نماز کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 11 · 527 hadiths · Page 22 of 27

1122Mishkaat-al-Masabih

حضرت معاذ کے دو مرتبہ نماز پڑھنے کی حقیقت

عَنْ جَابِرٍص قَالَ کَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ص ےُّصَلِّیْ مَعَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم ثُمَّ ےَاْتِیْ قَوْمَہُ فَےُصَلِّیْ بِھِمْ ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ ابن جبل ؓ (پہلے تو) رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نماز پڑھتے تھے اور پھر اپنی قوم کے پاس آکر انہیں نماز پڑھاتے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح حضرت معاذ ابن جبل ؓ کا یہ معمول تھا کہ وہ عشاء کی سنتیں یا نفل رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ پڑھتے تھے تاکہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ اور مسجد نبوی میں نماز پڑھنے کی فضیلت وسعادت حاصل ہوجائے اور رسول اللہ ﷺ سے نماز پڑھنے کا طریقہ بھی معلوم ہوجائے پھر وہاں سے اپنی قوم میں آکر لوگوں کو فرض نماز پڑھایا کرتے تھے۔

1123Mishkaat-al-Masabih

حضرت معاذ کے دو مرتبہ نماز پڑھنے کی حقیقت

وَعَنْ جَابِرِ قَالَ کَانَ مُعَاذُ یُصَلِّیْ مَعَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلماَلْعِشَاءَ ثُمَّ یَرْ جِعُ اِلٰی قَوْمِہٖ فَیُصَلِّیْ بِہِمُ الْعِشَاءَ وَہِیَ لَہُ نَافِلَۃٌ (رواہ البُخَارِیُّ)

اور حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ ابن جبل ؓ عشاء کی نماز (پہلے تو) رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ پڑھتے تھے پھر اپنی قوم میں آتے اور ان کو عشاء کی نماز پڑھاتے اور وہ ان کے لئے نفل ہوتی۔ تشریح حضرت معاذ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ پہلے تو عشاء کی نماز پڑھتے وقت عشاء کی سنت کی نیت کرتے ہوں گے یا نفل نماز کی نیت کرلیتے ہوں گے پھر اپنی قوم کے پاس آکر ان کی امامت کرتے اور اس وقت فرض نماز پڑھتے تھے۔ حدیث کے آخری الفاظ وھی لہ نا فلۃ کا مطلب سمجھنے سے پہلے یہ بات ذہن نشین کرلیجئے کہ دو مرتبہ نماز پڑھنے کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں ایک تو یہ کہ ایک آدمی نے اپنے مکان میں تنہا یا جماعت کے ساتھ نماز پڑھی اس کے بعد مسجد آیا تو دیکھا کہ وہاں اسی نماز کی جماعت ہو رہی ہے تو جو پہلے پڑھ چکا ہے۔ وہ مسجد میں جماعت کی فضیلت حاصل کرنے کی غرض سے جماعت میں شریک ہو کر دوبارہ نماز پڑھ لیتا ہے اس صورت میں فرض نماز کی ادائیگی چونکہ پہلے ہوچکی ہے اس لئے یہ جماعت کی نماز اس کے لئے نفل ہوجائے گی۔ دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ ایک آدمی کسی مسجد کا امام ہے وہ اپنی مسجد میں نماز پڑھانے سے پہلے کسی خاص موقعہ پر یا کسی خاص آدمی کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت حاصل کرنے کی غرض سے بہ نیت نفل نماز پڑھ لیتا ہے پھر اس کے بعد اپنی مسجد میں آکر لوگوں کو نماز پڑھاتا ہے ایسی صورت میں بعد کی نماز فرض ادا ہوگی اور پہلی نماز نفل ہوجائے گی۔ اس تفصیل کو سمجھنے کے بعد اس جملے کا مطلب آسانی سے سمجھا جاسکتا ہے اور وہ یہ کہ دوسری نماز جو جماعت کے ساتھ فرض یا نفل ادا ہوتی ہے یا پہلی نماز دو مرتبہ پڑھنے والے کے حق میں نافلہ یعنی خیرو بھلائی کی زیاتی اور ثواب کی کثرت کا باعث ہوتی ہے۔ جن لوگوں نے اس جملے کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ وہ دوسری نماز جو حضرت معاذ ؓ قوم کے ہمراہ پڑھتے تھے حضرت معاذ ؓ کی نفل نماز اور ان کی قوم کی عشاء کی فرض نماز ہوتی تھے۔ حقیقت سے دور ہے کیونکہ یہ بات تو اسی وقت صحیح ہوسکتی ہے جب کہ اس مطلب کو بیان کرنے والے حضرت معاذ کا کوئی ایسا قول بھی پیش کریں جس میں حضرت معاذ خود یہ بتائیں کہ ان کی نیت دونوں مرتبہ کیا ہوتی تھی کیونکہ نیت کی حقیقت تو اس وقت تک معلوم نہیں ہوتی جب تک کہ نیت کرنے والا اپنی نیت کے بارے میں خود نہ بتائے کہ اس کی نیت کیا ہے اور ظاہر ہے کہ حضرت معاذ نماز پڑھتے وقت نیت دل میں کرتے ہوئے گے زبان سے اظہار نہیں کرتے ہوں گے جیسا کہ ابن ہمام نے نقل کیا ہے کہ زبان سے نیت کرنا بدعت ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کے بارے میں یہ ثابت نہیں ہے کہ وہ زبان سے نیت کرتے تھے پھر یہ بات ملحوظ رہے کہ یہ جملہ وہی نافلہ حدیث کے الفاظ نہیں ہیں بلکہ اضافہ ہے جو صحیح روایتوں میں موجود نہیں ہے چناچہ بعض حضرات نے لکھا ہے کہ حضرت امام شافعی نے اپنے اجتہاد و مسلک کے مطابق اس کا اضافہ کیا ہے پھر یہ مشکوٰۃ کے اصل نسخے میں یہ جگہ خالی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مؤلف مشکوٰۃ نے سنن کے کسی بھی طریق سے یہ جملہ نہیں پایا۔ علامہ تور پشتی فرماتے ہیں کہ علماء حدیث کا یہ قول ہے کہ وھی لہ نافلۃ حدیث جابر میں غیر محفوظ ہے۔ نفل نماز پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟ اس مسئلے میں ائمہ کا جو اختلاف ہے اسے پوری وضاحت کہے ساتھ مظاہر حق جدید کی قسط ٩ میں باب القراۃ فی الصلوٰۃ کی حدیث نمبر ١٠ کے فائدہ کے ضمن میں بیان کیا جا چکا ہے۔

1124Mishkaat-al-Masabih

جماعت کے ساتھ دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم

عَنْ یَزِیْدِ بْنِ الْاَسْوَدِ قَالَ شَھِدْتُّ مَعَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم حَجَّتَہ، فَصَلَّیْتُ مَعَہ، صَلَاۃَ الصُّبْحِ فِیْ مَسْجِدِ الْخَیْفِ فَلَمَّا صَلَاتَہ، وَانْحَرَفَ فَاِذَا ھُوَ بِرَجُلَیْنِ فِیْ اٰخِرِ الْقَوْمِ لِمَ یُصَلِّیَا مَعَہ، قَالَ عَلَیَّ بِھِمَا فَجِیْ ءَ بِھِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصَھُمَا فَقَالَ مَا مَنَعَکُمَا اَنْ تُصَلِّیَا مَعَنَا فَقَالَا یَا رَسُوْلَ اﷲِ اِنَّ کُنَّا قَدْ صَلَّیْنَا فِی رِحَالِنَا قَالَ فَلَا تَفْعَلَا اِذَا صَلَّیْتُمَا فِی رِحَالِکُمَا ثُمَّ اَتَیْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَۃٍ فَصَلِّیَا مَعَھُمْ فَاِنَّھَا لَکُمَا نَافِلَۃٌ۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤد النسائی )

حضرت یزید ابن اسود ؓ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ حج (حجۃ الوداع) میں شریک تھا چناچہ (اس موقع پر ایک دن میں نے آپ ﷺ کے ہمراہ مسجد خیف میں صبح کی نماز پڑھی جب آپ ﷺ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ دو آدمی جماعت کے آخر میں بیٹھے ہوئے جنہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی رسول اللہ ﷺ نے (انہیں دیکھ کر لوگوں سے) فرمایا کہ ان دونوں کو میرے پاس لاؤ! وہ دونوں حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں اس حال میں حاضر کئے گئے کہ (رسول اللہ ﷺ کی ہیبت کی وجہ سے) ان کے کندھوں کا گوشت تھر تھرا رہا تھا رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تمہیں ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے کس چیز نے روک دیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم اپنے مکان میں نماز پڑھ چکے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آئندہ ایسا نہ کرنا، اگر تم اپنے مکان میں نماز پڑھ چکو اور اس مسجد میں آؤ جہاں جماعت ہو رہی ہو تو لوگوں کے ساتھ (بھی) نماز پڑھ لو، یہ نماز تمہارے لئے نفل ہوجائے گی۔ (سنن ابوداؤد، سنن نسائی) تشریح حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ آخر میں پڑھی جانے والی نماز نفل ہوجائے گی خواہ پہلی نماز جماعت سے پڑھی ہو یا تنہا پڑھی ہو۔

1125Mishkaat-al-Masabih

جماعت کے ساتھ دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم

عَنْ بُسْرِبْنِ مِحْجَنٍ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّہ، کَانَ فِی مَجْلِسٍ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَاُذِّنِ بِالصَّلَاۃِ فَقَامَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَصَلَّی وَرَجَع وَمِحْجَنٌ فِیْ مَجْلِسِہٖ فَقَالَ لَہ، رَسُوْل اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَامَنَعَکَ اَنْ تُصَلِّیَ مَعَ النَّاسِ اَلَسْتَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ فَقَالَ بَلٰی یَارَ ُسْوَل اﷲِ وَلٰکِنِّی کُنْتُ قَدْ صَلَّیْتُ فِیْ اَھْلِی فَقَالَ لَہ، رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا جِئْتَ الْمَسْجِدَ وَکُنْتَ قَدْ صَلَّیْتَ فَاَقِیْمَتِ الصَّلَاۃَ فَصَلِّ مَعَ النَّاسِ وَاِنْ کُنْتَ قَدْ صَلَّیْتَ۔ (رواہ مالک و النسائی )

حضرت بسر ابن محجن اپنے والد محترم سے روایت کرتے ہیں کہ وہ (یعنی ان کے والد محترم حضرت محجن) ایک مجلس میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے کہ نماز کیلئے اذان ہوگئی چناچہ رسول اللہ ﷺ نماز کے لئے کھڑے ہوگئے نماز پڑھ کر جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو دیکھا کہ محجن اپنی جگہ بیٹھے ہوئے ہیں آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے تمہیں کس چیز نے روک دیا تھا کیا تم مسلمان نہیں ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہاں میں مسلمان ہوں لیکن (بات یہ ہوئی کہ) میں اپنے گھر والوں کے ساتھ نماز پڑھ چکا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ جب تم مسجد میں آؤ اور نماز (اپنے گھروں میں) پڑھ چکے ہو اور مسجد میں جماعت کھڑی ہو تو لوگوں کے ساتھ (دوبارہ) نماز پڑھ لو اگرچہ تم نماز پڑھ چکے ہو۔ (مالک، سنن نسائی)

1126Mishkaat-al-Masabih

دوبارہ نماز پڑھنا باعث ثواب ہے

وَعَنْ رَجُلٍ مِّنْ اَسَدِ بْنِ خُزَیْمَۃَ اَنَّہ، سَأَلَ اَبَا اَیُّوْبَ الْاِنْصَارِیَّ قَالَ یُصَلِّی اَحَدُنَا فِی مَنْزِلِہِ الصَّلَاۃَ ثُمَّ یَاتِی الْمَسْجِدَ وَتُقَامُ الصَّلَاۃُ فَاُصَلِّی مَعَھُمْ فَاَجِدُ فِیْ نَفْسِی شَیْئًا مِنْ ذٰلِکَ فَقَالَ اَبُوْ اَیُّوْبَ سَأَلْنَا عَنْ ذٰلِکَ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَذٰلِکَ لَہ، سَھْمُ جَمْعٍ۔ (رواہ مالک و ابوداؤد)

اور قبیلہ اسد ابن خزیمہ کے ایک آدمی کے بارے میں مروی ہے کہ اس نے حضرت ابوایوب انصاری ؓ سے پوچھا کہ ہم میں سے کوئی آدمی (اپنے گھر میں) نماز پڑھ لیتا ہے پھر وہ مسجد میں آتا ہے اور (دیکھتا ہے کہ) وہاں نماز پڑھی جا رہی ہے تو کیا میں نے ان کے ساتھ (دوبارہ) نماز پڑھ لوں؟ میں اپنے دل میں ایک کھٹک محسوس کرتا ہوں ( یعنی میرے دل میں یہ شبہہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا دوبارہ نماز پڑھنا میرے لئے بہتر ہے یا نہیں؟ ) حضرت ابوایوب انصاری ؓ نے فرمایا کہ میں نے (بھی اس مسئلے کو) رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ (دوبارہ نماز پڑھنا) اس کے لئے جماعت کا نصیبہ ہے۔ (مالک و سنن ابوداؤد) تشریح فَذٰلِکَ لَہ سَھْمُ جَمْعٍ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی ایک مرتبہ مکان میں فرض نماز پڑھ لینے کے بعد پھر دوبارہ مسجد میں جماعت کے ساتھ وہی نماز پڑھتا ہے تو اس کے حق میں سراسر سعادت کی بات ہے کیونکہ اس طرح اس جماعت کی فضیلت اور اس کا ثواب ہاتھ لگتا ہے لہٰذا اس سلسلہ میں دل کے اندر کوئی و سوسہ و شبہ پیدا نہیں کرنا چاہیے۔

1127Mishkaat-al-Masabih

دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم

وَعَنْ یَزِیْدَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ جِئْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم وَھُوَ فِی الصَّلَاۃِ فَجَلَسْتُ وَلَمْ اَدْخُلْ مَعَھُمْ فِی الصَّلَاۃِ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم رَآنِیْ جَالِسًا فَقَالَ اَلَمْ تُسْلِمْ یَا یَزِیْدُ قُلْتُ بَلٰی یَا رَسُوْلَ اﷲِ قَدْ اَسْلَمْتُ قَالَ وَمَا مَنَعَکَ اَنْ تَدْخُلَ مَعَ النَّاسِ فِیْ صَلَا تِھِمْ قَالَ اِنِّی کُنْتُ قَدْ صَلَّیْتُ فِی مَنْزِلِیْ اَحْسَبُ اَنْ قَدْ صَلَّیْتُمْ فَقَالَ اِذَا جِئْتَ الصَّلَاۃَ فَوَجَدْتَ النَّاسَ یُصَلُّوْنَ فَصَلِّ مَعَھُمْ وَاِنْ کُنْتَ قَدْ صَلَّیْتَ تَکُنْ لَکَ نَافِلَۃٌ وَھٰذِہٖ مَکْتُوْبَۃٌ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت یز ید ابن عامر ؓ فرماتے ہیں (ایک روز) میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ اس وقت (لوگوں کے ہمراہ) نماز پڑھ رہے تھے میں (ایک طرف) بیٹھ گیا اور ان لوگوں کے ساتھ جماعت میں شامل نہیں ہوا جب رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے اور مجھے (ایک طرف) بیٹھے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ یزید کیا تم مسلمان نہیں ہو کہ نماز نہیں پڑھی؟ میں نے عرض کیا ہاں رسول اللہ! بیشک میں مسلمان ہوں! آپ نے فرمایا تو پھر لوگوں کے ساتھ نماز میں شریک ہونے سے تمہیں کس چیز نے روک دیا تھا؟ میں نے عرض میں اپنے مکان میں نماز پڑھ چکا تھا اور (اب آتے وقت) یہ خیال تھا کہ آپ ﷺ بھی نماز سے فارغ ہوچکے ہوں گے پھر فرمایا۔ جب تم نماز کو آؤ اور لوگوں کو (نماز پڑھتے ہوئے) پاؤ تو تم بھی ان کے ہمراہ نماز میں شامل ہوجاؤ اگرچہ تم (پہلے وہ) نماز پڑھ چکے ہو یہ دوسری مرتبہ کی نماز) تمہارے لئے نفل ہوجائے گی اور وہ (پہلی نماز) فرض ادا ہوگی۔ (ابوداؤد)

1128Mishkaat-al-Masabih

دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَجُلًا سَأَلَہ، فَقَالَ اِنِّی اُصَلِّی فِی بَیْتِی ثُمَّ اَدْرِکُ الصَّلَاۃَ فِی الْمَسْجِدِ مَعَ الْاِمَامِ اَفَاُصَلِّی مَعَہ، قَالَ لَہ، نَعَمْ قَالَ الرَّجُلُ اَیَّتَھُمَا اَجْعَلُ صَلَا تِی قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَذٰلِکَ اِلَیْکَ اِنَّمَا ذٰلِکَ اِلَی اﷲِ عَزَّوَجَلَّ یَجْعَلُ اَیَّتَھُمَا شَائَ۔ (رواہ مالک)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ ان سے ایک آدمی نے پوچھا میں اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہوں پھر مسجد میں (ایسے وقت پہنچتا ہوں کہ) لوگ امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہوتے ہیں تو کیا میں بھی اس امام کے پیچھے نماز پڑھوں؟ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ ہاں! پھر اس آدمی نے پوچھا کہ (ان میں سے) اپنی (فرض) نماز کسے قرار دوں؟ (پہلی یا دوسری کو) حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ نے فرمایا ( کیا یہ تمہارا کام ہے؟ (یعنی ان میں سے کسی ایک کو فرض نماز مقرر کرنا تمہارا کام نہیں ہے) یہ تو اللہ بزرگ و برتر کے اختیار میں ہے کہ وہ جسے چاہے تمہاری (فرض) نماز قرار دے۔ (مالک) تشریح یہ حدیث بعض شوافع اور امام غزالی (رح) کے اس قول کی تائید کرتی ہے کہ ان دونوں نمازوں میں ایک نماز بلا تعین فرض ادا ہوتی ہے خواہ پہلی نماز ہو یا دوسری۔ لیکن اکثر احادیث سے یہ بات بصراحت معلوم ہوتی ہے کہ ان دونوں میں پہلی نماز فرض ادا ہوتی ہے اور دوسری نماز نفل ہوجاتی ہے اور یہی بات قرین قیاس بھی معلوم ہوتی ہے کیونکہ کوئی آدمی کسی ایسے کام کو جو اس کے لئے ایک وقت میں ایک مرتبہ کرنا ضروری ہو اگر دو مرتبہ کرے تو ظاہر ہے کہ وہ بری الذمہ پہلی مرتبہ ہوتا ہے نہ کہ دوسری مرتبہ، اسی طرح فرض نماز کی ادائیگی پہلی مرتبہ ہوتی ہے اور دوسری مرتبہ کی نماز اس کے حق میں نفل کی صورت میں فضیلت وسعادت کا سرمایہ بن جاتی ہے۔

1129Mishkaat-al-Masabih

ایک نماز کو دوبارہ نہ پڑھنے کا حکم

وَعَنْ سُلَیْمَانَ مَوْلٰی مَیْمُوُنَۃَ قَالَ اَتَیْنَا ابْنَ عُمَرَ عَلَی الْبَلاَطِ وَھُمْ یُصَلُّوْنَ فَقُلْتُ اَلَاتُصَلِّی مَعَھُمْ قَالَ قَدْ صَلَّیْتُ وَاِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ لَا تُصَلُّوْا صَلَاۃً فِی یِوْمٍ مَرَّتَیْنِ۔ (رواہ احمد بن حنبل ابوداؤد ،والنسائی )

اور ام المومنین حضرت میمونہ ؓ کے آزاد کردہ غلام حضرت سلیمان فرماتے ہیں کہ ایک روز ہم حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کے پاس مقام بلاط میں آئے لوگ اس وقت (مسجد میں) نماز پڑھ رہے تھے میں نے عبداللہ ابن عمر ؓ سے عرض کیا کہ آپ لوگوں کے ہمراہ نماز نہیں پڑھتے؟ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ نے فرمایا میں نماز پڑھ چکا ہوں اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم ایک دن (یعنی ایک وقت میں) ایک نماز دو مرتبہ نہ پڑھو۔ (ابوداؤد، سنن نسائی، مسند احمد بن حنبل) تشریح بلاط مدینہ منورہ میں ایک جگہ کا نام ہے جسے امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ نے مسجد سے باہر اس مقصد کے لئے بنایا تھا کہ لوگوں کو باتیں وغیرہ کرنی ہوں تو مسجد سے باہر اس جگہ کیا کریں اور مسجد میں دنیاوی امور پر مشتمل بات چیت نہ ہو۔ دوبارہ نماز پڑھنے کے حکم کی تطبیق گزشتہ احادیث سے بظاہر یہ حدیث گذشتہ احادیث سے متعارض نظر آتی ہے جو ایک نماز کو دوبارہ پڑھنے پر دلالت کرتی ہیں لہٰذا اس حدیث کے حکم و گذشتہ احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ دراصل اس حدیث کے حکم کا تعلق اس آدمی سے ہے جو پہلی مرتبہ جماعت سے نماز پڑھ چکا ہو اور گذشتہ احادیث کا تعلق اس آدمی سے ہے جس نے پہلی مرتبہ نماز جماعت سے نہیں بلکہ تنہا پڑھی ہو جیسا کہ حنفیہ کا مسلک ہے۔ یا۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ دوسری مرتبہ نماز بطریق فرضیت نہ پڑھو یعنی دوسری نماز اگر نفل جان کر اور نفل کی نیت سے پڑھو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اس وضاحت کی روشنی میں حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کے الفاظ قد صلیت ( میں نماز پڑھ چکا ہوں) کی یہ تشریح کی جائے گی کہ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ شاید جمات سے نماز پڑھ چکے ہوں گے اس لئے وہ دوبارہ نماز میں شریک نہیں ہوئے یا یہ کہ جس وقت کا یہ واقعہ ہے۔ وہ فجر یا عصر و مغرب کا وقت ہوگا۔ کہ ان اوقات میں دوبارہ نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔ آخر میں اتنی بات بھی سمجھ لیجئے کہ اس سلسلے میں اکثر حدیثیں عام ہیں یعنی ان احادیث سے بظاہر معلوم یہی ہوتا ہے کہ یہ حکم کہ اگر کوئی آدمی تنہا نماز پڑھ کر مسجد میں آئے اور وہاں جماعت ہو رہی ہو تو وہ جماعت میں شریک ہوجائے اور دوبارہ نماز پڑھ لے تمام اوقات کی نمازوں سے متعلق ہے لیکن مجتہدین اور علماء نے ان احادیث پر بھی نظر رکھی ہے جن سے بعض اوقات میں دوبارہ نماز پڑھنے کو مکروہ قرار دیا گیا لہٰذا ان احادیث کے پیش نظر انہوں نے ان اوقات کو متعین کردیا ہے جن میں دوبارہ نماز پڑھ لینی چاہیے اور ان اوقات کو بھی مختص کردیا ہے جن میں دوبارہ نماز نہیں پڑھنی چاہیے چناچہ اگلی حدیث میں یہ تخصیص مذکور ہے۔

1130Mishkaat-al-Masabih

وہ اوقات جن میں دوبارہ نماز پڑھنا ممنوع ہے

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ اِنَّ عَبْدَاﷲِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُوْلُ مَنْ صَلَّی الْمَغْرِبَ اَوِ الصُّبْحَ ثُمَّ اَدْرَکَھُمَا مَعَ الْاِمَامِ مَعَ فَلَا یَعُدْ لَھُمَا ۔ (رواہ مالک)

اور حضرت نافع راوی ہیں کہ حضرت عبدا اللہ ابن عمر ؓ فرمایا کرتے تھے کہ جس آدمی نے مغرب یا فجر کی نماز (تنہا) پڑھ لی اور پھر ان نمازوں کو امام کے ساتھ پایا (یعنی جہاں جماعت ہو رہی تھی وہاں پہنچ گیا) تو وہ ان کو دوبارہ نہ پڑھے۔ (مالک) تشریح یہ حدیث حضرت امام مالک (رح) کے مسلک کی تائید کرتی ہے کیونکہ ان کے ہاں صرف مغرب اور فجر کی نمازوں کا اعادہ ممنوع ہے مگر حنفیہ کے ہاں عصر کی نماز بھی اس حکم میں ہے حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک تمام نمازوں میں اعادہ ہوسکتا ہے اس حدیث میں اس طرف اشارہ کردیا گیا ہے کہ مذکورہ بالا حکم اس آدمی کے بارے میں ہے جس نے پہلی مرتبہ جماعت سے نہیں بلکہ تنہا نماز پڑھی ہو لہٰذا پہلی مرتبہ جماعت سے نماز پڑھ لینے کی شکل میں تو بطریق اولیٰ دوبارہ نماز پڑھنی چاہیے۔

1131Mishkaat-al-Masabih

سنتوں اور اس کی فضیلتوں کا بیان

شریعت اسلامی میں نماز چونکہ سب سے عمدہ اور اعلیٰ درجے کی عبادت ہے نیز دوسری عبادتوں کے مقابلہ میں اس کی بڑی اہمیت اور رب قدوس کی بارگاہ میں سب سے زیادہ محبوب ہے اس لئے اس عبادت میں جتنی زیادہ کثرت اور زیادتی اختیار کی جاتی ہے اسی قدر نہ صرف یہ کہ بندے کی سعادت و بھلائی بےپناہ رفعتیں اور عروج و بلندیاں ہوتی ہیں بلکہ وہ اپنی پوری پوری عبودیت اور خداوند عالم کی حاکمیت وکبریائی کا اظہار بھی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت میں دوسری عبادتوں کو جہاں صرف فرائض تک محدود رکھا ہے وہاں اس عبادت کو فرائض و واجبات کے علاوہ سنن سے بھی نوازا ہے چناچہ ہر فرض نماز کے ساتھ کچھ سنتیں بھی مقرر کی گئی ہیں تاکہ نہ صرف یہ کہ وہ فرض کے ساتھ آسانی سے ادا ہوجائیں بلکہ فرض نماز کی ادائیگی میں جو نقصان و کوتاہی واقع ہوگئی ہو وہ پوری ہوجائے۔ سنتیں یعنی وہ نماز جو دن و رات میں فرض نمازوں کے ساتھ پڑھی جاتی ہیں ان کی دو قسمیں ہیں۔ (١) روا تب یہ وہ سنت نمازیں کہلاتی ہیں جن پر رسول اللہ ﷺ نے مداومت اختیار فرمائی۔ (٢) غیر رواتب یہ وہ سنت نمازیں کہلاتی ہیں جن پر رسول اللہ ﷺ نے مداومت اختیار نہیں فرمائی جیسے عصر کے وقت کی سنتیں۔ سنتیں پڑھنے کا بھی وہی طریقہ ہے جو فرض نماز پڑھنے کا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ فرض نماز کی صرف دو رکعتوں میں سورت فاتحہ کے بعد دوسری سورت بھی پڑھنے کا حکم ہے اور سنت نماز کی سب رکعتوں میں سورت فاتحہ کے بعد دوسری سورت بھی پڑھی جاتی ہے اور سنت نماز کی رکعتوں میں جو سورتیں پڑھی جاتی ان کا برابر نہ ہونا خلاف سنت نہیں ہے نیز سنت نمازیں دن میں دو رکعت تک اور رات میں چار رکعت تک ایک ہی سلام سے پڑھی جاسکتی ہیں مگر دو رکعت کے بعد التحیات پڑھنا ضروری ہوتا ہے۔ (علم الفقہ) یہ بات بھی جان لیجئے کہ سنت نفل تطوع، مندوب مستحب، مرغوب فیہ اور حسن یہ تمام الفاظ مترادف ہیں ان سب کے معنی ایک ہی ہیں۔ یعنی وہ نماز جس کے پڑھنے کو شارع نے نہ پڑھنے پر ترجیح دی ہے اگرچہ ان نمازوں میں بعض ایسی ہیں جو دوسری بعض کے مقابلہ میں سنت موکدہ ہیں۔

1132Mishkaat-al-Masabih

سنتوں کی تعداد اور ان کی پڑھنے کی فضیلت

عَنْ اُمِّ حَبِےْبَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا اَنّھَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہَ وَسَلَّمَ مَنْ صَلّٰی فِیْ یَوْمٍ وَّلَیْلَۃٍ ثِنْتَیْ عَشَرَۃَ رَکْعَۃٍ بُنِیَ لَہُ بَیْتٌ فِیْ الْجَنَّۃِ اَرْبَعاً قَبْلَ الظُّہْرِ وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ ھَا وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَرَکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ وَرَکْعَتَیْنِ قَبْلَ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَفِیْ رَوَایَۃٍ لِمُسْلِمٍ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقُوْلُ مَا مِنْ عَبْدٍ مُّسْلِمٍ ےُّصَلِّیْ لِلّٰہِ کُلَّ ےَوْمٍ ثِنْتَیْ عَشَرَۃَ رَکْعَۃً تَطَوُّعًا غَےْرَ فَرِےْضَۃٍ اِلَّا بَنَی اللّٰہُ لَہُ بَےْتًا فِی الْجَنَّۃِ اَوْ اِلَّا بُنِیَ لَہُ بَےْتٌ فِی الْجَنَّۃِ۔(صحیح مسلم)

حضرت ام حبیبہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی دن و رات میں بارہ رکعتیں نماز پڑھے تو اس کے لئے جنت میں گھر بنایا جاتا ہے اور وہ بارہ رکعتیں یہ ہیں چار رکعت ظہر (کی فرض نماز) سے پہلے اور دو رکعت اس کے بعد، دو رکعت مغرب کی فرض نماز کے بعد، دو رکعت عشاء کی فرض نماز کے بعد اور دو رکعت فجر کی فرض نماز سے پہلے۔ (جامع ترمذی ) اور صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ حضرت ام جیبہ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو بندہ مسلمان ہر دن میں اللہ جل شانہ کے لئے فرض نمازوں کے علاوہ بارہ رکعتیں (سنت) پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بناتا ہے یا یہ فرمایا کہ اس کے لئے جنت میں گھر بنایا جاتا ہے۔ تشریح حدیث میں دن و رات کی سنتوں کی جو تعداد مذکورہ تفصیل کے ساتھ بتائی گئی ہے وہ تمام سنتیں مؤ کدہ ہیں اور فجر کی دونوں سنت رکعتیں سب سے زیادہ مؤ کدہ ہیں حتی کہ حضرت امام حسن بصری (رح) اور بعض حنفیہ حضرات نے ان کو واجب تک کہا ہے امام حسن بصری (رح) نے تو مغرب کی دونوں سنتوں کو بھی واجب کہا ہے لیکن اس حدیث کے پیش نظر ان کے قول کی تردید کی گئی ہے کہ وہ واجب نہیں بلکہ سنت ہیں۔

1133Mishkaat-al-Masabih

سنتوں کی تعداد اور ان کی پڑھنے کی فضیلت

عَنِ ابْنِ عُمَرَص قَالَ صَلَّےْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم رَکْعَتَےْنِ قَبْلَ الظُّھْرِ وَرَکْعَتَےْنِ بَعْدَھَا وَرَکْعَتَےْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فِیْ بَےْتِہٖ وَرَکْعَتَےْنِ بَعْدَ الْعِشَآءِ فِیْ بَےْتِہٖ قَالَ وَحَدَّثَتْنِیْ حَفْصَۃُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ ےُصَلِّیْ رَکْعَتَےْنِ خَفِےْفَتَےْنِ حِےْنَ ےَطْلُعُ الْفَجْرُ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ظہر ( کی فرض نماز) سے پہلے دو رکعتیں، اس کے بعد دو رکعتیں اور آپ ﷺ کے گھر (یعنی حضرت حفصہ جو عبداللہ ابن عمر کی بہن تھیں کے حجرے) میں مغرب ( کی فرض نماز) کے بعد دو رکعتیں پڑھی ہیں نیز حضرت عبداللہ ابن عمر نے فرمایا۔ کہ حضرت حفصہ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ دو ہلکی رکعتیں اس وقت پڑھا کرتے تھے جب فجر طوع ہوتی تھی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ نے ظہر سے پہلے کی سنتوں کے لئے رکعتین (دو رکعتیں) کا استعمال فرمایا ہے جس کا ظاہری مطلب تو یہی ہے کہ آپ ﷺ نے ظہر سے پہلے دو رکعتیں پڑھیں لیکن اہل علم کا قول ہے کہ تثنیہ (دو ) جمع (چار) کے منافی نہیں ہے یعنی اگر یہاں رکعتین کے معنی بجائے دو رکعت کے چار رکعت مراد لئے جائیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں اس توجیہ کے ذریعے اس حدیث میں اور اس حدیث میں کہ جس سے ظہر کی فرض نماز سے پہلے چار رکعت سنتیں ثابت ہوتی ہیں تطبیق ہوجاتی ہیں (ملا علی قاری) حضرت شیخ عبدالحق فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حضرت امام شافعی کی مستدل ہے کیونکہ ان کے نزدیک ظہر کی فرض نماز سے پہلے سنت دو رکعتیں ہیں مگر حنفیہ کے نزدیک چار رکعتیں ہیں حنفیہ مسلک کی مستدل بھی بہت سی احادیث مروی ہیں جو حضرت علی المرتضیٰ حضرت عائشہ اور حضرت ام حبیبہ وغیرہ سے منقول ہیں نیز حضرت امام ترمذی نے حنفیہ مسلک کے حق میں فرمایا ہے کہ اسی مسلک پر حضرات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین وغیرہ میں سے اکثر اہل علم کا عمل ہے اور یہی قول سفیان ثوری، ابن المبارک اور اسحق کا بھی ہے نیز حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد کا قول بھی چار رکعتوں ہی کے بارے میں منقول ہے لیکن اس طرح کہ چار رکعتیں دو سلام کے ساتھ پڑھی جائیں حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کے اس ارشاد کی ایک توجیہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی چار رکعت سنتیں گھر میں پڑھا کرتے تھے لہٰذا ازواج مطہرات نے چار رکعتوں ہی کے بارے میں ذکر کیا اور جب آپ ﷺ فرض نماز پڑھانے کے لئے مسجد میں تشریف لاتے تو وہاں تحیۃ المسجد کی دو رکعتیں پڑھتے تھے اس لئے تحیۃ المسجد کی دو رکعتوں کو حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ نے ظہر کی سنتیں سمجھ کر فرمایا کہ میں نے آپ ﷺ کے ہمراہ ظہر کی فرض نماز سے پہلے دو رکعت سنتیں پڑھی ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ نے یہاں ظہر، مغرب اور عشاء کی سنتوں کا تذکرہ کیا ہے فجر کی سنتوں کا تذکرہ نہیں کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ صبح کے وقت رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نماز نہیں پڑھتے تھے اس لئے فجر کی سنتیں خود ذکر نہیں کیں بلکہ حضرت حفصہ ؓ کی روایت ذکر کردی تاکہ ان نمازوں کے ساتھ فجر کی سنتیں بھی معلوم ہوجائیں۔

1134Mishkaat-al-Masabih

جمعہ کی سنتیں

وَعَنْہُ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم لَا ےُصَلِّیْ بَعْدَ الْجُمُعَۃِ حَتّٰی ےَنْصَرِفَ فَےُصَلِّیَ رَکْعَتَےْنِ فِیْ بَےْتِہٖ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ (گھر میں) واپس تشریف لاتے اور مکان میں دو رکعتیں پڑھتے۔ (صحیح البخاری ) تشریح حضرت ابن ملک فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں رکعتین سے جمعہ کی سنتیں مراد ہیں چناچہ ایک قول کے مطابق حضرت امام شافعی (رح) کا عمل اسی حدیث میں ہے کہ جمعہ کی سنتیں ظہر ہی کی سنتوں کی طرح یعنی دو رکعتیں ہیں دیگر صحیح احادیث میں منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کی نماز سے پہلے بھی اور جمعہ کی نماز کے بعد بھی چار چار رکعت سنتیں پڑھتے تھے چناچہ حضرت امام ابویوسف (رح) فرماتے ہیں کہ نماز جمعہ کے بعد چھ رکعتیں سنتیں پڑھنی چاہئیں۔ جیسا کہ پہلے کسی موقعہ پر بتایا جا چکا ہے کہ نوافل نماز گھر میں پڑھنے افضل ہیں اس لئے رسول اللہ ﷺ جمعہ کے بعد کی سنتیں گھر ہی میں پڑھا کرتے تھے۔

1135Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ کے نوافل کی تعداد

عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ شَقِےْقٍ رحمۃ اللّٰہ علیہ قَالَ سَاَلْتُ عَآئِشَۃَ رضی اللہ عنہاعَنْ صَلٰوۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ تَطَوُّعِہٖ فَقَالَتْ کَانَ ےُصَلِّیْ فِیْ بَےْتِیْ قَبْلَ الظُّھْرِ اَرْبَعًا ثُمَّ ےَخْرُجُ فَےُصَلِّیْ بِالنَّاسِ ثُمَّ ےَدْخُلُ فَےُصَلِّیْ رَکْعَتَےْنِ وَکَانَ ےُصَلِّیْ بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ ثُمَّ ےَدْخُلُ بَےْتِیْ فَےُصَلِّیْ رَکْعَتَےْنِ وَکَانَ ےُصَلِّیْ مِنَ الَّےْلِ تِسْعَ رَکَعَاتٍ فِےْھِنَّ الْوِتْرُ وَکَانَ ےُصَلِّیْ لَےْلًا طَوِےْلًا قَآئِمًا وَّلَےْلًا طَوِےْلًا قَاعِدًا وَّکَانَ اِذَا قَرَاَ وَھُوَقَائِمٌ رَکَعَ وَ سَجَدَ وَھُوَ قَاعِدٌ وَّکَانَ اِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلّٰی رَکْعَتَےْنِ رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَ زَادَ اَبُوْدَاؤُدَ ثُمَّ یَخْرُجُ فَیُصَلِّی بِالنَّاسِ صَلَاۃَ الْفَجْرِ۔

اور حضرت عبداللہ ابن شفیق فرماتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی نفل میں نمازوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ پہلے میرے گھر میں ظہر کی چار رکعتیں پڑھتے پھر (مسجد) تشریف لے جاتے (اور وہاں) لوگوں کے ہمراہی (ظہر کی فرض) نماز پڑھتے پھر آپ ﷺ (گھر میں) تشریف لاتے اور دو رکعتیں نماز پڑھتے۔ (اسی طرح) آپ ﷺ مغرب کی نماز لوگوں کے ہمراہ (مسجد میں) ادا فرماتے اور پھر گھر میں تشریف لا کردو رکعتیں نماز پڑھتے۔ نیز آپ عشاء کی نماز لوگوں کے ہمراہ (مسجد میں) پڑھتے اور پھر میرے گھر تشریف لا کردو رکعتیں نماز پڑھتے اور آپ ﷺ رات میں (تہجد کی) نماز ( کبھی) نو رکعت پڑھا کرتے تھے ان میں وتر (کی نماز بھی) شامل ہوتی اور رات میں دیر تک کھڑے ہو کر اور دیر تک بیٹھ کر نماز پڑھا کرتے تھے اور جس وقت آپ ﷺ کھڑے ہو کہ نماز پڑھتے تو کھڑے ہی کھڑے رکوع و سجود میں چلے جایا کرتے تھے اور جب بیٹھ کر نماز پڑھتے تو ہی ہوئے رکوع و سجود میں جایا کرتے تھے اور جب صبح صادق ہوتی تو دو رکعت فجر کی سنتیں پڑھ لیتے تھے۔ (صحیح مسلم) ابوداؤد نے یہ الفاظ مزید نقل کئے ہیں۔ (فجر کی دو سنتیں پڑھ کر) پھر آپ ﷺ (مسجد) تشریف لے جاتے اور وہاں لوگوں کے ہمراہ فجر کی فرض نماز ادا فرماتے۔ تشریح یہ حدیث اس بات کی صریحی طور پر دلیل ہے کہ سنتیں گھر میں ہی پڑھنا افضل ہیں فیھن الو تر کا مطلب یہ ہے جب رسول اللہ ﷺ تہجد کی نماز ادا فرماتے تو اس کے ساتھ وتر بھی تین رکعت (جیسا کہ حنفیہ کا مسلک ہے) یا ایک رکعت (جیسا دیگر ائمہ کا مسلک ہے) پڑھ لیا کرتے تھے۔ رات کو رسول اللہ ﷺ کی نماز پڑھنے کے سلسلے میں مختلف روایتیں منقول ہیں کہ کبھی رکعتین پڑھنے کبھی اٹھ اور کبھی نو اسی طرح کبھی دس کبھی گیارہ اور کبھی تیرہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ رَکَعَ وَ سَجَدَ وَھُوَ قَائِمٌ کا مطلب یہ ہے کہ جس وقت آپ ﷺ تہجد کی نماز کھڑے ہو کر پڑھا کرتے تھے تو آپ حالت قیام ہی سے رکوع و سجود میں جایا کرتے تھے یہ نہیں ہوتا تھا کہ قرأت تو کھڑے ہو کر کرتے ہوں اور رکوع و سجود بیٹھ کر کرتے ہوں اسی طرح جب آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے تو رکوع و سجود بھی بیٹھے ہوئے ہی کرتے تھے تاہم اس صورت کے بارے میں یہ بھی منقول ہے کہ آپ رکوع و سجود میں کھڑے ہو کر جایا کرتے تھے یعنی قرأت تو بیٹھ کر کرتے پھر کھڑے ہوتے اور تھوڑی سی قرأت کر کے تب رکوع و سجود میں جاتے تھے۔ بہر حال تمام احادیث کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ تہجد کی نماز تین طرح سے پڑھتے تھے۔ (١) پوری نماز کھڑے ہو کر پڑھتے تھے۔ (٢) پوری نماز بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ (٣) قرأت بیٹھ کر کرتے پھر کھڑے ہوتے اور رکوع و سجود میں جاتے۔ اس تیسری صورت کا عکس نہیں فرماتے تھے۔ یعنی اس طرح نماز نہیں پڑھتے تھے کہ قرأت تو کھڑے ہو کر کرتے ہوں اور پھر بیٹھ کر رکوع و سجود میں جاتے ہوں جیسا کہ یہ حدیث اس کی نفی کر رہی ہے۔

1136Mishkaat-al-Masabih

فجر کی سنتوں کی تاکید

وَعَنْ عَآئِشَۃَ رضی اللّٰہ عنہا قَالَتْ لَمْ ےَکُنِ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم عَلٰی شَیءٍ مِّنَ النَّوَافِلِ اَشَدَّ تَعَاھُدًا مِّنْہُ عَلٰی رَکْعَتِیَ الْفَجْرِ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نوافل کے پڑھنے میں کسی کی ایسی محافظت اور مداومت نہیں فرماتے تھے جیسی کہ فجر کی (سنت کی) دو رکعت کے پڑھنے پر مداومت اور محافظت فرماتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ فجر کی سنتیں اتنی زیادہ اہم اور مؤ کدہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی بھی حال میں خواہ سفر میں ہوتے یا حضر میں انہیں پڑھنا نہیں چھوڑتے تھے۔ فجر کی سنتوں کی اہمیت و عظمت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ فقہاء نے لکھا ہے کہ بغیر کسی عذر کے فجر کی سنتوں کو بیٹھ کر پڑھنا درست نہیں ہے۔

1137Mishkaat-al-Masabih

فجر کی سنتوں کی فضیلت

وَعَنْھَا قَالَتْ قَالَ رَسُوْْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم رَکْعَتَا الْفَجْرِ خَےْرٌ مِّنَ الدُّنْےَا وَمَا فِےْھَا۔ (صحیح مسلم)

اور ام المومنین حضرت عائشہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فجر کی سنتوں کی دو رکعتیں دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ بہتر ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح فجر کی سنتوں کو دنیا اور دنیا کی چیزوں پر یہ فضیلت اس صورت میں دی گئی ہے کہ دنیا اور دنیا کی چیزیں اگر اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کردی جائیں تب بھی فجر کی سنتیں ہی افضل ہوں گی کیونکہ دنیا کی چیزوں میں بخل کرنے اور انہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے میں اچھائی کب ہے کہ فجر کی سنتوں کو ان سے افضل کہا جاتا۔ علماء نے لکھا ہے کہ سب سے زیادہ موکدہ سنتیں فجر کی ہیں اس کے بعد مغرب کی سنتیں اور اس کے بعد ظہر کی فرض نماز کے بعد کی سنتیں اس کے بعد عشاء کی فرض نماز کے بعد کی سنتیں اور پھر سب کے بعد ظہر کی فرض نماز سے پہلے کی سنتیں۔

1138Mishkaat-al-Masabih

مغرب کی فرض نماز سے پہلے دو رکعت پڑھنے کا حکم

وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍٍص قَالَ قَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم صَلُّوْاقَبْلَ صَلٰوۃِ الْمَغْرِبِ رَکْعَتَےْنِ صَلُّوْا قَبْلَ صَلٰوۃِ الْمَغْرِبِ رَکْعَتَیْنِ قَالَ فِی الثَّالِثَۃِ لِمَنْ شَآءَ کَرَاھِےَۃَ اَنْ ےَّتَّخِذَھَا النَّاسُ سُنَّۃً۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ ابن مغفل ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مغرب کی فرض نماز سے پہلے ( دو رکعتیں) نماز پڑھو (آپ نے یہ الفاظ دو مرتبہ فرمائے اور پھر) بوجہ اس بات کے مکروہ سمجھنے کے کہ لوگ انہیں سنت نہ قرار دے دیں تیسری مرتبہ یہ فرمایا کہ جو چاہے (پڑھ لیا کرے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح دو مرتبہ آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ مغرب کی فرض نماز پڑھنے سے پہلے دو رکعت نفل پڑھ لیا کرو مگر پھر یہ جان لو کہ لوگ دونوں رکعتوں کو سنت موکدہ کا درجہ دے دیں گے لمن شاء (جو چاہے) کہہ کر اس بات کی آگاہی دے دی کہ یہ رکعتیں سنت نہیں ہیں بلکہ ان کا درجہ زیادہ سے زیادہ استحباب تک ہے اگر کوئی آدمی انہیں پڑھ لے گا تو اسے ثواب ملے گا۔ اور جو آدمی نہیں پڑھے گا اس سے کوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔ مغرب کی فرض نماز سے پہلے دو رکعتیں نفل پڑھنے کے سلسلے میں پہلے بتایا جا چکا ہے کہ اکثر فقہاء نے انہیں پڑھنے سے منع کیا ہے چناچہ باب فضل الاذان کی حدیث نمبر ٩ کے ضمن میں اس کی تفصیل بیان ہوچکی ہے اور اس باب کی تیسری فصل میں بھی اس کی کچھ تفصیل ذکر کی جائے گی۔

1139Mishkaat-al-Masabih

جمعہ کے بعد چار رکعت سنتیں پڑھنی چاہیں

عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلممَنْ کَانَ مِنْکُمْ مُّصَلِّےًا بَعْدَ الْجُمُعَۃِ فَلْےُصَلِّ اَرْبَعًا رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَّفِی اُخْرٰی لَہُ قَالَ اِذَا صَلّٰی اَحَدُکُمُ الْجُمُعَۃَ فَلْےُصَلِّ بَعْدَھَا اَرْبَعًا۔

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو آدمی جمعہ کی فرض نماز کے بعد نماز پڑھنے والا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ چار رکعت پڑھے۔ صحیح مسلم اور مسلم ہی کی ایک دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ آپ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی جمعہ کی نماز پڑھے تو اسے چاہیے کہ وہ اس کے بعد چار رکعت سنتیں بھی پڑھے۔

1140Mishkaat-al-Masabih

ظہر کی سنتیں پڑھنے کی فضیلت

عَنْ اُمِّ حَبِیْبَۃَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ مَنْ حَافَظَ عَلَی اَرْبَعِ رَکَعَاتٍ قَبْلُ الظُّھْرِوَاَرْبَعٍ بَعْدَھَا حَرَّمَہُ اﷲُ عَلَی النَّارِ۔ (رواہ احمد بن حنبل و الترمذی و النسائی و ابن ماجۃ)

حضرت ام حبیبہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی ظہر (کی فرض نماز) سے پہلے چار رکعت اور اس کے بعد چار رکعت کی محافظت کرتا ہے (یعنی انہیں پا بندی سے بلا ناغہ پڑھتا ہے) تو اللہ تعالیٰ اس پر (دوزخ کی) آگ حرام کردیتا ہے (بایں طور کے اس کو مطلقاً دوزخ میں نہیں ڈالے گا یا یہ کہ اسے دوزخ میں ابدی طور پر نہیں رکھے گا)۔ (مسند احمد بن حنبل، جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ) تشریح اس روایت سے بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ظہر کے بعد چار رکعت نماز ایک ہی سلام سے پڑھی جائے جب کہ دوسری روایت میں منقول ہے کہ ظہر کے بعد کی چار رکعتیں دو سلام کے ساتھ ادا کی جائیں، بہر حال اس موقع پر بحث ہے کہ ظہر کی یہ چار رکعتیں جن کے بارے میں حدیث میں ذکر کیا جا رہا ہے آیا سنت کی دو رکعتوں کے علاوہ ہیں یا سنت کی وہ دونوں رکعتیں بھی اس میں شامل ہیں۔ تو ظاہری طور پر یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ چار رکعتیں سنت کی ان دونوں کے علاوہ ہیں جو فرض کے بعد پڑھی جاتی ہیں لیکن ملا علی قاری کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان چار رکعتوں میں سنت کی وہ دونوں رکعتیں بھی شامل ہیں۔ چناچہ وہ فرماتے ہیں کہ ان چار رکعتوں میں دو رکعت سنت موکدہ ہیں اور دو رکعت مستحب اور اولیٰ ہیں مزید یہ کہ یہ چار رکعت دو سلام کے ساتھ ادا کی جائیں۔

1141Mishkaat-al-Masabih

ظہر سے پہلے چار رکعت نماز پڑھنے کی فضیلت

وَعَنْ اَبِی اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَرْبَعٌ قَبْلَ الظُّھْرِ لَیْسَ فِیْھِنَّ تَسْلِیْمٌ تُفْتَحُ لَھُنَّ اَبْوَابُ السَّمَآئِ۔ (رواہ ابوداؤدو ابن ماجۃ)

اور حضرت ابوایوب انصاری ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ظہر سے پہلے کی وہ چار رکعتیں کہ جن ( کے درمیان) میں سلام نہیں پھیرا جاتا (یعنی ان چار رکعتوں کے پڑھنے کے سلسلہ میں افضل یہی ہے کہ چار رکعتیں پوری کر کے آخر میں سلام پھیرا جائے) ان کے لئے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ (ابوداؤد، سنن ابن ماجہ) تشریح ظہر سے پہلے پڑھی جانے والی چار رکعتوں کی فضیلت ظاہر فرمائی جا رہی ہے کہ جب وہ پڑھی جاتی ہیں تو ان کے لئے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں یعنی وہ بارگاہ رب العزت میں پہنچ کر قبولیت کا درجہ پاتی ہیں اور ان کے سبب سے رحمت الہٰی کے انوار نازل ہوتے ہیں۔ ان چار رکعتوں کے بارے میں اختلاف ہے آیا ان سے مراد سنت راتبہ کی وہی چار رکعتیں ہیں جو ظہر کے فرض سے پہلے پڑھی جاتی ہیں یا ان کے علاوہ ہیں جن کو نماز فی الزوال کہتے ہیَ چناچہ مختار قول یہی ہے کہ یہ غیر رواتب یعنی فجر کے فرض سے پہلے کی سنت مؤ کدہ کے علاوہ نماز فی الزوال کی چار رکعتیں ہیں۔