گئے تھے۔ حضرت امام شافعی (رح) لڑکے کی امامت کے جواز میں اسی حدیث سے استدالال کرتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نابالغ لڑکے کی امامت جائز ہے البتہ جمعے کی نماز میں نابالغ لڑکے کی امامت کے سلسلے میں امام شافعی کے دو قول ہیں ایک قول سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ جمعے کی نماز میں بھی لڑکے کی امامت کے جواز کے قائل ہیں اور دوسرے قول سے عدم جواز کا اثبات ہوتا ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم فرماتے ہیں کہ نابالغ کی امامت جائز نہیں ہے البتہ نفل نماز کے سلسلہ میں علماء حنفیہ کے ہاں اختلاف ہے چناچہ بلح کے مشائخ نماز میں نابالغ لڑکے کی امامت کے جواز کے قائل ہیں اور اسی پر ان کا عمل ہے نیز مصر اور شام میں بھی اس پر عمل کیا جاتا ہے ان کے علاوہ دیگر علماء نے نفل نماز میں بھی نابالغ لڑکے کی امامت کو ناجائز قرار دیا ہے چناچہ علماء ماوراء النہر کا عمل اسی پر ہے۔ زیلعی نے شرح کنز میں اس مسئلے کے متعلق کہا ہے کہ امام شافعی نے اس مسئلے میں کہ نابالغ لڑکے کی امامت جائز ہے حضرت عمرو ابن سلمہ کے اس قول فقد مونی الخ سے استدلال کیا ہے لیکن ہمارے (یعنی حنیفہ کے) نزدیک حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کے اس قول کی روشنی میں کہ وہ لڑکا جس پر حدود واجب نہیں ہوئی امامت نہ کرے نابالغ لڑکے کی امامت جائز نہیں ہے اسی طرح حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کا قول بھی یہی ہے کہ لڑکا جب تک محتلم (یعنی بالغ) نہ ہوجائے امامت نہ کرے۔ لہٰذا یہ جائز نہیں ہے کہ فرض نماز پڑھنے والا نابالغ لڑکے کی اقتداء کرے جہاں تک عمرو ابن سلمہ کی امامت کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں یہ کہا جائے گا کہ ان کی امامت رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کی بنا پر نہیں تھی بلکہ یہ ان کی قوم کے لوگوں کے اپنے اجتہاد تھا کہ عمرو چونکہ قافلے کے لوگوں سے قرآن کریم سیکھ چکے تھے اس لئے ان کو امام بنادیا۔ بڑے تعجب کی بات ہے کہ حضرات شوافع حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق ؓ اور دوسرے بڑے بڑے صحابہ رضوان اللہ علہیم اجمعین کے اقوال سے تو استدلال نہیں کرتے۔ ایک نابالغ لڑکے (عمرو ابن سلمہ) کے فعل کو مستدل بناتے ہیں۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَص قَالَ لَمَّا قَدِمَ الْمُھَاجِرُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ الْمَدِےْنَۃَ کَانَ ےَؤُمُّھُمْ سَالِمٌ مَّوْلٰی اَبِیْ حُذَےْفَۃَ وَفِےْھِمْ عُمَرُ وَ اَبُوْ سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِالْاَسَدِ۔
اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ مدینہ میں پہلے آنے والے مہاجرین آئے تو ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام حضرت سالم ؓ انہیں نماز پڑھاتے تھے اور ان (مقتدیوں) میں حضرت عمر، حضرت ابوسلمہ ابن عبدالاسد ؓ (بھی) ہوتے تھے۔ (صحیح البخاری )
تشریح
حضرت سالم ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام اور بہت اچھے قاری تھے ان کا شمار نہایت بزرگ اور اونچے درجے کے قراء صحابہ میں ہوتا تھا رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا تھا کہ قرآن کریم چار لوگوں سے حاصل کرو اور ان چار لوگوں میں حضرت سالم کا نام بھی شمار کیا تھا۔ حضرت عمر حضرت ابوسلمہ ابن عبدالاسد اور ان جیسے دوسرے جلیل القدر اور باعظمت و فضیلت صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی موجودگی میں حضرت سالم ؓ کے امام مقرر ہونے کی وجہ یا تو یہ تھی کہ یہ بہت اچھے قاری تھے یا پھر اس میں کوئی اور مصلحت ہوگی۔
وہ لوگ جن کی نماز قبول نہیں ہوتی
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَۃٌ لَا تُرْفَعُ لَھُمْ صَلَاتُھُمْ فَوْقَ رَؤُسِھِمْ شِیْرًا رَجُلٌ اَمَّ قَوْمًا وَھُمْ لَہ، کَارِھُوْنَ وَامْرَأۃٌ بَاتَتْ وَزَوْجُھَا عَلَیْھَا سَاخِطٌ وَاَخْوَانٍِ مُتَصَارِ مَانِ۔( رواہ ابن ماجۃ)
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین طرح کے لوگ ایسے ہیں جن کی نماز ان کے سروں سے بالشت بھر (بھی) بلند نہیں ہوتی (یعنی درجہ قبولیت کو نہیں پہنچتی) ایک تو وہ آدمی جو قوم کا امام ہو اور انہیں اس سے (دینی امور) میں نا خوشی ہو۔ دوسرے وہ عورت جو اس حالت میں رات گزارے کہ اس کا خاوند (اس کی نافرمانی یا اس کی جانب سے اپنے حق کی عدم ادائیگی کی وجہ سے) خفا ہو تیسرے ایسے دو بھائی جو آپس میں نا خوش ہوں۔ (سنن ابن ماجہ)
امام پر لازم چیزوں کا بیان
اس باب کے تحت وہ احادیث نقل کی جائیں گی جن سے معلوم ہوگا کہ مقتدیوں کی رعایت کے سلسلے میں امام کے لئے کیا چیزیں ضروری ہیں۔
نماز کو بھاری نہیں بنانا چاہیے
عَنْ اَنَسٍ ص قَالَ مَا صَلَّےْتُ وَرَآءَ اِمَامٍ قَطُّ اَخَفَّ صَلٰوۃً وَّلَا اَتَمَّ صَلٰوۃً مِّنَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم وَاِنْ کَانَ لَےَسْمَعُ بُکَآءَ الصَّبِیِّ فَےُخَفِّفُ مَخَافَۃَ اَنْ تُفْتَنَ اُمُّہُ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی نماز سے زیادہ ہلکی اور کامل نماز کسی امام کے پیچھے نہیں پڑھی اور آپ ﷺ کی (عادت تھی کہ) جب آپ نماز میں کسی بچے کے رونے کی آواز سنتے تو اس اندیشے سے کہ اس کی ماں کہیں فکر مند نہ ہوجائے نماز کو ہلکا کردیتے تھے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حدیث کے اول جز کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی نماز باوجود پورے کمال و اتمام کے بہت ہلکی ہوتی تھی اور ہلکی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ قرأت اور تسبیحات حد سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے اور قرأت میں بےمحل مدوشد نہیں کرتے تھے بلکہ آپ کی قرأت بےتکلف اور ترتیل کے ساتھ ہوتی تھی اور یہ تو رسول اللہ ﷺ کی قرأت کی خاصیت تھی کہ اگرچہ وہ طویل ہوتی تھی مگر لوگوں کو ہلکی معلوم ہوتی تھی۔ حاصل یہ کہ آپ ﷺ کی قرأت ہلکی ہوتی تھی اور رکوع و سجود نیز تعدیل ارکان وغیرہ میں کوئی کمی نہیں ہوتی تھی۔ حنفی مسلک میں یہ مسئلہ ہے کہ امام کے لئے مناسب نہیں ہے کہ تسبیحات وغیرہ کو اتنا طویل کرے کہ لوگ ملول ہوں کیونکہ نماز کو زیادہ طویل کرنا نماز کی طرف سے لوگوں کو بےتوجہ بنانا ہے اور یہ مکروہ ہے ہاں اگر مقتدیوں ہی کی یہ خواہش ہو کہ قرأت و تسبیحات وغیرہ طویل ہوں تو پھر ان میں امام زیادتی کرسکتا ہے اس میں کوئی مضائقہ نہیں اس امام کو یہ بھی نہیں چاہیے کہ مقتدیوں کو خوش کرنے کی غرض سے قرأت اور تسبیحات میں اس درجے سے بھی کمی کر دے جو سب سے کم مسنون درجہ ہے۔ حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز میں کسی بچے کے رونے کی آواز سنتے تو نماز ہلکی کردیا کرتے تھے۔ تاکہ اس بچے کی ماں جو جماعت میں شامل ہوتی، بچے کی طرف سے فکر میں نہ پڑجائے اور جس کی وجہ سے اس کی نماز کا حضور اور خشوع و خضوع ختم ہوجائے۔ خطابی نے اس جملہ کے فائدے میں کہا ہے کہ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ امام رکوع میں ہونے کی حالت میں اگر آہٹ پائے کہ کوئی آدمی نماز میں شریک ہونے کا ارادہ رکھتا ہے تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ رکوع میں اس آدمی کا انتظار کرے تاکہ وہ آدمی رکعت حاصل کرے مگر بعض حضرات نے اسے مکروہ قرار دیا ہے بلکہ ان حضرات کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے والے کے بارے میں یہ خوف ہے کہ وہ کہیں شرک کی حد تک پہنچ جائے گا۔ چناچہ یہی مسلک حضرت امام مالک کا بھی ہے۔ حنفی مسلک یہ ہے کہ امام اگر رکوع کو تقرب الی اللہ کی نیت سے نہیں بلکہ اس مقصد سے طویل کرے گا کہ کوئی آنے والا آدمی رکوع میں شامل ہو کر رکعت پالے تو یہ مکروہ تحریمی ہوگا۔ بلکہ اس سے بھی بڑے گناہ کے مرتکب ہونے کا احتمال ہوسکتا ہے تاہم کفر و شرک کی حد تک نہیں پہنچے گا کیونکہ اس سے اس کی نیت غیر اللہ کی عبادت بہر حال نہیں ہوگی۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ اگر امام آنے والے کو پہچانتا نہیں ہے تو اس شکل میں رکوع کو طویل کرنے کا کوئی مضائقہ نہیں ہے لیکن صحیح یہی ہے کہ اس کا ترک اولیٰ ہے ہاں اگر کوئی امام تقرب الی اللہ کی نیت سے رکوع کو طویل کرے اور اس پاک جذبے کے علاوہ کوئی دوسرا مقصد نہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن اس میں شک نہیں کہ ایسی حالت کا ہونا چونکہ نادر ہے اور پھر یہ کہ اس مسئلے کا نام ہی مسئلہ الریا ہے اس لئے اس سلسلے میں کمال احتیاط ہی اولیٰ ہے۔
نماز کو بھاری نہیں بنانا چاہیے
عَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنِّیْ لَاَدْخُلُ فِی الصَّلٰوۃِ وَاَنَا اُرِےْدُ اِطَالَتَھَا فَاَسْمَعُ بُکَآءَ الصَّبِیِّ فَاَتَجَوَّزُ فِیْ صَلٰوتِیْ مِمَّا اَعْلَمُ مِنْ شِدَّۃِ وَجْدِ اُمِّہٖ مِنْ بُکَآئِہٖ۔ (صحیح البخاری)
اور حضرت قتادہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نماز میں داخل ہوتا ہوں تو نماز کو طویل کرنے کا ارادہ کرتا ہوں مگر جب بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو یہ جان کر کہ بچے کے رونے کی وجہ سے اس کی ماں سخت فکر مند ہوگی نماز میں تخفیف کردیتا ہوں۔ (صحیح البخاری)
نماز کو بھاری نہیں بنانا چاہیے
عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا صَلّٰی اَحَدُکُمْ لِلنَّاسِ فَلْےُخَفِّفْ فَاِنَّ فِےْھِمُ السَّقِےْمَ وَالضَّعِےْفَ وَالْکَبِےْرَ وَاِذَا صَلّٰی اَحَدُکُمْ لِنَفْسِہٖ فَلْےُطَوِّلْ مَا شَآئَ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی لوگوں کو نماز پڑھائے تو اسے چاہیے کہ نماز کو ہلکا کرے کیوں کہ مقتدیوں میں بیمار کمزور اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں (ور ان کی رعایت ضروری ہے) اور جب تم میں سے کوئی آدمی تنہا اپنی نماز پڑھے تو اسے اختیار ہے کہ جس قدر چاہے نماز کو طویل کرے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں امام کے لئے یہ ہدایت دے دی گئی ہے کہ وہ نماز پڑھاتے وقت مقتدیوں کی رعایت ضرور کرے اس بات کا لحاظ رکھے کہ مقتدیوں میں بیمار بوڑھے اور کمزور لاغر لوگ بھی ہوں گے جو نماز کی طوالت سے تکلیف و پریشانی میں مبتلا ہوجائیں گے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ پریشانی اور تکلیف سے بچنے کی خاطر جماعت میں شریک ہونا ہی چھوڑ دیں اس لئے ان کی رعایت کے پیش نظر نماز ہلکی ہی پڑھانی چاہیے ہاں اگر کوئی آدمی تنہا نماز پڑھ رہا ہو تو اسے اختیار ہے کہ جس قدر چاہیے طویل نماز پڑھے۔ اسی طرح اگر تمام مقتدی حضور قلب کے حامل ہوں اور نماز کی طوالت سے گھبراتے نہ ہوں نیز مذکورہ بالا لوگوں میں سے یعنی بیمار و ضعیف وغیرہ نہ ہوں تو اس شکل میں بھی امام جس قدر چاہے طویل نماز پڑھائے۔
نماز کو بھاری نہیں بنانا چاہیے
عَنْ قَےْسِ بْنِ اَبِیْ حَازِمٍ صقَالَ اَخْبَرَنِیْ اَبُوْ مَسْعُوْدٍ صاَنَّ رَجُلًا قَالَ وَاللّٰہِ ےَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ لَأ تَاَخَّرُ عَنْ صَلٰوۃِ الْغَدَاۃِ مِنْ اَجْلِ فُلَانٍٍ مِمَّا ےَطِےْلُ بِنَا فَمَا رَاَےْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فِیْ مَوْعِظَۃٍ اَشَدَّ غَضَبًا مِنْہُ ےَوْمَئِذٍ ثُمَّ قَالَ اِنَّ مِنْکُمْ مُنَفِّرِےْنَ فَاَےُّکُمْ مَا صَلّٰی ِبالنَّاسِ فَلْےَتَجَوَّزْ فَاِنَّ فِےْھِمُ الضَّعِےْفَ وَالْکَبِےْرَ وَذَاالْحَاجَۃِ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت قیس ابن ابی حازم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ نے مجھ سے فرمایا کہ (ایک دن) ایک آدمی نے ( رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر) کہا کہ یا رسول اللہ ؓ! میں صبح کی نماز سے اس لئے پیچھے رہ جاتا ہوں کہ فلاں آدمی ہمیں بہت لمبی نماز پڑھاتا ہے ابومسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نصیحت کرنے کے بارے میں اس دن جیسے غصے میں بھرے ہوئے کبھی نہیں دیکھا چناچہ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو نصیحت کرنے کے بارے میں اس دن جیسا غصہ میں بھرے ہوئے کبھی نہیں دیکھا چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے بعض لوگ (طویل نماز پڑھا کر جماعت سے) لوگوں کو نفرت دلانے والے ہیں (خبردار) تم میں سے جو آدمی لوگوں کو نماز پڑھائے تو اسے چاہیے کہ وہ ہلکی نماز پڑھائے کیونکہ مقتدیوں میں کمزور، بوڑھے اور حاجت مند لوگ بھی ہوتے ہیں۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)