نماز کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 11 · 527 hadiths · Page 27 of 27

1222Mishkaat-al-Masabih

رات کے بقیہ اور ادوو ظائف کودن میں پڑھ لینا چاہیے

وَعَنْ عُمَرَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ نَّامَ عَنْ حِزْبِہٖ اَوْ عَنْ شَئٍ مِنْہُ فَقَرَأَہُ فِےْمَا بَےْنَ صَلٰوۃِ الْفَجْرِ وَصَلٰوۃِ الظُّہْرِ کُتِبَ لَہُ کَاَنَّمَا قَرَاَۃُ مِنَ اللَّےْلِ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت عمر ؓ راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا (جو آدمی رات کو پورا وظیفہ پڑھے بغیر سو رہا یا وظیفہ کا کچھ حصہ پڑھنے سے رہ گیا اور پھر اس نے اس کو نماز فجر اور نماز ظہر کے درمیان پڑھ لیا تو اس کے لئے یہی لکھا جائے گا کہ گویا اس نے رات ہی کو پڑھا۔ (صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ کسی آدمی نے کلام اللہ، نماز اوراد و اذکار کی قسم سے کچھ وظیفہ مقرر کر رکھا ہے جسے وہ رات کو پڑھتا ہے مگر کسی دن وہ سوگیا اور اس کا پورا وظیفہ یا اس وظیفے کا کچھ حصہ رات کو پڑھنے سے رہ گیا اور اس نے نماز فجر اور نماز ظہر کے درمیان یعنی زوال سے پہلے پڑھ لیا تو اس کے لئے رات ہی میں پڑھنے کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ اسی طرح دن کے وظیفہ کا حکم ہے کہ اگر دن کو وظیفہ پڑھنے سے رہ گیا اور پھر اس رات کو پڑھ لیا تو اس کے لئے دن میں ہی پڑھنے کا ثواب لکھا جاتا ہے رات دن آپس میں ایک دوسرے کے خلیفے ہیں۔ حدیث میں صرف رات کے وظیفے ہی کے بارے میں اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ اکثر و بیشتر رات ہی کا وظیفہ رہ جاتا ہے یعنی نیند کے غلبے کی وجہ سے نماز تہجد اورادو اذکار فوت ہوجاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس حدیث کو اس باب میں ذکر کیا گیا ہے۔

1223Mishkaat-al-Masabih

معذوری کی حالت میں بیٹھ کر اور لیٹ کر نماز پڑھنے کا حکم

وَعَنْ عِمْرانَ بْنِ حُصَیْنٍ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم صَلِّ قَائِمًا فَاِن لَّمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا فَاِن لَّمْ تَسْتَطِعْ فَعَلٰی جَنْبٍ (صحیح البخاری)

اور حضرت عمران بن حصیبن راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا نماز کھڑے ہو کر پڑھو اور اگر (کسی عذر کی وجہ سے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے پر) قادر نہ ہو سکو تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر بیٹھ کر نماز پڑھنے پر بھی) قادر نہ ہو سکو تو (پھر) کروٹ پر پڑھو۔ (صحیح البخاری ) تشریح اگر کوئی آدمی کسی عذر شدید مثلاً سخت بیماری وغیرہ کی وجہ سے کھڑے ہو کر نماز نہ پڑھ سکتا ہو تو بیٹھ کر اپنی نماز ادا کرے اور اگر عذر اتنا شدید ہو کہ بیٹھ کر بھی قدرت سے باہر ہو تو پھر آخری مرحلہ یہ ہے کہ (لیٹے لیٹے) کروٹ سے بقبلہ ہو کر پڑھ لے پھر اس میں بھی اتنی آسانی کہ اگر کوئی آدمی قبلے کی طرف منہ نہ کرسکے یا یہ کہ کوئی آدمی ایسا پاس موجود نہ ہو جو معذور کا منہ قبلے کی طرف کرسکے تو جس طرف بھی منہ ہو ادھر ہی کی طرف پڑھ لے، ایسے موقع پر کسی بھی سمت منہ کر کے نماز پڑھ لینا جائز ہے۔ حنفیہ فرماتے ہیں کہ لیٹ کر نماز پڑھنے کے سلسلے میں افضل یہ ہے کہ رو بقبلہ ہو کر چت لیٹے کندھے کے نیچے تکیہ رکھ کر سر کو اونچا کرے اور اشاروں سے نماز پڑھے۔ چناچہ دارقطنی نے ایک حدیث نقل کی ہے کہ اس سے چت لیٹ کر ہی نماز پڑھنے کا اثبات ہوتا ہے یہاں جو حدیث ذکر کی گئی ہے اس کے بارے میں حنفیہ کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ حکم بطور خاص حضرت عمران کے لئے فرمایا تھا کیونکہ وہ بواسیر کے مرض میں مبتلا تھے اور چت نہیں لیٹ سکتے تھے لہٰذا یہ حدیث دوسروں کے لئے حجت نہیں ہوسکتی۔ آخر میں اتنی بات اور جان لیجئے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ حکم فرض نماز کے لئے ارشاد فرمایا ہے اس لئے نفل نمازوں میں یہ بطریق اولی جائز ہوگا۔

1224Mishkaat-al-Masabih

بغیر عذر بیٹھ کر نفل نماز پڑھنے والے کو آدھا ثواب ملتا ہے

وَعَنْہُ اَنَّہُ سَاَلَ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلمعَنْ صَلٰوۃِ الرَّجُلِ قَاعِدًا قَالَ اِنْ صَلّٰی قَآئِمًا فَھُوَ اَفْضَلُ وَمَنْ صَلّٰی قَاعِدًا فَلَہُ نِصْفُ اَجْرِ الْقَآئِمِ وَمَنْ صَلّٰی نَآئِمًا فَلَہُ نِصْفُ اَجْرِ الْقَاعِدِ۔ (صحیح البخاری)

اور حضرت عمران بن حصین ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا جو (کھڑے ہونے کی طاقت رکھنے کے) باوجود نفل نماز بیٹھ کر پڑھتا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بہتر تو وہی ہے جو کھڑے ہو کر نماز پڑھے لیکن جو آدمی (نفل) نماز (بغیر عذر) کے بیٹھ کر پڑھے گا تو اسے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کی بہ نسبت نصف ثواب ملے گا۔ (صحیح البخاری ) تشریح یہ حدیث نفل نماز پر محمول ہے کیونکہ فرض نماز بغیر عذر کے بیٹھ کر پڑھنا درست نہیں ہے ہاں اگر کوئی عذر ہو تو قیام ساقط ہوجاتا ہے اور معذور بیٹھ کر فرض نماز بھی پڑھ سکتا ہے۔ بہر حال حدیث کا مطلب یہ ہے کہ نفل نماز بغیر عذر کے بیٹھ کر پڑھنے والے کو نماز کا پورا ثواب نہیں ملتا بلکہ جتنا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کو ملتا ہے اس کا نصف ثواب اسے ملتا ہے ہاں اگر کوئی عذر ہو کہ کھڑے ہونے پر قادر نہ ہو تو پھر بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کو کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کی بہ نسبت آدھا ثواب نہیں ملے گا بلکہ اسے بھی پورا ثواب ملے گا۔ بغیر عذر لیٹ کر نفل نماز پڑھنی جائز ہے یا نہیں حضرت علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ جو آدمی کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر نفل نماز پڑھ سکتا ہے اور اسے قیام و قعود کی قدرت نہیں ہے تو آیا اس آدمی کے لئے نفل نماز لیٹ کر پڑھنا جائز ہے یا نہیں چناچہ بعض علماء تو کہتے ہیں کہ بغیر عذر کے لیٹ کر نفل نماز جائز نہیں۔ مگر علماء کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ بغیر عذر لیٹ کر نفل نماز پڑھنا جائز ہے۔ نیز اس جماعت کا یہ قول بھی ہے کہ بغیر عذر لیٹ کر نفل نماز پڑھنے والے کو بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کی بہ نسبت آدھا ثواب ملتا ہے جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے چناچہ حسن بصری (رح) کا قول بھی یہی ہے اور حدیث سے ثابت ہونے کی وجہ سے یہی قول صحیح تر اور اولی ہے۔ مگر حضرت امام اعظم ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ جائز نہیں ہے اور اس حدیث کے بارے میں ان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یہ حدیث فرض نماز کے بارے میں ہے کہ اگر کوئی آدمی اس درجے بیمار ہو کہ مرض کی زیادتی اور شدت کے باوجود کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر نماز پڑھنا اس کے لئے ممکن ہو تو اسے لیٹ کر نماز پڑھنے کی صورت میں بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کی بہ نسبت آدھا ثواب ملے گا۔

1225Mishkaat-al-Masabih

نیند آتے تک باوضوذ کر اللہ میں مشغولیت

وَعَنْ اَبِی اُمَامَۃَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ مَنْ اٰوٰی اِلٰی فِرَاشِہِ طَاھِرًا وَّ ذَکَرَ اﷲَ حَتّٰی یُدْرِکَہُ النُّعَاسُ لَمْ یَتَقَلَّبْ سَاعَۃً مِّنَ اللَّیْلِ یُسْأَلُ اﷲَ فِیْھَا خَیْرًا مِّنْ خَیْرِ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ اِلَّا اَعْطَاہُ اِیَّاہُ ذَکَرَ النَّوَوِیُّ فِی کِتَابِ الْاَذْکَارِ بِرِوَایَۃِ بْنِ السُّنِّیِّ۔

حضرت ابوامامہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سرور کونین ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی (وضو یا تیمم کے ذریعے نجاستوں سے یا یہ کہ گناہوں سے) پاک ہو کر اپنے بستر پر لیٹے اور نیند آنے تک (زبان سے یا دل سے) ذکر اللہ میں مشغول رہے تو وہ رات کو جب بھی اس حال میں کروٹ بدلے کہ اللہ جل شانہ سے دنیا اور آخرت کی کسی بھلائی کا سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے وہ بھلائی ضرور دیتا ہے، (یہ حدیث علامہ نووی (رح) نے کتاب الاذکار میں ابن السنی کی روایت سے نقل کی ہے۔

1226Mishkaat-al-Masabih

وہ دو خوش نصیب جن سے اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوتا ہے

وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ رَجُلَیْنِ رَجُلٌ ثَارَ عَنْ وِطَائِہٖ وَلِحَافِہٖ مِنْ بَیْنِ حِبِّہٖ وَاَھْلِہٖ اِلَی صلَاَ تِہٖ فَیَقُوْلُ اﷲُ لِمَلاَ ئکَتِہٖ اُنْظُرُوْ اِلَی عَبْدِی ثَاَرَ عَنْ فِرَاشِہِ وَوِطَائِہٖ مِنْ بَیْنِ حِبِّہٖ وَاَھْلِہٖ وَاِلٰی صَلٰوتِہٖ رَغْبَۃً فِیْمَا عِنْدِی وَشَفَقًا مِمَّا عِنْدِی وَرَجُلٌ غَزَافِی سَبِیْلِ اﷲِ فَانْھَزَمَ مَعَ اَصْحَابِہٖ فَعَلِمَ مَا عَلَیْہِ فِی الْاِنْھِزَامِ وَمَالَہُ فِی الرُّجُوْعِ فَرَجَعَ حَتّٰی ھُرَیْقَ دَمُہ، فَیَقُوْلُ اﷲُ لِمَلاَئِکَتِہٖ اُنْظُرُوْاِلَی عَبْدِی رَجَعَ رَغْبَۃً فِیْمَا عِنْدِی وَشَفَقًا مِمَّا عِنْدِی حَتَّی ہُرِیْقَ دَمْہُ۔ (رواہ فی شرح السنۃ)

اور حضرت عبدا اللہ بن مسعود راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا ہمارا رب دو آدمیوں سے بہت خوش ہوتا ہے ایک تو وہ آدمی جو رات کو اپنے نرم بستر و لحاف سے اور اپنی محبوبہ اور بیوی کے پاس سے (تہجد) کی نماز کے لئے اٹھتا ہے چناچہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے کہتا ہے میرے بندے کی طرف دیکھو جو میرے پاس کی چیزوں (یعنی جنت اور ثواب) کے شوق سے اور میرے پاس کی چیزوں (یعنی دوزخ اور عذاب) کے ڈر کی وجہ سے اپنے فرش و نرم بستر اور اپنی محبوبہ اور بیوی کو چھوڑ کر اپنی نماز پڑھنے کے لئے اٹھا۔ اور دوسرا وہ آدمی جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور (بغیر کسی شدید عذر کے) اپنے ساتھیوں سمیت میدان چھوڑ کر بھاگ نکلا، مگر جب اسے بلا عذر میدان جہاد سے بھاگ نکلنے کی سزا اور پھر جنگ میں واپس آجانے کا ثواب یاد آیا تو (میدان کار زار میں) واپس آگیا اور (اللہ کے دشمنوں سے) اس قدر لڑا کہ جام شہادت نوش کیا، چناچہ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے کہ میرے بندے کی طرف (بنظر تعجب) دیکھو جو میرے پاس کی چیزوں (یعنی جنت وثواب) کے شوق میں اور میرے پاس کی چیزوں (یعنی دوزخ و عذاب) کے خوف سے (میدان جنگ میں) لوٹ آیا اور اللہ کے راستہ میں یہاں تک لڑا کہ اپنی جان بھی دیدی۔ (شرح السنۃ) تشریح مطلب یہ ہے کہ رات کے پر سکون ماحول اور آرام میں کسی آدمی کے لئے نرم بستر، آرام دہ لحاف اور محبوب بیوی کا قرب ہی سب سے زیادہ پسندیدہ اور پیاری چیزیں ہوتی ہیں مگر اس کے باجود وہ آدمی اپنے رب کی عبادت اور اس کی جزاء و انعام کے شوق میں ان سب چیزوں کو چھوڑ دیتا ہے اور پروردگار کے حضور اپنی بندگی و عبودیت کا نذرانہ پیش کرنے لگتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ دنیا کی تمام پسندیدہ چیزیں دنیا میں تو قلب و دماغ کے سکون اور انسانی عیش و مسرت کا سامان بن سکتی ہیں مگر نہ تو یہ قبر میں نفع پہنچائیں گی اور نہ حشر میں کامیابی و سرخروئی کی ضامن ہوں گی۔ قبر اور حشر میں تو صرف پروردگار کی اطاعت اور اس کی عبادت ہی کام آئے گی اور وہی سعادت و کامیابی کی منزل سے ہم کنار کریں گی۔ اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ جل شانہ کے واسطے عبادت کرنا اور اس پر ثواب کی امید رکھنا اخلاص اور کمال کے منافی نہیں ہے اگرچہ یہ اکمل درجے کے منافی ہے کیونکہ عبادت کے سلسلے میں اکمل درجہ یہی ہے کہ عبادت محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی رضا کے لئے کی جائے اور اس سے کوئی غرض مثلاً ثواب کا حصول یا عذاب کا خوف وابستہ نہ ہو لیکن ہاں کوئی آدمی اگر عبادت محض ثواب کے واسطے یا عذاب کے خوف سے کرتا ہے تو اسے یہ نہ جان لینا چاہیے کہ اس کی یہ عبادت، عبادت نہیں صرف تضییع اوقات ہے۔

1227Mishkaat-al-Masabih

وہ دو خوش نصیب جن سے اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوتا ہے

عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ص قَالَ حُدِّثْتُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ صَلٰوۃُ الرَّجُلِ قَاعِدًا نِصْفُ الصَّلٰوۃِ قَالَ فَاَتَےْتُہُ فَوَجَدتُّہُ ےُصَلِّیْ جَالِسًا فَوَضَعْتُ ےَدِیْ عَلٰی رَاْسِہٖ فَقَالَ مَالَکَ ےَا عَبْدَاللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو ص قُلْتُ حُدِّثْتُ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِ نََّکَ قُلْتَ صَلٰوۃُ الرَّجُلِ قَاعِدًا عَلٰی نِصْفِ الصَّلٰوۃِ وَاَنْتَ تُصَلِّیْ قَاعِدًا قَالَ اَجَلْ وَلٰکِنِّیْ لَسْتُ کَاَحَدٍ مِّنْکُمْ۔(صحیح مسلم)

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں کہ مجھ سے یہ حدیث بیان کی گئی کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا (بغیر عذر) بیٹھ کر (نفل) نماز پڑھنے والے کی نماز (کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والے کے مقابلے میں آدھی ہوتی ہے حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں (ایک دن) رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا (اتفاق سے) رسول اللہ ﷺ اس وقت بیٹھ کر نماز پڑھ رہے تھے (جب نماز سے فارغ ہوئے تو) میں نے آپ ﷺ کے سر مبارک پر اپنا ہاتھ رکھا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ عبداللہ بن عمرو! کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے تو یہ بتایا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کی نماز آدھی ہوتی ہے اور اب آپ ﷺ ہی بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ایسا ہی ہے (یعنی تم نے جو کچھ سنا ہے) صحیح ہے لیکن میں تم جیسا تو نہیں ہوں۔ (صحیح مسلم) تشریح اہل عرب کی عادت ہے کہ جب کوئی آدمی کسی سے کوئی تعجب کی بات دیکھتا ہے تو اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیتا ہے اور ان کے نزدیک ایسا کرنا کوئی خلاف ادب نہیں ہے بلکہ یہ کمال محبت اور انتہائی بےتکلفی کے سبب سے ہوتا ہے چونکہ حضرت عبداللہ بن عمرو کو رسول اللہ ﷺ سے انتہا درجے کی محبت اور بےتکلفی تھی اس لئے جب آپ ﷺ نے نماز پڑھ لی تو انہوں نے بھی ازراہ تعجب اپنا ہاتھ آپ ﷺ کے سر مبارک پر رکھا اور انہیں تعجب اس بات پر ہوا کہ رسول اللہ ﷺ تو افضل بات پر عمل کیا کرتے تھے پھر آپ ﷺ نے بیٹھ کر نماز کیوں پڑھی۔ رسول اللہ ﷺ کے جواب کا حاصل یہ تھا کہ نہ تو دوسروں پر مجھے اور نہ مجھ پر دوسروں کو قیاس کرو کیونکہ یہ تو صرف میری خصوصیت ہے کہ بیٹھ کر بھی نماز پڑھتا ہوں تو میری نماز ناقص نہیں ہوتی ہے، میں چاہے جس طرح بھی نماز پڑھوں میری نماز پوری ادا ہوتی ہے۔

1228Mishkaat-al-Masabih

نماز میں راحت و سکون ہے۔

وَعَنْ سَالِمِ بْنِ اَبِیِ الْجَعْدِ قَالَ قَالَ رَجُلٌ مِّنْ خُزَاعَۃَ لَیْتَنِی صَلَّیْتُ فَاسْتَرَحْتُ فَکَاَنَّھُمْ عَابُوْا ذٰلِکَ عَلَیْہِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ اَقِمِ الصَّلٰوۃَ یَا بِلاَ لُ اَرِحْنَا بِھَا۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت سالم بن ابی الجعد فرماتے ہیں کہ (ایک دن) قبیلہء خزاعہ کا ایک آدمی کہنے لگا کہ کاش میں نماز پڑھتا اور راحت پاتا جب لوگوں نے اس کے اس کہنے کو برا سمھا تو اس نے کہا کہ میں نے سرور کونین ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ آپ ﷺ نے (حضرت بلال ؓ سے) فرمایا کہ بلال! نماز کے لئے تکبیر کہو تاکہ ہم اس کے ذریعے راحت حاصل کریں۔ (ابوداؤد) تشریح نماز کی تاثیر انسانی راحت و اطمینان اور قلبی سکون ہے جو آدمی خلوص قلب کے ساتھ نماز پڑھتا ہے اسے ایک عجیب قسم کی راحت ملتی ہے اور اس کے دل و دماغ میں سکون و اطمینان کے خزانے بھر جاتے ہیں چناچہ قبیلہء خزاعہ کے مذکورہ آدمی کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ نماز پڑھوں اور پھر اپنے پروردگار کی عبادت، اس کی مناجات اور حمد اور اس کے کلام پاک کے پڑھنے کی لذت سے راحت و سکون حاصل کروں۔ لوگوں نے اس کے کہنے کو جو برا سمجھا تو ایک وجہ تھی وہ یہ کہ اس کے قول کے دو معنی محتمل تھے اول تو یہ کہ نماز کے ذریعے راحت پاؤں دوسرے یہ کہ نماز سے راحت پاؤں یعنی نماز پڑھ کر آرام سے بیٹھ جاؤں۔ اس کی مراد تو اول معنی تھے لیکن لوگوں نے دوسرے معنی مراد لئے جو انہیں پسند نہیں تھے اس لئے اس نے لوگوں کی غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے اور مراد کو واضح کرنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد جو آپ ﷺ نے حضرت بلال سے فرمایا تھا نقل کیا کہ اے بلال تکبیر (اقامت) کہو تاکہ ہم اس کے ذریعے راحت حاصل کریں کیونکہ آپ ﷺ کے لئے تو بس اللہ کی عبادت ہی میں راحت تھی اور نماز میں مشغول رہنا ہی آپ ﷺ کے لئے آرام و سکون کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ نماز ہی کے اندر اپنے پروردگار کی بڑائی اور اپنے خالق کی مناجات و حمد بیان کی جاتی ہے کہ ایک کامل و اکمل بندے کا اپنے پروردگار کی مناجات میں مشغول رہنا ہی اس کے لئے سب سے بڑی راحت ہے اسی لئے آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ قُرَّۃُ عَیْنِی فِی الصَّلٰوۃ مجھے تو نماز (ہی) میں راحت ملتی ہے۔