وَعَنْ عُقَبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ لَمَا نَزَلَتْ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِجْعَلُوْھَا فِی رُکُوعِکُمْ فَلَمَّا نَزَلَتْ سَبِّحِ اسْمِ رَبِّکَ الْاَعْلٰی قَالَ اجْعَلُوْھَا فِی سُجُوْدِ کُمْ۔ (رواہ ابوداؤد، ابن ماجۃ و الدارمی)
اور حضرت عقبہ ابن عامر ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ 56۔ الواقعہ 74) نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ اس کو (سبحان ربی العظیم) کی صورت میں اپنے رکوع میں شامل کرلو اور جب یہ آیت سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى 87۔ الاعلی 1) نازل ہوئی تو فرمایا کہ اس کو (سبحان ربی الاعلی کی صورت میں) اپنے سجدوں میں داخل کرو۔ (سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ، دارمی)
وَعَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِاﷲِ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا رَکَعَ اَحَدُکُمْ فَقَالَ فِی رُکُوْعُہ، سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ ثَلَاثَ مَرَّاتِ فَقَدْ تَمَّ رُکُوْعُہ، وَذٰلِکَ اَدْنَاہُ وَاِذَا سَجَدَ فَقَالَ فِی سُجُوْدِہٖ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی ثَلَاثَ مَرَّاتَ فَقَدْ ثُمَّ سُجُوْدُہُ وَذٰلِکَ اَدْنَاہُ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَ اَبُوْدَاؤُدَ وَ ابْنُ مَاجَۃَ وَقَالَ التِّرْمِذِیُّ لَیْسَ اِسْنَادُہُ بِمُتَّصِلٍ لِاَنَّ عَوْنًالَمْ یَلْقَ ابْنَ مَسْعُوْدٍ۔
اور حضرت عون ابن عبداللہ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اس کو رکوع میں سبحان ربی العظیم تین مرتبہ کہنا چاہئے تب اس کا رکوع پورا ہوگا اور یہ ادنیٰ درجہ ہے اور جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اسے سجدے میں سبحان ربی الاعلی تین مرتبہ کہنا چاہئے تب اس کا سجدہ پورا ہوگا اور یہ ادنیٰ درجہ ہے۔ (جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ)
تشریح
رکوع میں ان تسبحیات کو تین مرتبہ کہنا ادنیٰ درجہ کمال سنت کا ہے ورنہ تو اصل سنت ایک مرتبہ میں ادا ہوجاتی ہے اور کمال سنت کا اوسط درجہ پانچ مرتبہ ہے اور اعلیٰ درجہ سات مرتبہ کہنا ہے اور انتہائے کمال کی کوئی حد نہیں ہے گو بعض حضرات نے دس مرتبہ کہا ہے اور بعض حضرات نے تو تقریباً قیام کی مقدار تک کہا ہے لیکن بہر صورت میں امام کو مقتدیوں کی رعایت لازم ہوگی۔ فنی طور پر اتنی بات بھی سمجھ لیجئے کہ حدیث منقطع کو مستدل بنانا غلط نہیں ہے کیونکہ متفقہ طور پر سب کے نزدیک فضائل اعمال کے سلسلہ میں حدیث منقطع پر بھی عمل کرنا جائز ہے۔
وَعَنْ حُذَیْفَۃَ اَنَّہُ صَلّٰے مَعَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم وَکَانَ یَقُوْلُ فِی رُکُوْعِہٖ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ وَفِی سُجُوْدِہٖ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلَی وَمَا اَتٰی عَلٰی اٰیَۃِ رَحْمَۃٍ اِلَّا وَقَفَ وَسَئَالَ وَمَا اَتٰی عَلٰے اٰیَۃِ عَذَابٍ اِلَّا وَقَفَ وَتَعَوَّذَ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَاَبُوْدَاؤدَ وَ الدَّارِمِیُّ وَرَوَی النِّسَائِیُّ وَابْنُ مَاجَۃَ اِلٰی قَوْلِہِ الْاَعْلٰے وَقَالَ التِّرْمِذِیُّ ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ۔
اور حضرت حذیفہ ؓ راوی ہیں کہ میں نے آقائے نامدار ﷺ کے ہمراہ نماز پڑھی چناچہ آپ ﷺ رکوع میں سبحان ربی العظیم اور سجدے میں سبحان ربی الاعلی پڑھتے تھے اور جب بھی آپ ﷺ (قرأت میں) کسی آیت رحمت پر پہنچتے تو وہاں رک جاتے اور طلب رحمت کی دعا کرتے اور جب کسی آیت عذاب پر پہنچتے تو وہاں رک کر عذاب سے پناہ مانگتے۔ ( ترمذی، سنن ابوداؤد، دارمی، سنن نسائی اور ابن ماجہ نے اس روایت کو سبحان ربی الاعلی تک نقل کیا ہے اور جامع ترمذی نے کہا ہے یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تشریح
علماء حنفیہ اور علماء مالکیہ اس حدیث کو رسول اللہ ﷺ کی نفل نماز پر محمول کرتے ہیں کیونکہ ان حضرات کے نزدیک فرض نماز میں درمیان قرأت دعا مانگنی اور پناہ مانگنی جائز نہیں ہے لیکن اس حدیث کو جواز پر حمل کرنا بھی ممکن ہے کیونکہ ہوسکتا ہے رسول اللہ ﷺ نے کبھی بیان جواز کی خاطر فرض نماز میں بھی ایسا کیا ہو۔ شیخ جزری (رح) نے لکھا ہے کہ اس حدیث کو مسلم نے بھی نقل کیا ہے لہٰذا مؤلف مشکوٰۃ کو یہ حدیث دوسری فصل کی بجائے پہلی فصل میں نقل کرنی چاہئے تھی۔
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قُمْتُ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَلَمَّا رَکَعَ مَکَثَ قَدْرَ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ وَیَقُوْلُ فِی رُکُوْعِہٖ سُبْحَانَ ذِی الْجَبَرُوْتِ وَالْمَلَکُوْتِ وَالْکِبْرِیَاءِ وَ الْعَظْمَۃِ۔ (رواہ النسائی )
اور حضرت عوف ابن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے آقائے نامدار ﷺ کے ہمراہ نماز پڑھی چناچہ جب آپ رکوع میں گئے تو سورت بقرہ پڑھنے کے) بقدر ٹھہرے اور (رکوع میں) یہ کہتے جاتے تھے۔ قہر و باد شاہت اور بڑائی و بزرگی کا ملک (خدا) پاک ہے۔ (سنن نسائی)
تشریح
یہ فرض نماز کا ذکر نہیں ہے بلکہ بعض حضرات کے قول کے مطابق یہ تہجد کی نماز تھی اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یہ نماز کسوف تھی۔
وَعَنِ ابْنِ جُبَیْرٍ قَالَ سَمِعْتُ اَنَسَ ابْنَ مَالِکٍ یَقُوْلُ مَا صَلَّیْتُ وَرَاءَ اَحَدٍ بَعْدَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَشْبَہُ صَلَاۃً بِصَلَاۃِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنْ ھٰذَا الفَتَی یَعْنِی عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیْزِ قَالَ قَالَ فَحَزَرْنَا رُکُوْعَہُ عَشْرَ تَسْبِیْحَاتٍ وَ سُجُوْدَہُ عَشْرَ تَسْبِیْحَاتٍ۔(رواہ ابوداؤد و النسائی )
اور حضرت ابن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس ابن مالک ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے آقائے نامدار ﷺ کی وفات کے بعد اس نوجوان یعنی حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) کے علاوہ کسی کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو رسول اللہ ﷺ کی نماز کے مشابہ ہو۔ راوی فرماتے ہیں کہ حضرت انس ؓ نے فرمایا ہم نے ان کے (یعنی آنحضرت ﷺ کے یا حضرت عمر ؓ کے، رکوع کا دس تسبیحات ( کے بقدر) اور سجدے کا دس تسبیحات (کے بقدر) اندازہ کیا۔ (ابوداؤد، سنن نسائی )
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جتنی دیر میں وہ رکوع یا سجدہ کرتے تھے ہم دس تسبیحیں پڑھ لیا کرتے تھے لہٰذا وہ بھی دس یا دس سے کم و بیش تسبیحات پڑھتے ہوں گے۔
وَعَنْ شَقِےْقٍ قَالَ اِنَّ حُذَےْفَۃَ رَاٰی رَجُلًا لَّاےُتِمُّ رُکُوْعَہُ وَلَا سُجُوْدَہُ فَلَمَّا قَضٰی صَلٰوتَہُ دَعَاہُ فَقَالَ لَہُ حُذَےْفَۃُ مَا صَلَّےْتَ قَالَ وَاَحْسِبُہُ قَالَ وَلَوْ مُتَّ مُتَّ عَلٰی غَےْرِ الْفِطْرَۃِ الَّتِیْ فَطَرَ اللّٰہُ مُحَمَّدًا صلی اللہ علیہ وسلم۔(صحیح البخاری)
اور حضرت شفیق (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت حذیفہ ؓ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ (نماز میں) اپنے رکوع و سجود کو پوری طرح ادا نہیں کر رہا تھا چناچہ جب وہ نماز پڑھ چکا تو حضرت حذیفہ ؓ نے اسے بلایا اور کہا کہ تم نے پوری (طرح) نماز نہیں پڑھی۔ حضرت شفیق (رح) فرماتے ہیں کہ میرا گمان یہ ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ نے اس آدمی سے یہ بھی کہا کہ اگر تم (ایسی نماز سے بغیر توبہ کئے ہوئے) مرجاؤ تو تم غیر فطرت پر (یعنی اس طریقہ اسلام کے خلاف) مرو گے جس پر اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو پیدا کیا۔ (صحیح البخاری )
وَعَنْ اَبِی قَتَادَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَسْوَأٌ النَّاسِ سَرِقَۃً اَلَّذِی یَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِہٖ قَالُوْا یَا رَسُوْلَ اﷲِ وَکَیْفَ یَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِہٖ قَالَ لَایُتِمُّ رُکُوْعَھَا وَلَا سُجُوْدَھَا۔ (رواہ احمد بن حنبل)
اور حضرت ابوقتادہ ؓ راوی ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ نے فرمایا چوری کرنے کے اعتبار سے سب سے بڑا چور وہ ہے جو اپنی نماز کی چوری کرے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! نماز کی چوری کیسے ہوتی ہے؟ فرمایا رکوع و سجود کا پورا نہ کرنا۔ (مسند احمد بن حنبل)
تشریح
مال کی چوری کرنے والے سے نماز کی چوری کرنے والا آدمی اس لئے برا ہے کہ مال چرانے والا کم سے کم چوری کے مال سے دنیا میں فائدہ تو اٹھا لیتا ہے اور پھر یہ کہ مالک سے معاف کرنے کے بعد یا سزا کے طور پر (اسلامی قانون کے مطابق) اپنے ہاتھ کٹوا کر وہ مواخذہ آخرت سے بچ جاتا ہے لیکن اس کے برخلاف نماز کی چوری کرنے والا آدمی ثواب کے معاملے میں خود اپنے نفس کا حق مارتا ہے اور اس کے بدلہ میں عذاب آخرت کو لے لیتا ہے لیکن اس نقصان و خسران کے علاوہ اس کے ہاتھ اور کچھ نہیں لگتا۔
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُرَّۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ مَا تُرَوْنَ فِی الشَّارِبِ وَ الزَّانِی وَالسَّارِقِ وَذٰلِکَ قَبْلَ اَنْ تَنْزِلَ فَیْھِمُ الْحُدُوْدَ قَالُوْا اَﷲُ وَرَسُوْلَہ، اَعْلَمُ قَالَ ھُنَّ فَوَاحِشُ وَفِیْھِنَّ عَقُوْبَۃٌ وَاَسْوَءُ الْسَّرِقَۃِ الَّذِیْ یَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِہِ قَالُوْا وَ کَیْفَ یَسْرِقُ مِنْ صَلَاتِہٖ یَا رَسُوْلَ اﷲِ قَالَ لَا یُتِمُّ رُکُوْعَھَا وَلَا سُجُوْدَ ھَا۔ (رواہ ملک و مسند احمد بن حنبل وروی دارمی نحوہ)
حضرت نعمان بن مرہ ؓ راوی ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ نے (صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا شراب پینے والے، زنا کرنے والے اور چوری کرنے والے کے بارے میں تم لوگوں کا کیا خیال ہے (کہ وہ کس قدر گناہ گار ہیں؟ ) آپ ﷺ نے یہ سوال حدود نازل ہونے سے پہلے کیا تھا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ اللہ اور رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ گناہ کبیرہ ہیں جن کی سزا بھی ہے اور بد ترین چوری وہ چوری ہے جو انسان اپنی نماز میں کرتا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ انسان اپنی نماز میں چوری کیسے کرتا ہے فرمایا رکوع و سجود کو پوری طرح ادا نہیں کرتا۔ (مالک، دارمی)
تشریح
نقل کردہ روایت میں لفظ ترون تا کے زبر کے ساتھ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ تم کیا اعتقاد کرتے ہو؟ لیکن ایک نسخے میں تا کے پیش کے ساتھ بھی ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ تمہارا کیا خیال ہے؟ راوی کے الفاظ میں یہ سوال حدود نازل ہونے سے پہلے کیا تھا۔ وجہ سوال کو ظاہر کر رہے ہیں کہ آپ ﷺ نے یہ سوال صحابہ کرام ؓ سے اس وقت کیا تھا جب کہ ان افعال کی برائی صحابہ کرام کو اچھی طرح معلوم نہ تھی جب ان افعال بد کی حدود (سزائیں) متعین ہوگئیں تو پھر سب کے ذہن میں ان کی برائی راسخ ہوگئی اور ان میں کوئی شبہ نہ رہا۔
سجدہ کی کیفیت اور اس کی فضیلت کا بیان
زمین پر سر ٹیکنا اور عاجزی کا اظہار کرنا سجدہ کے لغوی معنی ہیں۔ اصطلاح شریعت میں سجدہ کہتے ہیں اللہ کے سامنے اپنی عبودیت اور کمال عجز و انکساری کے اظہار کے طور پر بندے کا اپنے سر کو زمین پر ٹیک دینا۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اُمِرْتُ اَنْ اَسْجُدَ عَلٰی سَبْعَۃِ اَعْظُمٍ عَلَی الْجَبْھَۃِ وَالْےَدَےْنِ وَالرُّکْبَتَےْنِ وَاَطْرَافِ الْقَدَمَےْنِ وَلَا نَکْفِتَ الثِّےَابَ وَالشَّعْرَ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا مجھے (جسم کی) سات ہڈیوں یعنی پیشانی، دونوں ہاتھ، گھٹنے اور دونوں پاؤں کے پنجوں پر سجدے کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ ممنوع ہے کہ ہم کپڑوں اور بالوں کو سمیٹیں۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ سجدے میں جسم کے کس کس عضو کو زمین پر ٹیکنا چاہئے چناچہ حکم دیا گیا ہے کہ سجدے کے وقت پیشانی، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کے پنجوں کو زمین پر ٹیکنا چاہئے۔ اکثر ائمہ کے نزدیک سجدہ ناک اور پیشانی دونوں سے کرنا چاہیے بغیر ان دونوں کو زمین پر لگائے سجدہ جائز نہیں ہے مگر حضرت امام اعظم ابوحنفیہ اور صاحبیں رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم فرماتے ہیں کہ اگر محض پیشانی ہی ٹیک کر سجدہ کرلیا جائے تو جائز ہے البتہ بغیر عذر کے ایسا کرنا مکروہ ہے۔ حضرت امام شافعی اور صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک محض ناک کو زمین پر ٹیک کر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے ہاں اگر کوئی ایسا عذر پیش ہو کہ پیشانی کو زمین پر ٹیکنا ممکن نہ ہو تو جائز ہے، اس سلسلے میں حضرت امام اعظم (رح) کے دو قول ہیں۔ ایک قول تو یہ ہے کہ جائز نہیں ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ جائز ہے لیکن کراہت کے ساتھ۔ سجدے میں دونوں پاؤں کو زمین پر رکھنا ضروری ہے۔ اگر کوئی آدمی سجدے میں دونوں پاؤں زمین سے اٹھالے گا تو اس کی نماز فاسد ہوجائے گی اور ایک پاؤں اٹھالے گا تو سجدہ مکروہ ہوگا۔ سجدے میں پاؤں کی انگلیوں کو قبلے کی طرف رکھنا فرض ہے خواہ ایک ہی انگلی رکھی جائے۔ اگر انگلیاں قبلہ کی سمت نہ ہوں گی تو جائز نہیں ہوگا۔ در مختار میں ایک جگہ مذکور ہے کہ پیشانی اور دونوں پاؤں کے ساتھ سجدہ کرنا فرض ہے اور دونوں پیروں میں کم سے کم ایک انگلی زمین پر رکھنا شرط ہے اور ہاتھوں اور زانوؤں کو زمین پر رکھنا سنت ہے، حنفیہ اور شافعیہ کا مسلک یہی ہے۔ سجدے میں بال اور کپڑے کو ہٹانے اور سمیٹنے کی ممانعت حدیث جملے کا مطلب یہ ہے کہ سجدے میں جاتے ہوئے بالوں اور کپڑوں کو اس غرض سے سمیٹنا اور ہٹانا تاکہ وہ خاک آلود اور گندے نہ ہوں ممنوع ہے، ویسے بھی بغیر اس مقصد کے یوں ہی کپڑوں اور بالوں کو سمیٹنا یا دامن وغیرہ کا باندھ لینا ممنوع ہے۔ بالوں کو سمیٹنے کا مطلب یہ ہے کہ سر کے بالوں کو جمع کر کے دستار وغیرہ کے اندر کرلیا جائے تاکہ سجدے میں لٹکنے نہ پائیں۔ اس سے بھی منع کیا گیا ہے۔ اس کا مسئلہ یہ ہے کہ بالوں کو ایسے ہی چھوڑ دینا چاہئے تاکہ وہ بھی سجدہ کریں۔
وَعَنْ اَنَسٍ صقَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِعْتَدِلُوْا فِی السُّجُوْدِ وَلَا ےَبْسُطُ اَحَدُکُمْ ذِرَاعَےْہِ اِنْبِسَاطَ الْکَلْبِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رحمت دو عالم ﷺ نے فرمایا سجدے میں (اطمینان سے) ٹھہرو! اور تم میں سے کوئی آدمی (سجدے میں) اپنے دونوں ہاتھوں کو کتے کی طرح نہ پھیلائے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ سجدے میں اعتدال یعنی ٹھہرنے سے مراد یہ ہے کہ سجدہ میں طمانیت یعنی خاطر جمعی سے ٹھہرا جائے اور سجدہ میں جو تسبیح پڑھی جاتی ہے اسے اطمینان سے پڑھا جائے۔ علامہ طیبی (رح) فرماتے ہیں کہ سجدہ میں اعتدال سے مراد یہ ہے کہ پشت کو ہموار رکھا جائے۔ دونوں ہاتھ زمین پر رکھے جائیں، کہنیاں زمین سے اوپر اٹھی رہیں اور پیٹ زانوں سے الگ رہے۔
سجدہ میں ہاتھوں اور کہنیوں کو رکھنے کا طریقہ
وَعَنِ الْبَرَآءِ ابْنِ عَازِبٍ صقَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا سَجَدْتَّ فَضَعْ کَفَّےْکَ وَارْفَعْ مِرْفَقَےْکَ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت براء ابن عازب ؓ راوی ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا جب تم سجدہ کرو تو اپنے دونوں ہاتھ زمین پر رکھو اور کہنیوں کو زمین سے اونچا رکھو۔ (صحیح مسلم)
تشریح
سجدہ میں ہاتھوں کو رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں کی ہتیھیلیاں زمین پر کانوں کے سامنے رکھی رہیں۔ انگلیاں آپس میں ملی ہوں اور یہ کہ ہاتھ کھلے رہیں کسی کپڑے وغیرہ کے اندر انہیں چھپانا مکروہ ہے۔ کہنیوں کو اونچا رکھنے کے دو ہی معنی ہوسکتے ہیں یا تو یہ کہ دونوں کہنیاں زمین سے اونچی رہیں یا پھر یہ کہ دونوں پہلوؤں سے اونچی رہیں۔ بہر صورت یہ حکم خاص طور پر مردوں کے لئے ہے عورتیں اس حکم میں شامل نہیں ہیں کیونکہ عورتوں کو تو سجدے میں کہنیوں کو زمین پر پہلوؤں سے ملی ہوئی رکھنے کا حکم ہے اس لئے کہ اس طرح جسم کی نمائش نہیں ہوتی اور پردہ اچھی طرح ہوتا ہے۔
سجدہ میں ہاتھوں اور کہنیوں کو رکھنے کا طریقہ
وعن میمونۃ قالت کان النبی صلی اﷲعلیہ وسلم اذا سجد جافی بین یدیہ حتی لوان بھمۃ ارادت ان تمر تحت یدیہ مرت ھذا لفظ ابی داؤد کما صرح فی شرح النسۃ با سنادہ و لمسلم بمعناہ قالت کان النبی صلی اللہ علیہ وسلماذا سجد لو شائت بھمۃ ان تمربین لمرت۔
اور ام الومنین حضرت میمونہ ؓ فرماتے ہیں کہ رحمت عالم ﷺ جب سجدے میں جاتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کے درمیان اتنا فرق رکھتے تھے کہ اگر بکری کا بچہ آپ ﷺ کے ہاتھوں کے نیچے سے گذرنا چاہئے تو گذر سکتا تھا۔ یہ الفاط ابوداؤد کے ہیں جیسا کہ خود بغوی نے شرح السنتہ میں اپنی سند کے ساتھ بیان کیا ہے اور مسلم نے یہ حدیث بالمعنی نقل کی ہے (جس کے الفاظ یہ ہیں) کہ حضرت میمونہ نے ؓ فرمایا۔ رسول اللہ ﷺ (اس طرح) سجدے کرتے تھے کہ اگر بکری کا بچہ آپ ﷺ کے ہاتھوں میں سے نکلنا چاہتا تو نکل جاتا۔
تشریح
ہاتھوں کے درمیان فرق رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ سجدہ میں اپنے دونوں بازو پہلو سے اور پیٹ اور ران سے الگ رکھتے تھے۔ حدیث میں بکری کے بچے کے لئے بھمۃ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ بھمۃ بکری کے اس بچہ کو کہتے ہیں جو بڑا ہو کر اپنے پاؤں چلنے لگتا ہے اور جب بکری کا بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس وقت اسے سخلۃ کہتے ہیں۔ ہذا لفظ ابی داؤد سے مصنف مشکوٰۃ کا مقصد صاحب مصابیح پر اعتراض کرنا ہے کہ اس حدیث کو جس کے الفاظ ابوداؤد کے ہیں۔ پہلی فصل میں نقل کرنا نہیں چاہئے تھا کیونکہ پہلی فصل میں تو صرف شیخین یعنی البخاری و مسلم کی روایت کردہ احادیث ہی نقل کی جاتی ہیں۔
سجدہ میں ہاتھوں اور کہنیوں کو رکھنے کا طریقہ
وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَالِکٍ ابْنِ بُحَےْنَۃَص قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا سَجَدَ فَرَّجَ بَےْنَ ےَدَےْہِ حَتّٰی ےَبْدُوَ بَےَاضُ اِبْطَےْہِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ ابن مالک ابن بحینہ فرماتے ہیں کہ رحمت عالم ﷺ جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کو اتنا کشادہ رکھتے تھے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی ظاہر ہوجاتی تھی۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
بحینہ حضرت عبدا اللہ کی والدہ کا نام ہے اور مالک ان کے والد کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مالک اور ابن کے درمیان کے الف کو باقی رکھ کر مالک کو تنوین کے ساتھ پڑھتے ہیں تاکہ لوگوں کو یہ غلط فہمی نہ ہوجائے کہ مالک بحینہ کے بیٹے کا نام ہے بلکہ یہ جانیں کے بحینہ کے لڑکے حضرت عبداللہ ہی ہیں اور ابن مالک و ابن بحینہ دونوں نسبتیں انہیں کی ہیں۔ بہر حال۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبدا اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو جب نماز پڑھتے دیکھا تھا اس وقت آپ ﷺ کے بدن مبارک پر کپڑا نہ تھا، یا ان کی مراد یہ ہوگی کہ آپ ﷺ کی بغل کی جگہ معلوم ہوتی تھی اور بغلوں کی سفیدی اس لئے کہا ہے کہ آپ ﷺ کی بغل مبارک بالکل سفید اور صاف و شفاف تھی جیسا کہ آپ ﷺ کا پورا بدن ہی آئینہ کی طرح سفید اور صاف و شفاف تھا، دوسرے لوگوں کی طرح آپ ﷺ کی بغلیں سیاح اور مکدر نہ تھیں۔
سجدے میں رسول اللہ ﷺ کی دعا
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقُوْلُ فِیْ سُجُوْدِہٖ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ کُلَّہُ دِقَّہُ وَجِلَّہُ وَاَوَّلَہُ وَاٰخِرَہُ وَعَلَانِےَتَہُ وَسِرَّہُ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رحمت عالم ﷺ اپنے سجدے میں یہ کہتے تھے۔ ( اللھم اغفرلی ذنبی کلہ دقہ وجلہ واولہ واخرہ وعلانیتہ وسرہ) اے اللہ! میرے تمام چھوٹے بڑے، پہلے پچھلے، کھلے ہوئے اور چھپے ہوئے گناہ بخش دے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ آپ سجدے میں کبھی کبھی یہ دعا بھی پڑھا کرتے تھے۔ پھر یہ احتمال بھی ہے کہ یا تو آپ ﷺ اس دعا کو تسبیح یعنی سبحان ربی الاعلی کے ساتھ پڑھتے ہوں گے یا بغیر تسبیح کے صرف اسی دعا پر اکتفاء فرماتے ہوں گے۔ چھپے ہوئے گناہوں سے مراد وہ گناہ ہیں جو انسان کی نظروں سے پوشیدہ رہتے ہیں ورنہ تو اللہ کے نزدیک چھپے ہوئے کھلے ہوئے گناہ دونوں یکساں ہیں۔ یعلم السر و اخفی یعنی وہ (خدا) پو شیدہ سے پوشیدہ چیزوں کو بھی جانتا ہے۔
سجدے میں رسول اللہ ﷺ کی دعا
وَعَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ قَالَتْ فَقَدْتُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَےْلَۃً مِّنَ الْفِرَاشِ فَالْتَمَسْتُہُ فَوَقَعَتْ ےَدِیْ عَلٰی بَطْنِ قَدَمَےْہِ وَھُوَ فِی الْمَسْجِدِ وَھُمَا مَنْصُوْبَتَانِ وَےَقُوْلُ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِرَضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَبِمُعَافَاتِکَ مِنْ عُقُوْبَتِکَ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْکَ لَا اُحْصِیْ ثَنَآئً عَلَےْکَ اَنْتَ کَمَا اَثْنَےْتَ عَلٰی نَفْسِکَ۔(صحیح مسلم)
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے رحمت عالم ﷺ کو بستر پر موجود نہ پایا، میں آپ ﷺ کو تلاش کر رہی تھی کہ میرا ہاتھ آپ ﷺ کے پاؤں کو جا لگا (چنانچہ میں نے دیکھا کہ) آپ ﷺ بار گاہ الہٰی میں سجدہ ریز تھے اور آپ ﷺ کے دونوں پاؤں مبارک کھڑے ہوئے تھے اور آپ ﷺ یہ کہہ رہے تھے اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَعُوْذُ بِرَضَاکَ مِنْ سَخَطِکَ وَبِمُعَا فَاتِکَ مِنْ عُقُوْبَتِکَ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْکَ لَا اُحْصِہ ثَنَا ئً عَلَیْکَ اَنْتَ کَمَاَ اَثْنَیْتَ عَلَی نَفْسِکَ اے اللہ! میں تیری خوشنودی کے ذریعے تیرے غیظ و غضب سے (یعنی ان افعال سے مجھ پر یا میری امت پر تیرے غضب کا ذریعہ بنیں پناہ مانگتا ہوں، تیری معافی کے ذریعے تیرے عذاب سے پناہ چاہتا ہوں اور تجھ سے (یعنی تیری رحمت کے ذریعے تیرے قہر سے) پناہ کا طلبگار ہوں۔ میں تیری تعریف کا شمار و احاطہ نہیں کرسکتا۔ تو ایسا ہی ہے جیسا کہ خود تو نے اپنی تعریف کی ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کے چھونے سے مرد کا وضو نہیں ٹوٹتا جیسا کہ حنفیہ کا مسلک ہے کہ عورت کو چھونا ناقص وضو نہیں ہے۔ لا احصہ ثناء علیک کا مطلب یہ ہے کہ پروردگار! مجھ میں اتنی طاقت و قوت نہیں ہے کہ تیری ایسی تعریف کرسکوں جو تیری شان کے لائق ہو۔ تو ایسا ہی ہے جیسا کہ تو نے خود اپنی تعریف میں کہا ہے کہ۔ آیت (فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 36 وَلَهُ الْكِبْرِيَا ءُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَ كِيْمُ 37) 45۔ الجاثیہ 36۔ 37) تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو پروردگار ہے آسمانوں کا اور پروردگار ہے زمین کا، پروردگا جہانوں کا ہے اور زمین و آسمانوں میں اسی کے لئے بڑائی و بزرگی ہے اور وہ غالب و دانا ہے۔ (قرآن)
سجدہ پروردگار سے قریب ہونے کا ذریعہ ہے
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَقْرَبُ مَا ےَکُوْنُ الْعَبْدُ مِنْ رَّبِّہٖ وَھُوَ سَاجِدٌ فَاَکْثِرُواالدُّعَآئَ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا بندے کا اللہ سے قریب ترین ہونا اس وقت شمار ہوتا ہے جب کہ وہ سجدہ میں ہو اس لئے تم (سجدے میں) بہت زیادہ دعا کیا کرو۔ (صحیح مسلم)
تشریح
یوں تو اللہ تعالیٰ ہر وقت اور ہر حال میں اپنے بندوں سے نزدیک رہتا ہے مگر سب سے زیادہ نزدیک اس وقت ہوتا ہے جب بندہ سجدہ میں ہوتا ہے یعنی سجدے کی حالت میں اللہ بندہ سے راضی ہوتا ہے اور دعا قبول کرتا ہے اسی لئے آپ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ سجدہ میں کثرت سے دعا مانگنی چاہئے تاکہ وہ قبولیت کے درجے کو پہنچے۔
سجدہ تلاوت کے وقت شیطان کی آہ و بکاہ
وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا قَرَأَ ابْنُ اٰدَمَ السَجَدَۃَ فَسَجَدَ اعْتَزَلَ الشَّےْطَانُ ےَبْکِیْ ےَقُوْلُ ےَا وَےْلَتٰی اُمِرَ ابْنُ اٰدَمَ بِالسُّجُوْدِ فَسَجَدَ فَلَہُ الْجَنَّۃُ وَاُمِرْتُ بِالسُّجُوْدِ فَاَبَےْتُ فَلِیَ النَّارُ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رحمت عالم ﷺ نے فرمایا جب ابن آدم (یعنی بندہ مومن) سجدے کی آیت پڑھتا ہے اور (پڑھنے والا یا سننے والا) سجدہ کرتا ہے تو اس وقت شیطان لعین روتا ہوا ایک طرف ہٹ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ واحسرتا! ابن آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو اس نے سجدہ کیا اور (اس کے بدلے میں) وہ جنت کا حقدار ہے اور مجھے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو میں نے (سجدہ نہ کر کے پروردگار کی) نافرمانی کی چناچہ (اس کے نیتجے میں) مجھے آگ ملی۔ (صحیح مسلم)
کثرت سجدہ جنت میں رسول اللہ ﷺ کی رفاقت کا ذریعہ ہے
وَعَنْ رَّبِےْعَۃَ بْنِ کَعْبٍ ص قَالَ کُنْتُ اَبِےْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَاَتَےْتُہ، بِوَضُوْۤئِہٖ وَحَاجَتِہٖ فَقَالَ لِیْ سَلْ فَقُلْتُ اَسْاَلُکَ مُرَافَقَتَکَ فِی الْجَنَّۃِ قَالَ اَوْ غَےْرَذَالِکَ قُلْتُ ھُوَ ذَاکَ قَالَ فَاَعِنِّیْ عَلٰی نَفْسِکَ بِکَثْرَۃِ السُّجُوْدِ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت ربیعہ ابن کعب ( حضرت ربیعہ بن کعب نام اور ابوفراس کنیت ہے۔ آپ سفر و حضر میں حضور ﷺ کے ساتھ رہے اور ٢٣ ھ میں آپ کا انتقال ہوا) فرماتے ہیں کہ میں رات کو رحمت عالم ﷺ کے ساتھ رہا کرتا تھا اور وضو کا پانی دوسری ضروریات (مثلاً مسواک، جائے نماز وغیرہ) پیش کیا کرتا تھا (ایک روز) سرکار دو عالم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ (دین و دنیا کی بھلائیوں میں سے جو کچھ مانگنا چاہتے ہو) مانگو! میں نے عرض کیا میری درخواست تو صرف یہ ہے کہ جنت میں مجھ کو آپ ﷺ کی رفاقت نصیب ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ (جس مرتبے کو تم پہنچنا چاہتے ہو یہ تو بہت عظیم ہے اس کے سوا) کچھ اور مانگو۔ میں نے عرض کیا میری درخواست تو بس یہی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا سو اس مرتبے کو حاصل کرنے کے لئے) تم کثرت سے سجود کے ذریعے اپنی ذات سے میری مدد کرو۔ (صحیح مسلم)
تشریح
ربیعہ چونکہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں رہا کرتے تھے اور آپ ﷺ کی ضروریات پیش کرنے پر معمور تھے۔ اس لئے ان کی اس خدمت اور جذبہ اطاعت و فرمانبردای کے صلہ میں آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ تم دین و دنیا کی جو بھی بھلائی چاہتے ہو مانگ لو۔ ظاہر ہے کہ ایک وفادار خادم اور جاں قربان کرنے والا غلام اس سے بڑی اور کیا تمنا رکھ سکتا ہے کہ اس کا وہ آقا جس کی خدمت نے اس کو دین و دنیا کی عظیم سعادتوں سے نواز رکھا ہے جنت میں بھی اسے ان کی رفاقت کی سعادت حاصل ہوجائے چناچہ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ! میری سب سے بڑی تمنا اور سب سے بڑی خواہش تو بس یہی ہے کہ جس طرح آپ ﷺ نے مجھے اس دنیا میں اپنے قدموں میں جگہ دے رکھی ہے اسی طرح جنت کی پر سعادت فضا میں بھی آپ ﷺ کی رفاقت کا شرف حاصل ہوجائے، پہلے تو رسول اللہ ﷺ نے چاہا کہ یہ اس کے علاوہ کچھ اور مانگ لیں مگر جب دیکھا کہ انہیں اپنی اس خواہش پر اصرار ہے تو فرمایا کہ اس عظیم مرتبے اور اس بڑی سعادت کو حاصل کرنے کے لئے تم کثرت سجود کے ذریعے اپنی ذات سے میری مدد کرو۔ یعنی اگر تمہارا یہی اصرار ہے اور تم اسی خواہش کی تکمیل چاہتے ہو تو پھر آؤ تم کو میں ایک ایسا راستہ بتادیتا ہوں جو تمہاری منزل مقصود تک جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ تمہارا اپنا تو کام یہ ہونا چاہئے کہ نماز پڑھتے رہو اور بارگاہ الٰہی میں کثرت سے سجدے کر کے اپنی عجز و بےچارگی کا اظہار کیا کرو اور سجدہ میں دعا کرتے رہا کرو، ادھر میں بھی تمہارے لئے دعا کرتا ہوں اور حصول مقصد اور تمہاری اس خواہش کی تکمیل کے لئے کوشش کرتا ہوں، لیکن شرط یہ ہے کہ میں تمہیں جو بتاؤں یعنی جو حکم دوں اس پر پورا پورا عمل کرتے رہو کہ راہ سعادت حاصل ہونے کی تدیبر یہی ہے اور انشاء اللہ اس کے بعد تم منزل مقصود تک پہنچ جاؤ گے۔ فتح قفل ارچہ کلید است اے عزیز جنبش از دست تو می خواہند نیز یعنی عزیز من! قفل اگرچہ کنجی ہی سے کھلتا ہے لیکن تمہارے ہاتھ کی حرکت بھی تو ضروری ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کی خدمت کرنا اور ان کی رضا اور خوشنودی کو پوری کرنا در حقیقت فضیلت وسعادت کے حصول کا ذریعہ ہے خاص طور پر سرکار دو عالم ﷺ کی رضا کو مد نظر رکھنا تو دین و دنیا کی سب سے بڑی سعادت و بھلائی ہے۔ اس حدیث میں اس بات پر تنبیہ بھی ہے کہ طالب صادق کو چاہئے کہ اس کا مطلوب صرف آخرت کی نعمتیں ہوں کہ جن کو دوام وبقاء حاصل ہے دنیا کی لذتوں کی طرف التفات نہ کرے کہ جو فانی اور ختم ہوجانے والی ہیں۔ لیکن شرط یہ بھی ہے کہ بندگی میں اپنی طرف سے کوئی قصور نہ ہو کیونکہ محض آرزو اور تمنا ہی منزل مقصود تک نہیں پہنچاتی بلکہ اس میں اپنی طرف سے کوشش وسعی کو بھی دخل ہوتا ہے جیسا کہ بڑوں نے کہا ہے کہ کسی تمنا اور آرزو کے ہوتے ہوئے کوشش وسعی نہ کرنا بلکہ بیکار بیٹھنا ٹھنڈے لوہے کو کوٹنا ہے۔ کارکن کار بگزرار گفتار کاندریں راہ کار دار دکار یعنی عمل کرو زبانی جمع خرچ سے بچو، کیونکہ اس راستے میں تو صرف عمل ہی عمل ہے۔
کثرت سجدہ جنت میں رسول اللہ ﷺ کی رفاقت کا ذریعہ ہے
وَعَنْ مَّعْدَانَ بْنِ طَلْحَۃَص قَالَ لَقِےْتُ ثَوْبَانَ مَوْلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقُلْتُ اَخْبِرْنِیْ بِعَمَلٍ اَعْمَلُہُ ےُدْخِلُنِیَ اللّٰہُ بِہِ الْجَنَّۃَ فَسَکَتَ ثُمَّ سَاَلْتُہُ فَسَکَتَ ثُمَّ سَأَلْتُہُ الثَّالِثَۃَ فَقَالَ سَأَلْتُ عَنْ ذَالِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ عَلَےْکَ بِکَثْرَۃِ السُّجُوْدِ لِلّٰہِ فَاِنَّکَ لَا تَسْجُدُ لِلّٰہِ سَجْدَۃً اِلَّا رَفَعَکَ اللّٰہُ بِھَا دَرَجَۃً وَّحَطَّ عَنْکَ بِھِمَا خَطِےْئَۃً قَالَ مَعْدَانُ ثُمَّ لَقِےْتُ اَبَا الدَّرْدَآءِ فَسَاَلْتُہُ فَقَالَ لِیْ مِثْلَ مَا قَالَ لِیْ ثَوْبَانُ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت معدان بن طلحہ (رح) (تابعی) فرماتے ہیں کہ میں نے رحمت عالم ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان ؓ سے ملاقات کی اور ان سے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے کہ اس کے کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھے جنت میں داخل کر دے۔ ثوبان (میرا سوال سن کر) خاموش رہے، میں نے دوبارہ عرض کیا وہ پھر بھی خاموش رہے جب میں نے تیسری مرتبہ عرض کیا انہوں نے فرمایا کہ یہی سوال میں نے سرکار دو عالم ﷺ سے کیا تھا، چناچہ آپ ﷺ نے (میرے سوال کے جواب میں) فرمایا تھا کہ تم کثرت سے بارگاہ الٰہی میں سجدہ کیا کرو، تم ایک سجدہ اللہ کے حضور میں کرو گے تو اس کی وجہ سے اللہ تمہارا ایک درجہ بلند کر دے گا اور اس کی وجہ سے ایک گناہ کم کر دے گا۔ معدان فرماتے ہیں کہ میں نے پھر حضرت ابودردا ؓ، سے ملاقات کی اور ان سے بھی وہی سوال کیا (جو ثوبان سے کیا تھا) چناچہ انہوں نے بھی مجھے وہی جواب دیا جو ثوبان نے دیا تھا۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حضرت معدان کے دو مرتبہ سوال کرنے پر بھی حضرت ثوبان ؓ نے جواب اس لئے نہ دیا تاکہ سائل کو رغبت زیادہ ہو اور آتش شوق بھڑک کر جواب کی اہمیت و عظمت کا احساس کرسکے اور عملی قوت پوری طرح بیدار ہوجائے۔ سجدوں سے مراد کوئی خاص سجدے نہیں بلکہ نماز کے سجدے بھی مراد ہوسکتے ہیں اور سجدہ تلاوت یا سجدہ شکر بھی مراد لئے جاسکتے ہیں۔