نماز کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 11 · 527 hadiths · Page 24 of 27

1162Mishkaat-al-Masabih

عشاء و فجر کے درمیان گیارہ رکعت

عَنْ عَآئِشَۃَرضی اللہ عنہا قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےُصَلِّیْ فِےْمَا بَےْنَ اَنْ ےَّفْرُغَ مِنْ صَلٰوۃِ الْعِشَآءِ اِلَی الْفَجْرِ اِحْدٰی عَشْرَۃَ رَکْعَۃً ےُّسَلِّمُ مِنْ کُلِّ رَکْعَتَےْنِ وَےُؤْتِرُ بِوَاحِدَۃٍ فَےَسْجُدُ السَّجْدَۃَ مِنْ ذَالِکَ قَدْرَ مَا ےَقْرَاُ اَحَدُکُمْ خَمْسِےْنَ اٰےَۃً قَبْلَ اَنْ ےَّرْفَعَ رَاْسَہُ فَاِذَا سَکَتَ الْمُؤَذِّنُ مِنْ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ وَتَبَےَّنَ لَہُ الْفَجْرُ قَامَ فَرَکَعَ رَکْعَتَےْنِ خَفِےْفَتَےْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ عَلٰی شِقِّہِ الْاَےْمَنِ حَتّٰی ےَأْتِےَہُ الْمُؤَذِّنُ لِلْاِقَامَۃِ فَےَخْرُجُ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نماز عشاء سے فارغ ہو کر نماز فجر تک (اکثر) گیارہ رکعت نماز پڑھا کرتے تھے اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرتے تھے اور (پھر آخر میں) ایک رکعت کے ساتھ وتر کرلیا کرتے تھے اور اس رکعت میں اتنا طویل سجدہ کرتے جتنی دیر میں کوئی آدمی اپنا سر اٹھانے سے پہلے پچاس آیتیں پڑھ لے پھر جب مؤذن فجر کی اذان دے کر خاموش ہوجاتا اور فجر طلوع ہوجاتی یعنی صبح کی روشنی پھیلنے لگتی تو آپ ﷺ کھڑے ہوتے اور دو رکعتیں ہلکی ( یعنی فجر کی سنتیں) پڑھتے اور (اس کے بعد تھوڑی دیر کے لئے) اپنی داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے تھے یہاں تک کہ مؤذن تکبیر کے لئے (یعنی تکبیر کہنے کی اجازت حاصل کرنے کے لئے) آپ ﷺ کے پاس آتا تو آپ ﷺ نماز کے لئے (مسجد) تشریف لے جاتے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح حدیث کے الفاظ ویوتر بواحدۃ کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ﷺ وتر کے لئے ایک رکعت علیحدہ پڑھتے تھے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ گیارہ رکعتیں اس طرح پڑھا کرتے تھے کہ آخری دونوں رکعتوں یعنی نویں اور دسویں کے ساتھ ایک رکعت بڑھا کر تینوں کو وتر بنادیا کرتے تھے۔ علامہ ابن حجر شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں، اوّل یہ کہ وتر کی کم سے کم ایک رکعت ہے یعنی وتر کی ایک رکعت علیحدہ سے پڑھی جاسکتی ہے، دوم یہ کہ تہجد کی نماز میں ہر دو رکعت پر سلام پھیر دینا چاہیے، چناچہ حضرت امام شافعی، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم کا یہی مسلک ہے۔ فیسجد السجدۃ الخ سے بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہر رکعت کا سجدہ بقدر مذکورہ طویل کرتے تھے لیکن اس کا مفہوم یہ بھی لیا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺ صرف وتر کے سجدوں میں سے ایک سجدہ یا وتر کے سب سجدے بقدر مذکور طویل کرتے تھے۔ بعض مقامات پر کچھ لوگ وتر کے بعد کیفیت معروفہ کے ساتھ دو سجدے کرتے ہیں اور بعض ضعیف فقہی روایات میں ان کی فضیلت بھی مذکور ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ احادیث میں ان دونوں سجدوں کا قطعاً کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ فقہ کی وہ روایت جو معتمد و مختار ہیں ان میں ان کا کوئی ذکر ہے۔ نیز حرمین شر یفین بلکہ پورے عرب میں کہیں بھی یہ سجدے نہیں کئے جاتے۔ اس سلسلے میں ایک حدیث بھی منقول ہے جس میں ان سجدوں کو اختراع محض کا درجہ دیا گیا ہے پھر یہ کہ چاروں ائمہ میں سے کوئی بھی امام اس کے نہ مسنون ہونے کا قائل ہے اور نہ ہی مستحب ہونے کا بلکہ بلادعرب کے اکثر حنیفہ تو اسے جانتے بھی نہیں اور بعض علماء نے اسے مکروہ قرار دیا ہے، بہر حال اگر کسی جگہ یہ طریقہ رائج ہے تو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ رکعتیں خفیفتین یعنی فجر کی سنتیں ہلکی پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ سنت کی دونوں رکعتوں میں قل یا ایھا الکا فرون اور قل ھو اللہ پڑھا کرتے تھے اور یہی مستحب ہے مگر لازم نہیں ہے۔ فجر کی سنتیں پڑھنے کے بعد تھوڑی دیر کے لئے آپ ﷺ اس لئے لیٹ جاتے تھے تاکہ تمام رات عبادت الٰہی اور نماز میں مشغول رہنے کی وجہ سے جو تکان وغیرہ پیدا ہوجاتا تھا وہ تھوڑی دیر آرام کرلینے سے ختم ہوجائے اور فرض پوری چستی اور بشاشت کے ساتھ ادا ہوں، لہٰذا مختار یہ ہے کہ جو آدمی رات کو عبادت الہٰی اور ذکر اللہ وغیرہ میں مشغول رہے اس کے لئے فجر کی سنتیں پڑھ کر تھوڑی دیر کے لئے بغرض استراحت لیٹ جانا مستحب ہے۔

1163Mishkaat-al-Masabih

فجر کی فرض نماز اور سنتوں کے درمیان بات چیت کرنا

وَعَنْھَا قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا صَلّٰی رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ فَاِنْ کُنْتُ مُسْتَےْقِظَۃً حَدَّثَنِیْ وَاِلَّا اضْطَجَعَ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ جب فجر کی سنتیں پڑھ لیتے تو اگر میں جاگتی ہوتی تو مجھ سے بات چیت میں مشغول ہوجاتے اور اگر میں سوتی ہوئی ہوتی تو ( آپ ﷺ بھی لیٹ جاتے۔ (صحیح مسلم) تشریح حضرت ابن مالک (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ فجر کی فرض نماز اور سنتوں کے درمیان فرق کرنا جائز ہے نیز یہ حدیث اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اس وقت (یعنی فجر کی فرض نماز اور سنتوں کے درمیان) اپنے اہل خانہ سے بات چیت میں مشغول ہونا مستحب ہے، گویا حضرت ابن مالک کے ارشاد کے مطلب یہ ہے کہ جو لوگ یہ فرماتے ہیں کہ فرض اور سنت نمازوں کے درمیان گفتگو کرنا نماز کو یا اس کے ثواب کو ختم کردیتا ہے یہ قول غلط ہے لیکن پھر بھی اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا محور دنیا نہیں ہوتی تھی بلکہ آپ ﷺ کی گفتگو دینی اور اخروی موضوع سے متعلق ہوتی تھی، اس لئے اتنا تو ماننا ہی پڑھے گا کہ فرض و سنت نمازوں کے درمیان دنیاوی گفتگو میں مشغول ہونا خلاف اولی ہے۔ کیونکہ سنت نمازوں کی مشروعیت کی حکمت ہی یہ ہے کہ فرض نماز پڑھنے والا آدمی پہلے سے کچھ نمازیں پڑھ کر حالت کمال کے لئے تیار ہو اور اس سے غفلت و سستی دور ہوجائے تاکہ فرض نماز میں پورے خشوع و خضوع کمال حضور اور عبادت الٰہی کے حقیقی و پر لطف جذبے کے ساتھ شامل ہو سکے اور اس کا دل و دماغ دنیا سے پوری طرح یکسو ہو کر توجہ الی اللہ میں پوری طرح مستغرق ہوجائے، برخلاف اس کے کہ سنت نماز پڑھ کر فرض شروع کرنے سے پہلے دنیاوی گفتگو میں مشغول ہونا اس حکمت کے خلاف ہے کیونکہ اس طرح دل و دماغ شوق و حضوری سے الگ ہو کر دنیا کی باتوں کے چکر میں پھنس کر رہ جاتے ہیں۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی (رح) نے لکھا ہے کہ صحابہ کرام وغیرہ سے بعض علماء نے طلوع فجر کے بعد نماز فجر ادا کرنے سے پہلے کسی دنیاوی گفتگو میں مشغول ہونے کو مکروہ کہا ہے ہاں ذکر اللہ یا ایسا دنیاوی کلام جس کی حقیقت میں اس وقت ضرورت ہو اس سے مستثنی ہے۔ چناچہ احمد، اسحاق کا یہی قول ہے۔ لہٰذا اس حدیث کے بارے میں کہا جائے گا کہ رسول اللہ ﷺ فجر کی سنت نماز پڑھ کر حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے جو کلام کرتے تھے یا تو وہ دینی اور اخروی ہوتا تھا یا پھر کسی حاجت اور ضرورت کی بنا پر آپ ﷺ ان سے گفتگو میں مشغول ہوتے تھے، چناچہ اس سلسلہ میں حضرت عائشہ کی ایک دوسری روایت کے الفاظ ان کانت لہ الی حاجۃ کلمنی (اگر آپ ﷺ کو کوئی ضرورت مجھ سے متعلق ہوتی تو آپ ﷺ مجھ سے گفتگو کرتے) بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

1164Mishkaat-al-Masabih

فجر کی سنتوں کے بعد استراحت!

وَعَنْھَا قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا صَلّٰی رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ اِضْطَجَعَ عَلٰی شِقِّہِ الْاَےْمَنِ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ فجر کی دو رکعت سنتیں پڑھ کر اپنی دائیں کروٹ پر (یعنی رو بقبلہ) لیٹ جاتے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )

1165Mishkaat-al-Masabih

فجر کی سنتوں کے بعد استراحت!

وَعَنْھَا قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےُصَلِّیْ مِنَ اللَّےْلِ ثَلٰثَ عَشَرَۃَ رَکْعَۃً مِّنْھَا الْوِتْرُ وَرَکْعَتَا الْفَجْرِ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ رات کو تیرہ رکعتیں نماز پڑھتے تھے ان میں وتر (کی تین رکعتیں) اور فجر کی سنت کی دو رکعتیں بھی شامل ہوتیں۔ (صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو جو تیرہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے ان میں وتر کی تین رکعتیں اور فجر کی سنت کی دو رکعتیں بھی شامل ہوتی تھیں، گو حدیث کے الفاظ میں وتر کے ساتھ تین رکعت کا ذکر نہیں ہے لیکن تمام علماء کے نزدیک چونکہ وتر کی تین رکعتیں ہی پڑھنا افضل ہے اس لئے تین رکعت کی قید لگانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ پھر یہ کہ دوسری روایات میں تین رکعت کی صراحت بھی ہے۔ چناچہ ترمذی نے شمائل میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی ایک روایت نقل کی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں کہ ثم یصلی ثلثا (پھر آپ تین رکعتیں پڑھتے تھے) اسی طرح صحیح مسلم کی روایت ثُمَّ اَوْتَرَ بِثَلاَثٍ (یعنی پھر آپ ﷺ تین رکعت و تر پڑھتے تھے) کے الفاظ منقول ہیں۔ اس حدیث میں رکعتوں کی تعداد تیرہ اس طرح نقل کی گئی ہے کہ فجر کی سنت کی دو رکعتوں کو بھی ان میں شمار کیا گیا ہے ورنہ تو رسول اللہ ﷺ رات کو مع وتر کے کل گیارہ رکعتیں نماز پڑھا کرتے تھے جیسا کہ دوسری روایتوں میں مذکور ہے چونکہ تہجد کی نماز پڑھنے اور فجر کی سنتیں پڑھنے کا درمیانی وقفہ زیادہ نہیں ہوتا تھا بلکہ تقریباً دونوں نمازیں ساتھ ہی پڑھتے تھے اس لئے ان دونوں رکعتوں کو بھی ان میں شمار کرلیا گیا ہے۔

1166Mishkaat-al-Masabih

فجر کی سنتوں کے بعد استراحت!

عَنْ مَّسْرُوْقٍ رحمۃ اللّٰہ علیہ قَالَ سَاَلْتُ عَائِشَۃَ رضی اللّٰہ عنھا عَنْ صَلٰوۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بِالَّےْلِ فَقَالَتْ سَبْعٌ وَّتِسْعٌ وَّاِحْدٰی عَشَرَۃَ رَکْعَۃً سِوَی رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ۔ (صحیح البخاری)

اور حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے سرور کائنات کی رات کی نماز کے بارے میں دریافت کیا (کہ کتنی رکعتیں پڑھتے تھے؟ ) تو انہوں نے فرمایا کہ کبھی تو آپ ﷺ سات رکعتیں پڑھتے تھے کبھی نو رکعتیں اور کبھی گیارہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے علاوہ فجر کی سنتوں کے۔ (صحیح البخاری ) تشریح ظاہر یہ ہے کہ علاوہ فجر کی سنتوں کے کا تعلق احدی عشرۃ رکعۃ (گیارۃ رکعتوں سے) ہے۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جن روایات میں تیرہ رکعتیں منقول ہیں ان میں دو رکعت فجر کی سنت کی بھی شامل ہیں۔ ملا علی قاری (رح) فرماتے ہیں کہ ایک روایت میں جو یہ منقول ہے کہ آپ ﷺ نے رات میں پندرہ رکعتیں بھی پڑھتے ہیں تو اس کا محمول یہ ہے کہ پندرہ میں فجر کی سنت کی دو رکعتیں بھی شمار کی گئی ہیں، یعنی تیرہ رکعت تہجد کی اور دو رکعت فجر کی سنت کی لیکن اس احتمال سے بھی صرف نظر نہیں کیا جاسکتا کہ بارہ رکعتیں تو آپ ﷺ نے تہجد کی پڑھی ہوں اور تین رکعتیں وتر کی۔ چناچہ اس کی دلیل ایک روایت ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ جس روز رسول اللہ ﷺ پر نیند کا غلبہ ہوجاتا تھا اور آپ ﷺ تہجد پڑھے بغیر سو جاتے تھے تو دن میں بارہ رکعتیں پڑھ لیا کرتے تھے۔

1167Mishkaat-al-Masabih

تہجد کی ابتدائی دو رکعتوں کی کیفیت کیا ہوتی تھی؟

وَعَنْ عَائِشَۃَرضی اللہ عنہا قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا قَامَ مِنَ اللَّےْلِ لِےُصَلِّیَ اِ فْتَتَحَ صَلٰوتَہُ بِرَکْعَتَےْنِ خَفِےْفَتَےْنِ۔

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ جب رات کو (تہجد) کی نماز پڑھنے کھڑے ہوتے تو اپنی نماز کی ابتداء دو ہلکی رکعتوں سے فرماتے تھے۔ تشریح کتاب ازہار میں لکھا ہے کہ دو ہلکی رکعتیں وضو کی دو رکعتیں ہیں کہ ان میں تخفیف یعنی ان کو مختصر پڑھنا ہی مستحب ہے۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ دونوں رکعتیں تہجد کی ہوتی تھیں جو تحیۃ الوضو کے قائم مقام تھیں اور آپ ﷺ اس وقت وضو کے لئے علیحدہ نماز نہیں پڑھتے تھے۔

1168Mishkaat-al-Masabih

تہجد کی ابتدائی دو رکعتوں کی کیفیت کیا ہوتی تھی؟

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا قَامَ اَحَدُکُمْ مِّنَ اللَّےْلِ فَلْےَفْتَحِ الصَّلٰوۃَ بِرَکْعَتَےْنِ خَفِےْفَتَےْنِ۔

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی رات کو نماز پڑھنے کے لئے نیند سے اٹھے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی نماز کی ابتداء دو ہلکی رکعتوں سے کرے۔ (صحیح مسلم)

1169Mishkaat-al-Masabih

تہجد کی ابتدائی دو رکعتوں کی کیفیت کیا ہوتی تھی؟

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍص قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِیْ مَےْمُوْنَۃَ لَےْلَۃً وَالنَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم عِنْدَھَا فَتَحَدَّثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَعَ اَھْلِہٖ سَاعَۃً ثُمَّ رَقَدَ فَلَمَّا کَانَ ثُلُثُ الَّےْلِ الْاٰخِرِ اَوْ بَعْضُہُ قَعَدَ فَنَظَرَ اِلَی السَّمَآءِ فَقَرَاَ اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّےْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰےٰتٍ لِّاُوْلِی الْاَلْبَابِ حَتّٰی خَتَمَ السُّوْرَۃَ ثُمَّ قَامَ اِلَی الْقِرْبَۃَ فَاَطْلَقَ شِنَاقَھَا ثُمَّ صَبَّ فِی الْجَفْنَۃِ ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوْئً حَسَنًا بَےْنَ الْوُضُوْئَےْنِ لَمْ ےُکْثِرْ وَقَدْ اَبْلَغَ فَقَامَ فَصَلّٰی فَقُمْتُ وَتَوَضَّاتُ فَقُمْتُ عَنْ ےَّسَارِہٖ فَاَخَذَ بِاُذُنِیْ فَاَدَارَنِیْ عَنْ ےَّمِےْنِہٖ فَتَتَاَمَّتْ صَلٰوتُہُ ثَلٰثَ عَشَرَۃَ رَکْعَۃً ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتّٰی نَفَخَ وَکَانَ اِذَا نَامَ نَفَخَ فَاٰذَنَہُ بِلَالٌ بِالصَّلٰوۃِ فَصَلّٰی وَلَمْ ےَتَوَضَّاْ وَکَانَ فِیْ دُعَآئِہٖ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَّفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا وَّفِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا وَّعَنْ ےَّمِےْنِیْ نُوْرًا وَّعَنْ ےَّسَارِیْ نُوْرًا وَّفَوْقِیْ نُوْرًا وَّتَحْتِیْ نُوْرًا وَّاَمَامِیْ نُوْرًا وَّخَلْفِیْ نُوْرًا وَّاجْعَلْ لِّیْ نُوْرًا وَّزَادَ بَعْضُھُمْ وَفِیْ لِسَانِیْ نُوْرًا وَّذَکَرَ وَعَصَبِیْ وَلَحْمِیْ وَدَمِیْ وَشَعْرِیْ وَبَشَرِیْ مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ وَفِیْ رِوَاےَۃٍ لَّھُمَا وَاجْعَلْ فِیْ نَفْسِیْ نُوْرًا وَّاَعْظِمْ لِیْ نُوْرًا وَّفِیْ اُخْریٰ لِمُسْلِمٍ اَللّٰھُمَّ اَعْطِنِیْ نُوْرًا۔

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) میں نے اپنی خالہ ام المومنین حضرت میمونہ ؓ کے ہاں ایک رات گزاری، رسول اللہ ﷺ (بھی اس رات کو) انہیں کے ہاں تھے (یعنی اس رات کو حضرت میمونہ ؓ کے ہاں کی باری تھی) کچھ رات گئے تک آپ ﷺ اپنی زوجہ (حضرت میمونہ) سے باتیں کرتے رہے پھر سو گئے، جب تہائی یا اس سے بھی کچھ رات باقی رہ گئی تو آپ ﷺ اٹھ بیٹھے اور آسمان کی طرف دیکھ کر یہ آیت پڑھی آیت (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ ١٩٠) 3۔ آل عمران 190) (آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات و دن کے اختلاف (یعنی کبھی) اندھیرا، کبھی اجالا، کبھی گرمی، کبھی جاڑا، کبھی درازی، کبھی کمی) میں بیشک عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں) آپ ﷺ نے پوری سورت پڑھی، پھر اٹھ کر مشک کے پاس گئے اور اس کا بند کھول کر پیالہ میں پانی ڈالا، پھر اچھا درمیانہ وضو کیا (یعنی نہ تو پانی اتنا زیادہ بہایا کہ حد اسراف کو پہنچ جاتا اور نہ اتنا کم ڈالا کہ اعضاء بھی تر نہ ہوتے بلکہ درمیانے درجے کا وضو کیا۔ چناچہ حدیث کے راوی فرماتے ہیں کہ درمیانے وضو کا مطلب یہ ہے کہ) بہت زیادہ پانی نہیں بہایا بلکہ (جن اعضاء کا دھونا فرض ہے) پانی ان اعضاء تک پہنچایا، پھر آپ ﷺ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے یہ (دیکھ کر) میں بھی اٹھا اور (جس طرح رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا تھا) میں بھی اسی طرح وضو کر کے رسول اللہ ﷺ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا، رسول اللہ ﷺ نے میرا کان پکڑ کر اپنی بائیں طرف سے مجھے گھما کر اپنی دائیں طرف کھڑا کردیا جب آپ ﷺ کی تیرہ رکعت نماز پوری ہوگئی تو لیٹ گئے، چونکہ آپ ﷺ سوتے وقت خر اٹے لیتے تھے اس لئے سو کر خر اٹے لینے لگے، اتنے میں حضرت بلال ؓ نے آکر نماز کا وقت شروع ہوجانے اور جماعت کے تیار ہونے کی اطلاع کی، چناچہ آپ ﷺ نے وضو کئے بغیر (سنت) نماز پڑھی اور آپ ﷺ (فرض و سنت کے درمیان) دعا میں یہ پڑھتے تھے اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ فِیْ قَلْبِیْ نُورًا وَّفِیْ بَصَرِیْ نُورًا وَّفِیْ سَمْعِی نُوْرًا وَّعَنْ یَّمِیْنِیْ نُوْرًا وَّعَنْ یَّسَارِیْ نُوْرًا وَّفَوْقِیْ نُوْرًا وَّ تَحْتِیْ نُوْرًا وَّ اَمَامِیْ نُوْرًا وَّخَلْفِیْ نُوْرًا وَّاجْعَلْ لِیْ نُوْرًا ( اے اللہ میرے دل میں میری آنکھوں میں، میرے کانوں میں، میرے دائیں، میرے بائیں، میرے اوپر، میرے نیچے، میرے آگے اے اللہ! میرے پیچھے، نور عطا کر اور میرے لئے نور ہی نور پیدا کر دے) اور بعض راویوں نے یہ الفاظ بھی نقل کئے وَفِیْ لِسَانِیْ نُوْرًا (یعنی میری زبان میں نور پیدا کر دے) بعض راویوں نے یہ الفاظ ذکر کئے ہیں۔ عَصَبِیْ وَلَحْمِیْ وَدَمِیْ وَشَعْرِیْ وَبَشَرِیْ یعنی میرے اعصاب میں، میرے گوشت میں، میرے خون میں، میرے بالوں میں اور میری جلد میں نور پیدا کر دے (بخاری و مسلم) اور بخاری و صحیح مسلم ہی کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں وَاجْعَلْ فِیْ نَفْسِیْ نُوْرًا وَّ اَعْظِمُ لِیْ نُوْرًا یعنی اے اللہ! میری جان میں نور پیدا کر دے اور میرے لئے نور میں بڑائی دے۔ مسلم کی ایک دوسری روایت میں یہ ہے اَللّٰھُمَّ اَعْطِنِیْ نُوْرًا یعنی اے اللہ! مجھے نور عطا فرما۔ تشریح جب حضرت بلال ؓ نے آکر رسول اللہ ﷺ کو نماز کا وقت ہوجانے کی اطلاع دی اور آپ ﷺ نیند سے بیدار ہوئے۔ تو بغیر وضو کئے ہی فجر کی سنتیں پڑھ لیں اس موقع پر یہ اشکال پیدا نہیں کیا جاسکتا کہ آپ نے وضو کئے بغیر نماز کیسے پڑھی کیونکہ علماء لکھتے ہیں کہ سو جانے کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے وضو اس لئے نہیں کیا کہ فقط سو جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا بلکہ نیند سے بیداری کے بعد نماز پڑھنے کے لئے وضو اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ نیند میں وضو ٹوٹ جانے کا احتمال رہتا ہے۔ مگر رسول اللہ ﷺ کا دل چونکہ ہمیشہ بیدار رہتا تھا یہاں تک کہ نیند کی حالت میں بھی آپ ﷺ کے دل پر کوئی غفلت طاری نہیں ہوتی تھی اس لئے آپ ﷺ کے سونے میں یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ آپ ﷺ کا وضو ٹوٹ گیا ہو اور آپ ﷺ کو معلوم نہ ہوا ہو۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد ایسی بات چیت جس کا موضوع دین و آخرت اور وعظ و نصیحت ہو یا اپنے اہل خانہ سے بطریق اختلاط ہو تو وہ مکروہ نہیں ہے۔ یہ حدیث حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی گزشہ حدیث سے مخالف نظر آتی ہے کیونکہ یہاں حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کے قول سے تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رات کو جو تیرہ رکعتیں پڑھیں ان میں وتر کی تین رکعت تو شامل تھیں لیکن فجر کی سنت کی دو رکعتیں ان میں شامل نہیں تھیں۔ جب کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ تیرہ رکعتوں میں وتر کے ساتھ ساتھ فجر کی دو رکعتیں بھی شامل ہوتی تھیں۔ لہٰذا ان دونوں حدیثوں میں اس تاویل سے مطابقت پیدا کی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کبھی تو تیرہ رکعت اس طرح پڑھتے تھے کہ ان میں فجر کی دو سنتیں بھی شامل ہوتی تھیں جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے ذکر کیا ہے اور کبھی اس طرح پڑھتے تھے کہ ان میں فجر کی دو سنتیں شامل نہیں ہوتی تھیں جیسے کہ یہاں حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کے الفاظ سے معلوم ہوا۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کے الفاظ سے یہ معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نیند کی حالت میں خر اٹے لیتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ایسا ہونا بھی چاہیے تھا کیونکہ خر اٹے لینا سانس کی نالیوں کی کشادگی اور قوائے جسمانی کی صفائی اور صحت کی علامت ہے اور اس سے کسے انکار ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نہ صرف یہ کہ روحانی اور باطنی طور پر کامل و اکمل تھے بلکہ جسمانی طور پر انتہائی صحت مند، قوی اور مضبوط و صاف اعضاء جسم کے مالک تھے۔ حدیث میں مذکور دعاء دعائے طویل کہلاتی ہے یہ دعا اکثر مشائخ کے معمول میں داخل ہے اسے تہجد کے بعد بھی پڑھنا ثابت ہے۔ اس دعا کی بڑی عظمت و فضیلت اور برکت ہے چناچہ حضرت شیخ امام شہاب الدین سہروردی نے عوراف میں لکھا ہے کہ جس آدمی کو بھی میں نے اس دعا پر مواظبت و مداومت کرتے دیکھا ہے اس کے پاس ایک برکت محسوس ہوئی ہے۔

1170Mishkaat-al-Masabih

وتر کی تین رکعتیں ہیں

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاس ص اَنَّہُ رَقَدَ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَاسْتَےْقَظَ فَتَسَوَّکَ وَتَوَضَّاَ وَھُوَ ےَقُوْلُ اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ حَتّٰی خَتَمَ السُّوْرَۃَ ثُمَّ قَام َفَصَلّٰی رَکْعَتَےْنِ اَطَالَ فِےْھِمَا الْقِےَامَ وَالرُّکُوْعَ وَالسُّجُوْدَ ثُمَّ انْصَرَفَ فَنَامَ حَتّٰی نَفَخَ ثُمَّ فَعَلَ ذٰلِکَ ثَلٰثَ مَرَّاتٍ سِتَّ رَکَعَاتٍ کُلَّ ذَالِکَ ےَسْتَاکُ وَےَتَوضَّاُ وَےَقْرَاُ ھٰؤُلَآءِ الْاٰےَاتِ ثُمَّ اَوْتَرَ بِثَلََا ثٍ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ (ایک رات) سرور کائنات ﷺ کے ہاں سوئے چناچہ ( انہوں نے بیان کیا کہ) آپ ﷺ رات کو بیدار ہوئے، مسواک کی اور وضو کیا پھر یہ آیت پڑھی (اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّھَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ ١٩٠) 3۔ ال عمرن 190 تا 200) آخر سورت تک، اس کے بعد آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھی جس میں قیام، رکوع اور سجود کو طویل کیا پھر (دو رکعت نماز سے) فارغ ہو کر سو گئے اور خر اٹے لینے لگے، تین مرتبہ آپ ﷺ نے اسی طرح کیا (یعنی دو رکعت مذکورہ طریقہ سے پڑھ کر لیٹ جاتے پھر اٹھ کردو رکعت پڑھتے اور پھر لیٹ جاتے) اس طرح آپ ﷺ تین مرتبہ میں چھ رکعتیں پڑھیں اور تینوں مرتبہ میں سے ہر بار آپ ﷺ مسواک بھی کرتے وضو بھی کرتے اور آیتیں بھی پڑھتے تھے۔ پھر آخر میں آپ ﷺ نے وتر کی تین رکعتیں پڑھیں۔ (صحیح مسلم) تشریح یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ وتر کی تین ہی رکعتیں ہیں، چناچہ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کا مسلک یہ ہے کہ گو حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک وتر کی ایک ہی رکعت ہوسکتی ہے لیکن اس حد تک تو وہ بھی حنفیہ ہی کے ساتھ ہیں کہ ان کے نزدیک بھی وتر کے لئے صرف ایک رکعت پڑھنا مکروہ ہے۔

1171Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ کی نماز تہجد کی کیفیت

وَعَنْ زَےْدِبْنِ خَالِدِ الْجُھَنِیِّ ص اَنَّہُ قَالَ لَاَرْمُقَنَّ صَلٰوۃَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اللَّےْلَۃَ فَصَلّٰی رَکْعَتَےْنِ خَفِےْفَتَےْنِ ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَےْنِ طَوِےْلَتَےْنِ طَوِےْلَتَےْنِ طَوِےْلَتَےْنِ ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَےْنِ وَھُمَا دُوْنَ اللَّتَےْنِ قَبْلَھُمَا ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَےْنِ وَھُمَا دُوْنَ اللَّتَےْنِ قَبْلَھُمَا ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَیْنِ وَھُمَا دُوْنَ اللَّتَیْنِ قَبْلَہُمَا ثُمَّ اَوْتَرَ فَذَالِکَ ثَلٰثُ عَشَرَۃَ رَکْعَۃً رَوَاہُ مُسْلِمٌ قَوْلُہُ ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَےْنِ وَھُمَا دُوْنَ اللَّتَےْنِ قَبْلَھُمَا اَرْبَعُ مَرَّاتٍ ھٰکَذَا فِی صَحِےْحِ مُسْلِمٍ وَاَ فْرَادِہِ مِنْ کِتَابِ الْحُمَیْدِیِّ وَمُوَطَّا مَالِکٍ وَسُنَنِ اَبِیْ دَاؤُدَ وَجَامِعِ الْاَصُوْلِ۔

اور حضرت زید بن خالد جہنی ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ میں نے ارادہ کیا کہ) میں آج کی رات سرور کائنات ﷺ کی نماز کو دیکھتا رہوں گا چناچہ ( میں نے دیکھا کہ) پہلے آپ ﷺ نے دو رکعتیں ہلکی پڑھیں پھر دو رکعتیں طویل سی پڑھیں، پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھی جو ان دونوں رکعتوں سے کم (طویل) تھیں جو آپ ﷺ نے ان سے پہلے پڑھی تھیں، پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں جو پہلے پڑھی گئی دونوں رکعتوں سے کم (طویل) تھیں، پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں جو پہلے پڑھی جانے والی دونوں رکعتوں سے کم (طویل) تھیں۔ پھر آپ ﷺ نے وتر پڑھے اور یہ سب تیرہ رکعتیں ہوگئیں (صحیح مسلم) اور زید کا یہ قول کہ پھر دو رکعتیں پڑھیں جو پہلے پڑھی گئی دونوں رکعتوں سے کم تھیں، صحیح مسلم میں حمیدی کی کتاب میں ہے کہ جس میں انہوں نے فقط مسلم کی ہی روایتیں نقل کی ہیں اور مؤطا امام مالک، سنن ابی داؤد، نیز جامع الاصول سب میں چار مرتبہ منقول ہے۔ تشریح اس حدیث سے صریحی طور پر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آپ ﷺ نے وتر کی تین رکعتیں پڑھی تھیں یا ایک ہی رکعت پڑھی تھی اور کیونکہ اگر دو رکعتیں ہلکی اس نماز میں شمار نہ کی جائیں تو وتر کی تین رکعتیں ثابت ہوجائیں گی اور اگر ان دونوں رکعتوں کو بھی اس نماز میں شامل کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وتر کی ایک ہی رکعت پڑھی گئی، تاہم صحیح اور ظاہر یہی ہے کہ دونوں ہلکی رکعتیں اس نماز میں شامل نہیں تھیں اس طرح آپ ﷺ نے وتر کی تین رکعتیں پڑھیں۔ حمیدی کی کتاب جمع بین الصحیحین میں تین قسم کی احادیث منقول ہیں۔ (١) متفق علیہ یعنی بخاری اور مسلم دونوں کی روایتیں (٢) افراد صحیح بخاری یعنی وہ روایتیں جنہیں صرف صحیح البخاری نے نقل کیا ہے۔ (٣) افراد مسلم۔ یعنی وہ روایتیں جنہیں صرف مسلم نے نقل کیا ہے۔ لہٰذا روایت کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ حدیث کے الفاظ ثُمَّ صَلَّی رَکْعَتَیْنِ وَ ھُمَادُوْنَ قَبْلَھُمَا متن صحیح مسلم میں چار مرتبہ منقول ہے اسی طرح کتاب حمیدی کہ جس میں صرف مسلم کی روایات منقول ہیں۔ موطا، امام مالک، سنن ابی داؤد اور جامع الاصول میں بھی چار ہی مرتبہ منقول ہے۔ مؤلف مشکوٰۃ نے اس چیز کو یہاں اتنی شد و مد اور مبالغے کے ساتھ اس لئے بیان کیا ہے کہ صاحب مصابیح کا رد ہوجائے کہ انہوں نے اس عبارت کو تین مرتبہ نقل کیا ہے جس کی بنا پر رکعتوں کی تعداد گیارہ رہ جاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ آخر عمر میں نفل نماز بیٹھ کر پڑھتے تھے

1172Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ کی نماز تہجد کی کیفیت

(١١) وَعَنْ عَائِشَۃٌ قَالَتْ لما بدن رسول صلی اللہ علیہ وسلم وثقص لام الثر ںصلاتہ جالس ۔ متفق علیہ:

اور ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ جب عمر کے آخری حصے کو پہنچے اور (بڑھاپے کی وجہ سے) بدن بھاری ہوگیا تو آپ اکثر نفل نمازیں بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم) نماز تہجد میں آنحضرت ﷺ کون کون سی سورتیں پڑھتے تھے؟

1173Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ کی نماز تہجد کی کیفیت

وَعَنْ عَبْدُاللّٰہِ ابْنُ مَسْعُوْدٍ قَالَ لَقَدْ عَرَّفْتُ النَّظَائِرَ الَّتِیْ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقْرِنُ بَےْنَھُنَّ فَذَکَرَ عِشْرِےْنَ سُوْرَۃً مِّنْ اَوَّلِ الْمُفَصَّلِ عَلٰی تَالِےْفِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ سُوْرَتَےْنِ فِیْ رَکْعَۃٍ اٰخِرُھُنَّ حٰمۤ الدُّخَانِ وَعَمَّ ےَتَسَآلُوْنَ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جو سورتیں آپس میں ہم مثل ہیں اور سرور کائنات ﷺ جنہیں جمع کرتے تھے انہیں جانتا ہوں۔ چناچہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے اپنی ترتیب کے مطابق بیس سورتیں جو مفصل کے اول میں ہیں گن کر بتائیں۔ رسول اللہ ﷺ ان سورتوں کو اس طرح جمع کرتے تھے کہ ایک ایک رکعت میں دو دو سورتیں پڑھا کرتے تھے اور (ان بیس سورتوں میں) آخر کی دو سورتیں حم الدخان اور عم یتساء لون ہیں۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) فائدہ آپس میں ہم مثل سورتوں سے مراد وہ سورتیں ہیں جو طوالت و اختصار میں آپس میں برابر ہیں۔ مفصل کا مطلب باب القرأت میں بیان کیا جا چکا ہے۔ کہ قول مشہور کے مطابق سورت حجرات سے آخر تک کی سورتوں کو مفصل کہتے ہیں وہ سورتیں جو آپس میں ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود مسعود ؓ کی ترتیب کے مطابق کہ جنہوں نے کلام اللہ کو جمع کیا تھا، یکجا کیا تھا، ان بیس سورتوں کی تفصیل ابوداؤد میں اس طرح مذکور ہے رسول اللہ ﷺ ایک ایک رکعت میں دو، دو سورتیں (اس طرح) پڑھا کرتے تھے کہ سورت رحمن اور سورت نجم ایک رکعت میں اقتربت الساعۃ اور الحافۃ ایک رکعت میں، طور اور ذاریات ایک رکعت میں، اذا وقعت الواقعۃ اور سورت نون ایک رکعت میں سال سائل اور والناز عات ایک رکعت میں، ویل اللمطففین اور عبس ایک رکعت میں، مدثر اور مزمل ایک رکعت میں، ھل اتی اور لا اقسم بیوم القیامۃ ایک رکعت میں، عم یتساء لون اور مرسلات ایک رکعت میں دخان اور اذالشمس کورت ایک رکعت میں ابوداؤد نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ یہ ترتیب حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے جمع کرنے کے مطابق ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ طریقے کے مطابق رسول اللہ ﷺ سورت دخان اور عم یتساء لون ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ یہ دونوں سورتیں نہ صرف یہ کہ ہم مثل اور آپس میں برابر نہیں ہیں بلکہ اس طرح حدیث کے اس آخری جز اور حدیث کے ظاہری معنی و مفہوم میں مطابقت نہیں رہے گی، چناچہ اس جزء کی توضیح یہ کی جائے گی کہ حدیث کے ان الفاظ کے حقیقی معنی یہ ہیں کہ ان بیس سورتوں میں سے آخری سورتیں حم الدخان اور اس کے ہم مثل یعنی اذا الشمس کورت اور عم یتساء لون اور اس کے ہم مثل یعنی والمرسلات ہیں۔ اس کا مطلب اب یہ ہوجائے گا کہ آپ ﷺ ایک رکعت میں حم الد خان اور اذالشمس کورت پڑھتے تھے جو ہم مثل اور برابر کی سورتیں ہیں اسی طرح ایک رکعت میں عم یتساء لون اور والمرسلات پڑھتے تھے جو ہم مثل اور برابر کی سورتیں ہیں۔ قرآن پڑھنے کی ترتیب علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن کریم اسی ترتیب کے مطابق پڑھا جائے جو اب مروج ہے کسی دوسری ترتیب کے مطابق نہ پڑھا جائے، ہاں بچوں کو ضرورتا یعنی تعلیم وغیرہ کی وجہ سے آخر کی طرف سے بھی پڑھا دینا جائز ہے اور اگر نماز میں خلاف ترتیب قرآن پڑھا جائے گا تو یہ خلاف اولی ہوگا بلکہ بعض علماء کے نزدیک تو یہ مکروہ ہے چناچہ حضرت امام احمد کا یہی مذہب ہے۔ پہلی رکعت میں سورت وا لناس پڑھ لینے کا مسئلہ اس موقع پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی آدمی پہلی رکعت میں سورت والناس پڑھ لے تو دوسری میں کیا پڑھے؟ چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ اس شکل میں دوسری رکعت میں بھی سورت والناس ہی پڑھنی چاہیے، لیکن حضرت امام شافعی فرماتے ہیں کہ اگر پہلی رکعت میں سورت الناس پڑھی گئی ہے تو دوسری رکعت میں سورت بقرہ شروع کردی جائے اس طرح اس طرح الم سے لے کر مفلحون تک کی آیتیں پڑھی جائیں، ایک روایت میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ سے بھی یہی منقول ہے بلکہ یہی قول زیادہ اولیٰ ہے۔

1174Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ کی نماز تہجد کی کیفیت

عَنْ حُذَیْفَۃَ اَنَّہ، رَأَی النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم یُصَلِّی مِنَ اللَّیْلِ فَکَانَ یَقُوْلُ اَﷲُاَکْبَرُ ثَلاَ ثًا ذُوالْمَلَکُوْتِ وَالْجَبَرُوْتِ وَالْکِبْرِیَاءِ وَالْعَظْمَۃِ ثُمَّ اسْتَفْتَحَ فَقَرَأَ الْبَقَرَۃَ ثُمَّ رَکَعَ فَکَانَ رَکُوْعُہ، نَحْوًا مِنْ قِیَامِہٖ فَکَانَ یَقُوْلُ فِی رُکُوْعِہٖ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ ثُمَّ رَفَعَ رَأَسَہ، مِنَ الرُّکُوْعِ فَکَانَ قِیَامُہ، نَحْوًا مِنْ رُکُوْعِہٖ یَقُوْلُ لِرَبِّیَ الْحَمْدُ ثُمَّ سَجَدَ فَکَانَ سُجُوْدُہ، نَحْوًا مِّنْ قِیَامِہٖ فَکَانَ یَقُوْلُ فِی سُجُوْدِہِ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاٰعْلٰی ثُمَّ رَفَعَ رَأَسَہ، مِنَ السُّجُوْدِ وَکَانَ یَقْعُدُ فِیْمَا بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ نَحْوًا مِّنْ سُجُوْدِہٖ وَکَانَ یَقُوْلُ رَبِّ اغْفِرْلِی رَبِّ اغْفِرْلِی فَصَلَّی اَرْبَعَ رَکَعَاتٍ قَرَأَ فِیْھِنَّ الْبَقَرَۃَ وَاٰلِ عِمْرَانَ وَالنِّسَآءَ وَالْمَائِدَۃَ اَوِلْاَنْعَامَ شََکَّ شُعْبَۃُ۔ (رواہ ابوداؤد)

حضرت حذیفہ ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے سرور کائنات ﷺ کو رات کو (تہجد کی) نماز پڑھتے دیکھا ہے چناچہ (ان کا بیان ہے کہ) رسول اللہ ﷺ نے تین مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر یہ کہا ذوالملکوت والجبروت والکبریاء والعظمۃ ( اللہ تعالیٰ، ملک، غلبہ، بڑائی اور بزرگی کا مالک ہے) اس کے بعد آپ ﷺ نے سبحانک اللہم پڑھ کر سورت بقرہ کی قرأت فرمائی اور اس کے بعد رکوع کیا آپ ﷺ کا رکوع (تقریباً ) قیام کے برابر تھا رکوع میں آپ ﷺ نے سبحان رب العظیم کہا اور آپ کا کھڑا ہونا یعنی قومہ (تقریباً آپ کے رکوع کے برابر تھا اور (رکوع سے اٹھ کر سمع اللہ لم حمدہ کہنے کے بعد) آپ ﷺ کہتے لربی الحمد (میرے پروردگار ہی کے لئے ساری تعریف ہے) پھر سجدہ کیا اور آپ ﷺ کے سجدہ کی مقدار آپ کے قومے کے برابر تھی اور سجدے میں آپ ﷺ کہتے سبحان ربی الاعلی پھر آپ ﷺ نے سجدہ سے سر اٹھایا اور آپ ﷺ دونوں سجدوں کے درمیان (یعنی جلسہ میں) اپنے سجدے کے برابر بیٹھتے اور یہ کہتے رب اغفرلی رب اغفرلی (اے میرے رب میری بخش کر اے میرے رب مجھے بخش دے) اسی طرح آپ ﷺ نے چار رکعتیں پڑھیں۔ اور ان (چاروں رکعتوں میں) سورت بقرہ، سورت ال عمران، سورت نساء اور سورت مائدہ یا سورت انعام پڑھیں (حدیث کے راوی) شعبہ کو شک واقع ہوگیا ہے (کہ حدیث میں آخری سورت مائدہ کا ذکر گیا تھا یا انعام کا )۔ تشریح آپ کا رکوع قیام کے برابر تھا کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حقیقۃً آپ ﷺ کا رکوع تقریباً قیام کے برابر تھا، یا یہ کہ آپ ﷺ رکوع میں اتنی ہی دیر تک رہتے تھے جتنی دیر تک قیام کرتے تھے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح آپ نے معمول سے کچھ زیادہ قیام کو طویل کیا تھا اسی طرح رکوع کو بھی مقدار معمول سے زیادہ دراز کیا، ہاں کبھی دونوں یعنی قیام اور رکوع برابر ہوتے تھے جیسا کہ نسائی نے حضرت عوف بن مالک کی روایت نقل کی ہے۔ رب اغفرلی دو مرتبہ ذکر کیا گیا ہے اس سلسلے میں یہ احتمال بھی ہے کہ آپ ﷺ رب اغفرلی دو مرتبہ کہتے تھے اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے احتمال دو سے زائد بہت مرتبہ کہنا ہو۔ وا اللہ اعلم۔

1175Mishkaat-al-Masabih

نماز تہجد میں زیادہ قیام کی فضیلت

وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عَمَرِو بْنِ الَعَاصِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ قَامَ بِعَشْرِ اٰیَاتِ لَّمْ یُکْتَبْ مِنَ الْغَافِلِیْنَ وَمَنْ قَامَ بِمِائَۃِ اٰیَۃٍ کُتِبَ مِنَ الْقَانِتِیْنَ وَمَنْ قَامَ بِاَلْفِ اٰیَۃٍ کُتِبَ مِنَ الْمُقَنْطِرِیْنَ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا جو آدمی دس آیتوں کے (پڑھنے کے) ساتھ قیام کرے تو وہ غافلین میں شمار نہیں کیا جاتا (یعنی اس کا نام صحیفہ غافلین میں نہیں لکھا جاتا) اور جو آدمی سو آیتوں کے (پڑھنے کے) ساتھ قیام کرے تو اس کا نام فرما نبرداروں میں لکھا جاتا ہے اور جو آدمی ہزار آیتوں کے (پڑھنے کے) ساتھ قیام کرے تو اس کا نام بہت زیادہ ثواب پانے والوں میں لکھا جاتا ہے۔ (ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ جو آدمی تہجد کی نماز میں دس، سو یا ہزار آیتوں کی قرأت ترتیل اور اطیمنان کے ساتھ کرے تو اسے مذکورہ بالا ثواب اور سعادت کی فضیلت حاصل ہوگی اور اگر کوئی آدمی اپنی نماز میں دس آیتیں پڑھے گا تو فضیلت وثواب کے اعتبار سے وہ آدمی اس سے کمتر ہوگا جو سو آیتیں اپنی نماز میں پڑھے گا، اسی طرح جو آدمی اپنی نماز سو آیات میں پڑھے گا تو وہ فضیلت وسعادت کے اعتبار سے اس آدمی سے کم تر ہوگا جو اپنی نماز میں ایک ہزار آیتوں کی قرأت کرے گا۔ اس موقع پر دو سوال پیدا ہوتے ہیں، اوّل تو یہ کہ آیتوں کی مذکورہ تعداد ایک رکعت میں پڑھنے کا اعتبار ہوگا یا ایک سے زائد رکعت میں یہ تعداد پڑھی جائے۔ دوم یہ کہ تعداد سورت فاتحہ کی آیتوں کو شامل ہے یا اس کے علاوہ ہے۔ پہلے سوال کے متعلق علامہ ابن حجر فرماتے ہیں کہ آیتوں کی مذکورہ تعداد دو یا دو سے زیادہ رکعتوں میں پڑھی جائے۔ دوسرے سوال کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ حدیث کے ظاہری الفاظ تو یہی مراد بتاتے ہیں کہ سورت فاتحہ کے علاوہ دس آیتیں ہوں لیکن صحیح اور ظاہر یہ ہے کہ حدیث میں مذکورہ ثواب اس شکل میں بھی حاصل ہوتا ہے کہ مذکورہ تعداد سورت فاتحہ کو شامل کر کے پڑھی جائے بایں طور کہ سات آیتیں تو سورت فاتحہ کی ہوجائیں گی اور تین آیتیں مزید کہ جو نماز کی قرأت کا ادنیٰ درجہ ہے۔ قانتین کے معنی ہیں اطاعت پر مواظبت اور مداومت کرنے والے یا عبادت الٰہی میں قیام (یعنی کھڑے ہونے) کو طویل کرنے والے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ نماز میں سو آیتیں پڑھتے ہیں ان کا نام اطاعت الٰہی پر مواظبت و مداومت کرنے والوں میں لکھا جاتا ہے۔ یا عبادت خداوندی میں قیام کو طویل کرنے والوں کی جماعت میں لکھا جاتا ہے جو انتہائی سعادت اور خوش بختی کی بات ہے۔ علامہ طیبی (رح) کے الفاظ سے جو اس حدیث کے فائدے میں ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث مطلق ہے، دن یا رات کے ساتھ مقید نہیں ہے یعنی خواہ کوئی سی بھی نماز ہو، دن کی ہو یا رات کی ہو جس نماز میں بھی آیتوں کی مذکورہ تعداد پڑھی جائے گی، ثواب حاصل ہوگا، تاہم علامہ بغوی نے اس حدیث کو کامل ترین موقعہ پر یعنی باب صلاۃ اللیل میں نقل کر کے اس طرف اشارہ کردیا ہے کہ رات کو (یعنی تہجد کی نماز میں) مذکورہ تعداد میں جو آیتیں پڑھی جائیں گی تو اس کا ثواب بہت زیادہ حاصل ہوگا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ قیام کرنا اس بات سے کنایہ ہے کہ مذکورہ تعداد میں آیتیں یاد کی جائیں اور انہیں ہر وقت پڑھا جائے نیز یہ کہ ان کے معنی و مقاصد میں غور و فکر اور ان پر عمل کیا جائے۔ وا اللہ اعلم۔

1176Mishkaat-al-Masabih

نماز تہجد میں رسول اللہ ﷺ کی قرأت کا طریقہ

وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ کَانَتْ قِرَا ءَ ۃُ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم بِاللَّیْلِ یَرْفَعُ طَوْرًا وَیَخْفِضُ طَوْرًا۔ (رواہ اابوداؤد)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رات کی نماز میں سرور کائنات ﷺ کی قراءت مختلف ہوتی تھی۔ کبھی تو آپ ﷺ بلند آواز سے قرأت فرماتے ہیں اور کبھی پست آواز سے۔ (ابوداؤد) نشریح مطلب یہ ہے کہ جیسا وقت اور موقع دیکھتے اسی کے مطابق قرأت فرماتے، چناچہ علماء نے لکھا ہے کہ اگر آپ ﷺ تنہا ہوتے اور دوسروں کی نیند خراب ہونے کا خدشہ نہ ہوتا تو آپ ﷺ بآواز بلند قرأت فرماتے تھے اور اگر آس پاس کوئی سویا ہوا ہوتا تو پھر آپ ﷺ اس کی نیند اچاٹ ہونے کے خوف سے قرأت پست آواز سے فرماتے تھے۔

1177Mishkaat-al-Masabih

نماز تہجد میں رسول اللہ ﷺ کی قرأت کا طریقہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَتْ قِرَآءَ ۃُ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم عَلٰی قَدْرِ مَا یَسْمَعُہ، مَنْ فِی الْحُجْرَۃِ وَھُوَ فِی الْبَیْتِ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کائنات ﷺ اتنی آواز سے قرأت فرماتے تھے کہ اگر آپ ﷺ حجرے کے اندر پڑھتے ہوتے تو باہر صحن میں موجود آدمی سن لیتا تھا۔ (ابوداؤد) تشریح یعنی نہ تو آپ بہت زیادہ بلند آواز سے قرأت کرتے تھے اور نہ بالکل ہی پست آواز سے کہ کوئی سن بھی نہ سکے۔ بلکہ اتنی آواز سے پڑھا کرتے تھے کہ اگر آپ ﷺ حجرے کے اندر نماز پڑھتے ہوتے تو وہ لوگ جو باہر صحن میں موجود ہوتے تھے آپ ﷺ کی قرأت سن لیتے تھے۔ اتنی بات جان لیجئے کہ قرأت کے سلسلے میں یہ جو کچھ بیان کیا جا رہا ہے اس کا تعلق رات (یعنی تہجد) کی نماز سے ہے کیونکہ جب آپ ﷺ مسجد میں نماز پڑھتے تھے تو رات کی نماز کی بہ نسبت زیادہ بلند آواز سے قرأت فرماتے تھے۔

1178Mishkaat-al-Masabih

تہجد کی قراءت میں ابوبکر و عمر کا طریقہ

وَعَنْ اَبِی قِتَادَۃَ قَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم خَرَجَ لَیْلَۃً فَاِذَا ھُوَ بِاَبِیْ بَکْرٍ یُصَلِّی وَیَخْفِضُ مِنْ صَوْتِہٖ وَمَرَّ بِعُمَرَ وَھُوَیُصَلِّی رَافِعًا صَوْتَہ، قَالَ فَلَمَّا اجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ یَا اَبَا بَکْرٍ مَرَرْتُ بِکَ وَاَنْتَ تُصَلِّی تَخْفِضُ صَوْتَکَ قَالَ قَدْاَسْمَعْتُ مَنْ نَّاجَیْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ وَقَالَ لِعُمَرَ مَرَرْتُ بِکَ وَاَنْتَ تُصَلِّی رَافِعًا صَوْتَکَ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ اُوْقِظُ الْوَسْنَانَ وَاَطْرُدُ الشَّیْطَانَ فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم یَااَبَابَکْرٍ اِرْفَعْ مِنْ صَوْتِکَ شَیْئًا وَقَالَ لِعُمَرَ اِخْفِضْ مِنْ صَوْتِکَ شَیْئًا۔ (رواہ ابوداؤد وروی الترمذی نحوہ)

اور حضرت ابوقتادہ ؓ راوی ہیں کہ (ایک مرتبہ) سرور کائنات ﷺ رات کو باہر نکلے تو ناگہاں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس سے گزرے جو نماز میں پست آواز سے (قرآن کریم) پڑھ رہے تھے، پھر آپ ﷺ حضرت عمر ؓ کے پاس سے گزرے جو نماز میں بلند آواز سے (قرآن کریم) پڑھ رہے تھے، ابوقتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب (صبح کو) حضرت ابوبکر و حضرت عمر ؓ دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں یکجا (حاضر) ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر! (آج کی رات) ہم تمہارے پاس سے گزرے تو تم نماز میں پست آواز سے (قرآن کریم) پڑھ رہے تھے؟ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کی یا رسول اللہ! میں جس سے مناجات کر رہا تھا اسے ہی سنا رہا تھا (یعنی میں اپنے پروردگار سے مناجات میں مشغول تھا اور وہ سننے کے لئے بلند آواز کا محتاج نہیں ہے وہ ہر طرح سے سنتا ہے) پھر رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر ؓ سے فرمایا کہ، عمر! (آج کی رات) ہم تمہارے پاس سے (بھی) گزرے تھے تم نماز میں بآواز بلند (قرآن کریم) پڑھ رہے تھے، حضرت عمر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں (بآواز بلند قرآن کریم پڑھ کر ان) سوئے ہوئے لوگوں کو جگاتا تھا (جو عبادت الٰہی یعنی تہجد کے وقت اٹھنا تو چاہتے ہیں مگر نیند کے غلبے کی وجہ سے ان کی آنکھیں کھل نہیں پاتیں) اور شیطان کو بھگاتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے (دونوں کی باتیں سن کر حضرت ابوبکر ؓ سے) فرمایا کہ، ابوبکر! تم اپنی آواز کو کچھ اور بلند کرو اور (حضرت عمر ؓ سے فرمایا کہ) عمر! تم اپنی آواز کو پست کرو یعنی اس طرح رسول اللہ ﷺ نے حد اعتدال کی طرف دونوں کی راہنمائی فرمائی۔ (ابوداؤد، جامع ترمذی)

1179Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ ایک آیت پڑھتے ہوئے تمام رات کھڑے رہے

وَعَنْ اَبِیْ ذَرِّ قَالَ قَامَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم حَتّٰی اَصْبَحَ بِاٰیَۃٍ وَالْآیَۃُ اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْلَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔ (رواہ النسائی و ابن ماجۃ)

اور حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک رات نماز تہجد میں) سرور کائنات ﷺ صبح تک کھڑے رہے اور یہ آیت پڑھتے رہے۔ آیت (اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ١١٨) 5۔ المائدہ 118) اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے ہی بندے ہیں اگر تو انہیں بخش دے تو تو بڑا حکمت والا ہے۔ (سنن نسائی، ابن ماجہ) تشریح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کی دن! باری تعالیٰ کے حضور اپنی امت کے حق میں یہ آیت عرض کریں گے اور رحمت دو عالم شافع محشر، سرکار دو عالم ﷺ نے تہجد کے وقت اپنی امت کے حسب حال یہ آیت پڑھی یعنی پروردگار کے حضور آپ ﷺ نے اپنی امت کا حال عرض کیا اور اللہ کی بخشش کے طلب گار ہوئے، صدقے جائیے سرور کائنات ﷺ کے (آپ ﷺ پر میری جان قربان) کہ نماز تہجد میں کھڑے ہونے کے وقت سے لے کے صبح تک بار بار یہی دعا آپ ﷺ پڑھتے اور اپنی امت کی مغفرت و بخشش چاہتے رہے۔ ﷺ الف الف صلوٰۃ۔

1180Mishkaat-al-Masabih

فجر کی سنتیں پڑھ کی دائیں کروٹ پر لیٹنا چاہیے

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا صَلَّی اَحَدُکُمْ رَکْعَتَیِ الْفَجْرِ فَلْیَضْطَجِعْ عَلَی یَمِیْنِہٖ۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤدٌ)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا۔ جب تم میں سے کوئی آدمی فجر کی سنت کی دو رکعتیں پڑھ لے تو اسے چاہیے کہ جماعت شروع ہونے تک اپنی دائیں کروٹ پر لیٹا رہے۔ (جامع ترمذی و ابوداؤد) تشریح فجر کی سنتیں پڑھ کر جماعت شروع ہونے تک دائیں کروٹ پر لیٹ رہنے کی توجیہ بعض حنفی علماء نے یہ بیان کی ہے کہ نماز تہجد اور رات کو عبادت الٰہی میں مشغول رہنے کی وجہ سے چونکہ سستی اور طبیعت میں گرانی پیدا ہوجاتی ہے اس لئے فجر کی سنتیں پڑھ کر تھوڑی دیر لیٹے رہنے کا حکم دیا تاکہ کسل و سستی ختم ہوجائے اور کچھ راحت و سکون حاصل ہوجائے جس کی وجہ سے فرض نماز اطمینان و سکون اور قلب و دماغ کی بشاشت و فرحت کے ساتھ ادا ہو۔ ابن مالک فرماتے ہیں کہ جو آدمی رات کو اللہ کی عبادت میں مشغول رہتا ہے اور نماز تہجد پڑھتا ہے اس آدمی کے حق میں یہ (یعنی فجر کی سنتیں پڑھنے کے بعد دائیں کروٹ پر لیٹ جانے کا حکم) امر استحباب ہے۔ حضرت سید زکریا جن کا شمار حنفیہ کے ہاں علم حدیث کے مشائخ میں ہوتا ہے فرماتے ہیں کہ لائق اور بہتر یہ ہے کہ یہ طریق (یعنی سنت پڑھ کر دائیں کروٹ پر لیٹنا) پوشیدہ طور پر اختیار کرے یعنی گھر میں ایسا کرے۔ مسجد میں لوگوں کے سامنے نہ کرے، نیز یہ کہ یہ لیٹنا محض لیٹنے کی حد تک رہے اور اپنے آپ کو نیند سے بچائے، ایسا نہ ہو کہ لیٹ کر سو جائے اور اٹھ کر جماعت میں شریک ہو اور اس طرح فرض نماز بغیر وضو پڑھ لے۔

1181Mishkaat-al-Masabih

مداومت عمل

عَنْ مَّسْرُوْقٍ رحمۃ اللہ علیہ قَالَ سَاَلْتُ عَآئِشَۃَ اَیُّ الْعَمَلِ کَانَ اَحَبَّ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَتِ الدَّآئِمُ قُلْتُ فَاَیَّ حِےْنٍ کَانَ ےَقُوْمُ مِنَ اللَّےْلِ قَالَتْ کَانَ ےَقُوْمُ اِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت مسروق ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ سے ؓ سے دریافت کیا کہ سرور کونین ﷺ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون سا عمل تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ مداومت عمل میں نے پھر (یہ) پوچھا کہ رات تہجد کی نماز پڑھنے کے لئے آپ ﷺ کس وقت کھڑے ہوتے تھے؟ فرمایا کہ آپ ﷺ اس وقت کھڑے ہوتے تھے جب مرغ کی آواز سنتے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح مداومت عمل کا مطلب یہ ہے کہ وہ نیک اور با مقصد عمل جس کو کرنے والا ہمیشہ پابندی کے ساتھ کرتا رہے اور جیسا کہ بعض روایات میں مذکور ہے کہ اگرچہ وہ عمل قلیل ہی کیوں نہ ہو۔ ہمارے اطراف میں تو عام طور پر مرغ رات کے بالکل آخر حصے یعنی صبح کے قریب بولتے ہیں مگر عرب میں عمومی طور پر آدھی رات کے بعد مرغ بولتے ہیں۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ مرغ کے بولنے کی آواز سن کر اٹھتے تھے اور اس وقت تہجد کی نماز پڑھتے تھے۔