نماز کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 11 · 527 hadiths · Page 23 of 27

1142Mishkaat-al-Masabih

نماز فی الزوال کی فضیلت

وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُصَلِّی اَرْبَعًا بَعْدَ اَنْ تَزُوْلَ الشَّمْسُ قَبْلُ الظُّھْرِ وَ قَالَ اِنَّھَا سَاعَۃٌ تُفْتَحُ فِیْھَا اَبْوَابُ السَّمَآءِ فَاُحِبُّ اَنْ یَّصْعَدَ لِیْ فِیْھَا عَمَلٌ صَالِحٌ۔ (رواہ الترمذی)

اور حضرت عبداللہ ابن سائب ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سورج ڈھلنے کے بعد اور ظہر سے پہلے (فی الزوال کی) چار رکعت نماز پڑھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ یہ ایسا وقت ہے جس میں (نیک اعمال کے اوپر جانے کے لئے) آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں لہٰذا میں اسے محبوب رکھتا ہوں کہ اس وقت میرا نیک عمل اوپر جائے۔ (جامع الترمذی) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سورج ڈھلنے کے بعد کا وقت ساعت قبولیت ہے اس وقت جو بھی نیک عمل کیا جائے گا وہ بارگاہ رب العزت میں مقبولیت کا درجہ پائے گا اور ظاہر ہے کہ تمام نیک اعمال میں سے نماز سب سے افضل ہے اس لئے اس وقت نماز پڑھنا افضل ہوگا۔

1143Mishkaat-al-Masabih

عصر کی سنتیں

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَحِمَ اﷲُ اِمْرَاً صَلَّی قَبْلَ الْعَصْرِ اَرْبَعًا۔(رواہ احمد بن حنبل و الجامع ترمذی وابوداؤد)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحمت نازل فرمائے جو عصر (کی فرض نماز) سے پہلے چار رکعت نماز پڑھتا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل، جامع ترمذی، سنن ابوداؤد)

1144Mishkaat-al-Masabih

عصر کی سنتیں دو رکعت ہیں یا چار رکعت

وَعَنْ عَلِیِّ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُصَلِّی قَبْلَ الْعَصْرِ اَرْبَعَ رَکْعَاتٍ یَفْصِلُ بَیْنَھُنَّ بِالتَّسْلِیْمِ عَلَی الْمَلَائِکَۃِ الْمُقَرَّبِیْنَ وَمَنْ تَبِعَھُمْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُؤْمِنِیْنَ۔ (رواہ الترمذی)

اور امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عصر سے پہلے چار رکعت نماز پڑھتے تھے۔ اور ان کے درمیان مقرب فرشتوں اور ان کے بعد میں جو مسلمان اور مومنین ہیں سب پر سلام بھیج کر فرق کرتے تھے۔ (جامع ترمذی ) تشریح یہاں تسلیم (سلام بھیجنے) سے مراد التحیات پڑھنا ہے، یعنی آپ ﷺ دو رکعتوں کے بعد التحیات پڑھتے تھے اور پھر چار رکعتوں کے بعد سلام پھیرتے تھے

1145Mishkaat-al-Masabih

عصر کی سنتیں دو ہیں یا چار ہیں

وَعَنْہُ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُصَلِّی قَبْلَ الْعَصْرِ رَکْعَتَیْنِ۔ (رواہ ابوداؤد)

امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عصر سے پہلے دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ (ابوداؤد) تشریح عصر کی سنتوں کے بارے میں متعدد رکعتیں منقول ہیں بعض سے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ عصر سے پہلے دو رکعتیں سنت کی پڑھا کرتے تھے اور بعض روایتوں سے چار رکعت کا ثبوت ملتا ہے چناچہ علماء لکھتے ہیں کہ نمازی کو اختیار چاہیے تو وہ دو رکعت پڑھے اور چاہے تو چار رکعت، تاہم افضل چار ہی رکعت پڑھنا ہے۔

1146Mishkaat-al-Masabih

صلوۃ الاوابین کی فضیلت

وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّی بَعْدَ الْمَغْرِبِ سِتَّ رَکْعَاتٍ لَمْ یَتَکَلَّمَ فِیْمَا بَیْنَھُنَّ بِسُوْۤءٍ عُدِلْنَ لَہ، بِعِبَادَۃِ ثِنْتَیْ عَشْرَۃَ سَنَۃً رَوَاہُ التِّرِمِذِیُّ وَقَالَ ھَذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ لَا نَعْرِفُہ، اِلَّا مِنْ حَدِیْثِ عُمَرَ بْنِ اَبِی خَثْعَمٍ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ اِسْمَاعِیْلَ یَقُوْلُ ھُوَ مُنْکرُ الْحَدِیْثِ وَضَعَفَہ، جِدًّا۔

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی مغرب کی نماز پڑھ کر چھ رکعت (نفل اس طرح) پڑھے کے ان کے درمیان کوئی فحش گفتگو نہ کرے تو ان رکعتوں کا ثواب اس کے لئے بارہ سال کی عبادت کے ثواب کے برابر ہوجائے گا۔ امام ترمذی (رح) نے اس حدیث کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے کیونکہ ہم یہ حدیث صرف عمر ابن خثم کی سند کے (اور کسی سند سے) نہیں جانتے اور میں نے محمد ابن اسمعیل بخاری (رح) سے سنا وہ کہتے تھے کہ یہ (عمر ابن خثعم) منکر الحدیث ہے نیز انہوں نے اس حدیث کو بہت ضعیف کہا ہے۔ تشریح مغرب کی نماز کے بعد چھ رکعت نماز نفل تین سلام کے ساتھ پڑھی جاتی ہے اسے صلوٰۃ الاوابین کہتے ہیں یہ نماز سنت ہے اور اس نماز کا نماز صلوٰۃ الاوابین حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے منقول ہے اس نماز کی بہت زیادہ فضیلت ہے جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہو رہا ہے۔ حدیث سے بظاہر تو یہ مفہوم ہوتا ہے کہ مغرب کے بعد جو دو رکعت معمولی سنت پڑھی جاتی ہے وہ بھی ان چھ رکعتوں میں شامل ہے، نیز اگلی حدیث میں صلوٰۃ الاوابین کی چوبیس رکعتیں ذکر کی جا رہی ہیں ان میں بھی یہ دونوں رکعتیں داخل ہیں۔ علامہ یحییٰ نے فرمایا ہے کہ پہلے دو رکعتیں سنت کی الگ سے پڑھ لی جائیں اس کے بعد میں اختیار ہے کہ چاہے کوئی چاروں رکعت پڑھ لے، چاہے دو ہی پڑھے۔ اس حدیث کو اگرچہ امام ترمذی (رح) وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے مگر فضائل اعمال کے سلسلے میں ضعیف حدیث پر عمل کرنا جائز ہے پھر اس کے علاوہ اس حدیث کو ابن خزیمہ (رح) نے اپنی صحیح میں اور ابن ماجہ نے بھی نقل کیا ہے، نیز میرک شاہ (رح) کا قول یہ ہے کہ حضرت عمار ابن یاسر ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھتے تھے نیز انہوں نے فرمایا ہے کہ میں نے اپنے محبوب رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ ﷺ مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعات پڑھتا ہے اس کے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں اگرچہ وہ (گناہ) دریا کی جھاگ کے مانند ہوں۔ (طبرانی) حضرت مولانا شاہ اسحق محدث دہلوی (رح) کا قول ہے کہ ہماری تحقیق یہ ہے کہ اس حدیث میں صلوٰۃ الاوابین کی جو چھ رکعت ذکر کی گئی ہیں یا اسی طرح اگلی حدیث میں جو بیس رکعتیں ذکر کی جائیں گے۔ یہ دونوں تعداد مغرب کے بعد کی سنت موکدہ کی دو رکعت کے علاوہ ہے۔

1147Mishkaat-al-Masabih

صلوٰۃ الاوابین کی انتہائی تعداد بیس رکعت ہے

وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ صَلَّی بَعْدَ الْمَغْرِبِ عِشْرَیْنَ رَکَعَۃً بَنَی اﷲُ لَہ، بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ۔ (رواہ الترمذی)

اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی مغرب کے بعد بیس رکعتیں (صلوٰۃ الاوابین کی) پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے بہشت میں گھر بناتا ہے۔ (جامع ترمذی ) تشریح گو محدیثن نے اس حدیث کو بھی ضعیف قرار دیا ہے لیکن علامہ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں کہ اس بارے میں ایک حدیث اور منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس نماز کی بیس رکعتیں پڑھا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے یہ صلوٰۃ الاوابین ہے لہٰذا جس آدمی نے یہ نماز پڑھی تو (سمجھو کہ) اس کی مغفرت کردی گئی۔ چناچہ اکثر علماء سلف اور صلحائے امت اسے پڑھنا اپنی سعادت اور خوش بختی تصور کرتے تھے اور اسے پڑھتے تھے۔ علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ صلوٰۃ الاوابین کی رکعت کی تعداد کے سلسلے میں مختلف احادیث منقول ہیں چناچہ ایک حدیث تو اس سے پہلے ہی گذر چکی ہے جس میں چھ رکعتیں ذکر کی گئی ہیں ایک حدیث یہ ہے جس میں بیس رکعت منقول ہے اسی طرح بعض روایتوں میں دو رکعت اور بعض روایتوں میں چار رکعت بھی منقول ہے۔ لہٰذا ان تمام احادیث کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جائے گا کہ صلوٰۃ الاوابین کی کم سے کم تعداد دو رکعت ہے اور زیادہ سے زیادہ بیس رکعت جو آدمی دو سے لے کر بیس تک جتنی زیادہ رکعتیں پڑھے گا اس کے حق میں اسی قدر بہتری و بھلائی ہوگی۔

1148Mishkaat-al-Masabih

عشاء کی سنتیں

وَعَنْھَا قَالَتْ مَا صَلَّی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَلْعِشَاءَ قَطُّ فَدَخَلَ عَلَیَّ صَلَّی اَرْبَعَ رَکَعَاتٍ اَوْ سِتَّ رَکَعَاتٍ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بھی (مسجد میں) عشاء کی (فرض) نماز پڑھ کر میرے پاس آتے تھے تو (سنت کی چار رکعت یا چھ رکعت ضرور پڑھتے تھے۔ (ابوداؤد) تشریح عشاء کے بعد سنتوں کے سلسلے میں جتنی بھی مشہور روایتیں منقول ہیں ان میں یا تو دو رکعت پڑھنا منقول ہے یا چار رکعت، صرف یہی ایک ایسی حدیث ہے جس میں چھ رکعت پڑھنے کا ذکر کیا جا رہا ہے جن احادیث میں دو رکعت پڑھنے کا ذکر ہے ان میں سے کچھ پہلے بھی گزر چکی ہیں جن روایتوں سے چار رکعت پڑھنا معلوم ہوتا ہے ان میں سے منجملہ ایک حدیث یہ بھی ہے جس کو سعید ابن منصور نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے عشاء سے پہلے چار رکعت نماز پڑھی تو گویا اس نے اس رات میں تہجد (کی نماز) پڑھی اور جس آدمی نے عشاء کے بعد چار رکعت نماز پڑھی تو گویا اس نے لیلۃ القدر میں چار رکعت نماز پڑھی۔ بہر حال۔ اس روایت کی وضاحت یہ ہے کہ آپ عشاء کے بعد جو چار رکعتیں پڑھتے تھے اس میں سے دو رکعتیں تو سنت مؤ کدہ کی ہوتی تھیں اور دو رکعت مستحب۔ البتہ او ست رکعات میں حرف او کے بارے میں دو احتمال ہیں یا تو یہ شک کے لئے ہے یا پھر تنویع کے لئے ہے۔

1149Mishkaat-al-Masabih

ارشاد باری ادبار النجوم اور ادبار السجود سے فجر اور مغرب کی سنتیں مراد ہیں

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِدْبَارُ النُّجُّوْمِ الرَّکْعَتَانِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَ اِدْبَارِ السُّجُوْدِ الرَّکْعَتَانِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ۔ (رواہ الترمذی)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (تسبیح) اور ادبار النجوم سے فجر سے پہلے کی دو رکعتیں (یعنی فجر کی سنتیں) مراد ہیں اور (تسبیح) ادبار السجود سے مغرب کے بعد کی دو رکعتیں (یعنی مغرب کی سنتیں) مراد ہیں۔ (جامع ترمذی ) تشریح قرآن کریم کی سورت طور کے آخر میں یہ آیت ہے آیت ( وَسَبِّ حْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَ قُوْمُ 48 وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاِدْبَارَ النُّجُوْمِ 49) 52۔ الطور 48) جب تم اٹھا کرو تو اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان کیا کرو اور رات کے بعض اوقات میں بھی اور ستاروں کے پیٹھ پھیرنے (یعنی ڈوبنے) کے وقت بھی اس کی پاکی بیان کرو۔ اس آیت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ادبار النجوم ستاروں کے پیٹھ پھیرنے کے وقت پروردگار کی پاکی بیان کرنے سے فجر کی سنتیں پڑھنی مراد ہیں کہ وہ ستاروں کے چھپنے کے وقت یعنی صبح صادق کے بعد پڑھی جاتی ہیں۔ اس طرح قرآن کریم کی سورت ق کی یہ آیت ہے آیت ( وَسَبِّ حْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِيْنَ تَ قُوْمُ 48 وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاِدْبَارَ النُّجُوْمِ 49) 52۔ الطور 48) اور آفتاب کے طلوع ہونے سے پہلے اور آفتاب کے غروب ہونے سے پہلے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرو اور رات کے بعض اوقات میں بھی سجود کے بعد بھی اس کی پاکی بیان کرو۔ حدیث کے دوسرے جزء میں رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ اس سجود سے مراد مغرب کی تین رکعت فرض ہیں اور ادبارالسجود یعنی سجود کے بعد پاکی بیان کرنے سے مغرب کے فرض کے بعد کی دو رکعت سنتیں پڑھنی مراد ہیں۔

1150Mishkaat-al-Masabih

ظہر سے پہلے چار رکعت نماز پڑھنے کا ثواب

وَعَنْ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ اَرْبَعٌ قَبْلُ الظُّھْرِ بَعْدَ الزَّوَالِ تُحْسَبُ بِمِثْلِھِنَّ فِیْ صَلَاۃِ السَّحَرِ وَمَا مِنْ شَیْی ءٍ اِلَّا وَھُوَ یُسَبِّحُ اﷲَ تِلْکَ السَّاعَۃَ ثُمَّ قَرَأَیَتَفَیَّأُ ظِلَا لُہُ عَنِ الْیَمِیْنِ وَالشِّمَائِلِ سُجَّدً لِلّٰہِ وَھُمْ دَاخِرُوْنَ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَالبَیْھَقِیُّ فِی شُعَبِ الْاَیْمَانُ۔

امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ظہر سے پہلے اور سورج ڈھلنے کے بعد (ظہر کی سنت یا فی الزوال) کی چار رکعت نماز (ثواب اور فضیلت میں) تہجد کے وقت چار رکعت نماز پڑھنے کے برابر ہوتی ہے اور وقت (یعنی ظہر سے پہلے اور سورج ڈھلنے کے بعد) تمام چیزیں اللہ رب العزت کی پاکی کی تسبیح کرتی ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی آیت ( يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُه عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَا ى ِلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ 48) 16۔ النحل 48) تمام چیزوں کے سائے دائیں طرف سے اور بائیں طرف سے اللہ جل شانہ کے لئے سجدہ کرتے ہوئے جھکتے ہیں اور وہ سب حقیر ہیں۔ (جامع ترمذی، بیہقی) تشریح رسول اللہ ﷺ نے اس وقت نماز پڑھنے کی ترغیب دلانے کے لئے اپنے ارشاد کی دلیل کے طور پر یہ آیت پڑھی آیت میں سجدے سے مراد تابعداری ہے خواہ طبعاً ہو یا اختیارا۔ اور اللہ تعالیٰ نے مخلوقات میں جس چیز کو جس مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اس مقصد کی تکمیل ہی درحقیقت پروردگار کی تابعداری ہے۔

1151Mishkaat-al-Masabih

عصر کے بعد دو رکعت نماز کا ذکر

وَعَنْ عَائِشَۃَ رضی اللّٰہ عنھا قَالَتْ مَا تَرَکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم رَکْعَتَےْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ قَطُّ عِنْدِیْ مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِلْبُخَارِیْ قَالَتْ وَالَّذِیْ ذَھَبَ بِہٖ مَاتَرَ کَھُمَا حَتّٰی یَلْقَی اللّٰہَ

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی بھی میرے نزدیک (یعنی میرے گھر میں) عصر کے بعد دو رکعت (نماز پڑھنی) نہیں چھوڑی۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) اور بخاری کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا قسم ہے اس پاک ذات کی جس نے رسول اللہ ﷺ کی روح مبارک قبض کی، آپ نے یہ دو رکعتیں کبھی نہ چھوڑیں یہاں تک کہ وصال حق فرمایا۔ تشریح گذشتہ صفحات میں کسی موقعہ پر عصر کے بعد نماز پڑھنے کے سلسلے میں بتایا جا چکا ہے یہ دو رکعت پڑھنی رسول اللہ ﷺ کی خصوصیت تھی اور صرف رسول اللہ ﷺ کے لئے جائز تھیں، دوسرے لوگوں کو عصر کے بعد نفل نماز پڑھنا جائز نہیں کیونکہ اس کی مخالفت میں بہت زیادہ احادیث منقول ہیں۔

1152Mishkaat-al-Masabih

غروب آفتاب کے بعد اور مغرب کی نماز سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا مسئلہ

وَعَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ رحمۃ اللّٰہ علیہ قَالَ سَاَلْتُ اَنَسَ بْنَ مَالِکٍ ص عَنِ التَّطَوُّعِ بَعْدَالْعَصْرِ فَقَالَ کَانَ عُمَرُ ےَضْرِبُ الْاَےْدِیَ عَلٰی صَلٰوۃٍ بَعْدَ الْعَصْرِ وَکُنَّا نُصَلِّیْ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم رَکْعَتَےْنِ بَعْدَ غُرُوْبِ الشَّمْسِ قَبْلَ صَلٰوۃِ الْمَغْرِبِ فَقُلْتُ لَہُ اَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےُصَلِّےْھِمَا قَالَ کَانَ ےَرَانَا نُصَلِّےْھِمَا فَلَمْ ےَاْمُرْنَا وَلَمْ ےَنْھَنَا۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت مختار ابن فلفل فرماتے ہیں کہ میں نے (ایک دن) حضرت انس ؓ سے عصر کے بعد نفل نماز پڑھنے کے بارے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ (اس معاملے میں) امیر ا المومنین حضرت عمر فاروق ؓ ( کا تو اتنا سخت رویہ تھا کہ وہ) عصر کے بعد نفل نماز کی نیت باندھنے والے کے ہاتھ پر مارتے تھے (یعنی انتہائی سختی اور شدت سے اس وقت نماز پڑھنے سے منع کرتے تھے) اور ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں آفتاب غروب ہونے کے بعد اور مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعتیں (نفل نماز کی) پڑھا کرتے تھے۔ (یہ سن کر) میں نے حضرت انس ؓ سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ بھی یہ دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا آپ ﷺ ہمیں نماز پڑتے دیکھتے تھے لیکن ہمیں اس کے پڑھنے کا نہ تو حکم ہی دیتے تھے اور نہ ہمیں اس کے پڑھنے سے منع فرماتے تھے۔ (صحیح مسلم) تشریح حضرت انس ؓ کے قول نہ تو ہمیں حکم ہی دیتے تھے اور نہ منع فرماتے تھے، سے رسول اللہ ﷺ کی تقریر ثابت کی یعنی آپ ﷺ اس وقت نماز پڑھنے کو درست سمجھتے تھے کیونکہ اگر آپ ﷺ کے نزدیک اس وقت نماز پڑھنا مکروہ ہوتا تو آپ ﷺ اس سے ضرور منع فرماتے، لیکن خلفائے راشدین کے بارے میں ثابت ہے کہ وہ حضرات اس وقت نماز پڑھنے کو درست نہیں سمجھتے تھے لہٰذا اس سلسلے میں خلفائے راشدین کی اقتداء کافی ہے یہی وجہ ہے کہ اکثر فقہاء نے اس وقت نماز پڑھنے سے منع کیا ہے کیونکہ اس سے مغرب کی نماز کی تاخیر لازم آتی ہے۔

1153Mishkaat-al-Masabih

غروب آفتاب کے بعد اور مغرب کی نماز سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا مسئلہ

وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ کُنَّا بِالْمَدِےْنَۃِ فَاِذَا اَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ لِصَلٰوۃِ الْمَغْرِبِ اِبْتَدَرُواالسَّوَارِیَ فَرَکَعُوْا رَکْعَتَےْنِ حَتّٰی اِنَّ الرَّجُلَ الْغَرِےْبَ لَےَدْخُلُ الْمَسْجِدَ فَےَحْسِبُ اَنَّ الصَّلٰوۃَ قَدْ صُلِّےَتْ مِنْ کَثْرَۃِ مَنْ ےُّصَلِّےھِمَا۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ہم مدینہ میں تھے (اس وقت یہ حال تھا کہ) جب مؤذن مغرب کی اذان دیتا تو (بعض صحابہ یا تابعین) مسجد کے ستونوں کی طرف دوڑتے اور دو رکعت نماز پڑھنے لگتے، یہاں تک کہ کوئی (مسافر آدمی اگر مسجد میں آتا تو اکثر لوگوں کو (تنہا تنہا) دو رکعت نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر یہ گمان کرتا کہ نماز ہوچکی ہے (اور اب لوگ سنتیں پڑھ رہے ہیں)۔ (صحیح مسلم) تشریح علامہ طیبی شافعی فرماتے ہیں کہ غروب آفتاب کے بعد اور مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعت نماز کے اثبات کی یہ حدیث ظاہری دلیل ہے۔ اس سلسلہ میں ملا علی قاری حنفی کے قول کا مفہوم یہ ہے کہ یہ حدیث اس وجہ سے ان دونوں رکعتوں کے اثبات کی دلیل نہیں ہوسکتی کہ اس طریقے کے نادر ہونے میں کوئی شک نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ عمومی طور پر مغرب کی نماز کی ادائیگی میں جلدی فرماتے تھے جب کہ ان دونوں رکعتوں کے پڑھنے سے نہ صرف یہ کہ مغرب کی ادائیگی میں تاخیر لازم آتی ہے بلکہ بعض علماء کے قول کے مطابق تو نماز کا اپنے وقت سے خروج ہی لازم آجاتا ہے۔ لہٰذا اس حدیث کی تاویل یا تو یہ کی جائے گی کہ حضرت انس ؓ یہ ہمیشہ کا طریقہ نقل نہیں کر رہے بلکہ ہوسکتا ہے کہ کسی ایک دن بعض لوگوں نے یہ طریقہ اختیار کرلیا ہو کہ مغرب کی اذان سنتے ہی مسجد آگئے ہوں اور وہاں نماز مغرب سے پہلے دو رکعت نماز نفل پڑھ لی ہو یا پھر اس کی سب سے بہتر تاویل جیسا کہ بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ پہلے یہ نماز پڑھی جاتی تھی مگر پھر بعد میں اسے چھوڑ دیا گیا، لہٰذا اب اس نماز کا پڑھنا مکروہ ہے۔

1154Mishkaat-al-Masabih

غروب آفتاب کے بعد اور مغرب کی نماز سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا مسئلہ

وَعَنْ مَّرْثَدِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ص قَالَ اَتَےْتُ عُقْبَۃَ الْجُھَنِیَّ فَقُلْتُ اَ لَا اُعَجِّبُکَ مِنْ اَبِیْ تَمِےْمٍ ےَّرْکَعُ رَکْعَتَےْنِ قَبْلَ صَلٰوۃِ الْمَغَرِبِ فَقَالَ عُقْبَۃُ اِنَّا کُنَّا نَفْعَلُہُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قُلْتُ فَمَا ےَمْنَعُکَ الْاٰنَ قَالَ الشُّغْلُ۔ (صحیح البخاری)

اور حضرت مرثد ابن عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عقبہ جہنی ؓ (صحابی) کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا کہ کیا میں آپ کو ابوتمیم (رح) (تابعی) کا ایک تعجب انگیز فعل نہ بتادوں؟ (وہ یہ کہ) ابوتمیم مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعت نماز (نفل) پڑھتے ہیں؟ حضرت عقبہ نے فرمایا کہ یہ نماز تو ہم (میں سے بعض صحابہ کبھی کبھی) رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بھی پڑھا کرتے تھے، جب میں نے پوچھا کہ پھر یہ نماز پڑھنے سے آپ کو کس چیز نے روک رکھا ہے؟ تو فرمایا کہ دنیا کی مشغولیت) مشغولیت زیادہ ہو تو نوافل کو دوسرے وقت پر چھوڑا جاسکتا ہے۔ (نے۔ (صحیح البخاری ) تشریح اس حدیث سے کم سے کم اتنی بات تو ثابت ہو ہی گئی کہ یہ نماز سنت نہیں ہے بلکہ مباح ہے کیونکہ اگر مسنون ہوتی تو حضرت عقبہ ؓ کو جو صحابیت جیسے عظیم مرتبے پر فائز تھے دنیا کی مشغولیت سنت کی ادائیگی یعنی اس نماز کے پڑھنے سے نہ روکتی۔

1155Mishkaat-al-Masabih

نوافل گھروں میں ادا کئے جائیں

و َعَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ قَالَ اِنَ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم اَتٰی مَسْجِدَ بَنِی عَبْدِالْاَشْھَلِ فَصَلَّی فِیْہِ الْمَغْرِبَ فَلَمَّا قَضُوْا صَلَا تَھُمْ رَاَھُمْ یُسَبِّحُوْنَ بَعْدَ ھَا فَقَالَ ھٰذِہٖ صَلَاۃُ الْبُیُوْتِ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَفِی رِوَایَۃِ التِّرْمِذِیِّ وَالنِّسَائِیِّ قَامَ نَاسٌ یُصَلُّوْنَ فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَیْکُمْ بِھَذِہِ الصَّلَاۃِ فِی الْبُیُوْتِ۔

اور حضرت کعب ابن عجرہ ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک روز) رسول اللہ ﷺ (انصار کے ایک قبیلے) بنی عبد الاشہل کی مسجد میں تشریف لائے اور وہاں مغرب کی (فرض اور سنت) نماز پڑھی، جب (بعض) لوگ (اپنی فرض) نماز پڑھ چکے تو آنحضرت ﷺ نے دیکھا کہ وہ فرض نماز ادا کرنے کے بعد نفل نماز (یعنی مغرب کی سنتیں بھی وہیں) پڑھ رہے ہیں رسول اللہ ﷺ نے (دیکھ کر) فرمایا کہ یہ (یعنی مغرب کی سنت یا مطلقا نفل نماز) گھر میں پڑھنے کی ہے۔ (ابوداؤد) جامع ترمذی و سنن نسائی کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ جب لوگ (فرض نماز کے بعد) نفل پڑھنے کھڑے ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم پر لازم ہے کہ یہ نماز (اپنے اپنے) گھروں میں پڑھو۔ تشریح حدیث کا ماحصل یہ ہے کہ نفل نماز خواہ وہ سنت مؤ کدہ ہو یا غیر مؤ کدہ گھر میں پڑھنا افضل ہے کیونکہ نہ صرف یہ کہ گھر میں نوافل نماز پڑھنے والا ریا و نمائش سے دور اور اخلاص و صدق کے قریب تر ہوتا ہے بلکہ اس سے گھروں میں رحمت الٰہی اور برکت کا نزول ہوتا ہے۔ ویسے جہاں تک مسئلہ کا تعلق ہے تو تمام علماء کے نزدیک متفقہ طور پر مسجد میں نفل نماز پڑھنا مکروہ نہیں ہے مسجد اور گھر کے پڑھنے میں صرف افضلیت اور غیر افضلیت کا فرق ہے۔ لیکن اتنی بات بھی سمجھ لیجئے کہ گھروں میں نفل نماز پڑھنے کا یہ حکم ان لوگوں کے لئے ہے جو فرض نماز کی ادائیگی کے بعد گھروں کو واپس ہونے کا ارادہ رکھتے ہوں جو لوگ فرض کی ادائیگی کے بعد گھر نہیں جاتے جیسے مسجد کے اندر اعتکاف میں بیٹھنے والے تو وہ مسجد ہی میں نوافل پڑھ لیں۔ بہر حال فرض نماز کے علاوہ نفل نمازیں گھر جا کر پڑھنا افضل ہیں چناچہ رسول اللہ ﷺ کا معمول یہی تھا کہ آپ فرض مسجد میں پڑھ کر حجرہ مبارک میں تشریف لے جاتے تھے اور وہاں فوافل پڑھتے تھے۔ ہاں کسی خاص عذر اور سبب کی بات تو الگ ہے کہ ایسے موقع پر مسجد ہی میں نوافل بھی پڑھ لیتے تھے۔ پھر بھی مغرب کی سنتیں گھر میں پڑھنے کا اہتمام تو آپ ﷺ بطور خاص فرماتے تھے اور اکثر گھر ہی میں پڑھتے تھے یہی وجہ ہے کہ مغرب کی سنتوں کے بارے میں بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی مغرب کی نماز سنت مسجد میں پڑھے تو وہ مسنون ادا نہیں ہوتی بلکہ بعض علماء تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ مغرب کی سنتیں مسجد میں پڑھنے والا گنہگار ہوتا ہے۔ مگر جمہور علماء کی رائے ہے کہ گنہگار نہیں ہوتا کیونکہ انہیں گھر میں ادا کرنے کا حکم امر وجوبی نہیں ہے بلکہ امر استحبابی ہے۔ ہدایہ کے حاشیہ میں جامع صغیر سے منقول ہے کہ کوئی آدمی مغرب کی نماز مسجد میں پڑھے اور اس کو یہ خوف ہو کہ اگر گھر میں گیا تو کسی مشغولیت کی بناء پر سنت وہاں نہیں پڑھ سکوں گا تو اسے چاہیے کہ وہ مغرب کی سنتیں بھی مسجد کے صحن میں پڑھ لے اور اگر گھر پہنچ کر کسی کام میں مشغول ہوجانے کا خوف نہ ہو تو افضل یہی ہے کہ وہ گھر جا کر نماز سنت پڑھے۔

1156Mishkaat-al-Masabih

مغرب کی سنتوں میں طویل قرات

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُطِیْلُ الْقِرَائَۃَ فِی الرَّکْعَتِیْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ حَتّٰی یَتَفَرَّقَ اَھْلُ الْمَسْجِدِ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مغرب ( کی فرض نماز) کے بعد دو رکعت سنتوں میں کبھی اتنی طویل قرأت فرماتے تھے کہ مسجد کے لوگ (اپنی اپنی نمازوں سے فارغ ہو کر) چلے جاتے تھے۔ (ابوداؤد) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ مغرب کی سنتیں مسجد میں پڑھتے تھے لہٰذا اس سلسلے میں کئی احتمال ہیں اول تو یہ کہ رسول اللہ ﷺ کو کوئی ایسا عذر پیش آگیا ہوگا جس کی وجہ سے وہ حجرہ مبارک میں تشریف نہیں لے جاسکے ہوں گے اس لئے سنتیں مسجد ہی میں پڑھ لیں۔ دوم یہ کہ رسول اللہ ﷺ اس وقت اعتکاف میں ہوں گے اس لئے سنتیں پڑھنے کے لئے حجرہ مبارک میں نہیں گئے۔ سوم احتمال یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سنتیں مسجد میں پڑھی ہی نہ ہوں بلکہ اپنے حجرہ مبارک میں پڑھی ہوں جو مسجد سے بالکل ملا ہوا تھا اور اس کا دروازہ بھی مسجد ہی کی طرف تھا۔ چناچہ حضرت عبداللہ ابن عباس نے سامنے سے آپ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہو اور اسی کو یہاں بیان کیا ہو۔ جہاں تک حدیث کے اس جزء کا تعلق ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے مغرب کی سنتوں میں طویل قرأت کی تو اس کے بارے میں بھی ظاہری احتمال یہ ہے کہ آپ ﷺ نے کسی دن اتنی طویل قرأت کی ہوگی ورنہ تو مغرب کی سنتوں میں آپ ﷺ اکثر چھوٹی سورتیں پڑھا کرتے تھے چناچہ یہ ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مغرب کی سنت میں قل یایھا الکافرون اور قل ھو اللہ کی قرأت کیا کرتے تھے۔

1157Mishkaat-al-Masabih

مغرب کے بعد نفل پڑھنے کی فضیلت

وَعَنْ مَکْحُوْلٍ یَبْلُغُ بِہٖ اَنَّ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ مَنْ صَلَّی بَعْدَ الْمَغْرِبِ قَبْلَ اَنْ یَتَکَلَّمَ رَکْعَتَیْنِ وَفِی رِوَایَۃٍ اَرْبَعَ رَکَعَاتٍ رُفِعَتْ صَلَا تُہ، فِی عَلِیِّیْنَ مُرْسَلًا۔

حضرت مکحول (تابعی) اس روایت کو رسول اللہ ﷺ تک پہنچاتے ہیں (یعنی) رسول اللہ ﷺ سے بطریق ارسال روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جو آدمی مغرب کی (فرض یا سنت مؤ کدہ) نماز پڑھ کر (دنیاوی) گفتگو کرنے سے پہلے دو رکعت اور ایک روایت میں ہے کہ چار رکعت نماز پڑھے تو اس کی یہ نماز علیین میں پہنچائی جاتی ہے۔ تشریح دو رکعت سے سنت نماز بھی مراد ہوسکتی ہے اور اس کے علاوہ بھی اس طرح چار رکعت میں دو رکعت سنت اور دو رکعت اس کے علاوہ چاروں کی چاروں ہی سنت نماز کے علاوہ مراد لی جاسکتی ہیں۔ بہر حال یہ دو رکعت یا چار رکعت جو سنت کے علاوہ ہوں صلوۃ الاوابین کہلاتی ہیں اس نماز کی فضیلت اس سے پہلے بھی نقل کی جا چکی ہے یہاں بھی اس کی فضیلت و عظمت بیان کی جا رہی ہے کہ اس نفل نماز کے پڑھنے والے آدمی کی یہ نماز یا اس نماز کی ساتھ اس کے فرض نماز بھی مقام علیین میں پہنچائی جاتی ہے یعنی اس کی نمازیں قبولیت کے انتہائی مرتبے پر پہنچتی ہیں اور اس آدمی کو بےپناہ اجر وثواب سے نوازا جاتا ہے۔ علیین کیا ہے؟ ساتویں آسمان پر ایک مقام کا نام علیین ہے جہاں مؤمنین کی روحیں پہنچائی جاتی ہیں اور وہاں ان کے عمل لکھے جاتے ہیں۔

1158Mishkaat-al-Masabih

فرض ونوافل کے درمیان فرق کرنا چاہیے

وَعَنْ حُذَیْفَۃَ نَحْوَہُ وَزَادَ فَکَانَ یَقُوْلُ عَجِّلُو الرَّکْعَتَیْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ فَاِنَّھُمَا تُرْفَعَانِ مَعَ الْمَکْتُوْبَۃِ رَوَاھُمَا رَزِیْنُ وَرَوَی البَیْھِقِیُّ الزِّیَادَۃَ عَنْہ، نَحْوَھَا فِی شُعَبِ الْاِیْمَانِ۔

اور حضرت حذیفہ ؓ سے (بھی) اسی طرح (یعنی اوپر والی حدیث) مروی ہے لیکن ان کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے کہ تم لوگ مغرب کے بعد دو رکعت (سنتیں جلدی پڑھ لیا کرو کیونکہ وہ (دونوں رکعتیں) فرضوں کے ساتھ اوپر (علیین میں) پہنچائی جاتی ہیں، یہ دونوں روایتیں رزین نے نقل کی ہیں اور بیہقی نے حذیفہ کے زائد الفاظ کو اسی طرح شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ یہ دونوں رکعتیں چونکہ فرض نماز کے ساتھ مقام علیین میں پہچائی جاتی ہیں اس لئے ان کو فرض نماز کے بعد زیادہ تاخیر کر کے نہ پڑھو تاکہ وہ فرشتے جو اعمال کو علیین تک پہنچاتے ہیں منتظر نہ رہیں اور ظاہر یہ ہے کہ ان اوارد و اذکار کو جنہیں فرض کے بعد جلدی پڑھنا ثابت ہوچکا ہے ان دونوں رکعتوں کے بعد پڑھنا اس تعجیل (جو احادیث میں فرض کے فورًا بعد اور اوراد وذکار کے پڑھنے کے سلسلے میں ثابت ہے) کے منافی نہیں ہے یا یوں کہنا چاہیے کہ ان اوراد و اذکار کو ان دونوں رکعتوں کے بعد پڑھنا بعدیت (یعنی حدیث کے اس حکم کہ فرض نماز کے بعد اور اوراد و ذکار پڑھے جائیں) کے منافی نہیں ہے اس بات کو مزید وضاحت کے ساتھ یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ پیچھے باب الذکر بعد الصلوۃ میں وہ احادیث گزر چکی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ فرض نماز کے فورًا بعد اوراد و اذکار (جن کی تفصیل ان احادیث میں مذکور ہے) پڑھے جائیں۔ تو اب اگر ان اور اوراد و اذکار کو فرض نماز کے بعد پڑھنے کے بجائے اس حدیث کی فضیلت کے پیش نظر دو رکعت سنتوں کے بعد پڑھا جائے تو اس احادیث سے ثابت شدہ تعجیل و بعدیت (یعنی اوراد و اذکار کو فرض نماز کے فورا بعد پڑھنے کا حکم) کے خلاف نہیں ہوگا۔ لیکن اس بات کے علاوہ یہاں ایک اور اشکال وارد ہوتا ہے وہ یہ کہ ان دونوں رکعتوں کو گھر میں پڑھنے کی فضیلت بھی احادیث ہی سے ثابت ہے لہٰذا اگر کوئی آدمی ان دونوں رکعتوں کو گھر میں پڑھے اور اس کا گھر بھی مسجد سے دور ہو تو ظاہر ہے کہ اس حدیث کے پیش نظر ان دونوں رکعتوں کے پڑھنے میں جلدی نہیں ہوسکتی۔ تو اس صورت میں کیا جائے۔ آیا ان احادیث کے پیش نظر ان دونوں رکعتوں کو گھر ہی میں جا کر پڑھا جائے تاکہ گھر میں پڑھنے کی فضیلت حاصل ہو یا اس حدیث کے پیش نظر مسجد ہی میں پڑھا جائے تاکہ ان کو جلدی پڑھ لینے کی فضیلت حاصل ہوجائے؟۔ اس سلسلہ میں علماء لکھتے ہیں کہ نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت چونکہ بہت زیادہ ہے اور پھر یہ کہ اس کی تاکید بھی بہت زیادہ کی گئی ہے اس لئے مناسب یہی ہے کہ سنتوں کو گھر ہی میں پڑھا جائے۔ وا اللہ اعلم۔

1159Mishkaat-al-Masabih

فرض ونوافل کے درمیان فرق کرنا چاہیے

وَعَنْ عَمْرِوبْنِ عَطَآءٍ رحمۃ اللّٰہ علیہ قَالَ اِنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَےْرٍ اَرْسَلَہُ اِلَی السَّآئِبِ ےَسْئَلُہُ عَنْ شَیءٍ رَاٰہُ مِنْہُ مُعَاوِےَۃُ فِی الصَّلٰوۃِ فَقَالَ نَعَمْ صَلَّےْتُ مَعَہُ الْجُمُعَۃَ فِیْ الْمَقْصُوْرَۃِ فَلَمَّا سَلَّمَ الْاِمَامُ قُمْتُ فِیْ مَقَامِیْ فَصَلَّّےْتُ فَلَمَّا دَخَلَ اَرْسَلَ اِلَیَّ فَقَالَ لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ اِذَا صَلَّےْتَ الْجُمُعَۃَ فَلَا تَصِلْھَا بِصَلٰوۃٍ حَتّٰی تَکَلِّمَ اَوْ تَخْرُجَ فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَمَرَنَا بِذَالِکَ اَنَّ لَّا نُوْصِلَ بِصَلٰوۃٍ حَتّٰی نَتَکَلَّمَ اَوْ نَخْرُجَ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت عمرو ابن عطا (رح) ( تابعی) کے بارے میں منقول ہے کہ انہیں (یعنی عمرو کو) حضرت نافع ابن جبیر (رح) (تابعی) نے حضرت سائب ؓ (صحابی) کے پاس بھیجا تاکہ وہ ان سے وہ چیزیں پوچھیں جو حضرت امیر معاویہ ؓ نے انہیں نماز میں کرتے ہوئے دیکھا تھا ( اور اس سے انہیں منع کیا تھا چناچہ حضرت عمرو حضرت سائب کے پاس گئے اور ان سے اس چیز کی تفصیل معلوم کی تو) انہوں نے فرمایا کہ ہاں (ایک مرتبہ) میں نے حضرت امیر معاویہ ؓ کے ہمراہ مقصودہ میں جمعہ کی نماز پڑھی جب امام نے سلام پھیرا تو میں اسی جگہ (جہاں جمعہ کی نماز پڑھی تھی) کھڑا ہوگیا اور فرض و سنت میں کوئی امتیاز کئے بغیر جمعہ کی سنتیں پڑھنے لگا، جب حضرت امیر معاویہ (نماز سے فراغت کے بعد) اپنے مکان پر چلے گئے تو میرے پاس ایک آدمی کو یہ کہلا بھیجا کہ اس وقت تم نے جو کچھ کیا ہے آئندہ ایسا نہ کرنا، (یعنی جس جگہ نماز پڑھو اسی جگہ امتیاز پیدا کئے بغیر نفل نماز نہ پڑھنا چنانچہ) جب تم جمعہ کی نماز پڑھو تو اس (جمعہ کی فرض نماز) کو کسی ( دوسری یعنی نفل یا قضا) نماز سے نہ ملاؤ تاوقتیکہ تم کوئی گفتگو نہ کرلو یا (مسجد سے) باہر نہ نکل جاؤ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس بات کا حکم دیا ہے کہ ہم ایک نماز کو دوسری نماز کے ساتھ نہ ملائیں تاوقتکیہ (درمیان میں) بات چیت نہ کرلیں یا (مسجد سے) باہر نہ چلے جائیں۔ (صحیح مسلم) تشریح پچھلے زمانے میں جب کہ سلاطین و امراء نمازیں پڑھنے کے لئے مسجد میں آتے تھے تو ان کی امتیازی حیثیت وشان کی پیش نظر ان کے لئے مسجد کے اندر ایک مخصوص جگہ بنادی جاتی تھی جسے مقصورہ کہا جاتا تھا، بادشاہ یا خلیفہ مسجد میں آکر اسی جگہ نماز پڑھتا تھا۔ حدیث کے الفاظ اذاصلیت الجمعۃ میں جمعہ کی قید اتفاقی اور مثال کے طور پر ہے کیونکہ جمعہ کے علاوہ بھی تمام نمازوں کا یہی حکم ہے کہ فرض کے ساتھ نفل نماز ملا کر نہ پڑھی جائے چناچہ اس کی تائید حضرت امیر معاویہ ؓ کی روایت کردہ حدیث کر رہی ہے جس میں کسی خاص نماز کے بارے میں نہیں فرمایا گیا بلکہ ہر نماز کے متعلق یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب فرض نماز پڑھ لی جائے تو نوافل پڑھنے کے لئے ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس سے فرض اور نوافل میں فرق و امتیاز پیدا ہوجائے مثلاً جس جگہ فرض نماز پڑھی گئی ہے اسی جگہ کوئی اور نماز (خواہ سنت مؤ کدہ ہو یا غیر مؤ کدہ) نہ پڑھی جائے بلکہ اس جگہ سے ہٹ کر دوسری جگہ کھڑے ہو کر پڑھی جائے تاکہ دونوں نمازوں کے درمیان امتیاز پیدا ہو سکے اور اس فرض و نفل کے درمیان التباس پیدا نہ ہو۔ چنانچہ حدیث کے الفاظ او نخرج سے اسی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے اب اونخرج سے مسجد سے حقیقۃً نکلنا بھی مراد ہوسکتا ہے یعنی فرض پڑھ کر مسجد سے نکل کر گھر وغیرہ آجائے اور وہاں نوافل پڑھے جائیں اور حکماً نکلنا بھی مراد ہوسکتا ہے یعنی جس جگہ فرض نماز پڑھی ہے اس جگہ سے ہٹ کر نوافل دوسری جگہ پڑھے جائیں۔ فرض و نوافل کے درمیان نمازوں کے درمیان فرق و امتیاز پیدا کرنے کی ایک اور صورت ہے اور وہ یہ کہ جب فرض نماز پڑھ لی جائے تو اس کے بعد کسی دوسرے آدمی سے کوئی گفتگو کرلی جائے تاکہ اس سے ان دونوں نمازوں کے درمیان فرق و امتیاز پیدا ہوجائے چناچہ حتی نتکلم سے یہی بتایا جا رہا ہے۔ اتنی بات ملحوظ رہے کہ فرض و نوافل کے درمیان جس فرق و امتیاز کے لئے کہا جا رہا ہے وہ دنیاوی بات چیت اور گفتگو ہی سے حاصل ہوتا ہے ذکر اللہ وغیرہ سے وہ فرق حاصل نہیں ہوتا۔

1160Mishkaat-al-Masabih

فرض ونوافل کے درمیان فرق کرنا چاہیے

وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَ کَانَ ابْنُ عُمَرَ اِذَا صَلَّی الجُمْعَۃَ بِمَکَّۃَ تَقَدَّمَ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ یَتَقَدَّمُ فَیُصَلِّی اَرْبَعًا وَاِذْا کَانَ بِالمَدِیْنَۃِ صَلَّی الجُمْعَۃَ ثُمَّ رَجَعَ اِلٰی بَیْتِہٖ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ وَلَمْ یُصَلِّ فِی الْمَسْجِدِ فَقِیْلَ لَہ، فَقَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَفْعَلُہ، رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ فِی رِوَایَۃِ التِّرْمِذِیِّ قَالَ رَأَیْتُ ابْنُ عُمَرَ صَلَّی بَعْدَ الْجُمْعَۃَ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ صَلَّی بَعْدَ ذٰلِکَ اَرْبَعًا۔

اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ جب مکہ میں جمعہ کی نماز پڑھ چکتے تو (جس جگہ فرض نماز پڑھتے اس سے) آگے بڑھ جاتے اور دو رکعت پڑھتے اس کے بعد پھر آگے بڑھتے اور جب آپ مدینہ میں ہوا کرتے تو (یہ معمول تھا کہ) جمعہ کی (فرض) نماز پڑھ کر اپنے مکان میں تشریف لاتے اور گھر میں دو رکعت نماز پڑھتے مسجد میں (فرض کے علاوہ کوئی نماز) نہیں پڑھتے تھے، جب ان سے اس (گھر میں پڑھنے اور مسجد میں نہ پڑھنے) کا سبب پوچھا گیا تو فرمایا کہ (اس لئے کہ) رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ (ابوداؤد) اور جامع ترمذی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ حضرت عطاء نے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ ابن عمر کو ؓ کو دیکھا ہے کہ وہ جمعہ کے بعد دو رکعت پڑھ کر پھر چار رکعت پڑھتے تھے۔ تشریح حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کا فرض پڑھ کر سنت پڑھنے کے لئے آگے بڑھ جانا بمنزلہ مسجد سے نکلنے کے تھا جیسا کہ حضرت امیر معاویہ ؓ کے ارشاد میں مذکور ہوا۔ علماء نے لکھا ہے کہ مکہ اور مدینہ کے معمول کے درمیان فرق غالباً اس لئے تھا کہ مدینہ میں حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کا مکان مسجد کے قریب تھا اور مکہ میں چونکہ مسافر ہوتے تھے اور قیام گاہ حرم سے فاصلے پر ہوتی تھی اس لئے مدینہ میں تو آپ کا معمول یہ ہوتا تھا کہ فرض پڑھ کر اپنے مکان پر تشریف لے جاتے تھے اور وہاں سنتیں پڑھتے تھے مگر مکہ میں مکان کے دور ہونے کی وجہ سے سنتیں بھی مسجد ہی میں پڑھ لیتے تھے مگر جگہ بدل کر دونوں نمازوں کے درمیان فرق کرتے رہتے تھے۔ اور اس طرح آگے بڑھنے کو گھر کے قائم مقام کرلیتے تھے۔ مکہ اور مدینہ کے معمول کے درمیان دوسرا فرق یہ تھا کہ مکہ میں تو آپ جمعہ کے بعد چھ رکعت پڑھا کرتے تھے اور مدینہ میں دوہی رکعت پڑھتے تھے چناچہ مکہ میں اس زیادتی کی وجہ یہ تھی کہ حرم میں چونکہ نماز پڑھنے کا ثواب بہت زیادہ ہوتا ہے اس لئے وہاں زیادہ نماز پڑھتے تھے۔ چونکہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک جمعہ کے بعد سنتیں چار رکعت ہیں اس لئے ملا علی قاری نے حدیث کے الفاظ کہ حضرت عبداللہ ابن عمر جمعہ کے بعد دو رکعت پڑھتے پھر اس کے بعد (آگے بڑھ کر) چار رکعت پڑھتے تھے کا مطلب یہ لکھا ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ پہلے جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے اس کے بعد انہوں نے چار رکعتیں پڑھنی شروع کردیں یعنی ان دو رکعتوں میں جو ان کے نزدیک احادیث سے ثابت تھیں اور جنہیں آپ پہلے پڑھا کرتے تھے دو رکعتوں کا اور اضافہ کردیا اس طرح بعد میں چار رکعت پڑھنے لگے۔ صاحبین یعنی حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کے نزدیک جمعہ کے بعد سنتیں چھ رکعتیں ہی ہیں یعنی وہ فرماتے ہیں کہ جمعہ کی فرض نماز پڑھ کر پہلے چار رکعت سنت پڑھی جائیں پھر اس کے بعد دو رکعت سنت اور پڑھی جائیں۔ فقہ حنفیہ میں سنتوں کی تفصیلی تعداد چونکہ یہ بات ختم ہو رہی ہے اس لئے مناسب ہے کہ اس موقع پر تمام نمازوں کی سنتوں کی تفصیلی تعداد ذکر کردی جائے تاکہ وہ ذہن میں محفوظ رہیں۔ فجر کے وقت فرض سے دو رکعت سنت موکدہ ہیں ان کی تاکید تمام مؤ کدہ سنتوں سے زیادہ ہے یہاں تک کہ بعض روایات میں امام ابوحنیفہ سے ان کا وجوب منقول ہے اور بعض علماء نے لکھا ہے کہ ان کے انکار سے کفر کا خوف رہتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ فجر کی سنتیں نہ چھوڑو چاہے تمہیں گھر کچل ڈالیں یعنی جان جانے کا خوف ہو تب بھی نہ چھوڑو، اس سے مقصود صرف تاکید اور ترغیب ہے ورنہ جان کے خوف سے تو فرائض کو چھوڑنا بھی جائز ہے۔ ظہر کے وقت فرض سے پہلے چار رکعت ایک سلام سے اور فرض کے بعد دو رکعت سنت موکدہ ہیں۔ جمعہ کے وقت فرض سے پہلے چار رکعتیں ایک سلام سے سنت مؤ کدہ ہیں اور فرض کے بعد بھی ایک ہی سلام سے چار رکعتیں سنت ہیں۔ عصر کے وقت کوئی سنت موکدہ نہیں، ہاں فرض سے پہلے چار رکعتیں ایک سلام سے مستحب ہیں۔ مغرب کے وقت فرض کے بعد دو رکعت سنت مؤ کدہ ہیں۔ عشاء کے وقت فرض کے بعد دو رکعت سنت مؤ کدہ ہیں اور فرض سے پہلے کی چار رکعتیں ایک سلام سے مستحب ہیں۔ وتر کے بعد بھی دو رکعتیں رسول اللہ ﷺ سے منقول ہیں لہٰذا وتر کے بعد کی دو رکعت مستحب ہیں۔

1161Mishkaat-al-Masabih

رات کی نماز کا بیان

رات کی نماز یعنی تہجد وغیرہ کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ سے جو روایات ان کے پڑھنے کے طریقے وغیرہ کے بارے میں منقول ہیں اس باب کے تحت نقل کی جائیں گی۔ رات کی نماز پڑھنے کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ سے مختلف روایتیں منقول ہیں ان میں سے جس روایت کے مطابق بھی نماز پڑھی جائے گی اتباع نبوی کی فضیلت اور سنت کی ادائیگی کی سعادت حاصل ہوگی ہاں اگر تمام روایات کی اتباع کے پیش نظر یہ طریقہ اختیار کیا جائے کہ کبھی تو کسی روایت کے مطابق پڑھی جائے اور کبھی کسی روایت کے مطابق، تو یہ طریقہ نہ صرف یہ کہ انتہائی مناسب اور بہتر بلکہ سنت کے عین مطابق ہوگا۔ رات میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کی رکعتوں کی تعداد کے بارے میں مختلف روایتیں منقول ہیں، چناچہ تیرہ گیارہ نو اور سات رکعتیں منقول ہیں، بعض علماء نے پانچ رکعتیں بھی روایت کی ہیں، تاہم تیرہ سے زیادہ ثابت نہیں ہے، پھر یہ کہ بعض علماء نے یہ تعداد فجر کی سنت کے ساتھ ذکر کی ہے اور بعض نے فجر کی سنتوں کے علاوہ اور صحیح قول یہی ہے، اسی طرح وتر کی تعداد کے بارے میں مختلف روایتیں ہیں، بعض روایتوں میں تو وتر ایک رکعت کے ساتھ منقول ہے اور بعض میں تین رکعتوں کے ساتھ، نیز بعض روایات میں وتر کی رکعت کو بھی نماز تہجد کی رکعتوں میں شامل کر کے انہیں شمار کیا گیا ہے اور بعض روایات میں وتر کی رکعتوں کو ان سے الگ شمار کیا گیا ہے اسی طرح بعض روایات میں وتر کا اطلاق ایک رکعت پر کیا گیا ہے۔ اور بعض میں تین پانچ اور ساتھ تک پر کیا گیا ہے بلکہ بعض روایات میں تو رات کی تمام نماز کو وتر کہا گیا ہے، انہیں تمام روایات کو آپ تفصیل کے ساتھ اس باب میں پڑھیں گے۔