نماز کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 11 · 527 hadiths · Page 21 of 27

1102Mishkaat-al-Masabih

غلط نماز پڑھانے والا امام اپنی غلطی کا خمیازہ خود بھگتے گا

عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےُصَلُّوْنَ لَکُمْ فَاِنْ اَصَابُوْا فَلَکُمْ وَاِنْ اَخْطَاءُ وْا فَلَکُمْ وَعَلَےْھِمْ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ۔

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہیں امام نماز پڑھائیں گے چناچہ اگر وہ نماز اچھی پڑھائیں گے تو اس کا فائدہ تمہارے لئے ہے (اور ان کے لئے بھی ہے) اور اگر انہوں نے خطا کی (بےطرح نماز پڑھائی) تو تمہیں (پھر بھی) ثواب ملے گا اور اس کا گناہ ان پر ہوگا۔ (بخاری ) تشریح اگر امام اچھی طرح اور شرعی و مسنون طریقہ سے پڑھائے گا تو ظاہر ہے کہ اس کا ثواب امام اور مقتدی دونوں ہی کو ملے گا اور اگر امام نماز بےقاعدہ اور غیر شرعی و غیر مسنون طریقہ سے پڑھائے گا تو اس کی ذمہ داری متقدیوں پر نہیں ہے مقتدیوں کو تو اس صورت میں بھی ثواب ملے گا کیونکہ انہوں نے تو نماز اچھی طرح ادا کی اور جماعت میں شریک ہونے کی نیت کی البتہ امام اپنی غلطی اور خطا کا خمیازہ خود بھگتے گا کیونکہ اس نے نماز پڑھانے میں تق صیر کی ہے۔ اس حدیث کے ذریعے داصل رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو وصیت فرمائی ہے کہ بعد میں جب برے اور غلط کار حاکم پیدا ہوں گے اور امامت کریں گے تو وہ امامت کی ادائیگی میں احکام و آداب کی رعایت نہیں کریں گے۔ لہٰذا اس وقت تم کو چاہیے کہ اپنی نماز درست اور صحیح طریقے پر ادا کرو۔ اگر امام اچھی طرح نماز پڑھائے گا تو اس کا فائدہ امام اور مقتدی دونوں کو ہوگا ورنہ غلط نماز پڑھانے کی شکل میں مقتدیوں پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا غلط نماز پڑھانے کی ذمہ داری تنہا امام پر ہوگی اور نقصان اسی کو ہوگا۔

1103Mishkaat-al-Masabih

بوڑھے اور بیمار مقتدیوں کی رعایت امام کے لئے ضروری ہے

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ اَبی الْعَاصِ ص قَالَ آخِرُ مَا عَہِدَ اِلَیَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا اَمَمْتَ قَوْمًا فَاَخِفَّ بِھِمُ الصَّلٰوۃَ (رواہ مسلم وَ فِی رِوَایَۃٍ لَہُ) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لَہُ اُمَّ قَوْمَکَ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ اَجِدُ فِیْ نَفْسِیْ شَیْئًا قَالَ اُدْنُہُ فَاَحْبَسَنِی بَیْنَ یَدَیْہِ ثُمَّ وَضَعَ کَفَّہُ فِیْ صَدْرِی بَیْنَ ثَدْیَیَّ ثُمَّ قَالَ تَحَوَّلْ فَوَضَعَھَا فِی ظَہْرِی بَیْنَ کَتِفَیَّ ثُمَّ قَالَ اُمَّ قَوْمَکَ فَمَنْ اَمَّ قَوْماً فَلْیُخَفِّفْ فَاِنَّ فِیْھِمُ الْکَبِیْرَ وَاِنَّ فِیْھِمُ الْمَرِیْضَ وَاِنَّ فِیْھِمُ الضَّعِیْفَ وَاِنَّ فِیْھِمْ ذَالْحَاجَۃِ فَاِذَا صَلّٰی اَحَدُکُمْ وَحْدَہُ فَلْیُصَلِّ کَیْفَ شَائَ۔

حضرت عثمان ابن ابی العاص ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے جو آخری وصیت کی تھی وہ یہ تھی کہ جب تم لوگوں کی امامت کرو تو انہیں ہلکی نماز پڑھاؤ۔ ( مسلم) اور کی ایک دوسری روایت کے الفاظ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان غنی ؓ سے فرمایا کہ اپنی قوم کی امامت کرو۔ حضرت عثمان ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے اپنے دل میں کچھ کھٹک محسوس ہوتی ہے رسول اللہ ﷺ نے (یہ سن کر) فرمایا کہ میرے قریب آؤ۔ (جب میں آپ ﷺ کے قریب آگیا تو) آپ ﷺ نے مجھے اپنے آگے بٹھایا اور میرے سینے پر دونوں چھاتیوں کے درمیان اپنا دست مبارک رکھا پھر فرمایا کہ پشت پھیرو (میں نے اپنی پشت آپ ﷺ کی جانب کردی) چناچہ آپ ﷺ نے میری پشت پر دونوں کندھوں کے درمیان اپنا دست مبارک پھیر کر فرمایا کہ جاؤ اور اپنی قوم کی امامت کرو اور یہ (یہ یاد رکھو) کہ جب کوئی آدمی کسی قوم کا امام بنے تو اسے چاہیے کہ ہلکی نماز پڑھائے کیونکہ ان میں بوڑھے بھی ہیں اور بیمار بھی ان میں کمزور لوگ بھی ہوتے ہیں اور حاجتمند بھی ہاں جب کوئی تنہا نماز پڑھے تو اسے اختیار ہے جس طرح چاہیے پڑھے۔ تشریح حضرت عثمان ؓ کے ارشاد انی اجد فی نفسی شیا (یعنی مجھے اپنے دل میں کچھ کھٹک محسوس ہوتی ہے) کا مطلب یہ تھا کہ میں امامت کے حقوق کی ادائیگی سے اپنے آپ کو عاجز پاتا ہوں یا کچھ وسوسے اور شبہات ہیں جو دل میں آتے ہیں یا یہ کہ امامت کے وقت میرے دل کے اندر ایک قسم کی برتری اور غرور کی سی کیفیت محسوس ہوتی ہے چناچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کیفیات کے دفعیہ کے لئے ان کے سینے اور پشت پر اپنا دست مبارک پھیرا جس کی برکت سے ان کی دل کی وہ کھٹک جاتی رہی جس کی موجودگی انہیں امامت پر آمادہ نہیں ہونے دیتی تھی۔ فاذا صلی احد کم الخ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ تنہا نماز پڑھنے والا اپنی نماز کے معاملے میں مختار ہے چاہے تو وہ طویل نماز پڑھے چاہے مختصر لیکن علماء لکھتے ہیں کہ تنہا نماز پڑھنے والے کے لئے افضل یہی ہے کہ وہ طویل نماز پڑھے۔ اس زمانہ کے ائمہ کا معاملہ بڑا عجیب ہے جب وہ لوگوں کو نماز پڑھاتے ہیں تو بہت زیادہ طوالت سے کام لیتے ہیں مگر جب تنہا نماز پڑھتے ہیں تو صرف اتنے ہی اختصار پر اکتفا کرتے ہیں جس سے نماز ادا ہوجائے۔ ائمہ کو اس طریق کار کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

1104Mishkaat-al-Masabih

بوڑھے اور بیمار مقتدیوں کی رعایت امام کے لئے ضروری ہے

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَأمُرُنَا بِالتَّخْفِیْفِ وَیَؤُمَّنَا بِالصَّافَاتِ۔ (رواہ النسائی )

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں ہلکی نماز (پڑھا نے) کا حکم دیا کرتے تھے اور آپ ہمیں نماز پڑھاتے تو سورت صافات کی قرأت کرتے۔ (سنن نسائی) تشریح حدیث کے دونوں جزوں میں بظاہر تو تعارض نظر آتا ہے کہ ایک طرف تو آپ ہلکی نماز پڑھانے کا حکم دیتے تھے اور دوسری طرف خود امامت کرتے وقت سورت صافات کی قرأت فرماتے جو ایک طویل سورت ہے، اس تعارض کو دفع کرنے کے لئے علماء نے یہ جواب دیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی یہ خصوصیت تھی کہ آپ لمبی لمبی سورتیں اور بہت زیادہ آیتیں بہت کم عرصے میں پڑھ لیتے تھے جس سے لوگوں کو کوئی گرانی اور اکتاہٹ محسوس نہیں ہوتی تھی اور یہ خصوصیت دوسروں کو حاصل نہیں ہوسکتی۔ اس طرح دونوں جزء میں کوئی تعارض نہیں رہا۔

1105Mishkaat-al-Masabih

مقتدی کے لئے امام کی تابعداری کے لزوم اور مسبوق کا بیان

اس بات کے تحت وہ احادیث ذکر کی جائیں گی جن سے معلوم ہوگا کہ مقتدی کیلئے امام کی تابعداری کتنی ضروری اور لازم ہے اور یہ کہ مقتدی کو امام کی متابعت کن چیزوں اور کس طرح کرنی چاہیے۔ نیز اس باب میں وہ احادیث بھی نقل کی جائیں گی جن سے مسبوق کا حکم معلوم ہوگا کہ وہ اپنی نماز کس طرح پوری کرے اور اسے کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ گذشتہ صفحات میں کسی موقع پر مسبوق کی تعریف کی جاچکی ہے یعنی مسبوق اس نمازی کو کہتے ہیں جو ابتداء سے جماعت میں شریک نہ ہو بلکہ ایک رکعت یا اس سے زیادہ ہوجانے کی بعد جماعت میں آکر شریک ہوا ہو۔ امام کی متابعت کے سلسلے میں آنے والی حدیث کے ضمن میں حسب موقع مسائل کی وضاحت کی جائے گی تاہم اس موقع پر اجمالی طور پر اتنی بات جانتے چلئے کہ نماز کے ان ارکان میں جو فرض یا واجب ہیں تمام مقتدیوں کو امام کی متابعت و موافقت کرنا واجب ہے ہاں ان ارکان میں جو سنت وغیرہ ہیں مقتدیوں کے لئے امام کی متابعت ضروری نہیں چناچہ اگر امام، شافعی المذہب ہو اور رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع یدین کرے یعنی دونوں ہاتھوں کو اٹھائے تو حنفی مقتدی کو ہاتھوں کا اٹھانا ضروری نہیں ہے کیونہ ان دونوں موقعوں پر رفع یدین ان کے نزدیک بھی سنت ہے اس طرح فجر کی نماز میں شافعی المذہب امام قنوت پڑھے تو حنفی مقتدیوں کے لئے قنوت پڑھنا واجب نہیں ہاں رات میں قنوت پڑھنا واجب ہے لہٰذا اسی طرح شافعی المذہب امام اگر اپنے مذہب کے موافق قنوت رکوع کے بعد پڑھے تو حنفی مقتدیوں کو بھی امام کی متابعت و موافقت کے پیش نظر رکوع کے بعد ہی قنوت پڑھنا چاہیے۔ (علم الفقہ)

1106Mishkaat-al-Masabih

امام کی متابعت

عَنِ الْبَرَآءِ بْنِ عَازِبٍص قَالَ کُنَّا نُصَلِّیْ خَلْفَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَاِذَا قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ لَمْ ےَحْنُ اَحَدٌ مِّنَّا ظَھْرَہُ حَتّٰی ےَضَعَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم جَبْھَتَہُ عَلَی الْاَرْضِ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت براء ابن عازب ؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے چناچہ آپ جب سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو جب تک رسول اللہ ﷺ (سجدے کیلئے) اپنی جبیں مبارک زمین پر نہیں رکھتے تھے ہم میں سے کوئی آدمی اپنی پیٹھ جھکاتا (بھی) نہیں تھا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حضرت براء ؓ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ ہم رکوع سے اٹھ کر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہی سجدے میں نہیں چلے جاتے تھے بلکہ کھڑے رہتے تھے اور جب رسول اللہ ﷺ زمین پر اپنی پیشانی رکھ لیتے تو ہم سجدے میں جاتے۔ مولانا مظہر فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مقتدی کے لئے یہ سنت ہے کہ وہ اپنی نماز کے ارکان امام کی نماز کے ارکان کے اس قدر بعد ادا کرے اور اگر امام کے افعال و صلوٰۃ اور مقتدی کے افعال صلوٰۃ کے درمیان ادائیگی کا اتنا وفقہ نہ ہو تو بھی جائز ہے مگر تکبیر تحریمہ کے وقت مقتدی کے لئے اتنا توقف کرنا ضروری ہے کہ جب امام تکبیر تحریمہ کہہ کر فارغ ہو تو مقتدی تکبیر تحریمہ کہیں۔ مگر حنفی فقہ کا مسئلہ یہ ہے کہ مقتدی کے لئے امام کی متابعت بطریق مواصلت واجب ہے یعنی مقتدیوں کو ہر رکن امام کے ساتھ ہی بلا تاخیر ادا کرنا چاہیے، تحریمہ بھی امام کی تحریمہ کے ساتھ کریں رکوع بھی امام کے رکوع کے ساتھ قومہ بھی امام کے قومہ کے ساتھ سجدہ بھی امام سجدے کے ساتھ غرض کہ ہر فعل امام کے ہر فعل کے ساتھ کریں۔ ہاں اگر قعدہ اولی میں امام اس سے پہلے کھڑا ہوجائے کہ مقتدی التحیات پوری کریں تو مقتدیوں کو چاہیے کہ التحیات پوری کر کے سلام پھیریں۔ ہاں رکوع و سجود میں اگر مقتدیوں نے تسبیح تین مرتبہ بھی نہ پڑھی ہوں اور امام سر اٹھائے تو صحیح مسئلہ یہی ہے کہ مقتدیوں کو چاہیے کہ وہ تسبیح پڑھے بغیر ہی امام کے ساتھ کھڑے ہوجائیں، اگر مقتدی رکوع یا سجدے سے اپنا سر امام کے سر اٹھانے سے پہلے اٹھاویں تو ان کو چاہیے کہ وہ دوبارہ رکوع یا سجدے میں چلے جائیں اور پھر امام کے ساتھ ہی اپنا سر اٹھائیں اس طرح یہ رکوع یا سجدے دو نہیں ہوں گے بلکہ ایک ہی شمار ہوں گے۔

1107Mishkaat-al-Masabih

مقتدی امام سے پہلے کوئی رکن ادا نہ کریں

عَنْ اَنَسٍص قَالَ صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ذَاتَ ےَوْمٍ فَلَمَّا قَضٰی صَلٰوتَہُ اَقْبَلَ عَلَےْنَا بِوَجْھِہٖ فَقَالَ اَےُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ اِمَامُکُمْ فَلَا تَسْبِقُوْنِیْ بِالرُّکُوْعِ وَلَا بِالسُّجُوْدِ وَلَا بِالْقِےَامِ وَلَا بِالْاِنْصِرَافِ فَاِنِّیْ اَرٰکُمْ اَمَامِیْ وَمِنْ خَلْفِیْ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی جب آپ نماز پڑھ چکے تو اپنا چہرہ مبارک ہماری طرف متوجہ کیا اور فرمایا کہ لوگو! میں تمہارا امام ہوں! لہٰذا تم رکوع کرنے، سجدہ کرنے کھڑے ہونے اور پھر نے (یعنی نماز سے فارغ ہونے) میں مجھ سے جلدی نہ کیا کرو میں تمہیں اپنے آگے اور (بذریعہ مکاشفہ یا بطور معجزہ بذریعہ مشاہدہ) اپنے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔ (صحیح مسلم)

1108Mishkaat-al-Masabih

مقتدی امام سے پہلے کوئی رکن ادا نہ کریں

عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قاَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا تُبَادِرُوا الْاِمَامَ اِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوْا وَاِذَاقَالَ وَلَا الضَّآلِّےْنَ فَقُوْلُوْا اٰمِےْنَ وَاِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوْا وَاِذَا قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فُقُوْلُوْا اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مُتَّفَقٌّ عَلَےْہِ اِلَّا اَنَّ الْبُخَارِیَّ لَمْ ےَذْکُرْوَاِذَا قَالَ وَلَا الضَّآلِےْنَ۔

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اپنے امام پر پہل نہ کیا کرو جب امام تکبیر کہے تو تم (بھی اس کے ساتھ ہی) تکبیر کہو جب امام ولا الضالین کہے تو تم رکوع میں جاؤ اور جب امام سمع اللہ لم حمدہ کہے تو تم اللہم ربنا لک الحمد ( اے اللہ! اے ہمارے رب تمام تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں کہو۔ اس روایت کو بخاری ومسلم نے نقل کیا ہے مگر امام بخاری (رح) نے اپنی روایات میں و اذا قال و لا الضالین کے الفاظ نقل نہیں کئے ہیں۔ تشریح فقولوا آمین کہہ کر اس طرف اشارہ کردیا گیا ہے کہ جب امام سورت فاتحہ پڑھے تو مقتدی خاموش کھڑے رہ کر اسے سنیں اور سورت فاتحہ کی قرأت نہ کریں۔ حدیث کے آخری جزو سے یہ معلوم ہوا کہ امام جب رکوع سے اٹھتے وقت سمع اللہ لم حمدہ کہے تو مقتدی ربنا لک الحمد کہیں جیسا کہ امام اعظم کا مسئلہ ہے۔

1109Mishkaat-al-Masabih

امام بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھیں یا کھڑے ہو کر

عَنْ اَنَسٍ ص اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم رَکِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ عَنْہُ فَجُحِشَ شِقُّہُ الْاَےْمَنُ فَصَلّٰی صَلٰوۃً مِّنَ الصَّلَوَاتِ وَھُوَ قَاعِدٌ فَصَلَّےْنَا وَرَآءَ ہُ قُعُوْدًا فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ اِنَّمَا جُعِلَ الْاِمَامُ لِےُؤْتَمَّ بِہٖ فَاِذَا صَلّٰی قَآئِمًا فَصَلُّوْاقِےَامًا وَاِذَا رَکَعَ فَارْکَعُوْا وَاِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوْا وَاِذَا قَالَ سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ فَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ وَاِذَا صَلّٰی جَالِسًا فَصَلُّوْا جُلُوْسًا اَجْمَعُوْنَ قَالَ الْحُمَےْدِیُّ قَوْلُہُ اِذَا صَلّٰی جَالِسًا فَصَلُّوْا جُلُوْسًا ھُوَ فِیْ مَرَضِہٖ الْقَدِےْمِ ثُمَّ صَلّٰی بَعْدَ ذَالِکَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم جَالِسًا وَّالنَّاسُ خَلْفَہُ قِےَامٌ لَمْ ےَاْمُرْھُمْ بِالْقُعُوْدِ وَاِنَّمَا ےُؤْخَذُ بِالْاٰخِرِ فَالْاٰخِرِ مِنْ فِعْلِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم ھٰذَا لَفْظُ الْبُخَارِیِّ وَاتَّفَقَ مُسْلِمٌ اِلٰی اَجْمَعُوْنَ وَزَادَ فِیْ رِوَاےَۃٍ فَلَا تَخْتَلِفُوْا عَلَےْہِ وَاِذَا سَجَدَ فَاسْجُدُوْا۔

اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی سفر کے دوران رسول اللہ ﷺ گھوڑے پر سوار تھے کہ اتفاقاً آپ ﷺ نیچے گرپڑے اس کی وجہ سے آپ ﷺ کی داہنی کروٹ (ایسی) چھل گئی کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے پر آپ ﷺ قادر نہ رہے چناچہ آپ ﷺ نے ان پانچ فرض نمازوں میں سے کوئی نماز ہمیں بیٹھ کر پڑھائی ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے بیٹھ کر ہی نماز پڑھی۔ جب آپ ﷺ نماز پڑھ کر فارغ ہوگئے تو ہم سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ امام اسی لئے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے لہٰذا جب امام کھڑا ہو کر نماز پڑھائے تو تم کھڑے ہو کر نماز پڑھو جب وہ رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو اور جب وہ رکوع سے اٹھے تو تم بھی رکوع سے اٹھو، جب وہ سمع اللہ لم حمدہ کہے تو ربنا لک الحمد کہو اور جب امام بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم سب مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ حمیدی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد کہ جب امام بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ آپ ﷺ کی پہلی بیماری میں تھا اور اس کے بعد (مرض الموت میں انتقال سے ایک دن پہلے) رسول اللہ ﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی تو لوگوں نے آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور آپ ﷺ نے انہیں بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم نہیں فرمایا اور رسول اللہ ﷺ کے اسی فعل پر عمل کیا جاتا ہے جو آخری ہے (یعنی پہلا فعل منسوخ اور دوسرافعل ناسخ ہوتا ہے۔ یہ الفاظ بخاری کے ہیں اور مسلم بھی لفظ اجمعون تک بخاری کے موافق ہیں (یعنی روایت کو اس لفظ تک بخاری اور مسلم دونوں نے نقل کیا ہے اور ایک دوسری روایت میں مسلم نے یہ الفاظ مزید نقل کئے ہیں کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ امام کے خلاف نہ کرو اور جب وہ امام سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو۔ تشریح اس روایت کے آخر میں جس حمیدی کا قول نقل کیا گیا ہے یہ وہ حمیدی نہیں جو جمع بین الصحیحین کے مولف ہیں بلکہ یہ صحیح البخاری کے استاد حمیدی ہیں بہر حال اکثر ائمہ کا مسلک حمیدی کے قول کے مطابق ہی ہے کہ اگر امام کسی عذر کی بناء پر بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی کھڑے ہو کر پڑھیں انہیں بیٹھ کر نماز پڑھنا درست نہیں ہے۔

1110Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ کی علالت اور حضرت ابوبکر صدیق کی امامت کا واقعہ

عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ لَمَّا ثَقُلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم جَآءَ بِلَالٌ ےُّؤْذِنُہُ بِالصَّلٰوۃِ فَقَالَ مُرُوْا اَبَا بَکْرٍ اَنْ ےُّصَلِّیَ بِالنَّاسِ فَصَلّٰی اَبُوْ بَکْرٍ تِلْکَ الْاَےَّامَ ثُمَّ اِنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم وَجَدَ فِیْ نَفْسِہٖ خِفَّۃً فَقَامَ ےُھَادٰی بَےْنَ رَجُلَےْنِ وَرِجْلَاہُ تَخُطَّانِ فِی الْاَرْضِ حَتّٰی دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَلَمَّا سَمِعَ اَبُوْ بَکْرٍ حِسَّہُ ذَھَبَ ےَتَاَخَّرُ فَاَوْمٰی اِلَےْہِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ لَّا ےَتَاَخَّرَ فَجَآءَ حَتّٰی جَلَسَ عَنْ ےَّسَارِ اَبِیْ بَکْرٍ فَکَانَ اَبُوْ بَکْرٍ ےُّصَلِّیْ قَآئِمًا وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےُصَلِّیْ قَاعِدًا ےَّقْتَدِیْ اَبُوْ بَکْرٍ بِصَلٰوۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَالنَّاسُ ےَقْتَدُوْنَ بِصَلٰوۃِ اَبِیْ بَکْرٍ مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ وَفِیْ رِوَاےَۃٍ لَّھُمَا ےَسْمَعُ اَبُوْ بَکْرِ النَّاسَ التَّکْبِےْرَ۔

اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ بہت زیادہ بیمار تھے تو (ایک دن) حضرت بلال ؓ آپ ﷺ کو نماز کے لئے بلانے آئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر ؓ سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں چناچہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے لوگوں کو ان دنوں میں سترہ نمازیں پڑھائیں پھر جب (ایک دن) رسول اللہ ﷺ نے اپنی طبیعت کچھ ہلکی محسوس فرمائی تو آپ ﷺ (نماز کے لئے مسجد میں) دو آدمیوں کا سہارا لے کر (اس طرح) آئے کہ آپ ﷺ اپنے ہاتھ سے صحابہ کے کندھوں پر ٹیک رکھے ہوئے تھے اور (ضعف و کمزوری کے سبب) آپ ﷺ کے پاؤں مبارک زمین پر گھسٹتے جاتے تھے جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تو حضرت ابوبکر ؓ نے آپ ﷺ کی آمد کی آہٹ محسوس کی اور پیچھے ہٹنا شروع کیا (تاکہ رسول اللہ ﷺ ان کی جگہ کھڑے ہوجائیں اور امامت کریں) رسول اللہ ﷺ نے (یہ دیکھ کر) حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی طرف اشارہ کیا کہ پیچھے نہ ہٹو پھر آپ ﷺ (آگے) بڑھے اور حضرت ابوبکر ؓ کے بائیں طرف بیٹھ گئے چناچہ حضرت ابوبکر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہے اور رسول اللہ ﷺ ضعف و کمزوری کی بناء پر) بیٹھ کر نماز پڑھتے رہے حضرت ابوبکر رسول اللہ ﷺ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر ؓ کی نماز کی اقتداء کرتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح شرح السنہ میں لکھا ہے کہ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کہ ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رسول اللہ ﷺ کے بعد تمام لوگوں میں سے افضل ہیں نیز یہ کہ تمام لوگوں میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہی رسول اللہ ﷺ کی خلافت کے سب سے زیادہ مستحق اور سب سے اولیٰ ہیں چناچہ رسول اللہ ﷺ کی جانب سے حضرت ابوبکر ؓ کو امامت کے اس عظیم اور سب سے اہم منصب کا اہل و اولی قرار دئیے جانے کی پیش نظر ہی بعض جلیل القدر صحابہ کا یہ ارشاد بالکل حقیقت پسندانہ اور منشاء رسالت کے عین مطابق تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر کو اپنی زندگی میں دین کا سب سے بڑا اور اہم منصب امامت عنایت فرما کر اس بات کی طرف اشارہ فرما دیا تھا کہ میرے بعد حضرت ابوبکر کو ہمارے دین (کی پیشوائی) کے لئے پسند فرمایا تو کیا ہم انہیں اپنی دنیا کی رہبری کے لئے پسند نہ کریں؟ یعنی جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر ہی کی وہ آدمییت ہوسکتی ہے جو مسلمانوں کی دینی پیشوائی اور رہبری کو انجام دے سکے تو حضرت ابوبکر مسلمانوں کی دینوی رہبری اور پیشوائی کے بدرجہ اولی مستحق ہوئے لہٰذا خلافت جیسے عظیم الشان منصب کے سب سے زیادہ اہل وہی ہیں۔ رَجُلَیْنِ (دو صحابہ) سے مراد حضرت علی المرتضیٰ اور حضرت عباس ؓ کی ذات گرامی ہے یعنی آپ ﷺ اپنی کمزوری و نا تو انی کے سبب حجرہ مبارک سے مسجد نبوی تک ان دونوں جلیل القدر صحابہ کے کندھوں پر سہارا دیکر تشریف لائے۔ حدیث کے الفاظ والناس یقتدون بصلوۃ ابی بکر ( اور لوگ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی نماز کی اقتدا کر رہے تھے) کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ چونکہ بیٹھ کر نماز پڑھا رہے تھے اور حضرت ابوبکر آپ ﷺ کے پہلوئے مبارک میں کھڑے تھے اس لئے رسول اللہ ﷺ جو فعل کرتے حضرت ابوبکر ؓ بھی اس طرح کرتے تھے اور جو فعل حضرت ابوبکر کرتے تھے دوسرے مقتدی بھی اسی طرح کرتے جاتے تھے۔ لہٰذا یہاں اقتداء کے یہی معنی ہیں یہ معنی مراد نہیں ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تو حضرت ابوبکر کے امام تھے اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ دوسرے مقتدیوں کے امام تھے کیونکہ مقتدی کی اقتداء کرنا جائز نہیں۔ بہر حال حاصل یہ ہے امام رسول اللہ ﷺ ہی تھے حضرت ابوبکر بھی آپ ﷺ کی اقتداء کر رہے تھے اور دوسرے لوگ بھی آپ ﷺ ہی کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے۔ کیا نماز کے دوران امامت میں تغیر جائز ہے۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا نماز کے دوران امامت میں تغیر جائز ہے؟ یعنی نماز شروع چکی ہے ایک امام لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہے اور ایک دوسرا آدمی آتا ہے اور شروع سے نماز پڑھانے والے امام کی جگہ کھڑا ہوجاتا ہے اور امامت شروع کردیتا ہے تو کیا یہ جائز ہے؟ جیسا کہ واقعہ مذکورہ میں صورت پیش آئی کہ حضرت ابوبکر ؓ نے لوگوں کو نماز پڑھانی شروع کردی تھی کہ رسول اللہ ﷺ بعد میں تشریف لائے اور حضرت ابوبکر ؓ کی جگہ لوگوں کی امامت شروع فرمادی! تو اس سلسلے میں علامہ ابن عبدالبر (رح) فرماتے ہیں کہ علماء کا اس بارے میں اجماع ہے کہ صورت مذکور میں رسول اللہ ﷺ کا یہ فعل آپ ﷺ کے خصائص میں تھا، یعنی دوسروں کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ اس طرح امامت میں تغیر کیا جائے۔ لیکن حضرت امام شافعی نے اس میں اختلاف کیا ہے اور کہا ہے کہ مذکورہ بالا صورت کی طرح امامت اور اقتداء جائز ہے (ملا حظہ فرمایئے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ) اس سلسلے میں بعض علماء حضرات نے یہ بھی کہا ہے کہ اس حدیث سے یہ بات معلوم نہیں ہوتی کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نماز شروع کرچکے تھے یعنی حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اس وقت نماز شروع نہیں کی تھی چناچہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور امامت شروع فرما دی۔ وا اللہ اعلم اس حدیث سے یہ مسئلہ بھی صاف ہوگیا کہ اگر امام کسی عذر کی بناء پر بیٹھ کر نماز پڑھائے تو مقتدی کھڑے ہو کر ہی نماز پڑھیں چناچہ ہدایہ میں لکھا ہوا ہے کہ بیٹھ کر نماز پڑھانے والے امام کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی جائے۔ نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جمعہ، عیدین نیز زیادہ نمازی ہونے کی صورت میں عام نمازوں میں بھی موذنوں کے لئے جائز ہے کہ وہ امام کے ساتھ تکبیرات بآواز بلند کہتے جائیں تاکہ جو مقتدی امام سے فاصلے پر ہوں وہ بھی تکبیرات سن لیں۔

1111Mishkaat-al-Masabih

امام سے پہلے سر اٹھانے پر وعید

عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَمَا ےَخْشَی الَّذِیْ ےَرْفَعُ رَاْسَہُ قَبْلَ الْاِمَامِ اَنْ ےُّحَوِّلَ اللّٰہُ رَاْسَہُ رَاْسَ حِمَارٍ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ آدمی جو امام سے پہلے (رکوع و سجود سے) سر اٹھاتا ہے اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ جل شانہ اس کے سر کو بدل کر گدھے جیسا سر کر دے گا۔ (بخاری ومسلم) تشریح جو آدمی نماز کے ارکان امام کے ساتھ ادا نہیں کرتا بلکہ امام سے پہلے ہی ادا کرلیتا ہے مثلاً رکوع و سجود سے امام کے سر اٹھانے سے پہلے اپنا سر اٹھالیتا ہے تو ایسے آدمی کے بارے میں مذکورہ بالا حدیث سخت ترین وعید ہے۔ گو علماء لکھتے ہیں کہ یہ حدیث اپنے حقیقی معنی پر محمول نہیں ہے یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی ایسا کرے گا اللہ تعالیٰ اسے گدھے کی مانند کم فہم و عقل کر دے گا کیونکہ تمام جانوروں میں گدھا ہی سب سے زیادہ کم فہم ہوتا ہے لہٰذا یہ مسخ حقیقی نہیں ہوگا بلکہ مسخ معنوی ہوگا تاہم علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس حدیث کو اپنے حقیقی معنی پر بھی محمول کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس امت میں بھی مسخ ممکن ہے جیسا کہ باب اشراط الساعۃ میں مذکور ہے اور اس کے موئید ایک روایت ہے کے یہ الفاظ ہیں کہ ان یحول اللہ صورتہ حمار یعنی اللہ تعالیٰ اس سے نہیں ڈرتا کہ اس کی صورت کو گدھے جیسی صورت کر دے۔ خطابی فرماتے ہیں کہ اس امت میں بھی مسخ جائز ہے لہٰذا اس حدیث کو اس کے حقیقی معنی پر محمول کرنا جائز ہے۔ علامہ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں کہ یہ مسخ خاص ہے اور امت کے لئے جو مسخ ممتنع ہے وہ مسخ عام ہے چناچہ احادیث صحیحہ سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے۔ مسخ صورت کی ایک عبرت ناک مثال علامہ ابن حجر (رح) کے مذکورہ بالاقول کی تائید ایک عبرتناک واقعہ سے بھی ہوتی ہے جو ایک جلیل القدر محدث سے منقول ہے کہ وہ طلب علم اور حصول حدیث کی خاطر دمشق کے ایک عالم کے پاس پہنچے جو اپنے علم و فضل کی بناء پر بہت مشہور تھا انہوں نے اس عالم سے درس لینا شروع کیا مگر حصول علم کے دروان یہ واقعہ طالب علم کے لئے بڑا حیرتناک بنا رہا کہ استاد پوری مدت کبھی بھی ان کے سامنے نہیں آیا درس کے وقت استاد اور شاگرد کے درمیان ایک پردہ حائل رہتا تھا ان کو اس کی بڑی خواہش تھی کہ کم سے کم ایک مرتبہ اپنے استاد کے چہرے کی زیارت تو کریں۔ چناچہ جب انہیں اس عالم کی خدمت میں رہتے ہوئے بہت کافی عرصہ گذر گیا تو اس نے یہ محسوس کرلیا کہ طالب علم حصول حدیث کے شوق اور تعلق شیخ کے بھر پور جذبات کا پوری طرح حامل ہے تو استاد نے ایک دن درمیان میں حائل پردہ کو اٹھایا ان کی حیرت اور تعجب کی انتہا نہ رہی جب انہوں نے دیکھا کہ جو جلیل القدر عالم اور ان کا استاد جس کے علم وفضل کی شہرت چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے اپنے انسانی چہرے سے محروم ہے بلکہ اس کا من گدھے جیسا ہے استاد نے شاگرد کی حیرت اور تعجب کو دیکھتے ہوئے جو بات کہی اسے سنئے اور اس سے عبرت حاصل کیجئے۔ اس نے کہا اے میرے بیٹے! نماز کے ارکان ادا کرنے کے سلسلہ میں امام پر پہل کرنے سے بچنا میں نے جب یہ حدیث سنی کہ کیا جو شخص امام سے پہلے سر اٹھاتا ہے اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے سر کو گدھے جیسا کر دے تو مجھے بہت تعجب ہو اور میں نے اسے بعید از امکان تصور کیا چناچہ (یہ میری بدقسمتی کہ میں نے تجربہ کے طور پر) نماز کے ارکان ادا کرنے کے سلسلہ میں امام پر پہل کی جس کا نتیجہ میرے بیٹے اس وقت تمہارے سامنے ہے کہ میرا چہرہ واقعی گدھے کے چہرے جیسا ہوگیا۔ بہر حال ملا علمی قاری اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشا دراصل شدید تہدید اور انتہائی وعید کے طور پر ہے یا یہ کہ ایسے آدمی کو برزخ اور دوزخ میں اس عذاب کے اندر مبتلا کیا جائے گا۔

1112Mishkaat-al-Masabih

امام کی موافقت کرنے کا حکم

وَعَنْ عَلِیٍّ وَمُعَاذِ ابْنِ جَبَلٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا اَتٰی اَحَدُکُمْ الصَّلَاۃَ وَالْاِمَامُ عَلٰی حَالٍ فَلْیَصْنَعْ کَمَا یَصْنَعُ الْاِمَامُ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ۔

حضرت علی اور حضرت معاذ ابن جبل ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی جماعت میں شریک ہونے کے لئے نماز میں آئے اور امام کسی حالت میں ہو تو جو کچھ امام کر رہا ہے وہی اسے کرنا چاہیے۔ اس حدیث کو امام ترمذی (رح) نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح حدیث کا حاصل یہ ہے کہ افعال نماز میں اس آدمی کو امام کی اقتداء کرنی چاہیے اور اسے ارکان نماز کی ادائیگی کے سلسلے میں امام سے مقدم یا موخر نہ ہونا چاہیے۔ ابن ملک فرماتے ہیں ہے کہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ امام جس حالت میں بھی ہو اس کی موافقت اسے کرنی چاہیے، یعنی جماعت شروع ہوجانے کے بعد اگر کوئی آدمی بعد میں شریک ہونے کے لئے آئے تو امام جس حالت میں ہو تو اسے بھی وہی حالت اختیار کرنی چاہیے اگر وہ رکوع میں ہو تو اسے بھی رکوع میں چلے جانا چاہیے اگر سجدے میں ہو تو اسے بھی سجدے میں چلے جانا چاہیے دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ جماعت شروع ہوجانے کے بعد یوں ہی کھڑے رہتے ہیں یا باتوں میں مصروف رہتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں کہ جب امام رکوع میں جائے تو جا کر نماز میں شریک ہوں یہ طریقہ بہت غلط اور غیر شرعی ہے اس سے اجتناب ضروری ہے۔ امام ترمذی (رح) نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے تاہم علماء کا اس حدیث پر عمل ہے اور امام نووی (رح) نے بھی کہا ہے کہ حدیث کی اسناد ضعیف ہے لیکن جس حدیث پر علماء کا عمل ہوتا تھا اسے امام ترمذی صحیح قرار دیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ حدیث کی صحت علماء کے عمل سے ثابت ہوجائے جیسا کہ حضرت شیخ محی الدین ابن عربی فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث پہنچی کہ جو آدمی لا الہ الا اللہ ستر ہزار مرتبہ پڑھے تو اس کی مغفرت کردی جاتی ہے اسی طرح جس آدمی کے لئے پڑھا جائے اس کی بھی مغفرت کردی جاتی ہے چناچہ میں اس کلمہ کو روایت کردہ عدد کے مطابق خاص طور سے کسی کے لئے نیت کئے بغیر پڑھا کرتا تھا اتفاق سے ایک دن میں ایک جگہ دعوت میں گیا وہاں میرے چند رفیق بھی تھے اس میں سے ایک آدمی جوان تھا جو کشف کے سلسلے میں بہت مشہور تھا کھانے کے دوران اچانک وہ رونے لگا میں نے حیرت زدہ ہو کر اس سے رونے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا کہ میں (کشف کے ذریعہ) دیکھ رہا ہوں کہ میری ماں عذاب میں مبتلا ہے یہ سنتے ہی میں نے کلمہ مذکورہ کا ثواب دل ہی دل میں اس کی ماں کے لئے بخش دیا اب وہ ہنسنے لگا اور اس نے کہا کہ اب میں اپنی ماں کو جنت میں دیکھ رہا ہوں۔ اس واقعہ کو ذکر کرنے کے بعد آدمی محی الدین ابن عربی نے فرمایا کہ اس آدمی کے کشف کے صحیح ہونے سے میں نے اس حدیث کو صحیح جانا اور اس حدیث کے صحیح ہونے سے اس آدمی کے کشف کو صحیح مانا۔

1113Mishkaat-al-Masabih

رکوع میں شریک ہوجانے سے پوری رکعت ہوجاتی ہے

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا جِئْتُمْ اِلَی الصَّلَاۃِ وَنَحْنُ سُجُوْدٌ فَاسْجُدُوْاوَلَا تَعُدُّوْہ، شَیْئًا وَمَنْ اَدْرَکَ رَکْعَۃً فَقَدْ اَدْرَکَ الصَّلَاۃَ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم (جماعت میں شریک ہونے کے لئے) نماز میں آؤ اور مجھے سجدے کی حالت میں پاؤ تو تم بھی سجدے میں چلے جاؤ اور اس سجدے کو کسی حساب میں نہ لگاؤ ہاں جس آدمی نے (امام کے ساتھ) رکوع پا لیا تو اس نے پوری رکعت پا لی۔ (ابوداؤد) تشریح علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر کوئی آدمی جماعت میں آکر اس حال میں شریک ہو کہ امام سجدے میں ہو اور وہ بھی سجدے میں چلا جائے تو اس کی پوری رکعت نہیں ہوتی ہاں اگر کوئی آدمی اس حال میں شریک ہو کہ امام رکوع میں ہو اور اسے رکوع مل جائے تو اس کی پوری رکعت ادا ہوجاتی ہے چناچہ اس حدیث کے پہلے جزء کا مطلب یہی ہے کہ اگر کوئی آدمی جماعت میں اس وقت شریک ہو جب امام سجدے میں ہو تو وہ سجدے میں چلا جائے۔ مگر اس سجدے کی وجہ سے وہ اس رکعت کا ادا کرنا نہ سمجھے کیونکہ جس طرح رکوع میں شریک ہوجانے سے پوری رکعت مل جاتی ہے اسی طرح سجدے میں شریک ہونے پر پوری رکعت نہیں ملتی۔ دوسرے جزو کے علماء نے دو مطلب بیان کئے ہیں (١) حدیث میں لفظ رکعۃ سے رکوع مراد ہے اور صلوٰۃ سے رکعت یعنی جس نے امام کو رکوع میں پایا اور وہ رکوع اس نے بھی پا لیا تو اس کو پوری رکعت مل گئی (٢) رکعۃ اور صلوٰۃ دونوں اپنے حقیقی معنی میں استعمال کئے گئے ہیں اس طرح حدیث کے اس جزء کا مطلب یہ ہوگا کہ جس آدمی نے جماعت میں ایک رکعت بھی پالی تو اس نے امام کے ساتھ پوری نماز کو پالیا لہٰذا اسے نماز با جماعت کو ثواب بھی ملے گا اور جماعت کی فضیلت بھی حاصل ہوگی۔

1114Mishkaat-al-Masabih

چالیس روز تکبیر اولیٰ کے ساتھ با جماعت نماز پڑھنے والے کے لئے خوشخبری

وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلّٰی لِلّٰہِ اَرْبَعِیْنَ یَوْمًا فِی جَمَاعَۃٍ یُدْرِکُ التَّکْبِیْرَۃَ الْاُوْلٰی کُتِبَ لَہ، بَرأَتَانِ بَرَاءَ ۃٌ مِّنَ النَّارِوَ بَرَاءَ ۃٌ مِّنَ النِّفَاقِ۔ (رواہ الترمذی)

اور حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جو آدمی چالیس روز تک اللہ تعالیٰ کے لئے جماعت کے ساتھ اس طرح نماز پڑھے کہ وہ تکبیر اولی بھی پائے تو اس کے لئے دو قسم کی نجات لکھی جاتی ہے ایک تو دوزخ سے نجات اور دوسری نفاق سے نجات۔ (جامع ترمذی ) تشریح حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی آدمی کو مسلسل چالیس روز تک یہ سعادت حاصل ہوجائے کہ وہ محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی رضاء کی خاطر جماعت سے نماز اس طرح پڑھے کہ اس کی تکبیر تحریمہ فوت نہ ہو یعنی وہ ابتداء سے نماز میں شریک رہے کہ جب امام تکبیر تحریمہ کہے تو وہ بھی تکبیر کہے یا بعض علماء کے قول کے مطابق زیادہ سے زیادہ امام کے سبحانک اللہم پڑھنے تک جماعت میں شریک ہوجائے تو اس کے لئے بارگاہ رب العزت سے دو چیزوں سے نجات کا پروانہ عنایت فرما دیا جاتا ہے ایک تو دوزخ سے کہ اسے نشاء اللہ دوزخ کی آگ دیکھنا نصیب نہیں ہوگی اور دوسری نفاق سے۔

1115Mishkaat-al-Masabih

نفاق سے نجات کا مطلب

نفاق سے نجات کا پروانہ دئیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مرد مومن کو اس بات سے اپنے حفظ وامان میں رکھے گا کہ اس سے منافقوں جیسے عمل سرزد ہوں جیسے نماز میں کسل و سستی اور ریا، جھوٹ بولنا، وعدہ خلافی وغیرہ وغیرہ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اسے اہل حق اور اہل اخلاص کے سے عمل کرنے کی توفیق دے گا اور آخرت میں اسے اس عذاب سے کہ جس میں منافقین کو مبتلا کیا جائے گا۔ بچائے گا نیز میدان حشر میں اس کے بارے میں یہ گواہی دی جائے گی کہ یہ بندہ منافق نہیں ہے بلکہ بندہ مومن و صادق ہے اور رحم و کرم کی یہ بارشیں محض اس وجہ سے ہوں گی کہ یہ آدمی نماز میں اس قدر پہلے آیا کہ تکبیر اولیٰ میں شریک ہو سکے نیز دل کے پورے خلوص اور انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ نماز میں کھڑے ہو کر اپنے رب کی خوشنودی اور رضا مندی کو حاصل کیا۔ حق تعالیٰ ہم سب کو اس سعادت سے بہرہ مند فرمائے۔ آمین

1116Mishkaat-al-Masabih

جماعت کی نیت سے مسجد میں جانے والے کو جماعت نہ ملنے کی صورت میں بھی ثواب ملتا ہے

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ تَوَضَّأَ فَاَحْسَنَ وُضُوْئَہ، ثُمَّ رَاحَ فَوَجَدَ النَّاسَ قَدْ صَلُّوا اَعْطَاہُ اﷲُ مِثْلَ اَجْرِ مَنْ صَلَّاھَا وَحَضَرَھَا لَا یَنْقُصُ ذٰلِکَ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَیْئًا۔ (رواہ ابوداؤد و النسائی )

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے وضو کیا اور اچھا (یعنی پوری شرائط و آداب اور حضور دل کے ساتھ) وضو کیا اور پھر (مسجد میں) گیا اور وہاں دیکھا کہ لوگ نماز پڑھ چکے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسے اس نمازی کے برابر ثواب عنایت فرما دیتا ہے جس نے وہاں جماعت میں حاضر ہو کر نماز پڑھی تھی اور اس کا ثواب دینے سے دوسرے (یعنی جماعت میں حاضر ہونے والوں) کے ثواب میں کوئی کمی نہیں کرتا۔ (ابوداؤد النسائی ) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی جماعت میں شریک ہونے کی نیت سے مسجد میں آئے اور اتفاق سے اسے جماعت نہ مل سکے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اسے جماعت میں شریک ہونے والوں کے برابر ثواب عنایت فرماتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ قصداً دیر کر کے جماعت میں شریک ہونے سے نہ رہ جائے بلکہ اتفاقاً یا کسی عذر کی بناء پر اس کی جماعت جاتی رہے اگر کوئی قصدا جماعت کے وقت حاضر نہ ہو بلکہ جماعت ہوجانے کی بعد آئے تو اسے یہ ثواب نہیں ملے گا۔ حدیث کے آخری جز کا مطلب ہے کہ اسے یہ ثواب ان نمازیوں کے ثواب میں سے جو جماعت میں حاضر تھے کم کر کے نہیں ملے گا کہ جس کی وجہ سے ان کے ثواب میں کمی ہوجائے بلکہ ان نمازیوں کو تو اپنے فعل یعنی جماعت میں شریک ہونے کا بھر پور اجر ملے گا اور اسے جماعت کی نیت اور جماعت کے حاصل کرنے کے غلبہ شوق کی بناء پر ثواب دیا جائے گا۔

1117Mishkaat-al-Masabih

جماعت کی فضیلت

وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍنِ الْخُدْرِیِّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ وَقَدْ صَلَّی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ اَلَا رَجُلٌ یَتَصَدَّقُ عَلٰے ھٰذَا فَیُصَلِّی مَعَہ، فَقَامَ رَجُلٌ فَصَلَّی مَعَہ،۔ (رواہ الترمذی وابوداؤد)

اور حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک روز مسجد میں) ایک آدمی ایسے وقت پہنچا جب کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ چکے تھے آپ نے (اس آدمی کو دیکھ کر) فرمایا کہ کیا کوئی آدمی ایسا نہیں جو اسے اللہ کی راہ میں دے۔ چناچہ ایک آدمی (رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد سن کر) کھڑا ہوا اور اس نے اس آدمی کے ساتھ نماز پڑھی۔ (جامع ترمذی و ابوداؤد) تشریح یتصدق (اللہ کی راہ میں دے) کا مطلب یہ تھا کہ کیا کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جو اس آدمی کے ساتھ بایں طور احسان کرے کہ وہ اس کے ساتھ نماز پڑھے تاکہ اسے جماعت کا ثواب حاصل ہوجائے اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی آدمی کسی کو نیک راہ بتائے یا اس کے نیک راستے اختیار کرنے کا باعث بنے تو اسے وہی اجر وثواب ملے گا جو اللہ کی راہ میں بخشش کا ثواب ملتا ہے۔ مولانا مظہر فرماتے ہیں کہ آنے والے آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے کو صدقہ (خدا کی راہ میں دینے) سے اس لئے تعبیر کیا گیا کہ اس آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے والے نے اس کو چھبیس گناہ زیادہ ثواب صدقہ کیا کیونکہ اگر وہ اس آدمی کے ساتھ نماز نہ پڑھتا تو جماعت نہ ہونے اور تنہا نماز پڑھنے کی وجہ سے ایک ہی نماز کا ثواب ملتا اور اس آدمی کے باعث جماعت حاصل ہونے کی وجہ سے اسے ستائیس نمازوں کا ثواب ملا۔

1118Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ کے مرض موت میں ابوبکر کی امامت کا واقعہ

عَنْ عُبَےْدِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ رحمۃ اللہ علیہ قَالَ دَخَلْتُ عَلٰی عَائِشَۃَ فَقُلْتُ اَلَا تُحَدِّثِےْنِیْ عَنْ مَّرَضِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَتْ بَلٰی ثَقُلَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ اَصَلَّی النَّاسَ فَقُلْنَا لَا ےَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَھُمْ ےَنْتَظِرُوْنَکَ فَقَالَ ضَعُوْا لِیْ مَآئً فِی الْمِخْضَبِ قَالَتْ فَفَعَلْنَا فَاغْتَسَلَ فَذَھَبَ لِےَنُوْۤءَ فَاُغْمِیَ عَلَےْہِ ثُمَّ اَفَاقَ فَقَالَ اَصَلَّی النَّاسُ قُلْنَا لَا ھُمْ ےَنْتَظِرُوْنَکَ ےَارَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ ضَعُوْالِیْ مَآئً فِی الْمِخْضَبِ قَالَتْ فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَھَبَ لِےَنُوْئَۤ فَاُغْمِیَ عَلَےْہِ ثُمَّ اَفَاقَ فَقَالَ اَصَلَّی النَّاسُ قُلْنَا لَا ھُمْ ےَنْتَظِرُوْنَکَ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ ضَعُوْا لِیْ مَآئً فِی الْمِخْضَبِ فَقَعَدَ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ ذَہَبَ لِیَنُوْءَ فَاُغْمِیَ عَلَیْہِ ثُمَّ اَفَاقَ فَقَالَ اَصَلَّی النَّاسُ قُلْنَا لَا ہُمْ یَنْتَظِرُوْنَکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَالنَّاسُ عُکُوْفٌ فِی الْمَسْجِدِ ےَنْتَظِرُوْنَ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم لِصَلٰوۃِ الْعِشَآءِ الْاٰخِرَۃِ فَاَرْسَلَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِلٰی اَبِیْ بَکْرٍ بِاَنْ ےُّصَلِّیَ بِالنَّاسِ فَاَتَاہُ الرَّسُوْلُ فَقَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَاْمُرُکَ اَنْ تُصَلِّیَ بِالنَّاسِ فَقَالَ اَبُوْ بَکْرٍ وَکَانَ رَجُلًا رَّقِےْقًاےَّاعُمَرُ صَلِّ بِالنَّاسٍ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ اَنْتَ اَحَقُّ بِذَالِکَ فَصَلّٰی اَبُوْ بَکْرٍ تِلْکَ الاَ ِےَّامَ ثُمَّ اِنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم وَجَدَ فِیْ نَفْسِہٖ خِفَّۃً وَّخَرَجَ بَےْنَ الرَّجُلَےْنِ اَحَدُھُمَا الْعَبَّاسُ لِصَلٰوۃِ الظُّھْرِ وَاَبُوْ بَکْرٍ ےُصَلِّیْ بِالنَّاسِ فَلَمَّا رَاٰہُ اَبُوْ بَکْرٍ ذَھَبَ لِےَتَاَخَّرَ فَاَوْمَا اِلَےْہِ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم بِاَنْ لاَّ ےَتَاَخَّرَ فَقَالَ اَجْلِسَانِیْ اِلٰی جَنْبِہٖ فَاَجْلَسَاہُ اِلٰی جَنَبِ اَبِیْ بَکْرٍ وَّالنَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم قَاعِدٌ وَقَالَ عَبَےْدُاللّٰہِ فَدَخَلْتُ عَلٰی عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ لَہُ اَلَا اَعْرِضُ عَلَےْکَ مَا حَدَّثَتْنِیْ عَآئِشَۃُ عَنْ مَّرَضِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ ھَاتِ فَعَرَضْتُ عَلَےْہِ حَدِےْثَھَا فَمَا اَنْکَرَ مِنْہُ شَےْئًا غَےْرَ اَنَّہُ قَالَ اَسَمَّتْ لَکَ الرَّجُلَ الَّذِیْ کَانَ مَعَ الْعَبَّاسِ قُلْتُ لَا قَالَ ھُوَ عَلِیٌّ(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت عبیداللہ ابن عبداللہ فرماتے ہیں کہ (ایک روز) میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا کہ کیا آپ مجھ سے رسول اللہ ﷺ کی بیماری کا حال (کہ جس میں آپ آخری مرتبہ نماز پڑھانے کے لئے مسجد تشریف لے گئے تھے) بیان فرمائیں گی؟ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا کہ ہاں (کیوں نہیں! تو سنو کہ جب) رسول اللہ ﷺ زیادہ بیمار ہوئے تو (نماز کے وقت) پوچھا کہ کیا لوگ نماز پڑھ چکے ہیں؟ ہم نے کہا کہ ابھی نہیں یا رسول اللہ! لوگ آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ (یہ سن کر) آپ ﷺ نے فرمایا کہ اچھا میرے لئے لگن (طشت) میں پانی رکھو۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہم نے لگن میں پانی رکھ دیا چناچہ آپ نے غسل کیا اور چاہا کہ کھڑے ہوں مگر کمزوری کی وجہ سے آپ کو غش آگیا اور) بےہوش ہوگئے، جب ہوش آیا تو پھر فرمایا کہ کیا لوگ نماز پڑھ چکے ہیں؟ ہم نے کہا کہ ابھی نہیں! لوگ آپ کے منتظر ہیں یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا لگن میں پانی رکھ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ (جب ہم نے لگن میں پانی رکھ دیا تو) آپ ﷺ نے غسل فرمایا اور چاہا کہ کھڑے ہوں مگر بےہوش ہوگئے جب ہوش آیا تو پھر پوچھا کہ کیا لوگ نماز پڑھ چکے ہیں؟ ہم نے عرض کیا کہ ابھی نہیں لوگ آپ کے منتظر ہیں یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا لگن میں پانی رکھو۔ (جب ہم نے پانی رکھ دیا تو) آپ بیٹھے اور غسل کیا اور پھر جب اٹھنا چاہا تو بےہوش ہوگئے جب ہوش آیا تو فرمایا کہ کیا لوگ نماز پڑھ چکے ہیں؟ ہم نے عرض کیا کہ نہیں لوگ آپ ﷺ کے منتظر ہیں یا رسول اللہ! اور لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے عشاء کی نماز کے لئے رسول اللہ ﷺ کا انتظار کر رہے تھے چناچہ رسول اللہ ﷺ نے کسی کو (یعنی حضرت بلال کو) حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس یہ کہلا کر بھیجا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، چناچہ قاصد (یعنی حضرت بلال ؓ ان کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کے لئے نبی ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں حضرت ابوبکر ؓ ایک نرم دل آدمی تھے (یہ سن کر) حضرت عمر ؓ سے کہنے لگے کہ عمر ؓ تم ہی لوگوں کو نماز پڑھادو (کیونکہ میں تو نبی ﷺ کی جگہ کھڑا ہونے کا متحمل نہیں ہوسکتا) لیکن حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ اس عظیم مرتبے کے سب سے زیادہ اہل آپ ہیں، چناچہ حضرت ابوبکر ؓ نے ان دنوں میں (یعنی رسول اللہ کے ایام مرض میں سترہ نمازیں لوگوں کو پڑھائیں (جب ایک روز) رسول اللہ ﷺ اپنے مرض میں کچھ تخفیف محسوس فرمائی تو دو آدمیوں کا سہارا لے کر ان میں سے ایک حضرت عباس ؓ تھے نماز ظہر کے لئے (مسجد میں) تشریف لے گئے حضرت ابوبکر صدیق ؓ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری کی آہٹ سنی تو پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، لیکن رسول اللہ ﷺ نے انہیں اشارہ کے ذریعہ پیچھے ہٹنے سے منع فرما دیا اور ان دونوں سے (جن کا سہارا لے کر آپ ﷺ مسجد میں آئے تھے) فرمایا کہ مجھے ابوبکر کے پہلو میں بٹھا دو! چناچہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو حضرت ابوبکر ؓ کے پہلو میں بٹھا دیا اور آپ ﷺ بیٹھے (نماز پڑھاتے) رہے حضرت عبداللہ (اس حدیث کے راوی) فرماتے ہیں کہ میں (حضرت عائشہ سے یہ حدیث سن کر) حضرت عبداللہ ابن عباس کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ کیا میں آپ سے وہ حدیث نہ بیان کر دوں جو میں نے حضرت عائشہ ؓ رسول اللہ ﷺ کی بیماری کے بارے میں سنی ہے؟ حضرت عبداللہ ابن عباس نے فرمایا کہ ہاں بیان کرو! چناچہ میں نے ان کے سامنے حضرت عائشہ کی حدیث بیان کی حضرت عبداللہ ابن عباس نے اس میں سے کسی بات کا انکار نہیں کیا البتہ یہ فرمایا کہ کیا حضرت عائشہ نے تم سے اس آدمی کا نام بیان کیا ہے جو حضرت عباس کے ساتھ تھے؟ میں نے کہا کہ نہیں حضرت عبداللہ ابن عباس نے فرمایا کہ وہ حضرت علی المرتضیٰ تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حضرت عائشہ ؓ نے حضرت عباس ؓ کا نام تو لے لیا مگر دوسرے آدمی کا نام نہیں لیا جو ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کو سہارا دے کر مسجد لے گئے تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ کے ایک طرف تو حضرت عباس مستقل طور پر آپ ﷺ کو سہارا دئیے ہوئے تھے مگر دوسرے طرف ایک ہی آدمی مقرر نہ تھا بلکہ نوبت بہ نوبت بدلتے جاتے تھے کبھی تو حضرت علی سہارا دیتے کبھی حضرت اسامہ یا فضل ابن عباس یہی وجہ ہے کہ ایک دوسری طرف روایت میں حضرت عائشہ کے الفاظ کچھ اس طرح منقول ہیں جو بطریق احتمال سب ناموں کو شامل ہیں چناچہ وہ الفاظ یہ ہیں کہ آپ ﷺ کے دوسری طرف اہل بیت سے میں سے ایک آدمی (سہارا دئیے ہوئے) تھا۔

1119Mishkaat-al-Masabih

سورت فاتحہ نہ پڑھنے سے ادھوراثواب ملتا ہے

وَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّہ، کَانَ یَقُوْلُ مَنْ اَدْرَکَ الرَّکْعَۃَ فَقَدْاَدْرَکَ السَّجْدَۃَ وَمَنْ فَاتَتْہ، قِرَ اءَ ۃُ اُمِّ الْقُرْاٰنِ فَقَدْ فَاَتَہ، خَیْرٌ کَثِیْرٌ۔ (رواہ مالک)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے جس نے رکوع پایا اسے پوری رکعت مل گئی اور جو آدمی سورت فاتحہ پڑھنے سے رہ گیا وہ بہت سارے ثواب سے (بھی محروم) رہ گیا۔ (مالک) تشریح مطلب یہ ہے کہ جس نے نماز میں سورت فاتحہ نہیں پڑھی تو چونکہ وہ اس وجہ سے بہت زیادہ ثواب سے محروم رہ گی اس لئے اس کی نماز کا ثواب ناقص ہے۔ اس حدیث سے بین طریقہ پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں سورت فاتحہ کا پڑھنا فرض نہیں ہے کیونکہ اگر سورت فاتحہ کا پڑھنا فرض ہوتا تو نماز میں سورت فاتحہ نہ پڑھنے کی وجہ سے کمی و نقصان نہیں ہوتا بلکہ نماز نہ ہونے کی وجہ سے سرے سے ثواب ملتا ہی نہیں۔ اس حدیث سے بین طریقہ پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں سورت فاتحہ کا پڑھنا فرض نہیں ہے کیونکہ اگر سورت فاتحہ کا پڑھنا فرض ہوتا تو نماز میں سورت فاتحہ نہ پڑھنے کی وجہ سے کمی و نقصان نہیں ہوتا بلکہ نماز نہ ہونے کی وجہ سے سرے سے ثواب ملتا ہی نہیں۔

1120Mishkaat-al-Masabih

امام پر پہل کرنے کی وعید

وَعَنْہ، اَنَّہ، قَالَ الَّذِیْ یَرْفَعُ رَأْسَہ، وَیَحْفِضُہ، قَبْلَ الْاِمَامِ فَاِنَّمَا نَاصِیَتُہ، بِیَدِ الشَّیْطَانِ۔ (رواہ مالک)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ ( یہ بھی) فرماتے تھے کہ جو آدمی (رکوع و سجود) میں اپنے سر کو امام سے پہلے اٹھائے یا جھکائے تو (سمجھو کہ) اس کی پیشانی شیطان کے ہاتھ میں ہے۔ (مالک)

1121Mishkaat-al-Masabih

دو مرتبہ نماز پڑھنے والے آدمی کا بیان

اگر کوئی آدمی ایک ہی نماز دو مرتبہ خواہ حقیتا یا صورۃ پڑھتا ہے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آیا دونوں مرتبہ کی نمازیں ایک ہی قسم سے ادا ہوں گی یا ان کی حیثیت میں فرق ہوجائے گا؟ یا دونوں مرتبہ فرض ادا ہوں گے یا ایک مرتبہ فرض اور دوسری مرتبہ نفل؟ یہی باتیں بتانے کے لئے یہ باب قائم کیا گیا ہے اور انہیں مضامین پر مشتمل احادیث اس باب کے تحت نقل کی جائیں گی۔