عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرِ قَالَ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا سَجَدَ وَضَعَ رُکْبَتَیْہِ قَبْلَ یَدَیْہِ وَاِذَا نَھَضَ رَفَعَ یَدَیْہِ قَبْلُ رُکْبَتَیْہِ۔ (رواہ ابوداؤد و النسائی وا بن ماجۃ و الدارمی)
حضرت وائل ابن حجر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رحمت عالم ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ ﷺ سجدہ کرنے کا ارادہ کرتے تو پہلے اپنے دونوں گھٹنے (زمین پر) ٹیکتے اور پھر دونوں ہاتھ رکھتے اور جب سجدے سے اٹھنے کا ارادہ کرتے تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے پھر دونوں گھٹنے اٹھاتے۔ (ابوداؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، دارمی)
تشریح
حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ علیمہا کا مسلک بھی یہی ہے کہ سجدہ کرتے وقت پہلے دونوں گھٹنے زمین پر ٹیکنے چاہئیں اس کے بعد دونوں ہاتھ رکھے جائیں اسی طرح سجدے سے اٹھتے وقت پہلے دونوں ہاتھ اور پھر دونوں گھٹنے اٹھانے چاہئیں ابوداؤد کی ایک روایت میں یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ (سجدے سے) گھٹنوں کے بل اٹھتے تھے اور اپنے دونوں ہاتھ رانوں پر ٹیکتے تھے۔ علماء نے اعضاء سجدہ کو زمین پر رکھنے کے سلسلے میں ایک اصول متعین کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اعضاء سجدہ کو زمین پر ٹیکنا زمین کے قرب کے اعتبار سے ہے یعنی جو عضو زمین سے زیادہ قریب ہو اسے پہلے زمین پر رکھا جائے اسی ترتیب سے تمام عضو رکھے جائیں اور سجدے سے اٹھتے وقت اس کا عکس ہونا چاہئے۔ یعنی جو عضو زمین سے سے زیادہ قریب ہو اسے سب سے بعد میں اٹھانا چاہئے۔ زمین پر ناک اور پیشانی ٹیکنے کے سلسلے میں مسئلہ تو یہ ہے کہ ناک اور پیشانی یہ دونوں عضو کے حکم ہیں کہ دونوں عضو ایک ساتھ زمین پر ٹیکنے چاہئیں لیکن بعض حضرات کا قول یہ بھی ہے کہ ناک زمین سے زیادہ قریب ہے اس لئے پہلے ناک رکھی جائے اس کے بعد پیشانی ٹیکی جائے۔ علامہ شمنی (رح) نے فرمایا ہے کہ سجدے میں جاتے وقت اگر کسی عذر مثلاً موزے وغیرہ کی بناء پر گھٹنوں کو دونوں ہاتھوں سے پہلے رکھنا دشوار ہو تو پہلے دونوں ہاتھ زمین پر ٹیک لئے جائیں اس کے بعد دونوں گھٹنے رکھے جائیں
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا سَجَدَ اَحَدُکُمْ فَلَا یَبْرُکُ کَمَا یَبْرُکُ الْبَعِیْرُ وَلْیَضَعْ یَدَیْہِ قَبْلَ رُکْبَتَیْہِ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَ النَّسَائِیُّ وَالدَّارِمِیُّ قَالَ اَبُوْ سُلَیْمَانَ الْخَطَّابِیُّ حَدِیْثُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ اَثْبَتُ مِنْ ھٰذَا وَقِیْلَ ھٰذَا مَنْسُوْخٌ۔
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی جب سجدہ کرے تو وہ اونٹ کے بیٹھنے کی طرح نہ بیٹھے بلکہ اسے چاہئے کہ اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے۔ (ابوداؤد، سنن نسائی، دارمی) اور ابوسلیمان خطابی نے کہا ہے کہ حضرت وائل ابن حجر ؓ کی حدیث اس حدیث سے زیادہ (صحیح) ثابت ہے چناچہ کہا گیا ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے۔
تشریح
اونٹ کے بیٹھنے کی طرح نہ بیٹھنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اونٹ زمین پر بیٹھنے کے وقت اپنے دونوں گھٹنے زمین پر پہلے رکھتا ہے۔ اس طرح سجدہ میں جاتے وقت پہلے دونوں گھٹنے زمین پر نہ ٹیکے جائیں۔ آپ ﷺ نے اونٹ کی بیٹھک سے مشابہت دی ہے باوجود یہ کہ اونٹ بیٹھتے وقت زمین پر پاؤں رکھنے سے پہلے ہاتھ رکھتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کا گھٹنا پاؤں میں ہوتا ہے اور جانور کا گھٹنا ہاتھ میں ہوتا ہے لہٰذا جب کوئی آدمی سجدے میں جاتے وقت زمین پر پہلے گھٹنے رکھے گا تو اونٹ کے بیٹھنے سے مشابہت ہوگی۔ بہر حال۔ یہ حدیث اوپر کی حدیث کے مخالف ہے کیونکہ پہلی حدیث تو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ پہلے گھٹنے زمین پر ٹیکے جائیں اور اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے ہاتھ زمین پر رکھے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلہ میں علماء کے ہاں اختلاف ہے چناچہ جیسا کہ اوپر کی حدیث کی تشریح میں بتایا جا چکا ہے جمہور علماء حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اوپر کی حدیث پر جو حضرت وائل ابن حجر ؓ سے مروی ہے عمل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ پہلے دونوں گھٹنے زمین پر ٹیکے جائیں۔ حضرت امام مالک اور اوزاعی رحمہما اللہ تعالیٰ علیہم اور کچھ دوسرے علماء حضرت ابوہریرہ ؓ کی اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ پہلے زمین پر دونوں ہاتھ ٹیکے جائیں۔ ان دونوں احادیث کے بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی اس روایت سے حضرت وائل ابن حجر ؓ کی اوپر والی حدیث زیادہ صحیح، قوی تر اور مشہور تر ہے اور حفاظ حدیث کی ایک جماعت نے اس حدیث کو مرتبہ صحت پر پہنچا کر اسے ترجیح دی ہے اور فن حدیث کا یہ قاعدہ ہے کہ جب دو حدیثیں ایک دوسرے کے مخالف ہوتی ہیں تو عمل قوی تر اور صحیح تر پر کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض علماء نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت کو حضرت وائل کی روایت سے منسوخ قرار دیا ہے۔ نیز ایک روایت میں حضرت ابن خزیمہ سے بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سجدے میں جاتے تھے تو (سجدے کی) ابتدا گھٹنے سے کرتے تھے یعنی پہلے گھٹنوں کو زمین پر ٹیکتے تھے۔ انہی وجوہات کی طرف مولف مشکوٰۃ نے قال ابوسلیمان الخ کہہ کر اشارہ کیا ہے۔
دونوں سجدوں کے درمیان رسول اللہ ﷺ کی دعا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ بَیْنَ السَّجْدَ تَیْنِ اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِی وَارْحَمْنِی وَاھْدِنْیِ وَعَافِنِیْ وَارْزُقْنِی۔ (رواہ ابوداؤد والترمذی)
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رحمت عالم ﷺ دونوں سجدوں کے درمیان یہ کہا کرتے تھے اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِی وَارْحَمْنِی وَاھْدِنْیِ وَعَافِنِیْ وَارْزُقْنِی۔ اے اللہ مجھے بخش دے مجھ پر رحم کر، مجھے ہدایت فرما (دونوں جہاں کی بلاؤں اور امراض ظاہری و باطنی سے) مجھے محفوظ رکھ اور مجھے رزق عطا فرما۔ (ابوداؤد، جامع ترمذی )
دونوں سجدوں کے درمیان رسول اللہ ﷺ کی دعا
وَعَنْ حُذَیْفَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یَقُوْلُ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ رَبِّ اغْفِرْلِی۔ (رواہ النسائی والدارمی)
اور حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ رحمت عالم ﷺ دونوں سجدوں کے درمیان یہ کہا کرتے تھے کہ رب اغفرلی اے میرے پروردگار مجھے بخش دے۔ (سنن نسائی، دارمی)
تشریح
اس روایت کو ابن ماجہ نے بھی نقل کیا ہے مگر ان کی روایت میں یہ دعائیہ کلمات تین مرتبہ مذکور ہیں یعنی آپ ﷺ دونوں سجدوں کے درمیان یہ دعا تین مرتبہ پڑھتے تھے۔
جلدی جلدی سجدہ کرنے کی ممانعت
عَنْ عَبْدِا لرَّحْمٰنِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ نَھٰی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ نَّقْرَۃِ الْغُرَابِ وَافْتِرَاشِ السَّبُعِ وَاَنْ یُوَطِّنُ الرَّجُلُ الْمَکَانَ فِی الْمَسْجِدِ کَمَا یُوَطِّنُ الْبَعِیْرُ۔ (رواہ ابوداؤد و النسائی و الدارمی)
حضرت عبدالرحمن ابن شبل ؓ فرماتے ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نے کوے کی طرح ٹھونگ مارنے اور درندوں کی طرح (ہاتھوں کو) بچھانے سے منع فرمایا ہے اور (اس سے بھی منع فرمایا ہے کہ) کوئی آدمی مسجدوں میں جگہ مقرر کرے جیسا کہ اونٹ مقرر کرتا ہے۔ (سنن ابوداؤد، سنن نسائی، دارمی)
تشریح
اس حدیث میں تین چیزوں سے منع کیا جا رہا ہے پہلی تو یہ کہ جس طرح کوا زمین سے دانہ چگنے کے لئے جلدی جلدی چونچ زمین پر مار کر دانہ اٹھاتا ہے اس طرح سجدے سے سر جلدی جلدی نہ اٹھایا جائے۔ دوسری چیز یہ کہ جانور مثلاً کتے اور بھڑئیے وغیرہ جس طرح اپنے پہنچے زمین پر بچھا کر بیٹھتے ہیں اس طرح سجدے کے وقت پہنچے زمین پر نہ بچھا دئیے جائیں۔ تیسری چیز یہ کہ جس طرح اونٹ اپنے بیٹھنے کی ایک جگہ متعین و مقرر کرلیتا ہے کہ اس کے علاوہ دوسرا اونٹ اس جگہ نہیں بیٹھ سکتا اسی طرح مسجد میں کوئی جگہ متعین نہ کی جائے کہ اس جگہ کسی دوسرے کو نہ بیٹھنے دیا جائے کیونکہ مسجد سب کے لئے ہے جو جہاں چاہے بیٹھ سکتا ہے اپنے لئے کسی ایک جگہ کو متعین و مقرر کر کے وہاں دوسرے کو بیٹھنے سے روکنا مکروہ و ممنوع ہے۔ علامہ حلوانی (رح) لکھتے ہیں کہ ہمارے علماء کے نزدیک یہ مکروہ ہے کہ مسجد میں کسی خاص کپڑے کو اس لئے متعین کرلیا جائے کہ اس علاوہ کسی دوسرے کپڑے میں نماز پڑھی ہی نہ جائے کیونکہ اس طرح عبادت اس خاص کپڑے کے ساتھ عادت بن جاتی ہے کہ اس کے علاوہ کسی دوسرے کپڑے میں نماز پڑھنا دشواری و گرانی کا باعث بنتا ہے حالانکہ عبادت جب عادت ہوجاتی ہے تو اسے ترک کردینا چاہئے چناچہ اس وجہ سے ہمیشہ روزہ رکھنا مکروہ ہے۔ لہٰذا اس مسئلہ پر اس کو قیاس کیا جاسکتا ہے کہ مسجد میں کسی جگہ کو اپنے لئے متعین کرلینا اور اس جگہ کسی دوسرے کو بیٹھنے سے روکنا شریعت کی نظر میں کوئی مستحسن فعل نہیں ہوسکتا جب کہ اس سے مقصد بھی کوئی اچھا نہ ہو۔
دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء ممنوع ہے
وَعَنْ عَلِیٍّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَا عَلِیُّ اِنِّی اُحِبُّ لَکَ مَا اُحِبُّ لِنَفْسِی وَاَکْرَہُ لَکَ مَا اَکْرَہُ الِنَفْسِی لَا تُقْعِ بَیْنَ السَّجْدَتَیْنِ۔ (رواہ الترمذی)
اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا اے علی! جو چیز میں اپنے لئے محبوب رکھتا ہوں وہ چیز تمہارے لئے بھی محبوب رکھتا ہوں اور جو چیز اپنے لئے ناپسند کرتا ہوں وہ چیز تمہارے لئے بھی ناپسند کرتا ہوں، دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء نہ کرو۔ (جامع ترمذی )
تشریح
رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس یوں تو پورے عالم ہی کے لئے سراپا رحمت و شفقت تھی مگر آپ ﷺ اپنی امت کے لوگوں کے لئے تو بےانتہا شفیق تھے۔ آپ ﷺ کی شفقت و محبت ہی کا یہ اثر تھا کہ آپ ﷺ جس چیز کو اپنے لئے پسند فرماتے تھے۔ وہی چیز اپنی امت کے افراد کے لئے بھی پسند فرماتے تھے اور جس چیز کو اپنے لئے ناپسند سمجھتے اسے اپنی امت کے لوگوں کے لئے بھی ناپسند سمجھتے تھے۔ آپ ﷺ نے اپنے اسی جذبے کا اظہار حضرت علی المرتضیٰ سے فرمایا اور یہ ظاہر کردیا کہ چونکہ میں دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء کو اپنے لئے پسند نہیں کرتا اس لئے تمہارے اور دوسرے لوگوں کے لئے بھی مجھے یہ چیز پسند نہیں ہے اس لئے اس سے بچو۔ اقعاء کی تحقیق اقعاء کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح بیٹھا جائے کہ کو ل ہے زمین پر لگے ہوئے ہوں اور رانیں اور پنڈلیاں کھڑی ہوں اور ہاتھ زمین پر رکھے ہوں جس طرح کتا زمین پر بیٹھتا ہے۔ اقعاء کے صحیح معنی تو یہی ہیں البتہ بعض حضرات نے اس کا مطلب یہ کیا ہے کہ دونوں سجدوں کے درمیان پاؤں کے پنجوں کو کھڑا کر کے ایڑیوں پر بیٹھا جائے۔ ان کے علاوہ علماء نے اور بھی کئی معنی لکھے ہیں۔ بہر حال اقعاء کی جو بھی شکل اختیار کی جائے۔ دونوں سجدوں کی درمیان اسے اختیار کرنا متقفہ طور پر تمام علماء کے نزدیک مکروہ ہے۔
رکوع میں کمر سید ھی کرنی چاہئے۔
وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِیٍّ الْحَنَفِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَنْظُرُ اﷲُ عَزَّوَ جَلَّ اِلَی صَلَاۃِ عَبْدٍ لَا یُقِیْمُ فِیْھَا صُلْبَہُ بَیْنَ خُشُوْ عِھَا وَسُجُوْدِھَا۔ (رواہ احمد بن حنبل)
اور حضرت طلق ابن علی حنفی فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ نے فرمایا اللہ بزرگ و برتر اس بندے کی نماز کی طرف نہیں دیکھتا جو اپنی نماز کے سجود و رکوع میں اپنی کمر سیدھی نہیں کرتا۔ (مسند احمد بن حنبل)
تشریح
بارگاہ الٰہی میں وہی نماز مقبولیت کے درجے کو پہنچتی ہے جس کے تمام ارکان پوری طرح ادا کئے جاویں اگر کوئی رکن اپنے قواعد و آداب کے مطابق درست نہیں ہو تو نماز قبولیت کے درجے کو نہیں پہنچتی چناچہ رکوع و سجود چونکہ نماز کے اہم ترین رکن ہیں اس لئے ان میں اگر نقص رہ جاتا ہے تو گویا پوری نماز ناقص رہ جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ نماز اتمام و کمال کے مرتبے کو نہیں پہنچتی لہٰذا اس حدیث کے ذریعے آگاہ کیا جا رہا ہے کہ رکوع و سجود ( کو پوری) احتیاط کے ساتھ ادا کرنا چاہئے یعنی پہلے رکوع و سجود سے اٹھنے کے بعد کمر کو اچھی طرح سیدھا کرلینا چاہئے اس کے بعد دوسرا رکوع و سجدہ کیا جائے اگر ایسا نہیں کیا جائے گا پہلے رکوع و سجدہ سے اٹھ کر کمر کو سیدھی کئے بغیر دوسرے رکوع و سجدے میں جلدی جلدی جائے گا تو وہ رکوع و سجود ادا کہلانے کا مستحق نہیں ہوگا جس کا نتیجہ یہ ہوگا اس کی نماز کی طرف رب قدوس نظر بھی نہیں کرے گا یعنی اسے قبول نہیں کریگا۔
دونوں ہاتھ بھی سجدہ کرتے ہیں
وَعَنْ نَّافِعٍ اَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُوْلُ مَنْ وَضَعَ جَبْھَتَہُ بِالْاَرْضِ فَلْیَضَع کَفَّیْہِ عَلَی الَّذِی وَضَعَ عَلَیْہِ جَبْھَتَہ، ثُمَّ اِذَا رَفَعَ فَیَرْ فَعُھُمَاً فَاِنَّ الْیَدَیْنِ تَسْجُدَانِ کَمَا یَسْجُدُ الْوَجْہُ۔ (رواہ امام مالک)
اور حضرت نافع (رح) راوی ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جو آدمی اپنی پیشانی زمین پر رکھے (یعنی سجدہ کرے) تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو بھی زمین پر وہیں رکھے جہاں پیشانی رکھی ہے پھر جب (سجدہ سے) اٹھے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو بھی اٹھائے کیونکہ جس طرح چہرہ سجدہ کرتا ہے اسی طرح دونوں ہاتھ بھی سجدہ کرتے ہیں۔ (مالک)
تشریح
نمازی جب سجدے میں جاتا ہے تو صرف اس کی پیشانی اور ناک ہی سجدے میں نہیں جاتیں بلکہ اس کا ہر عضو بارگاہ الٰہی میں جھکتا ہے اور سجدہ کرتا ہے اسی لئے فرمایا جا رہا ہے کہ سجدے کے وقت ہاتھوں کو بھی زمین پر پیشانی رکھنے کی جگہ یعنی پیشانی کے برابر رکھنی چاہئیے تاکہ ہاتھوں کا سجدہ بھی پورا ہوجائے۔ سجدے میں دونوں ہاتھ کہاں رکھے جائیں؟ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ سجدے میں دونوں ہاتھوں کو پیشانی کے برابر رکھا جائے۔ چناچہ حنفیہ کا مختار مسلک بھی یہ ہے شوافع کا مختار مسلک یہ ہے کہ سجدے میں دونوں ہاتھ کندھوں کے برابر رکھے جائیں۔ حدیث کے الفاظ فلیضع کفیہ علی الذی الخ کا مطب صحیح طور پر یہی ہے کہ دونوں ہاتھ پیشانی کے برابر رکھے جائیں لیکن اس کے یہ معنی بھی مراد لئے جاسکتے ہیں کہ دونوں ہاتھوں کو بھی زمین پر اسی طرح رکھے جس طرح پیشانی رکھی ہے یعنی قبلہ رخ رکھے۔ وا اللہ اعلم۔
شہادت کے معنی گواہی دینا اور ایسی سچی خبر دینا کہ اس میں دل و زبان کے ساتھ ہو یعنی جو خبر زبان سے دی جائے وہی دل میں بھی ہو۔ تشہد کہتے ہیں گواہ ہونے کو اور اس علم کے اظہار کرنے کو جو دل میں ہے۔ اصطلاح شریعت میں تشہد اشھد ان لا الہ الا اللہ واشد ان محمد الرسول اللہ کو اور اس ذکر کو جو قعدہ نماز میں پڑھا جاتا ہے کہتے ہیں۔ گویا التحیات کو تشہد اسی لئے کہا گیا ہے کہ اس میں شہادتین کا کلمہ بھی پڑھا جاتا ہے
التحیات میں ہاتھوں کو رکھنے کا طریقہ
عَنِ ابْنِ عُمَرَص قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا قَعَدَ فِی التَّشَھُّدِ وَضَعَ ےَدَہُ الْےُسْرٰی عَلٰی رُکْبَتِہِ الْےُسْرٰی وَوَضَعَ ےَدَہُ الْےُمْنٰی عَلٰی رُکْبَتِہِ الْےُمْنٰی وَعَقَدَ ثَلٰثَۃً وَّخَمْسِےْنَ وَاَشَارَ بِالسَّبَابَۃِ وَفِیْ رِوَاےَۃٍ کَانَ اِذَا جَلَسَ فِی الصَّلٰوۃِ وَضَعَ ےَدَےْہِ عَلٰی رُکْبَتَےْہِ وَرَفَعَ اِصْبَعَہُ الْےُمْنٰی الَّتِیْ تَلِی الْاِبْھَامَ ےَدْعُوْ بِھَا وَےَدَہُ الْےُسْرٰی عَلٰی رُکْبَتِہٖ بَاسِطَھَا عَلَےْھَا۔ (صحیح مسلم)
حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کائنات ﷺ تشہد (یعنی التحیات) میں بیٹھتے تو اپنا بایاں ہاتھ اپنے بائیں گھٹنے پر رکھتے اور اپنا داہنا ہاتھ اپنے داہنے گھٹنے پر رکھتے تھے اور اپنا (داہنا) ہاتھ مثل عدد تریپن کے بند کر کے شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے تھے۔ اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ جب آپ ﷺ نماز ( کے قعدہ) میں بیٹھتے تو دونوں ہاتھوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھ لیتے تھے اور داہنے ہاتھ کی اس انگلی کو جو انگوٹھے کے قریب ہے۔ (یعنی شہادت کی انگلی کو) اٹھاتے اور اس کے ساتھ دعا مانگتے (یعنی) اس کو اٹھا کر اشارہ وحدانیت کرتے) اور بایاں ہاتھ اپنے زانو پر کھلا ہوا رکھتے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مثل عد ترپین کا مطلب یہ ہے کہ اہل حساب گنتی کے وقت انگلیوں کو جس طرح بند کرتے جاتے ہیں کہ انہوں نے ہر انگلی کو ایک عدد متعین کے لئے مقرر کیا ہوا ہے کہ انہیں اکائیوں کے لئے یہاں رکھا جائے اور دہائی، سینکڑہ اور ہزار کے لئے فلاں فلاں جگہ۔ لہٰذا راوی کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شہادت کی انگلی کو اشارے کے لئے اٹھاتے وقت بقیہ انگلیوں کو اس طرح بند کیا جس طرح تریپن کے عدد کے لئے انگلیوں کو بند کرتے ہیں اور صورت اس کی یہ ہوتی ہے کہ چھنگلیا، اس کے قریب والی انگلی اور بیچ کی انگلی کو بند کرلیا جائے۔ شہادت کی انگلی کھلی رکھی جائے اور انگوٹھے کے سرے کو شہادت کی انگلی کی جڑ میں رکھا جائے۔ یہ عدد تریپن (٥٣) کہلاتا ہے۔ چناچہ حضرت امام شافعی اور ایک روایت کے مطابق حضرت امام احمد نے اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے اسی طریقے کو اختیار کیا ہے۔ حنفیہ کے نزدیک شہادت کی انگلی اٹھانے کا طریقہ ابھی آپ نے عدد تریپن کی وضاحت پڑھی اسی طرح ایک عدد تسعین (٩٠) ہوتا ہے اس کی شکل یہ ہوتی ہے کہ چھنگلیا اور اس کے قریب والی انگلی کو بند کرلیا جائے اور شہادت کی انگلی کو کھول دیا جائے اور انگوٹھے کا سرا بیچ کی انگلی کے سرے پر رکھ کر حلقہ کی شکل دے دی جائے۔ حضرت امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ شہادت کی انگلی اٹھانے کے لئے یہی طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔ اور حضرت امام احمد کا ایک قول بھی یہی ہے نیز حضرت امام شافعی کا قول قدیم بھی یہی ہے اور یہی طریقہ آگے آنے والی صحیح مسلم کی روایت سے بھی ثابت ہے جو حضرت عبداللہ ابن زبیر سے مروی ہے، اسی طرح احمد، و ابوداؤد نے بھی حضرت وائل ابن حجر سے نقل کیا ہے۔ حضرت امام مالک کا مسلک یہ ہے کہ داہنے ہاتھ کی تمام انگلیاں بند کرلی جائیں اور شہادت کی انگلی کھلی رکھی جائے۔ بعض احادیث میں انگلیوں کو بند کئے بغیر شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنا بھی ثابت ہے چناچہ بعض حنفی علماء کا کا مختار مسلک یہی ہے اور معلوم ایسا ہوتا ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ کا عمل بھی مختلف رہا ہوگا کہ آپ ﷺ کبھی تو اشارہ بغیر عقد کے کرتے ہوں گے اور کبھی عقد کے ساتھ کرتے ہوں گے۔ اسی بنا پر ان مختلف احادیث کی توجیہ کہ جن سے یہ دونوں طریقے ثابت ہوتے ہیں یہی کی جاتی ہے۔ ماوراء النھر (یعنی بخارا و سمر قند وغیرہ) اور ہندوستان ( ممکن ہے کہ صاحب مظاہر حق علامہ نواب قطب الدین کے زمانے میں عمل عقد و اشارت کے ترک کے قائل ہوں مگر اب تو سب حنفی اس کے قائل ہیں) کے حنفیہ نے اس عمل عقد و اشارت (یعنی داہنے ہاتھ کی انگلیوں کو بند کر کے شہادت کی انگلی کو اٹھانے) کو ترک کیا ہے، گو متقدمین کے ہاں یہ عمل جاری تھا مگر متأخرین نے اس میں اختلاف کیا ہے لیکن حرمین اور عرب کے دوسرے شہروں کے علماء کے نزدیک مختار مسلک عمل عقد و اشارت کرنا ہی ہے۔ علامہ شیخ ابن الہمام (رح) نے جن کا شمار محققین حنفیہ میں ہوتا ہے فرمایا ہے کہ اول تشہد (التحیات) میں شہادتین تک تو ہاتھ کھلا رکھنا چاہئے اور تہلیل کے وقت انگلیوں کو بند کرلینا چاہئے نیز (شہادت کی انگلی سے) اشارہ کرنا چاہئے۔ موصوف لکھتے ہیں کہ اشارہ کرنے کو منع کرنا روایت اور درایت کے خلاف ہے۔ محیط میں مذکور ہے کہ دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی کو اٹھانا حضرت امام ابوحنیفہ اور حضرت امام محمد رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کے نزدیک سنت ہے اور حضرت امام ابویوسف (رح) سے بھی اسی طرح ثابت ہیے۔ علامہ نجم الدین زاہدی (رح) فرماتے ہیں کہ ہمارے علماء کا متفقہ طور پر یہ قول ہے کہ عمل اشارت سنت ہے۔ لہٰذا جب صحابہ کرام تابعین، ائمہ دین، محدثین عظام، فقہائے امت اور علمائے کوفہ و مدینہ سب ہی کا مذہب و مسلک یہ ہے کہ التحیات میں شہادتین کے وقت دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی کو اٹھانا یعنی اشارہ وحدانیت کرنا چاہئے اور یہ کہ اس کے ثبوت میں بہت زیادہ احادیث اور اقوال صحابہ وارد ہیں تو پھر اس پر عمل کرنا ہی اولیٰ و ارجح ہوگا۔ اشارہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جب کلمہ شہادت پر پہنچے تو شافعیہ کے نزدیک الا اللہ کہتے وقت شہادت کی انگلی اٹھالی جائے اور حنفیہ کے نزدیک جس وقت لا الہ کہے تو انگلی اٹھائے اور جب الا اللہ کہے تو انگلی رکھ دے۔ اس سلسلہ میں اتنی بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ انگلی سے اوپر کی جانب اشارہ نہ کیا جائے تاکہ جہت کا وہم پیدا نہ ہوجائے۔ حدیث کے الفاظ یدعوبھا) (اس کے ساتھ دعا مانگتے) کا مطلب یہی ہے کہ آپ ﷺ شہادت کی انگلی اٹھا کر اشارہ وحدانیت کرتے جس کی طرف ترجمہ میں یہ بھی اشارہ کردیا گیا ہے یا پھر دعا سے مراد ذکر ہے کو دعا بھی کہتے ہیں کیونکہ ذکر کرنے والا بھی مستحق انعام و اکرام ہوتا ہے۔ حدیث کے آخری جملے بایاں ہاتھ اپنے زانو پر کھلا ہوا رکھتے تھے کا مطلب یہ ہے کہ بائیں ہاتھ کو زانو کے قریب یعنی ران پر کھلا ہوا قبلہ رخ رکھتے تھے۔
التحیات میں ہاتھوں کو رکھنے کا طریقہ
وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ الزُّبَےْرِرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلماِذَا قَعَدَ ےَدْعُوْا وَضَعَ ےَدَہُ الْےُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْےُمْنٰی وَےَدَہُ الْےُسْرٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْےُسْرٰی وَاَشَارَ بِاِصْبَعِہِ السَّبَّابَۃِ وَوَضَعَ اِبْھَامَہُ عَلٰی اِصْبَعِہِ الْوُسْطٰی وَےُلْقِمُ کَفَّہُ الْےُسْرٰی رُکْبَتَہُ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کائنات ﷺ جب (نماز میں التحیات پڑھنے کے لئے) بیٹھتے تو اپنے دائیں ہاتھ کو اپنی دائیں ران پر اور اپنے بائیں ہاتھ کو اپنی بائیں ران پر رکھتے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے تھے اور اپنے انگوٹھے کو اپنی بیچ کی انگلی پر رکھتے (یعنی اس طرح حلقہ بنا لیتے تھے) آپ ﷺ (کبھی) اپنے بائیں ہاتھ سے بایاں گھٹنا پکڑ لیتے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
جیسا کہ ابھی پہلے بتایا جا چکا ہے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا مسلک یہ ہے کہ التحیات میں کلمہ شہادت پڑھتے وقت دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی اٹھاتے وقت یہی طریقہ اختیار کرنا چاہئے کہ چھنگلیاں اور اس کے قریب والی انگلی کو بند کرلیا جائے اور انگوٹھے کے سرے کو بیچ کی انگلی کے سرے پر رکھ کے حلقہ بنا لیا جائے اور شہادت کی انگلی اٹھالی جائے۔ حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک التحیات پڑھنے کے لئے بیٹھتے وقت ہی اس طرح حلقہ بنا لینا چاہئے لیکن حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک یہ حلقہ انگلی اٹھاتے وقت ہی بنانا چاہئے۔
التحیات میں ہاتھوں کو رکھنے کا طریقہ
وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ص قَالَ کُنَّا اِذَا صَلَّےْنَا مَعَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قُلْنَا السَّلَامُ عَلَی اللّٰہِ قِبَلَ عِبَادِہِ السَّلَامُ عَلٰی جِبْرَئِےْلَ السَّلَامُ عَلٰی مِےْکَآئِےْلَ السَّلَامُ عَلٰی فُلَانٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اَقْبَلَ عَلَےْنَا بِوَجْھِہٖ قَالَ لَا تَقُوْلُوا السَّلَامُ عَلَی اللّٰہِ فَاِنَّ اللّٰہَ ھُوَ السَّلَامُ فَاِذَا جَلَسَ اَحَدُکُمْ فِی الصَّلٰوۃِ فَلْےَقُلْ التَّحِےَّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّےِّبٰتُ اَلسَّلَامُ عَلَےْکَ اَےُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ اَلسَّلَامُ عَلَےْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصّٰلِحِےْنَ فَاِنَّہُ اِذَا قَالَ ذَالِکَ اَصَابَ کُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِی السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ ثُمَّ لِےَتَخَےَّرْ مِنَ الدُّعَآءِ اَعْجَبَہُ اِلَےْہِ فَےَدْعُوْہُ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جب ہم سرور کائنات ﷺ کے ہمراہ نماز پڑھتے تو (قعدہ میں التحیات کی بجائے) یہ پڑھا کرتے تھے۔ السلام علی اللہ قبل عبادہ السلام علی جبرائیل السلام علی میکائیل السلام علی فلان اللہ پر سلام ہے، میکائیل پر سلام ہے اس کے بندوں پر سلام بھیجے سے پہلے جبرائیل پر سلام ہے اور فلاں (یعنی فرشتوں میں سے کسی فرشتے پر یا انبیاء میں سے کسی نبی پر سلام ہے۔ چناچہ (ایک دن) جب رسول اللہ ﷺ (نماز پڑھ کر) فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اللہ پر سلام نہ کہو کیونکہ اللہ تعالیٰ (تو خود) سلام ہے یعنی پروردگار کی ذات تمام آفات و نقصانات سے محفوظ وسالم ہے وہ بندوں کو تمام ظاہری و باطنی آفات و نقصانات سے سلامتی دیتا ہے اور چونکہ اس کے لئے اور اس کی طرف سے سلامتی ثابت ہے اس لئے سلامتی کے لئے دعا تو اس کے لئے کرنی چاہئے جس کو نقصانات و آفات کا خوف ہو اور جو اس کی سلامتی کا محتاج ہو لہٰذا جب تم میں سے کوئی نماز (کے قعدہ) میں بیٹھے تو یہ کہے التحیات اللہ والصلوات والطیبات اسلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ وبرکا تہ السلام علینا و علی عباد اللہ الصالحین سب تعریفیں اور بدنی عبادتیں (یعنی نماز وغیرہ اور مالی عبادتیں (یعنی زکوٰۃ وغیرہ) اللہ ہی کے لئے ہے۔ اے نبی ﷺ تم پر سلام اور اللہ کی برکتیں ہوں۔ ہم پر بھی سلام اور اللہ کے سب نیک بندوں پر سلام۔ آپ ﷺ نے فرمایا جو آدمی ان کلمات کو کہتا ہے تو اس کی برکت زمین و آسمان کے ہر نیک بندے کو پہنچتی ہے۔ (اس کے بعد آپ ﷺ نے ان کلمات کو شہادتین پر ختم فرمایا جو تمام اعمال کی اصل اور خلاصہ ہے۔ چناچہ فرمایا۔ اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ و رسولہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔ پھر فرمایا اس کے بعد بندے کو جو دعا اچھی لگے اسے اختیار کرے اور اللہ کے سامنے دست سوال دراز کرے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
ابن ملک (رح) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کو معراج حاصل ہوئی اور آپ ﷺ بارگاہ الٰہی میں باریاب ہوئے تو اللہ جل شانہ کی تعریف میں آپ ﷺ یہ کلمات زبان سے ادا فرمائے التحیات اللہ والصلوات والطیبات۔ تمام تعریفیں اور مالی و بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔ اس کے جواب میں بارگاہ الوہیت سے فرمایا گیا۔ السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اے نبی تم پر سلام اور اللہ کی برکتیں و رحمتیں!۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ علینا وعلی عباد اللہ الصالحین۔ ہم پر بھی سلام اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلام۔ تب جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا۔ اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ و رسول۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ بہر حال السلام علینا و علی عباد اللہ الصالحیں میں نیک بندوں کی قید لگا کر اس طرف اشارہ کردیا گیا ہے کہ بدبخت و بدکار بندوں پر سلام بھیجنا یا ان کو سلام کہنا مناسب نہیں ہے۔ اس کی سعادت کے حقدار اور لائق تو وہی بندے ہیں جو اپنے عقیدہ و فکر اور اعمال و کردار کے اعتبار سے اللہ اور اللہ کے رسول کی نظر میں پسندیدہ ہیں جنہیں صالح کہا جاتا ہے اور بندہ صالح وہی ہے جو حقوق اللہ و حقوق العباد دونوں کی رعایت کو مد نظر رکھتا ہے اور دونوں کو پورا کرتا ہے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) نے فرمایا ہے کہ صالح دراصل اس حالت کا نام ہے جس میں بندے کے ذاتی و نفسانی ارادے و خواہشات موت کے گھاٹ اتر جائیں اور اللہ تعالیٰ کی مراد و مقصد پر قائم رہے (جس کی وجہ سے وہ بند صالح کہلانے کا مستحق ہو) لہٰذا بندے کو چاہئے کہ وہ پروردگار کی رضا و خواہش پر اس کیفیت کے ساتھ راضی اور اپنے تمام امور کو خداوندعالم کی طرف اس طرح سوپنے والا ہوجائے جیسا کہ نومولود بچہ دایہ کے ہاتھ میں یا میت نہلانے والوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ جب بندہ اس مرتبے پر پہنچ جاتا ہے اور اس کا جذبہ بندگی و اطاعت اس قدر لطیف و پاکیزہ ہوجاتا ہے تو وہ یقینی طور پر تمام دنیاوی و جسمانی اور نفسانی آفات اور بلاؤں سے محفوظ و مامون رہتا ہے۔ آخر میں۔ اتنی بات اور سمجھتے چلے کہ التحیات کو دونوں قعدوں میں پڑھنا چاہئے اور یہ کہ درمیان کا قعدہ (یعنی جب دو رکعتوں کے بعد بیٹھتے ہیں) واجب ہے اور آخری قعدہ (جس میں سلام پھیرا جاتا ہے) فرض ہے۔
التحیات میں ہاتھوں کو رکھنے کا طریقہ
وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےُعَلِّمُنَا التَّشَھُّدَ کَمَا ےُعَلِّمُنَا السُّوْرَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ فَکَانَ ےَقُوْلُ التَّحِےَّاتُ الْمُبَارَکَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّےِّبٰتُ لِلّٰہِ السَّلَامُ عَلَےْکَ اَےُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ اَلسَّلَامُ عَلَےْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِےْنَ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ- (رَوَاہُ مُسْلِم) وَلَمْ اَجِدْ فِی الصَّحِیْحَیْنَ وَلَا فِی الْجَمْعِ بَیْنَ الصَّحِیْحَیْنَ سَلَامٌ عَلَیْکَ وَسَلَامٌ عَلَیْنَا بِغَیْرِ اَلْفٍ وَلَامٍ وَلٰکِنْ رَوَاہُ صَاحِبُ الْجَا مِعِ عَنِ التِّرمِذِیِّ۔
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کائنات ﷺ جس طرح ہمیں قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے اسی طرح تشہد سکھایا کرتے تھے چناچہ کہا کرتے تھے التَّحِیاتُ الْمُبَارَکَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّیبٰتُ لِلّٰہِ السَّلَامُ عَلَیکَ اَیھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہ اَلسَّلَامُ عَلَینَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِینَ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہ تمام بابرکت تعریفیں اور تمام مالی و بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی ﷺ! تم پر سلام اور اللہ کی برکت و رحمتیں ہم پر بھی سلام اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ (صحیح مسلم) اور مولف مشکوٰۃ فرماتے ہیں کہ میں نے نہ تو صحیحین (یعنی صحیح البخاری و صحیح مسلم میں) اور نہ جمع بین صحیحین میں لفظ سلام علیک اور سلام علینا بغیر الف لام کے پایا ہے البتہ اس طرح اس کو صاحب جامع الاصول نے جامع ترمذی (کے حوالہ) سے نقل کیا ہے۔
تشریح
اس روایت میں حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے تشہد یعنی التحیات کے جو الفاظ نقل کئے گئے ہیں اس پر حضرات شافعیہ عمل کرتے ہیں اور التحیات میں انہی الفاظ کو پڑھتے ہیں لیکن حنفیہ حضرات کے ہاں حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کے روایت کردہ تشہد کے الفاظ پر جو اس سے پہلی روایت میں گذرے ہیں عمل کیا جاتا ہے۔ حضرت عبدا اللہ ابن مسعود ؓ کے روایت کردہ تشہد کے بارے میں محدثین صراحت کرتے ہیں کہ یہ صحیح تر ہے۔ چنانچہ حضرت علامہ ابن حجر شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ تشہد کے سلسلے میں جتنی احادیث مروی ہیں ان سب میں سے حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کی روایت کردہ حدیث سب سے زیادہ صحیح تر ہے۔ حضرت امام احمد بن حنبل (رح) بھی عبداللہ ابن مسعود ؓ کی حدیث پر عمل کرتے ہیں اور صحابہ وتابعین میں سے اکثر اہل علم کا معمول بھی انہیں کی حدیث کے مطابق تھا۔ پھر یہ کہ خود رسول اللہ ﷺ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ ﷺ نے عبداللہ ابن مسعود ؓ کی روایت کردہ تشہد کے لئے حکم فرمایا تھا کہ اسے لوگوں کو سکھایا جائے، چناچہ مسند امام احمد ابن حنبل میں منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابن مسعود کو ؓ کو حکم دیا تھا کہ وہ اسی تشہد کو لوگوں کو سکھائیں۔ ایک دوسری روایت میں مذکور ہے کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور آپ ﷺ جس طرح مجھے قرآن کی تعلیم دیتے تھے اسی طرح آپ ﷺ نے مجھے تشہد سکھایا۔ پھر حضرت عبداللہ ابن مسعود اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی روایتوں میں یہ بھی بڑا فرق ہے کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کی روایت کو تو بخاری و مسلم دونوں نے نقل کیا ہے جبکہ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت کو صرف مسلم نے نقل کیا ہے۔ حضرت امام مالک (رح) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ نے وہ تشہد اختیار فرمایا ہے جو حضرت عمر ؓ سے منقول ہے یعنی التحیات للہ الذاکیات للہ الطیبات للہ السلام علیک ایھا النبی الخ۔ بہر حال علماء لکھتے ہیں کہ یہ پوری بحث صرف اولیت وا فضیلت سے متعلق ہے یعنی حضرت امام اعظم (رح) کے نزدیک حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے مروی تشہد پڑھنا افضل ہے اور حضرت امام شافعی (رح) کے ہاں حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے مروی تشہد پڑھنا افضل ہے۔ لیکن جہاں تک جواز کا سوال ہے تو مسئلہ یہ ہے کہ ان میں سے جو تشہد بھی چاہے پڑھ لیا جائے جائز ہوگا۔ روایت کے آخری الفاظ ولم اجد (الخ) سے دراصل مولف مشکوٰۃ، صاحب مصابیح پر ایک اعتراض کر رہے ہیں وہ کہ یہ صاحب مصابیح نے عبداللہ ابن عباس ؓ سے مروی تشہد میں سلام علیک اور سلام علینا کو بغیر الف لام کے ذکر کیا ہے۔ حالانکہ اس طرح یہ روایت صحیح البخاری و صحیح مسلم میں منقول نہیں لہٰذا صاحب مصابیح کا اس روایت کو پہلی فصل میں ذکر کرنا صحیح نہیں ہے۔ وا اللہ اعلم۔
اشارہ کے وقت شہادت کی انگلی کو متحرک رکھنا
وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ عَنْ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَہُ الْیُسْرٰی وَوَضَعَ یَدَہُ الْیُسْرٰی عَلٰی فَخِذِہ الْیُسْرٰی وَحَدَّ مِرْفَقَہُ الْیُمْنٰی عَلٰی فَخِذِہِ الْیُمْنٰی وَقَبَضَ ثِنْتَیْنِ وَحَلَقَ حَلْقَۃً ثُمَّ رَفَعَ اِصْبَعَہُ فَرَاَیْتُہُ یُحَرِّ کُھَا یَدْعُوْبِھَا۔ (رواہ ابوداؤد و الدارمی)
اور حضرت وائل ابن حجر ؓ فرماتے ہیں کہ پھر سرور کائنات ﷺ (سجدے سے سر اٹھا کر اس طرح) بیٹھے (کہ) اپنا بایاں پاؤں تو بچھا لیا اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھا اور دائیں ران پر دائیں کہنی الگ رکھی (یعنی کہنی کو ران پر رکھتے وقت اسے پہلو سے نہیں ملایا) اور دونوں انگلیاں (یعنی چھنگلیا اور اس کے قریب والی انگلی) بند کر کے (حنفیہ کے مسلک کے مطابق درمیان والی انگلی اور انگوٹھے کا) حلقہ بنایا پھر آپ ﷺ نے شہادت کی انگلی اٹھائی اور میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ اس انگلی کو حرکت دیتے تھے اور اس سے اشارہ (توحید) کرتے تھے۔ (سنن ابوداؤد، دارمی)
تشریح
یہ حدیث ایک مسلسل حدیث کا ٹکڑا ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کی تمام نماز کی تفصیل ذکر کی گئی ہے چونکہ اس موقع پر موضوع کی رعایت کے پیش نظر جلسہ کی کیفیت ذکر کرنی مقصود تھی اس لئے ثم جلس سے اس ٹکڑے کو ذکر کیا گیا ہے۔ اس حدیث سے معلوم یہ ہوتا ہے کہ شہادت کی انگلی کو اٹھا کر اسے متحرک رکھنا چاہئے چناچہ حضرت امام مالک (رح) کا مسلک یہی ہے کہ اشارہ کے وقت انگلی کو ہلاتے رہنا چاہئے مگر حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے ہاں انگلی کو متحرک نہیں رکھنا چاہئے کیونکہ اس کے بعد کی حدیث نے لا یتحرکھا کہہ کر صراحت کے ساتھ اس فعل سے منع کردیا ہے۔ جہاں تک اس حدیث کے الفاظ کا تعلق ہے تو کہا جائے گا کہ یہاں یتحرکھا یعنی حرکت دینے سے مراد انگلی کا اٹھانا ہی ہے کیونکہ انگلی کو اٹھانے میں بھی بہر حال حرکت ہوتی ہے اس توجیہ سے اس حدیث میں اور ما بعد کی حدیث میں تطبیق بھی ہوجائے گی۔
اشارے کے وقت انگلی کو متحرک نہ رکھنا چاہئے
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم یُشِیْرُ بِاِ صْبَعِہِ اِذَا دَعَا وَلَا یُحَرِّ کُھَا رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَالنَّسَائِیُّ وَزَادَ اَبُوْدَاؤدَ وَلَایُجَاوِ زُبَصَرُہ، اِشَارَتَہ،۔
اور حضرت عبداللہ ابن زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کائنات ﷺ جب (قعدے میں) دعا کرتے (یعنی کلمہ شہادت پڑھتے تھے) تو اپنی انگلی سے اشارہ کرتے تھے لیکن اس کو ہلاتے نہ تھے (ابوداؤد سنن نسائی) اور ابوداؤد نے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ اور آپ ﷺ کی نظر اشارے ( والی انگلی) سے تجازو نہ کرتی تھی۔
تشریح
ابوداؤد کے روایت کردہ آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ انگلی اٹھانے کے وقت آپ ﷺ کی نظر انگلی ہی پر رہتی تھی دوسری طرف نہیں دیکھتے تھے تاکہ خیالات کی رو دوسری طرف نہ جائے بلکہ مضمون توحید دل میں رہے اور خشوع و خضوع حاصل رہے۔
اشارہ صرف ایک انگلی سے کرنا چاہئے
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ اِنَّ رَجُلًا کَانَ یَدْ عُوْبِاِصْبَعَیْہِ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَحِّدْ اَحِّدْ۔(الترمذی والنسائی و البیہقی فی الداعوات الکبیر)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی تشہد میں (شہادت کی) دونوں انگلیوں سے اشارہ کرتا تھا چناچہ سرور کائنات ﷺ نے اس سے فرمایا کہ ایک انگلی سے اشارہ کرو۔ ایک ہی انگلی سے اشارہ کرو۔ (جامع ترمذی، سنن نسائی، بیہقی)
تشریح
جیسا کہ ابوداؤد و نسائی نے صراحت کی ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص ؓ قعدہ میں کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے دونوں ہاتھوں کی شہادت کی انگلیوں سے اشارہ وحدانیت کرتے تھے جب رسول اللہ ﷺ نے یہ دیکھا تو انہیں اس طریقہ سے منع فرمایا اور انہیں حکم دیا کہ قاعدہ کے مطابق صرف ایک ہی انگلی یعنی داہنے ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے اشارہ کرو۔
قعدہ میں ہاتھوں پر ٹیک لگا کر نہیں بیٹھنا چاہئے
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَھٰی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ یَجْلِسَ الرَّجُلُ فِی الصَّلَاۃَ وَھُوَ مُعْتَمِدٌ عَلٰی یَدِہٖ رَوَاہُ اَحْمَدُ وَاَبُوْدَاؤدَ فِیْ رِوَایَۃٍ لَہ، نَھٰی اَنْ یَعْتَمِدَ الرَّجُلُ عَلٰی یَدَیْہِ اِذَا نَھَضَ فِی الصَّلَاۃِ۔
اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی نماز میں اپنے ہاتھ پر ٹیک لگا کر بیٹھے (مسند احمد بن حنبل، ابوداؤد) اور ابوداؤد کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے بھی منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی نماز میں اٹھتے ہوئے ہاتھوں پر سہارا دے۔
تشریح
حدیث کے پہلے جزء کا مطلب تو یہ ہے کہ جب کوئی آدمی قعدے میں بیٹھے یا قعدہ سے کھڑا ہونے لگے تو اسے چاہئے کہ ہاتھ پر ٹیک نہ لگائے۔ دوسرے جزء کا مطلب یہ ہے کہ سجدے وغیرہ سے اٹھتے وقت بھی ہاتھوں کا سہارا نہ لیا جائے یعنی ہاتھوں کو زمین پر ٹیکے بغیر گھٹنے کی طاقت سے اٹھا جائے چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا عمل اسی حدیث پر ہے۔ حضرت امام شافعی (رح) کے ہاں ہاتھوں کو زمین پر ٹیک کر ہی سجدے وغیرہ سے اٹھتے ہیں۔ ان کی مستدل وہ حدیث ہے جس سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سجدے وغیرہ سے اٹھتے وقت ہاتھوں کو زمین پر ٹیکا تھا حنفیہ اس حدیث کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ عمل ضعف اور کبر سنی پر محمول ہوگا کہ اس وقت چونکہ ضعف و کمزوری کی وجہ سے آپ ﷺ کے لئے بغیر ہاتھوں کو ٹیکے ہوئے اٹھنا ممکن نہیں تھا اس لئے آپ ﷺ ہاتھوں کو سہارا دے کر اٹھے ورنہ آپ ﷺ بغیر عذر ہاتھوں کو زمین پر ٹیک کر نہیں اٹھتے تھے۔
عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم فِیْ الرَکْعَتَیْنِ الْاُوْلَیَیْنِ کَاَنَہ، عَلَی الرَّضْفِ حَتّٰی یَقُوْمَ۔ (رواہ الترمذی وابوداؤد و النسائی)
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کائنات ﷺ پہلی دو رکعتوں میں (یعنی پہلے قعدے میں) تشہد کے لئے اس قدر بیٹھتے تھے گویا آپ ﷺ گرم پتھر پر بیٹھے ہیں اور (جلد ہی) کھڑے ہوجاتے تھے۔ (جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، سنن نسائی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جس طرح کوئی آدمی گرم پتھر پر زیادہ دیر تک نہیں بیٹھ سکتا بلکہ جلد ہی اٹھ کھڑا ہوتا ہے اسی طرح آپ ﷺ پہلے قعدے میں چونکہ صرف التحیات پڑھتے تھے دیگر دعا و درود وغیرہ نہیں پڑھتے تھے اس لئے التحیات پڑھتے ہی کھڑے ہوجاتے تھے اس کے برعکس آخری قعدہ میں چونکہ التحیات کے ساتھ درود اور دوسری دعائیں بھی پڑھی جاتی ہیں اس لئے اس میں بیٹھنے کی مقدار پہلے قعدے میں بیٹھنے کی مقدار سے زیادہ ہوتی تھی۔
عَنْ جَابِرٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُعَلِّمُنَا التَّشَھُّدَ کَمَا یُعَلِّمُنَا السُّوْرَۃَ مِنَ الْقُرْآنِ بِسْمِ اﷲِ وَ بِاﷲِ التَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ الصَّلٰواتُ الطَّیِّبَاتُ اَسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اﷲِ وَ بَرَکَاتُہ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اﷲِ الصَّالِحِیْنَ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً اعَبْدُہ، وَرَسُوْلُہ، اَسْاَلُ اﷲُ الْجَنَّۃَ وَاَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ النَّارِ۔ (رواہ النسائی )
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ سرور کائنات ﷺ جس طرح ہم کو قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے اسی طرح تشہد بھی سکھاتے تھے (یعنی جس طرح باعتبار قرأت قرآن کی الفاظ مختلف ہیں اسی طرح تشہد کے الفاظ بھی مختلف ہیں چناچہ اس روایت میں تشہد کے الفاظ اس طرح ہیں بِسْمِ ا وَ بِا التَّحِیَّاتُ لِلّٰہ الصَّلٰواتُ الطَّیِّبَاتُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ ا وَ بَرَکَاتُہ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ ا الصَّالِحِیْنَ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً اعَبْدُہ، وَرَسُوْلُہ، اَسْاَلُ ا الْجَنَّۃَ وَاَعُوْذُ بِا مِنَ النَّارِ یعنی اللہ کے نام اور اللہ کی توفیق کے ساتھ شروع کرتا ہوں اور تمام تعریفیں اور تمام مالی و بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔ اے نبی ﷺ تم پر سلام ہو اور اللہ کی برکت و رحمتیں اور ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر بھی سلام اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ میں اللہ سے جنت کی درخواست کرتا ہوں اور دوزخ سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ (سنن نسائی)
شہادت کی انگلی شیطان کے لئے باعث تکلیف ہے
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ کَانَ عَبْدُ اﷲِ بْنُ عُمَرَ اِذَا جَلَسَ فِی الصَّلَاۃِ وَضَعَ یَدَیْہِ عَلٰی رُکْبَتَیْہِ وَاَشَارَ بِاِصْبَعِہٖ وَاتْبَعَھَا بَصَرَہ، ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم لَھِیَ اَشَدُّ عَلَی الشَّیْطَانِ مِنَ الْحَدِیْدِ یَعْنِیْ السَّبَّابَۃَ۔(رواہ احمد بن حنبل )
اور حضرت نافع (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ جب نماز یعنی قعدے میں بیٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے اور (شہادت کی) انگلی سے اشارہ (وحدانیت) فرماتے اور نظر انگلی پر رکھتے تھے اور کہتے تھے کہ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا یہ شہادت کی انگلی شیطان پر لو ہے سے زیادہ سخت ہے یعنی شہادت کی انگلی سے اشارہ وحدانیت کرنا شیطان پر نیز وغیرہ پھینکنے سے زیادہ سخت ہے۔ (مسند احمد بن حنبل)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ شیطان کی آرزو اور تمنا تو یہ ہے کہ ہر آدمی ضلالت و گمراہی اور کفر و شرک میں مبتلا ہوجائے لیکن جب وہ ایک نمازی کو دیکھتا ہے کہ وہ اس کی تمنا و آزور کے برخلاف کفر و شرک سے اظہار بیزاری کرتے ہوئے شہادت کی انگلی سے اشارہ کر کے اللہ کی وحدانیت کا اظہار کر رہا ہے تو اس کی امیدوں پر اوس پڑجاتی ہے اور اس وقت اسے اتنی ہی شدید تکلیف پہنچتی ہے جتنی کہ اس کو نیزہ وغیرہ مارنے سے پہنچ سکتی ہے۔