نماز تہجد پڑھنے کی تاکید و فضیلت
وَعَنْ اَبِی اُمَامَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَیْکُمْ بِقِیَامِ اللَّیْلِ فَاِنَّہُ دَأْبُ الصَّالِحِیْنَ قَبْلَکُمْ وَھُوَ قُرْبَۃُ لَّکُمْ اِلَی رَبِّکُمْ وَمَکْفَرَۃٌ للِّسَیِّاَتِ وَمَنْھَاۃٌ عَنِ الْاِثْمِ (رواہ الترمذی)
اور حضرت ابوامامہ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا قیام اللیل (یعنی نماز تہجد پڑھنے کو) ضروری جانو کیونکہ (اول تو) یہ طریقہ تم سے پہلے کے نیک لوگوں کا ہے اور پھر مزید یہ کہ) قیام لیل تمہارے لئے پروردگار کی نزدیکی اور گناہوں کے دور ہونے کا سبب ہے، نیز یہ کہ تمہیں گناہوں سے باز رکھنے والا ہے۔ (جامع ترمذی )
تشریح
نیک لوگوں سے مراد پہلے زمانے کے انبیاء اور اولیاء ہیں گویا اس طرح رسول اللہ ﷺ اپنی امت کے لوگوں کو تنبیہ فرما رہے ہیں کہ تمہیں تو یہ نماز بطریق اولی پڑھنی چاہیے کیونکہ تم تو پہلے کی تمام امتوں سے بہتر اور اعلیٰ ہو۔ یہ حدیث اس طرف اشارہ کر رہی ہے کہ جو لوگ تمام فرائض کی نماز تو پڑھتے ہیں لیکن تہجد کی نماز نہیں پڑھتے تو وہ صالحین کا ملین کے زمرے میں داخل نہیں ہیں بلکہ ان کا درجہ ایسا ہی ہے جیسا کہ ظاہری طور پر زکوٰۃ دینے والوں کا درجہ ہوتا ہے ان لوگوں کے مقابلے پر جو پوشیدہ طور پر زکوٰۃ دیتے ہیں۔
نماز تہجد پڑھنے والوں کی خوش بختی
وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَۃٌ یَضْحَکُ اﷲِ اِلَیْھِمُ الرَّجُلُ اِذَا قَامَ بِاللَّیْلِ یُصَلِّی وَالْقَوْمُ اِذَا صَفُّوْا فِی الصَّلٰوۃِ وَالْقَوْمُ اِذَا صَفُّوْا فِیْ قِتَالِ الْعُدُوِّ۔ (رواہ فی شرح السنۃ)
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا تین (قسم کے) لوگ ایسے ہیں جن کی طرف (دیکھ کر) اللہ جل شانہ ہنستا ہے (یعنی ان سے بےحد خوش ہوتا ہے اور ان کی طرف اپنی رحمت و عنایت کی نظر فرماتا ہے) (١) وہ آدمی جو رات کو تہجد کی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے (٢) وہ لوگ جو نماز پڑھنے کے لئے اپنی صفوں کو درست کرتے ہیں (٣) وہ لوگ جو دشمنوں سے لڑنے کے لئے (یعنی جہاد کے وقت) صف بندی کرتے ہیں۔ (شرح السنۃ)
نماز تہجد پڑھنے والوں کی خوش بختی
وَعَنْ عَمْرِوبْنِ عَنْبَسَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَقْرَبُ مَا یَکُوْنُ الرَّبُّ مِنَ الْعَبْدِ فِیْ جَوْفِ اللَّیْلِ الْاٰخِرِ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَکُوْنُ مِمَّنْ یَّذْکُرُ اﷲَ فِیْ تِلْکَ السَّاعَۃِ فَکُنْ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ غَرِیْبٌ اِسْنَادًا۔
اور حضرت عمرو بن عنبسہ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا پروردگار اپنے بندے سے سب سے زیادہ قریب آخری شب میں ہوتا ہے لہٰذا اگر تم بھی اس وقت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والوں میں ہوسکتے ہو تو ضرور ہو یعنی اس بات کی کوشش کرو تم بھی ان خوش نصیب مسلمانوں میں شمار کئے جاؤ جو اس وقت اپنے پروردگار کے ذکر میں مشغول ہوتے ہیں اور سعادت میں خوش بختی کے خزانے اپنے دامن میں سمیٹ کر پروردگار کی رضا و خوشنودی کو اپنے قریب تر پاتے ہیں) امام ترمذی نے یہ روایت نقل کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور سند کی وجہ سے غریب ہے۔
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رات کا آخر حصہ بایں طور افضل و اشرف ہے کہ وہ اپنے دامن میں پروردگار کی رحمتوں اور اس کی عنایتوں کے خزانے سمیٹے ہوئے ہوتا ہے، اب یہ قسمت اور مقدروالوں کی بات ہے کہ کون اس خزانے سے مستفید ہوتا ہے اور کون محروم رہ جاتا ہے۔ چنانچہ جن کی طبیعت سعادت مند ہوتی ہے وہ رات کے اس حصے میں اٹھ کر رحمت الٰہی کے خزانے سے اپنے دامن کو بھرتے ہیں اور جو حرماں نصیب ہوتے ہیں وہ شیطان کی لوریاں کھا کھا کر نہ صرف اپنے دل و دماغ اور جسم کو نیند کے حوالے کئے ہوتے ہیں بلکہ ان کی سعادت اور ان کی خوش بختی بھی غفلت و سستی کی نذر ہوجاتی ہے۔ بہر حال پروردگار کا اپنے بندے سے قریب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی رضا و خوشنودی بندے سے قریب تر ہوتی ہے اور اس کی رحمتوں کا سایہ بندے کے اوپر ہوتا ہے۔ آخری نصف رات سے رات کا وہ حصہ مراد ہے جس کی ابتداء ثلث آخر (یعنی آخری تہائی) سے ہوتی ہے اور وہی وقت تہجد کی نماز کے لئے اٹھنے کا ہوتا ہے۔ حضرت عمرو بن عنبسہ جنہیں لسان نبوت سے حدیث میں مذکورہ سعادت حاصل کرنے کے لئے فرمایا جا رہا ہے حضرت حق جل مجدہ کی درگاہ کبریائی کے ایک مجذوب اور دربا رسالت ﷺ کے ایک مقرب اور زی شان خادم تھے ان کی بہت زیادہ عظمت اور فضیلت ہے۔ ابتداء ظہور نبوت میں جبکہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں کفر و شرک سے اکڑی ہوئی ہوئی گردنوں کو خدائے واحد کے حضور میں جھکانے کی سعی میں مصروف تھے اور آپ ﷺ کی تبلیغ کی ابتداء ہوچکی تھی تو حضرت عمرو بن عنبسہ اپنے وطن میں تھے یکایک ان کے دل میں نور توحید ضوفشاں ہوا اور شرک و بت پرستی کی کراہیت و نفرت نے بےچین کردیا، جب ہی سنا کہ ایک آدمی مکہ میں پیدا ہوا ہے جو لوگوں کو توحید کی طرف بلاتا ہے اور بتوں کی عبادت سے منع کرتا ہے، یہ سنتے ہی قلب مضطر نے فوراً ہی مکہ پہنچنے پر مجبور کردیا، انہوں نے مکہ پہنچ کر رسول اللہ ﷺ کے بارے میں دریافت کیا، رسول اللہ (فداہ روحی) اس زمانے میں کفار کی شدید مخالفت اور دشمنان دین کی بےپناہ سختیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنے دشمنوں کی نظروں سے پوشیدہ ہو کر اللہ کے دین کی تبلیغ اور اس کی عبادت میں مصروف تھے، حضرت عمرو بن عنبسہ نے لوگوں سے پوچھا کہ تم میں کون آدمی پیدا ہوا ہے جو تمہاری روش اور تمہارے راستے سے ہٹ کر دوسرے دین کی طرف دنیا کو بلاتا ہے؟ لوگوں نے کہا ہے کہ ہاں ایک دیوانہ ہے (آپ ﷺ کی عقل و دانش پر دونوں جہان قربان) جس نے اپنے باپ دادا کا طریقہ اور راستہ چھوڑ دیا ہے اور ایک نئی رسم نکالی ہے۔ دیوانہ کنی ہر دوجہانش بخشی دیوانہ تو ہر دو جہاں راچہ کند انہوں نے پوچھا کہ اچھا وہ کہاں ملیں گے؟ لوگوں نے کہا کہ وہ آدمی آدھی رات کو باہر نکالتا ہے اور اس خانہ کعبہ کے اردگرد گھومتا ہے۔ حضرت عمرو بن عنبسہ آدھی رات کے وقت حرم شریف میں آئے اور کعبۃ اللہ کے پردہ مبارک میں چھپ کر کھڑے ہوئے اچانک دیکھا کہ ایک آدمی ظلمتوں کے پردوں کو چیرتا ہوا نور کی ایک دنیا اپنے جلوؤں میں لئے نمودار ہوا۔ اس آدمی کی سراپا کشش، آدمییت اور نورانی چہرے و جسم کا یہ عالم کہ مہر و ماہ اس کے سامنے شرمندہ اور دنیا کے تمام لوگ اس کے پاک آستانے کی خاک ﷺ عمرو فوراً پردہ سے نکل کر باہر آئے اور نمودار ہونے والے آدمی کو سلام کیا اور پوچھا کہ آپ کون ہیں اور آپ کا دین کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں اللہ کا رسول ہوں ﷺ اور میرا دین لا الہ الا اللہ ہے یہ خوشی سے جھوم اٹھے اور فورا بولے کہ میں بھی اس دین کو پسند کرتا ہوں چناچہ سرکار دو عالم ﷺ کے سامنے جبھی ایمان لائے، اس طرح حضرت عمرو بن عنبسہ تیسرے یا چوتھے مسلمان ہیں یعنی ان سے پہلے صرف دو یا تین آدمی ہی اسلام کی دولت سے مشرف ہوچکے تھے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے انہیں رخصت کیا اور فرمایا کہ میرے پروردگار نے مجھ سے ایک وعدہ کیا ہے۔ جب وہ وعدہ پورا ہوگا تو میرے پاس آنا چناچہ رسول اللہ ﷺ جب ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو عمرو بن عنبسہ آپ ﷺ کے پاس مدینہ پہنچ گئے اور آپ ﷺ کی خدمت میں رہنے کی سعادت حاصل کی اور نگاہ نبوت کی کرشمہ سازی نے آپ ﷺ کو درجہء کمال پر پہنچا دیا۔
عبادت میں ایک دوسرے کی مدد کی جائے
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَحِمَ اﷲُ رَجُلًا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ فَصَلَّی وَاَیْقَظَ اِمْرَأَتَہ، فَصَلَّتْ فَاِنْ اَبَتْ نَضَحَ فِیْ وَجْھِھَا الْمَآءَ رَحِمَ اﷲُ امْرَأَۃً قَامَتْ مِنَ اللَّیْلِ فَصَلَّتْ وَاَیْقَظَتْ زَوْجَھَا فَصَلَّی فَاِنْ اَبْی نَضَحَتْ فِی وَجْھِہِ الْمَائَ۔ (رواہ ابوداؤد و النسائی )
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحمت نازل فرمائے جو رات کو اٹھ کر (خود بھی تہجد کی) نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی جگائے تاکہ وہ بھی نماز پڑھے اور اگر بیوی (نیند کے غلبے اور کثرت غفلت و سستی کی وجہ سے) نہ جاگے تو (اس کی نیند ختم کرنے کے لئے) اس کے منہ پر پانی کے چھنیٹے ڈالے اور اللہ تعالیٰ اس عورت پر اپنی رحمت نازل فرمائے جو رات کو اٹھ کر (خود بھی تہجد) کی نماز پڑھے اور اپنے خاوند کو جگائے تاکہ وہ بھی نماز پڑھے اور اگر شوہر (غلبہء و نیند و سستی کی وجہ سے) نہ جاگے تو وہ اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے ڈالے۔ (ابوداؤد، سنن نسائی )
تشریح
رات کو اٹھ کر نماز پڑھنے سے مراد تہجد کی ہی نماز ہے لیکن اگر مرد و عورت کسی کی بھی کوئی نماز قضا ہوگئی ہو اور اس وقت اس کے ذمہ قضا ہو تو قضا نماز کا پڑھنا ہی اس وقت اولی ہوگا۔ منہ پر پانی کے چھینٹے دینے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو نماز پڑھنے اور پروردگار کی عبادت کے لئے بیدار کرنے کے واسطے جس طرح بھی ممکن ہو، سعی و کوشش کرے۔ بہر حال حدیث کا حاصل یہ ہے کہ خاوند و بیوی جس طرح سماجی زندگی اور دنیاوی امور میں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہوتے ہیں اسی طرح انہیں دینی امور، طاعت الہٰی اور عبادت الٰہی کے بارے میں ایک دوسرے کا مددگار و معاون بننا چاہیے اور اگر کسی وقت بیوی نماز نہ پڑھے تو شوہر کا حق ہے کہ وہ اسے جس طرح بھی ممکن ہو نماز پڑھنے پر مجبور کرے۔ اسی طرح اگر خاوند نماز پڑھنے میں تساہل و سستی کرے یا کسی ایسی وجہ سے نماز پڑھنے سے رک جائے جو نماز کی ادائیگی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے تو بیوی کا حق ہے کہ وہ اسے پوری قوت سے نماز پڑھنے کے لئے کہے اور جو چیز اس کے نماز پڑھنے میں رکاوٹ بن رہی ہے اسے ختم کرے۔ مثلاً اگر میاں بیوی دونوں میں سے کوئی ایک اس طرح غفلت میں پڑا ہوا ہے کہ اس کی نماز خواہ فرض نماز ہو یا تہجد وغیرہ کی نماز رہی جاتی ہو تو دونوں میں سے جو بھی بیدار ہو وہ دوسرے کو بھی نیند سے اٹھائے اگر وہ نہ اٹھے تو ایسی ترکیب کرے جس سے اس کی نیند ختم ہوجائے اور وہ اٹھ کر نماز پڑھ سکے۔ اسی طرح کسی ایک جگہ اجتماعی طور پر رہنے والے لوگوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں اور رفیقوں میں ایک دوسرے کے معاون و مددگار بن کر رہیں اور ایک دوسرے کو نماز پڑھنے اور عبادت الٰہی میں مشغول و مصروف رکھنے کی کوشش کریں۔ اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ کسی آدمی پر بھلائی کے معاملے میں جبر کرنا نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ مستحب ہے۔
وَعَنْ اَبِی اُمَامَۃَ قَالَ قِیْلَ یَارَسُوْلَ اﷲِ اَیُّ الدُّعَآءِ اَسْمَعُ قَالَ جَوْفُ اللَّیْلِ الْاٰخِرُ وَ دُبَرُ الصَّلٰوۃِ الْمَکْتُوْبَاتِ۔ (رواہ الترمذی)
اور حضرت ابوامامہ ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) سرور کونین ﷺ سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ! کس وقت کی دعا بہت زیادہ مقبول ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا آخری تہائی رات میں اور فرض نمازوں کے بعد۔ (جامع ترمذی)
اعمال صالحہ کرنے والوں کے لئے خوشخبری
وَعَنْ اَبِی مَالِکِ الَاشْعَرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنِّ فِی الْجَنَّۃِ غُرَفًا یُّرٰی ظَاھِرُھَا مِنْ بَاطِنِھَا وَبَاطِنُھَا مِنْ ظَاھِرِ ھَا اَعَدَّھَا اﷲُ لِمَنْ اَلاَ انَ الْکَلَامَ وَاَطْعَمَ الطَّعَامَ وَتَابَعَ الصِّیَامَ وَصَلَّی بِاللَّیْلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ رَوَاہُ الْبَیْھِقِیُّ فِی شُعَبِ الْاَیْمَانِ وَرَوَی التِّرْمِذِیُّ عَنْ عَلِیِّ نَحْوَہ، وَفِی رَوَایَتِہٖ لَمَنْ اَطَابَ الْکَلَام۔
اور حضرت ابومالک اشعری راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا جنت میں ایسے بالا خانے ہیں جن کے باہر کی چیزیں اندر اور اندر کی چیزیں باہر دکھائی دیتی ہیں۔ اور یہ بالا خانے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے تیار کئے ہیں جو دوسرے لوگوں سے نرمی سے بات کرتے ہیں (غریب و ناداروں کو) کھانا کھلاتے ہیں، پے در پے (یعنی اکثر) نفل روزے رکھتے ہیں اور رات کو ایسے وقت (تہجد) کی نماز پڑھتے ہیں جب کہ (اکثر) لوگ نیند کی آغوش میں ہوتے ہیں۔ اس روایت کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔ نیز جامع ترمذی نے بھی اس طرح کی روایت کو حضرت علی المرتضیٰ سے نقل کیا ہے مگر ان کی روایت میں لمن اطاب الکلام کے الفاظ ہیں (اور دونوں کے معنی ایک ہی ہیں)۔
تشریح
بعض علماء فرماتے ہیں کہ حدیث میں پے در پے نفل روزے رکھنے کے بارے میں جو فرمایا گیا ہے تو اس کا آخری درجہ یہ ہے کہ ہر مہینے میں کم سے کم تین روزے بہ نیت نفل رکھے جائیں۔
نماز تہجد کو ترک کرنے کی ممانعت
وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ص قَالَ قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَا عَبْدَاللّٰہِ لَا تَکُنْ مِّثْلَ فُلاَنٍ کَانَ ےَقُوْمُ مِنَ اللَّےْلِ فَتَرَکَ قِےَامَ اللَّےْلِ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے (ایک روز) مجھ سے فرمایا کہ عبداللہ (دیکھو) فلاں آدمی کی طرح نہ ہوجانا کہ وہ رات کو قیام کرتا تھا (یعنی تہجد کی نماز پڑھتا تھا) پھر بعد میں رات کے قیام کو اس نے چھوڑ دیا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
کوئی صحابی ہوں گے جو پہلے تو تہجد کی نماز پڑھا کرتے تھے مگر پھر بعد میں بغیر کسی عذر کے محض نفس کی خواہش میں مبتلا ہو کر اس عظیم سعادت سے کنارہ کشی کر بیٹھے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عمرو کو متنبہ فرمایا کہ دیکھو کہیں تم بھی انہیں کی طرح نماز تہجد کو چھوڑ کر فریب نفس میں مبتلا نہ ہوجانا کیونکہ ایسے لوگ جو نیک عمل کی عادت اور اپنے معمولات دینی کو بغیر کسی عذر و مجبوری کے چھوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں اور ان لوگوں کے سلسلے میں داخل ہوجاتے ہیں جن کے بارے میں صحیح فیصلہ یہی ہے کہ تَارِکُ الْوِرْدِ مَلْعُونٌ (یعنی معمولات دینی کو چھوڑنے والا ملعون ہے)۔ گویا اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ عبادت الٰہی کو ترک کردینا اور عادت یعنی نفسانیت کے غلط راستے کی طرف لوٹنا درحقیقت سعادت مندی اور صلاح و فلاح میں زیادتی کے بعد نقصان کا واقع ہوجانا ہے جس سے رسول اللہ ﷺ نے بایں طور پناہ مانگی ہے کہ نعوذ باللہ من الحور بعد الکور (یعنی ہم زیادتی کے بعد نقصان کے واقع ہوجانے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔ لہٰذا راہ طریق و شریعت کے سالک کو چاہیے کہ نہ صرف یہ کہ وہ اپنی عبادت الٰہی اور ذکر اللہ کی عادت کو ترک نہ کرے اور اس میں کمی نہ اختیار کرے بلکہ ان میں زیادتی ہی کا طالب رہے کیونکہ یہ کہا گیا ہے جو آدمی زیادتی کا طالب نہیں ہے وہ نقصان کے راستے پر ہے۔
رات کو حضرت داؤد (علیہ السلام) کی عبادت اور ساعت قبولیت
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ اَبِی الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ کَانَ لِدَاؤدَ عَلَیْہِ السَّلامُ مِنَ اللَّیْلِ سَاعَۃٌ یُوْقِظُ فِیْھَا اَھْلَہ، یَقُوْلُ یَا اٰلَ دَاؤدَ قَوْمُوْا فَصَلُّوْ فَاِنَّ ھٰذِہٖ سَاعَۃٌ یَسْتَجِیْبُ اﷲُ عَزَّوَ جَلَّ فِیْھَا الدُّعَآءَ اِلَّالِسَاحِرٍ اَوْعَشَّارٍ۔ (رواہ احمد بن حنبل)
اور حضرت عثمان بن العاص ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سرور کونین ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت داؤد کے لئے رات ( کے آخری نصف حصہ میں) ایک وقت مقرر تھا جس میں وہ اپنے اہل خانہ کو جگاتے اور فرماتے کہ آل داؤد! اٹھو اور نماز پڑھو کیونکہ یہ ایسا وقت ہے جس میں اللہ بزرگ و برتر دعا کو قبول فرماتا ہے سوائے جادوگر اور عشار (کی دعا) کے (یعنی ان دونوں کی دعا اس وقت بھی قبول نہیں ہوتی )۔ (مسند احمد بن حنبل )
تشریح
عشار سے چوکیدار قسم کے وہ راہزن مراد ہیں جو راستوں میں بیٹھے رہتے ہیں اور لوگوں کے مال ازراہ ظلم لے لیتے ہیں اس سے وہ عمال بھی مراد لئے جاسکتے ہیں جو محصول وغیرہ کی وصولیابی کے لئے مقرر ہوتے ہیں اور ناجائز و غلط طریقے پر لوگوں سے ان کے مال و اسباب غصب کرتے ہیں۔ بہر حال حاصل یہ ہے کہ اس مقدس ساعت اور رحمت الٰہی کے عام فیضان کے اس بابرکت موقع پر بھی ساحر یعنی جادوگر اور عشار کی دعا قبول نہیں ہوتی کیونکہ ان لوگوں سے اللہ کی مخلوق کو بہت تکلیف پہنچتی ہے اور پروردگار عالم ان لوگوں کے ساتھ کبھی بھی بہتر معاملہ نہیں فرماتا جو اس کی مخلوق کے لئے ایذارسانی اور تکلیف و مصیبت کا سبب بنتے ہیں، وجہ سے بعض عارفین کا یہ عارفانہ ارشاد ہے کہ کمال عبودیت یعنی پوری طرح اللہ کا بندہ ہوجانا چاہیے کہ حکم الٰہی کی تعظیم کی جائے اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ شفقت و مہربانی کا برتاؤ کیا جائے۔
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃَ بَعْدَ الْمَفْرُوْضَۃِ صَلَاۃٌ فِی جَوْفِ اللَّیْلِ۔ (رواہ احمد بن حنبل)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سرور کونین ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز رات کو پڑھی جانے والی (یعنی تہجد کی) نماز ہے۔ (مسند احمد بن حنبل)
تشریح
حضرت میرک شاہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حضرت ابواسحق مروزی شافعی کے اس قول کی دلیل ہے کہ تہجد کی نماز سنن رواتب سے افضل ہے جبکہ اکثر علماء کا قول یہ ہے کہ سنن رواتب افضل ہیں چناچہ ابواسحق مروزی ہی کا قول قوی تر ہے کیونکہ یہ حدیث صراحت کے ساتھ ان کے قول کی تائید کر رہی ہے۔ بہر حال اس مسئلے کی تحقیق یہ ہے کہ نماز تہجد بایں طور افضل ہے کہ اس نماز میں نفس بہت زیادہ مشقت میں مبتلا ہوتا ہے اور اس نماز کو پڑھنے والا ریا و نمائش سے بعید ہوتا ہے اور سنن رواتب بایں جہت افضل ہیں کہ فرض نمازوں کے ساتھ ان کے پڑھنے کے بہت تاکید کی گئی ہے نیز یہ کہ سنن رواتب فرض نمازوں کے لئے متمم ہیں یعنی ان کے ذریعے فرض نمازیں درجہ کمال و اتمام کو پہنچتی ہیں، لہٰذا اس طرح دونوں کی افضلیت اپنی اپنی جگہ مسلم ہے اور دونوں اقوال میں کوئی منافات نہیں ہے، یا پھر رات کی نماز کی فضیلت کے بارے میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ رات کی نماز اس لئے افضل ہے کہ یہ وتر پر بھی مشتمل ہے اور وتر واجب ہے۔ سید الطائف حضرت جنید بغدادی (رح) کے بارے میں منقول ہے کہ انتقال کے بعد انہیں کسی نے خواب میں دیکھا تو پوچھا کہ پروردگار نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ تاھت العبادات وفنیت الا شارات وما نفعنا الا رکعات صلینا ھا فی جوف اللیل۔ وہ باتیں جو میں حقائق و معارف کے بیان میں کہتا تھا جاتی رہیں اور وہ نکات جو میں بیان کیا کرتا تھا ختم ہوگئے مجھے تو صرف نماز کی ان چند رکعتوں نے فائدہ دیا جو نصف شب کو پڑھا کرتا تھا۔ گویا طالبین راہ حقیقت و شریعت اور سالکین راہ طریقت کو ترغیب دلائی گئی کہ تصوف و طریقت کے حکمات و نکات کے پیچھے نہ پڑو اور گفتار کے نہیں کردار کے غازی بنو، عملی زندگی کو سنوار نے اور اللہ کی بندگی کی راہ پر لگانے کی پوری پوری کوشش کرو اور عبادت و ریاضت کا پورا پورا اہتمام کرو کیونکہ اسی میں دنیا کی بھلائی ہے اور آخرت کی بھی۔ کارکن کار، بگزر از گفتار کاندریں راہ کار دارو کار
تہجد کی نماز برائی سے روکتی ہے
وَعَنْہُ قَالَ جَآءَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ اِنَّ فُـلَانًا یُصَلِّی بِاللَّیْلِ فَاِذَا اَصْبَحَ سَرَقَ فَقَالَ اِنَّہ، سَیَنْھَاہُ مَا تَقُوْلُ ۔ (رواہ احمد بن حنبل و البیہقی فی شعب الایمان)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سرور کونین ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ فلاں آدمی رات کو تو نماز پڑھتا ہے مگر صبح اٹھ کر چوری کرتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا عنقریب اس کی نماز اسے اس چیز سے روک دے گی جو تم کہہ رہے ہو۔ (مسند احمد بن حنبل، بیہقی)
تشریح
نماز کی خاصیت ہے کہ وہ انسان کو برائی کے راستے سے روکتی ہے اور نیکی کے راستے پر گامزن کرتی ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے آیت ( اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَا ءِ وَالْمُنْكَرِ ) 29۔ العنکبوت 45) نماز بےحیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے جب ایک ایسے آدمی کا ذکر کیا گیا جو رات کو تو عبادت الٰہی یعنی نماز تہجد میں مشغول رہتا اور صبح اٹھ کر چوری جیسے برے فعل کا مرتکب ہوتا تھا تو آپ ﷺ نے یہی فرمایا کہ اگر وہ خلوص نیت اور جذبہ خالص کے تحت رات کی نماز پر مداومت کرتا ہے تو انشاء اللہ جلد ہی اللہ تعالیٰ اس نماز کی برکت سے اسے اس فعل قبیح سے توبہ کی توفیق عطا فرما دے گا اور اپنے قلب و دماغ میں نماز کی برکت و نورانیت کے اثر کی وجہ سے وہ چوری سے باز رہے گا۔
اہل خانہ کے ہمراہ نماز تہجد پڑھنے کی فضیلت
وَعَنْ اَبِی سَعِیْدٍ وَاَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا اَیْقَظَ الرَّجُلُ اَھْلَہ، مِنَ اللَّیْلِ فَصَلَّیَا اَوْصَلَّی رَکْعَتَیْنِ جَمِیْعًا کُتِبَا فِی الذَّاکَرِیْنَ وَالذَّاکِرَاتِ۔ (رواہ ابوداؤد و ابن ماجۃ)
اور حضرت ابوسعید خدری و حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا اگر کوئی آدمی رات میں بیوی کو جگائے اور وہ دونوں نماز پڑھیں، یا یہ فرمایا کہ ان میں سے ہر ایک دو رکعتیں اکٹھی پڑھیں تو وہ (دونو) ذکر کرنے والے مردوں اور ذکر کرنے والی عورتوں (کے زمرے) میں لکھے جاتے ہیں۔ (ابوداؤد و ابن ماجہ)
تشریح
حدیث میں لفظ اہل سے مراد صرف بیوی بھی لی جاسکتی ہے اور بیوی اولاد، غلام اور لونڈیاں بھی مراد لی جاسکتی ہیں۔ درمیان روایت میں راوی کو شک واقع ہوگیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لفظ فَصَلَّیَا (یعنی اور وہ دونوں نماز پڑھیں) فرمایا ہے۔ یا لفظ صلی (یعنی ہر ایک دو رکعتیں اکٹھی پڑھیں) فرمایا ہے۔ بہرکیف یہ صرف لفظی اختلاف ہے دونوں کا مطلب ایک ہی ہے۔ آیت ( وَالذّٰكِرِيْنَ اللّٰهَ كَثِيْرًا وَّالذّٰكِرٰتِ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّاَجْرًا عَظِيْمًا 35) 33۔ الاحزاب 35) اور اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ یاد کرنے والے مرد اور عورتیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مغفرت اور بہت زیاہ ثواب (کا اجر و انعام) تیار کر رکھا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو آدمی رات کو خود بھی اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھے گا اور ذکر اللہ میں مشغول رہے گا اور اپنی بیویو دیگر اہل خانہ کو بھی جگا کر اللہ کی عبادت میں مشغول رکھے گا تو ان سب کا شمار ان نیک و با سعادت مرد و عورتوں میں ہوگا جن کی فضیلت اس آیت میں بیان کی جاری ہے۔
امت میں بلند مرتبہ کون لوگ ہیں
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَشْرَافُ اُمَّتِی حَمَلَۃُ الْقُرْانِ وَاَصْحَابُ اللَّیْلِ۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا میری امت کے اشراف یعنی بلند مرتبہ لوگ قرآن اٹھانے والے (اور رات (میں اٹھنے) والے ہیں۔ (بیہقی)
تشریح
قرآن اٹھانے والے سے مراد وہ لوگ ہیں جو قرآن کریم یاد کرتے ہیں اور اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں بایں طور کہ قرآن نے جن امور کو کرنے کا حکم دیا ہے ان کو کرتے ہیں اور جن امور سے منع کیا ہے ان سے بچتے ہیں، آنحضور ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ ایسے ہی لوگ میری امت کے بلند مرتبہ اور باسعادت افراد ہیں، چناچہ قرآن حفظ کرنے والے اور اس کے احکام کے پابند لوگوں کی فضیلت ایک دوسری روایت میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ جس آدمی نے قرآن حفظ کیا تو بیشک اس پر فیضان نبوت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں مگر اس کے پاس وحی (یعنی وحی جلی) نہیں آتی، البتہ وحی خفی اس کے پاس آتی ہے (یعنی وحی جلی کے مطالب و معارف کا فیضان اس کے قلب و دماغ پر ہوتا ہے) مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم حفظ کرنے والا آدمی اس وجہ سے بہت زیادہ فضیلت وسعادت کا پیکر مانا جاتا ہے کہ اس کے قلب کے اندر قرآن کے الفاظ کی شکل میں نور نبوت و دیعت فرما دیا جاتا ہے جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وحی خفی یعنی قرآن کے ظاہری الفاظ کے مطالب و معارف کا فیضان اس کے قلب و دماغ کو منور کردیتا ہے اور قرآن کے الفاظ کے نور کی برکت سے وحی جلی پر (جو کہ انبیاء کا مخصوص حصہ ہے) اس کا ایمان و ایقان قوی تر ہوتا ہے۔ علامہ یحییٰ فرماتے ہیں کہ قرآن حفظ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن یاد کرے اور اپنی عملی زندگی کو اس کے سانچے میں ڈھالے، بایں طور کہ قرآن نے جو احکام دیئے ہیں ان پر پوری قلبی خلوص اور مداومت کے ساتھ عمل کرے ورنہ تو محض قرآن یاد کرنے والا اور اس پر عمل کرنے والا ان لوگوں میں شمار کیا جاتا جن کے بارے میں حق تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ آیت ( كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَسْفَارًا) 62۔ الجمعہ 5) یعنی (جو لوگ حافظ قرآن ہوں مگر عامل قرآن نہ ہوں تو) وہ ایسے ہیں جیسے کہ گدھے پر کتابیں لاد دی جائیں۔ یعنی جس طرح کہ گدھے پر کتابیں لاد دینے سے گدھے کو ذرہ برابر بھی فائدہ نہیں پہنچتا بالکل اسی طرح قرآن پر عمل کرنے والے حافظ کو بھی قرآن حفظ کرنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور وہ سعادت و مرتبے کے اعتبار سے کسی بھی حیثیت میں نہیں ہوتا۔ اَصْحَابُ اللَّیْلِ (رات والے) سے مراد وہ لوگ ہیں جو نماز و قرآن پڑھنے کے شب بیداری پر مداومت کرتے ہیں یعنی پابندی کے ساتھ روزانہ رات کو اٹھتے ہیں اور عبادت الٰہی و ذکر اللہ میں مشغول ہوتے ہیں ایسے لوگ اللہ اور اللہ کے رسول کی نظروں میں بڑی فضیلت کے حامل ہوتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے مطابق امت مرحومہ کے بلند مرتبہ افراد میں شمار کئے جاتے ہیں۔
رات کی عبادت کے سلسلے میں حضرت عمر کا معمول
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ اَبَاہُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ یُصَلِّی مِنَ اللَّیْلِ مَا شَآءَ اﷲُ حَتّٰی اِذَاکَانَ اَخِرِ اللَّیْلِ اَیْقَظَ اَھْلَہ، لِلصَّلَاۃِ یَقُوْلُ لَھُمُ الصَّلَاۃُ ثُمَّ یَتْلُوْ ھٰذِہٖ الْاٰیَۃَ وَامُرْ اَھْلَکَ بِالصَّلٰوۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْھَا لَا نَسْأَلُکَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُکَ وَ الْعَاقِبَۃُ لِلتَّقْوٰی (رواہ موطا مالک)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر سے مروی ہے کہ ان کے پدر بزرگوار حضرت عمر بن خطاب رات کو جس قدر اللہ چاہتا نماز پڑھتے رہتے اور رات جب آخر ہوتی تو اپنی زوجہ محترمہ کو نماز پڑھنے کے لئے اٹھاتے اور فرماتے کہ نماز پڑھو، پھر یہ آیت پڑھتے ( وَاْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا لَا نَسْ َ لُكَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُكَ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى ١٣٢) 20۔ طہ 132) (اور اے محمد ﷺ اپنے متعلیقن کو بھی نماز کا حکم کرتے رہیے اور خود بھی اس (کی مشقتوں) پر صبر کیجئے ہم آپ ﷺ سے رزق نہیں مانگتے، رزق ہم ہی آپ ﷺ کو دیتے ہیں اور آخرت کی بھلائی تو پرہیز گاروں ہی کے لئے ہے۔ (مالک)
تشریح
آیت کا مطلب یہ ہے کہ اپنے متعلیقن اور اہل خانہ کو نماز پڑھنے کی ہدایت کرتے رہیے اور خود بھی نماز پڑھنے کی مشقتوں محنتوں پر صبر کیجئے اور اس سلسلہ میں آپ ﷺ کے متعلقین کو بھی جو محنت و مشقت اٹھانی پڑے اسے بھی برداشت کیجئے اور ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی میں مشغول رہیے، اللہ تعالیٰ کی ذات پر تو کل کیجئے، اسی سے ظاہری و باطنی غناء کے لئے مدد کے طلبگار رہیے اپنے رزق اور معاش کی فکر نہ کیجئے اور دیکھئے ہم آپ ﷺ سے رزق نہیں مانگتے کہ اپنے رزق اور اسباب معیشت کے حصول اور دوسروں کے لئے رزق کی ذمہ داری آپ کو جدوجہد اور محنت و سعی کے ایسے بندھنوں میں باندھ دے جو آپ ﷺ کے لئے ادائیگی نماز میں رکاوٹ بن جائے جس طرح ہم دوسروں کو رزق دیتے ہیں اسی طرح آپ ﷺ کو بھی رزق بخشتے ہیں، آپ ﷺ کا کام تو صرف یہ ہے کہ دنیا اور دنیا کے امور سے منہ موڑ کر اپنے قلب و دماغ کو صرف آخرت کی بھلائی اور اپنے متعلقین کی اصلاح میں مصروف رکھیے اور یہ جان لیجئے کہ عاقبت محمودہ یعنی دنیا اور آخرت دونوں جگہ انجام کار بخیر ہونا صرف متقیوں اور اللہ کے نیک بندوں ہی کے لئے ہے
اعمال میں میانہ روی اختیار کرنے کا بیان
اس باب میں وہ احادیث نقل کی جائیں گی جن سے معلوم ہوگا کہ جس طرح دنیاوی امور میں افراط وتفریط یعنی حد سے زیادہ زیادتی اور حد سے زیادہ کمی غیر نفع بخش ہے اسی طرح دینی امور یعنی اعمال نفل میں بھی افراط وتفریط مطلوب نہیں ہے بلکہ اس راستے پر بھی میانہ راوی اور ان میں اعتدال اختیار کرنا ضروری ہے۔
اعمال میں میانہ روی اختیار کرنے کا بیان
عَنْ اَنَسٍ ص قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےُفْطِرُ مِنَ الشَّھْرِ حَتّٰی یَظُنَّ اَنْ لَّا ےَصُوْمَ مِنْہُ وَےَصُوْمُ حَتّٰی یَظُنَّ اَنْ لاَّ ےُفْطِرَ مِنْہُ شَےْئًا وَّکَانَ لَا تَشَآءُ اَنْ تَرَاہُ مِنَ الَّےْلِ مُصَلِّےًا اِلَّا رَاَےْتَہُ وَلَا نَآئِمًا اِلَّا رَاَےْتَہُ۔(صحیح البخاری)
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کونین ﷺ مہینہ (کے اکثر ایام) میں (نفل) روزہ نہ رکھتے، یہاں تک کہ ہم گمان کرتے کہ آپ ﷺ اس مہینے میں روزہ نہیں رکھیں گے اور آپ ﷺ مہینہ ( اسی مہینے یا دوسرے مہینے کے اکثر ایام) میں روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ ہم گمان کرتے کہ اب (اس مہینے کا) کوئی دن بھی آپ ﷺ بغیر روزے کے نہیں چھوڑیں گے اور اگر آپ ﷺ کو رات کو نماز پڑھتے ہوئے تم دیکھنا چاہتے ہو تو نماز پڑھتے ہوئے بھی دیکھ لیتے اور اگر آپ ﷺ کو رات کو سوتے ہوئے تم دیکھنا چاہتے تو سوتے ہوئے ہی دیکھ لیتے۔ (بخاری)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اعمال نفل میں اعتدال کی راہ اختیار فرماتے تھے چناچہ نہ تو آپ ﷺ ہمیشہ روزہ ہی رکھتے تھے کہ افراط یعنی زیادتی لازم آتی اور نہ ہمیشہ بغیر روزے کے ساتھ رہتے تھے کہ تفریط یعنی کمی لازم آتی، بلکہ آپ ﷺ کا معمول یہ تھا کہ ہر مہینے میں کچھ دن تو آپ ﷺ روزے سے رہا کرتے تھے اور کچھ دن بغیر روزے کے۔ اسی طرح نفل نماز کے سلسلے میں بھی آپ ﷺ کا معمول یہ تھا کہ رات کو آپ ﷺ سوتے بھی تھے اور نماز بھی پڑھتے تھے نہ تو تمام رات سوتے ہی تھے اور نہ تمام رات نماز ہی میں گزارتے تھے۔ غرضیکہ تمام امور میں آپ ﷺ کا عمل اوسط درجے کا تھا، نہ زیادہ تھا اور نہ کم تھا۔
وَعَنْ عَائِشَۃَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَحَبُّ الْاَعْمَالِ اِلَی اللّٰہِ اَدْوَمُہَاوَاِنْ قَلَّ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا (بندوں کے نیک اعمال میں) اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل ہے جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حضرت مظہر فرماتے ہیں کہ اہل تصوف و طریقت اسی حدیث کے پیش نظر اورادو وظائف کو ترک کرنا ایسا ہی برا جانتے ہیں جیسا کہ فرائض کے ترک کو، لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ ترک اولیٰ ہے یعنی فرائض کے ترک اور اوراد وظائف کے ترک میں فرق ہے، فرائض کا ترک گناہ کبیرہ ہے جبکہ اوراد وظائف کا ترک اولیٰ کا ترک کرنا ہے اور ظاہر کہ اولیٰ کا ترک کرنا فرائض کے ترک کرنے کے درجے میں نہیں آسکتا اور وجہ اس کی یہ ہے کہ جب بندے نے طاعت بغیر ضرورت کے ترک کی تو گویا اس نے مولیٰ کی عبادت سے اعراض کیا لہٰذا وہ عتاب کا مستحق ہوا، بخلاف مداومت کرنے والے کے کہ وہ اس بات کا مستحق ہوتا ہے کہ پروردگار کا محبوب ہو۔ وَاِنْ قَلَّ (اگرچہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو) کا مطلب یہ ہے کہ تھوڑا عمل اگر اس پر مداومت و مواظبت اختیار کی جائے تو وہ زیادہ عمل سے جب کہ اس کے آداب و شرائط کی رعایت نہ ہوتی ہو اور ہمیشہ نہ کیا جاتا ہو، بہتر ہے۔
بساط سے باہر عبادت نہیں کرنی چاہیے
وَعَنْھَا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم خُذُوْا مِنَ الْاَعْمَالِ مَا تُطِےْقُوْنَ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا ےَمَلُّ حَتّٰی تَمَلُّوْا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا تم اسی قدر عمل کیا کرو جتنی کہ (ہمیشہ) کرنے کی طاقت رکھتے ہو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ (ثواب دینے میں) تنگی نہیں کرتا یہاں تک کہ تم خود تنگی نہ کرو (یعنی تنگ آکر عبادت ہی نہ چھوڑ دو )۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اپنے لئے اتنی زیادہ عبادت ضروری قرار نہ دے دو جسے تم ہمیشہ نباہنے کی طاقت نہ رکھتے ہو بلکہ اسی قدر عبادت کرو کہ جتنی تم ہمیشہ پابندی کے ساتھ کرسکو، کیونکہ اللہ تعالیٰ ثواب دینے میں تنگی نہیں کرتا یعنی ثواب دینا ترک نہیں کرتا یہاں تک کہ تم خود عبادت کی زیادتی سے پریشان ہو کر سرے سے عبادت ہی نہ چھوڑ دو۔ حاصل یہ کہ اللہ جل شانہ عبادت کرنے والے کو ثواب دئیے جاتا ہے ہاں اگر کوئی آدمی زیادتی کے سبب تھک کر عبادت چھوڑ دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ ثواب دینا بھی چھوڑ دیتا ہے لہٰذا عبادت کے معاملے میں اعتدال کی راہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ ہمیشہ عبادت جاری رہے اور حق تعالیٰ کی طرف سے ثواب کا سلسلہ بھی قائم رہے
اس وقت تک عبادت کرنی چاہے جب تک دل گلے
وَعَنْ اَنَسٍ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لِےُصَلِّ اَحَدُکُمْ نَشَاطَہُ وَاِذَا فَتَرَ فَلْےَقْعُدْ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا تمہیں چاہے کہ اسی وقت تک نماز پڑھو جب تک کہ خوش دلی رہے اور جب طبیعت سست ہوجائے تو بیٹھ جاؤ۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حدیث کا حاصل یہ ہے کہ آخرت کی راہ سعادت اور بھلائی اختیار کرنے والے کو چاہیے کہ عبادت میں اپنی بساط اور طاقت کے مطابق کوشش کرے طاعت کے معاملے میں میانہ روی اختیار کرے اور تنگ دلی و انقباض کے ساتھ عبادت کرنے سے احتراز کرے۔ عبادت اسی وقت تک کرے جب تک کہ بشاشت قلبی اور سکون و اطمینان حاصل رہے۔ جب طبیعت سست ہوجائے تو عبادت ترک کر دے، اگر کوئی آدمی عبادت کرتے کرتے تھک جائے اور سست ہوجائے، نیز عبادت چھوڑ کر اس خیال سے کسی امر مباح میں مشغول ہوجائے مثلاً سو جائے یا گفتگو وغیرہ میں لگ جائے تاکہ آئندہ عبادت کے لئے مزید بشاشت و خوشی اور اطمینان و سکون حاصل ہو سکے تو اس کی یہ مشغولیت عبادت وطاعت ہی میں شمار کی جاتی ہے۔ اسی لئے فرمایا گیا ہے کہ عالم کی نیند ( بھی) عبادت ہے کسالت و ملالت اور طبیعت کی تنگی کے وقت نفل اعمال کو ترک کردینے کے سلسلے میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں، چناچہ ایسے موقعہ پر جبکہ طبیعت میں اضمحلال اور سستی پیدا ہوجائے نفل اعمال کو ترک کردینے کی اجازت اس لئے دی گئی ہے کہ عمل کا نفس پر گراں ہونا آخر کار عمل کے بالکل چھوٹ جانے یا اس میں نقصان واقع ہوجانے کا سبب بن جاتا ہے۔ لیکن اتنی بات سمجھ لیجئے کہ نفس کو بہت زیادہ عبادت کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے تاکہ طبیعت عبادت کی مشقت و ریاضت کی خوگر ہوجائے، کاہل طبیعت، آرام طلب اور سست مزاج لوگوں کی طرح ہوجانا چاہیے جو کہ مختصر سی عبادت اور تھوڑے سے عمل میں بھی تھک جاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ عبادت اور ریاضت و مجاہدہ کو ادھورا چھوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں لیکن بہت زیادہ عبادت کرنے کی اگر عادت پڑجاتی ہے تو زیادہ سے زیادہ عبادت طبیعت پر گراں نہیں ہوتی، چناچہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو پہلے دو رکعت نماز پڑھنی اور قرآن کے ایک پارے کی تلاوت بھی گراں گذرتی تھی اور اس کی وجہ سے ان کی طبیعت میں سستی و اضمحلال پیدا ہوجاتا تھا انہوں نے ہی جب زیادہ عبادات اور ریاضت و مجاہدہ کی عادت پیدا کرلی اور اپنے نفس اور اپنی طبیعت کو راہ الٰہی کی سعادتوں کے حصول کی خاطرمشقت و محنت کا عادی بنا لیا تو انہیں سو رکعت نماز پڑھنی اور قرآن کے دس پاروں کی تلاوت بھی آسان معلوم ہونے لگی۔
اونگھنے کی حالت میں نماز نہیں پڑھنی چاہیے
وَعَنْ عَائِشَۃَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلماِذَا نَعَسَ اَحَدُکُمْ وَھُوَ ےُصَلِّیْ فَلْےَرْقُدْ حَتّٰی ےَذْھَبَ عَنْہُ النَّوْمُ فَاِنَّ اَحَدَکُمْ اِذَا صَلّٰی وَھُوَ نَاعِسٌ لَّا ےَدْرِیْ لَعَلَّہُ ےَسْتَغْفِرُ فَےَسُبُّ نَفْسَہُ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)۔
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے کی حالت میں اونگھنے لگے تو اسے چاہیے کہ سو رہے یہاں تک کہ نیند جاتی رہے کیونکہ جب تم میں سے کوئی اونگھتا ہوا نماز پڑھتا ہے تو نیند کے غلبے کی وجہ سے اسے یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے لہٰذا ہوسکتا ہے کہ وہ تو مغفرت کا طالب ہو مگر (اونگھنے کی وجہ سے) اپنے نفس کے لئے (اس کی زبان سے) بد دعا نکل جائے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
مطلب یہ کہ نیند کے غلبے اور اونگھنے کی حالت میں نماز نہ پڑھی جائے کیونکہ ایسے وقت پر نہ تو دل و دماغ حاضر رہتے ہیں اور نہ زبان ہی قابو میں ہوتی ہے یہی وجہ سے کہ ایسی حالت میں انسان کہنا کچھ چاہتا ہے مثال کے طور پر اس کو یوں سمجھئے کہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے اس پر نیند کا غلبہ ہے اور وہ اونگھ رہا ہے جس کی وجہ سے اس کے دل و دماغ اور زبان پر غفلت و سستی کا قبضہ ہے اب وہ اس حالت میں کہنا چاہتا ہے اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ۔۔۔ اے اللہ میری مغفرت فرما۔ مگر نیند کی غفلت اس کی زبان یہ الفاظ ادا کر رہی ہے۔ اَللّٰھُمَّ اعفِرْلی۔۔۔ اے اللہ مجھے خاک آلود کر دے۔ دیکھا آپ نے؟ نیند کی غفلت سے صرف ایک نقطے کے فرق نے کیا گل کھلا دیا کہاں تو اپنی مغفرت اور آخرت میں اپنی عزت و کامیابی کی دعا مانگنا چاہتا تھا اور کہاں اپنے نفس کے لئے بد دعا کے الفاظ نکال کر ذلت و خواری کا سامان کر بیٹھا، اسی لئے منع کیا جا رہا ہے کہ جب نیند کا غلبہ ہو اور اونگھ کا تسلط ہو تو ایسے وقت میں نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔
دین آسان چیز ہے اسے اپنے عمل سے سخت اور ہیبت ناک نہ بناؤ
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ الدِّےْنَ ےُسْرٌ وَّلَنْ ےُّشَآدَّ الدِّےْنَ اَحَدٌ اِلَّا غَلَبَہُ فَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا وَاَبْشِرُوْا وَاسْتَعِےْنُوا بِالْغَدْوَۃِ وَالرَّوْحَۃِ وَشَئٍ مِّنَ الْدُّلْجَۃِ۔(صحیح البخاری)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا بیشک دین آسان ہے لیکن جو آدمی دین میں سختی کرتا ہے دین اس پر غالب آجاتا ہے لہٰذا (دینی) امور میں میانہ روی اور اپنی طاقت کے مطابق عمل اختیار کرو اور جنت و سلامتی نیز اللہ رب العزت کے انعامات و اکرامات کے ساتھ خوش رہو (کیونکہ اللہ رب لعزت تو تھوڑے ہی سے عمل پر) اگر وہ مداومت اور خلوص نیت کے ساتھ ہو تو بہت زیادہ ثواب دیتا ہے اور صبح کے وقت شام کے وقت نیز کچھ رات کے آخری حصے میں بھی اللہ رب العزت سے مدد مانگو۔ (صحیح البخاری )
تشریح
اس حدیث میں صفائی کے ساتھ اعلان کیا جا رہا ہے کہ دین بہت آسان ہے انسانی مزاج و فطرت کے عین مطابق ہے اور انسان کی ذہنی، فکری، عملی قوتیں بڑے سکون کے ساتھ اس کی ہمنوا بن سکتی ہے۔ ہاں اس کا تو کوئی علاج نہیں کہ کوئی آدمی اپنی طرف سے بےجا پابندیاں عائد کر کے اعمال کی زیادتی کرے اور دین شریعت میں اپنی طرف سے باتیں بڑھا کر خود ہی اپنے اوپر مشکلات و تنگیوں کو مسلط کرے۔ چنانچہ یہاں صراحت کے ساتھ حکم دیا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چونکہ دین کے احکام بہت آسان مقرر کئے ہیں اس لئے رہبانیت کے طور پر ان احکام کو اپنے لئے سخت وہیبت ناک نہ بناؤ۔ دین اس پر غالب آجاتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی اپنے نفس پر غیر واجب باتیں واجب کرلیتا ہے اور مشکل طریقوں سے عبادت کی مشغولیت اختیار کرلینا ہے تو دین اس پر غالب آجاتا ہے یعنی وہ بعد میں دین کے حق کی ادائیگی سے عاجز ہوجاتا ہے اس طرح وہ مغلوب اور دین غالب ہوجاتا ہے۔ قَارِبُوْا کا مطلب یہ ہے کہ سہولت اور آسانیوں کے ساتھ دینی امور کے قریب ہوجاؤ اور اپنے اوپر بےجا پابندیوں کو عائد کر کے اور سختی و مشکلات میں اپنے آپ کو مبتلا کر کے دین سے بعد اختیار نہ کرو۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ قَارِبُوْا دراصل سَدِّدُوْا (یعنی میانہ روی اختیار کرو) کی تاکید ہے لہٰذا جو معنی سَدِّدُوْا کے ہیں وہی معنی قَارِبُوْا کے ہیں بعض حضرات نے اس کے معنی یہ لکھے ہیں کہ اللہ جل شانہم کا قرب ڈھونڈو۔ بہر حال حدیث کا اصل یہ ہے کہ بہت زیادہ عبادت نہ کرو کہ ہر وقت اپنے آپ کو عبادت کی محنت و مشقت ہی میں مبتلا رکھو بلکہ ان تین اوقات میں عبادت کرلینے ہی کو غنیمت جانو یعنی دن کے ابتدائی حصے میں، دن کے آخری حصے میں اور رات کے آخری حصے میں، یہ تہجد کی نماز کی طرف اشارہ ہے۔