نماز کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 11 · 527 hadiths · Page 25 of 27

1182Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ کا رات معمول

وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ مَاکُنَّا نَشَآءُ اَنْ نَّرٰی رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فِی اللَّیْلِ مَصَلِّیًا اِلَّا رَاَیْنَاہ، وَلَا نَشَآءُ اَنْ نَّرَاہ، نَائِمًا اِلَّا رَاَیْنَاہ،۔ (رواہ النسائی )

اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ، اگر ہم چاہتے کہ سرور کونین ﷺ کو رات کے وقت نماز پڑھتے ہوئے دیکھیں تو آپ ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے ہی دیکھتے تھے اور اگر یہ چاہتے کہ رسول اللہ ﷺ کو سوتے ہوئے دیکھیں تو آپ ﷺ کو سوتے ہوئے ہی دیکھتے تھے۔ (سنن نسائی ) تشریح حضرت انس ؓ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو تہجد وغیرہ پڑھنے کے سلسلے میں معتدل رویہ اختیار فرماتے تھے، نہ تو تمام رات تہجد وغیرہ ہی میں گزار دیتے تھے اور نہ تمام رات سوتے ہی رہتے تھے بلکہ آپ ﷺ ہر رات کو سوتے بھی تھے اور تہجد وغیرہ کی نماز بھی پڑھتے تھے۔ لہٰذا آپ ﷺ چونکہ نماز تہجد وغیرہ کے لئے نہ تو تمام رات بیدار ہی رہتے تھے اور نہ تمام رات سوتے ہی رہتے تھے اس لئے آپ ﷺ رات کو نماز تہجد وغیرہ میں مشغول بھی دیکھے جاتے تھے اور سوتے ہوئے بھی آپ ﷺ کو دیکھا جاتا تھا۔

1183Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ کا رات معمول

وَعَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ اِنَّ رَجُلًا مِّنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ قُلْتُ وَاَنَا فِی سَفَرٍ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم وَاﷲِ لَا اَرْقُبَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم لِلصَّلَاۃِ حَتّٰی اَرٰی فِعْلَہ، فَلَمَّا صَلَّی صَلَاۃَ الْعِشَآءِ وَھِیَ الْعَتَمَۃُ اِضْطَجَعَ ھَوِیًّا مَِن اللَّیْلِ ثُمَّ اسْتَیِقَظَ فَنَظَرَ فِی الْاُفُقِ فَقَالَ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا حَتّٰی بَلَغَ اِلٰی اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ثُمَّ اَھْوٰی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِلٰی فِرَاشِہِ فَا سْتَلَّ مِنْہُ سِوَا کًا ثُمَّ اَفْرَغَ فِی قَدَحٍ مِّنْ اِدَاوَۃٍ عِنْدَہ، مَآئً فَاسْتَنَّ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی حَتّٰی قُلْتُ قَدْ صَلَّی قَدْرَ مَا نَامَ ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتّٰی قُلْتُ قَدْنَامَ قَدْرَمَا صَلَّی ثُمَّ اسْتَیْقَظَ فَفَعَلَ کَمَا فَعَلَ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ فَفَعَلَ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَبْلَ الْفَجْرِ۔ (رواہ النسائی)

اور حضرت حمید بن عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ کے ایک صحابی نے بیان کیا کہ (ایک مرتبہ) جب کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سفر میں تھا تو (اپنے دل میں یا اپنے بعض احباب سے کہا) کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ (جب تہجد کے لئے اٹھیں گے تو آپ ﷺ کو میں نماز کے وقت دیکھتا رہوں گا تاکہ میں آپ ﷺ کے افعال دیکھوں (اور پھر اسی کے مطابق عمل کروں) چناچہ جب رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز کہ جسے عتمہ فرماتے ہیں پڑھ لی تو لیٹ گئے (اور کچھ دیر آرام کیا، پھر آپ ﷺ بیدار ہوئے اور آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کہ یہ آیت ( رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا) 3۔ آل عمران 191) پڑھی یہاں تک کہ آپ ﷺ اس آیت تک پہنچے ( اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ ١٩٤) 3۔ ال عمران 194) بیشک تو وعدے سے پھرا نہیں کرتا۔ پھر آپ ﷺ اپنے بستر کی طرف متوجہ ہوئے اور وہاں سے مسواک نکالی، اس کے بعد ایک چھاگل میں سے جو آپ ﷺ کے پاس رکھی ہوئی تھی (وضو کرنے یا مسواک تر کرنے کے لئے) پیالہ میں پانی نکالا پھر مسواک کرنے کے بعد (وضو کر کے یا پہلے کے وضو کے ساتھ نماز پڑھنے) کھڑے ہوئے اور (جب) آپ ﷺ نے نماز پڑھ لی، میں نے (دل میں) کہا کہ جتنی دیر آپ سوئے تھے اتنی ہی دیر اب آپ ﷺ نے نماز پڑھی پھر آپ ﷺ لیٹ گئے اور میں نے (اپنے دل میں) کہا کہ جتنی دیر آپ ﷺ نے نماز پڑھی تھی اتنی ہی دیر سوئے، پھر آپ ﷺ بیدار ہوئے اور جو کچھ پہلے کیا تھا وہی اب کیا یعنی مسواک وغیرہ کی اور جو کچھ (یعنی آیت مذکورہ) پہلے پڑھا تھا وہی اب پڑھا، رسول اللہ ﷺ نے نماز فجر سے پہلے اسی طرح تین مرتبہ کیا۔ (سنن نسائی ) تشریح آیت پڑھنے کے سلسلے میں دو احتمال ہیں، ایک تو یہ کہ ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس رات کو مذکورہ آیت ( اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ ١٩٤) 3۔ ال عمران 194) تک ہی پڑھی۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ آپ نے یہ آیتیں آخر سورت تک پڑھی ہوں گی مگر سننے والے نے آیت ( اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيْعَادَ ١٩٤) 3۔ ال عمران 194) کے بعد کی آیتیں نہیں سنی ہوں گی۔ اسی طرح اس حدیث میں اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی حدیث (نمبر آٹھ) میں تطبیق بھی پیدا ہوجائے گی جس سے معلوم ہوچکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آخر سورت تک تلاوت کی تھی۔

1184Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ کا رات معمول

وَعَنْ یَعْلَی بْنِ مُمَلَّکٍ اَنَّہ، سَئَالَ اُمَّ سَلَمَۃَ زَوْجُ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ قِرَا ءَ ۃٍ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم وَصَلَا تِہِ فَقَالَتْ وَمَا لَکُمْ وَصَلَاتِہٖ کَانَ یُسَلِّی ثُمَّ یَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّی ثُمَّ یُصَلِّی قَدْرَ مَا نَامَ ثُمَّ یَنَامُ قَدْرَ مَاصَلّٰی ثُمَّ یُصَلِّی قَدْرَ مَا نَامَ ثُمَّ یَنَا مُ قَدْرَ مَا صَلّٰی حَتّٰی یُصْبِحَ ثُمَّ نَعَتَتْ قِرَا ءَ تَہ، فَاِذَا ھِیَ تَنْعَتُ قِرَا ءَ ۃً مُفَسَّرَۃً حَرْفًا حَرْفًا۔ (رواہ ابوداؤد والترمذی والنسائی )

اور حضرت یعلی بن مملک کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے (ایک مرتبہ) حضرت ام سلمہ زوجہ مطہرہ سرور کونین ﷺ سے رسول اللہ ﷺ کی قرأت اور نماز کے بارے میں پوچھا (جو آپ ﷺ رات کو پڑھتے تھے) انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ کی نماز (اور قرأت بیان کرنے) سے تمہیں کیا (حاصل ہوگا تم میں اتنی قوت کہاں کہ آپ ﷺ کے برابر قرأت کرسکو اور آپ ﷺ کی طرح نماز پڑھ سکو اور اگر سننا ہی چاہتے ہو تو سنو کہ) آپ نماز پڑھتے، پھر جتنی دیر تک آپ ﷺ نماز پڑھتے اتنی ہی دیر تک سوتے، پھر (اٹھ کر) اتنی ہی دیر تک نماز پڑھتے جتنی دیر تک سو چکے ہوتے پھر جتنی دیر تک آپ ﷺ نماز پڑھتے اتنی ہی دیر تک سوتے یہاں تک کہ (یہ سلسلہ جاری رہتا اور) صبح ہوجاتی، اس کے بعد حضرت ام سلمہ نے آپ ﷺ کی قرأت بیان کی یہاں تک کہ انہوں نے خوب واضح اور ایک ایک حرف قرأت کا بیان کیا۔ (سنن ابوداؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی)

1185Mishkaat-al-Masabih

نماز تہجد میں رسول اللہ ﷺ کی دعا

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ص قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا قَامَ مِنَ اللَّےْلِ ےَتَھَجَّدُ قَالَ اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ قَےِّمُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِےْھِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالاْرْضِ وَمَنْ فِےْھِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ مَلِکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِےْھِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُکَ الْحَقُّ وَ لِقَآئُکَ حَقٌّ وَقَوْلُکَ حَقٌّ وَالْجَنَّۃُ حَقٌّ وَّالنَّارُ حَقٌّ وَّالنَّبِےُّوْنَ حَقٌّ وَّمُحَمَّدٌ حَقٌّ وَّالسَّاعَۃُ حَقٌّ اَللّٰھُمَّ لَکَ اَسْلَمْتُ وَبِکَ اٰمَنْتُ وَعَلَےْکَ تَوَکَّلْتُ وَاِلَےْکَ اَنَبْتُ وَبِکَ خَاصَمْتُ وَاِلَےْکَ حَاکَمْتُ فَاغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِہٖ مِنِّیْ اَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَاَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ وَلَا اِلٰہَ غَےْرُکَ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ جب رات کو تہجد ( کی نماز) پڑھنے کے لئے کھڑے ہوتے تو یہ (دعا) پڑھتے اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ قَیمُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِیھِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالاَ رْضِ وَمَنْ فِیھِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ مَلِکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَنْ فِیھِنَّ وَلَکَ الْحَمْدُ اَنْتَ الْحَقُّ وَوَعْدُکَ الْحَقُّ وَ لِقَآئُکَ حَقٌّ وَقَوْلُکَ حَقٌّ وَالْجَنَّۃُ حَقٌّ وَّالنَّارُ حَقٌّ وَّالنَّبِیوْنَ حَقٌّ وَّمُحَمَّدٌ حَقٌّ وَّالسَّاعَۃُ حَقٌّ اَللّٰھُمَّ لَکَ اَسْلَمْتُ وَبِکَ اٰمَنْتُ وَعَلَیکَ تَوَکَّلْتُ وَاِلَیکَ اَنَبْتُ وَبِکَ خَاصَمْتُ وَاِلَیکَ حَاکَمْتُ فَاغْفِرْلِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ وَمَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِہ مِنِّیْ اَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَاَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ وَلَا اِلٰہَ غَیرُکَ۔ (اے میرے رب تیرے ہی لئے تعریفیں ہیں تو ہی آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے اور اس چیز کو جو ان کے درمیان ہے اور تمام تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں تو ہی زمین و آسمان کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہیں سب کو روشن کرنے والا ہے اور تمام تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں اور تو ہی زمین و آسمانوں کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا بادشاہ ہے اور سب تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں تو ہی حق ہے، تیرا وعدہ حق ہے، تیری ملاقات حق ہے تیرا کلام حق ہے بہشت حق ہے، دوزخ حق ہے، تمام نبی حق ہیں، محمد ﷺ حق ہیں اور قیامت حق ہے، اے پروردگار ً میں تیرا تابعدار ہوں، میں نے تیرے تمام احکامات قبول کئے، میں تجھ پر ایمان لایا اور تجھی پر بھروسہ کیا، تیری طرف میں نے رجوع کیا، تیری ہی مدد سے میں (دین کے) دشمنوں سے جھگڑتا ہوں اور تیرے ہی پاس اپنی فریاد لایا ہوں، پس تو میرے ان گناہوں کو بھی بخش دے جو میں نے پہلے کئے ہیں اور ان گناہوں کو بھی جو بعد میں مجھ سے سرزد ہوں گے نیز ان گناہوں کو بھی (بخش دے) جو میں نے پوشیدہ طور پر اور ظاہری طور پر کئے اور جو کچھ میری خطائیں ہیں جنہیں تو ہی مجھ سے بہتر جانتا ہے (سب کو معاف کر دے) اور تو ہی (جسے چاہے) آگے کرنے والا اور پیچھے ڈال دینے والا ہے تو ہی معبود ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح ظاہر تو یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا افتتاح یعنی تکبیر تحریمہ کے بعد یا رکوع کے بعد قومہ میں پڑھتے تھے جیسا کہ بعض روایتوں میں اس کی تصریح ہے۔

1186Mishkaat-al-Masabih

نماز تہجد میں رسول اللہ ﷺ کی دعا

عَنْ عَائِشَۃَرضی اللہ عنہا قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا قَامَ مِنَ اللَّےْلِ اِفْتَتَحَ صَلٰوتَہُ فَقَالَ اَللّٰھُمَّ رَبَّ جِبْرَئِےْلَ وَمِےْکَآئِےْلَ وَاِسْرَافِےْلَ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عَالِمَ الْغَےْبِ وَالشَّھَادَۃِ اَنْتَ تَحْکُمُ بَےْنَ عِبَادِکَ فِےْمَا کَانُوْا فِےْہِ ےَخْتَلِفُوْنَ اِھْدِنِیْ لِمَا اخْتُلِفَ فِےْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِکَ اِنَّکَ تَھْدِیْ مَنْ تَشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِےْمٍ۔ (صحیح مسلم)

اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرور کونین ﷺ جب رات کو کھڑے ہوتے اور (تہجد کی) نماز شروع کرتے تو یہ دعا پڑھتے۔ آیت ( اَللّٰھُمَّ رَبَّ جِبْرَئِیلَ وَمِیکَآئِیلَ وَاِسْرَافِیلَ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عَالِمَ الْغَیبِ وَالشَّھَادَۃِ اَنْتَ تَحْکُمُ بَینَ عِبَادِکَ فِی مَا کَانُوْا فِیہِ یخْتَلِفُوْنَ اِھْدِنِیْ لِمَا اخْتُلِفَ فِیہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِکَ اِنَّکَ تَھْدِیْ مَنْ تَشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیمٍ۔ اے اللہ! اے پروردگار جبرائیل، میکائیل، اسرفیل کے! اے پیدا کرنے والے آسمانوں اور زمین کے اور پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اس چیز میں جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں فیصلہ کرے گا، اے اللہ امر حق میں جو اختلاف کیا گیا ہے اس میں میری راہنمائی کر، کیونکہ جسے تو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے (صحیح مسلم)

1187Mishkaat-al-Masabih

نیند سے بیدار ہونے کے بعد کی تسبیح اور اس کی فضیلت

عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ تَعَارَّ مِنَ اللَّےْلِ فَقَالَ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِےْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَےْئٍ قَدِےْرٌ وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا ۤاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ ثُمَّ قَالَ رَبِّ اغْفِرْلِیْ اَوْ قَالَ ثُمَّ دَعَا اسْتُجِےْبَ لَہُ فَاِنْ تَوَضَّاَ وَصَلّٰی قُبِلَتْ صَلٰوتُہُ۔(صحیح البخاری)

اور حضرت عبادہ بن صامت ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا جو آدمی رات کو بیدار ہو تو یہ تسبیح پڑھے آیت ( لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہ لَہ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیئٍ قَدِیرٌ وَسُبْحَانَ اللّٰہ وَالْحَمْدُ للہ و لا الہ الا اللہ واللہ اکبر و لا حول و قوۃ الا با اللہ (ا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے کوئی اس کا شریک نہیں اس کے لئے بادشاہت ہے اور اس کے لئے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اور پاک ہے اللہ، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ بہت بڑا ہے اور گناہوں سے بچنے اور عبادت کی قوت اللہ کی مدد سے ہے) اور اس کے بعد یہ کہے رب اغفرلی (اے میرے رب مجھے بخشش دے) یا فرمایا کہ پھر دعا کرے (یعنی راوی کو شک واقع ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خاص طور پر رب اغفرلی پڑھنے کو فرمایا یا یہ فرمایا کہ جو دعا چاہے پڑھے) اس کی دعا قبول کی جائے گی، پھر اگر وضو کرے اور نماز پڑھے تو اس کی نماز قبول کی جائے گی۔ (صحیح البخاری ) تشریح تعار کے معنی بعض نے نیند سے بیدار ہونے اور بعض نے کروٹ لینے کے لکھے ہیں اور ابن مالک نے اس کے معنی آواز کے ساتھ جاگنے کے لکھے ہیں جیسا کہ بیدار ہونے کے وقت منہ سے آواز نکلتی ہے لہٰذا رسول اللہ ﷺ نے اسے پسند اور بہتر فرمایا ہے کہ جاگنے کے بعد جو آواز منہ سے نکلے وہ تسبیح وغیرہ کی آواز ہو چناچہ اللہ سے تعلق رکھنے والے جب نیند سے بیدار ہوتے ہیں تو ان کے منہ سے کلمہ یا اسی قسم کی تسبیح و دعا کی آواز نکلتی ہے۔ بعض حضرات نے لکھا ہے کہ اس دعا کو جو نیند سے بیدار ہونے کے بعد پڑھی جاتی ہے درھم الکیس فرماتے ہیں یعنی جس طرح کوئی آدمی درہم و روپیہ تھیلی میں رکھتا ہے اور جب چاہتا ہے اس میں سے نکالتا ہے جس سے اس کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے اسی طرح یہ دعا ہے جو مومن کے قلب و دماغ میں محفوظ رہتی ہے جب وہ نیند سے بیدار ہوتا ہے اور یہ دعا اس کے منہ سے نکلتی ہے تو وہ بارگاہ رب العزت میں قبولیت کا درجہ پاتی ہے۔

1188Mishkaat-al-Masabih

جاگنے کے وقت رسول اللہ ﷺ کی دعا

وَعَنْ عَا،ئِشَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا اسْتَیْقَظَ مِنَ اللَّیْلِ قَالَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَّ سُبْحَانَکَ اَللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَسْتَغْفِرُکَ لِذَنْبِی وَاَسْأَلُکَ رَحْمَتَکَ اَللّٰھُمَّ زِدْنِی عِلْمًا وَلَا تُزِغْ قَلْبِی بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنِی وَھَبْ لِی مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ۔ (رواہ ابوداؤد)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرور کونین ﷺ جب رات کو (نیند سے) بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے لَا اِلٰہ اِلَّا اَنْتَّ سُبْحَانَکَ اَللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَسْتَغْفِرُکَ لِذَنْبِی وَاَسْأَلُکَ رَحْمَتَکَ اَللّٰھُمَّ زِدْنِی عِلْمًا وَلَا تُزِغْ قَلْبِی بَعْدَ اِذْ ھَدَیْتَنِی وَھَبْ لِی مِنْ لَّدُنْکَ رَحْمَۃً اِنَّکَ اَنْتَ الْوَھَّابُ ) (اے اللہ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے، اے اللہ! میں تیری تعریف کے ساتھ تیرے تسبیح کرتا ہوں اپنے گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں اور تجھ سے تیری رحمت کا طلبگار ہوں۔ اے اللہ! میرے علم میں زیادتی عطا فرما اور مجھے ہدایت یافتہ بنانے کے بعد (حق سے باطل کی طرف میرے دل میں کجروی پیدا نہ ہونے دے اور اپنے پاس سے میرے لئے (ایمان و ہدایت پر ثابت قدمی اور دینی توفیق کی) رحمت عطا فرما بیشک تو ہی بخشنے والا ہے۔

1189Mishkaat-al-Masabih

رات کو بیداری کے بعد ذکر اللہ کی فضیلت

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُّسَلِّمْ یَبَیْتُ عَلٰی ذِکْرٍ طَاھِرًا فَیَتَعَارُّ مِنَ اللَّیْلِ فَیَسْأَلَ اﷲَ خَیْرًاِلَّا اَعْطَاہُ اﷲُ اِیَّاہُ ۔(رواہ احمد بن حنبل و ابوداؤد)

اور حضرت معاذ بن جبل ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا جو بھی مسلمان رات کو پاکی کی حالت میں (یعنی وضو یا تییم کر کے) ذکر اللہ کرتا ہوا سو جائے اور پھر رات کو بیدار ہونے کے بعد اللہ سے بھلائی کی دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے (دنیا یا آخرت میں ضرور ہی بھلائی دیتا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل، ابوداؤد)

1190Mishkaat-al-Masabih

نماز تہجد سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی تسبیح و دعا

وَعَنْ شَرِیْقِ الْھَوْزَنِیِّ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی عَآئِشَۃَ فَسَأَلْتُھَا بِمَا کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَفْتَتِحُ اِذَا ھَبَّ مِنَ اللَّیْلِ فَقَالَتْ سَأَلْتَنِی عَنْ شَیْ ءٍ مَا سَأَلَنِی عَنْہ، اَحَدٌ قَبْلَکَ کَانَ اِذَا ھَبَّ مِنَ اللَّیْلِ کَبَّرَ عَشْرًا وَّ حَمِدَ اﷲَ عَشْرًا وَقَالَ سُبْحَانَ اﷲِ وَبِحَمْدِہٖ عَشْرًا وَّ قَالَ سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْقُدُّوْسِ عَشْرًا وَّ اَسْتَغْفِرُاﷲَ عَشْرًا وَّ ھَلَّلَ اﷲُ عَشْرًا ثُمَّ قَالَ اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُبِکَ مِنْ ضِیْقِ الدُّنْیَا وَضِیْقِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ عَشْرًا ثُمَّ یَفْتَتِحُ الصَّلٰوۃَ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت شریق الہوزنی فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ صدیقہ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور ان سے پوچھا کہ سرور کونین ﷺ رات کو بیدار ہونے کے بعد (عبادت) کس چیز سے شروع کرتے تھے؟ حضرت عائشہ صدیقہ نے فرمایا کہ تم نے مجھ سے (آج) وہ چیز پوچھی ہے جو تم سے پہلے کسی نے مجھ سے نہیں پوچھی (تو سنو کہ) رسول اللہ ﷺ جب رات کو بیدار ہوتے تو (پہلے) اللہ اکبر دس مرتبہ الحمد اللہ دس مرتبہ، سبحان اللہ وبحمدہ دس مرتبہ، سبحان الملک القدوس دس مرتبہ کہتے، دس مرتبہ استغفار کرتے، لا الہ الا اللہ دس مرتبہ کہتے اور دس مرتبہ یہ کہتے اللھم انی اعوذ بک من ضیق الدنیا وضیق یوم القیامۃ (اے پروردگار! میں تجھ سے دنیا کی تنگی (یعنی سختیوں) اور آخرت کی تنگی سے پناہ مانگتا ہوں۔ پھر اس کے بعد آپ ﷺ نماز تہجد شروع فرماتے) (ابوداؤد) تشریح صوفیاء کرام رحمہم اللہ کے ہاں دس تسبیحات ہیں جو سات سات مرتبہ پڑھی جاتی ہیں اور جنہیں ان کی اصطلاح میں مسبعات عشرۃ کہتے ہیں، اس حدیث میں سات تسبیحات ہیں جنہیں دس دس مرتبہ پڑھنا ذکر کیا گیا۔ چناچہ صوفیاء کی اصطلاح مسبعات عشرہ کے مقابلہ میں محدثین کرام رحمہم اللہ کے ہاں اس حدیث میں مذکورہ تسبیحات اور ان کے اعداد کو معشرات سبعہ کہتے ہیں۔

1191Mishkaat-al-Masabih

نماز تہجد سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی تسبیح و دعا

وَعَنْ اَبِی سَعِیْدِنِ الْخُدْرِیِّ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ کَبَّرَ ثُمَّ یَقُوْلُ سُبْحَانَکَ اَللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَ تَعَالٰی جَدُّکَ وَلَا اِلٰہَ غَیْرُکَ ثُمَّ یَقُوْلُ اَﷲُ اَکْبَرُ کَبِیْرًا ثُمَّ یَقُوْلُ اَعُوذُ بِاﷲِ السَّمِیْعَ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمَزِہٖ وَنَفَخِہٖ وَنَفَثِہٖ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَ اَبُوْدَاؤدُ وَالنِّسَائِیُّ وَ زَادَ اَبُوْدَاؤدَ بَعْدَ قَوْلِہٖ غَیْرُکَ ثُمَّ یَقُوْلُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲ ثَلَاثًا وَفِی اٰخِرِ الْحَدِیْثِ ثُمَّ یَقْرَأُ۔

حضرت ابوسعید ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ جب رات کو نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہہ کر یہ پڑھتے۔ سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَ تَعَالٰی جَدُّ کَ وَلاَ اِلٰہَ غَیْرکْ (اے اللہ تو پاک ہے ہم تیر حمد کرتے ہیں تیرا نام بابرکت ہے تیری بزرگی بلند ہے اور تیرے سوا کوئی کوئی معبود نہیں ہے) پھر اللہ اکبر کبیرا (ا اللہ بہت بڑا ہے بڑا) کہتے اور یہ دعا پڑھتے۔ اَعُوْذُ بِا السَّمِیْعُ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیَطَانِ الرَّجِیْمِ مِنْ ھَمَزَہ وَنَفَخَہ وَنَفْثِہ (میں اللہ سننے والے، جاننے والے کی شیطان مردود سے، اس کے وسو سے سے، اس کے تکبر سے اور اس کے برے شعر سکھانے سے پناہ مانگتا ہوں، (جامع ترمذی و ابوداؤد، سنن نسائی) ابوداؤد نے اپنی روایت میں حدیث کے الفاظ ولا الہ غیرک کے بعد یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ پھر آپ لا الہ الا اللہ تین مرتبہ کہتے اور آخر حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ پھر پڑھتے یعنی اَعُوْذُ بِا السَّمِیْعُ الْعَلِیْمِ الخ پڑھنے کے بعد قرأت فرماتے۔

1192Mishkaat-al-Masabih

نماز تہجد سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی تسبیح و دعا

وَعَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ کَعْبِنِ اَلْاَسْلَمِیِّ قَالَ کُنْتُ اَبِیْتُ عِنْدَ حُجْرَۃِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَکُنْتُ اَسْمَعُہ، اِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ یَقُوْلُ سُبْحَانَ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ الْھَوِیَّ ثُمَّ یَقُوْلُ سُبْحَانَ اﷲِ وَبِحَمْدِہٖ الْھَوِیَّ۔ رَوَاہُ النِّسَائِیِّ وَاللتِّرْمِذِیِّ نَحْوَہ، وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ۔

اور حضرت ربیعہ کعب اسلمی ؓ فرماتے ہیں کہ میں سرور کونین ﷺ کے حجرہ مبارک کے قریب ہی رات بسر کیا کرتا تھا، چناچہ میں آپ ﷺ کی آواز سنا کرتا تھا کہ جب آپ ﷺ رات کو (تہجد کی) نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو دیر تک سبحان رب العالمین (تمام عالم کا پروردگار پاک ہے) کہا کرتے تھے، پھر دیر تک کہتے سبحان اللہ وبحمدہ ( اللہ پاک ہے میں اس کے تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتا ہوں (سنن نسائی) ترمذی نے بھی اسی طرح روایت نقل کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

1193Mishkaat-al-Masabih

رات کے قیام پر رغبت دلانے کا بیان

قیام اللیل (رات کے قیام) کا مطلب ہے رات کو عبادت الٰہی مثلاً نماز تہجد اور ذکر اللہ وغیرہ میں مشغول رہنا اسی مناسبت سے قائم اللیل ان خوش نصیب اور سعادت لوگوں کو کہا جاتا ہے جو راتوں کو اٹھ کر اپنے پروردگار کی عبادت اور اس کے ذکر و یاد میں مشغول رہتے ہیں۔

1194Mishkaat-al-Masabih

رات کو عبادت خداوندی سے روکنے کے لئے شیطان کی مکاریاں

عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَعْقِدُ الشَّےْطَانُ عَلٰی قَافِےَۃِ رَاْسِ اَحَدِکُمْ اِذَا ھُوَ نَامَ ثَلٰثَ عُقَدٍ ےَّضْرِبُ عَلٰی کُلِّ عُقْدَۃٍ عَلَےْکَ لَےْلٌ طَوِےْلٌ فَارْقُدْ فَاِنِ اسْتَےْقَظَ فَذَکَرَ اللّٰہَ انْحَلَّتْ عُقْدَۃٌ فَاِنْ تَوَضَّأَ اِنْحَلَّتْ عُقْدَۃٌ فَاِنْ صَلّٰی اِنْحَلَّتْ عُقْدَۃٌ فَاَصْبَحَ نَشِےْطًا طَےِّبَ النَّفْسِ وَاِلَّا اَصْبَحَ خَبِےْثَ النَّفْسِ کَسْلَانَ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا۔ جب تم میں سے کوئی آدمی (رات کو) سوتا ہے تو شیطان مردود اس کے سر کی گدی پر تین گرہیں لگاتا ہے، ہر گرہ پر (یہ کہہ کر) مارتا ہے (یعنی اس کے دل میں یہ بات ڈالتا ہے) کہ ابھی بہت رات باقی ہے سوتا رہ لہٰذا اگر کوئی آدمی (شیطان کے اس مکر میں نہیں آتا اور عبادت الہٰی کے لئے) جاگتا ہے اور (دل میں ہی یا زبان سے) اللہ کو یاد کرتا ہے تو (غفلت و سستی کی) ایک گرہ کھل جاتی ہے پھر جب وہ وضو کرتا ہے تو (نجاست کی) دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور اس کے بعد جب نماز پڑھتا ہے تو (کسالت و بطالت کی) تیسری گرہ (بھی کھل جاتی ہے چناچہ ایسا آدمی شادماں اور پاک نفس صبح کرتا ہے ورنہ وہ (جو آدمی نہ جاگتا ہے نہ ذکر کرتا ہے اور نہ وضو کر کے نماز ہی پڑھتا ہے تو وہ) کاہل اور پلید نفس صبح کرتا ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح گرہ کے معنی و مراد کے تعین میں اختلاف ہے ابن مالک کا قول یہ ہے کہ گرہ سے مراد کسل و سستی کی گرہ ہے یعنی شیطان اپنی مکاریوں کے ساتھ رات کو عبادت الٰہی کے لئے اٹھنے والوں کے کسل و سستی کا باعث ہوتا ہے۔ میرک شاہ کے قول کے مطابق بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ یہ حقیقت پر محمول ہے یعنی شیطان مردود واقعی سونے والے کی گدی پر گرہ لگا دیتا ہے جیسا کہ جادوگر جادو کرتے وقت کسی پر گرہ لگاتے ہیں اس کی تائید ایک روایت سے بھی ہوتی ہے جو مرقات میں منقول ہے۔ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ مجاز پر محمول ہے گویا گرہ لگانا جو ساحر کا فعل ہے کہ وہ اس کے ذریعے مسحور کو اس کی مراد سے روک دیتا ہے اس کے ساتھ سونے والے کو رات کو نماز پڑھنے اور ذکر اللہ میں مشغول ہونے سے شیطان کے روکنے کو مشابہت دی گئی ہے۔ یعنی جس طرح ایک ساحر سحر کے وقت کسی پر گرہ لگا کر اس کو اس کے مقاصد سے روک دیتے ہیں بائیں طور کہ مسحور کی عملی قوتیں مفلوج ہوجاتی ہیں اسی طرح شیطان رات کو سونے والوں کو اپنی مکاریوں کے ذریعے اللہ کے ذکر اور نماز میں مشغول ہونے کے لئے اٹھنے سے روک دیتا ہے۔ کچھ علماء کا قول یہ ہے کہ اس سے مراددل کی گرہ اور شیطان کی طرف سے سونے والے کو ایک چیز پر مصمم اور قائم کرنا ہے یعنی شیطان سونے والے کے دل میں یہ وسوسہ ڈالتا ہے اور اس بات کا اسے یقین دلاتا ہے کہ ابھی رات بہت باقی ہے، سوتا رہ، لہٰذا بندہ شیطان کی فریب کاریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے اور بیدار ہو کر نماز پڑھنے سے رک جاتا ہے۔ حدیث کے آخر جزو کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی رات کو شیطان کے مکر و فریب میں نہیں پھنستا اور اس کے بہکا وے میں نہیں آتا بلکہ وہ وقت پر اٹھ کر نماز تہجد اور ذکر اللہ میں مشغول ہوجاتا ہے تو اس کے لئے صبح اپنی جلو میں شادمانی و خوش نصیبی اور نفس کی پاکی و پاکیزگی کی سعادتیں لئے ہوئے آتی ہے جس کی وجہ سے وہ تمام دن اللہ کی رحمتوں کے سائے میں رہتا ہے اور اس کا دل و دماغ ہر قسم کے خوف و خطر سے لا پروا ہو کر دین و دنیا کے امور میں اطمینان سے لگا رہتا ہے۔ اس کے برخلاف جو آدمی رات کو شیطان کی عیاریوں کا شکار ہوجاتا ہے اور اس کے مکر کے جال میں پھنس جاتا ہے جس کی وجہ سے نہ تو وہ رات کو اٹھ کر ذکر اللہ کرتا ہے اور نہ ہی نماز تہجد میں مشغول ہوتا ہے بلکہ سویا رہتا ہے تو اس کے لئے صبح اپنے دامن میں کسالت و بطالت و غفلت و پلید نفسی کے غلیظ ڈھر لے کر آتی ہے جس کی وجہ سے وہ تمام دن پلید نفس، غمگین دل، متفکر اور اپنے امور کی انجام دہی میں حیران و پریشان اور کسل مند رہتا ہے یعنی سستی و غفلت کی وجہ سے وہ اپنے جس کام کو بھی کرنے کا ارادہ کرتا ہے اس میں ناکام اور بددل رہتا ہے کیونکہ وہ شیطان کے مکر و فریب کے جال میں مقید اور قرب الٰہی کی رحمتوں سے دور ہوتا ہے۔

1195Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ کی کثرت عبادت اداء شکر کے لئے ہوتی تھی

عَنِ الْمُغِےْرَۃِص قَالَ قَامَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم حَتّٰی تَوَرَّمَتْ قَدَمَاہُ فَقِےْلَ لَہُ لِمَ تَصْنَعُ ھٰذَا وَقَدْ غُفِرَ لَکَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ قَالَ اَفلَاَ اَکُوْنُ عَبْدًا شَکُوْرًا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت مغیرہ ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے رات کو (نماز پڑھنے کے لئے) اس قدر قیام کیا (یعنی اتنی دیر تک کھڑے رہے) کہ آپ ﷺ کے مبارک پاؤں پر ورم آگیا (یہ حال دیکھ کر) آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ آپ ﷺ اس قدر عبادت کیوں کرتے ہیں آپ ﷺ کے تو اگلے پچھلے سب گناہ معاف کر دئیے گئے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں اللہ کا شکر ادا کرنے والا بندہ نہ بنوں۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے میرے تمام گناہ بخشش دئیے ہیں اور مجھے دین و دنیا کے سب سے اعلیٰ مقام پر فائز کیا ہے تو کیا میرا حق یہی ہے کہ میں عبادت کی محنت و مشقت اٹھا کر اس اللہ کا جس نے مجھے اپنی بیشمار رحمتوں اور نعمتوں سے سرفراز کیا ہے شکر گذار بندہ نہ بنوں؟ نہیں بلکہ اللہ نے مغفرت و بخشش کی جو نعمت مجھے عطا فرمائی ہے۔ اور اپنی جس لا محدود اور بےانتہا نعمتوں سے مجھے نوازا ہے اس کے پیش نظر میرا فرض ہے کہ میں اس کی خوشنودی ورضا حاصل کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ محنت و مشقت اٹھاؤں اور زیادہ سے زیادہ عبادت کروں تاکہ اس کا شکر ادا کرنے والا بندہ بن جاؤں۔ عباد کے بارے میں حضرت علی المرتضیٰ کا مقولہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ذات علم و فضل، ذہانت و فراست اور عقل و دانش کے اعتبار سے پوری امت میں امتیازی مقام کی حامل ہے عبادت کے بارے میں انہوں نے جو تجزیہ فرمایا ہے اور جو رائے قائم کی ہے اسے سنئے اور اپنے لئے مشعل راہ قرار دیجئے فرمایا جن لوگوں نے (نعمتوں کی) طلب یعنی جنت کی آرزو اور ثواب کی تمنا) میں عبادت کی تو ایسی عبادت سوداگروں کی عبادت ہے۔ جن لوگوں نے (اللہ تعالیٰ کا عذاب اور دوزخ کے) ڈر سے عبادت کی تو وہ غلاموں کی عبادت ہے۔ اور جن لوگوں نے اپنے مولیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کی ادائیگی شکر کے لئے عبادت کی تو وہ آزاد لوگوں کی عبادت ہے۔ (اور یہی عبادت سب سے اونچے درجے کی عبادت ہے)۔

1196Mishkaat-al-Masabih

رات کو خداوند کی عبادت کے لئے نہ اٹھنے والے کی برائی

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍص قَالَ ذُکِرَ عِنْدَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم رَجُلٌ فَقِےْلَ لَہُ مَا زَالَ نَآئِمًا حَتّٰی اَصْبَحَ مَا قَامَ اِلَی الصَّلٰوۃِ قَالَ ذَالِکَ رَجُلٌ بَالَ الشَّےْطٰنُ فِیْ اُذُنِہِ اَوْ قَالَ فِیْ اُذُنَےْہِ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم )

اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) سرور کونین ﷺ کے سامنے ایک آدمی کا ذکر آیا، چناچہ آپ ﷺ سے کہا گیا کہ وہ آدمی صبح تک سویا رہتا ہے نماز کے لئے نہیں اٹھتا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ وہ ایسا آدمی ہے کہ اس کے کان میں یا آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کے دونوں کانوں میں شیطان پیشاب کرتا ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح نماز سے مراد تہجد کی نماز بھی ہوسکتی ہے اور فجر کی نماز بھی یعنی یا تو یہ آدمی تہجد کی نماز کے لئے نہیں اٹھتا ہوگا یا یہ کہ فجر کی نماز اس کی قضا ہوجاتی ہوگی۔ بہر حال شیطان کے پیشاب کرنے کے بارے میں بعض علماء نے کہا ہے کہ حقیقۃً ایسا ہوتا ہے چناچہ بعض صالحین کے بارے میں منقول ہے کہ (کسی دن) ان کی آنکھ نہ کھلی جس کی وجہ سے (تہجد یا فجر کی فرض) نماز پڑھ سکے چناچہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک آدمی جو سیاہ رنگ کا تھا آیا اور اس نے اپنا پیر اٹھا کر ان کے کان میں پیشاب کردیا۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ شیطان کا پیشاب کرنا اس بات سے کنایہ ہے کہ شیطان ایسے آدمی کو حقیر و ذلیل سمجھتا ہے کیونکہ یہ قاعدہ ہے کہ جو آدمی کسی چیز کو حقیر و کمتر سمجھتا ہے تو اس پر پیشاب کردیتا ہے۔

1197Mishkaat-al-Masabih

عورتوں کے لئے نماز تہجد کا ذکر

عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا قَالَتِ اسْتَےْقَظَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَےْلَۃً فَزِعًا ےَقُوْلُ سُبْحَانَ اللّٰہِ مَاذَا اُنْزِلَ اللَّےْلَۃَ مِنَ الْخَزَآئِنِ وَمَاذَا اُنْزِلَ مِنَ الْفِتَنِ مَنْ ےُّوْقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجُرَاتِ ےُرِےْدُ اَزْوَاجَہُ لِکَیْ ےُصَلِّےْنَ رُبَّ کَاسِےَۃٍ فِی الدُّنْےَا عَارِےَۃٌ فِی الْاٰخِرَۃِ۔(صحیح البخاری)

اور ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک روز رات کو سرور کونین ﷺ گھبرا کر یہ کہتے ہوئے بیدار ہوگئے کہ سبحان اللہ! آج کی رات کس قدر خزانے اتارے گئے ہیں اور کس قدر فتنے نازل کئے گئے ہیں، ہے کوئی جو ان حجروں والیوں کو اٹھا دے، آپ ﷺ کی مراد ازواج مطہرات سے تھی کہ وہ (اٹھ کر) نماز پڑھیں تاکہ رحمت الٰہی حاصل کرسکیں اور عذاب و فتنوں سے بچ سکیں کیونکہ اکثر عورتیں دنیا میں تو کپڑے پہننے والی ہیں لیکن آخرت میں ننگی ہوں گی۔ (صحیح البخاری ) تشریح حدیث کے پہلے جزء کا مطلب یہ ہے کہ جو خزانے اور مال رسول اللہ ﷺ کی امت میں مقدر ہوچکے تھے کہ کس امتی کو کتنا مال و زر ملے گا اور کسی امتی کی قسمت میں کتنی دولت لکھی ہے اس رات کو ان کا اترنا رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوگیا تھا اس طرح اس رات کو جتنے فتنے مقدر ہوچکے تھے وہ بھی اس رات کو رسول اللہ ﷺ کو پہلے ہی سے معلوم ہوگئے تھے۔ ملا علی قاری اور دیگر علماء فرماتے ہیں کہ حدیث میں خزانے سے مراد رحمت الٰہی اور فتنے سے مراد اس کا عذاب ہے۔ عورتوں کے لئے وعید حدیث کے آخری جز کے کئی مطلب ہیں اول یہ کہ اکثر عورتیں دنیا میں تو طرح طرح کے اور عمدہ سے عمدہ کپڑے پہنیں اور ان پر فخر و مباہات کریں گی حالانکہ ان کی حالت یہ ہوگی کہ حکم الٰہی کو نہ ماننے کی وجہ سے وہ آخرت میں نیک اور اچھے اعمال سے خالی ہوں گی۔ دوم یہ کہ اکثر عورتیں دنیا میں نیند کے کپڑے پہنے ہوئے ہوں گی یعنی نیند کی غفلت کی وجہ سے اللہ کی یاد سے غافل ہو نگی جس کا نیتجہ یہ ہوگا کہ آخرت میں اچھے درجات اور بڑائیوں سے خالی ہوں گی، سوم یہ کہ اکثر عورتیں جسم کو ظاہر کرنے والے ایسے کپڑے پہنے ہوئے ہوں گی کہ وہ دنیا میں لباس پوش ہوں گی مگر آخرت کے حکم کے اعتبار سے ننگی ہوں گی یعنی جو کپڑے دیکھنے میں عمدہ خوبصورت اور باریک معلوم ہوتے ہیں جیسے کہ جالی اور نائیلون وغیرہ کے کپڑے کہ جن کا عورتوں کے لئے استعمال کرنا ازروئے شرع ممنوع ہے ایسے کپڑوں والی عورتیں آخرت میں ننگی ہوں گی۔ اس حدیث سے ان عورتوں کو خاص طور پر عبرت حاصل کرنی چاہیے جو آج کے فیشن زدہ دور میں کپڑوں کے معاملے میں انتہائی بےراہ روی اور غیر شرعی طریقہ اختیار کئے ہوئے اور ایسے ایسے کپڑے استعمال کرتی ہیں جو اللہ اور اللہ کے رسول کی مرضی کے خلاف اور آخرت کے عذاب کا موجب ہیںَ مائیں اور بہنیں کان کھول کر سن لیں کہ دنیا چاہے جتنی فیشن زدہ ہوجائے، تہذیب و تمدن چاہے جتنے عروج پر پہنچ جائیں اور انسان کی ذہنی و فکری اور عملی جولانیاں چاہے چاند کو مسخر کرلیں، اسلام اور پیغمبر اسلام کے وہ فرمان جو آج سے چودہ سو سال پہلے جاری ہوئے تھے آج بھی پوری طرح موجود ہیں، ان کی اہمیت اور ان پر عمل کرنے کی شدت کسی حال میں بھی ختم نہیں ہوسکتی، اسلامی اور شرع احکام کا دقیانوسیت کے الفاظ سے مذاق اڑا کر، فیشن کا نام لے کر آج بھلے کوئی عورت اپنی ظاہری زندگی کو اور دنیا کی نظروں میں جاذب نظر دیدہ زیب اور ماڈرن معزز بنا لے مگر اسے یاد رکھ لینا چاہیے کہ دنیا کی اس چند روزہ زندگی اور موجودہ فیشن کے فانی رنگ و روپ کو ختم کر کے ایک دن اسے اس اللہ کی بارگاہ میں پہنچنا ہے جو غفار و رحیم ہونے کے ساتھ ساتھ جبار وقہار بھی ہے اور پھر انہیں وہاں اپنی بد عملیوں کا جواب دینا ہوگا۔

1198Mishkaat-al-Masabih

رحمت خداوندی کے نزول کا وقت

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کُلَّ لَےْلَۃٍ اِلَی السَّمَآءِ الدُّنْےَا حِےْنَ ےَبْقٰی ثُلُثُ اللَّےْلِ الْاٰخِرُ ےَقُوْلُ مَنْ ےَّدْعُوْنِیْ فَاَسْتَجِےْبَ لَہُ مَنْ ےَّسْاَلُنِیْ فَاُعْطِےَہُ مَنْ ےَسْتَغْفِرُنِیْ فَاَغْفِرَلَہُ مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ وَفِیْ رِوَاےَۃٍ لِّمُسْلِمِ ثُمَّ ےَبْسُطُ ےَدَےْہِ ےَقُوْلُ مَنْ ےُّقْرِضُ غَےْرَ عَدُوْمٍ وَّلَا ظَلُوْمٍ حَتّٰی ےَنْفَجِرَ الْفَجْرُ۔

اور حضر ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا ہر رات کو آخر انتہائی رات کے وقت ہمارا بزرگ و برتر پروردگار دنیا کے آسمان (یعنی نیچے کے آسمان) پر نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ کون ہے جو مجھے پکارے اور میں اسے قبولیت بخشوں؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت کا طلبگار ہو اور میں اسے بخشوں؟ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ پھر اللہ جل شانہ اپنے (لطف و رحمت کے) دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے اور کہتا ہے کہ کون ہے جو ایسے کو قرض دے جو نہ فقیر ہے اور نہ ظلم کرنے والا ہے اور صبح تک یہی فرماتا رہتا ہے۔ تشریح یَنْزِلُ رَبَّنَا (ہمارا رب نزول فرماتا ہے) کا مطلب ظاہر ہے کہ یہ نہیں ہوسکتا کہ اللہ جل شانہ خود آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے کیونکہ وہ جسم کی ثقالت و کثافت سے پاک و صاف ہے اور ایسا نور ہے جو ہمہ وقت کائنات کے ذرے ذرے پر محیط و حاوی ہے اور کسی خاص مقام و کسی وقت کا پابند نہیں ہے۔ چنانچہ حضرت علامہ ابن حجر اور امام مالک رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما نے اس کی تاویل کرتے ہوئے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اللہ جل شانہ کا فرمان، اس کی رحمت یا اس کی ملائکہ اس وقت آسمان دنیا پر اترتے ہیں (ا اللہ تعالیٰ کی طرف سے مذکورہ اعلان کرتے ہیں) چناچہ اس کی تائید ایک حدیث صحیح سے بھی ہوتی ہے جو مرقات میں مذکور ہے، یا پھر یہ کہا جائے کہ یہ ارشاد متشابہات میں سے ہے جس کے حقیقی معنی و مطلب اللہ جل شانہ ہی جانتے ہیں۔ مَنْ یَّدْ عُوْنِی دعا کے معنی ہیں پکارنا جیسا کہ بندہ کہے یا رب اس کے مقابلے پر اجابت اور قبولیت ہوتی ہے جیسے کہ پروردگار بندے کے اس پکارنے کے جواب میں کہے لبیک عبدی مَنْ یَّسْاَلَنِیْ سوال کے معنی کسی کا مانگنا اور اس کا طلب کرنا اور اس کے مقابلے میں سوال کا پورا کرنا ہے یعنی جو چیز طلب کی جائے اور مانگی جائے اس کا دینا۔ یہ حدیث اس روایت کے منافی نہیں ہے جس میں منقول ہے کہ اللہ جل شانہ (آسمان دنیا پر) اس وقت نزول فرماتا ہے جب اول تہائی رات گذر جاتی ہے نیز اس روایت کے منافی نہیں ہے جس میں منقول ہے کہ اس وقت نزول فرماتا ہے جب آدھی رات یا دو تہائی رات گذرتی ہے کیونکہ احتمال ہے کہ بعض صورتوں میں تو نزول آخری تہائی رات کے وقت، بعض راتوں کو اول تہائی رات کے گذرنے کے بعد اور بعض راتوں کو آدھی یا دو تہائی رات گزرنے کے بعد ہوتا ہے۔ مَنْ یُّقْرِضُ کون ہے جو قرض دے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کون ہے جو بطریق قرض اور جزا لینے کے لئے بدنی اور مالی عبادت اللہ جل شانہ کو دے جو نہ تو فقیر ہے اور نہ عطا و بخشش سے عاجز ہے نیز یہ کہ نہ ظلم کرنے والا ہے کہ اپنے عہد کو پورا نہ کرے یا ناقص ثواب دے۔ یعنی اس پیرائے سے مسلمانوں کو دنیا میں نیک و صالح عمل کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے کہ وہ کون خوش نصیب اور با سعادت مسلمان ہے جو آخرت کی سعادتوں و راحتوں اور وہاں کے ثواب کی امید میں اس غنی پروردگار کے لئے دنیا میں نیک عمل کرے جو اس کے حق یعنی آخرت میں دنیا کے نیک عمل کا ثواب دینے سے عاجز نہیں ہے اور کون خوش نصیب وسعادت مند مومن ہے جو اس عادل اللہ کے لئے دنیا میں نیک عمل کرتا ہے تو اللہ جل شانہ اس کا ثواب اس کے عمل سے بھی کئی گنا زیادہ کر کے دیتا ہے۔ اس سلسلہ میں یہ بات بطور خاص قابل غور ہے کہ یہاں اللہ جل شانہ کی تعریف بایں طور کی گئی ہے اس کی پاک ذات سے ان دونوں صفات یعنی فقر اور ظلم کی نفی کی گئی ہے کیونکہ قرض کی واپسی کے سلسلے میں یہی دونوں صفتیں حائل ہوتی ہے۔ اگر کوئی عاجز و فقیر ہوتا ہے تو وہ قرض کی واپسی سے معذور ہوتا ہے۔ اگر کوئی آدمی ظالم ہوتا ہے تو اپنے ظلم کی بنا پر قرض کی پوری ادائیگی نہیں کرتا بلکہ اس میں کمی و نقصان کر کے واپس کردیتا ہے اور اللہ جل شانہ کی ذات ان دونوں صفتوں سے پاک ہے۔ نہ تو وہ ظالم ہے اور نہ عاجز فقیر ہے بلکہ عادل ہے اور غنی ہے لہٰذا اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو آدمی دنیا میں بھلائی کرے گا اور نیک عمل کرے گا وہ اللہ جل شانہ کے پاس عقبی میں کامل جزاء اور ثواب پائے گا۔

1199Mishkaat-al-Masabih

ہر رات میں قبولیت کی ایک ساعت ہوتی ہے

وَعَنْ جَابِرٍص قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقُوْلُ اِنَّ فِی اللَّےْلِ لَسَاعَۃً لَّا ےُوَافِقُھَا رَجُلٌ مُّسْلِمٌ ےَّسْاَلُ اللّٰہَ فِےْھَا خَےْرًا مِّنْ اَمْرِ الدُّنْےَا وَالْاٰخِرَۃِ اِلَّا اَعْطَاہُ اِےَّاہُ وَذَالِکَ کُلَّ لَےْلَۃٍ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سرور کونین ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رات کو ایک ایسی ساعت آتی ہے کہ جو مسلمان اسے پاتا ہے اور اس میں اللہ جل شانہ سے دنیا یا آخرت کی کسی بھلائی کا سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے (ضرور) پورا فرماتا ہے اور (قبولیت کی) یہ ساعت ہر رات میں ہوتی ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ ہر شب کو ایک گھڑی ضرور آتی ہے جو قبولیت کی خوشخبری اپنے دامن میں لئے ہوئی آتی ہے جس با سعادت و خوش نصیب مسلمان کو وہ ساعت اور وہ گھڑی نصیب ہوجاتی ہے۔ اور وہ اس میں جل شانہ کے سامنے اپنی جس دنیاوی و اخروی بھلائی کے لئے درخواست پیش کرتا ہے بامراد و کامیاب ہوتا ہے اور اس کی درخواست بارگاہ رب العزت سے قبولیت کا درجہ پاتی ہے ہاں وہ قبولیت اللہ جل شانہ کی طرف سے عطا و بخشش حکما بھی ہوسکتی ہے اور حقیقۃً بھی۔ ساعت قبولیت کے تعین کے بارے میں علماء کے ہاں اختلاف ہے چناچہ بعض حضرات تو فرماتے ہیں کہ یہ ساعت مبہم ہے جیسے لیلۃ القدر اور ساعت جمعہ کہ ان میں کسی خاص وقت کے بارے میں تعین کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ وہ ساعت فلاں وقت اور فلاں ٹائم آتی ہے اسی طرح ہر رات کو بھی قبولیت کی ساعت کا کوئی خاص وقت اور ٹائم مقرر نہیں ہے بلکہ کسی بھی وقت آجاتی ہے بعض علماء فرماتے ہیں کہ نصف شب کا وقت ساعت قبولیت ہے وا اللہ اعلم۔

1200Mishkaat-al-Masabih

حضرت داؤد (علیہ السلام) کی نماز اور روزے

وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍ وص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَحَبُّ الصَّلٰوۃِ اِلَی اللّٰہِ صَلٰوۃُ دَاؤ،دَ وَاَحَبُّ الصِّےَامِ اِلَی اللّٰہِ صِےَامُ دَاؤ،دَ کَانَ ےَنَامُ نِصْفَ اللَّےْلِ وَےَقُوْمُ ثُلُثَہُ وَےَنَامُ ثُلُثُہُ وَےَصُوْمُ ےَوْمًا وَّےُفْطِرُ ےَوْمًا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کو تمام نمازوں میں سے حضرت داؤد (علیہ السلام) کی نماز زیادہ پسند اور تمام روزوں میں سے حضرت داؤد (علیہ السلام) کے روزے زیادہ پسند ہیں اور ان کی نماز کی کیفیت یہ ہوتی تھی کہ وہ آدھی رات سوتے اور تہائی رات قیام کرتے (یعنی نماز پڑھتے) اور پھر رات کے چھٹے حصے میں سوتے اور وہ (روزہ اس طرح رکھتے تھے) ایک دن تو روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو چونکہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی نماز اور ان کے روزے کا یہ طریقے بہت پسند تھا اس لئے اس طریقہ کے مطابق پڑھی جانے والی نفل نماز اور رکھے جانے والے نفل روزے اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ ہیں۔ مذکورہ بالا طریقے سے رات کو پڑھی جانے والی نماز اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب اس لئے ہے کہ جب کوئی آدمی رات کے دو تہائی حصے سوئے گا اور اس کا نفس اتنی دیر تک آرام کرلے گا تو اس کی عبادت پوری فرحت و بشاشت اور قلب و دماغ کے پورے نشاط کے ساتھ ادا ہوگی۔ اس طرح مذکورہ بالا طریقے سے رکھے جانے والے روزے بھی اس لئے پسندیدہ ہیں کہ اس میں نفس کو بہت زیادہ محنت و مشقت ہوتی ہے جو حاصل عبادت ہے۔

1201Mishkaat-al-Masabih

رات کی عبادت میں رسول اللہ ﷺ کا معمول

وَعَنْ عَائِشَۃَ رضی اللّٰہ عنھا قَالَتْ کَانَ تَعْنِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلمےَنَامُ اَوَّلَ الَّےْلِ وَےُحْیِ اٰخِرَہُ ثُمَّ اِنْ کَانَتْ لَہُ حَاجَۃٌ الِیٰ اَھْلِہٖ قَضٰی حَاجَتَہُ ثُم َّےَنَامُ فَاِنْ کَانَ عِنْدَ النِّدَآءِ الْاَوَّلِ جُنُبًا وَّا ثَبَ فَاَفَاضَ عَلَےْہِ الْمَآءَ وَاِنْ لَّمْ ےَکُنْ جُنُبًا تَوَضَّاَ لِلصَّلٰوۃِ ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَےْنِ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرور کونین ﷺ (رات اس طرح بسر کرتے تھے کہ) آپ ﷺ رات کے ابتدائی حصے میں تو سوتے تھے اور رات کے آخری حصہ کو زندہ رکھتے (یعنی بیدار رہتے اور عبادت کرتے تھے) پھر اگر آپ کو اپنی زوجہ مطہرہ سے ( ہم بستری کی) ضرورت ہوتی تو اپنی ضرورت پوری کرتے اور سو جاتے، چناچہ اگر آپ (فجر کی) پہلی اذان کے وقت حالت ناپاکی میں ہوتے تو اٹھتے اور اپنے بدن پر پانی ڈالتے (یعنی نہاتے) اور اگر ناپاکی کی حالت میں نہ سوتے تو نماز کے لئے وضو کرتے اور پھر فجر کی سنت کی دو رکعتیں پڑھتے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح شمائل میں حضرت عائشہ ؓ سے یہ روایت تفصیلی طور پر اس طرح بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ رات کے ابتدائی حصہ میں (یعنی عشاء کی نماز کے بعد سے آدھی رات تک) سوتے پھر رابع و خامس سادس یعنی چوتھے و پانچویں و چھٹے حصے میں تہجد کی نماز کے لئے اٹھتے جب سحر کا وقت ہوتا تو وتر پڑھتے پھر بستر پر (آرام فرمانے کے لئے) تشریف لے آتے (کیونکہ نماز تہجد وغیرہ سے فراغت کے بعد اور نماز فجر سے پہلے کچھ دیر تک آرام کرنا مستحب ہے تاکہ فجر کی نماز اور اس کے بعد کے اوراد وظائف کی ادائیگی کے لئے بشاشت و قوت حاصل ہو سکے) پھر اگر کسی دن آپ کو اپنی زوجہ مطہرہ سے ہم بستری کی ضرورت ہوتی تو اسے پورا کرتے یہاں تک کہ آپ ﷺ فجر کی اذان سن کر اٹھتے اور اگر حالت ناپاکی میں ہوتے تو اپنے بدن پر پانی ڈالتے یعنی نہاتے اور اگر حالت ناپاکی میں نہ ہوتے تو وضو کرتے اور فجر کی سنت کی دونوں رکعتیں گھر ہی میں پڑھ کر نماز کے لئے باہر مسجد میں تشریف لے جاتے۔ اس تفصیل کی روشنی میں حدیث بالا کے ابتدائی جزء رات کے ابتدائی حصے میں سوتے اور رات کے آخری حصہ کو زندہ رکھتے تھے کے معنی واضح ہوگے ہیں۔ بظاہر معلوم یہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ وظیفہ زوجیت سے فراغت کے بعد وضو کرتے ہوں گے، اس کے بعد پھر سوتے ہوں گئے۔ ندائے اول (پہلی اذان) سے مراد اذان متعارف ہے اور دوسری اذان تکبیر کو کہتے ہیں۔ حدیث کے ظاہری الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ آدھی رات تو سوتے تھے اور آدھی رات اپنے پروردگار کی عبادت میں گذارتے تھے، کیونکہ اول سدس یعنی رات کے ابتدائی چھٹے حصے میں عشاء تک جاگتے تھے پھر عشاء کے بعد دوسرے تیسرے سدس میں آرام فرماتے تھے پھر چوتھے اور پانچویں سدس میں بیدار رہتے اور چھٹے میں سو جاتے اس طرح تین سدس تو آپ ﷺ سوتے اور تین سدس بیدار رہتے۔ ﷺ